برصغیر کی تعلیمی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ یہاں کے مسلم اہلِ فکر نے ہر دور میں بدلتے ہوئے حالات کے مقابلے کے لیے تعلیمی میدان میں نئی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ کبھی جدید مغربی علوم کے ساتھ ہم آہنگی کا تجربہ ہوا، کبھی روایت کے تحفظ کے ساتھ اصلاح کا منصوبہ سامنے آیا، اور کبھی دینی مدارس کی ساخت کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اس سب کے باوجود آج بھی امت مسلمہ ایک ایسے تعلیمی بحران سے دوچار ہے جو محض نصاب یا اداروں کی تبدیلی سے حل ہوتا نظر نہیں آتا۔
اس صورت حال کا بنیادی سبب یہ ہے کہ تعلیم کو اس کے اصل مقصد سے جدا کر دیا گیا ہے۔ تعلیم کا مقصد انسان کو محض تعلیم یافتہ یا معاشی جدوجہد کا آلہ بنانا نہیں بلکہ اسے ایک صاحبِ ایمان، صاحبِ کردار اور صاحبِ بصیرت انسان بنانا ہے۔ جب تک تعلیم کا سرچشمہ وحی اور اس کا مرکز اللہ کی بندگی نہ ہو، اس وقت تک وہ انسان کو کامل معنوں میں ترقی نہیں دے سکتی۔ یہی وہ نقطۂ نظر ہے جسے سید ابوالاعلی مودودی نے اپنی تحریروں میں بار بار واضح کیا کہ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے، اور اس کے بغیر تعلیم کا کوئی بھی تصور ادھورا ہے۔
آج کی جدید یونیورسٹیاں ذہن کو معلومات سے بھر رہی ہیں مگر روح کو خالی چھوڑ رہی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان ترقی کی بلند ترین منازل طے کرنے کے باوجود اضطراب، بے معنویت اور اخلاقی بحران کا شکار ہے۔ یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ ہم تعلیم کے اس اصل منبع کی طرف رجوع کریں جس نے تاریخ میں ایک ایسی تہذیب کو جنم دیا تھا جو علم، عدل اور روحانیت کا حسین امتزاج تھی۔






