مکہ معاہدہ اور فکر ندوی (علی میاںؒ)

یسویں صدی کے وسط میں جب مسلم امہ نوآبادیاتی غلامی کے سائے سے نکل رہی تھی، تب برصغیر کے عظیم مفکر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (علی میاں) نے اپنی معرکہ آرا تصنیف "انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر"  ( اصل کتاب عربی زبان  میں  ہے جس کا عنوان ہے "ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین")  کے ذریعے عالمی افق پر ایک فکری زلزلہ برپا کیا تھا۔ انہوں نے مسلم دنیا، بالخصوص عرب حکمرانوں اور دانشوروں کو جرات مندانہ دعوتِ فکر دی کہ مسلمانوں کا زوال محض ایک خطے کی تنزلی نہیں، بلکہ اخلاقی و روحانی طور پر پوری انسانیت کی خودکشی کا سبب بن رہا ہے۔ آج اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں، جب مشرقِ وسطیٰ اور مسلم دنیا ایک نئی سیاسی الٹ پھیر اور فکری بحران سے گزر رہی ہے، فکرِ ندوی کی معنویت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

مولانا ندوی نے اپنی دوسری مایہ ناز کتاب "مسلم دنیا میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش" میں ترکی، مصر اور پاکستان کا خاص طور پر ذکر کیا تھا۔ انہوں نے بڑی باریک بینی سے یہ نکتہ واضح کیا تھا کہ یہ تینوں ممالک مسلم دنیا کے فکری اور سیاسی اعصاب ہیں۔ ترکی جہاں خلافت کا مرکز رہا اور بعد میں مغربیت کی شدید ترین لہر (اتاترک ازم) کا شکار ہوا؛ مصر جو علمی و سیاسی تحریکوں کا گہوارہ رہا؛ اور پاکستان جو اسلام کے نام پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ مولانا کے نزدیک ان ممالک میں جاری اسلامیت اور مغربیت کی یہ کشمکش محض نظریاتی نہیں، بلکہ امہ کے مستقبل کے رخ کا تعین کرنے والی ہے۔ وہ اپنی تحریروں اور خطبات میں ہمیشہ اس بات کے داعی رہے کہ مسلم دنیا کو مغرب کی فکری گداگری اور سیاسی مغلوبیت چھوڑ کر ایک ایسے مضبوط تزویراتی (Strategic) اور ایمانی اتحاد کی طرف بڑھنا چاہیے جو عالمی طاقتوں کے سامنے اپنا وزن رکھ سکے۔

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ سیاسی حالات کا جائزہ لیں تو مولانا ندوی کی پیشگوئیاں اور ان کا خواب سچ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طویل عرصے تک مغرب کی فکری غلامی اور بلاک پولیٹکس پر انحصار کرنے کے بعد، اب مسلم دنیا کے بڑے مراکز میں ایک نئی بیداری اور تزویراتی خود مختاری (Strategic Autonomy) کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ اس وقت سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے مابین مکہ معاہدہ  اور سفارتی ہم آہنگی اسی فکرِ ندوی کا عملی مظہر ہے۔ سعودی عرب اپنی روایتی اور تزویراتی قیادت کے ساتھ، ترکی اپنی فوجی و صنعتی قوت اور تاریخی تشخص کے ساتھ، اور پاکستان اپنی ایٹمی صلاحیت، سٹریٹجک لوکیشن اور افرادی قوت کے ساتھ مل کر مسلم امہ کے لیے ایک مضبوط تکون (Triangle) تشکیل دے رہے ہیں۔

یہ اتحاد اس لیے بھی ناگزیر ہے کیونکہ "مسلم دنیا میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش" اب اپنے آخری اور نازک ترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایک طرف خلیجی ممالک اور مصر میں ترقی اور "روشن خیالی" کے نام پر تیز رفتار مغرب زدگی (Westernization) کا چیلنج ہے، تو دوسری طرف مسلم عوام میں اپنے اسلامی تشخص، غزہ و فلسطین کے مسائل پر غیرتِ ایمانی اور خودمختاری کا شدید جذبہ پایا جاتا ہے۔ موجودہ حالات ثابت کر رہے ہیں کہ مصر کا سیاسی جمود ہو یا ترکی اور پاکستان کی معاشی و سیاسی آزمائشیں، ان کا حل مغرب کے آگے گھٹنے ٹیکنے میں نہیں، بلکہ اپنے وسائل اور فکری بنیادوں پر اکٹھے ہونے میں ہے۔

