علامہ اقبال کی آخری رات - از ڈاکٹر جاوید اقبال

20 اپریل 1938ء کی صبح کو ان کی طبیعت کچھ سنبھل گئی تھی۔ انھوں نے معمول کے مطابق دلیے کے ساتھ چائے کی پیالی پی۔ میاں محمد شفیع سے اخبار پڑھوا کر سنے اور رشید حجّام سے شیو بنوائی۔ دوپہر کو ڈاک میں جنوبی افریقہ کے کسی اخبار میں ترشے وصول ہوئے، خبر یہ تھی کہ وہاں کے مسلمانوں نے نمازِ جمعہ کے بعد اقبال، مصطفٰی کمال اور محمد علی جناح کی صحت اور عمر درازی کے لیے دعا کی ہے۔ کوئی ساڑھے چار بجے بیرن فان والتھائم انھیں ملنے کے لیےآگئے۔ بیرن فان والتھائم نے جرمنی میں اقبال کی طالب علمی کے زمانے میں ان کے ساتھ کچھ وقت گزارا تھا اور اب وہ جرمنی کے نازی لیڈر ہٹلر کے نمائندے کی حیثیت سے ہندوستان اور افغانستان کا سفر کر کے شاید ان ممالک کے حالات کا جائزہ لے رہے تھے۔ ہندوستان کا دورہ مکمل کر چکنے کے بعد وہ کابل جا رہے تھے۔ اقبال اور بیرن فان والتھائم دونوں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ہائیڈل برگ یا میونخ میں اپنی لینڈ لیڈی، احباب اور اساتذہ کی باتیں کرتے رہے۔ پھر اقبال نے انھیں سفر افغانستان کے متعلق معلومات فراہم کیں۔ جب بیرن فان والتھائم جانے لگے تو اقبال نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ مصافحہ کر کے انھیں رخصت کیا۔ 

شام کی فضا میں موسم بہار کے سبب پھولوں کی مہک تھی اس لیے پلنگ خواب گاہ سے اٹھوا کر دالان میں بچھوایا اور گھنٹہ بھر کے لیے وہیں لیٹے رہے پھر جب خنکی بڑھ گئی تو پلنگ گول کمرے میں لانے کا حکم دیا۔ گول کمرے میں ساڑھے سات سالہ منیرہ آپا جان کے ساتھ ان کے پاس گئی۔ منیرہ ان کے بستر میں گھس کر ان سے لپٹ گئی اور ہنسی مذاق کی باتیں کرنے لگی۔ منیرہ عموماً دن میں دو تین بار اقبال کے کمرے میں جاتی تھی۔ صبح اسکول جانے سے پہلے، دوپہر کو اسکول سے واپس آنے پر اور شام کو سونے سے قبل۔ لیکن اس شام وہ ان کے پہلو سے نہ اٹھتی تھی۔ دو تین بار آپا جان سے انگیریزی میں کہا، اسے اس کی حس آگاہ کر رہی ہے کہ شاید باپ سے یہ آخری ملاقات ہے۔ منیرہ اور آپاجان کے اندر چلے جانے کے بعد فاطمہ بیگم، پرنسپل اسلامیہ کالج برائے خواتین گھنٹے آدھ گھنٹے کے لیے آ بیٹھیں اوران سے کالج میں درسِ قرآن کے انتظامات کے متعلق باتیں کرتی رہیں۔

رات کو آٹھ ساڑھے آٹھ بجے چوہدری محمد حسین، سید نذیر نیازی، سید سلامت اللہ شاہ، حکیم محمد حسن قرشی اور راجہ حسن اختر آگئے۔ ان ایام میں میاں محمد شفیع اور ڈاکٹر عبد القیوم تو جاوید منزل میں ہی مقیم تھے۔ اقبال کے بلغم میں ابھی تک خون آرہا تھا اور اسی بناء پر چوہدری محمد حسین نے ڈاکٹروں کے ایک بورڈ کی میٹنگ کا انتظام جاوید منزل میں کیا تھا۔ اس زمانے کے معروف ڈاکٹر کرنل امیر چند، الہٰی بخش، محمد یوسف، یار محمد، جمعیت سنگھ وغیرہ سبھی موجود تھے اور انھوں نے مل کر اقبال کا معائنہ کیا۔ گھر میں ہر کوئی ہراساں دکھائی دیتا تھا، کیوں کہ ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ اگر رات خیریت سے گزر گئی تو اگلے روز نیا طریق علاج شروع کیا جائے گا۔ کوٹھی کے صحن میں مختلف جگہوں پر اقبال کے اصحاب دو دو تین تین کی ٹولیوں میں کھڑے باہم سرگوشیاں کر رہے تھے۔ اقبال سے ڈاکٹروں کی رائے مخفی رکھی گئی، لیکن وہ بڑے تیز فہم تھے۔ احباب کا بکھرا ہوا شیرازہ دیکھ کر انھیں یقین ہو گیا تھا کہ ان کی موت کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔ چند یوم پیشتر جب کسی نے ان کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا تو فرمایا: میں موت سے نہیں ڈرتا۔ بعد ازاں اپنا یہ شعر پڑھا تھا:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کی "ڈیل" اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل


ڈونلڈ ٹرمپ کی 1987 کی مشہور زمانہ کتاب "دی آرٹ آف دی ڈیل" محض ایک کاروباری سوانح عمری نہیں بلکہ یہ ان کی اس مخصوص نفسیات کا آئینہ ہے جو ریاست کو ایک منافع بخش کارپوریشن اور سفارت کاری کو محض ایک تجارتی لین دین کے طور پر دیکھتی ہے۔ ٹرمپ صاحب کا فلسفہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریئل اسٹیٹ کی دنیا میں جو ہتھکنڈے کسی بلڈنگ کی خریداری میں کامیاب ثابت ہو سکتے ہیں، عالمی سیاست اور بالخصوص ایران جیسے پیچیدہ معاملے میں وہی طریقے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ سیاست کو کاروبار کی عینک سے دیکھنا اس لیے خطرناک ہے کیونکہ ایک تاجر کا حتمی مقصد صرف اور صرف اپنا فائدہ یا "جیت" ہوتا ہے، جبکہ ایک مدبر سیاست دان کا مقصد عالمی استحکام، انسانی جانوں کا تحفظ اور طویل مدتی امن ہوتا ہے۔

ٹرمپ صاحب کا ایران کے ساتھ مذاکرات کا انداز ان کی کتاب کے اسی فلسفے پر مبنی ہے جہاں وہ حریف کو معاشی دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے دیوار سے لگا کر اسے اپنی شرائط پر سودا کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں بحری ناکہ بندیوں کی باتیں اور تزویراتی دباؤ اسی "میکسیمم پریشر" پالیسی کا تسلسل ہیں، لیکن بین الاقوامی تعلقات میں یہ بھول جانا کہ قومیں اپنی خود مختاری اور غیرت پر سودا نہیں کرتیں، ایک بڑی سفارتی غلطی ہے۔ کاروبار میں اگر کوئی ڈیل ناکام ہو جائے تو صرف بینک بیلنس کم ہوتا ہے، لیکن عالمی سیاست میں ایک غلط قدم یا غلط فہمی پورے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہے، جس کی قیمت معصوم انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔

مائیتھوس: مصنوعی ذہانت کا نیا جن جو بوتل سے باہر آ چکا ہے!


تکنیکی دنیا میں جب بھی کوئی نئی ایجاد سامنے آتی ہے، وہ اپنے ساتھ سہولت اور خوف کے دو متضاد پہلو لے کر آتی ہے، لیکن امریکی کمپنی 'اینتھروپک' کی جانب سے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے ماڈل 'مائیتھوس' نے اس بحث کو ایک نئی اور خطرناک نہج پر لا کھڑا کیا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں مائیتھوس کو محض ایک سافٹ ویئر نہیں بلکہ ایک "ڈیجیٹل ایٹم بم" کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ مصنوعی ذہانت کی وہ نسل ہے جو خود سیکھنے اور عمل کرنے کی ایسی صلاحیت رکھتی ہے جو اس سے پہلے ناممکن سمجھی جاتی تھی۔ اسے دنیا کے پیچیدہ ترین ڈیٹا، کوڈنگ اور دفاعی نظاموں کو سمجھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، لیکن اصل تشویش مائیتھوس کے ان کاموں سے ہے جو وہ انسانی مداخلت کے بغیر کر گزرتا ہے۔

