نکتۂ نظر و فکر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
نکتۂ نظر و فکر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

الحاد کے معاشرے پر اثرات ۔ عبدالرحمن عزیز


رسالہ محدث جون 2019ء

وٹس ایپ گروپ سے وابستہ اہل علم ودانش کی تربیتی ملاقات

مجلہ 'محدث' کے ذریعے علم وتحقیق اور 'محدث میڈیا' کے ذریعے انٹرنیٹ پر برسہا برس سے تحقیقی وابلاغی خدمات انجام دینے والے ادارے مجلس التحقیق الاسلامی Islamic Research Councilنے فروری 2016ء میں اپنے وٹس ایپ گروپ کے ذریعے عصری مسائل میں کتاب وسنت کی رہنمائی کا مبارک سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس تین سالہ عرصے میں ہزاروں موضوعات پر اہل علم ودانش نے تین لاکھ پوسٹوں میں بیش قیمت دلائل کے ذریعے مکالمہ علمیہ کی شاندار روایت کو قائم کیا۔ شرکاء کی دلچسپی،موضوعات کے تنوع واہمیت اور جاندار دلائل کے اعتبار سے یہ مجموعہ علما ے کرام اور اہل فکر ودانش میں ممتاز حیثیت اختیار کرگیا۔

مجموعہ ہذا کے اہل علم وفکر کی ملاقات اور ممتاز علماے کرام سے رہنمائی کے لئے 3؍ فروری 2019ء بروز اتوار،مجلس التحقیق الاسلامی اور الحکمہ انٹرنیشنل کے زیر اہتما م، جامعہ لاہور الاسلامیہ (البیت العتیق) میں تربیتی ملاقات کا انعقاد کیا گیا ، جس کی رپورٹ ہدیۂ قارئین ہے۔ ح ۔م

سوشل میڈیا نے دنیا کو 'گلوبل ویلیج' بنا دیا ہے ، اس سے انسانوں کے باہمی رابطے اور تعلقات کو نئی جہت ملی ہے ۔ اب ایک شخص اپنے گھر میں بیٹھ کر دنیا بھر کے لاکھوں ، بلکہ کروڑ ہا لوگوں سے بیک وقت مخاطب ہوتا ہے ، کسی بھی مسئلہ میں بغیر کسی رکاوٹ، اپنا نقطۂ نظر پیش کرسکتا ہے، ہزاروں لوگوں کے افکار ونظریات سے واقفیت حاصل کرسکتا اوران پر تنقید اور تبصرہ بھی کرسکتاہے ۔ پہلے اکثر میڈیا گروپس کسی نہ کسی سیاسی ؍مذہبی جماعت سے وابستگی رکھتے تھے ، یا کم از کم اپنے مفادا ت کے پیش نظر کچھ اُصول رکھتے تھے ، اور وہی بات شائع کرتے تھے جوان کے نظریات ومفادات سے ہم آہنگ ہوتی ۔ دوسرے لوگ اپنی بات کہنے، مافی الضمیر کو بیان کرنے اور ابلاغ کی استعداد سے محروم تھے ۔ سوشل میڈیا کے آنےپر ہر شخص آزاد ہے اورکسی خاص انتظام یا زرِ کثیر خرچ کیے بغیر وہ فیس بک ، وٹس اپ یا ویب پر اپنا گروپ بناسکتا ہے۔ اہل علم کو بھی باہمی تبادلہ خیال کے لئے ایک جگہ پر طے شدہ وقت پر جمع ہونا پڑتا تھا، اب سوشل میڈیا کی بدولت ہر صاحبِ علم ، ہمہ وقتی مکالمہ علمیہ کرسکتا ہے، اپنے گھر بیٹھے اپنی کتب اور دلائل کی مدد سے اپنے موقف کو وضاحت کے ساتھ پیش کرسکتا ہے۔

سوشل میڈیا تک ہر شخص کی رسائی اور سب کو کہنے اور لکھنے کی آزادی ، اور ہر وقت مکالمہ ومباحثہ کے امکان نے بہت سے مسائل بھی پیدا کئے ہیں، تاہم بہت سارے گروپس بڑا شاندار کام کررہے ہیں اور اس طرح تعصّبات سے بالاتر ایک آزاد فضا بھی پیدا ہوئی ہے۔بعض گروپس علماےکرام سے سوال وجواب کے لیے خاص ہیں ، جن میں عوام الناس ااپنے من پسند علما سے اپنی ضرورت کے سوالات پوچھتے ،ا ور ان سے رہنمائی لیتے ہیں ، اور بعض گروپس علما ے کرام کے باہمی رابطے کے لیے ہیں ، اہل علم ہی کو ان کا رکن بنایا جاتا ہے ۔ ان میں کبار و صغار علما جدید مسائل پر دلائل اور آرا کا تبادلہ کرتے ہیں۔

