خلیج فارس کا سلگتا سمندر: تزویراتی توازن کی تلاش یا ناگزیر تباہی؟

عشروں پر محیط ایران امریکہ دشمنی کا کینوس آج ایک بار پھر بارود کی بو اور میزائلوں کی روشنی سے سرخ ہو چکا ہے۔ جون 2026 میں اسلام آباد کے افق پر جس عبوری مفاہمتی یادداشت (MoU) نے امن کی ایک موہم سی امید جگائی تھی، وہ اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تند و تیز بیانات اور تہران کے جارحانہ ردعمل کی نذر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری موجودہ تنازع محض دو ریاستوں کی عسکری آنکھ مچولی نہیں، بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی تزویراتی (Strategic) منظرنامے کی ازسرنو تشکیل کا ایک خطرناک مرحلہ ہے۔

موجودہ بحران کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دونوں فریقین "میکسی مم پریشر" (زیادہ سے زیادہ دباؤ) کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ ایک طرف امریکہ نے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی اور فضائی حملوں کے ذریعے ایران کو معاشی اور عسکری طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی روایتی حکمتِ عملی اپنا رکھی ہے۔ دوسری طرف، ایران نے اس بار اپنی دفاعی لائن کو وسیع کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں (بشمول بحرین میں ففتھ فلیٹ اور کویت کے مراکز) کو نشانہ بنا کر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اگر ایران غیر محفوظ ہوگا، تو خطے میں کوئی بھی امریکی اثاثہ محفوظ نہیں رہے گا۔ ایران کا یہ جوابی اقدام اس کی تزویراتی گہرائی (Strategic Depth) اور خطے میں اس کے نیٹ ورک کی طاقت کا مظہر ہے۔

یہاں یہ سوال نہایت اہم ہے کہ کیا یہ جنگ ایک ہمہ گیر علاقائی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے یا اس کے پیچھے کسی بڑے معاہدے کی تیاری ہے؟

سیاسی تدبر اور بین الاقوامی تعلقات کے اصول ہمیں بتاتے ہیں کہ موجودہ عسکری شدت دراصل "میز پر پوزیشن مضبوط کرنے" کی ایک کلاسک مثال ہے۔ صدر ٹرمپ، جو اپنی کاروباری جبلت (Business Instinct) کے تحت "آرٹ آف دی ڈیل" پر یقین رکھتے ہیں، ایران پر فوجی اور معاشی دباؤ اس لیے بڑھا رہے ہیں تاکہ تہران کو ایک ایسے مستقل معاہدے پر مجبور کیا جا سکے جس میں ایران کے جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کو ہمیشہ کے لیے نکیل ڈالی جا سکے۔ ایران بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے؛ وہ میدانِ جنگ میں امریکی ضربوں کا سختی سے جواب دے کر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ کسی کمزور پوزیشن سے مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا۔

تاہم، اس مدبرانہ بساط پر خطرات بہت زیادہ ہیں۔ جون کے اسلام آباد فریم ورک میں بنیادی تضادات اور جوہری امور جیسے حساس موضوعات کو ادھورا چھوڑنا ایک بڑی سفارتی لغزش تھی، جس کا خمیازہ آج دونوں بھگت رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز جیسی عالمی تجارتی شہ رگ کی بندش یا ٹیکسیشن کے تنازعات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ یہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین کو مفلوج کر کے رکھ دیں گے۔

مستقبل کا منظرنامہ اب اس بات پر منحصر ہے کہ دونوں فریقین میں سے کون پہلے سفارتی لچک کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جنگ کا طویل ہونا نہ تو معاشی مشکلات کا شکار امریکہ کے مفاد میں ہے اور نہ ہی پابندیوں تلے دبے ایران کے لیے سودمند۔ تاریخ گواہ ہے کہ بدترین جنگوں کا خاتمہ بھی بالآخر کسی میز پر ہی ہوتا ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ علاقائی اور عالمی طاقتیں، بالخصوص وہ ممالک جو دونوں فریقین کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں، فوری طور پر پسِ پردہ سفارت کاری (Backchannel Diplomacy) کو فعال کریں۔ اسلام آباد معاہدے کی روح کو بچانے اور اسے ایک مستقل، جامع اور قابلِ عمل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دھمکیوں کے لہجے کو بدلا جائے۔ اگر اب بھی تدبر اور دور اندیشی سے کام نہ لیا گیا، تو خلیج فارس کا یہ سلگتا سمندر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جہاں جیتنے والا بھی ہارنے والے جتنا ہی زخمی ہوگا۔