تعمیر انسانیت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تعمیر انسانیت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اساتذہ میں قیادت کی مہارتوں کی ترقی (Developing Leadership Skills in Teachers)



اساتذہ کا کردار صرف معلومات کی فراہمی تک محدود نہیں؛ وہ طلبہ کی زندگیوں میں رہنما، مشیر، اور مثالی شخصیت کے طور پر کام کرتے ہیں۔ قیادت کی مہارتیں ایک استاد کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرتی ہیں اور تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ اس مضمون میں ہم ان مہارتوں کے مختلف پہلوؤں پر بات کریں گے اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے طریقے واضح کریں گے۔

1. رہنمائی کی اہمیت کو سمجھنا

قیادت کی مہارتوں کا اولین مقصد اساتذہ کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ تعلیمی ماحول میں طلبہ کے لیے ایک مثبت رہنما بن سکیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنی کلاس کے ہر بچے کی تعلیمی اور جذباتی ضروریات کو سمجھیں اور ان کی ترقی کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کریں جہاں طلبہ کھل کر سیکھ سکیں۔ اساتذہ کا رہنما ہونا طلبہ کے لیے ایک اعتماد کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ مہارت طلبہ کو نہ صرف تعلیمی بلکہ زندگی کے دیگر معاملات میں بھی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

2. مؤثر مواصلاتی مہارت

اساتذہ کی مؤثر قیادت ان کی گفتگو اور مواصلات کی صلاحیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنی بات کو اس انداز میں بیان کریں کہ طلبہ اور ساتھی اساتذہ بخوبی سمجھ سکیں۔ کلاس روم میں طلبہ کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ استاد کی آواز، لہجہ، اور بات چیت کا انداز مؤثر ہو۔ اسی طرح، والدین اور اسکول انتظامیہ کے ساتھ مثبت رابطہ اساتذہ کو ایک مضبوط رہنما کے طور پر سامنے لاتا ہے۔

دنیا کے 10 ’امیر ترین خاندان

بی بی سی اردو ، 18 دسمبر 2024

امریکی ادارے بلوم برگ نے دنیا کے دس امیر ترین خاندانوں کی فہرست جاری کی ہے اور اس برس ایک بار پھر وال مارٹ سُپر مارکیٹ کا مالک والٹن خاندان یہاں سرِفہرست نظر آتا ہے۔

تقریباً چھ دہائیوں قبل سیم والٹن نے پہلی سُپر مارکیٹ کھولی تھی اور آج ان کے خاندان سے منسلک افراد کا تعلق دنیا کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا ہے۔ اس برس ان کی وال مارٹ چین کے شیئرز کی قدر میں 80 فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بلوم برگ کے مطابق وال مارٹ کی ترقی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے اثاثوں کا تحفظ کیا ہے اور ایسے کاروباری معاہدے کیے ہیں جس سے ان کی دولت میں کمی نہ آئے۔

اس فہرست میں مزید خاندانوں کے نام بھی شامل ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ ان لوگوں کے پاس کتنی دولت ہے اور ان کے امیر ہونے کا راز کیا ہے۔

(1) والٹن خاندان


تقریباً چھ دہائیوں قبل سیم والٹن نے پہلی سُپر مارکیٹ کھولی تھی

کُل دولت: 432 ارب ڈالر

ملک: امریکہ

دینی مدارس کی رجسٹریشن کا تنازع کیا ہے؟ فرحت جاوید

عہدہ,بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
10 دسمبر 2024

اکتوبر 2024 کے آخری ہفتے میں جب پاکستان کی پارلیمان نے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی تو اُس موقع پر جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ’دینی حلقوں کے دو اہم مطالبات‘ پارلیمان سے منظور کروانے پر ملک کے متعدد مذہبی حلقوں اور گروہوں کی جانب سے تحسین پیش کی گئی۔

اُن دو مطالبات میں ایک تو پاکستان سے سود کے نظام کا بتدریج خاتمہ تھا جبکہ دوسرا اہم مطالبہ ملک میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو محکمہ تعلیم کی بجائے پرانے سوسائیٹیز ایکٹ 1860کے ماتحت لانا تھا۔

تاہم دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق بل (سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ 2024) جب پارلیمان سے منظوری کے بعد فائنل منظوری کے لیے ایوانِ صدر پہنچا تو صدر آصف علی زرداری نے اس کے مسودے پر اعتراض لگا کر اسے واپس پارلیمان کو بھیج دیا۔

