اردو تنقید اور نقاد لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اردو تنقید اور نقاد لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

گدھ (افسانہ) کا تجزیہ

افسانہ نگار : آصف محمود 

زیتون کے پودے کی چھاؤں میں گڑیا سے کھیلتی میری بیٹی چلائی: بابا! بابا!

میں بھاگ کر اس کے پاس پہنچا تو دیکھا، کھیت کی منڈیر پرایک آنکھ والا کریہہ صورت گدھ بیٹھا تھا۔ اس کے چھ پنجے تھے جو زمین میں اندر ہی اندر کسی آسیب کی طرح گھستے چلے جا رہے تھے۔

”میرے کھیت میں کیوں گھس آئے ہو“؟۔ میں نے اسے للکارا۔

 اس نے حقارت سے قہقہہ لگایا،  تمہارا کھیت؟“

”ہاں میرا کھیت۔ تم دیکھ نہیں رہے کہ اس مٹی میں جتنے زیتون کے درخت ہیں اس سے زیادہ میرے قبیلے کی قبریں ہیں“۔ 

گدھ بولا: ”ا ب تیرا یہاں کچھ بھی نہیں۔ گدھوں کی پنچایت نے یہ سب مجھے دے دیا ہے۔یہ کھیت، وہ صحرا، یہ اونٹنیاں، وہ کنویں، یہ باغ، وہ نخلستان، سب میرا ہے۔ تب اب ریت کے ذروں کی طرح بے توقیر ہوچکے ہیں۔ تمہارے گھروں میں صحرا کی ریت اڑے گی اور تمہاری بستیاں اجاڑ بیابان ہو جائیں گی “۔

 ”ٹھہر، اے دور کی زمینوں کے آسیب!“۔ میں تلوار سونت کر اس کی جانب بڑھا  لیکن وہ بھدی سی آواز میں شور مچاتا بھاگ گیا۔ 

مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کا اسلوب تحریر: جس کے پیرہن سے خوشبو آئے

ابو فہد ندوی 

ہم اس مضمون میں مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے اسلوب تحریر کے انشائی پہلو پر گفتگو نہیں کریں گے بلکہ اس کی باطنیت یعنی جوش و جذبے، ذوق و شوق اور اس میں پنہاں وفور عشق و محبت اور وارفتگی کے حوالے سے بات کریں گے، جو ان کے قلم کو قوت و رعنائی اور آتش و زیبائی بہم پہنچاتی ہیں، اس میں شیرنی گھولتی ہیں اور ان کے قلم کو ہردم جواں اور ہر لحظہ رواں رکھتی ہیں۔ اور قاری دوران قرات ایسا کچھ محسوس کرتا ہے جیسے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اس کے جسم و جان اور قلب و روح کے تمام تار و پود کو بیک وقت معطر کر رہے ہیں۔

جیسے بھیگی بھیگی سی کوئی شام ہے اور قاری اس میں مزید بھیگ جانا چاہتا ہے۔ اور باوجود اس کے کہ وہ بعض دفعہ خود اپنے اوپر لکھی گئی تنقید پڑھ رہا ہوتا ہے اور تب بھی اس کی یہی خواہش ہو سکتی ہے کہ وہ مزید بھیگتا رہے۔ شاید اس کے شوق کو یہ احساس مہمیز کرتا ہے کہ یہ تحریر براہ راست اسی سے مخاطب ہے اور خاص کر اسی کے لیے ہمدردی و خیر خواہی کا بے پناہ جذبہ اپنے ظاہر و باطن میں سموئے ہوئے ہے۔

مولانا مرحوم کی تنقیدات کی اسی خصوصیت کے تعلق سے مولانا محمد تقی عثمانی صاحب نے لکھا ہے : ”ان کی تحریر و تقریر میں جو اخلاص، دردمندی اور دل سوزی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، وہ ان کی سخت سے سخت بات کو مخاطب کے لیے قابل قبول بنا دیتی تھی۔ اس کا نتیجہ تھا کہ عربوں پر کھری کھری تنقید کے باوجود عرب ممالک میں ان کی مقبولیت کسی بھی غیر عرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔“ [مفتی مولانا محمد تقی عثمانی، مضمون : ”توصیف کیا بیاں کریں ان کے کمال“ مطبوعہ: فکر انقلاب، فروری 2019، نئی دہلی]

اسی حوالے سے ایک اور شہادت دیکھیں :

اسلوب تحریر کیا ہے؟

ابو فہد ندوی 

اسلوب تحریر ہر صاحب قلم کے لکھنے کے اپنے اسٹائل کا نام ہے۔ اسلوب تحریر صاحب قلم کے مخصوص لفظیات، پھر انھیں خاص طرز پر ترتیب دینے کے ذاتی ہنر اور استعداد اور پھر استعاروں اور ضرب الامثال وغیرہ کو اس کے اپنے خاص طرز پر برتنے سے تشکیل پاتا ہے۔ یہ سرتا سر کوئی ذہنی رویہ یا فکرو رجحان نہیں ہے، البتہ یہ صاحب قلم کے ذہنی رویوں کا غماز اور فکر ورجحان کا پرتو ضرور ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسلوب تحریر صاحب قلم کے اسلوب زندگی کا پرتو ہے۔

اگر قلم کار کا ذہن صاف اور شارپ ہے تو اسلوب بھی صاف اور شارپ ہوگا اور اگر ذہن صاف نہیں ہے اور فکر گنجلک ہے تو اس کا اسلوب بھی گنجلک، بے معنیٰ اور تضادات سے بھرا ہوا ہوگا۔ کیونکہ صاحب قلم اگر کسی مسئلے یا کسی فکر کو بذات خود نہیں سمجھ سکتا تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ دوسروں کو بھی نہیں سمجھا سکتا، قلم کے ذریعے بھی نہیں، کم از کم مکمل وضاحت کے ساتھ تو بالکل بھی نہیں۔ اسلوب کا تعلق جس قدر فصاحت وبلاغت کی اضافی اور مقتدر صلاحیتوں سے ہے اسی طرح اس کا تعلق ذہنی رویوں اور ذہن میں پرورش پانے والے افکار سے بھی ہے۔