دفاعی اور تکنیکی ماہرین مائیتھوس کو ایک سنگین خطرہ اس لیے قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ پلک جھپکتے ہی سافٹ ویئر کی وہ خامیاں ڈھونڈ نکالتا ہے جن کا علم خود اس کے خالقوں کو بھی نہیں ہوتا، اور یہی صلاحیت اسے دنیا کے کسی بھی ملک کے پاور گرڈ، بینکنگ سسٹم یا دفاعی نیٹ ورک کو مفلوج کرنے کی طاقت دیتی ہے۔ اس کی ایک حیرت انگیز صلاحیت سمندروں میں ان "خفیہ جہازوں" کو ٹریس کرنا ہے جو اپنا لوکیشن سسٹم بند کر کے غیر قانونی نقل و حمل کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ اسمگلنگ روکنے کے لیے مثبت ہے، لیکن جنگی حالات میں یہ کسی بھی ملک کی بحری برتری کو سیکنڈوں میں ختم کر سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے جغرافیائی سیاست میں آبنائے ہرمز سے بھی بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔

جب انسان سب کچھ جان لے گا… !


انسان ہمیشہ سے تلاش میں رہا ہے، مگر اس کی تلاش کی نوعیت بدلتی رہی ہے۔ کبھی وہ ستاروں کو دیکھ کر حیران ہوتا تھا، کبھی سمندر کی گہرائیوں میں جھانکتا تھا، اور کبھی اپنے وجود کے بھید کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ مگر اب وہ ایک ایسے دور کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں اس کی تلاش ایک عجیب موڑ لے چکی ہے۔ اس نے اپنی عقل کو وسعت دی ہے، اپنی نگاہ کو دور تک پہنچایا ہے، اور Artificial Intelligence کے ذریعے گویا اپنی فکر کو مشینوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب علم اس کے لیے محض ایک کوشش نہیں رہا، بلکہ ایک لمحے میں حاصل ہونے والی شے بن چکا ہے۔

وہ زمانہ دور نہیں جب انسان Brain-Computer Interface کے ذریعے اپنے ذہن اور مشین کے درمیان فاصلہ ختم کر دے گا، جب Virtual Reality اس کے لیے ایک نئی “حقیقت” تخلیق کرے گی، اور Genetic Engineering اسے اپنی ہی تخلیق میں تبدیلی کا اختیار دے گی۔ بظاہر یہ سب انسان کی فتح کی داستان معلوم ہوتی ہے—ایک ایسی کامیابی جس میں اس نے فطرت کے رازوں کو کھول دیا ہے اور اپنے گرد ایک نئی دنیا تعمیر کر لی ہے۔ مگر اس چمکتی ہوئی سطح کے نیچے ایک خاموش خلا پیدا ہو رہا ہے، ایک ایسا خلا جسے نہ کوئی الگورتھم بھر سکتا ہے اور نہ کوئی ڈیٹا۔

اسلام آباد مذاکرات: قرآن مجید کا زریں اصول "وَالصُّلْحُ خَيْرٌ" اور پاکستان کا کردار

 