اور یہیں سے اس معاملے کی ابتدا ہوئی جس کے پس منظر میں جے یو آئی ف کے چند رہنماؤں کی جانب سے گذشتہ دنوں ’مطالبات کی منظوری کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ‘ کی بات کی گئی جبکہ گذشتہ روز (نو دسمبر) کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں مولانا نے حکمراں اتحاد پر الزام عائد کیا کہ وہ ’علما کو تقسیم کرنے کی سازش‘ پر عمل پیرا ہے۔مولانا حالیہ دنوں میں یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ ان کی جماعت حکومت کی جانب سے دینی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملات میں مداخلت کو قبول نہیں کرے گی۔

یہاں اہم سوالات یہ ہیں کہ آخر دینی مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ ہے کیا؟ نئے ترمیمی بِل میں رجسٹریشن سے متعلق کیا بات کی گئی ہے اور آخر اس معاملے نے حکومت کے اتحادی مولانا فضل الرحمان کو حکمراں اتحاد کے سامنے کیوں کھڑا کر دیا ہے؟

فکری انقلاب ۔ مولانا وحید الدین خان

المعہد العلمی للفکر الاسلامی کا بین اقوامی سیمینار (کوالالمپور ،جولائی1984)مسلم نوجوانوں میں ایک نئے فکری دور کی علامت ہے۔معہد کے فکر کا خلاصہ اس کے تعارفی پمفلٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ موجودہ زمانے میں امت مسلمہ کی ناکامی کا سبب خود اس کے اندر ہے، نہ کہ اس کے باہر۔وہ سبب ہے―ضروری بنیاد تیار کیے بغیر عملی اقدامات کرنا۔ معہد کے نزدیک پہلی ضروری چیز وہ ہے جس کو اسلامیۃالمعرفۃ (Islamization of Knowledge) کے لفظوں میں بیان کیا گیا ہے۔کہا گیا ہے کہ امت کے موجودہ بحران کو حل کرنے کے سلسلے میں پہلاقدم یہ ہے کہ علم کو اسلامی بنایا جائے:

The first step toward a genuine solution of present crisis of the Ummah is the Islamization of knowledge.

تقریباً 12 سال پہلے میں نے ایک مقالہ لکھا تھا۔یہ مقالہ عربی زبان میں اگست 1973 میں شائع ہوا۔اس کا عنوان:

لا بُدَّ مِنَ الثَّوْرَةِ الفِكْرِيَّةِ قَبْلَ الثَّوْرَةِ التَّشْرِيعِيَّةِ

اس مقالہ میں تفصیل سے یہ دکھایا گیا تھا کہ سیاسی یا قانونی انقلاب سے پہلے فکری انقلاب ضروری ہے۔امت کے عملی مسائل صرف اس وقت حل ہوں گے جب کہ ہم فکری انقلاب کے ذریعہ اس کے موافق فضا بنا چکے ہوں۔

یہاں میں یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ عین وہی بات ہے جو خود قرآن کی رو سے ہمارا اہم ترین اجتماعی فريضہ قرار پاتی ہے۔قرآن میں دو مقام پر (193;8:39:2) یہ حکم دیا گیا ہے ۔ سورہ البقرہ میں یہ الفاظ ہیں: وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلّٰهِ (2:193)۔ اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے۔

جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر کی تشریح سے معلوم ہوتا ہے،اس آیت میں فتنہ سے مراد شرک جارح ہے۔انھوں نے فرمایا کہ اس وقت اسلام تھوڑا تھا۔چنانچہ جب کوئی شخص دین توحید کو اختیار کرتا تو اہل شرک اسے ستاتے ۔کسی کو وہ قتل کر دیتے ،کسی کو زنجیروں میں باندھتے اور کسی کو عذاب دیتے۔یہاں تک کہ اسلام کی کثرت ہو گئی اور یہ صورت حال باقی نہ رہی کہ عقیدہ توحید کی بنا پر کسی کو ستایا جائے(صحیح البخاری، حدیث نمبر 4650)۔

غصے پر قابو پانے کے لیے یہ طریقے آزمائیں!