فکری انقلاب ۔ مولانا وحید الدین خان

المعہد العلمی للفکر الاسلامی کا بین اقوامی سیمینار (کوالالمپور ،جولائی1984)مسلم نوجوانوں میں ایک نئے فکری دور کی علامت ہے۔معہد کے فکر کا خلاصہ اس کے تعارفی پمفلٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ موجودہ زمانے میں امت مسلمہ کی ناکامی کا سبب خود اس کے اندر ہے، نہ کہ اس کے باہر۔وہ سبب ہے―ضروری بنیاد تیار کیے بغیر عملی اقدامات کرنا۔ معہد کے نزدیک پہلی ضروری چیز وہ ہے جس کو اسلامیۃالمعرفۃ (Islamization of Knowledge) کے لفظوں میں بیان کیا گیا ہے۔کہا گیا ہے کہ امت کے موجودہ بحران کو حل کرنے کے سلسلے میں پہلاقدم یہ ہے کہ علم کو اسلامی بنایا جائے:

The first step toward a genuine solution of present crisis of the Ummah is the Islamization of knowledge.

تقریباً 12 سال پہلے میں نے ایک مقالہ لکھا تھا۔یہ مقالہ عربی زبان میں اگست 1973 میں شائع ہوا۔اس کا عنوان:

لا بُدَّ مِنَ الثَّوْرَةِ الفِكْرِيَّةِ قَبْلَ الثَّوْرَةِ التَّشْرِيعِيَّةِ

اس مقالہ میں تفصیل سے یہ دکھایا گیا تھا کہ سیاسی یا قانونی انقلاب سے پہلے فکری انقلاب ضروری ہے۔امت کے عملی مسائل صرف اس وقت حل ہوں گے جب کہ ہم فکری انقلاب کے ذریعہ اس کے موافق فضا بنا چکے ہوں۔

یہاں میں یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ عین وہی بات ہے جو خود قرآن کی رو سے ہمارا اہم ترین اجتماعی فريضہ قرار پاتی ہے۔قرآن میں دو مقام پر (193;8:39:2) یہ حکم دیا گیا ہے ۔ سورہ البقرہ میں یہ الفاظ ہیں: وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلّٰهِ (2:193)۔ اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے۔

جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر کی تشریح سے معلوم ہوتا ہے،اس آیت میں فتنہ سے مراد شرک جارح ہے۔انھوں نے فرمایا کہ اس وقت اسلام تھوڑا تھا۔چنانچہ جب کوئی شخص دین توحید کو اختیار کرتا تو اہل شرک اسے ستاتے ۔کسی کو وہ قتل کر دیتے ،کسی کو زنجیروں میں باندھتے اور کسی کو عذاب دیتے۔یہاں تک کہ اسلام کی کثرت ہو گئی اور یہ صورت حال باقی نہ رہی کہ عقیدہ توحید کی بنا پر کسی کو ستایا جائے(صحیح البخاری، حدیث نمبر 4650)۔

بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ : جیونیوز جرگہ میں سابق پاکستانی سفیر برائے امریکہ حسین حقانی کا اہم تجزیہ

انہوں نے درج ذیل سوالات کا تجزیہ کیا : 

1- امریکہ کیلئے  بڑا خطرہ چین یا روس ؟ 
2- کیا پاکستان کو بنگلہ دیش جیسے حالات کا سامنا ہوسکتا ہے ؟
3-  اسرائیلی لابی امریکہ میں اتنی مضبوط کیوں ہے ؟ 






 

اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ ۔ جاوید احمد غامدی

 اِس وقت جو صورت حال بعض انتہا پسند تنظیموں نے اپنے اقدامات سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے پوری دنیا میں پیدا کر دی ہے، یہ اُسی فکر کا مولود فساد ہے جو ہمارے مذہبی مدرسوں میں پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے، اور جس کی تبلیغ اسلامی تحریکیں اور مذہبی سیاسی جماعتیں شب و روز کرتی ہیں۔ اِس کے مقابل میں اسلام کا صحیح فکر کیا ہے؟ اِس کو ہم نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں دلائل کے ساتھ پیش کر دیا ہے۔ یہ درحقیقت ایک جوابی بیانیہ (counter narrative) ہے اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ مسلمانوں کے معاشرے میں مذہب کی بنیاد پر فساد پیدا کر دیا جائے تو سیکولرازم کی تبلیغ نہیں، بلکہ مذہبی فکر کا ایک جوابی بیانیہ ہی صورت حال کی اصلاح کر سکتا ہے۔ اِس کی تفصیلات کے لیے تو ہماری اِس کتاب ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے، لیکن اِس کا جو حصہ اسلام اور ریاست سے متعلق ہے، اُس کا ایک خلاصہ ہم یہاں پیش کر رہے ہیں:

۱۔ اسلام کی دعوت اصلاً فرد کے لیے ہے۔ وہ اُسی کے دل و دماغ پر اپنی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔ اُس نے جو احکام معاشرے کو دیے ہیں، اُس کے مخاطب بھی درحقیقت وہ افراد ہیں جو مسلمانوں کے معاشرے میں ارباب حل و عقد کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہوں۔ لہٰذا یہ خیال بالکل بے بنیاد ہے کہ ریاست کا بھی کوئی مذہب ہوتا ہے اور اُس کو بھی کسی قرارداد مقاصد کے ذریعے سے مسلمان کرنے اور آئینی طور پر اِس کا پابند بنانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اُس میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔ یہ خیال جن لوگوں نے پیش کیا اور اِسے منوانے میں کامیابی حاصل کی ہے، اُنھوں نے اِس زمانے کی قومی ریاستوں میں مستقل تفرقے کی بنیاد رکھ دی اور اُن میں بسنے والے غیر مسلموں کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ درحقیقت دوسرے درجے کے شہری ہیں جن کی حیثیت زیادہ سے زیادہ ایک محفوظ اقلیت (protected minority) کی ہے اور ریاست کے اصل مالکوں سے وہ اگر کسی حق کا مطالبہ کر سکتے ہیں تو اِسی حیثیت سے کر سکتے ہیں۔

متن حدیث میں ہمارے تصرفات (حصہ چہارم )۔ ساجد حمید

 (گذشتہ سے پیوستہ)

حذف السیاق

یہ چوتھا تصرف ہے جوراویوں، محدثین اور مصنفینِ حدیث نے کیا ہے۔ حذف السیاق یہ ہے کہ حدیث کے بعض ایسے اجزا کا بیان نہ کرنا جو بات کا سیاق و سباق یا موقع محل تشکیل کرتے ہیں۔موقع محل کی بہت اہمیت ہے،یہ نہ ہو تو سادہ سے سادہ جملے بھی اپنے معنی کھو دیتے ہیں۔تصرفات کے نتیجے میں بہت سی احادیث کو ان کے سیاق و سباق سے محروم کردیا گیا ہے۔پچھلے تینوں تصرفات میں اس کی کچھ مثالیں گزری ہیں ۔سیاق و سباق کے کھو جانے سے کیا مسئلہ پیدا ہوتاہے، وہ ذیل کی مثال سے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں:
جملہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیا بجھا کر سویا کرو۔
سیاق و سباق
سیاق و سباق نہ بتایا جائے تو 

معنی

رات کو دیا بجھانا کارِ ثواب ہو گا۔ شاید بعض علما سوتے وقت دیا جلانے کوحرام بھی کہہ دیں۔ آج کے زمانے میں بلب بھی بجھا کر سونا پڑے گا۔

سیاق و سباق

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وجہ بتائی کہ چوہا آئے گا، تیل کھانے کے لیے بتی کو لے جانا چاہے گا، جس سے گھر میں آگ لگ سکتی ہے۔ یہ سیاق و سباق معلوم ہو تو

