خلیج فارس کا سلگتا سمندر: تزویراتی توازن کی تلاش یا ناگزیر تباہی؟

عشروں پر محیط ایران امریکہ دشمنی کا کینوس آج ایک بار پھر بارود کی بو اور میزائلوں کی روشنی سے سرخ ہو چکا ہے۔ جون 2026 میں اسلام آباد کے افق پر جس عبوری مفاہمتی یادداشت (MoU) نے امن کی ایک موہم سی امید جگائی تھی، وہ اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تند و تیز بیانات اور تہران کے جارحانہ ردعمل کی نذر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری موجودہ تنازع محض دو ریاستوں کی عسکری آنکھ مچولی نہیں، بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی تزویراتی (Strategic) منظرنامے کی ازسرنو تشکیل کا ایک خطرناک مرحلہ ہے۔

موجودہ بحران کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دونوں فریقین "میکسی مم پریشر" (زیادہ سے زیادہ دباؤ) کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ ایک طرف امریکہ نے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی اور فضائی حملوں کے ذریعے ایران کو معاشی اور عسکری طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی روایتی حکمتِ عملی اپنا رکھی ہے۔ دوسری طرف، ایران نے اس بار اپنی دفاعی لائن کو وسیع کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں (بشمول بحرین میں ففتھ فلیٹ اور کویت کے مراکز) کو نشانہ بنا کر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اگر ایران غیر محفوظ ہوگا، تو خطے میں کوئی بھی امریکی اثاثہ محفوظ نہیں رہے گا۔ ایران کا یہ جوابی اقدام اس کی تزویراتی گہرائی (Strategic Depth) اور خطے میں اس کے نیٹ ورک کی طاقت کا مظہر ہے۔

15 جولائی 2016 کے بعد ترکی: ناکام فوجی بغاوت سے صدارتی ریاست تک

15 جولائی 2016 ترکی کی جدید سیاسی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس رات فوج کے ایک دھڑے نے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی، مگر چند ہی گھنٹوں میں یہ بغاوت ناکام بنا دی گئی۔ اگرچہ یہ واقعہ مختصر دورانیے کا تھا، لیکن اس کے اثرات نے ترکی کے سیاسی، آئینی، عسکری، عدالتی اور خارجہ پالیسی کے ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ اس کے بعد ترکی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوا جہاں ریاستی سلامتی، مضبوط صدارتی نظام اور قومی خودمختاری کو حکومتی پالیسی کا بنیادی محور بنا دیا گیا، جبکہ ناقدین کے نزدیک اسی عرصے میں جمہوری اداروں، شہری آزادیوں اور سیاسی توازن کو شدید نقصان پہنچا۔

 ناکام فوجی بغاوت: ایک غیر معمولی واقعہ

ترکی کی تاریخ فوجی مداخلتوں سے خالی نہیں۔ 1960، 1971، 1980 اور بعد کے ادوار میں فوج کئی مرتبہ سیاست میں مداخلت کر چکی تھی، لیکن 15 جولائی 2016 کا واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد تھا۔ پہلی مرتبہ ترک پارلیمنٹ پر فضائی حملہ کیا گیا، استنبول اور انقرہ کی سڑکوں پر ٹینک نمودار ہوئے، جنگی طیاروں نے نچلی پروازیں کیں اور ریاستی اداروں پر قبضے کی کوشش کی گئی۔

صدر رجب طیب اردوغان نے ایک موبائل فون کے ذریعے براہِ راست ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی۔ مساجد سے بھی عوام کو مزاحمت کے لیے پکارا گیا۔ نتیجتاً ہزاروں شہری فوجی بغاوت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور صبح تک بغاوت ناکام ہو گئی۔ اس واقعے میں دو سو سے زائد افراد جان سے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے۔ شاعر: امام احمد رضا خان بریلوی ، آواز : حسیب خان



عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے

جانِ مُراد اب کدھر ہائے تِرا مکان ہے


وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو

جان ہیں وہ جہان کی ، جان ہے تو جہان ہے


عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دھوم دھام

کان جدھر لگا ئیے تیری ہی داستان ہے


تجھ سا سیاہ کار کون اُن سا شفیع ہے کہاں

پھر وہ تجھی کو بھول جائیں دل یہ تِرا گمان ہے


اِک تِرے رخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی

اِنس کا اُنس اُسی سے ہے جان کی وہ ہی جان ہے


خوف نہ رکھ رضؔا ذرا تو تو ہے عبدِ مصطفیٰ

تیرے لیے امان ہے تیرے لیے امان ہے 


شاعر : امام احمد رضا خان بریلوی
کتاب : حدائق بخشش

سیمی کنڈکٹر چِپس بنانے والی کمپنی اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ کون ہیں ؟

مصنوعی ذہانت (AI) کے موجودہ عالمی انقلاب کے روحِ رواں اور اینویڈیا (NVIDIA) کے بانی جینسن ہوانگ اس وقت دنیا کے ساتویں امیر ترین شخص بن چکے ہیں، جن کے اثاثوں کی مالیت 191.5 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ حال ہی میں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ خصوصی طیارے 'ایئرفورس ون' پر بیجنگ کے تاریخی دورے کے لیے روانہ ہوئے، جو عالمی سیاست اور ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ان کے غیر معمولی اثر و رسوخ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ کالم ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس نے برتن دھونے سے لے کر دنیا کی سب سے قیمتی سیمی کنڈکٹر چپس بنانے تک کا سفر اپنی انتھک محنت سے طے کیا۔

تائیوان میں پیدا ہونے والے جینسن ہوانگ بچپن میں فلپائن اور پھر امریکہ ہجرت کر گئے۔ انہوں نے اپنی طالب علمی کے زمانے میں 'ڈینی' (Denny's) نامی ریستوران میں برتن دھونے اور ویٹر کے طور پر کام کیا۔ ہوانگ خود اعتراف کرتے ہیں کہ اس نوکری نے ان کی شرمیلی طبیعت کو بدلا اور انہیں لوگوں سے بات چیت کرنے کا ہنر سکھایا۔

جمالِ مصطفیٰ ﷺ: جب شعراء وجد میں آ گئے

انسانی تاریخ میں حسن و جمال پر بہت کچھ کہا اور لکھا گیا، لیکن کائنات کی وہ ہستی جس کے حسن کی گواہی خود خالقِ کائنات نے دی، ان کا سراپا بیان کرنا کسی بھی شاعر و ادیب کے لیے ایک کٹھن امتحان سے کم نہیں۔ صحابہ کرام اور شعراءِ اسلام نے جب بھی آپ ﷺ کے جمالِ جہاں آرا کی طرف نظر کی، تو الفاظ نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور قافیے وجد میں آ گئے۔

عربی ادب اور سیرتِ طیبہ کے اوراق میں ایک ایسا ہی روح پرور واقعہ ملتا ہے جس کا مرکز سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی محبت اور ایک قدیم عربی شعر ہے۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ جب حضور اکرم ﷺ اپنے کسی دستی کام میں مصروف تھے اور آپ ﷺ کی جبینِ انور سے پسینے کے قطرے نور بن کر ڈھلک رہے تھے، تو سیدہ عائشہؓ اس منظر کی تاب نہ لاتے ہوئے پکار اٹھیں:

وإذا نظرت إلى أسرة وجهه ... برقت كبرق العارض المتهلل

یہ شعر اگرچہ ابو کبیر الہذلی کا ہے، لیکن سیدہ عائشہؓ کا اسے آپ ﷺ کے حق میں پڑھنا اس کے معنی کو لافانی کر گیا۔ اس شعر کی لغوی تشریح ہمیں اس جمال کے قریب لے جاتی ہے:

