امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کی "ڈیل" اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل


ڈونلڈ ٹرمپ کی 1987 کی مشہور زمانہ کتاب "دی آرٹ آف دی ڈیل" محض ایک کاروباری سوانح عمری نہیں بلکہ یہ ان کی اس مخصوص نفسیات کا آئینہ ہے جو ریاست کو ایک منافع بخش کارپوریشن اور سفارت کاری کو محض ایک تجارتی لین دین کے طور پر دیکھتی ہے۔ ٹرمپ صاحب کا فلسفہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریئل اسٹیٹ کی دنیا میں جو ہتھکنڈے کسی بلڈنگ کی خریداری میں کامیاب ثابت ہو سکتے ہیں، عالمی سیاست اور بالخصوص ایران جیسے پیچیدہ معاملے میں وہی طریقے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ سیاست کو کاروبار کی عینک سے دیکھنا اس لیے خطرناک ہے کیونکہ ایک تاجر کا حتمی مقصد صرف اور صرف اپنا فائدہ یا "جیت" ہوتا ہے، جبکہ ایک مدبر سیاست دان کا مقصد عالمی استحکام، انسانی جانوں کا تحفظ اور طویل مدتی امن ہوتا ہے۔

ٹرمپ صاحب کا ایران کے ساتھ مذاکرات کا انداز ان کی کتاب کے اسی فلسفے پر مبنی ہے جہاں وہ حریف کو معاشی دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے دیوار سے لگا کر اسے اپنی شرائط پر سودا کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں بحری ناکہ بندیوں کی باتیں اور تزویراتی دباؤ اسی "میکسیمم پریشر" پالیسی کا تسلسل ہیں، لیکن بین الاقوامی تعلقات میں یہ بھول جانا کہ قومیں اپنی خود مختاری اور غیرت پر سودا نہیں کرتیں، ایک بڑی سفارتی غلطی ہے۔ کاروبار میں اگر کوئی ڈیل ناکام ہو جائے تو صرف بینک بیلنس کم ہوتا ہے، لیکن عالمی سیاست میں ایک غلط قدم یا غلط فہمی پورے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہے، جس کی قیمت معصوم انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔

مائیتھوس: مصنوعی ذہانت کا نیا جن جو بوتل سے باہر آ چکا ہے!


تکنیکی دنیا میں جب بھی کوئی نئی ایجاد سامنے آتی ہے، وہ اپنے ساتھ سہولت اور خوف کے دو متضاد پہلو لے کر آتی ہے، لیکن امریکی کمپنی 'اینتھروپک' کی جانب سے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے ماڈل 'مائیتھوس' نے اس بحث کو ایک نئی اور خطرناک نہج پر لا کھڑا کیا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں مائیتھوس کو محض ایک سافٹ ویئر نہیں بلکہ ایک "ڈیجیٹل ایٹم بم" کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ مصنوعی ذہانت کی وہ نسل ہے جو خود سیکھنے اور عمل کرنے کی ایسی صلاحیت رکھتی ہے جو اس سے پہلے ناممکن سمجھی جاتی تھی۔ اسے دنیا کے پیچیدہ ترین ڈیٹا، کوڈنگ اور دفاعی نظاموں کو سمجھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، لیکن اصل تشویش مائیتھوس کے ان کاموں سے ہے جو وہ انسانی مداخلت کے بغیر کر گزرتا ہے۔

دفاعی اور تکنیکی ماہرین مائیتھوس کو ایک سنگین خطرہ اس لیے قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ پلک جھپکتے ہی سافٹ ویئر کی وہ خامیاں ڈھونڈ نکالتا ہے جن کا علم خود اس کے خالقوں کو بھی نہیں ہوتا، اور یہی صلاحیت اسے دنیا کے کسی بھی ملک کے پاور گرڈ، بینکنگ سسٹم یا دفاعی نیٹ ورک کو مفلوج کرنے کی طاقت دیتی ہے۔ اس کی ایک حیرت انگیز صلاحیت سمندروں میں ان "خفیہ جہازوں" کو ٹریس کرنا ہے جو اپنا لوکیشن سسٹم بند کر کے غیر قانونی نقل و حمل کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ اسمگلنگ روکنے کے لیے مثبت ہے، لیکن جنگی حالات میں یہ کسی بھی ملک کی بحری برتری کو سیکنڈوں میں ختم کر سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے جغرافیائی سیاست میں آبنائے ہرمز سے بھی بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔

جب انسان سب کچھ جان لے گا… !