غصہ آنا ایک نارمل رویہ ہے اور غصے کا اظہار بھی بے حد ضروری ہے، غصے کو دبائے رکھنا اور برداشت کرنا ذہنی و جسمانی صحت کے لیے بے حد نقصان دہ ہے۔

تاہم بہت زیادہ اور شدید غصہ آنا بھی نقصان دہ ہوسکتا ہے، یہ نہ صرف صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ تعلقات اور سماجی زندگی میں بھی بگاڑ پیدا کرتا ہے۔

آج آپ کو غصے کو قابو کرنے کے طریقے بتائے جارہے ہیں جنہیں اپنا کر آپ اپنا غصہ کنٹرول کرسکتے ہیں اور کسی ممکنہ نقصان سے بچ سکتے ہیں۔

اظہار کرنے سے قبل پرسکون ہونے کا انتظار کریں


غصے میں کچھ بھی کہنے سے قبل انتظار کرنا بہتر ہے، جب آپ کا دماغ پرسکون ہوگا تب ہی اس کے بارے میں سوچنا آسان ہوگا کہ آپ کیا اظہار کرنا چاہ رہے ہیں۔

غصے کی حالت میں اکثر غلط بات منہ سے نکل جاتی ہے یا غلط فیصلہ ہوجاتا ہے جو بعد میں پچھتاوے کا باعث بنتا ہے۔

منظر سے ہٹ جائیں


جس لمحے آپ کو لگتا ہے کہ تناؤ بڑھ رہا ہے اور آپ غصے میں میں کچھ بھی کہہ دیں گے تو اس مقام سے دور ہو کر کسی قسم کی جسمانی ورزش کی کوشش کریں۔

پیدل چلنا، بائیک چلانا یا یہاں تک کہ چہل قدمی کرنا بھی آپ کے تناؤ کی سطح کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگی، اس طرح آپ پرسکون ہو کر صورتحال کا صحیح انداز میں سامنا کر پائیں گے۔

گہری سانسیں لیں

الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان

 الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کی ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جس کے زیر انتظام پاکستان کے کئی علاقوں میں فلاحی ادارے چلائے جا رہے ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن کا قیام 1990 میں عمل میں آیا ۔ الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان اس وقت سات شعبہ جات میں کام کر رہی ہے ۔ ان شعبہ جات میں تعلیم، صحت ، کفالت یتامٰی، صاف پانی ، مواخات (بلا سود قرضوں کی فراہمی) ، سماجی خدمات اور آفات سے بچاؤ کے شعبہ جات شامل ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن پہلے جماعت اسلامی پاکستان کے شعبہ خدمت کے نام سے جانی جاتی تھی جسے 1990ء میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے طور پر رجسٹر کرایا گیا۔

الخدمت فاؤنڈیشن وطن عزیز کی سب سے بڑی غیر حکومتی فلاحی تنظیم ہے۔ یوں تو الخدمت فاؤنڈیشن نے قیام پاکستان کے وقت امداد مہاجرین کے کٹھن کام سے اپنے کار خیر کا آغاز کر دیا تھا مگر غیر حکومتی فلاحی تنظیم کے طور پر اسے سن نوے میں رجسٹر کیا گیا۔ اس تنظیم کے پیش نظر کار ہائے خیر میں سب سے نمایاں وقت آفات میں رضاکارانہ سرگرمیاں ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن اس وقت پاکستان کے 150اضلاع میں اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔

آغوش


آغوش جماعت اسلامی پاکستان کی فلاحی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کا ایک ذیلی ادارہ ہے جسے اٹک دارالسلام کالونی میں قائم کیا گیا، جس میں 210 سپیشل بچے رہائش پزیر تھے، کشمیر میں2005 زلزلہ کے بعد اس کی وسعت میں اضافہ کیا گیا اور مزید 150 بچوں کے لیے عمارت تعمیر کر کے اس میں رہائش، قیام، طعام اور تعلیم کا بندوبست کیا گیا۔ ادارہ ایک کیڈٹ کالج کی طرز پر چلایا جاتا ہے جس کے انچارج کرنل (ر) خالد عباسی ہیں جو رضاکارانہ طور پر ادارہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ بچوں کی کفالت کی ذمہ داری زیادہ تر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اٹھارکھی ہے۔ جن میں برطانیہ سے یو کے اسلامک مشن اور یارکشائر کریسنٹ چیریٹیبل ٹرسٹ، امریکا سے اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا اور جاپان و آسٹریلیا کے کچھ پاکستانی بھی شامل ہیں۔ ادارے کی خصوصیت بچوں کا تعلیمی معیار، رہن سہن کی سہولیات اور معیاری طرز زندگی ہے۔

