فلسفہ رواقیت (Stoicism) قدیم یونانی و رومی تاریخ کا ایک اہم ترین فلسفہ ہے جس نے صدیوں تک انسانی اخلاقیات اور طرزِ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔رواقیت کا آغاز تیسری صدی قبل مسیح (تقریباً 300 ق م) میں ایتھنز سے ہوا۔ اس کے بانی زینو (Zeno of Citium) تھے۔ زینو ایک جہاز راں تھے جن کا سامان ایک بحری حادثے میں تباہ ہو گیا تھا۔ اس نقصان نے انہیں فلسفے کی طرف مائل کیا۔ زینو ایتھنز میں ایک عوامی مقام پر درس دیا کرتے تھے جسے "Stoa Poikile" (رنگین برآمدہ) کہا جاتا تھا۔ اسی "Stoa" کی نسبت سے اس مکتبہ فکر کا نام "Stoicism" یا "رواقیت" پڑا۔ یہ فلسفہ یونان سے ہوتا ہوا سلطنتِ روما تک پہنچا، جہاں اسے بے پناہ مقبولیت ملی۔ اس کے مشہور ترین پیروکاروں میں سینیکا (Seneca)، اپیکٹیٹس (Epictetus) اور عظیم رومی بادشاہ مارکس اوریلیئس (Marcus Aurelius) شامل ہیں۔
رواقیت صرف نظریاتی فلسفہ نہیں بلکہ " انسان کے لے جینے کا ایک فن" ہے۔ اس کے بنیادی مباحث درج ذیل ہیں:
1. ضبطِ نفس اور منطق (Logic over Emotion) رواقیوں کا ماننا ہے کہ دکھ اور پریشانی کی اصل وجہ بیرونی حالات نہیں، بلکہ ان حالات کے بارے میں ہمارا اپنا ردِعمل ہے۔ اگر ہم اپنے جذبات پر قابو پا لیں اور منطق یعنی علم و حکمت سے کام لیں، تو ہم ذہنی سکون حاصل کر سکتے ہیں۔