أسِرّة وجهه: "اسِرّہ" سے مراد چہرے کی وہ لطیف لکیریں ہیں جو انسان کے ماتھے یا آنکھوں کے گرد مسکراتے وقت یا خوشی کی حالت میں نمایاں ہوتی ہیں۔ یہاں مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کا چہرہ محض سادہ نہیں تھا، بلکہ اس کی ایک ایک لکیر سے انوارِ الٰہیہ پھوٹتے تھے۔

العارض المتهلل: عربی میں "عارض" اس بادل کو کہتے ہیں جو افق پر پھیل کر چھا جائے، اور "متهلل" اس بادل کو کہتے ہیں جو بارش برسانے کے لیے اس طرح تیار ہو کہ بجلی مسلسل چمک رہی ہو۔

کیا ہم مرغی کے پنجے کھا سکتے ہیں اور یہ چکن کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں خاص کیوں ہیں؟

بی بی سی تامل
10 مئ 2026

جب ہم مرغی خریدنے جاتے ہیں تو بہت سے لوگ شاید کہتے ہوں گے کہ کلیجی، گردن، جگر نہیں چاہیے اور لیگ پیس یا سینہ ہی چاہیے لیکن دکاندار سے اس مکالمے میں ہم مرغی کے پنجوں کو سرے سے نظر انداز ہی کر دیتے ہیں۔

کیا ہم نے کبھی اس پر غور کیا ہے کہ مرغی کے پنجے کتنے فائدہ مند ہیں؟

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مرغی کے پنجے اس کی کھال کی طرح فضول چیز ہیں لیکن سنگا پور میں مرغی کے پنجے چار سنگا پورین ڈالر فی کلو فروخت ہوتے ہیں۔ پاکستانی کرنسی میں یہ 900 روپے فی کلو بنتے ہیں۔

یہ جنوبی افریقہ اور میکسیکو میں مرغی کے گوشت سے بھی مہنگے ہیں۔

دنیا بھر میں چکن کے پنجوں کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ ویتنام، چین اور ازبکستان جیسے ممالک اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی مقدار میں چکن کے پنجے درآمد کرتے ہیں۔ سال 2022 میں امریکہ نے چین کو تقریباً ایک لاکھ 33 ہزار میٹرک ٹن چکن کے پنجے برآمد کیے تھے۔
چکن کے پنجے، جنھیں اکثر فضول سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے، دنیا کے دوسرے حصوں میں اتنے قیمتی کیوں ہیں؟ ان میں کون کون سے غذائی اجزا پائے جاتے ہیں؟

چکن کے پنجوں میں پائے جانے والے غذائی اجزا

اگرچہ کئی ممالک میں چکن کے پنجوں کو فضول سمجھا جاتا ہے لیکن امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق ان میں کئی ضروری غذائی اجزا اور صحت کے لیے فائدہ مند خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

سانحہ ارتحال: وارثِ علومِ نبویؐ، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریسؒ کی شہادت

"موتُ العالمِ موتُ العالم" (ایک عالم کی موت، گویا پورے عالم کی موت ہے)
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت 

علم و عرفان کی بزم آج سوگوار ہے اور قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صدائیں بلند کرنے والا ایک عظیم لہجہ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔ ۵ مئی کی صبح، جب سورج اپنی کرنوں سے دنیا کو منور کر رہا تھا، چارسدہ کی زمین ایک ایسے جید عالم اور پیکرِ اخلاص کے خون سے رنگین ہو گئی جس نے اپنی پوری زندگی مسندِ تدریس اور خدمتِ دین کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب (رحمہ اللہ) محض ایک فرد کا نام نہیں تھا، بلکہ وہ دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی اور دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک جیسے عظیم علمی مراکز کے مابین ایک معتبر کڑی تھے۔ ان کا وجود ان ہزاروں تشنگانِ علم کے لیے بادل کی طرح تھا جو دور دور سے حدیثِ نبویؐ کی پیاس بجھانے ان کے پاس آتے تھے۔ وہ جب مسندِ حدیث پر بیٹھتے تو علم کے موتی لٹاتے، اور جب ایوانِ سیاست میں قدم رکھتے تو حق گوئی و بے باکی کا استعارہ بن جاتے۔