حرکت میں ہی برکت ہے: ’زیادہ دیر تک بیٹھنا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے‘

 بی بی سی اردو 26 جولائی 2024
گھر ہو دفتر یا گاڑی، لوگ روزانہ کہیں نہ کہیں دیر تک بیٹھے ضرور رہتے ہیں لیکن بہت دیر تک بیٹھے رہنے سے شریانوں کی خرابی کی وجہ سے دل کی بیماری اور ٹائپ ٹو ذیابیطس جیسے سنگین صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

سنہ 1953 میں وبائی امراض کے ماہر جیریمی مورس نے دریافت کیا کہ لندن کے بس ڈرائیوروں میں دل کی بیماری میں مبتلا ہونے کا امکان بس کنڈیکٹرز کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔

آبادی کے لحاظ سے (عمر، جنس اور آمدن کے لحاظ سے) دونوں گروہ ایک جیسے تھے تو پھر اتنا اہم فرق کیوں تھا؟

مورس کا جواب تھا: بس کنڈکٹرز کا کھڑا ہونا لازمی تھا اور باقاعدگی سے لندن کی مشہور ڈبل ڈیکر بسوں کی سیڑھیوں پر چڑھنا پڑتا تھا کیونکہ وہ مسافروں کو ٹکٹ فروخت کرتے تھے جبکہ ڈرائیور لمبے وقت تک بیٹھے رہتے تھے۔

ان کے تاریخی مطالعے نے جسمانی سرگرمی اور صحت کے درمیان روابط پر تحقیق کی بنیاد رکھی۔

اگرچہ لندن کی بسوں میں کنڈکٹرز اب ماضی کی بات ہو گئی ہے تاہم مورس کے نتائج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔

کووڈ 19 کی وبا کے بعد سے گھر سے کام کے معاملے میں بہت بڑی تبدیلی آئی، جس سے ہمارے بیٹھنے کے مجموعی وقت میں اضافہ ہو گیا۔

میٹنگ روم سے واٹر کولر اور بیت الخلا تک کی چہل قدمی کے بغیر ڈیسک کے پیچھے گھنٹوں تک بیٹھنا آسان ہے۔

تاہم آفس کلچر نے 1980 کی دہائی تک ہماری کام کرنے کی زندگی کو اس قدر تبدیل کر دیا تھا کہ کچھ محققین نے مذاق کیا کہ ہماری نسل ہومو سیڈنز ’بیٹھے ہوئے انسان‘ بن گئی ہے۔

ہم اکثر چیزوں میں برائی ہی کیوں تلاش کرتے ہیں؟

کیرولینا موٹرم اور فرنینڈو ڈوارٹے
بی بی سی نیوز
18 جون 2024

کیا آپ کو لگتا ہے کہ دنیا بہتر ہو رہی ہے یا بدترین حالات کی جانب بڑھ رہی ہے؟ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں دُنیا بد تر ہو رہی ہے تو آپ ایسا سوچنے والے اکیلے فرد نہیں۔

گیلپ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق گذشتہ دو دہائیوں میں دنیا بھر میں منفی جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ گیلپ کی جانب سے 2022 میں ہونے والے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ دنیا بھر میں ہر 10 میں سے چار بالغوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ انھیں بہت زیادہ پریشانی یا تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ شاید کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ ہمارے مسائل اکثر سنگین اور ناقابل تردید ہوتے ہیں۔ دُنیا میں جاری جنگیں، آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات اور اخراجاتِ زندگی میں ہونے والے اضافے سے ایسا لگتا ہے کہ بس اب دنیا گھٹنے ٹیک رہی ہے یعنی حالات بدتر ہو تے جا رہے ہیں۔

لیکن ساؤل پرلمٹر کے مطابق یہ کہانی کا صرف ایک رخ ہے۔ وہ ایک امریکی ماہر فلکیات ہیں جنھیں 2011 میں طبیعیات میں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ وہ سائنسدانوں کی ایک ایسی ٹیم کا حصہ تھے کہ جنھوں نے اس بات کے ثبوت فراہم کیے تھے کہ کائنات تیزی سے پھیل رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسے وقت میں جی رہ رہے ہیں کہ جس میں ہم نے زندگی کے بہت سے پہلوؤں کو بہتر بنایا ہے۔‘