آج جب مشرقِ وسطیٰ ایک نئے جغرافیائی اور سیاسی موڑ پر کھڑا ہے، تو سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے مابین یہ اتحاد محض وقت کی ضرورت نہیں، بلکہ فکرِ ندوی کا وہ ادھورا ایجنڈا ہے جسے حاصل کیے بغیر مسلم دنیا عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقامِ قیادت حاصل نہیں کر سکتی۔ وقت آ گیا ہے کہ ان ممالک کے دانشور اور حکمران مولانا علی میاں ندوی کی اس صدا پر کان دھریں کہ مسلمانوں کی بقا مغرب کے سیاسی و فکری الحاق میں نہیں، بلکہ اپنی روح کی بازیافت اور آپس کے مضبوط اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ علامہ اقبال ؒ نے بھی اس اتحاد کی دعوت دی ہے ۔ 

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نِیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر

تقسیم وراثت کے قانون میں جاوید احمد غامدی صاحب کا نقطہ نظر


یہ ویڈیو علم الفرائض کے ایک پیچیدہ اور تاریخی مسئلے کا علمی جائزہ پیش کرتی ہے جس میں قرآن میں بیان کردہ وراثت کے حصوں کی تعبیر اور ان کی عملی تطبیق میں امت کے عمومی فہم اور ایک مختلف فکری موقف کا تقابلی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس گفتگو میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک علمی تجزیہ اجتماعی اجماع سے مختلف نتیجہ اخذ کر سکتا ہے اور تقسیم وراثت کے اصولوں کو قرآن کے عین مطابق سمجھا جا سکتا ہے۔

خلیج فارس کا سلگتا سمندر: تزویراتی توازن کی تلاش یا ناگزیر تباہی؟

عشروں پر محیط ایران امریکہ دشمنی کا کینوس آج ایک بار پھر بارود کی بو اور میزائلوں کی روشنی سے سرخ ہو چکا ہے۔ جون 2026 میں اسلام آباد کے افق پر جس عبوری مفاہمتی یادداشت (MoU) نے امن کی ایک موہم سی امید جگائی تھی، وہ اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تند و تیز بیانات اور تہران کے جارحانہ ردعمل کی نذر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری موجودہ تنازع محض دو ریاستوں کی عسکری آنکھ مچولی نہیں، بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی تزویراتی (Strategic) منظرنامے کی ازسرنو تشکیل کا ایک خطرناک مرحلہ ہے۔

موجودہ بحران کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دونوں فریقین "میکسی مم پریشر" (زیادہ سے زیادہ دباؤ) کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ ایک طرف امریکہ نے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی اور فضائی حملوں کے ذریعے ایران کو معاشی اور عسکری طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی روایتی حکمتِ عملی اپنا رکھی ہے۔ دوسری طرف، ایران نے اس بار اپنی دفاعی لائن کو وسیع کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں (بشمول بحرین میں ففتھ فلیٹ اور کویت کے مراکز) کو نشانہ بنا کر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اگر ایران غیر محفوظ ہوگا، تو خطے میں کوئی بھی امریکی اثاثہ محفوظ نہیں رہے گا۔ ایران کا یہ جوابی اقدام اس کی تزویراتی گہرائی (Strategic Depth) اور خطے میں اس کے نیٹ ورک کی طاقت کا مظہر ہے۔

