کہتے ہیں تاریخ خود کو دہراتی ہے، مگر کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ تاریخ صرف کردار بدلتی ہے، کہانی وہی رہتی ہے۔ 31 اکتوبر 1517 کو مارٹن لوتھر (Martin Luther) نے جب جرمنی کے ایک گرجے کی دیوار پر اپنے اعتراضات چسپاں کیے تو شاید اسے خود بھی اندازہ نہ تھا کہ وہ صرف ایک کاغذ نہیں لگا رہا بلکہ یورپ کے سکون کو کیلوں سے ٹھوک رہا ہے۔ ادھر( Pope Leo X ) پوپ لیو دہم (1521-1475) بیٹھے سوچ رہے تھے کہ یہ نوجوان کچھ زیادہ ہی پڑھ لکھ گیا ہے، اور ادھر لوتھر صاحب فرماتے تھے کہ جناب! نجات کا ٹھیکہ آپ کے پاس کیسے آگیا؟
![]() |
| مارٹن لوتھر(1483-1546) |
بات یہیں ختم ہو جاتی تو اچھا تھا، مگر انسان کی ایک پرانی عادت ہے: اختلاف کو مکالمہ نہیں بلکہ میدانِ جنگ بنا دینا۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے مسیحیت دو بڑے خانوں میں تقسیم ہوگئی—کیتھولک اور پروٹسٹنٹ—اور پھر ہر فریق نے دوسرے کو ایسا سمجھا جیسے وہ جنت کے دروازے پر کھڑا چوکیدار ہو اور باقی سب کو اندر جانے سے روکنا اس کی ڈیوٹی ہو۔ نتیجہ؟ وہی جو ہونا تھا: (1618-1648) تیس سال تک لوگ ایک دوسرے کو یہ سمجھانے میں لگے رہے کہ “تم غلط ہو”، اور دلیل کے طور پر تلوار استعمال کی جاتی رہی۔
اب ذرا آئینہ ادھر بھی گھمائیں۔ ہمارے ہاں بھی معاملہ کچھ مختلف نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم نے گرجوں کی جگہ مساجد لے لی ہیں، لاطینی کی جگہ عربی و اردو آگئی ہے، مگر بحث وہی ہے: حق کس کے پاس ہے؟ ہر مسلک کے پاس اپنے اپنے دلائل، اپنے اپنے علما، اور اپنے اپنے “مصدقہ” جنتی افراد کی فہرست موجود ہے۔ اگر کبھی آپ کو فرصت ملے تو کسی چائے خانے میں بیٹھ کر دو مختلف مسالک کے افراد کی گفتگو سن لیں—آپ کو فوراً اندازہ ہو جائے گا کہ مارٹن لوتھر بیچارہ اکیلا نہیں تھا، اس کی روح آج بھی کئی جگہوں پر گھوم رہی ہے!
فرقہ واریت کا کمال یہ ہے کہ یہ انسان کو اتنا مصروف رکھتی ہے کہ وہ اصل کام بھول جاتا ہے۔ یورپ نے بھی ایک لمبا عرصہ اسی مشغلے میں گزارا، حتیٰ کہ تنگ آ کر اس نے کہا: “بھئی بس کرو، ہمیں کچھ اور بھی کرنا ہے!” چنانچہ انہوں نے مذہب کو ایک طرف رکھ کر سائنس، تحقیق اور سیاست کے نئے راستے نکال لیے۔ اور ہم؟ ہم ابھی تک یہ طے کرنے میں لگے ہیں کہ کون سیدھا ہے اور کون الٹا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم سب قرآن کو ہدایت کی کتاب مانتے ہیں، مگر اس کو سمجھنے کے بجائے اکثر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے “پسندیدہ عالم” نے اس کے بارے میں کیا فرمایا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے کبھی یورپ میں لوگ بائبل کم اور پوپ زیادہ پڑھتے تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم نے پوپ کا لفظ بدل دیا ہے، کردار وہی رکھا ہے۔
اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ اختلاف کیوں ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اختلاف کو سنبھالتے کیسے ہیں۔ یورپ نے بڑی قیمت دے کر یہ سیکھا کہ اگر ہر شخص خود کو حق کا آخری نمائندہ سمجھے گا تو نتیجہ جنگ ہی ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم یہ سبق بغیر جنگ کے سیکھ سکتے ہیں؟
ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والی نسلیں ہماری تاریخ پڑھ کر یہ کہیں: “یہ لوگ بھی بڑے دلچسپ تھے—ہر وقت جنت کے نقشے بناتے رہے، مگر دنیا کو جہنم بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی!”