ہم یقینی طور پر ایک طویل سفر طے کر چکے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے مطابق 1900 میں پیدا ہونے والے بچوں کی متوقع اوسط عمر 32 سال تھی جو 2021 تک یہ تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہو کر71 ہو گئی۔ بچوں کی شرح اموات میں ڈرامائی طور پر کمی آئی ہے اور ہم نے غربت کو کم کرنے میں بھی بڑی پیش رفت کی ہے۔‘

وہ تین خوبیاں جن کی بدولت لوگوں نے نوکری چھوڑ کر اپنے کاروبار میں کامیابی پائی

 ایون ڈیویز
عہدہ,بی بی سی نیوز
7 جون 2024

کیا آپ مزدوری سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور اپنا کاروبار چلانا چاہتے ہیں؟ ترجیحی طور پر ایک ایسا کاروبار جو آپ کے لیے محض لائف سٹائل سے بڑھ کر کچھ ہو یعنی ایسا کاروبار جسے آپ پائیدار بنا کر فروخت کر سکتے ہوں اور جس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر آپ باقی زندگی گزار سکیں۔

بی بی سی نے ایک سریز ’ایسے فیصلے جن سے میں لیڈر بن گیا‘ کے لیے چھ کامیاب کاروباری شخصیات سے بات کی ہے۔ اگرچہ یہ کسی بھی سروے کے لیے بہت ہی مختصر نمونہ ہے مگر ان انٹرویوز سے ہمیں کچھ دلچسپ معلومات ضرور حاصل ہوتی ہیں۔

وہ پانچ غذائیں جو جسمانی تھکاوٹ اور سُستی کا خاتمہ کرتی ہیں

سیسیلیا باریا
بی بی سی اردو  5 جون 2024

بار بار سُستی اور تھکن محسوس کرنا یا بار بار سونے کی خواہش کرنا انسانی صحت کے لیے پریشان کُن علامتیں ہیں۔

جب تھکاوٹ انتہا پر پہنچ جاتی ہے تو ہمارے اندر اپنی پسند کے کام کرنے کی توانائی یا اس کام کو سرانجام دینے کی خواہش بھی مرنے لگتی ہے۔

نیویارک یونیورسٹی سے منسلک ماہرِ غذائیت سمانتھا ہیلر کہتی ہیں کہ ایسی صورت حال میں ’اپنی توجہ کو کسی کام پر مرکوز رکھنا بھی مشکل ہو سکتا ہے اور آخر میں آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور آپ کے اندرمایوسی بڑھ رہی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ آپ کی توانائی کی سطح کو بُلند کرنے کے لیے جہاں آرام، دماغی صحت اور ورزش وغیرہ ضروری ہے وہیں کھانا بھی بہت ضروری ہے۔ ایسے میں اپنی کھانے کی عادات کو اچانک تبدیل کرنے کے لیے کوئی انقلابی منصوبہ بنانے سے بہتر ہے کہ آپ اپنے کھانے کے معمول میں چھوٹی موٹی تبدیلی کریں۔

یہ چھوٹی موٹی تبدیلیاں شروعات میں ہی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔

آخری لمحات میں امتحانات کی بہتر تیاری کیسے کی جائے؟

جوناتھن فرتھ
 بی بی سی اردو ۱ جون ۲۰۲۴

اگر آپ سکول، کالج یا یونیورسٹی کے طالب علم ہیں اور آپ کے امتحانات سر پر ہیں تو ہو سکتا ہے کہ اس وقت آپ وہ سبق یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہوں جو آپ نے بہت پہلے سیکھا ہو اور اب امتحانات قریب آنے پر یا تو آپ اس پڑھائے گئے سبق کو بالکل بھول چکے ہوں یا پھر یہ اس بات کا ثبوت ہے جس وقت وہ سبق پڑھایا جا رہا تھا اس وقت آپ کی مکمل توجہ اس جانب نہیں تھی۔

بدقسمتی سے ایک وقت میں بہت ساری معلومات کو ایک ساتھ یاد کرنے کی کوشش کرنا کسی بھی سبق کو اچھے سے سیکھنے کا انتہائی غیر مؤثر طریقہ ہے۔