15 جولائی 2016 کے بعد ترکی: ناکام فوجی بغاوت سے صدارتی ریاست تک

15 جولائی 2016 ترکی کی جدید سیاسی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس رات فوج کے ایک دھڑے نے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی، مگر چند ہی گھنٹوں میں یہ بغاوت ناکام بنا دی گئی۔ اگرچہ یہ واقعہ مختصر دورانیے کا تھا، لیکن اس کے اثرات نے ترکی کے سیاسی، آئینی، عسکری، عدالتی اور خارجہ پالیسی کے ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ اس کے بعد ترکی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوا جہاں ریاستی سلامتی، مضبوط صدارتی نظام اور قومی خودمختاری کو حکومتی پالیسی کا بنیادی محور بنا دیا گیا، جبکہ ناقدین کے نزدیک اسی عرصے میں جمہوری اداروں، شہری آزادیوں اور سیاسی توازن کو شدید نقصان پہنچا۔

 ناکام فوجی بغاوت: ایک غیر معمولی واقعہ

ترکی کی تاریخ فوجی مداخلتوں سے خالی نہیں۔ 1960، 1971، 1980 اور بعد کے ادوار میں فوج کئی مرتبہ سیاست میں مداخلت کر چکی تھی، لیکن 15 جولائی 2016 کا واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد تھا۔ پہلی مرتبہ ترک پارلیمنٹ پر فضائی حملہ کیا گیا، استنبول اور انقرہ کی سڑکوں پر ٹینک نمودار ہوئے، جنگی طیاروں نے نچلی پروازیں کیں اور ریاستی اداروں پر قبضے کی کوشش کی گئی۔

صدر رجب طیب اردوغان نے ایک موبائل فون کے ذریعے براہِ راست ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی۔ مساجد سے بھی عوام کو مزاحمت کے لیے پکارا گیا۔ نتیجتاً ہزاروں شہری فوجی بغاوت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور صبح تک بغاوت ناکام ہو گئی۔ اس واقعے میں دو سو سے زائد افراد جان سے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے۔ شاعر: امام احمد رضا خان بریلوی ، آواز : حسیب خان



عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے

جانِ مُراد اب کدھر ہائے تِرا مکان ہے


وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو

جان ہیں وہ جہان کی ، جان ہے تو جہان ہے


عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دھوم دھام

کان جدھر لگا ئیے تیری ہی داستان ہے


تجھ سا سیاہ کار کون اُن سا شفیع ہے کہاں

پھر وہ تجھی کو بھول جائیں دل یہ تِرا گمان ہے


اِک تِرے رخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی

اِنس کا اُنس اُسی سے ہے جان کی وہ ہی جان ہے


خوف نہ رکھ رضؔا ذرا تو تو ہے عبدِ مصطفیٰ

تیرے لیے امان ہے تیرے لیے امان ہے 


شاعر : امام احمد رضا خان بریلوی
کتاب : حدائق بخشش

سیمی کنڈکٹر چِپس بنانے والی کمپنی اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ کون ہیں ؟

مصنوعی ذہانت (AI) کے موجودہ عالمی انقلاب کے روحِ رواں اور اینویڈیا (NVIDIA) کے بانی جینسن ہوانگ اس وقت دنیا کے ساتویں امیر ترین شخص بن چکے ہیں، جن کے اثاثوں کی مالیت 191.5 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ حال ہی میں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ خصوصی طیارے 'ایئرفورس ون' پر بیجنگ کے تاریخی دورے کے لیے روانہ ہوئے، جو عالمی سیاست اور ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ان کے غیر معمولی اثر و رسوخ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ کالم ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس نے برتن دھونے سے لے کر دنیا کی سب سے قیمتی سیمی کنڈکٹر چپس بنانے تک کا سفر اپنی انتھک محنت سے طے کیا۔

تائیوان میں پیدا ہونے والے جینسن ہوانگ بچپن میں فلپائن اور پھر امریکہ ہجرت کر گئے۔ انہوں نے اپنی طالب علمی کے زمانے میں 'ڈینی' (Denny's) نامی ریستوران میں برتن دھونے اور ویٹر کے طور پر کام کیا۔ ہوانگ خود اعتراف کرتے ہیں کہ اس نوکری نے ان کی شرمیلی طبیعت کو بدلا اور انہیں لوگوں سے بات چیت کرنے کا ہنر سکھایا۔