عربی لسانیات اور مدارسِ دینیہ

تحریر: ڈاکٹر ابو البشر احمد طیب

ہمارے مدارسِ دینیہ صدیوں سے علومِ عربیہ کے امین رہے ہیں۔ نحو، صرف اور بلاغت کی جو تعلیم مدارس کے نصاب میں شامل ہے ، وہ کسی اورعصری درسگاہوںکو نصیب نہیں۔ لیکن آج کے بدلتے ہوئے سائنسی تناظر میں ہمیں ایک سنجیدہ سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے: کیا ہمارا عربی نصاب اور طریقۂ تدریس ان جدید لسانی تحقیقات سے ہم آہنگ ہے جو آج کی دنیا میں ایک باقاعدہ "سائنس" بن چکی ہیں؟

آج دنیا "علم اللسان" (Linguistics) کو ایک تجرباتی سائنس کے طور پر پڑھ رہی ہے۔ عالمِ عرب کے نامور شخصیتوں نے اس میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں مثلاً ڈاکٹر ابراہیم انیس، ڈاکٹر تمام حسان اور ڈاکٹر کمال بشر نے اپنی زندگیاں اس کام کے لیے وقف کر دیں کہ وہ عربی زبان کو قدیم خشک اورجامد قواعد کے ڈھانچے سے نکال کر ایک متحرک اور سائنسی علم کے طور پر پیش کریں۔ جن سے ہمارے اہل علم خاص کر مدارس دینیہ کے علماء کرام کا واقف ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

عربی زبان محض ایک ذریعہِ ابلاغ نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ معجزہ ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود باری تعالیٰ نے لیا ہے۔ ہمارے مدارس اور جامعات میں صدیوں سے لغت، نحو اور صرف کے اماموں، جیسے خلیل، سیبویہ، ابنِ جنی اور زمخشری کے کام کو مشعلِ راہ مانا جاتا رہا ہے۔ بلا شبہ، ان اسلاف کا کام عربی زبان کی بنیاد ہے۔ لیکن بیسویں صدی میں مصر اور دیگر عرب ممالک میں علمِ زبان (Linguistics) کے افق پر چند ایسے علماء نمودار ہوئے جنہوں نے اس قدیم ورثے کو جدید سائنسی اصولوں کی روشنی میں پرکھا اور دنیا کو بتایا کہ عربی زبان کے اسرار صرف قواعد کی کتابوں تک محدود نہیں ہیں۔

ان میں سب سے پہلا اور بڑا نام ڈاکٹر ابراہیم انیس کا ہے۔ وہ "امامِ لسانیاتِ جدید" کہلاتے ہیں۔ انہوں نے روایتی نحو کی منطقی بحثوں سے ہٹ کر زبان کا 'صوتیاتی' (Phonetic) جائزہ لیا۔ ان کی تصانیف جیسے "الأصوات اللغوية" اور "من أسرار اللغة" ہمارے علماء کے لیے مطالعہ کے نئے گوشے وا کرتی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اعراب صرف معنی بدلنے کے لیے ہیں۔ ڈاکٹر ابراہیم انیس نے یہ انقلابی نظریہ پیش کیا کہ اعراب کا ایک بڑا مقصد کلام میں صوتی نغمگی اور روانی پیدا کرنا ہے۔

ان کے بعد ڈاکٹر تمام حسان کا نام آتا ہے۔ ان کی کتاب "اللغة العربية: معناها ومبناها" عربی زبان کے طالب علموں کے لیے ایک ایسی بصیرت فراہم کرتی ہے جو روایتی شرحوں میں مفقود ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عربی جملے کی تفہیم صرف 'عامل' پر موقوف نہیں، بلکہ اس کے پیچھے صوتی، معنوی اور نحوی قرائن کا ایک پورا نظام کارفرما ہے۔