لیکن ان حالات کے باوجود امتحان پاس کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

اگر بڑھتی عمر کے ساتھ یادداشت کی کمزوری سے بچنا ہے تو یہ چار عادات فوراً چھوڑ دیں

وان فرانسسکو الونسو
عہدہ,بی بی سی، منڈو
9 مئ 2024

معروف مصنف آسکر وائلڈ نے کہا تھا کہ ’ہماری یادداشت وہ ڈائری ہے جو ہم سب اپنے ساتھ لے کر گھومتے ہیں۔‘

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری یادداشت کمزور ہوتی جاتی ہے یا سادہ الفاظ میں اِس ڈائری کے کچھ صفحے بعض اوقات کھو جاتے ہیں یا ہم انھیں کہیں رکھ کر بھول جاتے ہیں، جو کہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں ’ڈائنیمک میموری لیبارٹری‘ کے ڈائریکٹر پروفیسر چرن رنگناتھ ان نیورو سائنسدانوں میں سے ایک ہیں جو یادداشت اور اسے بحال رکھنے پر تحقیق کرتے ہیں۔

وہ اس موضوع پر ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں۔ پروفیسر چرن کے مطابق چار ایسی بُری عادات ہیں جن کے باعث ہمارا ذہن چیزیں بھولنا شروع کر دیتا ہے یعنی یادداشت کمزور ہوتی جاتی ہے۔ پروفیسر چرن نے وہ تدابیر بھی بتائی ہیں جن کو اختیار کر کے یادداشت کی کمزوری سے بچا جا سکتا ہے۔

1۔ آرام اور نیند کی قلت

جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے، ویسے ویسے ہماری نیند کا دورانیہ کم ہوتا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کام (نوکری)، مالی حالات اور صحت سمیت دیگر مسائل بھی ہماری نیند کے معیار کو متاثر کرتے ہیں اور یوں صحت کے سنگین مسائل جنم لیتے ہیں۔

پروفیسر چرن کا کہنا ہے کہ ’دماغ کا ایک نظام ہے جس کے ذریعے وہ اپنے اندر جمع ہونے والے زہریلے مواد کو باہر نکالتا ہے۔ ان میں امیلوئیڈ پروٹین شامل ہیں جن کا تعلق الزائمرز سے ہے۔ یہ نظام رات کے وقت متحرک ہوتا ہے۔‘

کامیاب انسان کی عادات

1. طبعی عادات

ورزش کرنا ، کھانا پینا ، تناو پر قابو پانا ۔

2. سماجی / جذباتی عادات

خدمت / دوسرے کی طرح سوچنا/ اتحاد عمل / اندرونی تحفظ ۔

3- ذہنی عادات

پڑھنا ، تصور کرنا ، پلاننگ کرنا ، لکھنا ۔

4- روحانی عادات

اپنی اقدار کو سمجھنا اور ان پر قائم رہنا ، پڑھنا اور عبادت کرنا ۔




دنیا کے چند مشہور کامیاب انسانوں کی باتیں

معروف ماہر نفسیات سٹیفن آر۔ کووے کا کہنا ہے کہ انسان کی فطرت کے کچھ حصے ایسے ہیں کہ جن تک قانون یا تعلیم کے ذریعے نہیں پہنچا جاسکتا ۔ ان سے نپٹنے کے لیے اللہ کی قدرت درکار ہوتی ہے۔ جس قدر ہم فطرت کے قریب ہوکر زندگی گزار تے ہیں اسی قدر آفاقی رحمتیں ہمیں اپنی آغوش میں لے لیتی ہیں۔ اور ہمیں ہماری تخلیق کے مقصد اور منزل کے قریب کردیتی ہیں ۔

اصول در اصل قدرتی قوانین ہیں اور اللہ تعالی جو کہ ہم سب کی تخلیق کرنے والا ہے ۔ ان قوانین کا منبع ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہمارے دلوں کا مالک بھی ہے ۔ لوگ جس قدر اس روحانی تجربہ کے ساتھ زندگی بسر کریں گے اتنا ہی وہ اپنی فطرت کی نشو نما کرسکیں گے اور جس قدر اس تجربہ سے دور ہوں گے اتنا ہی وہ جانوروں کی سطح پر زندگی بسر کریں گے ۔