معنی

اب یہ گناہ ثواب کا مسئلہ نہیں ، بلکہ عام زندگی کی ایک اچھی نصیحت ہے ۔ بلب اور چوہے کا تعلق وہ نہیں ہے، اس لیے بلب جلا کر سوسکتے ہیں۔
یہاں دیکھیے کہ سیاق و سباق کا نہ ہونا معنی میں کیا تبدیلی کردیتا ہے، اس لیے ضروری تھا کہ ہر ہر حدیث میں سیاق و سباق یا موقع محل بیان کیا جاتا، لیکن افسوس ایسا نہیں ہے۔ تقریباً تمام روایات کسی نہ کسی طریقہ میں اپنے سیاق و سباق سے محروم ہوکر روایت ہوئی ہیں۔ہم نے انضمام المتون والے تصرف کے تحت کچھ روایات کا ذکر کیا تھا، جن کا موقع محل یا سیاق وسباق کسی ایک روایت سے بھی معلوم نہیں ہوسکا۔ اس مضمون میں ہم جو روایت بطور مثال پیش کرنے جارہے ہیں، اس کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہے کہ تصرفات کے کئی مراحل سے گزر کر اس کا موقع محل چند طرق میں تو آیا ہے، لیکن اکثر میں نہیں۔آئیے سب سے پہلے موقع محل سے منقطع روایت کو دیکھتے ہیں:

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: ہَلَکْتُ، قَالَ: ’’وَلِمَ؟‘‘ قَالَ: وَقَعْتُ عَلٰی أَہْلِيْ فِيْ رَمَضَانَ، قَالَ: ’’فَأَعْتِقْ رَقَبَۃً‘‘ قَالَ: لَیْسَ عِنْدِي، قَالَ: ’’فَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ‘‘، قَالَ: لاَ أَسْتَطِیْعُ، قَالَ: ’’فَأَطْعِمْ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا‘‘، قَالَ: لاَ أَجِدُ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِیْہِ تَمْرٌ، فَقَالَ: ’’أَیْنَ السَّاءِلُ؟‘‘، قَالَ: ہَا أَنَا ذَا، قَالَ: ’’تَصَدَّقْ بِہٰذَا‘‘، قَالَ: عَلٰی أَحْوَجَ مِنَّا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، فَوَالَّذِيْ بَعَثَکَ بِالحَقِّ، مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَہْلُ بَیْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا، فَضَحِکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی بَدَتْ أَنْیَابُہُ، قَالَ: ’’فَأَنْتُمْ إِذًا‘‘.(بخاری، رقم ۵۳۶۸)

متن حدیث میں علما کے تصرفات ۔ ساجد حمید

[یہ مضمون میری ایک تحریر کا جزوہے۔ جسے افادۂ عام کے لیے تحریرکے مکمل ہونے سے پہلے شائع کیا جارہا ہے تاکہ نقد و جرح کے عمل سے گزر جائے ۔ احادیث مبارکہ کے متون میں جو باتیں آئی ہیں، وہ اہل علم کے تصرفات کے نتیجے میں بہت حد تک بدل چکی ہیں۔یہ تحریر اس بات کی سعی ہے کہ متون حدیث کو ان تصرفات سے پاک کرکے دیکھا جائے۔اس تحریر میں ہر ایک تصرف کی چند مثالوں سے بات کو قابل فہم بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان تصرفات سے پاک کرنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل بات کسی حد تک سامنے آجاتی ہے، جس پر پھر عقل ونقل کے اعتراض وارد کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ گویایہ دفاع حدیث کا ایک اسلوب ہے، جسے میں متعارف کرانا چاہتا ہوں۔ یہ مدرسۂ فراہی کا خاص طرز فکر ہے ۔ اس عمل سے چونکہ حدیث کی بنا پر بنی ہوئی ہماری پہلے سے موجود آرا تبدیل ہو جاتی ہیں، جس سے لوگوں کو توحش اوراجنبیت سی محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اصل بات کی طرف لوٹنا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس اصل بات کی طرف جو ہمارے تصرفات سے پاک ہو۔یہ بلاشبہ ایک مشکل اور نازک کام ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ کوتاہیوں ، خطاؤں، لغزشوں اور نفس کے بہکاووں سے بچائے، آمین۔ مصنف]

