اسلامی مالیات کیوں اہم ہے؟

پاکستان کے بینکاری نظام کو مکمل طور پر اسلامی (شریعہ کمپلائنٹ) بنانے کا ہدف ملک کی معاشی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اکتوبر 2024 میں منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم کے تحت پاکستان کے تمام مالیاتی اداروں سے سود (ربا) کے خاتمے کے لیے یکم جنوری 2028 کی حتمی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ اس سے قبل آئین میں "جلد از جلد" کے الفاظ درج تھے، جنہیں اب ایک واضح تاریخ سے بدل دیا گیا ہے۔
یہ اقدام اپریل 2022 میں فیڈرل شریعت کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے جس میں حکومت کو پانچ سال کے اندر سود سے پاک بینکاری نظام رائج کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے "Vision 2028" کے نام سے ایک اسٹرٹیجک پلان تیار کیا ہے، جس کا مقصد روایتی بینکاری کو بتدریج شریعہ کے مطابق ڈھالنا ہے۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسلامی بینکاری کے اثاثے 14.47 ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں، جو مجموعی بینکاری صنعت کا تقریباً 23 فیصد ہیں۔
فیصل بینک جیسے بڑے اداروں نے خود کو مکمل طور پر اسلامی بینک میں تبدیل کر لیا ہے، جو عالمی سطح پر ایک بڑی مثال ہے۔
عسکری بینک جیسے دیگر بینک بھی اپنی تمام شاخوں کو شریعہ کمپلائنٹ بنانے کے عمل کو تیز کر رہے ہیں۔
لیکن اس مکمل منتقلی میں سب سے بڑی رکاوٹیں سرکاری قرضوں (Government Debt) کو شریعہ کے مطابق بنانا، بین الاقوامی مالیاتی اداروں (جیسے IMF) کے ساتھ لین دین، اور تمام بینکنگ اسٹاف کی تربیت ہے۔

اس بارے میں مزید تفصیل درج ذیل ویڈیو سے جان سکتے ہیں ۔



 

بانٹنے والے اور سمیٹنے والے: دو متضاد طرزِ زندگی

کسی بھی معاشرے کی کوکھ سے دو متضاد رویے جنم لیتے ہیں جو انسانی ترجیحات اور زندگی کے مقصد کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ درویش صفت لوگ ہیں جنہیں قدرت نے شہرت، دولت اور اثر و رسوخ سے نوازا تو انہوں نے اسے اپنی ذات کے حصار میں قید کرنے کے بجائے انسانیت کی فلاح کے لیے وقف کر دیا۔ عبدالستار ایدھی کی سادہ زندگی سے لے کر ڈاکٹر امجد ثاقب کی "مواخات" تک، اور مولانا بشیر فاروق قادری کی دسترخوانوں سے لے کر ریحان اللہ والا کی ڈیجیٹل تعلیم اور قاسم علی شاہ کی فکری آبیاری تک، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زندگی کا مفہوم "لینے" کے بجائے "دینے" میں تلاش کیا۔ ان کے نزدیک کامیابی کا معیار بینک بیلنس نہیں بلکہ ان چہروں کی مسکراہٹ ہے جنہیں ان کی وجہ سے جینے کی امید ملی۔ دوسری جانب ایک ایسا طبقہ ہے جس کے پاس وسائل کی ریل پیل تو ہے لیکن ان کی تمام تر جدوجہد اپنی ذات کی نمائش، عیش و عشرت اور وقتی لذتوں تک محدود ہے۔ چاہے وہ شوبز کے ستارے ہوں، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے سیاستدان ہوں یا وہ اشرافیہ جو اپنی دولت کا بڑا حصہ مہنگی گاڑیوں اور نمود و نمائش پر لٹاتی ہے، ان کی زندگی کا کینوس اپنی ذات سے شروع ہو کر اپنی ہی ذات پر ختم ہو جاتا ہے۔