جمالِ مصطفیٰ ﷺ: جب شعراء وجد میں آ گئے

انسانی تاریخ میں حسن و جمال پر بہت کچھ کہا اور لکھا گیا، لیکن کائنات کی وہ ہستی جس کے حسن کی گواہی خود خالقِ کائنات نے دی، ان کا سراپا بیان کرنا کسی بھی شاعر و ادیب کے لیے ایک کٹھن امتحان سے کم نہیں۔ صحابہ کرام اور شعراءِ اسلام نے جب بھی آپ ﷺ کے جمالِ جہاں آرا کی طرف نظر کی، تو الفاظ نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور قافیے وجد میں آ گئے۔

عربی ادب اور سیرتِ طیبہ کے اوراق میں ایک ایسا ہی روح پرور واقعہ ملتا ہے جس کا مرکز سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی محبت اور ایک قدیم عربی شعر ہے۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ جب حضور اکرم ﷺ اپنے کسی دستی کام میں مصروف تھے اور آپ ﷺ کی جبینِ انور سے پسینے کے قطرے نور بن کر ڈھلک رہے تھے، تو سیدہ عائشہؓ اس منظر کی تاب نہ لاتے ہوئے پکار اٹھیں:

وإذا نظرت إلى أسرة وجهه ... برقت كبرق العارض المتهلل

یہ شعر اگرچہ ابو کبیر الہذلی کا ہے، لیکن سیدہ عائشہؓ کا اسے آپ ﷺ کے حق میں پڑھنا اس کے معنی کو لافانی کر گیا۔ اس شعر کی لغوی تشریح ہمیں اس جمال کے قریب لے جاتی ہے:

أسِرّة وجهه: "اسِرّہ" سے مراد چہرے کی وہ لطیف لکیریں ہیں جو انسان کے ماتھے یا آنکھوں کے گرد مسکراتے وقت یا خوشی کی حالت میں نمایاں ہوتی ہیں۔ یہاں مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کا چہرہ محض سادہ نہیں تھا، بلکہ اس کی ایک ایک لکیر سے انوارِ الٰہیہ پھوٹتے تھے۔

العارض المتهلل: عربی میں "عارض" اس بادل کو کہتے ہیں جو افق پر پھیل کر چھا جائے، اور "متهلل" اس بادل کو کہتے ہیں جو بارش برسانے کے لیے اس طرح تیار ہو کہ بجلی مسلسل چمک رہی ہو۔

کیا ہم مرغی کے پنجے کھا سکتے ہیں اور یہ چکن کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں خاص کیوں ہیں؟

بی بی سی تامل
10 مئ 2026

جب ہم مرغی خریدنے جاتے ہیں تو بہت سے لوگ شاید کہتے ہوں گے کہ کلیجی، گردن، جگر نہیں چاہیے اور لیگ پیس یا سینہ ہی چاہیے لیکن دکاندار سے اس مکالمے میں ہم مرغی کے پنجوں کو سرے سے نظر انداز ہی کر دیتے ہیں۔

کیا ہم نے کبھی اس پر غور کیا ہے کہ مرغی کے پنجے کتنے فائدہ مند ہیں؟

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مرغی کے پنجے اس کی کھال کی طرح فضول چیز ہیں لیکن سنگا پور میں مرغی کے پنجے چار سنگا پورین ڈالر فی کلو فروخت ہوتے ہیں۔ پاکستانی کرنسی میں یہ 900 روپے فی کلو بنتے ہیں۔

یہ جنوبی افریقہ اور میکسیکو میں مرغی کے گوشت سے بھی مہنگے ہیں۔

دنیا بھر میں چکن کے پنجوں کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ ویتنام، چین اور ازبکستان جیسے ممالک اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی مقدار میں چکن کے پنجے درآمد کرتے ہیں۔ سال 2022 میں امریکہ نے چین کو تقریباً ایک لاکھ 33 ہزار میٹرک ٹن چکن کے پنجے برآمد کیے تھے۔
چکن کے پنجے، جنھیں اکثر فضول سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے، دنیا کے دوسرے حصوں میں اتنے قیمتی کیوں ہیں؟ ان میں کون کون سے غذائی اجزا پائے جاتے ہیں؟