انسان ہمیشہ سے تلاش میں رہا ہے، مگر اس کی تلاش کی نوعیت بدلتی رہی ہے۔ کبھی وہ ستاروں کو دیکھ کر حیران ہوتا تھا، کبھی سمندر کی گہرائیوں میں جھانکتا تھا، اور کبھی اپنے وجود کے بھید کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ مگر اب وہ ایک ایسے دور کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں اس کی تلاش ایک عجیب موڑ لے چکی ہے۔ اس نے اپنی عقل کو وسعت دی ہے، اپنی نگاہ کو دور تک پہنچایا ہے، اور Artificial Intelligence کے ذریعے گویا اپنی فکر کو مشینوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب علم اس کے لیے محض ایک کوشش نہیں رہا، بلکہ ایک لمحے میں حاصل ہونے والی شے بن چکا ہے۔

وہ زمانہ دور نہیں جب انسان Brain-Computer Interface کے ذریعے اپنے ذہن اور مشین کے درمیان فاصلہ ختم کر دے گا، جب Virtual Reality اس کے لیے ایک نئی “حقیقت” تخلیق کرے گی، اور Genetic Engineering اسے اپنی ہی تخلیق میں تبدیلی کا اختیار دے گی۔ بظاہر یہ سب انسان کی فتح کی داستان معلوم ہوتی ہے—ایک ایسی کامیابی جس میں اس نے فطرت کے رازوں کو کھول دیا ہے اور اپنے گرد ایک نئی دنیا تعمیر کر لی ہے۔ مگر اس چمکتی ہوئی سطح کے نیچے ایک خاموش خلا پیدا ہو رہا ہے، ایک ایسا خلا جسے نہ کوئی الگورتھم بھر سکتا ہے اور نہ کوئی ڈیٹا۔

اسلام آباد مذاکرات: قرآن مجید کا زریں اصول "وَالصُّلْحُ خَيْرٌ" اور پاکستان کا کردار

 