——۱——

حدیث کے ساتھ ہمارے تصرفات کی ایک اہم صورت متن حدیث کو اجزامیں بانٹنا ہے۔ اس کے لیے ہم اس مضمون میں تجزۂ حدیث اور تجزۂ کی اصطلاح استعمال کریں گے۔ تجزۂ کا یہ عمل کئی وجوہات سے ہوا ہے۔ مثلاً یہ کہ راوی نے ،فطری طور پر، برسر موقع، جتنی بات کی ضرورت تھی، اتنی بات بیان کی، باقی بات یا اس سے متعلق دیگر تفصیلات بیان نہیں کیں۔ مصنف محدثین نے اپنی کتاب کی موضوعاتی ترتیب کے لحاظ سے حدیث کا جتنا متن ایک موضوع سے متعلق تھا، وہ ایک جگہ لکھ دیا باقی دوسری جگہ، وغیرہ۔ اس عمل سے حدیث کے ٹکڑے مختلف ابواب میں بکھر گئے ، جس سے پوری بات ہمارے سامنے موجود نہ رہی، اور ہر ٹکڑا الگ الگ حیثیت سے مکمل بات کے طور پر لے لیا گیا۔ تجزۂ حدیث کی ایک مثال ذیل میں دی جاتی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے درج ذیل حدیث جب اسبال ازار کے باب میں لکھی تو اس کے الفاظ یہ تھے:

خدا سے متعلق الحاد کے 10 سوالات (حصہ چہارم ) ۔ جاوید احمد غامدی


اس پروگرام میں درج ذیل سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں:

1۔ کیا دعا سے اللہ تعالیٰ کی ابتلا کی اسکیم میں کوئی مداخلت واقع ہوتی ہے؟
2۔ اگر دعا مانگنے سے قانون آزمائش میں مداخلت نہیں ہوتی تو خاص اوقات میں دعا مانگنے کی تلقین کیوں کی گئی ہے؟
3۔ کیا اللہ تعالیٰ نے دنیوی نعمتیں دینے کا کوئی اصول مقرر کیا ہوا ہے؟
4۔ کیا بددعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ براہ راست مداخلت کرتے ہیں؟
5۔ رحیم و کریم خدا اپنے بندوں کو اذیت ناک بیماریوں میں کیسے مبتلا کر سکتا ہے؟
6۔ کیا انسان اس کائنات میں ایک مجبور محض ہے؟
7۔ انسان اللہ تعالیٰ کے قانون آزمائش کو سمجھنے میں ناکام کیوں ہے؟
8۔ کیا دنیا کی ناتمامی ہی انسان کے اندر یہاں رہنے کی آرزو پیدا کرتی ہے؟


موجودہ نظام تعلیم کا ایک جائزہ

 حافظ سید عزیز الرحمن

ماہنامہ الشریعہ  تاریخ اشاعت ستمبر ۲۰۰۲ء 

ہمارا موجودہ نظام تعلیم مختلف جہتیں رکھتا ہے لیکن اس کے دو پہلو نمایاں ہیں: ۱۔ دینی تعلیم ، ۲۔ عصری تعلیم جس میں عصری علوم وفنون کے تمام ادارے شامل ہیں۔ ذیل میں ان کی خصوصیات ونقائص کا مختصر جائزہ لیا جا رہا ہے۔

 

دینی تعلیم

۱۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی دینی مدارس میں اسلامیات کا جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے، یونیورسٹی میں ایم اے کی سطح پر پڑھایا جانے والا نصاب اس کا صرف ایک حصہ ہے۔

 

۲۔ دینی مدارس میں آج کے گئے گزرے دور میں بھی استاد وشاگرد کے باہمی تعلق واحترام کی روایت موجود ہے۔

 

۳۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اسکول وکالج کے مقابلے میں ان مدارس کے اخراجات بہت کم ہیں۔ تناسب کے اعتبار سے ان کا خرچ دس فی صد بھی نہیں جبکہ خواندگی میں اضافے کے ضمن میں ان کی خدمات مثالی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں دینی مدارس کی تعداد ۳ ہزار سے زائد ہے جن میں کئی لاکھ طلباتعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ( روزنامہ جنگ، کراچی/ ۲۳۔ اگست ۲۰۰۱ء)

 

برصغیر پاک و ہند تحریک اسلامی کا ارتقا: مجدد الف ثانی سے علامہ اقبال تک - پروفیسر خورشید احمد

 ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن فروری ۲۰۲۳م 

اس تحریر میں کوشش کی گئی ہے کہ اپنے ماضی قریب کی تاریخ کو ایک مسلمان کی نگاہ سے دیکھوں اور یہ سمجھنے کی کوشش کروں کہ تاریخ کے یہ نشیب و فراز تحریک ِ اسلامی کے نقطۂ نظر سے کس رجحان کا پتا دے رہے ہیں؟ تاریخ ایک آئینہ ہے، جس میں ایک قوم کے اجتماعی تشخص کا سراپا دیکھا جاسکتا ہے۔اس کی اصل قامت، اس کا رنگ و رُوپ، اس کے خدوخال، اس کے جذبات و احساسات، ہرچیز کی کچھ نہ کچھ جھلکیاں اس میں صاف نظر آجاتی ہیں۔ تاریخ محض بادشاہوں کی داستان اور سیاسی بساط کے رنگ و آہنگ کا نام نہیں۔ یہ تو پورے تہذیبی سرمایے کی عکاس ہوتی ہے۔ واقعات کے دھارے میں تہذیبی شخصیت کا پورا اُبھار دیکھا جاسکتا ہے۔

میں نے حوادث کے پردے سے جھانک کر تہہ ِآب کارفرما تحریکات و عوامل پر ایک سرسری نظر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تحریر تاریخ نہیں، بلکہ تعبیرِ تاریخ کی ایک ابتدائی کاوش ہے، جس میں معنویت کے کچھ پہلو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میں اپنے نوجوان ساتھیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور تاریخ کے دریا کی غواصی کرکے اس سے وہ موتی نکال لائیں، جن کی نئی نسلوں کو ضرورت ہے۔ پھر اس کی کوشش بھی کریں کہ اس دریا کا قیمتی پانی یوں ہی ضائع نہ ہوجائے بلکہ یہ کشت ِ ملّی کی آبیاری کے لیے استعمال ہو۔

تاریخ ایک قوم کا حافظہ ہوتا ہے اور جو قوم حافظے سے محروم ہوجائے، وہ اپنا وجود بھی باقی نہیں رکھ سکتی۔ جس کا حافظہ خود فراموشی اور دوسروں کی مرعوبیت کے نقوش سے بھرا ہوا ہو، اس کی شخصیت بھی احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتی ہے۔ ہمیں اپنا حافظہ قوی کرنا ہے اور اسے ملّت اسلامیہ کے درخشاں ماضی اور یادوں سے بھی بھرنا ہے، تاکہ ان یادوں کے چراغوں کی روشنی میں مستقبل کے مراحل طے ہوسکیں۔

ترکی میں حدیث کی تدوین جدید – جاوید احمد غامدی

حدیث سے متعلق کسی کام کو سمجھنے کے لیے اِس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ دین کا تنہا ماخذ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے۔ آپ سے یہ دین دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے: ایک قرآن، دوسرے سنت۔ یہ بالکل یقینی ہیں اور اپنے ثبوت کے لیے کسی تحقیق کے محتاج نہیں ہیں۔ اِنھیں مسلمانوں نے نسلاً بعد نسلٍ اپنے اجماع اور تواتر سے منتقل کیا ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں کی ہرنسل کے لوگوں نے بغیر کسی اختلاف کے پچھلوں سے لیا اور اگلوں تک پہنچا دیا ہے اور زمانۂ رسالت سے لے کر آج تک یہ سلسلہ اِسی طرح قائم ہے۔

پورا دین اِنھی دو میں محصور ہے اور اُس کے تمام احکام ہم اِنھی سے اخذ کرتے ہیں۔ اِس میں بعض اوقات کوئی مشکل پیش آجاتی ہے۔ پھر جن معاملات کو ہمارے اجتہاد کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے، اُن میں بھی رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اِس کے لیے دین کے علما کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے پیغمبر تھے، اِس لیے دین کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے عالم، بلکہ سب عالموں کے امام بھی آپ ہی تھے۔ دین کے دوسرے عالموں سے الگ آپ کے علم کی ایک خاص بات یہ تھی کہ آپ کا علم بے خطا تھا، اِس لیے کہ اُس کو وحی کی تائید و تصویب حاصل تھی۔ یہ علم اگر کہیں موجود ہو تو ہر مسلمان چاہے گا کہ قرآن و سنت کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اِسی سے رہنمائی حاصل کرے۔