قلم کار اپنی کسی تحریر میں جو کچھ پیش کر رہا ہے، جس فن پر یا موضوع پر خامہ فرسائی کر رہا ہے اگر وہ اس کے تعلق سے بہت زیادہ مطمئن ہے اور اس کے تمام ابعاد اور تمام مہمات اس کے ذہن میں روشن ہیں بلکہ اس حد تک روشن ہیں کہ وہ خود اپنا بے تابانہ اظہار چاہتے ہیں اور اظہار کے لیے کسی پیرائے کے متلاشی ہیں تو قلم کار یا مصور اس کو بہت ہی آسانی اور حسن کارکردگی کے ساتھ اظہار کا جامہ پہنا سکتا ہے۔

آغا حشر کی کردار نگاری: ایک جائزہ

ڈاکٹر محمدشہنواز عالم

اسسٹنٹ پروفیسرشعبۂ اردو، اسلام پور کالج ، اتر دیناج پور، مغربی بنگال

یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے پاس جو ہے اس کی قدر دانی کے بجائے جو نہیں ہے اس کا رونا دھونا، اس کے نا ہونے پر پچھتانا اور ہاتھوں کا ملنا ہمارا معمول ہوتا ہے، یہ بات حسیاتِ انسانی کے لئے جتنی درست اور معنی خیز ہے اتنی ہی دنیائے ادب کے لئے بھی، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ معاملہ چاہے ادب کی تخلیق کا ہویا تنقید کا، ہر جگہ ہمیں احساسِ محرومی اور ناقدری کے نمونے مل جاتے ہیں۔ گو یہ کہ آغا حشر کے قلم کاروں کا عمل بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہا ہے۔ یعنی آغا حشر کے متعلق صرف یہ کہہ دینا کہ آغا حشر کے ڈرامے شیکسپیئر کے ڈرامے جیسے، سماجی شعور نظیر اکبر آبادی جیسا، فلسفۂ حیات اقبال جیسا اور زندگی منٹو کے کرداروں جیسی ہے جو بالکل درست نہیں ہے کیوں کہ آغا حشر کا سب کچھ ان کے جیسا تھا۔ ان کی تمام خوبیاں، خامیاں اور ان کی زندگی کا ایک ایک عمل ان کا اپنا ہے چنانچہ ہم اس بات کو پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ نہ تو ان کے ڈرامے شیکسپیئر کے ڈراموں کے متبادل ہوسکتے ہیں، نا ان کی شخصیت منٹو کے کردارجیسی ہے، نہ ان کا فلسفۂ حیات اقبالؔ کے فلسفۂ حیات جیساہے اور نہ ہی آغا حشر کا سماجی شعور نظیر سے کوئی مطابقت رکھتا ہے۔ غرض یہ کہ آغا حشر نے اپنے عہد کے تلخ حقائق اور شیرین آواز کو اپنے فن کے قالب میں ڈھال کر اسے ڈراموں کا جامہ پہنا کر دنیا والوں کے سامنے تا عمر پیش کرتے رہے۔ اور یہ وہی سچائی ہے جو انہیں اپنے ہم عصروں میں قد آور اور ممتاز کرتی ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر محمد شاہد حسین رقمطراز ہیں۔

’’احسن و بیتاب کے ہم عصروں میں ڈرامے کی دنیا کا ایک بہت ہی اہم اور معروف نام آغا حشر کا ہے ہمارے ڈرامے کی تقریباً سوا سو برس کی تاریخ میں عوام اور خواص دونوں میں امانت کے بعد جو مقبولیت آغا حشر کے حصہ میں آئی اس سے دوسرے ڈراما نگار محروم ہیں۔

آغا حشر احسنؔ و بیتابؔ کے ہم عصر ضرور ہیں مگرا نہوں نے ڈراما نگاری اس وقت شروع کی جب احسنؔ و بیتابؔ اپنا عروج حاصل کرچکے تھے۔ اور ان کی عظمت و اہمیت تسلیم کی جا چکی تھی، مگر آغا حشر نے ڈراما نگاری اس شان سے شروع کی کہ اپنے ہم عصروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔‘‘ ۱؎

بیانیہ :تعریف و توضیح

ریاض احمد کٹھو

ریسرچ اسکالر،شعبۂ اردو،کشمیر یونی ورسٹی،سری نگر ،کشمیر۱۹۰۰۰۶

بیانیہ کاجہاں تک تعلق ہے اردو کی مشہور تنقید نگار ممتاز شیریں اپنے مضمون’’تکنیک کا تنوع۔ناول او رافسانے میں ‘‘ میں لکھتی ہیں

’’بیانہ صحیح معنوں میں کئی واقعات کی ایک داستان ہوتی ہے جو یکے بعد دیگرے علی الترتیب بیان ہوتے ہیں‘‘ ۱؂