اسی طرح ڈاکٹر کمال بشر اور ڈاکٹر عبد الصبور شاہین نے قرآن کریم کی قراتوں کا جو سائنسی اور صوتی مطالعہ پیش کیا، وہ ہمارے قراء اور مفسرین کے لیے علم کا ایک نیا خزانہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لہجوں کا اختلاف محض تلفظ کا فرق نہیں بلکہ اس کے پیچھے لسانی ارتقاء کی ایک طویل تاریخ ہے۔

ہمارے علماء کرام کے لیے یہ بات لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا ہم صرف "کافیہ" اور "شرح جامی" کی منطقی بحثوں تک محدود رہیں گے؟ جبکہ جدید دنیا عربی کے صوتیاتی نظام (Phonetics)، نفسیاتی لسانیات (Psycholinguistics) اور کمپیوٹیشنل لسانیات (Computational Linguistics) پر کام کر رہی ہے۔ جب تک ہم یہ نہیں جانیں گے کہ زبان ایک سماجی اور نفسیاتی مظہر ہے، ہم جدید ذہن کو قرآن و سنت کی زبان سے متاثر نہیں کر پائیں گے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے دینی اور علمی حلقوں میں ابھی تک ان جدید عرب ماہرینِ لسانیات کے کام کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ مستحق تھے۔ ہمارے علماء، جو عربی زبان سے عشق کی حد تک شغف رکھتے ہیں، اگر ان جدید سائنسی نظریات سے واقف ہو جائیں تو وہ نہ صرف عربی زبان کی زیادہ بہتر خدمت کر سکیں گے بلکہ جدید دنیا کے سامنے عربی کے معجزاتی پہلوؤں کو ایک نئے اور علمی انداز میں پیش کرنے کے قابل ہوں گے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب دنیا کمپیوٹر کو عربی سکھا رہی ہے، ہمیں صرف "کافیہ" اور "شرح جامی" کی قدیم شرحوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں اپنے نصاب میں قدیم معتبر مصادر کے ساتھ ان جدید تحقیقات کو بھی جگہ دینی ہوگی۔ یہ جدید علوم ہمیں قرآن و سنت کے اعجاز کو سائنسی انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مدد دیں گے۔

مصنوعی ذہانت (AI) اور عربی زبان کی 'ڈیجیٹل' ساخت

تحریر: ڈاکٹر ابو البشر احمد طیب

آج جب دنیا مصنوعی ذہانت (AI) کے سحر میں ہے اور کمپیوٹر انسانی زبانوں کے پیچیدہ نظام کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لسانیات کی دنیا میں ایک نئی اور دلچسپ بحث چھڑ گئی ہے۔ اس بحث کا ایک اہم سنگِ میل سال 2003 میں جامعہ لندن (SOAS) میں منعقدہ وہ عالمی کانفرنس تھی جس میں "یونیورسل لنگویج" کے مستقبل پر غور کیا گیا۔ اس کانفرنس میں مصر سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرِ لسانیات اور محقق ڈاکٹر سعید شربینی نے ایک ایسا علمی نظریہ پیش کیا جس نے ماہرینِ لسانیات کو حیران کر دیا۔

ڈاکٹر سعید شربینی، جو عربی زبان کی سائنسی اور ریاضیاتی ساخت پر گہری نظر رکھنے کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتے ہیں، نے اپنے مقالے میں یہ ثابت کیا کہ عربی محض ایک قدیم یا مذہبی زبان نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے قواعد اور فطری ڈھانچے کے اعتبار سے ایک مکمل "عالمی کوڈ" ہے۔ ان کے نزدیک عربی وہ تمام لسانیاتی خصوصیات رکھتی ہے جو ایک آئیڈیل "یونیورسل لنگویج" کا خاصہ ہونی چاہئیں۔