تحریر: ڈاکٹر ابو البشر احمد طیب

اس وقت پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں، جہاں دو بڑے حریف، امریکہ اور ایران، ایک میز پر بیٹھے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سیاسی اور سفارتی بیٹھک ہے، لیکن اگر ہم اسے اسلامی تعلیمات اور قرآنِ حکیم کے آئینے میں دیکھیں تو یہ پاکستان کی جانب سے ایک عظیم دینی فریضے کی ادائیگی ہے۔
قرآن مجید کا زریں اصول ہے: "وَالصُّلْحُ خَيْرٌ" (اور صلح بہترین چیز ہے)۔ سورۃ النساء کی یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جنگ اور تصادم کے مقابلے میں تصفیہ اور مفاہمت ہمیشہ برتر راستہ ہے۔ پاکستان نے اسی قرآنی فلسفے کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد بناتے ہوئے دو متحارب گروہوں کے درمیان "خیر" کی راہ نکالی ہے۔
اسلامی ریاست کی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآنِ کریم سورۃ الحجرات میں واضح حکم دیتا ہے:
"اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو... پھر اگر وہ رجوع کریں تو عدل کے ساتھ ان کے درمیان اصلاح کر دو۔"
اگرچہ اس تنازع میں ایک فریق غیر مسلم ہے، مگر اسلام کا "اصولِ امن" آفاقی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے "میثاقِ مدینہ" اور "صلحِ حدیبیہ" کے ذریعے دنیا کو دکھایا کہ امن کے قیام کے لیے دشمن سے بات چیت کرنا اور بظاہر مشکل شرائط پر بھی صلح کرنا کتنا بڑا اہم ہے۔ پاکستان آج اسی سنتِ نبوی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایک "پل" کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات محض سیاسی نمبر گیم نہیں ہیں، بلکہ:
  1. امت کی بقا: ایران ایک برادر اسلامی ملک ہے، اس کی سلامتی خطے کے استحکام سے جڑی ہے۔
  2. انسانیت کی خدمت: جنگ کی صورت میں کروڑوں معصوم انسان لقمہ اجل بن سکتے ہیں، اور قرآن کہتا ہے کہ "جس نے ایک انسان کی جان بچائی، اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔"
  3. ثالث کا عدل: اسلام مطالبہ کرتا ہے کہ ثالث (Mediator) غیر جانبدار اور عادل ہو۔ پاکستان اس وقت دونوں فریقین کا اعتماد جیت کر اسی "عدل" کے منصب پر فائز ہے۔
عالمی دانشور اسے ایک سیاسی کامیابی کہہ رہے ہیں، لیکن ایک مسلمان کی نظر میں یہ "اصلاح بین الناس" کی وہ کوشش ہے جس کا اجر اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے۔ اگر پاکستان ان مذاکرات کے ذریعے خطے کو جنگ کی آگ سے نکالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف سفارتی فتح ہوگی بلکہ قرآن کے حکم "والصلح خیر" کی عملی تفسیر بھی ثابت ہوگی۔
آج اسلام آباد سے اٹھنے والی امن کی یہ آواز دراصل اس قرآنی پیغام کی گونج ہے کہ انسانیت کی بقا جنگ میں نہیں، بلکہ مکالمے اور صلح میں ہے۔

تعلیمِ دین کا نیا افق — قرآن، سیرت اور عربی پر مبنی بارہ سالہ جامع نصاب کی ضرورت

مسلم معاشروں کا ایک بنیادی المیہ یہ ہے کہ دینِ اسلام، جو اپنی اصل میں ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، تعلیمی میدان میں ایک مربوط اور جامع نظام کی صورت میں موجود نہیں۔ ہم نے دین کو یا تو چند رسومات تک محدود کر دیا ہے یا اسے جزوی علوم میں تقسیم کر کے اس کی وحدت کو کھو دیا ہے۔ نتیجتاً نئی نسل قرآن سے بھی پوری طرح وابستہ نہیں، سیرتِ نبوی ﷺ سے بھی گہرا تعلق نہیں رکھتی، اور عربی زبان—جو دین کی اصل کلید ہے—سے بھی ناواقف ہے۔

یہی وہ خلا ہے جسے پر کرنے کے لیے ایک بارہ سالہ جامع نصاب کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے—ایسا نصاب جو کلاس 1 سے کلاس 12 تک طلبہ کو تدریج، تسلسل اور فکری ارتقاء کے ساتھ دین کے اصل مصادر یعنی قرآن اور سنت و حدیث سے جوڑ دے، اور ساتھ ہی انہیں عربی زبان میں اس درجہ مہارت دے کہ وہ دین کو براہِ راست سمجھ سکیں۔

دین کا اصل ماخذ: نصاب کی بنیاد

یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ دین اسلام کے دو ہی بنیادی مصادر ہیں:

  1. قرآن مجید — اللہ کی آخری وحی
  2. سنتِ رسول ﷺ — قرآن کی عملی تفسیر

لیکن ہمارے موجودہ تعلیمی ڈھانچے میں ان دونوں کو الگ الگ، جزوی اور غیر مربوط انداز میں پڑھایا جاتا ہے۔ کہیں صرف ناظرہ قرآن ہے، کہیں ترجمہ، کہیں چند احادیث، اور کہیں سیرت کے واقعات—مگر ایک مربوط فکری نظام مفقود ہے۔

اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ نصاب کی بنیاد ہی ان دو مصادر پر رکھی جائے، اور ہر مضمون، ہر سبق اور ہر مرحلہ انہی کے گرد گھومے۔

بارہ سالہ نصاب: ایک تدریجی فکری سفر

یہ نصاب محض معلومات کی فراہمی نہیں ہوگا بلکہ ایک فکری و روحانی تربیت کا مکمل نظام ہوگا، جسے تین بڑے مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

