(نوٹ : "بریدِ فرنگ" علامہ سید سلیمان ندوی ؒ کے ان تاریخی خطوط کا مجموعہ ہے جو انہوں نے 1920ء میں تحریکِ خلافت کے وفد کے رکن کی حیثیت سے یورپ (انگلستان اور فرانس) کے سفر کے دوران ہندوستان میں اپنے رفقاء، خاص طور پر دار المصنفین اعظم گڑھ کے ساتھیوں کو لکھے تھے۔ فارسی میں "برید" کے معنی ڈاک یا قاصد کے ہیں، اس لیے فرنگ (یورپ) سے بھیجی گئی اس علمی و سیاسی ڈاک کو "بریدِ فرنگ" کا نام دیا گیا۔ ان مکتوبات میں جنگِ عظیم اول کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کی بقا اور اسلامی مقاماتِ مقدسہ کے تحفظ کے لیے کی جانے والی سفارتی جدوجہد، برطانوی حکام سے ملاقاتوں کے احوال، اور وفد کی سرگرمیوں کو نہایت تفصیل سے قلمبند کیا گیا ہے۔ سید سلیمان ندوی نے ایک حساس عالمِ دین اور گہرے مبصر کی نظر سے یورپی طرزِ تمدن اور وہاں کے معاشرے کا تنقیدی مشاہدہ کرنے کے ساتھ ساتھ خطوط میں دار المصنفین کے علمی کاموں اور رسالہ "معارف" کی اشاعت سے متعلق ہدایات بھی شامل کی ہیں۔ اپنے سادہ، سلیس اور دلکش اسلوب کی وجہ سے یہ مجموعہ محض روایتی خطوط نہیں بلکہ ایک تاریخی سفرنامے اور ڈائری کی حیثیت رکھتا ہے، جو بیسویں صدی کے آغاز میں مسلم بیداری، بین الاقوامی سیاست اور ہندوستانی مسلمانوں کی ملی تڑپ کا ایک گراں قدر تاریخی اور ادبی دستاویز ہے۔ یہاں اس مجموعہ خطوط کا پس منظر پیش خدمت ہے جومصنف نے لکھا ہے )
آج ۱۹۵۱ء ہے، آج سے بتیس برس پہلے ۱۹۲۰ء تھا، ہماری کہانی اسی سال کی دُنیا سے تعلق رکھتی ہے، جب ۱۹۱۴ء، ۱۹۱۸ء والی جنگِ عظیم ختم ہو چکی تھی، اور ایران سے لے کرتھریس ( تونس) تک ساری دنیائے اسلام اتحادیوں کے ہاتھوں پامال ہو رہی تھی۔
۱۸۵۷ء کے بعد مسلمانوں کی سیاسی بیداری کا آغاز ۱۹۰۱ء سے شروع ہوتا ہے بوڑھوں میں اس کے پہلے محرک سرسید کے رفقائے
خاص میں سے ان کے جانشین دوم و قارالملک اور نوجوانوں میں پٹنہ کے مشہور بیرسٹر
مظہرالحق تھے، دونوں نے مل کر جیسا کہ مظہرالحق صاحب مرحوم نے مجھ سے کہا مسلم لیگ
کا خاکہ تیار کیا اور ۱۹۰۶ء میں مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے
اجلاس کے ساتھ ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ خان کی قیادت میں اس کے مستقل وجود کا
اعلان کیا گیا، یہ ملکی سیاست کے میدان میں مسلمانوں کا سب سے پہلا قدم تھا۔ اُس
کے بعد اسی کانفرنس کے ساتھ اس کے رو کے پھیکے جلسے سال بسال ہونے لگے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو ملکی سیاست سے دلآویزی پیدا نہیں ہوتی تھی اور اس کی کھلی وجہ یہ تھی کہ ان کو صاف نظر آتا تھا کہ آج کل کے اصول سیاست او ںظام جمہوریت کے مطابق جو حکومت بھی ہندوستان میں قائم ہوگی اس میں مسلمانوں کی حیثیت محکومانہ ہوگی اور زیادہ سے زیادہ جو مسلمان کر سکتے تھے وہ یہ تھا کہ ملازمتوں میں استحقاق کے مطابق اور کونسلوں کی ممبریوں میں کچھ استحقاق سے زیادہ جگہ حاصل کرلیں اور یہی اس زمانہ کے مسلم لیگ کی سیاست تھی۔ عام مسلمانوں کو اس سیاست سے کچھ زیادہ دلچسپی نہ تھی بلکہ ان کی تمام تر دلچسپیاں بین الاقوامی سیاست میں خلافتِ عثمانیہ میں تھیں جس سے مسلمان دنیا میں اپنی ملی عزت و احترام کو وابستہ سمجھتے تھے، اور جو سلطانِ حرمین محترمین کا خادم اور اسلامی مقاماتِ مقدسہ کا محافظ تھا۔