قومی ترقی و تعمیر میں اتحاد کی ضرورت اور قرآنی نقطہ نظر

پاکستان کی پچھتر سالہ تاریخ کا شور و غوغا اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ ہم نے جتنا نقصان بیرونی خطرات سے نہیں اٹھایا، اس سے کہیں زیادہ زخم ہمیں داخلی خلفشار، سیاسی محاذ آرائی اور مذہبی فرقہ واریت نے دیے ہیں۔ ان اختلافات نے نہ صرف ہماری سماجی بنیادوں کو کھوکھلا کیا بلکہ قوم کے اس نصب العین کو بھی دھندلا دیا جس کی خاطر لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا تھا۔ قرآنِ کریم نے اتحاد کے اسی سنہری اصول کو انسانیت کی بقا اور کامیابی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا" (ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو)۔
اتحاد کی ضرورت اور قرآنی نقطہ نظر

یہ الٰہی حکم ہمیں بتاتا ہے کہ کسی بھی گروہ یا معاشرے کی طاقت اس کے اتفاق میں پوشیدہ ہے، جبکہ اختلاف انتشار زوال اور کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ آج ہم جس زوال کا شکار ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ وہ فکری اور نظریاتی بکھراؤ ہے جس نے ہمیں ایک متحد قوم کے بجائے مختلف گروہوں اور فرقوں میں تقسیم کر دیا ہے، حالانکہ قرآن نے ہمیں واضح طور پر ایک امت بن کر رہنے کا درس دیا تھا۔

موجودہ پاکستان کی سیاسی، معاشرتی اور معاشی اصلاح کے لیے اس وقت ایسے قد آور لیڈر کی ضرورت ہے جو محض اقتدار کا بھوکا نہ ہو بلکہ ایک سچا مصلح ہو۔ میری نظر میں موجودہ عہد کا سب سے بڑا لیڈر وہی کہلانے کا حقدار ہوگا جو قوم کے سیاسی اور مذہبی اربابِ اختیار کو ایک دسترخوان پر بٹھا کر انہیں قومی مفاد کے ایک نکتے پر متحد کر لے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن نامکن نہیں، کیونکہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قیامِ پاکستان سے پہلے بھی حالات کچھ مختلف نہ تھے۔ اس وقت بھی برصغیر کے مسلمان مسلکی، لسانی اور سیاسی تقسیم کا شکار تھے، لیکن پھر ایک 'میرِ کارواں' نمودار ہوا جس نے اپنی بے داغ شخصیت اور اخلاص سے منتشر گروہوں کو قرآن کے بتائے ہوئے 'بنیان مرصوص' (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) کے تصور کے تحت ایک لڑی میں پرو دیا۔

رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی اور موجودہ مشرق وسطی کی سنگین صورت حال

حدیثِ جبریل کے آئینے میں جب ہم آج کے عرب معاشرے اور مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، تو چودہ سو سال پہلے کی گئی پیش گوئیاں جیتی جاگتی حقیقت بن کر سامنے آتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ننگے پاؤں بکریاں چرانے والوں کے بلند و بالا عمارتوں میں مقابلے کا ذکر فرمایا تھا، تو یہ محض مادی ترقی کی خبر نہ تھی بلکہ ایک ایسی اخلاقی اور فکری تبدیلی کی طرف اشارہ تھا جہاں ترجیحات بدل جانی تھیں۔ آج دبئی، ابوظہبی اور سعودی عرب کے صحراؤں میں آسمان سے باتیں کرتے برج اور پرتعیش منصوبے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ وہ بدوی قوم جس کی پہچان سادگی اور فقر تھی، آج مادی ہوس کی اس دوڑ میں سب سے آگے نکل چکی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جیسے جیسے عمارتوں کی بلندی بڑھی، کردار کی بلندی میں اتنی ہی پستی آتی گئی۔ امارات جیسے ممالک میں جدیدیت اور سیاحت کے نام پر جس طرح عریانی، فحاشی اور نائٹ کلبز کو جگہ دی گئی، اس نے اس خطے کے اس اسلامی تشخص کو بری طرح مجروح کیا ہے جو کبھی پوری دنیا کے لیے حیا اور غیرت کا استعارہ تھا۔