ممتاز شیریں کے اس قول سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بیانیہ دراصل کسی تحریر یا فن پارے میں کوئی واقعہ یا مختلف واقعات کی ایک ترتیب ہوتی ہے جو یکے بعد دیگرے تہہ در تہہ کھلتے ہیں۔بیانیہ اسلوب میں مصنف کسی واقعہ‘ قصہ‘ مطالعہ یا مشاہدے کو حکایتی یا کہانی کے انداز میں پیش کرتاہے ۔بیانیہ میں کوئی بھی تجربہ جائز ہے ۔ بیانیہ میں مصنف کوئی واقعہ یا قصہ کرداروں‘مکالموں یا مختلف مناظر کے ذریعے پیش کرسکتا ہے یا پھر وہ کسی فن پارے میں بیانیہ کاپیرائیہ تیار کرنے کے لیے داخلی خود کلامیInternal Monologueکاسہارا بھی لے سکتا ہے ۔اگر بیانیہ ایک طرف اکہرا‘رومانوی یا حقیقت پسندانہ ہوسکتاہے تو دوسری طرف اس میں علامت او رتجرد کااستعمال بھی جائز ٹھہرتا ہے ۔بیانیہ سے فکشن کاپورا تانا بانا تیار ہوتاہے جس کے لیے کہانی ایک جُز یا حصے کی حیثیت رکھتی ہے جو بمعنیStory Lineکے بیانیہ میں جاری رہتی ہے اور آگے بڑھتی رہتی ہے اس سے کسی فن پارے یا تحریر کاپلاٹ تیار ہوتاہے اور یہ Story Lineفکشن میں کرداروں یاواقعات یا مکالموں یا مختلف مناظر کو تشکیل دیتی ہے اور یہ سب چیزیں مل کربیانیہ کی شکل متعین کرتی ہیں۔

بیانیہ کاایک سرا جہاں متھ(Myth) اساطیر‘ تمثیل ‘ حکایت‘ دیو مالا‘ کتھا کہانی وغیرہ جیسی قدیم لوک روایتوں سے ملتاہے تو دوسرا سرا ڈرامہ‘ ناول‘ افسانہ جیسی جدید اصناف سے ملتاہے ۔بیانیہ میں صنفی ‘موضوعاتی یا ہیئتی اعتبار سے کوئی قید نہیں ہے ۔بیانیہ کو واقعہ یا قصہ سے غرض ہے ۔مشہور نقاد و محقق شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں:

’’بیانیہ سے مراد ہر و ہ تحریر ہے جس میں کوئی واقعہ یا واقعات بیان کئے جائیں‘‘ ۲؂

تاہم بیانیہ میں وقت کی قید ضرور ہے اور ہر بیانیہ وقت کا پابند ہوتاہے بقول شمس الرحمن فاروقی:

’’بیانیہ کا وجود ہی وقت پر منحصر ہے‘‘ ۳؂

گوپی چند نارنگ بیانیہ کے لیے وقت کی قید کو ضروری سمجھتے ہیں۔ان کے نزدیک بیانیہ کے لیے ضرور ی ہے کہ وہ ماضی سے تعلق رکھتا ہو۔نارنگ لکھتے ہیں:

’’ حال اور مستقبل میں Imperfectiveیعنی پیرایہ دیکھنے والی نظموں( شاعری) میں زیادہ تر بیانیہ نہیں فقط بیان ہوتا ہے ‘ یا پھر یہ منظر یہ ہوتی ہیں‘‘ ۴؂

اردو ادب میں صنعتِ تلازم یا متلازمہ سے کیا مراد ہے ؟

ادب میں اس سے مراد ہے لفظوں يا فقروں کے معانى کا  ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻻﺯﻡ  ﻭ ﻣﻠﺰﻭﻡ ہونا ۔ جیسے شاعرنے  کہا : 

" ﮨﻮﺍﺅﮞ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ

ﻣﮩﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﮔﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ" 

ﯾﮩﺎﮞ " ﻣﮩﮏ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ " ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮨﯿﮟ. ﻟﻔﻆ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﻋﺮﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺛﻼﺛﯽ ﻣﺰﯾﺪ ﻓﯿﮧ ﺑﮯ ﮨﻤﺰﮦ ﻭﺻﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﺏ ﺗﻔﺎﻋﻞ ﺳﮯ ﺍ ﺳﻢ ﻓﺎﻋﻞ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺑﻄﻮﺭ ﺻﻔﺖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺑﺎﺏ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺻﯿﺖ ﺗﺸﺎﺭﮎ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺏ ﮐﺎ ﻓﻌﻞ Word ﺩﻭ ﺍﺳﻤﺎﺀ Nouns ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﺍﺷﺘﺮﺍﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮐﺎ ﻣﺼﺪﺭ ﺗﻼﺯﻡ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﮨﻢ ﻻﺯﻡ ﮨﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﺍﺳﻢ ﻓﺎﻋﻞ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽٰ ﮨﮯ ﺑﺎﮨﻢ ﻻﺯﻡ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﻻﺯﻡ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺷﺮﯾﮏ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺁﮒ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮨﯿﮟ ( ﺁﮒ ﺟﻠﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﻻﺯﻣﺎ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮔﺎ ) ۔ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺭﮨﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮨﯿﮟ ( ﺑﮭﻮﮐﮯ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻻﺯﻣﺎ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ) ۔ ﻇﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﭘﮑﮍ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮨﯿﮟ ( ﻇﻠﻢ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﮐﮯ ﺗﻮ ﻻﺯﻣﺎ ﭘﮑﮍ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ) ۔ ﺧﻠﻮﺹ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮨﯿﮟ ( ﺍﺧﻼﺹ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻻﺯﻣﺎ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ )

ﺍﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﺎﺏ ﺗﻔﺎﻋﻞ ﺳﮯ ﺗﻘﺎﺗﻞ ﻣﺼﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻢ ﻓﺎﻋﻞ ﻣﺘﻘﺎﺗﻞ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﮨﻢ ﻗﺘﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ( ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳرﮯ ﮐﻮ مارنا  )،  ﺗﺒﺎﺩﻝ ﻣﺼﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻢ ﻓﺎﻋﻞ ﻣﺘﺒﺎﺩﻝ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﮨﻢ ﺑﺪﻝ ( ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ) ﮨﻮﻧﺎ ( ﺑﺮﻋﮑﺲ ) ، ﺗﺒﺎﺭﮎ ﻣﺼﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻢ ﻓﺎﻋﻞ ﻣﺘﺒﺎﺭﮎ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﮨﻢ ﺑﺮﮐﺖ ﻭﻻ ﮨﻮﻧﺎ ( ﺑﺮﮐﺖ ﻭﺍﻟﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺑﺮﮐﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﻧﺎ )

ﻣﺰﯾﺪ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻋﻠﻢ ﺻﺮ ﻑ ﮐﯽ ﮐﺘﺐ ﻣﻼﺣﻈﮧ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ.