ٹیل ہارڈ ڈی چارڈن نے کہاتھا " ایسا نہیں کہ ہم انسان ہیں اور روحانی تجربہ کررہے ہیں بلکہ ایسا ہے کہ ہم روحانی لوگ ہیں اور انسانی تجربہ کررہے ہیں "

بروس بارٹن نے کہاتھا " بسا اوقات جب میں اس بات پر غور کرتا ہوں کہ کائنات کی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے کیا کیا زبردست نتائج برآمد ہوتے ہیں تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہوں کہ اس کائنا ت میں کوئی بھی چیز چھوٹی چیز نہیں ہے ۔"

معروف ادیب و شاعر ٹی ۔ایس ۔ ایلیٹ نے کہا تھا " ہمیں جستجو روکنی نہیں چاہیے ۔ تلاش کے آ خر پر ہم اس سفر کے آٖغاز پر ہی پہنچ جائیں گے اور ہمیں یوں لگے گا کہ جیسے اس جگہ پر ہم پہلی مرتبہ آئے ہوں "

جارج برنارڈ شا نے کہا تھا " زندگی کا حقیقی مزہ اس بات میں ہے کہ ایسے مقصد کے لیے گزاری جائے جسے آپ اپنی نظر میں اعلی سمجھتے ہوں ۔ بجائے چھوٹی چھوٹی خود غرض تکلیفوں اور غموں کے بارے میں شکایات کرنے کے اور اس بات پر ناراض رہنے کے کہ دنیا نے مجھے خوش رکھنے کے لیے اپنے سارے کام کیوں نہیں چھوڑے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قدرت کی ایک طاقت بن جائیں ۔ میرا خیال ہے کہ میری زندگی میرے گرد تمام مخلوق سے متعلق ہے اور جب تک میں زندہ ہوں میرے لیے یہ خوش قسمتی کی بات ہوگی ۔ اس کے لیے میں تمام وہ کچھ کرتا رہوں جو میرے اختیار میں ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ جب میں مروں تو میں مکمل طور پر استعمال میں لا یا جاچکاہوں ۔ کیونکہ جتنا محنت سے میں کام کروں گا اتنا ہی زیادہ میں زندہ رہوں گا ۔ میں زندگی کو اس کی اپنی خاطر بہت چاہتا ہوں ۔ زندگی میرے لیے کوئی مختصر شمع نہیں ہے بلکہ یہ میرے لیے ایک زبردست قسم کی مشعل ہے جسے مجھے کچھ عرصے کے لیے تھامنے کا موقع ملا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس عرصے میں یہ اس قدر روشن ہو جائے کہ جتنی یہ ہوسکتی ہے۔ اس سے پہلے کہ اسے میں اگلی نسلوں کو تھما دوں "

’اوپن بُک ایگزامینیشن‘: کمرہِ امتحان میں کتابیں کھول کر پرچے حل کرنے کا نظام پاکستان میں قابل عمل ہے؟

روحان احمد
بی بی سی اردو
 ۲۵ فروری ۲۰۲۴

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کمرہِ امتحان میں موجود ہیں اور سوالنامہ آپ کے ہاتھ میں ہے لیکن آپ اسے دیکھ کر پریشان نہیں ہو رہے کیونکہ آپ کو اجازت ہے کہ آپ اپنی کتابیں کھول کر سوالات کا جواب تلاش کر سکتے ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ کتابیں کھول کر جواب ڈھونڈنے کو یہاں نقل یا چیٹنگ کا نام بھی نہیں دیا جائے گا اور نہ آپ کو ایسا کرنے پر کوئی سزا دی جائے گی۔

ایسے امتحانات کو ’اوپن بُک ایگزامینیشن‘ کہا جاتا ہے اور اس کے تجربات اس خطے میں انڈیا سمیت کئی ممالک میں کیے جا رہے ہیں۔

’اوپن بُک ایگزامینیشن‘ کا مقصد کیا ہے؟


’اوپن بُک ایگزامینیشن‘ کا مطلب یہ ہے کہ امتحان دیتے وقت طالب علم کتاب یا دیگر مطالعاتی مواد کو دیکھ کر سوالات کے جوابات لکھ سکتے ہیں۔