تحریر: ڈاکٹر ابو البشر احمد طیب

اس وقت پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں، جہاں دو بڑے حریف، امریکہ اور ایران، ایک میز پر بیٹھے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سیاسی اور سفارتی بیٹھک ہے، لیکن اگر ہم اسے اسلامی تعلیمات اور قرآنِ حکیم کے آئینے میں دیکھیں تو یہ پاکستان کی جانب سے ایک عظیم دینی فریضے کی ادائیگی ہے۔
قرآن مجید کا زریں اصول ہے: "وَالصُّلْحُ خَيْرٌ" (اور صلح بہترین چیز ہے)۔ سورۃ النساء کی یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جنگ اور تصادم کے مقابلے میں تصفیہ اور مفاہمت ہمیشہ برتر راستہ ہے۔ پاکستان نے اسی قرآنی فلسفے کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد بناتے ہوئے دو متحارب گروہوں کے درمیان "خیر" کی راہ نکالی ہے۔
اسلامی ریاست کی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآنِ کریم سورۃ الحجرات میں واضح حکم دیتا ہے:
"اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو... پھر اگر وہ رجوع کریں تو عدل کے ساتھ ان کے درمیان اصلاح کر دو۔"
اگرچہ اس تنازع میں ایک فریق غیر مسلم ہے، مگر اسلام کا "اصولِ امن" آفاقی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے "میثاقِ مدینہ" اور "صلحِ حدیبیہ" کے ذریعے دنیا کو دکھایا کہ امن کے قیام کے لیے دشمن سے بات چیت کرنا اور بظاہر مشکل شرائط پر بھی صلح کرنا کتنا بڑا اہم ہے۔ پاکستان آج اسی سنتِ نبوی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایک "پل" کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات محض سیاسی نمبر گیم نہیں ہیں، بلکہ:
  1. امت کی بقا: ایران ایک برادر اسلامی ملک ہے، اس کی سلامتی خطے کے استحکام سے جڑی ہے۔
  2. انسانیت کی خدمت: جنگ کی صورت میں کروڑوں معصوم انسان لقمہ اجل بن سکتے ہیں، اور قرآن کہتا ہے کہ "جس نے ایک انسان کی جان بچائی، اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔"
  3. ثالث کا عدل: اسلام مطالبہ کرتا ہے کہ ثالث (Mediator) غیر جانبدار اور عادل ہو۔ پاکستان اس وقت دونوں فریقین کا اعتماد جیت کر اسی "عدل" کے منصب پر فائز ہے۔
عالمی دانشور اسے ایک سیاسی کامیابی کہہ رہے ہیں، لیکن ایک مسلمان کی نظر میں یہ "اصلاح بین الناس" کی وہ کوشش ہے جس کا اجر اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے۔ اگر پاکستان ان مذاکرات کے ذریعے خطے کو جنگ کی آگ سے نکالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف سفارتی فتح ہوگی بلکہ قرآن کے حکم "والصلح خیر" کی عملی تفسیر بھی ثابت ہوگی۔
آج اسلام آباد سے اٹھنے والی امن کی یہ آواز دراصل اس قرآنی پیغام کی گونج ہے کہ انسانیت کی بقا جنگ میں نہیں، بلکہ مکالمے اور صلح میں ہے۔

تعلیمِ دین کا نیا افق — قرآن، سیرت اور عربی پر مبنی بارہ سالہ جامع نصاب کی ضرورت

مسلم معاشروں کا ایک بنیادی المیہ یہ ہے کہ دینِ اسلام، جو اپنی اصل میں ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، تعلیمی میدان میں ایک مربوط اور جامع نظام کی صورت میں موجود نہیں۔ ہم نے دین کو یا تو چند رسومات تک محدود کر دیا ہے یا اسے جزوی علوم میں تقسیم کر کے اس کی وحدت کو کھو دیا ہے۔ نتیجتاً نئی نسل قرآن سے بھی پوری طرح وابستہ نہیں، سیرتِ نبوی ﷺ سے بھی گہرا تعلق نہیں رکھتی، اور عربی زبان—جو دین کی اصل کلید ہے—سے بھی ناواقف ہے۔

یہی وہ خلا ہے جسے پر کرنے کے لیے ایک بارہ سالہ جامع نصاب کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے—ایسا نصاب جو کلاس 1 سے کلاس 12 تک طلبہ کو تدریج، تسلسل اور فکری ارتقاء کے ساتھ دین کے اصل مصادر یعنی قرآن اور سنت و حدیث سے جوڑ دے، اور ساتھ ہی انہیں عربی زبان میں اس درجہ مہارت دے کہ وہ دین کو براہِ راست سمجھ سکیں۔

دین کا اصل ماخذ: نصاب کی بنیاد

یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ دین اسلام کے دو ہی بنیادی مصادر ہیں:

  1. قرآن مجید — اللہ کی آخری وحی
  2. سنتِ رسول ﷺ — قرآن کی عملی تفسیر

لیکن ہمارے موجودہ تعلیمی ڈھانچے میں ان دونوں کو الگ الگ، جزوی اور غیر مربوط انداز میں پڑھایا جاتا ہے۔ کہیں صرف ناظرہ قرآن ہے، کہیں ترجمہ، کہیں چند احادیث، اور کہیں سیرت کے واقعات—مگر ایک مربوط فکری نظام مفقود ہے۔

اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ نصاب کی بنیاد ہی ان دو مصادر پر رکھی جائے، اور ہر مضمون، ہر سبق اور ہر مرحلہ انہی کے گرد گھومے۔

بارہ سالہ نصاب: ایک تدریجی فکری سفر

یہ نصاب محض معلومات کی فراہمی نہیں ہوگا بلکہ ایک فکری و روحانی تربیت کا مکمل نظام ہوگا، جسے تین بڑے مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

کیا مصنوعی ذہانت(AI) ) دین کی تعبیر کر سکتی ہے؟

ڈاکٹر ابوالبشر احمد طیب

دنیا ایک نئی فکری کروٹ لے رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) نے علم، تحقیق، تدریس اور ابلاغ کے میدان میں حیرت انگیز سہولتیں پیدا کر دی ہیں۔ اب چند لمحوں میں وہ معلومات حاصل ہو جاتی ہیں جن کے لیے پہلے گھنٹوں بلکہ دنوں کی محنت درکار ہوتی تھی۔ لیکن جہاں یہ سہولت ایک نعمت ہے، وہیں دینِ اسلام—خصوصاً قرآنِ مجید—کے فہم و تعبیر کے میدان میں اس کا استعمال ایک نہایت حساس اور سنجیدہ سوال کو جنم دیتا ہے۔

قرآن محض ایک کتاب نہیں، بلکہ وحیِ الٰہی ہے—اللہ کا کلام، جو انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا۔ اس کی تعبیر و تشریح کوئی سادہ علمی عمل نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ فکری و روحانی کاوش ہے، جس کے لیے صدیوں سے مفسرین نے اصول وضع کیے، علومِ قرآن کی بنیاد رکھی، اور اپنی زندگیاں صرف کیں۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ کیا ایک مشینی نظام، جسے انسانوں نے معلومات فراہم کی ہیں، اس مقدس متن کی صحیح تعبیر کر سکتا ہے؟

یہاں اصل نکتہ سمجھنے کا ہے: مصنوعی ذہانت خود کوئی “عالم” نہیں، بلکہ ایک “آلہ” ہے۔ یہ وہی کچھ بیان کرتی ہے جو اسے سکھایا گیا ہو۔ اس کے پاس نہ شعور ہے، نہ فہمِ وحی، نہ تقویٰ، اور نہ وہ ذمہ داری کا وہ احساس جو ایک عالمِ دین کے دل میں ہوتا ہے۔ وہ صرف الفاظ کو جوڑتی ہے، مفاہیم کو ترتیب دیتی ہے، اور دستیاب مواد کی بنیاد پر جواب دیتی ہے۔ مگر دین کا فہم صرف الفاظ کا کھیل نہیں؛ یہ سیاق و سباق، شانِ نزول، لغوی باریکیوں، اور پورے دینی نظام کے تناظر سے جڑا ہوا ہے۔

اسلامی مالیات کیوں اہم ہے؟

پاکستان کے بینکاری نظام کو مکمل طور پر اسلامی (شریعہ کمپلائنٹ) بنانے کا ہدف ملک کی معاشی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اکتوبر 2024 میں منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم کے تحت پاکستان کے تمام مالیاتی اداروں سے سود (ربا) کے خاتمے کے لیے یکم جنوری 2028 کی حتمی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ اس سے قبل آئین میں "جلد از جلد" کے الفاظ درج تھے، جنہیں اب ایک واضح تاریخ سے بدل دیا گیا ہے۔
یہ اقدام اپریل 2022 میں فیڈرل شریعت کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے جس میں حکومت کو پانچ سال کے اندر سود سے پاک بینکاری نظام رائج کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے "Vision 2028" کے نام سے ایک اسٹرٹیجک پلان تیار کیا ہے، جس کا مقصد روایتی بینکاری کو بتدریج شریعہ کے مطابق ڈھالنا ہے۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسلامی بینکاری کے اثاثے 14.47 ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں، جو مجموعی بینکاری صنعت کا تقریباً 23 فیصد ہیں۔
فیصل بینک جیسے بڑے اداروں نے خود کو مکمل طور پر اسلامی بینک میں تبدیل کر لیا ہے، جو عالمی سطح پر ایک بڑی مثال ہے۔
عسکری بینک جیسے دیگر بینک بھی اپنی تمام شاخوں کو شریعہ کمپلائنٹ بنانے کے عمل کو تیز کر رہے ہیں۔
لیکن اس مکمل منتقلی میں سب سے بڑی رکاوٹیں سرکاری قرضوں (Government Debt) کو شریعہ کے مطابق بنانا، بین الاقوامی مالیاتی اداروں (جیسے IMF) کے ساتھ لین دین، اور تمام بینکنگ اسٹاف کی تربیت ہے۔