ہماری خوش قسمتی ہے کہ یہ علم موجود ہے اور اِس کا ایک بڑا حصہ ہم تک پہنچ گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ علم آپ کے صحابہ نے حاصل کیا تھا، لیکن اِس کو آگے بیان کرنا چونکہ بڑی ذمہ داری کا کام تھا، اِس لیے بعض نے احتیاط برتی اور بعض نے حوصلہ کر کے بیان کر دیا۔ اِس میں وہ چیزیں بھی تھیں جنھیں وہ آپ کی زبان سے سنتے یا آپ کے عمل میں دیکھتے تھے اور وہ بھی جو آپ کے سامنے کی جاتی تھیں اور آپ اُن سے منع نہیں فرماتے تھے۔ یہی سارا علم ہے جسے 'حدیث' کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح کو جاننے کا سب سے بڑا ذریعہ یہی ہے۔ اِس سے دین میں کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ نہیں ہوتا۔ یہ اُسی دین کی شرح و وضاحت اور اُس پر عمل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کا بیان ہے جو آپ نے قرآن و سنت کی صورت میں اپنے ماننے والوں کو دیا ہے۔

ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے بنیادی افکار

محمد یونس قاسمی

ڈاکٹر فضل الرحمن کے بنیادی افکار
ڈاکٹر فضل الرحمان 21 ستمبر 1919 کو پاکستان میں پیدا ہوئے۔ حفظ قرآن اور دیگر ابتدائی تعلیم  اپنے گھر اورمقامی سکول سے حاصل کی۔ 1942 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے عربی  ادب میں امتیازی نمبروں کے ساتھ ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ آکسفرڈ یونیورسٹی  میں  Avecena's Psychology  پر شاندار مقالہ لکھا  جس پر انہیں  1949 میں  ڈی فل  کی ڈگری  سے نوازا گیا۔ وہ 1950-1958 تک ڈرہم یونیورسٹی میں فارسی زبان  اور اسلامی فلسفہ کے استاذ رہے۔ 1958 میں وہ مونٹریال کی میک گل یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز میں ایسوسی ایٹ پروفیسر مقرر ہوئے، جہاں وہ 1961 تک  علمی خدمات انجام دیتے رہے۔

1962 میں انہیں پاکستان میں سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک ریسرچ ( موجودہ ادارہ تحقیقات اسلامی ) کا ڈائریکٹرجنرل  نامزد کیا گیا جہاں انہوں نے 1968 تک  اسلام کو اس کے بنیادی اصولوں کے لحاظ سے عقلی اور لبرل انداز میں بیان کرنے، عالمگیر بھائی چارے، برداشت اور سماجی انصاف جیسے اسلامی اصولوں پر زور دینے، جدید دنیا کی فکری و سائنسی ترقی میں اسلام کے متحرک کردار کوسامنے لانے، سائنس ، ثقافت اور فکر ونظر کے شعبوں میں اسلام کی خدمات پر تحقیق کو فروغ دینے اور اسلامی تاریخ ، فلسفہ ، قانون اور فقہ میں تحقیق کا دائرہ بڑھانے جیسے اہم امور  کے حوالے سے خدمات انجام دیں۔  1969 میں انہیں شکاگو یونیورسٹی میں اسلامی فکر کا پروفیسر مقرر کیا گیا اور 1987 میں شکاگو یونیورسٹی نے پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کو  ان کی شاندار علمی  شراکت کے اعتراف میں  ہیرالڈ ایچ سوئفٹ کے  اعزاز سے نوازا۔ 26 جولائی 1988 کو پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن دل کی سرجری کی پیچیدگیوں  کے باعث 68 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

پروفیسرڈاکٹر فضل الرحمن کا کام چار دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے دس کتابیں لکھیں،درجنوں جرائد کے لیے مقالات لکھے،بہت سارے انسائیکلوپیڈیا کے لیے مضامین اور کئی کتابوں کے جائزے (Book reviews)لیے۔اس سارے کام کو دیکھتے ہوئے  ان کے فکری فریم ورک کو چار چیزوں میں تقسیم کرکے سمجھا جاسکتا ہے۔

کاش کہ ایسا ہو تا !!

 انیس باقر

21 جنوری 2016  روزنامہ ایکسپریس 

کاس کہ ایسا ہوتا !

