رسالہ محدث جون 2019ء
وٹس ایپ گروپ سے وابستہ اہل علم ودانش کی تربیتی ملاقات
مجلہ 'محدث' کے ذریعے علم وتحقیق اور 'محدث میڈیا' کے ذریعے انٹرنیٹ پر برسہا برس سے تحقیقی وابلاغی خدمات انجام دینے والے ادارے مجلس التحقیق الاسلامی Islamic Research Councilنے فروری 2016ء میں اپنے وٹس ایپ گروپ کے ذریعے عصری مسائل میں کتاب وسنت کی رہنمائی کا مبارک سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس تین سالہ عرصے میں ہزاروں موضوعات پر اہل علم ودانش نے تین لاکھ پوسٹوں میں بیش قیمت دلائل کے ذریعے مکالمہ علمیہ کی شاندار روایت کو قائم کیا۔ شرکاء کی دلچسپی،موضوعات کے تنوع واہمیت اور جاندار دلائل کے اعتبار سے یہ مجموعہ علما ے کرام اور اہل فکر ودانش میں ممتاز حیثیت اختیار کرگیا۔
مجموعہ ہذا کے اہل علم وفکر کی ملاقات اور ممتاز علماے کرام سے رہنمائی کے لئے 3؍ فروری 2019ء بروز اتوار،مجلس التحقیق الاسلامی اور الحکمہ انٹرنیشنل کے زیر اہتما م، جامعہ لاہور الاسلامیہ (البیت العتیق) میں تربیتی ملاقات کا انعقاد کیا گیا ، جس کی رپورٹ ہدیۂ قارئین ہے۔ ح ۔م
سوشل میڈیا نے دنیا کو 'گلوبل ویلیج' بنا دیا ہے ، اس سے انسانوں کے باہمی رابطے اور تعلقات کو نئی جہت ملی ہے ۔ اب ایک شخص اپنے گھر میں بیٹھ کر دنیا بھر کے لاکھوں ، بلکہ کروڑ ہا لوگوں سے بیک وقت مخاطب ہوتا ہے ، کسی بھی مسئلہ میں بغیر کسی رکاوٹ، اپنا نقطۂ نظر پیش کرسکتا ہے، ہزاروں لوگوں کے افکار ونظریات سے واقفیت حاصل کرسکتا اوران پر تنقید اور تبصرہ بھی کرسکتاہے ۔ پہلے اکثر میڈیا گروپس کسی نہ کسی سیاسی ؍مذہبی جماعت سے وابستگی رکھتے تھے ، یا کم از کم اپنے مفادا ت کے پیش نظر کچھ اُصول رکھتے تھے ، اور وہی بات شائع کرتے تھے جوان کے نظریات ومفادات سے ہم آہنگ ہوتی ۔ دوسرے لوگ اپنی بات کہنے، مافی الضمیر کو بیان کرنے اور ابلاغ کی استعداد سے محروم تھے ۔ سوشل میڈیا کے آنےپر ہر شخص آزاد ہے اورکسی خاص انتظام یا زرِ کثیر خرچ کیے بغیر وہ فیس بک ، وٹس اپ یا ویب پر اپنا گروپ بناسکتا ہے۔ اہل علم کو بھی باہمی تبادلہ خیال کے لئے ایک جگہ پر طے شدہ وقت پر جمع ہونا پڑتا تھا، اب سوشل میڈیا کی بدولت ہر صاحبِ علم ، ہمہ وقتی مکالمہ علمیہ کرسکتا ہے، اپنے گھر بیٹھے اپنی کتب اور دلائل کی مدد سے اپنے موقف کو وضاحت کے ساتھ پیش کرسکتا ہے۔
سوشل میڈیا تک ہر شخص کی رسائی اور سب کو کہنے اور لکھنے کی آزادی ، اور ہر وقت مکالمہ ومباحثہ کے امکان نے بہت سے مسائل بھی پیدا کئے ہیں، تاہم بہت سارے گروپس بڑا شاندار کام کررہے ہیں اور اس طرح تعصّبات سے بالاتر ایک آزاد فضا بھی پیدا ہوئی ہے۔بعض گروپس علماےکرام سے سوال وجواب کے لیے خاص ہیں ، جن میں عوام الناس ااپنے من پسند علما سے اپنی ضرورت کے سوالات پوچھتے ،ا ور ان سے رہنمائی لیتے ہیں ، اور بعض گروپس علما ے کرام کے باہمی رابطے کے لیے ہیں ، اہل علم ہی کو ان کا رکن بنایا جاتا ہے ۔ ان میں کبار و صغار علما جدید مسائل پر دلائل اور آرا کا تبادلہ کرتے ہیں۔