اس بارے میں مزید تفصیل درج ذیل ویڈیو سے جان سکتے ہیں ۔



 

بانٹنے والے اور سمیٹنے والے: دو متضاد طرزِ زندگی

کسی بھی معاشرے کی کوکھ سے دو متضاد رویے جنم لیتے ہیں جو انسانی ترجیحات اور زندگی کے مقصد کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ درویش صفت لوگ ہیں جنہیں قدرت نے شہرت، دولت اور اثر و رسوخ سے نوازا تو انہوں نے اسے اپنی ذات کے حصار میں قید کرنے کے بجائے انسانیت کی فلاح کے لیے وقف کر دیا۔ عبدالستار ایدھی کی سادہ زندگی سے لے کر ڈاکٹر امجد ثاقب کی "مواخات" تک، اور مولانا بشیر فاروق قادری کی دسترخوانوں سے لے کر ریحان اللہ والا کی ڈیجیٹل تعلیم اور قاسم علی شاہ کی فکری آبیاری تک، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زندگی کا مفہوم "لینے" کے بجائے "دینے" میں تلاش کیا۔ ان کے نزدیک کامیابی کا معیار بینک بیلنس نہیں بلکہ ان چہروں کی مسکراہٹ ہے جنہیں ان کی وجہ سے جینے کی امید ملی۔ دوسری جانب ایک ایسا طبقہ ہے جس کے پاس وسائل کی ریل پیل تو ہے لیکن ان کی تمام تر جدوجہد اپنی ذات کی نمائش، عیش و عشرت اور وقتی لذتوں تک محدود ہے۔ چاہے وہ شوبز کے ستارے ہوں، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے سیاستدان ہوں یا وہ اشرافیہ جو اپنی دولت کا بڑا حصہ مہنگی گاڑیوں اور نمود و نمائش پر لٹاتی ہے، ان کی زندگی کا کینوس اپنی ذات سے شروع ہو کر اپنی ہی ذات پر ختم ہو جاتا ہے۔

قومی ترقی و تعمیر میں اتحاد کی ضرورت اور قرآنی نقطہ نظر

پاکستان کی پچھتر سالہ تاریخ کا شور و غوغا اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ ہم نے جتنا نقصان بیرونی خطرات سے نہیں اٹھایا، اس سے کہیں زیادہ زخم ہمیں داخلی خلفشار، سیاسی محاذ آرائی اور مذہبی فرقہ واریت نے دیے ہیں۔ ان اختلافات نے نہ صرف ہماری سماجی بنیادوں کو کھوکھلا کیا بلکہ قوم کے اس نصب العین کو بھی دھندلا دیا جس کی خاطر لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا تھا۔ قرآنِ کریم نے اتحاد کے اسی سنہری اصول کو انسانیت کی بقا اور کامیابی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا" (ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو)۔
اتحاد کی ضرورت اور قرآنی نقطہ نظر

یہ الٰہی حکم ہمیں بتاتا ہے کہ کسی بھی گروہ یا معاشرے کی طاقت اس کے اتفاق میں پوشیدہ ہے، جبکہ اختلاف انتشار زوال اور کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ آج ہم جس زوال کا شکار ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ وہ فکری اور نظریاتی بکھراؤ ہے جس نے ہمیں ایک متحد قوم کے بجائے مختلف گروہوں اور فرقوں میں تقسیم کر دیا ہے، حالانکہ قرآن نے ہمیں واضح طور پر ایک امت بن کر رہنے کا درس دیا تھا۔

