" آج دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو اخلاق اور مقاصد زندگی کی ، یہ صرف انبیاء کرام اور آسمانی کتب میں ہیں ۔ آج دنیا کی تعمیر نو صرف اس طرح ممکن ہے کہ جو وسائل و زرائع جدید دور میں انسانوں نے پیدا کرلیے ان کی مدد سے اور انبیاء اور آسمانی کتب میں موجود انسانیت کے اخلاق اور مقاصد زندگی کی مدد سے دنیا کی تعمیر نو کی جائے ۔" (مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ )
عربی لسانیات اور مدارسِ دینیہ
تعلیمِ دین کا نیا افق — قرآن، سیرت اور عربی پر مبنی بارہ سالہ جامع نصاب کی ضرورت
مسلم معاشروں کا ایک بنیادی المیہ یہ ہے کہ دینِ اسلام، جو اپنی اصل میں ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، تعلیمی میدان میں ایک مربوط اور جامع نظام کی صورت میں موجود نہیں۔ ہم نے دین کو یا تو چند رسومات تک محدود کر دیا ہے یا اسے جزوی علوم میں تقسیم کر کے اس کی وحدت کو کھو دیا ہے۔ نتیجتاً نئی نسل قرآن سے بھی پوری طرح وابستہ نہیں، سیرتِ نبوی ﷺ سے بھی گہرا تعلق نہیں رکھتی، اور عربی زبان—جو دین کی اصل کلید ہے—سے بھی ناواقف ہے۔
یہی وہ خلا ہے جسے پر کرنے کے لیے ایک بارہ سالہ جامع نصاب کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے—ایسا نصاب جو کلاس 1 سے کلاس 12 تک طلبہ کو تدریج، تسلسل اور فکری ارتقاء کے ساتھ دین کے اصل مصادر یعنی قرآن اور سنت و حدیث سے جوڑ دے، اور ساتھ ہی انہیں عربی زبان میں اس درجہ مہارت دے کہ وہ دین کو براہِ راست سمجھ سکیں۔
دین کا اصل ماخذ: نصاب کی بنیاد
یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ دین اسلام کے دو ہی بنیادی مصادر ہیں:
- قرآن مجید — اللہ کی آخری وحی
- سنتِ رسول ﷺ — قرآن کی عملی تفسیر
لیکن ہمارے موجودہ تعلیمی ڈھانچے میں ان دونوں کو الگ الگ، جزوی اور غیر مربوط انداز میں پڑھایا جاتا ہے۔ کہیں صرف ناظرہ قرآن ہے، کہیں ترجمہ، کہیں چند احادیث، اور کہیں سیرت کے واقعات—مگر ایک مربوط فکری نظام مفقود ہے۔
اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ نصاب کی بنیاد ہی ان دو مصادر پر رکھی جائے، اور ہر مضمون، ہر سبق اور ہر مرحلہ انہی کے گرد گھومے۔
بارہ سالہ نصاب: ایک تدریجی فکری سفر
یہ نصاب محض معلومات کی فراہمی نہیں ہوگا بلکہ ایک فکری و روحانی تربیت کا مکمل نظام ہوگا، جسے تین بڑے مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
مدارس اسلامیہ اور ان کی تجدید کاری ۔ حبیب الرحمن اعظمی
مدارس اسلامیہ اور عصری تعلیمی مراکز۔ حبیب الرحمن اعظمی
تاریخ میں دینی مدارس کی ابتداء اور ارتقاء
از:مولانا ڈاکٹر اکرام اللہ جان قاسمی، ڈائریکٹر مرکز تحقیق اسلامی، پشاور صدر
مدرسہ کا مفہوم اوراس کی ابتدائی شکل
مذکورہ بالا تعریف کے مطابق مدرسہ کا وجود اسلام میں سب سے پہلے اہل نیشاپور (ایران) کے ہاں عمل میں آیا جہاں نیشاپور کے علماء نے ”مدرسہ بیہقیہ“ کی بنیاد رکھی تھی۔ نیشاپور میں اس کے علاوہ ایک مدرسہ سلطان محمود عزنوی نے، ایک اس کے بھائی نصر بن سبکتگین نے مدرسہ سعیدیہ کے نام سے قائم کیا تھا اور چوتھا مدرسہ امام ابن فورک (متوفی ۴۰۶ھ) کا وجود میں آیا تھا۔(۲)
دینی مدارس کی رجسٹریشن کا تنازع کیا ہے؟ فرحت جاوید
پاکستانی شہر پیشاور کا خاص مدرسہ جس کے معلم اور طلبہ سبھی نابینا۔
دار الافتاء ڈاٹ انفو۔۔ مختصر تعارف
دار الافتاء دار العلوم دیوبند
دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
دار الافتاء دار العلوم کراچی
دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
دار الافتاء اشرف المدارس کراچی
دار الافتاء خیر المدارس ملتان
دار الافتاء جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم یاسین القرآن کراچی
دار الافتاء صادق آباد
دار الافتاء جامعہ فاروقیہ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
دار الافتاء جامعہ بنوریہ کراچی
دار الافتاء الاخلاص کراچی
دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
مدرسہ اور ’مدرسہ ڈسکورسز- خورشید ندیم
![]() |
| دینی مدارس کی اصلاحات |
دینی تعلیم و تربیت میں زوال اور انیسویں صدی کا انقلابی اقدام
یہ حقیقت مصر کے مشہور عالم شیخ عبدہ نے تسلیم کی ، انہون نے بیروت میں سید جمال الدین افغانی سے 1892ء ملاقات کی ان کے ساتھ ملکر انہوں نے ایک سکیم تیار کی، اسے مرتب کرکے اس وقت ترکی کے شیخ الاسلام کے پاس پھیجی ۔ اس میں شیخ الاسلام کو مشورہ دیا گیا کہ قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) میں ایک نیا مدرسہ اور کالج قائم کیا جائے۔ چانچہ شیخ رشید رضا مصری کے مضامین بھی اس سکیم کا حصہ تھے۔



