مقروض ممالک کی صدارت اور ہمارے معاشی حقائق

بینکاک میں منعقدہ حالیہ عالمی معاشی کانفرنس سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ پاکستان کو ترقی پذیر مقروض ممالک کے بین الاقوامی فورم ’باروئرز پلیٹ فارم‘ (Borrowers' Platform) کی گورننگ کونسل کی سربراہی سونپ دی گئی ہے۔ عالمی سفارت کاری اور تکنیکی میدان میں اسے یقیناً پاکستان کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اگر ہم جذباتیت سے ہٹ کر زمینی حقائق کا مروجہ اصولوں کے تحت جائزہ لیں، تو یہ منصب خوشی سے زیادہ ہمارے لیے گہرے فکری اضطراب کا باعث ہونا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صدارت ہماری کسی معاشی خوشحالی کا اعتراف نہیں، بلکہ اس تلخ حقیقت کی تصدیق ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں قرضوں کے دلدل میں دھنسے ہوئے ممالک کی فہرست میں فرنٹ لائن پر کھڑا ہے۔

اگر ہم اقوامِ متحدہ کے ادارے ’یو این سی ٹی اے ڈی‘ (UNCTAD) کے فراہم کردہ حالیہ اعداد و شمار کا گہرائی سے مطالعہ کریں، تو تیسری دنیا کا معاشی نقشہ انتہائی ہولناک نظر آتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دنیا کے 46 ممالک میں ساڑھے تین ارب سے زائد آبادی اس وقت ایسے معاشی جبر کا شکار ہے جہاں حکومتیں اپنے وسائل کا بڑا حصہ انسانی ترقی، یعنی تعلیم اور صحت پر خرچ کرنے کے بجائے بیرونی قرضوں کے سود کی ادائیگی کی نذر کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ موجودہ عالمی مالیاتی نظام غریب اور نام نہاد ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک ایسا ساختی جال بن چکا ہے جس سے نکلنے کی کوئی راہ بظاہر دکھائی نہیں دیتی۔

ریاست کا دین یا نظامِ کار: فکرِ نو کی ضرورت

ہمارے بعض معاصر دانشور اکثر اس غلط فہمی کا شکار نظر آتے ہیں کہ فرد کی طرح ریاست کا بھی کوئی دین و ایمان ہوتا ہے، اسے بھی باقاعدہ مشرف باسلام ہونا چاہیے اور اس کا بھی کوئی خاص مذہبی حلیہ یا ساخت ہونی ضروری ہے۔ یہ تصور جدید عمرانیات اور اسلامی تعلیمات کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاست کوئی جاندار یا ماورائی وجود نہیں ہے، بلکہ یہ عام انسانی ایجادات کی طرح تاریخ کے طویل تعامل، ارتقا اور انسانی ضرورتوں کے نتیجے میں وجود میں آنے والا ایک انتظامی ڈھانچہ ہے۔ یہ ارتقائی سلسلہ جامد نہیں ہے، بلکہ انسانی تجربات کی روشنی میں قیامت تک اسی طرح جاری و ساری رہے گا۔

جب ہم ریاست کو ایک میکانکی یا انتظامی آلہ تسلیم کر لیتے ہیں، تو اس بحث کا رخ خودبخود شکل و صورت سے ہٹ کر اس کے چلانے والوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ ریاست کے بارے میں سب سے اہم اور کلیدی چیز اس کے ڈھانچے نہیں، بلکہ 'اربابِ ریاست' یعنی وہ افراد ہیں جو اس کے نظم و نسق کو چلاتے ہیں۔ یہی وہ گروہ ہے جس کو قرآنِ کریم نے کبھی 'اولو الامر' (صاحبانِ امر) قرار دیا ہے اور کبھی 'اولو الالباب' (اهلِ عقل و دانش) کہہ کر پکارا ہے۔ ریاست کا حقیقی تجزیہ، اس کی اچھائی یا برائی کا فیصلہ اور اس کی اصل حیثیت کا دارومدار اسی انسانی عنصر پر ہونا چاہیے۔

خلافت راشدہ میں حضرت عمرؓ کا مقام ومرتبہ

آج دنیا بھر میں جمہوریت کا راگ الاپا جاتا ہے، پارلیمنٹ کی بالادستی کے دعوے کیے جاتے ہیں اور حکمرانوں کے عوام دوست ہونے کے ڈھونگ رچائے جاتے ہیں۔ لیکن اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہیڈ آف سٹیٹ کے لہجے سے 'انا' اور 'تکبر' کی جو بو آتی ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ موجودہ دور کے زوال پذیر سیاسی نظام اور آمرانہ طرزِ فکر کے ماحول میں، تاریخِ اسلام کا ایک روشن ورق یاد آتا ہے، جو رہتی دنیا تک کے حکمرانوں کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔

یہ دورِ فاروقی کا واقعہ ہے، جب عراق اور شام کی عظیم الشان سلطنتیں اسلام کے زیرِ نگیں آ چکی تھیں۔ مالِ غنیمت اور زمینوں کی تقسیم کا ایک ایسا پیچیدہ معاشی مسئلہ سامنے آیا جس پر صحابہ کرام کے مابین شدید اختلافِ رائے پیدا ہو گیا۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، جو کہ ایک وسیع و عریض سلطنت کے تنِ تنہا مالک تھے اور جن کے رعب سے قیصر و کسریٰ کی دیواریں ہلتی تھیں، انہوں نے اس بحران کو حل کرنے کے لیے نہ تو کوئی صدارتی آرڈیننس جاری کیا اور نہ ہی اپنی مرضی مسلط کی۔ بلکہ انہوں نے مدینہ منورہ میں انصار و مہاجرین کی ایک پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ) بلائی۔
اس پارلیمنٹ کے آغاز میں خلیفہ وقت منبر پر کھڑے ہوتے ہیں اور ایک ایسا جملہ ارشاد فرماتے ہیں جو آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا:

"إِنِّي لَمْ أُزْعِجْكُمْ إِلَّا لِأَنْ تَشْتَرِكُوا فِي أَمَانَتِي فِيمَا حُمِّلْتُ مِنْ أُمُورِكُمْ، فَإِنِّي وَاحِدٌ كَأَحَدِكُمْ، وَلَسْتُ أُرِيدُ أَنْ تَتَّبِعُوا هَذَا الَّذِي هُوَ هَوَايَ۔" (*)

"میں نے تمہیں کسی اور وجہ سے زحمت نہیں دی، بلکہ صرف اس لیے جمع کیا ہے کہ تمہارے معاملات کی جو امانت مجھ پر ڈالی گئی ہے، تم اس میں میرے شریک بنو۔ میں بھی تمہاری طرح کا ہی ایک عام انسان ہوں۔ اور میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ تم میری اس بات کی پیروی کرو جو میری نفسانی خواہش ہو۔"

تلاوتِ قرآن — صحابہؓ کا انداز اور ہمارا المیہ

ڈاکٹر ابو البشر احمد طیب 

قرآن مجید جب نازل ہو رہا تھا تو وہ محض ایک کتاب کی صورت میں نہیں، بلکہ ایک زندہ انقلاب کے طور پر صحابۂ کرامؓ کے دلوں میں اتر رہا تھا۔ ان کی تلاوت محض الفاظ کی ادائیگی نہ تھی بلکہ ایک ایسی کیفیت تھی جو دل کو ہلا دیتی، آنکھوں کو نم کر دیتی، اور زندگی کے رخ کو بدل دیتی تھی۔ آج جب ہم اپنی تلاوت کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک گہرا خلا محسوس ہوتا ہے—الفاظ تو ہیں، مگر اثر نہیں؛ آواز تو ہے، مگر انقلاب نہیں۔

قرآن خود صحابہؓ کی تلاوت کی کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا تو ان کے دل کانپ اٹھتے، اور جب آیات سنائی جاتیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا۔ یہ اضافہ محض ایک جذباتی کیفیت نہ تھا بلکہ یقین، اعتماد اور عمل کی قوت میں اضافہ تھا۔ گویا ہر تلاوت ان کے لیے ایک نئی زندگی، ایک نیا عزم، اور ایک نیا شعور لے کر آتی تھی۔

ان کی ایک نمایاں کیفیت یہ تھی کہ قرآن سن کر ان کی آنکھیں اشکبار ہو جاتیں۔ یہ آنسو کمزوری کے نہیں بلکہ معرفت کے آنسو تھے—حق کو پہچان لینے کا اثر۔ جب دل پر حقیقت منکشف ہوتی ہے تو آنکھیں خود بخود نم ہو جاتی ہیں۔ آج ہماری آنکھیں خشک کیوں ہیں؟ شاید اس لیے کہ ہم نے قرآن کو صرف پڑھنے کی چیز بنا دیا ہے، سمجھنے اور محسوس کرنے کی نہیں۔

صحابہؓ کی تلاوت کا ایک اور پہلو ان کا عملی ردِعمل تھا۔ قرآن کی آیات سنتے ہی وہ سجدے میں گر پڑتے، عاجزی اور بندگی کا اظہار کرتے۔ ان کے لیے تلاوت ایک روحانی تجربہ تھی جو جسم پر بھی اثر انداز ہوتا تھا۔ ان کے دل نرم ہو جاتے، ان کے رویے بدل جاتے، اور ان کی زندگیاں سنور جاتی تھیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ قرآن کو سمجھ کر پڑھتے تھے۔ تدبر ان کی تلاوت کا لازمی جز تھا۔ ہر آیت پر غور، ہر حکم پر عمل، اور ہر ممانعت سے اجتناب—یہی ان کا شعار تھا۔ “ہم نے سنا اور اطاعت کی” )بقرۃ : ۲۸۵( ان کا عملی نعرہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ قرآن نے ایک عام انسان کو غیر معمولی انسان بنا دیا، ایک منتشر قوم کو دنیا کی رہنما قوم بنا دیا۔