کیا مصنوعی ذہانت(AI) ) دین کی تعبیر کر سکتی ہے؟

ڈاکٹر ابوالبشر احمد طیب

دنیا ایک نئی فکری کروٹ لے رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) نے علم، تحقیق، تدریس اور ابلاغ کے میدان میں حیرت انگیز سہولتیں پیدا کر دی ہیں۔ اب چند لمحوں میں وہ معلومات حاصل ہو جاتی ہیں جن کے لیے پہلے گھنٹوں بلکہ دنوں کی محنت درکار ہوتی تھی۔ لیکن جہاں یہ سہولت ایک نعمت ہے، وہیں دینِ اسلام—خصوصاً قرآنِ مجید—کے فہم و تعبیر کے میدان میں اس کا استعمال ایک نہایت حساس اور سنجیدہ سوال کو جنم دیتا ہے۔

قرآن محض ایک کتاب نہیں، بلکہ وحیِ الٰہی ہے—اللہ کا کلام، جو انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا۔ اس کی تعبیر و تشریح کوئی سادہ علمی عمل نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ فکری و روحانی کاوش ہے، جس کے لیے صدیوں سے مفسرین نے اصول وضع کیے، علومِ قرآن کی بنیاد رکھی، اور اپنی زندگیاں صرف کیں۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ کیا ایک مشینی نظام، جسے انسانوں نے معلومات فراہم کی ہیں، اس مقدس متن کی صحیح تعبیر کر سکتا ہے؟

یہاں اصل نکتہ سمجھنے کا ہے: مصنوعی ذہانت خود کوئی “عالم” نہیں، بلکہ ایک “آلہ” ہے۔ یہ وہی کچھ بیان کرتی ہے جو اسے سکھایا گیا ہو۔ اس کے پاس نہ شعور ہے، نہ فہمِ وحی، نہ تقویٰ، اور نہ وہ ذمہ داری کا وہ احساس جو ایک عالمِ دین کے دل میں ہوتا ہے۔ وہ صرف الفاظ کو جوڑتی ہے، مفاہیم کو ترتیب دیتی ہے، اور دستیاب مواد کی بنیاد پر جواب دیتی ہے۔ مگر دین کا فہم صرف الفاظ کا کھیل نہیں؛ یہ سیاق و سباق، شانِ نزول، لغوی باریکیوں، اور پورے دینی نظام کے تناظر سے جڑا ہوا ہے۔

اسلامی مالیات کیوں اہم ہے؟

پاکستان کے بینکاری نظام کو مکمل طور پر اسلامی (شریعہ کمپلائنٹ) بنانے کا ہدف ملک کی معاشی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اکتوبر 2024 میں منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم کے تحت پاکستان کے تمام مالیاتی اداروں سے سود (ربا) کے خاتمے کے لیے یکم جنوری 2028 کی حتمی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ اس سے قبل آئین میں "جلد از جلد" کے الفاظ درج تھے، جنہیں اب ایک واضح تاریخ سے بدل دیا گیا ہے۔
یہ اقدام اپریل 2022 میں فیڈرل شریعت کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے جس میں حکومت کو پانچ سال کے اندر سود سے پاک بینکاری نظام رائج کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے "Vision 2028" کے نام سے ایک اسٹرٹیجک پلان تیار کیا ہے، جس کا مقصد روایتی بینکاری کو بتدریج شریعہ کے مطابق ڈھالنا ہے۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسلامی بینکاری کے اثاثے 14.47 ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں، جو مجموعی بینکاری صنعت کا تقریباً 23 فیصد ہیں۔
فیصل بینک جیسے بڑے اداروں نے خود کو مکمل طور پر اسلامی بینک میں تبدیل کر لیا ہے، جو عالمی سطح پر ایک بڑی مثال ہے۔
عسکری بینک جیسے دیگر بینک بھی اپنی تمام شاخوں کو شریعہ کمپلائنٹ بنانے کے عمل کو تیز کر رہے ہیں۔
لیکن اس مکمل منتقلی میں سب سے بڑی رکاوٹیں سرکاری قرضوں (Government Debt) کو شریعہ کے مطابق بنانا، بین الاقوامی مالیاتی اداروں (جیسے IMF) کے ساتھ لین دین، اور تمام بینکنگ اسٹاف کی تربیت ہے۔

اس بارے میں مزید تفصیل درج ذیل ویڈیو سے جان سکتے ہیں ۔



 