موجودہ پاکستان کی سیاسی، معاشرتی اور معاشی اصلاح کے لیے اس وقت ایسے قد آور لیڈر کی ضرورت ہے جو محض اقتدار کا بھوکا نہ ہو بلکہ ایک سچا مصلح ہو۔ میری نظر میں موجودہ عہد کا سب سے بڑا لیڈر وہی کہلانے کا حقدار ہوگا جو قوم کے سیاسی اور مذہبی اربابِ اختیار کو ایک دسترخوان پر بٹھا کر انہیں قومی مفاد کے ایک نکتے پر متحد کر لے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن نامکن نہیں، کیونکہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قیامِ پاکستان سے پہلے بھی حالات کچھ مختلف نہ تھے۔ اس وقت بھی برصغیر کے مسلمان مسلکی، لسانی اور سیاسی تقسیم کا شکار تھے، لیکن پھر ایک 'میرِ کارواں' نمودار ہوا جس نے اپنی بے داغ شخصیت اور اخلاص سے منتشر گروہوں کو قرآن کے بتائے ہوئے 'بنیان مرصوص' (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) کے تصور کے تحت ایک لڑی میں پرو دیا۔

رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی اور موجودہ مشرق وسطی کی سنگین صورت حال

حدیثِ جبریل کے آئینے میں جب ہم آج کے عرب معاشرے اور مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، تو چودہ سو سال پہلے کی گئی پیش گوئیاں جیتی جاگتی حقیقت بن کر سامنے آتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ننگے پاؤں بکریاں چرانے والوں کے بلند و بالا عمارتوں میں مقابلے کا ذکر فرمایا تھا، تو یہ محض مادی ترقی کی خبر نہ تھی بلکہ ایک ایسی اخلاقی اور فکری تبدیلی کی طرف اشارہ تھا جہاں ترجیحات بدل جانی تھیں۔ آج دبئی، ابوظہبی اور سعودی عرب کے صحراؤں میں آسمان سے باتیں کرتے برج اور پرتعیش منصوبے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ وہ بدوی قوم جس کی پہچان سادگی اور فقر تھی، آج مادی ہوس کی اس دوڑ میں سب سے آگے نکل چکی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جیسے جیسے عمارتوں کی بلندی بڑھی، کردار کی بلندی میں اتنی ہی پستی آتی گئی۔ امارات جیسے ممالک میں جدیدیت اور سیاحت کے نام پر جس طرح عریانی، فحاشی اور نائٹ کلبز کو جگہ دی گئی، اس نے اس خطے کے اس اسلامی تشخص کو بری طرح مجروح کیا ہے جو کبھی پوری دنیا کے لیے حیا اور غیرت کا استعارہ تھا۔

یہ اخلاقی بگاڑ محض داخلی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس "الٰہی قانون" کو دعوت دے رہا ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے جواب میں کیا گیا کہ اللہ کا عہد ظالموں اور نافرمانوں کو نہیں پہنچے گا۔ جب مرکزِ اسلام کی سرزمین پر اللہ کی حدود پامال ہونے لگیں، حرمین کے پاس تفریحی میلے سجنے لگیں اور مظلوم فلسطینیوں کے خون پر مصلحت پسندی کی چادر تان کر ظالم قوتوں سے پینگیں بڑھائی جانے لگیں، تو پھر قدرت کا تازیانہ حرکت میں آتا ہے۔ موجودہ دور میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی اور عرب دنیا کا اس بھنور میں پھنسنا بظاہر ایک سیاسی بحران نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ وہی "عذاب کا کوڑا" محسوس ہوتا ہے جس کا ذکر قرآن کی مختلف آیات میں نافرمان قوموں کے لیے کیا گیا ہے۔