یہ اخلاقی بگاڑ محض داخلی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس "الٰہی قانون" کو دعوت دے رہا ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے جواب میں کیا گیا کہ اللہ کا عہد ظالموں اور نافرمانوں کو نہیں پہنچے گا۔ جب مرکزِ اسلام کی سرزمین پر اللہ کی حدود پامال ہونے لگیں، حرمین کے پاس تفریحی میلے سجنے لگیں اور مظلوم فلسطینیوں کے خون پر مصلحت پسندی کی چادر تان کر ظالم قوتوں سے پینگیں بڑھائی جانے لگیں، تو پھر قدرت کا تازیانہ حرکت میں آتا ہے۔ موجودہ دور میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی اور عرب دنیا کا اس بھنور میں پھنسنا بظاہر ایک سیاسی بحران نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ وہی "عذاب کا کوڑا" محسوس ہوتا ہے جس کا ذکر قرآن کی مختلف آیات میں نافرمان قوموں کے لیے کیا گیا ہے۔

جب پوپ، پادری اور ہم سب ایک جیسے نکلے!

کہتے ہیں تاریخ خود کو دہراتی ہے، مگر کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ تاریخ صرف کردار بدلتی ہے، کہانی وہی رہتی ہے۔ 31 اکتوبر 1517 کو مارٹن لوتھر (Martin Luther) نے جب جرمنی کے ایک گرجے کی دیوار پر اپنے اعتراضات چسپاں کیے تو شاید اسے خود بھی اندازہ نہ تھا کہ وہ صرف ایک کاغذ نہیں لگا رہا بلکہ یورپ کے سکون کو کیلوں سے ٹھوک رہا ہے۔ ادھر( Pope Leo X ) پوپ لیو دہم (1521-1475) بیٹھے سوچ رہے تھے کہ یہ نوجوان کچھ زیادہ ہی پڑھ لکھ گیا ہے، اور ادھر لوتھر صاحب فرماتے تھے کہ جناب! نجات کا ٹھیکہ آپ کے پاس کیسے آگیا؟
مارٹن لوتھر(1483-1546)

بات یہیں ختم ہو جاتی تو اچھا تھا، مگر انسان کی ایک پرانی عادت ہے: اختلاف کو مکالمہ نہیں بلکہ میدانِ جنگ بنا دینا۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے مسیحیت دو بڑے خانوں میں تقسیم ہوگئی—کیتھولک اور پروٹسٹنٹ—اور پھر ہر فریق نے دوسرے کو ایسا سمجھا جیسے وہ جنت کے دروازے پر کھڑا چوکیدار ہو اور باقی سب کو اندر جانے سے روکنا اس کی ڈیوٹی ہو۔ نتیجہ؟ وہی جو ہونا تھا: (1618-1648) تیس سال تک لوگ ایک دوسرے کو یہ سمجھانے میں لگے رہے کہ “تم غلط ہو”، اور دلیل کے طور پر تلوار استعمال کی جاتی رہی۔

اب ذرا آئینہ ادھر بھی گھمائیں۔ ہمارے ہاں بھی معاملہ کچھ مختلف نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم نے گرجوں کی جگہ مساجد لے لی ہیں، لاطینی کی جگہ عربی و اردو آگئی ہے، مگر بحث وہی ہے: حق کس کے پاس ہے؟ ہر مسلک کے پاس اپنے اپنے دلائل، اپنے اپنے علما، اور اپنے اپنے “مصدقہ” جنتی افراد کی فہرست موجود ہے۔ اگر کبھی آپ کو فرصت ملے تو کسی چائے خانے میں بیٹھ کر دو مختلف مسالک کے افراد کی گفتگو سن لیں—آپ کو فوراً اندازہ ہو جائے گا کہ مارٹن لوتھر بیچارہ اکیلا نہیں تھا، اس کی روح آج بھی کئی جگہوں پر گھوم رہی ہے!