چکن کے پنجوں میں پائے جانے والے غذائی اجزا

اگرچہ کئی ممالک میں چکن کے پنجوں کو فضول سمجھا جاتا ہے لیکن امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق ان میں کئی ضروری غذائی اجزا اور صحت کے لیے فائدہ مند خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

سانحہ ارتحال: وارثِ علومِ نبویؐ، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریسؒ کی شہادت

"موتُ العالمِ موتُ العالم" (ایک عالم کی موت، گویا پورے عالم کی موت ہے)
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت 

علم و عرفان کی بزم آج سوگوار ہے اور قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صدائیں بلند کرنے والا ایک عظیم لہجہ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔ ۵ مئی کی صبح، جب سورج اپنی کرنوں سے دنیا کو منور کر رہا تھا، چارسدہ کی زمین ایک ایسے جید عالم اور پیکرِ اخلاص کے خون سے رنگین ہو گئی جس نے اپنی پوری زندگی مسندِ تدریس اور خدمتِ دین کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب (رحمہ اللہ) محض ایک فرد کا نام نہیں تھا، بلکہ وہ دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی اور دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک جیسے عظیم علمی مراکز کے مابین ایک معتبر کڑی تھے۔ ان کا وجود ان ہزاروں تشنگانِ علم کے لیے بادل کی طرح تھا جو دور دور سے حدیثِ نبویؐ کی پیاس بجھانے ان کے پاس آتے تھے۔ وہ جب مسندِ حدیث پر بیٹھتے تو علم کے موتی لٹاتے، اور جب ایوانِ سیاست میں قدم رکھتے تو حق گوئی و بے باکی کا استعارہ بن جاتے۔

عربی لسانیات اور مدارسِ دینیہ

تحریر: ڈاکٹر ابو البشر احمد طیب

ہمارے مدارسِ دینیہ صدیوں سے علومِ عربیہ کے امین رہے ہیں۔ نحو، صرف اور بلاغت کی جو تعلیم مدارس کے نصاب میں شامل ہے ، وہ کسی اورعصری درسگاہوںکو نصیب نہیں۔ لیکن آج کے بدلتے ہوئے سائنسی تناظر میں ہمیں ایک سنجیدہ سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے: کیا ہمارا عربی نصاب اور طریقۂ تدریس ان جدید لسانی تحقیقات سے ہم آہنگ ہے جو آج کی دنیا میں ایک باقاعدہ "سائنس" بن چکی ہیں؟

آج دنیا "علم اللسان" (Linguistics) کو ایک تجرباتی سائنس کے طور پر پڑھ رہی ہے۔ عالمِ عرب کے نامور شخصیتوں نے اس میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں مثلاً ڈاکٹر ابراہیم انیس، ڈاکٹر تمام حسان اور ڈاکٹر کمال بشر نے اپنی زندگیاں اس کام کے لیے وقف کر دیں کہ وہ عربی زبان کو قدیم خشک اورجامد قواعد کے ڈھانچے سے نکال کر ایک متحرک اور سائنسی علم کے طور پر پیش کریں۔ جن سے ہمارے اہل علم خاص کر مدارس دینیہ کے علماء کرام کا واقف ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

عربی زبان محض ایک ذریعہِ ابلاغ نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ معجزہ ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود باری تعالیٰ نے لیا ہے۔ ہمارے مدارس اور جامعات میں صدیوں سے لغت، نحو اور صرف کے اماموں، جیسے خلیل، سیبویہ، ابنِ جنی اور زمخشری کے کام کو مشعلِ راہ مانا جاتا رہا ہے۔ بلا شبہ، ان اسلاف کا کام عربی زبان کی بنیاد ہے۔ لیکن بیسویں صدی میں مصر اور دیگر عرب ممالک میں علمِ زبان (Linguistics) کے افق پر چند ایسے علماء نمودار ہوئے جنہوں نے اس قدیم ورثے کو جدید سائنسی اصولوں کی روشنی میں پرکھا اور دنیا کو بتایا کہ عربی زبان کے اسرار صرف قواعد کی کتابوں تک محدود نہیں ہیں۔

