ابتدا میں جب کائنات کی خاموشی میں پہلی وحی کی بازگشت سنائی دی تو انسانیت کی تقدیر بدلنے والی تھی—مگر اس تبدیلی کی بنیاد شور و ہنگامے میں نہیں، رات کی خاموشی میں رکھی گئی۔ سورۃ المزمل نے ایک لرزتے دل کو پکارا: قُمِ اللَّيْلَ—اٹھو، رات میں کھڑے ہو جاؤ۔ یہ محض نماز کا حکم نہ تھا، یہ روح کی تعمیر تھی۔ گویا پیغامِ حق اٹھانے سے پہلے حاملِ پیغام کو رب کے حضور کھڑا ہونا سکھایا گیا۔ إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا—ایک بھاری کلام آنے والا ہے؛ اور بھاری امانتیں کمزور کندھوں پر نہیں رکھی جاتیں، انہیں راتوں کی ریاضت مضبوط بناتی ہے۔
پھر اسی سلسلے کی اگلی صدا سورۃ المدثر میں گونجی: قُمْ فَأَنذِرْ—اٹھو اور خبردار کرو۔ اب خلوت کی آگ سے گزر کر جلنے والا چراغ لوگوں کے بیچ روشنی بانٹنے کو تھا۔ پہلے اندر کو روشن کیا گیا، پھر باہر کی تاریکی کو چیرنے کا حکم ملا۔ مزمل کی رات نے جو سکون، یقین اور بصیرت دی، مدثر کے دن نے اسے حرکت، اعلان اور جدوجہد میں ڈھال دیا۔
اور جب دعوت کی راہیں سنگلاخ ہوئیں، تو سورۃ الإسراء نے اس تسلسل کو دائمی بنا دیا: وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ—رات کا یہ رشتہ کبھی نہ ٹوٹے۔ گویا قیامِ لیل صرف ابتدا کی تربیت نہیں، قیادت کی بقا کا راز بھی ہے۔ اسی خلوت سے مَقَامًا مَّحْمُودًا کی بشارت پھوٹتی ہے؛ وہ مقام جس تک رسائی دن کی ہنگامہ خیزی سے نہیں، رات کی سجدہ ریزی سے ہوتی ہے۔
یوں تاریخ نے دیکھا کہ ایک امت کی تعمیر جلسوں سے پہلے سجدوں میں ہوئی، نعروں سے پہلے آہوں میں، اور میدانوں سے پہلے محرابوں میں۔ قیامِ لیل سے قیامِ امت تک کا یہ سفر ہمیں بتاتا ہے کہ جس تحریک کی جڑیں رات کی نمی میں پیوست ہوں، اسے دن کی دھوپ مرجھا نہیں سکتی۔