فرقہ واریت کا کمال یہ ہے کہ یہ انسان کو اتنا مصروف رکھتی ہے کہ وہ اصل کام بھول جاتا ہے۔ یورپ نے بھی ایک لمبا عرصہ اسی مشغلے میں گزارا، حتیٰ کہ تنگ آ کر اس نے کہا: “بھئی بس کرو، ہمیں کچھ اور بھی کرنا ہے!” چنانچہ انہوں نے مذہب کو ایک طرف رکھ کر سائنس، تحقیق اور سیاست کے نئے راستے نکال لیے۔ اور ہم؟ ہم ابھی تک یہ طے کرنے میں لگے ہیں کہ کون سیدھا ہے اور کون الٹا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم سب قرآن کو ہدایت کی کتاب مانتے ہیں، مگر اس کو سمجھنے کے بجائے اکثر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے “پسندیدہ عالم” نے اس کے بارے میں کیا فرمایا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے کبھی یورپ میں لوگ بائبل کم اور پوپ زیادہ پڑھتے تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم نے پوپ کا لفظ بدل دیا ہے، کردار وہی رکھا ہے۔

اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ اختلاف کیوں ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اختلاف کو سنبھالتے کیسے ہیں۔ یورپ نے بڑی قیمت دے کر یہ سیکھا کہ اگر ہر شخص خود کو حق کا آخری نمائندہ سمجھے گا تو نتیجہ جنگ ہی ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم یہ سبق بغیر جنگ کے سیکھ سکتے ہیں؟

ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والی نسلیں ہماری تاریخ پڑھ کر یہ کہیں: “یہ لوگ بھی بڑے دلچسپ تھے—ہر وقت جنت کے نقشے بناتے رہے، مگر دنیا کو جہنم بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی!”

تعلیم وتربیت کا قرآنی تصور

برصغیر کی تعلیمی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ یہاں کے مسلم اہلِ فکر نے ہر دور میں بدلتے ہوئے حالات کے مقابلے کے لیے تعلیمی میدان میں نئی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ کبھی جدید مغربی علوم کے ساتھ ہم آہنگی کا تجربہ ہوا، کبھی روایت کے تحفظ کے ساتھ اصلاح کا منصوبہ سامنے آیا، اور کبھی دینی مدارس کی ساخت کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اس سب کے باوجود آج بھی امت مسلمہ ایک ایسے تعلیمی بحران سے دوچار ہے جو محض نصاب یا اداروں کی تبدیلی سے حل ہوتا نظر نہیں آتا۔

اس صورت حال کا بنیادی سبب یہ ہے کہ تعلیم کو اس کے اصل مقصد سے جدا کر دیا گیا ہے۔ تعلیم کا مقصد انسان کو محض تعلیم یافتہ یا معاشی جدوجہد کا آلہ بنانا نہیں بلکہ اسے ایک صاحبِ ایمان، صاحبِ کردار اور صاحبِ بصیرت انسان بنانا ہے۔ جب تک تعلیم کا سرچشمہ وحی اور اس کا مرکز اللہ کی بندگی نہ ہو، اس وقت تک وہ انسان کو کامل معنوں میں ترقی نہیں دے سکتی۔ یہی وہ نقطۂ نظر ہے جسے سید ابوالاعلی مودودی نے اپنی تحریروں میں بار بار واضح کیا کہ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے، اور اس کے بغیر تعلیم کا کوئی بھی تصور ادھورا ہے۔