ان میں سب سے پہلا اور بڑا نام ڈاکٹر ابراہیم انیس کا ہے۔ وہ "امامِ لسانیاتِ جدید" کہلاتے ہیں۔ انہوں نے روایتی نحو کی منطقی بحثوں سے ہٹ کر زبان کا 'صوتیاتی' (Phonetic) جائزہ لیا۔ ان کی تصانیف جیسے "الأصوات اللغوية" اور "من أسرار اللغة" ہمارے علماء کے لیے مطالعہ کے نئے گوشے وا کرتی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اعراب صرف معنی بدلنے کے لیے ہیں۔ ڈاکٹر ابراہیم انیس نے یہ انقلابی نظریہ پیش کیا کہ اعراب کا ایک بڑا مقصد کلام میں صوتی نغمگی اور روانی پیدا کرنا ہے۔

ان کے بعد ڈاکٹر تمام حسان کا نام آتا ہے۔ ان کی کتاب "اللغة العربية: معناها ومبناها" عربی زبان کے طالب علموں کے لیے ایک ایسی بصیرت فراہم کرتی ہے جو روایتی شرحوں میں مفقود ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عربی جملے کی تفہیم صرف 'عامل' پر موقوف نہیں، بلکہ اس کے پیچھے صوتی، معنوی اور نحوی قرائن کا ایک پورا نظام کارفرما ہے۔

اسی طرح ڈاکٹر کمال بشر اور ڈاکٹر عبد الصبور شاہین نے قرآن کریم کی قراتوں کا جو سائنسی اور صوتی مطالعہ پیش کیا، وہ ہمارے قراء اور مفسرین کے لیے علم کا ایک نیا خزانہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لہجوں کا اختلاف محض تلفظ کا فرق نہیں بلکہ اس کے پیچھے لسانی ارتقاء کی ایک طویل تاریخ ہے۔

ہمارے علماء کرام کے لیے یہ بات لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا ہم صرف "کافیہ" اور "شرح جامی" کی منطقی بحثوں تک محدود رہیں گے؟ جبکہ جدید دنیا عربی کے صوتیاتی نظام (Phonetics)، نفسیاتی لسانیات (Psycholinguistics) اور کمپیوٹیشنل لسانیات (Computational Linguistics) پر کام کر رہی ہے۔ جب تک ہم یہ نہیں جانیں گے کہ زبان ایک سماجی اور نفسیاتی مظہر ہے، ہم جدید ذہن کو قرآن و سنت کی زبان سے متاثر نہیں کر پائیں گے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے دینی اور علمی حلقوں میں ابھی تک ان جدید عرب ماہرینِ لسانیات کے کام کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ مستحق تھے۔ ہمارے علماء، جو عربی زبان سے عشق کی حد تک شغف رکھتے ہیں، اگر ان جدید سائنسی نظریات سے واقف ہو جائیں تو وہ نہ صرف عربی زبان کی زیادہ بہتر خدمت کر سکیں گے بلکہ جدید دنیا کے سامنے عربی کے معجزاتی پہلوؤں کو ایک نئے اور علمی انداز میں پیش کرنے کے قابل ہوں گے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب دنیا کمپیوٹر کو عربی سکھا رہی ہے، ہمیں صرف "کافیہ" اور "شرح جامی" کی قدیم شرحوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں اپنے نصاب میں قدیم معتبر مصادر کے ساتھ ان جدید تحقیقات کو بھی جگہ دینی ہوگی۔ یہ جدید علوم ہمیں قرآن و سنت کے اعجاز کو سائنسی انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مدد دیں گے۔