دنیا بھر میں ’اوپن بُک ایگزامینیشن‘ لینے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ طالب علموں کی سوچنے، سمجھنے، تجزیہ کرنے اور تنقیدی نگاہ سے پیچیدگیوں کو حل کرنے کی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے۔

پاکستان میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے رزلٹ کا نیا نظام کیسے کام کرے گا؟

پاکستان میں میٹرک اورانٹر میڈیٹ کے
 رزلٹ کا نیا نظام کیا ہے؟
عمر دراز ننگیانہ
بی بی سی اردو ۲۲ نومبر ۲۰۲۳

پاکستان میں میٹرک اور انٹرمیڈییٹ کے امتحانات کے نتیجے تیار کرنے کے طریقہ کار کو بدلا جا رہا ہے۔ نئے طریقہ کار کے مطابق امتحانات کے بعد نتیجہ اب نمبروں میں نہیں بلکہ گریڈز میں آیا کرے گا اور یہ گریڈز حتمی گریڈنگ پوائنٹس یعنی جی پی اے کا تعین بھی کریں گے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سنہ 2025 کے بعد جب نیا نظام تین مراحل سے گزرنے کے بعد مکمل طور پر رائج ہو جائے گا تو میٹرک اور انٹرمیڈییٹ کے طلبہ کے رزلٹ کارڈز پر نمبرز نہیں ہوں گے۔

ان کی جگہ ہر مضمون میں الگ الگ اور مجموعی طور پر حاصل کیے گئے گریڈز اور گریڈنگ پوائنٹس درج ہوں گے۔ آخر میں مجموعی طور پر حاصل کیا گیا کمیولیٹو یعنی سی جی پی اے بھی درج کیا جائے گا۔

نئے نطام میں ایک اور پیشرفت یہ بھی کی گئی ہے کہ ’ایف‘ گریڈ یعنی ’فیل‘ کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس کی جگہ ’یو‘ گریڈ لے گا جس کا مطلب ہو گا ’ان سیٹیسفیکٹری‘ یعنی یہ گریڈ لینے والے طالب علم کی کارکردگی ’تسلی بخش نہیں‘۔

پرانے نظام میں جب کسی طالب علم کو کوئی مضمون پاس کرنا ہوتا تھا تو اسے کم از کم 33 یا 33 فیصد نمبر درکار ہوتے تھے۔ نئے نظام میں پاس کے اس پیمانے کو تبدیل کر کے 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کر دیا جائے گا۔

اس نئے نظام کا نفاذ پورے ملک میں یکساں ہو گا اور اس کا آغاز رواں تعلیمی سال یعنی 2023 سے کر دیا گیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سنہ 2024 کے امتحانات کے بعد آنے والے رزلٹ کارڈز پر نئے نظام کے گریڈ موجود ہوں گے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ پاکستان میں مختلف پروفیشنل کالجز اور یونیورسٹیز میں داخلے کے لیے ’میرٹ‘ کا نظام بھی بدل جائے گا۔ مثال کے طور پر اس سے پہلے میڈیکل کالجوں میں داخلوں کے لیے دوڑ میں امیدواروں کو معلوم ہوتا تھا کہ انھیں داخلے کیے لیے کم از کم کتنے نمبر درکار ہوں گے۔

نئے نظام کے مطابق یہ مقابلہ اب سی جی پی اے پر منتقل ہو جائے گا۔ تو یہاں سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس تبدیلی سے پاکستان میں تعلیم کے معیار میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی آئے گی بھی یا نہیں؟

یہ نظام کام کیسے کرے گا اور پرانا نظام بدلنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس حوالے سے وضاحت کے لیے بی بی سی نے متعلقہ ادارے انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن یعنی آئی بی بی سی کے ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح سے بات کی۔

نیا گریڈنگ نظام ہے کیا؟


آئی بی سی سی کے ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح نے بتایا کہ امتحانات کے نتائج دینے کا نیا نظام باقی دنیا میں رائج جدید طریقہ کار سے مطابقت رکھتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب انھوں نے پرانے نظام کا متبادل تلاش کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو دو قسم کے بین الاقوامی طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔

ان میں ایک پوائنٹس سسٹم تھا یعنی 9 سے لے کر ایک تک پوائنٹس دیے جاتے ہیں یا پھر دوسرا انگریزی حروف یعنی ایلفابیٹس کا 7 نکاتی نظام ہے۔