آج کی جدید یونیورسٹیاں ذہن کو معلومات سے بھر رہی ہیں مگر روح کو خالی چھوڑ رہی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان ترقی کی بلند ترین منازل طے کرنے کے باوجود اضطراب، بے معنویت اور اخلاقی بحران کا شکار ہے۔ یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ ہم تعلیم کے اس اصل منبع کی طرف رجوع کریں جس نے تاریخ میں ایک ایسی تہذیب کو جنم دیا تھا جو علم، عدل اور روحانیت کا حسین امتزاج تھی۔

تہران میں نئے عہد کا آغاز: کیا مجتبیٰ خامنہ ای ایران کو بحران سے نکال پائیں گے؟


ایران کی مجلسِ خبرگان (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے 8 مارچ 2026 کو باضابطہ طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک مشترکہ امریکی و اسرائیلی فضائی حملے میں شہادت کے تقریباً ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی شخصیت ہمیشہ سے تہران کے سیاسی حلقوں میں ایک پرسرار اہمیت کی حامل رہی ہے۔ 1969 میں مشہد کے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے مجتبیٰ نے اگرچہ کبھی کوئی باضابطہ حکومتی یا عوامی عہدہ نہیں سنبھالا، لیکن وہ پسِ پردہ اپنے والد کے دفتر کے سب سے بااثر مہرے کے طور پر ابھرے۔ قم کے مدارس سے فارغ التحصیل یہ عالمِ دین صرف مذہبی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ ایران عراق جنگ کے دوران محاذِ جنگ پر ان کی موجودگی نے انہیں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے طاقتور جرنیلوں کے قریب کر دیا۔ یہی وہ تعلق ہے جو آج کے مشکل حالات میں ان کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آیا ہے، کیونکہ ایران کے موجودہ دفاعی ڈھانچے میں فوج اور قیادت کا ہم آہنگ ہونا بقا کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔

موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اس وقت ایک ایسی سیکیورٹی صورتحال سے دوچار ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ایک طرف اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم کی لہر ہے تو دوسری طرف معاشی پابندیوں نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے کندھوں پر اب صرف ایک ملک کو چلانے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ اس 'مزاحمتی بلاک' کی قیادت کا بوجھ بھی ہے جو تہران سے لے کر بیروت اور دمشق تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کا انتخاب یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی اسٹیبلشمنٹ فی الحال مغرب کے ساتھ کسی بڑے سمجھوتے یا پالیسی میں نرمی کے حق میں نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسی قیادت چاہتی ہے جو سخت گیر نظریات پر کاربند رہتے ہوئے نظام کا دفاع کر سکے۔

ایران، اسرائیل، امریکہ جنگ اور مغربی میڈیا کا منافقانہ رویہ


مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کی بو میں لپٹا ہوا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ہو یا اس کے پس منظر میں موجود امریکہ کی پالیسی—یہ سب کچھ کسی اچانک حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل استعماری تسلسل کی کڑیاں ہیں۔ اور اس پورے منظرنامے میں مغربی میڈیا کا کردار سوالیہ نشان بن چکا ہے؛ وہی میڈیا جو انسانی حقوق کا علَم بردار بن کر دنیا کو درس دیتا ہے، لیکن جب مظلوم کا تعلق مشرق سے ہو تو اس کی زبان گنگ اور آنکھ اندھی ہوجاتی ہے۔

غزہ کے حالیہ واقعات نے دنیا کے سامنے مغرب کے دوہرے معیار کو بے نقاب کردیا۔ غزہ میں بچوں، عورتوں اور نہتے شہریوں کی ہلاکتوں کو “دفاعِ خود” کا نام دیا جاتا ہے، جبکہ کسی بھی مزاحمت کو “دہشت گردی” قرار دے کر عالمی ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وہ بیانیہ ہے جو مغربی میڈیا مسلسل دہراتا ہے—الفاظ کا ایسا کھیل جس میں قاتل مظلوم اور مظلوم مجرم بنا دیا جاتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم سے لے کر آج تک عالمی طاقتوں کی سیاسی و معاشی بنیاد طاقت کے عدم توازن اور وسائل پر قبضے کی پالیسی پر کھڑی نظر آتی ہے۔ نوآبادیاتی نظام نے ایشیا اور افریقہ کو لوٹا، ان کی معیشتوں کو تباہ کیا اور مصنوعی سرحدیں کھینچ کر مستقل تنازعات کی بنیاد رکھ دی۔ آج اگر مشرقِ وسطیٰ آگ میں جل رہا ہے تو اس آگ کے شعلے ماضی کی انہی پالیسیوں سے بلند ہوئے ہیں۔

