شوپن ہاور اور فلسفہ قنوطیت

آرتھر شوپن ہاؤر (Arthur Schopenhauer) (1788–1860) انیسویں صدی کے ایک ممتاز مگر قنوطی (Pessimistic) جرمن فلسفی تھے، جن کے افکار پر یورپ کے سیاسی اور سماجی انتشار کے گہرے اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ انقلابِ فرانس اور نپولین کی جنگوں نے پورے یورپ کو بے یقینی، قتل و غارت اور مایوسی کی فضا میں دھکیل دیا تھا۔ نوجوان نسل کے خواب بکھر چکے تھے؛ کہیں فنکار اور ادیب ناامیدی کا شکار تھے، کہیں مفکرین فطرت، ماضی یا تخیلات میں پناہ تلاش کر رہے تھے۔ اسی ماحول نے شوپن ہاؤر کے اس فلسفے کو جنم دیا جس میں زندگی ایک ایسی جدوجہد نظر آتی ہے جو دکھ، بے معنویت اور مسلسل خواہشات سے عبارت ہے۔
شوپن ہاؤر

شوپن ہاؤر نے اپنے بنیادی نظریات شہرۂ آفاق کتاب “The World as Will and Idea” (جسے عموماً “The World as Will and Representation” بھی کہا جاتا ہے) میں پیش کیے۔ ان کے نزدیک کائنات کی اصل حقیقت “ارادہ” ہے—ایک اندھی قوت جو انسان کو مسلسل خواہشات میں مبتلا رکھتی ہے اور یوں مکمل سکون کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ اسی سبب وہ زندگی کو بنیادی طور پر تکلیف دہ اور غیر مطمئن سمجھتے تھے۔

ان کی ولادت 22 فروری 1788ء کو جرمن شہر ڈانزگ میں ہوئی۔ ان کے والد ایک مالدار تاجر تھے، جو تیز مزاج مگر آزادی پسند انسان کے طور پر معروف تھے۔ جب ڈانزگ پر غیر ملکی تسلط قائم ہوا تو اس خوددار خاندان نے شہر چھوڑ دیا۔ کچھ عرصے بعد ان کے والد کا انتقال ہوگیا، جس نے شوپن ہاؤر کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس مزید گہرا کر دیا۔ ان کی والدہ ایک معروف ناول نگار تھیں، مگر ماں بیٹے کے تعلقات خوشگوار نہ رہے اور بالآخر دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ روایت ہے کہ جدائی کے وقت شوپن ہاؤر نے کہا کہ “آنے والا زمانہ تمہیں میری وجہ سے پہچانے گا”، اور جرمن شاعر و مفکر گوئٹے نے بھی اس بات کی تائید کی۔

شوپن ہاؤر کی ذاتی زندگی میں تنہائی ایک مستقل سایے کی طرح موجود رہی۔ نہ ان کے سر پر باپ کا سایہ رہا، نہ ماں سے قلبی تعلق قائم ہو سکا، اور نہ ہی انہوں نے شادی کی یا اولاد ہوئی۔ یہی شدید تنہائی اور باطنی کرب ان کے فلسفے میں جھلکتا ہے، جہاں انسان ایک ایسے مسافر کے طور پر دکھائی دیتا ہے جو خواہشات کے صحرا میں بھٹکتا رہتا ہے۔

عظیم سرمایہ کاروں کا فلسفہ: دولت کی تخلیق اور مارکیٹ کی نفسیات

 


دنیا کے عظیم ترین سرمایہ کاروں کی حکمت عملیوں اور ان کے مالیاتی فلسفے پر مبنی ایک جامع مضمون درج ذیل ہے:

اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں جن سرمایہ کاروں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی، ان کے پیچھے محض اتفاق یا خوش قسمتی نہیں، بلکہ ایک گہرا مالیاتی فلسفہ اور نظم و ضبط کارفرما تھا۔ اگر ہم دنیا کے دس مشہور سرمایہ کاروں، جیسے وارن بفٹ، بینجمن گراہم، پیٹر لنچ اور جان بوگل کی حکمت عملیوں کا مجموعی جائزہ لیں، تو چند بنیادی اصول ابھر کر سامنے آتے ہیں جو کسی بھی دور میں سرمایہ کاری کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
1. قدر کی تلاش (Value Investing) اور تحفظ کا مارجن
اسٹاک مارکیٹ کے فلسفے کی سب سے مضبوط بنیاد "ویلیو انویسٹنگ" ہے، جس کے بانی بینجمن گراہم تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اسٹاک محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک زندہ کاروبار کا حصہ ہے۔ ان کا مشہور فلسفہ "Margin of Safety" یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی حصص کو اس کی اصل قیمت (Intrinsic Value) سے بہت کم قیمت پر خریدنا چاہیے تاکہ نقصان کا خطرہ کم سے کم ہو۔ وارن بفٹ نے اسی نظریے کو اپنایا اور یہ ثابت کیا کہ "قیمت وہ ہے جو آپ ادا کرتے ہیں، اور قدر وہ ہے جو آپ حاصل کرتے ہیں۔"