 ﺍﺩﺑﯽ ﺗﻨﻘﯿﺪﯼ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻟﻔﻆ ﺑﮩﺖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ : ’’ ﺗﻼﺯﻣﮧ ‘‘

ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻻﺯﻡ ﻭ ﻣﻠﺰﻭﻡ ﻭﺍﻟﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺘﻤﯿﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ، ﺗﺎﮨﻢ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﮨﻢ ﺑﮩﺖ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺳﻤﺎﺀ ، ﺍﻓﻌﺎﻝ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻻﮔﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

مثاﻝ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺷﻌﺮ ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ :

ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺑﺮ ﺗﮭﺎ ، ﮐﮧ ﻭﮦ ﺟﮭﯿﻞ ﺗﮭﯽ ، ﮐﮧ ﺳﺮﺍﺏ ﺗﮭﺎ

ﺳﻮ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ، ﮐﮩﯿﮟ ﭘﺎﺋﯿﮯ ﺟﻮ ﺳﺮﺍﻍِ ﺩﻝ

انڈیا میں اردو کے فروغ کی کوششوں کا جائزہ

اردو زبان و ادب
انڈیا میں اردو کے فروغ کی کوششوں کائزہ
 سالانہ جشن اور مشاعرہ 

اس میں کوئی شک نہیں کہ انڈیا میں عام طور پراردو کو مسلمانوں اور اسلام کی زبان سمجھاجاتا ہے، اس لئے اردو کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑا جاتا ہے۔

 تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ تقسیم ہند سے پہلے اردو کے جتنے ادبی جلسے منعقد ہوتے اس کی سربراہی کوئی نہ کوئی مسلمان ادیب یا شاعر کرتے تھے ۔ لیکن اب معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ 

اگر صرف دلی کا ذکر کیا جائے تو یہاں اردو کے بہت سے پروگرامز ادبی کلینڈر کا حصہ ہیں، لیکن یہاں جوبھی بڑے ادبی جلسے اورجشن منائے جاتے ہیں سب کی سربراہی غیر مسلموں کے پاس ہے، جیسے : 

-  شنکر شاد مشاعرہ 

 یہ دو اہم ہندو شاعروں شنکر لال شنکر اور لالہ مرلی دھر شاد کی یاد میں منایا جاتا ہے اور اسے ایک بڑی کمپنی ڈی سی ایم سپانسر کرتی ہے۔ 

-  مشاعرہ جشن بہار

     اس کی روح رواں  بھی ایک ہندو عورت کامنا پرساد ہیں۔

-  جشن ریختہ 

 اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اردو کے فروغ میں اس نئی مقبولیت کا سہرا ریختہ ڈاٹ او آر جی کے سرجاتاہے، جس کے بانی معروف شخصیت سنجیو صراف ہیں ۔ اس سے اردو کی مقبولیت کو ایک نیا پلیٹ فارف فراہم ہوگیا ہے۔ 

فن ادب اور ادبی تخلیق - ابوالبشر احمد طیب

فن ادب

فن ادب اور ادبی تخلیق
یہ حقیقت ہے کہ انسانیت اور انسانی معاشرت  فلسفہ اور سائنس پر نہیں بلکہ جذبات پر قائم  ہے ، فرض کریں ایک بڈھے شخص کا بیٹا مرگیا ہے اور لاش سامنے پڑی ہے ، یہ شخص اگر سائنسدان سے رائے لے تو جواب ملے گا کہ ایسے اسباب جمع ہوگئے جن کی وجہ سےدوران خون یا دل کی حرکت بندہوگئی ، اسى کا نام موت ہے ، یہ ایک مادی  حادثہ ہے لہذا رونا دھونا بےکار ہے ، رونے سے وہ دو بارہ زندہ نہیں ہوگا۔ لیکن کیا سائنسدا ن خود اس اصول پر عمل پیرا ہوسکتا ہے ، بچوں کا پیار ، ماں کی مامتا ، محبت کا جوش ، غم کا ہنگامہ ، موت کا رنج ، ولادت کی خوشی ، کیا ان چیزوں کو سائنس سے کوئی تعلق ہے ، لیکن یہ چیزیں اگر مٹ جائیں تو زندگی میں سناٹا چھاجائے گا ، اور دنیا قالب بے جان ، شراب بے کیف ، گل بےرنگ ، گوہر بے آب ہوکر رہ جائیگی ، دنیا کی چہل پہل ، رنگینی ، دلآویزی ، دلفریبی ، سائنس  اور فلسفہ کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانی جذبات کی وجہ سے ہے جو عقل کی حکومت سے تقریبا آزاد ہیں ۔