عہدِ رفتہ کا اختتام: آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور ایک نئے دور کا آغاز


ایران کی تاریخ میں 28 فروری 2026 کا دن ایک بڑے موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب دارالحکومت تہران میں ان کے دفتر (لیڈرشپ ہاؤس) پر ہونے والے حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کی صبح (یکم مارچ) اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے ملک میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

 علی حسینی خامنہ ای 19 اپریل 1939 کو مشہد کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔
تعلیم و جدوجہد: انہوں نے قم اور مشہد کے مدارس سے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی اور شاہِ ایران کے خلاف تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس کی پاداش میں انہیں کئی بار جیل بھی جانا پڑا۔
سیاسی سفر: 1979 کے انقلاب کے بعد وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اہم ستون بن کر ابھرے۔ وہ 1981 سے 1989 تک ایران کے صدر رہے۔

 1989 میں بانیِ انقلاب امام خمینی کی وفات کے بعد وہ ایران کے دوسرے 'رہبرِ اعلیٰ' (سپریم لیڈر) منتخب ہوئے اور اپنی وفات تک اس عہدے پر فائز رہے۔

مصنوعی ذہانت: انسانی وژن کی نئی معراج


ٹیکنالوجی کی تاریخ میں جب بھی کسی بڑی تبدیلی نے جنم لیا، انسانی ذہن نے اسے ہمیشہ اپنے متبادل کے طور پر دیکھا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ مشینیں انسانی جسم کی مشقت تو کم کر سکتی ہیں مگر انسانی وژن کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔ آج جب ہم مصنوعی ذہانت (AI) کے عہد میں جی رہے ہیں، تو یہ تاثر عام ہے کہ شاید اب انسانی ضرورت ختم ہو رہی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اے آئی نے درحقیقت انسانی قدر میں وہ اضافہ کر دیا ہے جس کا تصور اس سے پہلے ممکن نہ تھا۔ اس ٹیکنالوجی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مختلف پیچیدہ پراجیکٹس کی تکمیل میں ایک طاقتور معاون تو بن سکتی ہے، لیکن اس معاون کو چلانے کے لیے جس اعلیٰ درجے کی ذہانت، بصیرت اور وژن کی ضرورت ہے، وہ صرف انسان کے پاس ہے۔

اس کی زندہ مثال مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیا نڈیلا ہیں۔ جب انہوں نے کمپنی کی باگ ڈور سنبھالی تو مائیکروسافٹ اپنی پرانی مصنوعات میں گھری ہوئی تھی، لیکن نڈیلا نے اپنے وژن سے بھانپ لیا کہ مستقبل "کلاؤڈ" اور "اے آئی" کا ہے۔ انہوں نے اے آئی کو محض ایک فیچر کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے کمپنی کے ہر پراجیکٹ کا مرکز بنا دیا۔ آج مائیکروسافٹ کا ہر ملازم اے آئی کو ایک اوزار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، لیکن اس کامیابی کے پیچھے وہ وژنری سوچ تھی جس نے ٹیکنالوجی کو صحیح رخ دیا۔ مستقبل کا منظرنامہ اب تکنیکی مہارت سے ہٹ کر اسی طرح کی "ذہانت کے درست استعمال" کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ اب اہمیت اس بات کی نہیں رہی کہ آپ کو کتنا ڈیٹا یاد ہے، بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ اس ڈیٹا سے کیا نیا تخلیق کر سکتے ہیں۔