آبنائے ہرمز: طاقت کا مظاہرہ یا عالمی توازن کا امتحان


آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست اور بین الاقوامی کشیدگی کے مرکز میں آ کھڑی ہوئی ہے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حساس سمندری گزرگاہ میں جنگی مشقیں کی جائیں گی۔ اسی تناظر میں عالمی خبر رساں اداروں نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ایران نے شپنگ کمپنیوں کو باضابطہ نوٹس جاری کر کے آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیاں متوقع ہیں۔ اگرچہ بعض غیر مصدقہ ذرائع روس اور چین کی ممکنہ شمولیت کا ذکر کر رہے ہیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس کی تاحال کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس خاموشی نے خود اس اعلان کو مزید معنی خیز بنا دیا ہے۔

یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکہ کے تعلقات ایک بار پھر شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ جوہری معاہدے کے تعطل، امریکی پابندیوں، خطے میں امریکی بحری موجودگی اور اسرائیل-غزہ جنگ کے اثرات نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نازک مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے خلیج اور اس کے اطراف میں بحری بیڑوں کی موجودگی ایران کے لیے محض ایک عسکری چیلنج نہیں بلکہ ایک مسلسل سیاسی دباؤ بھی ہے۔ ایسے ماحول میں آبنائے ہرمز میں جنگی مشقوں کا اعلان دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے کے مقابلے کے لیے تیار ہے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو آمادہ نہیں۔

نئے عالمی اتحاد اور امریکی پسپائی


بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بڑی طاقتوں کے فیصلے محض وقتی ردِعمل نہیں ہوتے، بلکہ وہ ماضی کے تجربات اور مستقبل کے خدشات کے امتزاج سے جنم لیتے ہیں۔ آج عالمی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکہ، جو کبھی واحد سپر پاور کے طور پر دنیا کی سمت متعین کرتا تھا، اب اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کر رہا ہے۔ دوسری جانب چین، روس، یورپی یونین، ہندوستان اور متعدد علاقائی قوتیں ایک نئے کثیر قطبی نظام کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔

یہ کہنا سادہ لوحی ہوگا کہ امریکہ عالمی سیاست سے مکمل طور پر دستبردار ہو رہا ہے۔ درحقیقت ماہرین کے مطابق یہ ایک اسٹریٹجک ری ایڈجسٹمنٹ ہے، نہ کہ مکمل انخلا۔

معاشی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ امریکہ کو چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے صنعتی اور تکنیکی اثر و رسوخ کا سامنا ہے۔ اس چیلنج کے پیشِ نظر امریکی پالیسی ساز اب بیرونی مداخلت کے بجائے انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور مینوفیکچرنگ کی بحالی کو قومی سلامتی سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

عالمی نظام کی نئی کروٹ: کیا امریکی بالادستی کا دور ختم ہو چکا ہے؟

اکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں کے اختتام اور تیسرے عشرے کے نصف میں داخل ہونے کے ساتھ ہی، بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اور دانشور اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ عالمی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ نے "واحد سپر پاور" کے طور پر جو حیثیت حاصل کی تھی، اب وہ بتدریج کمزور پڑ رہی ہے اور دنیا ایک زیادہ پیچیدہ، کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔

 اس تبدیلی کی کئی واضح نشانیاں موجود ہیں، یورپی ممالک، خاص طور پر یورپی یونین (EU)، اب امریکی پالیسیوں کی آنکھ بند کر کے پیروی کرنے کے بجائے اپنی اسٹریٹجک خودمختاری (strategic autonomy) پر زور دے رہے ہیں۔ اس کی ایک حالیہ مثال یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ہونے والا تاریخی آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) ہے، جسے "تمام معاہدوں کی ماں" قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ سابق صدر ٹرمپ کی "امریکہ سب سے پہلے" پالیسی کے تحت بھارت پر ٹیرف بڑھا رہا تھا۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ یورپ اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے واشنگٹن سے ہٹ کر فیصلے کرنے پر آمادہ ہے۔

چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ: کینیڈا اور کئی دیگر یورپی ممالک نے چین کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سیاسی روابط کو مضبوط کیا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم کی جانب سے حال ہی میں چین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں پیش رفت کو "زیادہ پیش قیاسی کے قابل" قرار دینا، امریکی دباؤ کے باوجود اقتصادی حقیقت پسندی کو ظاہر کرتا ہے۔ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت اور اس کے عالمی تجارتی حجم نے دنیا کے دیگر ممالک کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ امریکی دائرہ اثر سے باہر نکل کر بھی اہم شراکت داریاں قائم کر سکتے ہیں۔

نیکی کا معیار اور مسلم دنیا کی گمشدہ روح

سورۃ البقرہ کی آیت 177 قرآن مجید کی اُن جامع ترین آیات میں سے ہے جو دین کو محض عبادات، ظاہری علامات اور سمتوں تک محدود کرنے کے بجائے ایک مکمل فکری، اخلاقی، سماجی اور معاشی نظام کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ آیت اُس پس منظر میں نازل ہوئی جب قبلہ کی تبدیلی کو بنیاد بنا کر دین کی اصل روح کو پس منظر میں دھکیلا جا رہا تھا۔ قرآن نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ نیکی مشرق و مغرب کی طرف رخ کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ، آخرت، وحی اور نبوت پر ایمان، اس ایمان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سماجی احساس، مالی ایثار، اخلاقی دیانت اور مشکل حالات میں ثابت قدمی کا نام ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے آج کی مسلم دنیا کا بحران سمجھ میں آتا ہے۔

آج کی مسلم ریاستیں کاغذوں میں اسلامی ہیں، آئین میں اسلام درج ہے، جمعے کی تعطیل ہے، مساجد آباد ہیں، مگر ریاستی سطح پر عدل ناپید، امانت مفقود اور جواب دہی کا تصور کمزور ہے۔ اقتدار کو غنیمت، وسائل کو ذاتی ملکیت اور عوام کو محض رعایا سمجھا جاتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمان محض عقیدہ نہیں بلکہ وہ اخلاقی قوت ہے جو حکمران کو ظالم بننے سے روکتی ہے، اداروں کو دیانت سکھاتی ہے اور ریاست کو عوام کی خدمت پر مجبور کرتی ہے۔ جہاں عدل نہ ہو وہاں قبلہ درست ہونے کے باوجود نیکی کا دعویٰ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔

اسی آیت میں نیکی کا دوسرا بڑا معیار مال کا درست مصرف ہے۔ قرآن رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور محروم طبقات کا ذکر کر کے دراصل ایک معاشی فلسفہ پیش کرتا ہے، جس کی بنیاد دولت کی گردش اور سماجی توازن پر ہے۔ مگر آج مسلم معاشروں میں دولت چند خاندانوں اور طبقوں میں سمٹ چکی ہے، جبکہ اکثریت مہنگائی، بے روزگاری اور قرض کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ زکوٰۃ موجود ہے مگر نظام نہیں، صدقات ہیں مگر ریاستی سطح پر سماجی انصاف کا کوئی مضبوط ڈھانچہ نظر نہیں آتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ عبادت گاہوں کے سائے میں بھوک، افلاس اور محرومی پل رہی ہے، جو قرآن کے تصورِ نیکی سے صریح انحراف ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم (WEF) 2026: مکالمے کی روح یا عالمی تضادات کی نمائش؟

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں 19 سے 23 جنوری 2026 تک منعقد ہونے والا ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کا 56 واں سالانہ اجلاس بظاہر ایک نہایت خوش آئند نعرے—“مکالمے کی روح” (A Spirit of Dialogue)—کے ساتھ عالمی رہنماؤں، کارپوریٹ ایگزیکٹوز اور پالیسی سازوں کو ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ عالمی حالات میں یہ روح واقعی سانس لے سکتی ہے، یا یہ محض ایک خوش نما تصور بن کر رہ گئی ہے؟

دنیا اس وقت جس شدت کے سیاسی، عسکری اور معاشی خلفشار سے گزر رہی ہے، اس کے تناظر میں ڈیووس کے بلند بانگ مقاصد حقیقت سے زیادہ خواہشات کا عکس دکھائی دیتے ہیں۔