بانٹنے والے اور سمیٹنے والے: دو متضاد طرزِ زندگی

کسی بھی معاشرے کی کوکھ سے دو متضاد رویے جنم لیتے ہیں جو انسانی ترجیحات اور زندگی کے مقصد کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ درویش صفت لوگ ہیں جنہیں قدرت نے شہرت، دولت اور اثر و رسوخ سے نوازا تو انہوں نے اسے اپنی ذات کے حصار میں قید کرنے کے بجائے انسانیت کی فلاح کے لیے وقف کر دیا۔ عبدالستار ایدھی کی سادہ زندگی سے لے کر ڈاکٹر امجد ثاقب کی "مواخات" تک، اور مولانا بشیر فاروق قادری کی دسترخوانوں سے لے کر ریحان اللہ والا کی ڈیجیٹل تعلیم اور قاسم علی شاہ کی فکری آبیاری تک، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زندگی کا مفہوم "لینے" کے بجائے "دینے" میں تلاش کیا۔ ان کے نزدیک کامیابی کا معیار بینک بیلنس نہیں بلکہ ان چہروں کی مسکراہٹ ہے جنہیں ان کی وجہ سے جینے کی امید ملی۔ دوسری جانب ایک ایسا طبقہ ہے جس کے پاس وسائل کی ریل پیل تو ہے لیکن ان کی تمام تر جدوجہد اپنی ذات کی نمائش، عیش و عشرت اور وقتی لذتوں تک محدود ہے۔ چاہے وہ شوبز کے ستارے ہوں، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے سیاستدان ہوں یا وہ اشرافیہ جو اپنی دولت کا بڑا حصہ مہنگی گاڑیوں اور نمود و نمائش پر لٹاتی ہے، ان کی زندگی کا کینوس اپنی ذات سے شروع ہو کر اپنی ہی ذات پر ختم ہو جاتا ہے۔

قومی ترقی و تعمیر میں اتحاد کی ضرورت اور قرآنی نقطہ نظر

پاکستان کی پچھتر سالہ تاریخ کا شور و غوغا اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ ہم نے جتنا نقصان بیرونی خطرات سے نہیں اٹھایا، اس سے کہیں زیادہ زخم ہمیں داخلی خلفشار، سیاسی محاذ آرائی اور مذہبی فرقہ واریت نے دیے ہیں۔ ان اختلافات نے نہ صرف ہماری سماجی بنیادوں کو کھوکھلا کیا بلکہ قوم کے اس نصب العین کو بھی دھندلا دیا جس کی خاطر لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا تھا۔ قرآنِ کریم نے اتحاد کے اسی سنہری اصول کو انسانیت کی بقا اور کامیابی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا" (ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو)۔
اتحاد کی ضرورت اور قرآنی نقطہ نظر

یہ الٰہی حکم ہمیں بتاتا ہے کہ کسی بھی گروہ یا معاشرے کی طاقت اس کے اتفاق میں پوشیدہ ہے، جبکہ اختلاف انتشار زوال اور کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ آج ہم جس زوال کا شکار ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ وہ فکری اور نظریاتی بکھراؤ ہے جس نے ہمیں ایک متحد قوم کے بجائے مختلف گروہوں اور فرقوں میں تقسیم کر دیا ہے، حالانکہ قرآن نے ہمیں واضح طور پر ایک امت بن کر رہنے کا درس دیا تھا۔

موجودہ پاکستان کی سیاسی، معاشرتی اور معاشی اصلاح کے لیے اس وقت ایسے قد آور لیڈر کی ضرورت ہے جو محض اقتدار کا بھوکا نہ ہو بلکہ ایک سچا مصلح ہو۔ میری نظر میں موجودہ عہد کا سب سے بڑا لیڈر وہی کہلانے کا حقدار ہوگا جو قوم کے سیاسی اور مذہبی اربابِ اختیار کو ایک دسترخوان پر بٹھا کر انہیں قومی مفاد کے ایک نکتے پر متحد کر لے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن نامکن نہیں، کیونکہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قیامِ پاکستان سے پہلے بھی حالات کچھ مختلف نہ تھے۔ اس وقت بھی برصغیر کے مسلمان مسلکی، لسانی اور سیاسی تقسیم کا شکار تھے، لیکن پھر ایک 'میرِ کارواں' نمودار ہوا جس نے اپنی بے داغ شخصیت اور اخلاص سے منتشر گروہوں کو قرآن کے بتائے ہوئے 'بنیان مرصوص' (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) کے تصور کے تحت ایک لڑی میں پرو دیا۔