ٹیکنالوجی کی تاریخ میں جب بھی کسی بڑی تبدیلی نے جنم لیا، انسانی ذہن نے اسے ہمیشہ اپنے متبادل کے طور پر دیکھا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ مشینیں انسانی جسم کی مشقت تو کم کر سکتی ہیں مگر انسانی وژن کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔ آج جب ہم مصنوعی ذہانت (AI) کے عہد میں جی رہے ہیں، تو یہ تاثر عام ہے کہ شاید اب انسانی ضرورت ختم ہو رہی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اے آئی نے درحقیقت انسانی قدر میں وہ اضافہ کر دیا ہے جس کا تصور اس سے پہلے ممکن نہ تھا۔ اس ٹیکنالوجی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مختلف پیچیدہ پراجیکٹس کی تکمیل میں ایک طاقتور معاون تو بن سکتی ہے، لیکن اس معاون کو چلانے کے لیے جس اعلیٰ درجے کی ذہانت، بصیرت اور وژن کی ضرورت ہے، وہ صرف انسان کے پاس ہے۔
اس کی زندہ مثال مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیا نڈیلا ہیں۔ جب انہوں نے کمپنی کی باگ ڈور سنبھالی تو مائیکروسافٹ اپنی پرانی مصنوعات میں گھری ہوئی تھی، لیکن نڈیلا نے اپنے وژن سے بھانپ لیا کہ مستقبل "کلاؤڈ" اور "اے آئی" کا ہے۔ انہوں نے اے آئی کو محض ایک فیچر کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے کمپنی کے ہر پراجیکٹ کا مرکز بنا دیا۔ آج مائیکروسافٹ کا ہر ملازم اے آئی کو ایک اوزار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، لیکن اس کامیابی کے پیچھے وہ وژنری سوچ تھی جس نے ٹیکنالوجی کو صحیح رخ دیا۔ مستقبل کا منظرنامہ اب تکنیکی مہارت سے ہٹ کر اسی طرح کی "ذہانت کے درست استعمال" کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ اب اہمیت اس بات کی نہیں رہی کہ آپ کو کتنا ڈیٹا یاد ہے، بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ اس ڈیٹا سے کیا نیا تخلیق کر سکتے ہیں۔