 فن ادب یا تخلیق ادب کو جذبات ہی سے تعلق ہے  اس لیے تاثیر اس کا عنصر ہے ، ادب ہر قسم کے جذبات کو برانگیختہ کرتا ہے ، اس لیے رنج ، خوشی ، جوش ، استعجاب ، حیرت  میں جواثر ہے وہی ادب میں ہے ، باد سحر کی جھونکے ، آب رواں کی رفتا ر ، پھولوں کی شگفتگی ، غنچوں کا تبسم ، سبزہ کی لہلہاہٹ ، خوشبؤں کی لپٹ ، بادل کی پھوہار ، بجلی کی چمک ، یہ منظر آنکھ کے سامنے ہو تو دل پر وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے، شاعر یا انشا پرداز ان مناظر کو بعینہ پیش کردیتا ہے تو  دل پر ان کا اثر ہوتا ہے ۔  ادب صرف محسوسات کی تصویر نہیں کھینچتا ، بلکہ جذبات اور احساسات کو بھی پیش نظر کردیتا ہے ، اکثر عام انسان اپنے جذبات سے خود واقف نہیں ہوتے اگر ہوتے ہیں تو صرف دھندلاسا نقش نظر آتا ہے ، شاعر یا انشا پر داز ان پس ِپردہ چیزوں کو پیش نظر کردیتا ہے ، دھندلی چیزیں چمک اٹھتی ہیں ، مٹا ہوا نقش اجاگر ہوجاتا ہے ،یہاں تک کہ روحانی تصویر جو کسی آئینہ کے ذریعہ ہم نہیں دیکھ سکتے ، ادب ہمیں دکھا دیتا ہے ۔ 

میر انیس اور ان کے مرثیوں کا مختصر فنّی جائزہ

 میر انیس 
ببر علی انیس۔ اردو مرثیہ گو۔ میر مستحسن خلیق کے صاحبزادے تھے اور معروف مثنوی سحر البیان کے خالق میر غلام حسین حسن ان کے دادا تھے۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ خاندانِ سادات سے تعلق تھا۔

تعلیم

مولوی حیدر علی اور مفتی حیدر عباس سے عربی، فارسی پڑھی۔ فنونِ سپہ گری کی تعلیم بھی حاصل کی۔ فنِ شہسواری سے بخوبی واقف تھے۔

شاعری و مرثیہ گوئی

شعر میں اپنے والد سے اصلاح لیتے تھے۔ پہلے حزیں تخلص تھا۔ شیخ امام بخش ناسخ کے کہنے پر انیسؔ اختیار کیا۔ ابتدا میں غزل کہتے تھے۔ مگر والد کی نصیحت پر مرثیہ کہنے لگے اور پھر کبھی غزل کی طرف توجہ نہیں کی۔ اس خاندان میں شاعری کئی پشتوں سے چلی آتی تھی۔ آپ کے مورثِ اعلیٰ میر امامی شاہ جہاں کے عہد میں ایران سے ہند میں آئے تھے اور اپنے علم و فضل کی بنا پر اعلیٰ منصب پر متمکن تھے۔ ان کی زبان فارسی تھی لیکن ہندوستانی اثرات کے سبب دو نسلوں کے بعد ان کی اولاد فصیح اردو زبان بولنے لگی۔ میر انیس کے پردادا اور میر حسن کے والد میر غلام حسین ضاحک اردو کے صاحبِ دیوان اور غزل گوشاعر تھے۔ گویا میر انیس کے گھر انے کی اردو شاعری کا معیار تین نسلوں سے متقاضی تھا کہ وہاں میر انیس جیسا صاحب سخن پروان چڑھے اور تا قیامت اہلِ ادب اُسے خدائے سخن کے نام سے پکارتے رہیں۔

غزل سے مرثیے تک

میر انیس ابتدا میں غزل کہتے تھے مگر والد کی نصیحت پر صرف سلام اور مرثیہ کہنے لگے اور پھر ایسے منہمک ہوئے کہ کبھی غزل کہنے پر توجہ ہی نہیں دی۔ محمد حسین آزاد نے کیا خوبصورت تبصرہ فرمایا ہے کہ

والد کی فرماں برداری میں غزل کو ایسا چھوڑا کہ بس غزل کو سلام کر دیا۔
ناصر لکھنوی نے خوش معرکہء زیبا (مرتّبہ مشفق خواجہ کراچی ) میں لکھا ہے کہ غزلیں انہوں نے دانستہ ضاِئع کر دی تھیں مگر پندرہ سولہ غزلیں جو محققین کو دستیاب ہوئی ہیں وہ انیس کی غزل گوئی پر فنی قدرت کی واضح ترین دلیل ہیں۔ چند شعر دیکھیے

نسیم حجازی کى شخصیت اور ان کی تصانیف

نسیم حجازی کی شخصت 
نسیم حجازی اردو کے مشہور ناول نگار تھے جو تاریخی ناول نگاری کی صف میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

حالات زندگی


ان کا اصل نام شریف حسین تھا لیکن وہ زیادہ تر اپنے قلمی نام "نسیم حجازی" سے معروف ہیں۔ وہ تقسیم ہند سے قبل پنجاب کے ضلع گرداسپور میں 1914ء میں پیدا ہوئے۔ برطانوی راج سے آزادی کے وقت ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آگیا اور باقی کی زندگی انہوں نے پاکستان میں گزاری۔ وہ مارچ 1996ء میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے ناول مسلمانوں کے عروج و زوال کی تاریخ پر مبنی ہیں جنہوں نے اردو خواں طبقے کی کئی نسلوں پر اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔ وہ صرف تاریخی واقعات بیان کر کے نہیں رہ جاتے بلکہ حالات کی ایسی منظر کشی کرتے ہیں کہ قاری خود کو کہانی کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے اور ناول کے کرداروں کے مکالموں سے براہ راست اثر لیتا ہے۔

عملی زندگی کا آغاز

نسیم حجازی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت کے شعبے سے کیا اور ہفت روزہ تنظیم کوئٹہ،روزنامہ حیات کراچی، روزنامہ زمانہ کراچی، روزنامہ تعمیر راولپنڈی اور روزنامہ کوہستان راولپنڈی سے وابستہ رہے۔ انہوں نے بلوچستان اور شمالی سندھ میں تحریک پاکستان کو مقبول عام بنانے میں تحریری جہاد کیا اور بلوچستان کو پاکستان کا حصہ بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔

میلادی روایات۔۔۔ : مولانا عبد الماجد دریابادی

میلادی روایات - عبد الماجد دریابادی 
بعض پچھلے نمبروں میں بہ ذیل مراسلات، میلادی روایات کی صحت پر گفتگو آچکی ہے، آج کی صحبت میں پھر اس پر ایک نظرکرنا ہے۔

کلام مجید میں ذکر متعدد انبیاء کرام کا آتا ہے، لیکن صرف چند انبیاء کرام اور ان کے متعلقین ہیں، جن کی پیدائش یا ولادت کا ذکر آیا ہے۔ اس مختصرفہرست میں سب سے پہلے نام حضرت آدم علیہ السلام کا ہے۔ آپ کی پیدائش خوارق عادات ایک مجموعہ تھی، اور فطرت کے عام دستور کے بالکل مخالف ہوئی۔ اوّل تو آپ کو بغیر ماں اور باپ کے پیدا کیا گیا، پھر فرشتوں سے آپ کی تعظیم کرائی گئی، اور جس مخلوق نے آپ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا وہ ہمیشہ کے لیے ملعون ہوگیا۔

آپ کو تمام اسماء کا علم کرادیا گیا، آپ کی پیدائش سے قبل فرشتوں سے خاص طور پر گفتگو فرمائی گئی اور پیدائش کے بعد ہی فرشتوں کے علم کا آپ کے علم کے مقابلہ میں امتحان لیا گیا، جس میں آپ کو کامیابی ہوئی۔ ظاہر ہے کہ یہ سارا سلسلہ واقعات عام انسانوں کی پیدائش کے قبل و بعد وجود میں لاتے رہنے کا دستور نہیں۔ زوج آدم علیہ السلام حضرت حوّا کی پیدائش کے بابت کوئی تصریح کلام مجید میں وارد نہیں، لیکن اس قدر ہے کہ وَخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا (اسی نفس واحد، یعنی آدم علیہ السلام سے اس کے زوج کو پیدا کیا) اور اکثر مفسرین مثلًا امام ابن جریر، حافظ ابن کثیر، قاضی بیضاوی وغیرہم نے قتادہؓ، سدیّ و ابن عباسؓ کے حوالہ دے کر یہ معنی لکھے ہیں، کہ آپ کی پیدائش فطرت معنی بالکل صحیح ہوں یا نہ ہوں، لیکن اتنا اشارہ تو کلام مجید سے بھی ہوتا ہے، کہ آپ کی پیدائش فطرت کے عام دستور سے ہٹ کر کسی اور طریق پر ہوئی تھی۔

اسلام، ادب اور اسلامی ادب - سرفراز فیضی

ادبیات اسلامی
اسلام ، ادب اور اسلامی ادب 
روزنامہ صحافت ممبئی/20فروری کے ایڈیشن میں ساجد رشید صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا۔ مضمون کا عنوان تھا”ادب کا مذہب کیا ہے ؟“مضمون اصل میں سہ ماہی نیا ورق کا اداریہ ہے جو مدیر محترم کے اس نوٹ کے ساتھ شائع کیا گیا ہے:
”ادب اور مذہبی اخلاقیات کے تناظر میں کالم نگار کا سہ ماہی نیا ورق (ممبئی)میں مطبوعہ اداریہ قارئین صحافت کو جماعت اسلامی کے ادب کو مذہبی اقدار کا پابند بنانے کی ایجنڈے کو وسیع تناظر میں دیکھنے کی دعوت دیتا ہے “
ساجد صاحب کے تجزیہ اور ادب کے متعلق ان کے نظریات سے ہم اتفاق نہیں رکھتے اس لیے مناسب سمجھا کہ فری لانسر کے ذریعہ قارئین کی عدالت میں اپنا اختلاف درج کرادیا جائے۔

بنیادی غلطی:

ادب کے متعلق ساجد صاحب کا نظریہ انتہائی محدود ، سطحی ، منفی اور تعصب آمیز ہے ۔ ادب کے متعلق ان کی یہ سطحی سوچ ہی سارے فساد کی جڑ ہے ۔ لکھتے ہیں:
”ادب تھوڑی سی دیوانگی ، تھوڑی سی فرزانگی ، تھوڑی سی تشکیک تھوڑی سی آوارگی اور بے پناہ وفور تخلیقیت کا نام ہے ۔“

علّامہ اقبال کا حکم جس کی تعمیل نہ ہو سکی- محمد اظہار الحق

(تاریخ اشاعت : 9 مارچ 2020 ، روزنامہ دنیا )
علامہ اقبال کا حکم جس کی تعمیل نہ ہوسکی - محمد اظہار الحق

ہلکی ہلکی بارش تھی۔ مارچ کے ابتدائی دنوں کا گلابی جاڑا بہار کی خبر دے رہا تھا۔ میں اور بیگم لائونج میں بیٹھے چائے پی رہے تھے اور ٹی وی پر ایک ٹاک شو کی لڑائی سے لطف اندوز ہو رہے تھے!

