آرتھر شوپن ہاؤر (Arthur Schopenhauer) (1788–1860) انیسویں صدی کے ایک ممتاز مگر قنوطی (Pessimistic) جرمن فلسفی تھے، جن کے افکار پر یورپ کے سیاسی اور سماجی انتشار کے گہرے اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ انقلابِ فرانس اور نپولین کی جنگوں نے پورے یورپ کو بے یقینی، قتل و غارت اور مایوسی کی فضا میں دھکیل دیا تھا۔ نوجوان نسل کے خواب بکھر چکے تھے؛ کہیں فنکار اور ادیب ناامیدی کا شکار تھے، کہیں مفکرین فطرت، ماضی یا تخیلات میں پناہ تلاش کر رہے تھے۔ اسی ماحول نے شوپن ہاؤر کے اس فلسفے کو جنم دیا جس میں زندگی ایک ایسی جدوجہد نظر آتی ہے جو دکھ، بے معنویت اور مسلسل خواہشات سے عبارت ہے۔
![]() |
| شوپن ہاؤر |
شوپن ہاؤر نے اپنے بنیادی نظریات شہرۂ آفاق کتاب “The World as Will and Idea” (جسے عموماً “The World as Will and Representation” بھی کہا جاتا ہے) میں پیش کیے۔ ان کے نزدیک کائنات کی اصل حقیقت “ارادہ” ہے—ایک اندھی قوت جو انسان کو مسلسل خواہشات میں مبتلا رکھتی ہے اور یوں مکمل سکون کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ اسی سبب وہ زندگی کو بنیادی طور پر تکلیف دہ اور غیر مطمئن سمجھتے تھے۔
ان کی ولادت 22 فروری 1788ء کو جرمن شہر ڈانزگ میں ہوئی۔ ان کے والد ایک مالدار تاجر تھے، جو تیز مزاج مگر آزادی پسند انسان کے طور پر معروف تھے۔ جب ڈانزگ پر غیر ملکی تسلط قائم ہوا تو اس خوددار خاندان نے شہر چھوڑ دیا۔ کچھ عرصے بعد ان کے والد کا انتقال ہوگیا، جس نے شوپن ہاؤر کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس مزید گہرا کر دیا۔ ان کی والدہ ایک معروف ناول نگار تھیں، مگر ماں بیٹے کے تعلقات خوشگوار نہ رہے اور بالآخر دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ روایت ہے کہ جدائی کے وقت شوپن ہاؤر نے کہا کہ “آنے والا زمانہ تمہیں میری وجہ سے پہچانے گا”، اور جرمن شاعر و مفکر گوئٹے نے بھی اس بات کی تائید کی۔
شوپن ہاؤر کی ذاتی زندگی میں تنہائی ایک مستقل سایے کی طرح موجود رہی۔ نہ ان کے سر پر باپ کا سایہ رہا، نہ ماں سے قلبی تعلق قائم ہو سکا، اور نہ ہی انہوں نے شادی کی یا اولاد ہوئی۔ یہی شدید تنہائی اور باطنی کرب ان کے فلسفے میں جھلکتا ہے، جہاں انسان ایک ایسے مسافر کے طور پر دکھائی دیتا ہے جو خواہشات کے صحرا میں بھٹکتا رہتا ہے۔