فورم کے پروگرام کو پانچ بڑے عالمی چیلنجوں کے گرد ترتیب دیا گیا، جن میں بلاشبہ انسانی مستقبل سے جڑے بنیادی سوالات شامل تھے۔

جغرافیائی کشیدگی کے باوجود تعاون، معاشی ترقی کے نئے ذرائع، انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیز کا ذمہ دارانہ استعمال، اور ماحولیاتی حدود کے اندر خوشحالی—یہ سب ایسے موضوعات ہیں جن پر عالمی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔

پردے کے اُس پار۔۔۔۔

وہ دروازہ جسے کھولا نہیں گیا— بس دکھا دیا گیا۔ فضا رک سی گئی۔ آگ نظر نہ آتی تھی، مگر اس کی موجودگی روح پر وزن بن کر اتر رہی تھی۔

یہاں کوئی اعلان نہ تھا، کوئی شور نہیں— صرف انجام اپنی پوری سچائی کے ساتھ موجود تھا۔

پہلے وہ لوگ دکھائی دیے جن کی زبانیں ان کے وجود سے الگ ہو کر لٹک رہی تھیں۔

وہ بول نہیں رہے تھے، کیونکہ ان کے لفظ اب ان کے خلاف گواہی بن چکے تھے۔

ان کے چہرے مانوس تھے— جیسے وہ زمین پر ہر روز ملتے ہوں۔

پھر ایک اور گروہ نظر آیا— پیٹوں میں بوجھ بھرے، ہاتھوں میں وہی کچھ اٹھائے جو وہ دنیا میں جمع کرتے رہے تھے۔

وہ کھا رہے تھے، اور وہی اندر آگ بن جاتا تھا۔
کوئی ان پر ظلم نہ کر رہا تھا—وہ خود اپنے عمل میں قید تھے۔

ذرا آگےایک اور منظر تھا— جہاں آگ نہیں، شرمندگی جل رہی تھی۔

نگاہیں جھکی ہوئی، جسم بے ترتیب، قربت بھی عذاب بن چکی تھی۔

یہ وہ تھے جنہوں نے حد کو بوجھ سمجھا، اور خواہش کو قانون۔

پھر چند اور چہرے اجمال میں دکھائے گئے—کسی کے سرپتھروں سے کچلے جا رہے تھے
کیونکہ سجدہ ان پر بھاری تھا۔

کسی کے ہونٹوں میں انگارے ڈالے جا رہے تھے کیونکہ وہ کمزور کا حق نگل گئے تھے۔

کسی کے سامنے پاک گوشت رکھا تھا، مگر وہ سڑا ہوا چن رہے تھے— کیونکہ عادت ذوق بن چکی تھی۔

یہ سب ناموں کے بغیر تھا، کیونکہ یہاں نام نہیں کردار بولتے تھے۔

اور اس سب کے سامنے نبی ﷺ کھڑے تھے— نہ فیصلے سناتے ہوئے، نہ سوال اٹھاتے ہوئے—صرف گواہ۔

یہ سب اندر جانے کے لیے نہیں تھا، بلکہ زمین پر رک جانے کے لیے تھا۔

دروازہ بند رہا، مگر پیغام کھل چکا تھا— کہ جہنم اچانک نہیں آتی، وہ انسان کے ساتھ آہستہ آہستہ تیار ہوتی ہے۔

اور جو وقت پر رک جائے— اس کے لیے یہ سب صرف ایک منظر رہتا ہے۔

زندگی کیوں؟ — قرآنی فلسفۂ حیات اور جدید نوجوان کا فکری بحران

آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں آنکھ کھولتا ہے جہاں سب کچھ ہے، مگر زندگی کا جواب نہیں۔ اس کے ہاتھ میں موبائل ہے، ذہن میں معلومات کا سمندر ہے، مگر دل میں یہ سوال مستقل سر اٹھائے کھڑا ہے کہ آخر یہ سب کس لیے ہے؟ تعلیم، نوکری، کامیابی، محبت، آزادی — سب ہیں، مگر ان سب کے پیچھے کوئی واضح مقصد دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وہ فکری بحران ہے جس نے جدید انسان، خصوصاً نوجوان نسل کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔

جدید مادی اور الحادی فلسفۂ حیات نوجوان کو یہ بتاتا ہے کہ کائنات کسی منصوبے کا نتیجہ نہیں، زندگی ایک حادثہ ہے، اور انسان محض ارتقائی عمل کی پیداوار ہے۔ ایسے میں زندگی کا مقصد خود انسان کو گھڑنا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جو وجود خود بے مقصد ہو، وہ مقصد کہاں سے تراشے؟ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے نام پر بے سمتی، اور خود اختیاری کے نام پر ذہنی انتشار بڑھتا جا رہا ہے۔

قرآن اس فکری تاریکی میں زندگی کی ایک بالکل مختلف تعبیر پیش کرتا ہے۔ وہ انسان کو یہ نہیں کہتا کہ تم خود ساختہ وجود ہو، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ تم ارادۂ الٰہی کے تحت وجود میں آئے ہو۔ تمہاری زندگی کھیل یا اتفاق نہیں، بلکہ ایک امتحان ہے۔ یہاں ہر قدم، ہر نیت اور ہر جدوجہد معنی رکھتی ہے۔ یہی تصور انسان کے وجود کو وزن، وقار اور سمت عطا کرتا ہے۔

سورۂ الاسراء کی آیات (18 تا 21) میں قرآن نہایت سادہ مگر فیصلہ کن انداز میں دو طرزِ حیات سامنے رکھتا ہے۔ ایک وہ جو صرف العاجلہ کا طالب ہے، یعنی فوری فائدہ، فوری لذت اور فوری کامیابی۔ ایسا انسان بھی دنیا میں کچھ حاصل کر لیتا ہے، مگر قرآن واضح کر دیتا ہے کہ یہ عطا نہ مکمل ہے، نہ مستقل، اور نہ ہی کسی قدر و قیمت کی ضمانت۔ دوسری طرف وہ شخص ہے جو آخرت کو مقصد بنا کر جیتا ہے، ایمان کے ساتھ جدوجہد کرتا ہے، اور جس کی محنت کو خود اللہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہاں کامیابی کا معیار بدل جاتا ہے۔

"طاقت کے بل پر" چلنے والی دنیا اور امریکہ، چین اور روس کے درمیان غلبہ حاصل کرنے کی دوڑ

انتھنی زرچر، لورا بکر اور واٹیلی شوچنکو
عہدہ,بی بی سی 17 جنوری 2026


امریکی فورسز کی جانب سے کاراکس میں وینزویلا کے معزول صدر مادورو کو پکڑنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ’آج کے بعد مغربی کرہ میں امریکی برتری پر کوئی بھی سوال نہیں اٹھائے گا۔‘

اور ایسے میں جب ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن کی طاقت کا دعویٰ کر رہے ہیں، روس اور چین بھی اپنا حلقہ اثر پھیلانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کئی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ تینوں ممالک ایک نیا عالمی نظام (گلوبل آرڈر) لانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا یورپ اور دیگر عالمی طاقتوں پر گہرا اثر پڑے گا۔

اس مضمون میں ہم یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیسے امریکہ، چین اور روس نہ صرف اپنے ہمسایوں بلکہ اپنی سرحدوں سے کہیں دور واقع ممالک پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے فوجی، معاشی اور سیاسی ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔

امریکہ دنیا کو ’اپنی طاقت کے بل پر چلانا چاہتا ہے‘


ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی حکمت عملیوں کو ایک نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہے جس کا محور مغربی کرہ ہے۔

ٹرمپ کی یہ حکمتِ عملی ڈیموکریٹ اور ریپبلکن دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے حالیہ امریکی صدور سے یکسر مختلف ہے، جنھوں نے امریکی طاقت اور اختیار کے بارے میں زیادہ عالمی نظریہ اپنایا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کے مطابق یہ ایسی خارجہ پالیسی ہے جو ’سب سے پہلے امریکہ‘ کے نظریے کے گرد گھومتی ہے اور یہ ایسے مسائل پر زیادہ توجہ دیتی ہے جن سے امریکی عوام براہِ راست متاثر ہوتے ہیں، جیسے کہ امیگریشن، جرائم اور منشیات کی سمگلنگ۔

حال ہی میں ٹرمپ کے سینیئر مشیر سٹیفن ملر نے کہا ہے کہ یہ ایک ایسی دنیا ہے جو کہ طاقت کے بل پر چلتی ہے۔ ان کے اِس بیان کا موازنہ ہنری کسنجر اور رچرڈ نکسن کی 1960 اور 1970 کی دہائی کی عملی، غیر نظریاتی خارجہ پالیسی سے کی جا سکتا ہے۔