عربی کی سب سے بڑی طاقت اس کا "اشتقاقی نظام" (Root System) ہے۔ انگریزی یا دیگر مغربی زبانوں کے برعکس، عربی کا ڈھانچہ کسی جدید کمپیوٹر سافٹ ویئر کی طرح کام کرتا ہے۔ اس میں ایک تین حرفی مادہ (Root) ایک "بیس فائل" کی طرح ہوتا ہے، جس سے مخصوص اوزان کے ذریعے سینکڑوں نئے الفاظ تخلیق کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 'ک-ت-ب' کے ایک ہی مادے سے کتاب، مکتبہ، کاتب اور مکتوب جیسے الفاظ ایک منطقی ترتیب سے نکلتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے لیے ایسی زبان کو سمجھنا اور اس کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنا نہایت آسان ہوتا ہے کیونکہ اس میں بے ترتیبی کم اور ریاضیاتی نظم زیادہ ہے۔

کیا عربی زبان واقعی یونیورسل لنگوئج ہے ؟

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدانوں میں جہاں حیران کن پیش رفت ہو رہی ہے، وہیں ایک خاموش بحران بھی جنم لے رہا ہے—زبانوں کا خاتمہ۔ ماہرینِ لسانیات کے مطابق دنیا کی ہزاروں زبانیں بتدریج معدوم ہو رہی ہیں۔ ایسے میں ایک سوال پوری شدت سے ابھرتا ہے: آخر کون سی زبانیں وقت کی اس کڑی آزمائش میں باقی رہیں گی؟

اسی تناظر میں گزشتہ چند دہائیوں میں ایک نیا علمی میدان سامنے آیا جسے Universal Science of Linguistics کہا جاتا ہے۔ اس علم کا باقاعدہ اعلان 2003 میں University of London میں کیا گیا، اور بعد ازاں امریکی جامعات نے بھی اس پر تحقیق شروع کی۔ اس علم کا مقصد دنیا کی تمام زبانوں کا ایک ساتھ مطالعہ کرنا، ان کے نحوی نظام (افعال، اسماء، ضمائر، صفات) کو سمجھنا اور ان کے باہمی “جینیاتی تعلق” کو جانچنا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون سی زبان کس ماخذ سے نکلی ہے۔

ماہرِ لسانیات David Crystal کے مطابق انسانیت کی ابتدا ایک “مادری زبان” سے ہوئی تھی، جو کسی نہ کسی صورت میں آج بھی زندہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ زبان کون سی ہے؟ اس کا جواب ابھی تحقیق کے مراحل میں ہے، تاہم بعض ماہرین عربی کو اس کے قریب ترین قرار دیتے ہیں۔
اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں۔ دنیا میں بولی جانے والی ہزاروں زبانوں میں سے سینکڑوں ختم ہو چکی ہیں، اور ہر ہفتے ایک زبان کے مرنے کی خبر سامنے آتی ہے۔ زبان کے مرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے الفاظ مٹ جاتے ہیں، بلکہ یہ کہ وہ عوامی استعمال سے نکل کر صرف کتابوں یا چند ماہرین تک محدود ہو جاتی ہے—جیسے Latin یا حالیہ مثال Nubian language۔

زبانوں کے زوال کی کئی وجوہات ہیں:

مختصر اور تیز رفتار اظہار کی ضرورت، پیچیدہ صرف و نحو سے اجتناب، اور جدید تقاضوں کو پورا نہ کر پانا۔ جب کوئی زبان اپنے زمانوں (ماضی، حال، مستقبل)، ضمائر اور اظہار کی وسعت کھو دیتی ہے تو وہ “معذور” ہو جاتی ہے۔

یہاں عربی زبان ایک منفرد مثال کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہ زبان نہ صرف اپنے تمام نحوی نظام کے ساتھ برقرار ہے بلکہ اس میں اظہار کی حیرت انگیز وسعت بھی موجود ہے۔ اندازہ ہے کہ عربی کے الفاظ کی تعداد لاکھوں بلکہ ملینز میں ہے، جب کہ دیگر بڑی زبانیں اس کے مقابلے میں کہیں کم ذخیرہ الفاظ رکھتی ہیں۔