مغرب نے دو جنگ عظیم میں سبق یہ سیکھا کہ یورپی یونین بنا لی، ایک سکہ یورو بنا لیا، ایک نہیں کئی راہداریاں بنا لیں اور یورپ کو آشتی کا گہوارہ بنا لیا، بس یونان کے ساحل پر اترنے کی دیر ہے کہ ایک راستہ سربیا، ہنگری، آسٹریا ہوتا ہوا جرمنی، دوسری راہداری مقدونیہ، البانیہ، کروشیا، چیکوسلواکیہ، آسٹریا ہوتا ہوا جرمنی اور پھر جرمنی، ہالینڈ، فرانس، نہ بندشیں، نہ روک ٹوک، نہ نسلی اور مذہبی فسادات کا ڈر، نہ لوٹ مار، نہ ٹرینیں جلائے جانے کا خوف۔ یورپ سے خوف کا ڈر 1946ء سے گزر گیا اور بہتر سے بہتر وقت آتا گیا جب کہ 1946ء سے برصغیر میں بھی ایک نئے دور کا آغاز ہوا ۔

1955 تک تو دونوں ملکوں کے درمیان پاسپورٹ بھی نہ تھا بلکہ گاندھی جی اور جناح صاحب میں اتنے اچھے تعلقات تھے کہ اثاثوں کی تقسیم کے لیے گاندھی جی نے پاکستان کے حق میں مرن برت رکھا اور حیدر آباد دکن کے اثاثہ جات تقسیم ہوئے۔ اگر آج جیسے حالات ہوتے تو تقسیم ہند آسان نہ ہوتی۔ ہندو مسلم فساد انگریز کی ایک سوچی سمجھی سازش تھی، وہ بھی دونوں ملکوں کے درمیان دراڑیں ڈالنا اور کشمیر کی لکیر مرکز رزم گاہ بنا رہا۔ 40 لاکھ کی آبادی کے علاقے نے ڈیڑھ ارب کی آبادی کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ آنیوالی نسلوں میں میل ملاپ کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔

تمام تر سائنسی ترقی محض جنگ کی جستجو میں گزر رہی ہے۔ پنڈت نہرو نے ہندوستان کو سیکولر ملک قرار دیا۔ ہمارے ملک کا موازنہ تو کر کے دیکھیں کہ پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ شاعر فیض احمد فیض کو ملک کے حکمرانوں نے کوئی بھی انعام نہ دیا، فیض صاحب کے علاوہ، حبیب جالب، احمد فراز اور بلوچی شاعر گل خان نصیر اور پشتو کے شاعر اجمل خٹک کو کوئی مقام نہ مل سکا البتہ زندگی کے اختتام پر ان کی پذیرائی ہوئی البتہ اجمل خٹک کو موت کے بعد بھی شہرت نہ مل سکی کیونکہ انھوں نے سیاست میں رقم نہ کمائی کیونکہ اسفند یار ولی نے ولی خان کی سیاست کو جاری نہ رکھا اور نہ اجمل خٹک نے اردو شاعری کی اور ان کا پشتو کلام چھپوانے پر کوئی تیار ہوا۔ ممکن ہے کہ اب کوئی صاحب ذوق سامنے آئے جو امن کے گیت چھپوا سکے۔

توہين رسالت کى سزا پرجارى مباحثہ ، چند گزارشات- ابو عمار زاہد الراشدى

ماہنامہ الشريعہ ، گوجرانوالہ
 تاريخ اشاعت ، اکتوبر 2011ء
توہینِ رسالت پر موت کی سزا کے بارے میں امت میں عمومی طور پر یہ اتفاق تو پایا جاتا ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والے لعین و شقی شخص کی سزا موت ہی ہے، مگر اس کی فقہی اور عملی صورتوں پر فقہائے امت میں اختلاف ہر دور میں موجود رہا ہے کہ
مسلمان کہلانے والے گستاخِ رسول کو موت کی یہ سزا مستقل حد کی صورت میں دی جائے گی یا ارتداد کے جرم میں اسے یہ سزا ملے گی؟ اور اس کے لیے توبہ کی سہولت و گنجائش موجود ہے یا نہیں؟
اسی طرح غیر مسلم گستاخِ رسول کو یہ سزا تعزیر کے طور پر دی جائے گی یا اس کی فقہی نوعیت کچھ اور ہوگی؟ اور ایک ذمی کا عہد اس قبیح جرم کے ارتکاب کے بعد قائم رہ جاتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے؟