اچانک لائونج میں روشنی بھر گئی۔ جیسے دن نکل آیا ہو۔ پھر یہ روشنی‘ دیکھتے دیکھتے‘ ایک بے پناہ قسم کے نور میں بدلنے لگی۔ ایسا نور آج تک جو دیکھا نہ تصوّر میں آیا۔ ایک نورانی مخلوق ہمارے سامنے کھڑی تھی۔ لائونج کے ارد گرد کی دیواریں اپنا وجود کھو چکی تھیں یا ہماری نظریں ان دیواروں سے ماورا دیکھنے لگی تھیں۔ اس مخلوق کے پَر‘ ایک افق سے دوسرے افق تک احاطہ کر رہے تھے۔

ایک پُر سکون‘ پیار بھری آواز‘ اس نورانی ہستی کے منہ سے نکلی:

''اٹھیے! ہمارے ساتھ چلیے‘‘

''میری بیگم چیخی۔ نہیں‘ نہیں! آپ انہیں نہیں لے جا سکتے!‘‘

''نہیں!! بی بی! گھبرائو مت! میں فرشتہ ہوں مگر موت کا فرشتہ نہیں! تمہارے میاں کو غالبؔ اور اقبالؔ نے عالمِ بالا میں بلایا ہے۔ ان سے ملاقات کر کے واپس آ جائیں گے! میں خود چھوڑ جائوں گا!‘‘

ایک غیبی قوت میرے اندر بھر گئی۔ میں فرشتے کے ساتھ‘ اڑنے لگا۔ کیسے؟ نہیں معلوم! ثانیے تھے یا دن! ہفتے تھے یا مہینے! کچھ پتہ نہ چلا۔ وقت ماپنے کا موجودہ پیمانہ‘ ہماری زمین اور ہماری اس عارضی زندگی ہی سے وابستہ ہے؎

بچا کر بھی کہاں لے جا سکیں گے وقت کو ہم

یہیں رہ جائیں گے ہفتے مہینے سال سارے

نیاز فتح پوری کی اہم تصنیفات

نیاز فتح پوری کی تصنیفات 
نیاز فتح پوری برصغیر پاک و ہند کے ممتاز عقلیت پسند دانشور، شاعر، انشا پرداز، افسانہ نگار اور نقاد تھے۔وہ  1884ء میں یوپی کے ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔

 مدرسہ اسلامیہ فتح پور، مدرسہ عالیہ رامپور اور دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے حاصل کی۔ 1922ء میں اردو کا معروف ادبی و فکری رسالہ، "نگار" جاری کیا۔

 ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں 1962ء میں بھارت نے نیاز کو "پدما بھوشن" کے خطاب سے نوازا۔ 

31 جولائی 1962ء کو وہ ہجرت کر کے کراچی آ گئے۔ حکومت پاکستان نے بھی نیاز کو "نشان سپاس" سے نوازا۔


سرطان کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد 24 مئی 1966ء کو نیاز فتحپوری کا انتقال ہوا۔


ان کی تصنیفات آن لائن پڑھیں  !

Mukhtar Printing Works, Lucknow
1949
Mohammad Tufail
1946
انتقادیاتحصہ - 001
Abdul Haq Academy, Hyderabad
1944
انتقادیاتشمارہ نمبر-012

معروف ادیب ، نقاد محمد حسن عسکری کی تصنیفات

معروف نقاد محمد حسن عسکری اور ان کی تصنیفات 
محمد حسن عسکری (پیدائش: 5 نومبر 1919ء- وفات: 18 جنوری 1978ء) پاکستان کے نامور اردو زبان و ادب کے نامور نقاد، مترجم، افسانہ نگار اور انگریزی ادب کے استاد تھے۔ انہوں نے اپنے تنقیدی مضامین اور افسانوں میں جدید مغربی رجحانات کو اردو دان طبقے میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

حالات زندگی

محمد حسن عسکری 5 نومبر 1919ء کو سراوہ، میرٹھ، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان اصل نام اظہار الحق تھا جبکہ محمد حسن عسکری کے والد کا نام محمد معین الحق تھا۔ وہ بلند شہر میں کورٹ آف وارڈز میں ملازم تھے۔ وہاں سے وہ والی شکار پور رگھوراج کے یہاں بطور اکاؤنٹنٹ چلے گئے جہاں انھوں نے 1945ء تک ملازمت کی۔ انھوں نے 1936ء میں مسلم ہائی اسکول بلند شہر سے میٹرک اور 1938ء میں میرٹھ کالج سے انٹر پاس کیا۔ الہ آباد یونیورسٹی سے بی اے اور پھر 1942ء میں انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ اس یونیورسٹی میں انھوں نے فراق گورکھپوری اور پروفیسر کرار حسین جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا۔

اردو میں اسلامی ادب کی تحریک ۔ پروفیسر مہر اختر وہاب

اردو میں اسلامی ادب کی تحریک -
پروفیسر مہر اختر وہاب
اسلامی ادب کی تحریک اردو ادب کی اہم ادبی تحریک ہے ۔ اسلامی ادب کا نظریہ ہر عہد ، ہر ملک اور ہر زبان کے ادب میں ایک توانا فکر رہا ہے۔اسلامی ادب کی تحریک کی فکری اساس میں توحید ، رسالت اور آخرت میں جواب دہی کے تصورات بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔ اس نظریہ کی ہمہ گیری یہ ہے کہ حیات کائنات اور انسان کے بارے میں کوئی ایسا سوال نہیں ہے جس کا واضح اور تسلی بخش جواب اس کے پاس نہ ہو۔ادب اسلامی کی اصطلاح کو ماضی میں اعتراضات اور غلط فہمیوں کی متعدد یلغاروں کا سامنا کرنا پڑا ہے،یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تحریک ادب اسلامی کے ابتدائی ایّام میں اس کی صف میں کہنہ مشق مقام و مرتبہ رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں نے شامل ہونے کی زحمت گوارہ نہ کی ۔ تحریک ادب اسلامی نے اردو ادب کو بلاشبہ ایک سمت و رفتار عطا کی ہے عصر حاضر میں ترقی پسندی اور جدیدیت کے درمیان ایک تیسرا واضح اور نمایاں رجحان تعمیری ادب یا اسلامی ادب کا سامنے آیا ہے اس حلقہ سے وابستہ فنکاروں نے ہر صنف ادب میں کچھ نمایاں کوششیں ضرور کی ہیں ۔پروفیسر فروغ احمد اسلامی ادیبوں میں ممتاز مقام کے حامل ہیں ، ڈھاکہ میں رہتے ہوئے وہ اردو ادب میں اسلامی رجحانات کے فروغ میں ہمیشہ کوشاں رہے ہیں۔ 1968ء میں ان کی ایک کتاب ’’ اسلامی ادب کا جائزہ‘‘ لاہور سے شائع ہوئی تھی جس میں اسلامی ادب کی نظریاتی اساس،اس کا تاریخی پس منظر اور اردو ادب پر اسلامی تحریکات کے اثرات پر مضامین شامل ہیں۔ اسی طرح پروفیسر اسرار حمد سہاوری نے ’’ادب اور اسلامی قدریں ‘‘ کے عنوان سے باہمی تعلق، ادب اور مقصدیت ،ادب کے اجزائے ترکیبی جذبہ و حسن ادا ، اسلامی ادب کی خصوصیات ،اسلامی ادب کے موضوع وغیرہ پر بہت تفصیل سے لکھا گیا ہے۔


