‏نکتۂ نظر و فکر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏نکتۂ نظر و فکر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ریاست کا دین یا نظامِ کار: فکرِ نو کی ضرورت

ہمارے بعض معاصر دانشور اکثر اس غلط فہمی کا شکار نظر آتے ہیں کہ فرد کی طرح ریاست کا بھی کوئی دین و ایمان ہوتا ہے، اسے بھی باقاعدہ مشرف باسلام ہونا چاہیے اور اس کا بھی کوئی خاص مذہبی حلیہ یا ساخت ہونی ضروری ہے۔ یہ تصور جدید عمرانیات اور اسلامی تعلیمات کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاست کوئی جاندار یا ماورائی وجود نہیں ہے، بلکہ یہ عام انسانی ایجادات کی طرح تاریخ کے طویل تعامل، ارتقا اور انسانی ضرورتوں کے نتیجے میں وجود میں آنے والا ایک انتظامی ڈھانچہ ہے۔ یہ ارتقائی سلسلہ جامد نہیں ہے، بلکہ انسانی تجربات کی روشنی میں قیامت تک اسی طرح جاری و ساری رہے گا۔

جب ہم ریاست کو ایک میکانکی یا انتظامی آلہ تسلیم کر لیتے ہیں، تو اس بحث کا رخ خودبخود شکل و صورت سے ہٹ کر اس کے چلانے والوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ ریاست کے بارے میں سب سے اہم اور کلیدی چیز اس کے ڈھانچے نہیں، بلکہ 'اربابِ ریاست' یعنی وہ افراد ہیں جو اس کے نظم و نسق کو چلاتے ہیں۔ یہی وہ گروہ ہے جس کو قرآنِ کریم نے کبھی 'اولو الامر' (صاحبانِ امر) قرار دیا ہے اور کبھی 'اولو الالباب' (اهلِ عقل و دانش) کہہ کر پکارا ہے۔ ریاست کا حقیقی تجزیہ، اس کی اچھائی یا برائی کا فیصلہ اور اس کی اصل حیثیت کا دارومدار اسی انسانی عنصر پر ہونا چاہیے۔

تلاوتِ قرآن — صحابہؓ کا انداز اور ہمارا المیہ

ڈاکٹر ابو البشر احمد طیب 

قرآن مجید جب نازل ہو رہا تھا تو وہ محض ایک کتاب کی صورت میں نہیں، بلکہ ایک زندہ انقلاب کے طور پر صحابۂ کرامؓ کے دلوں میں اتر رہا تھا۔ ان کی تلاوت محض الفاظ کی ادائیگی نہ تھی بلکہ ایک ایسی کیفیت تھی جو دل کو ہلا دیتی، آنکھوں کو نم کر دیتی، اور زندگی کے رخ کو بدل دیتی تھی۔ آج جب ہم اپنی تلاوت کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک گہرا خلا محسوس ہوتا ہے—الفاظ تو ہیں، مگر اثر نہیں؛ آواز تو ہے، مگر انقلاب نہیں۔

قرآن خود صحابہؓ کی تلاوت کی کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا تو ان کے دل کانپ اٹھتے، اور جب آیات سنائی جاتیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا۔ یہ اضافہ محض ایک جذباتی کیفیت نہ تھا بلکہ یقین، اعتماد اور عمل کی قوت میں اضافہ تھا۔ گویا ہر تلاوت ان کے لیے ایک نئی زندگی، ایک نیا عزم، اور ایک نیا شعور لے کر آتی تھی۔

ان کی ایک نمایاں کیفیت یہ تھی کہ قرآن سن کر ان کی آنکھیں اشکبار ہو جاتیں۔ یہ آنسو کمزوری کے نہیں بلکہ معرفت کے آنسو تھے—حق کو پہچان لینے کا اثر۔ جب دل پر حقیقت منکشف ہوتی ہے تو آنکھیں خود بخود نم ہو جاتی ہیں۔ آج ہماری آنکھیں خشک کیوں ہیں؟ شاید اس لیے کہ ہم نے قرآن کو صرف پڑھنے کی چیز بنا دیا ہے، سمجھنے اور محسوس کرنے کی نہیں۔

صحابہؓ کی تلاوت کا ایک اور پہلو ان کا عملی ردِعمل تھا۔ قرآن کی آیات سنتے ہی وہ سجدے میں گر پڑتے، عاجزی اور بندگی کا اظہار کرتے۔ ان کے لیے تلاوت ایک روحانی تجربہ تھی جو جسم پر بھی اثر انداز ہوتا تھا۔ ان کے دل نرم ہو جاتے، ان کے رویے بدل جاتے، اور ان کی زندگیاں سنور جاتی تھیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ قرآن کو سمجھ کر پڑھتے تھے۔ تدبر ان کی تلاوت کا لازمی جز تھا۔ ہر آیت پر غور، ہر حکم پر عمل، اور ہر ممانعت سے اجتناب—یہی ان کا شعار تھا۔ “ہم نے سنا اور اطاعت کی” )بقرۃ : ۲۸۵( ان کا عملی نعرہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ قرآن نے ایک عام انسان کو غیر معمولی انسان بنا دیا، ایک منتشر قوم کو دنیا کی رہنما قوم بنا دیا۔