مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کی بو میں لپٹا ہوا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ہو یا اس کے پس منظر میں موجود امریکہ کی پالیسی—یہ سب کچھ کسی اچانک حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل استعماری تسلسل کی کڑیاں ہیں۔ اور اس پورے منظرنامے میں مغربی میڈیا کا کردار سوالیہ نشان بن چکا ہے؛ وہی میڈیا جو انسانی حقوق کا علَم بردار بن کر دنیا کو درس دیتا ہے، لیکن جب مظلوم کا تعلق مشرق سے ہو تو اس کی زبان گنگ اور آنکھ اندھی ہوجاتی ہے۔
غزہ کے حالیہ واقعات نے دنیا کے سامنے مغرب کے دوہرے معیار کو بے نقاب کردیا۔ غزہ میں بچوں، عورتوں اور نہتے شہریوں کی ہلاکتوں کو “دفاعِ خود” کا نام دیا جاتا ہے، جبکہ کسی بھی مزاحمت کو “دہشت گردی” قرار دے کر عالمی ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وہ بیانیہ ہے جو مغربی میڈیا مسلسل دہراتا ہے—الفاظ کا ایسا کھیل جس میں قاتل مظلوم اور مظلوم مجرم بنا دیا جاتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم سے لے کر آج تک عالمی طاقتوں کی سیاسی و معاشی بنیاد طاقت کے عدم توازن اور وسائل پر قبضے کی پالیسی پر کھڑی نظر آتی ہے۔ نوآبادیاتی نظام نے ایشیا اور افریقہ کو لوٹا، ان کی معیشتوں کو تباہ کیا اور مصنوعی سرحدیں کھینچ کر مستقل تنازعات کی بنیاد رکھ دی۔ آج اگر مشرقِ وسطیٰ آگ میں جل رہا ہے تو اس آگ کے شعلے ماضی کی انہی پالیسیوں سے بلند ہوئے ہیں۔