 اسلامی تحقیق و تنقید کے میدان میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی شخصیت ناقابل فراموش ہے۔ آپ نے ’’اسلامی ادب‘‘ کے عنوان سے ایک مجموعہ مضامین شائع کیا جس سے پہلی بار اسلامی ادب کے خدوخال نمایاں ہوئے۔ زیر نظر کتاب ’’اردو میں اسلامی ادب کی تحریک‘‘ مہر اختر وہاب کی تصنیف ہے اس کتاب میں ان سیاسی ،تہذیبی ، دینی اور ادبی روایات کا جائزہ لیاگیا ہے جس کی روشنی میں اسلامی ادب کی تحریک نے اپنا سفر شروع کیا ۔ اسلامی ادب کی تحریک کا آغاز ، نشور وارتقاء اس کے مختلف ادوار اور اسلامی ادب کی خصوصیات وغیرہ کو اس کتاب میں زیر بحث لایا گیا ہے ۔اس تحریک کے فروغ میں محمد حسن عسکری کے کردار کو بالخصوص اجاگر کیا گیا ہے ۔نیز اس کتاب میں اسلامی ادب کی تحریک کے ردِّ عمل کا جائزہ لیتے ہوئے برصغیر کے اہم ادبیوں اور نقادوں کے اسلامی ادب پر کیے گئے اہم اعتراضات کا تنقیدی تجزیہ پیش کیا گیا ہے ۔یہ اپنی نوعیت کی اولین کتاب ہے جس میں اسلامی ادب کی تحریک پر مفصل بحث گئی ہے ۔(م۔ا)

 مطالعہ کیلے کتاب  آن لائن  دستیاب ہے  : 

معروف ادبی رسالہ نقوش کے شمارے

گوپی چند نارنگ کی تصنیفات


گوپی چند نارنگ کی تصنیفات
گوپی چند نارنگ 11 فروری 1931ء کو ڈکی، زیریں پنجاب میں پیدا ہوئے ۔  پروفیسر گوپی چند نارنگ کو عہد حاضر کا صف اول کا اردو نقاد، محقق اور ادیب مانا جاتا ہے۔ گو کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ دہلی میں مقیم ہیں مگر وہ باقاعدگی سے پاکستان میں اردو ادبی محافل میں شریک ہوتے ہیں جہاں ان کی علمیت کو نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اردو کے جلسوں اور مذاکروں میں شرکت کرنے کے لیے وہ ساری دنیاکا سفر کرتے رہتے ہیں اورانہیں سفیر اردو کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ جہاں انہیں بھارت میں پدم بھوشن کا خطاب مل چکا ہے وہیں انہیں پاکستان میں متعدد انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا ہے۔  وہ بھارت کے سب سے اہم ادبی ادارے ساہتیہ اکادمی کے صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں ۔



Niyaz Ahmad
1991


Waqar-ul-Hasan Siddiqi
2006


Bhartiya Gyanpeeth, New Delhi
2016

پروفیسر مسعود حسین خاں کی تصنیفات

پروفیسر مسعود حسین خاں کی تصنیفات
پروفیسر مسعود حسین خاں
مسعود حسین خان (28 جنوری 1919ء-16 اکتوبر 2010ء) ماہر لسانیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سماجییات کے پروفیسر اوردہلی میں موجود مرکزی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر ہیں۔ 16 اکتوبر 2010ء کو ان کی وفات ہوئی۔

ان کا شاہکار" مقدمہ تاریخ زبان اردو"  ہے جس میں انہوں نے اردو زبان کی تاریخ اور اس کے آغاز و ارتقا پر مفصل بحث کی ہے۔ اردو زبان کے آغاز کی متعدد رجحانات اور اقوال کا انہوں نے موازنہ کیا ہے اور سب پر تنقیدی بحث کی ہے۔ اس ضمن میں ان کی یہ کتاب بہت مستند مانی جاتی ہے اور اکثریت نے ان کی تھیوری کو قبول کیا ہے۔ ان کی دوسری کتاب اردو زبان و ادب ہے جو 1954ء میں شائع ہوئی اور بام عروج کو پہونچی۔ ان کی کتب کے لئے ملاحظہ کریں - 

Shoba-e-Lisaniyat Muslim University Aligarh
1986

Shoba-e-Lisaniyat Muslim University Aligarh
1973

Shoba-e-Lisaniyat Muslim University Aligarh
1973

Iqbal Institute Kashmir University Srinagar
1983

Iqbal Institute Kashmir University Srinagar
1983