دینی مدارس کی اصلاحات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
دینی مدارس کی اصلاحات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

عربی لسانیات اور مدارسِ دینیہ

تحریر: ڈاکٹر ابو البشر احمد طیب

ہمارے مدارسِ دینیہ صدیوں سے علومِ عربیہ کے امین رہے ہیں۔ نحو، صرف اور بلاغت کی جو تعلیم مدارس کے نصاب میں شامل ہے ، وہ کسی اورعصری درسگاہوںکو نصیب نہیں۔ لیکن آج کے بدلتے ہوئے سائنسی تناظر میں ہمیں ایک سنجیدہ سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے: کیا ہمارا عربی نصاب اور طریقۂ تدریس ان جدید لسانی تحقیقات سے ہم آہنگ ہے جو آج کی دنیا میں ایک باقاعدہ "سائنس" بن چکی ہیں؟

آج دنیا "علم اللسان" (Linguistics) کو ایک تجرباتی سائنس کے طور پر پڑھ رہی ہے۔ عالمِ عرب کے نامور شخصیتوں نے اس میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں مثلاً ڈاکٹر ابراہیم انیس، ڈاکٹر تمام حسان اور ڈاکٹر کمال بشر نے اپنی زندگیاں اس کام کے لیے وقف کر دیں کہ وہ عربی زبان کو قدیم خشک اورجامد قواعد کے ڈھانچے سے نکال کر ایک متحرک اور سائنسی علم کے طور پر پیش کریں۔ جن سے ہمارے اہل علم خاص کر مدارس دینیہ کے علماء کرام کا واقف ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

عربی زبان محض ایک ذریعہِ ابلاغ نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ معجزہ ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود باری تعالیٰ نے لیا ہے۔ ہمارے مدارس اور جامعات میں صدیوں سے لغت، نحو اور صرف کے اماموں، جیسے خلیل، سیبویہ، ابنِ جنی اور زمخشری کے کام کو مشعلِ راہ مانا جاتا رہا ہے۔ بلا شبہ، ان اسلاف کا کام عربی زبان کی بنیاد ہے۔ لیکن بیسویں صدی میں مصر اور دیگر عرب ممالک میں علمِ زبان (Linguistics) کے افق پر چند ایسے علماء نمودار ہوئے جنہوں نے اس قدیم ورثے کو جدید سائنسی اصولوں کی روشنی میں پرکھا اور دنیا کو بتایا کہ عربی زبان کے اسرار صرف قواعد کی کتابوں تک محدود نہیں ہیں۔

ان میں سب سے پہلا اور بڑا نام ڈاکٹر ابراہیم انیس کا ہے۔ وہ "امامِ لسانیاتِ جدید" کہلاتے ہیں۔ انہوں نے روایتی نحو کی منطقی بحثوں سے ہٹ کر زبان کا 'صوتیاتی' (Phonetic) جائزہ لیا۔ ان کی تصانیف جیسے "الأصوات اللغوية" اور "من أسرار اللغة" ہمارے علماء کے لیے مطالعہ کے نئے گوشے وا کرتی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اعراب صرف معنی بدلنے کے لیے ہیں۔ ڈاکٹر ابراہیم انیس نے یہ انقلابی نظریہ پیش کیا کہ اعراب کا ایک بڑا مقصد کلام میں صوتی نغمگی اور روانی پیدا کرنا ہے۔

ان کے بعد ڈاکٹر تمام حسان کا نام آتا ہے۔ ان کی کتاب "اللغة العربية: معناها ومبناها" عربی زبان کے طالب علموں کے لیے ایک ایسی بصیرت فراہم کرتی ہے جو روایتی شرحوں میں مفقود ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عربی جملے کی تفہیم صرف 'عامل' پر موقوف نہیں، بلکہ اس کے پیچھے صوتی، معنوی اور نحوی قرائن کا ایک پورا نظام کارفرما ہے۔

اسی طرح ڈاکٹر کمال بشر اور ڈاکٹر عبد الصبور شاہین نے قرآن کریم کی قراتوں کا جو سائنسی اور صوتی مطالعہ پیش کیا، وہ ہمارے قراء اور مفسرین کے لیے علم کا ایک نیا خزانہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لہجوں کا اختلاف محض تلفظ کا فرق نہیں بلکہ اس کے پیچھے لسانی ارتقاء کی ایک طویل تاریخ ہے۔

ہمارے علماء کرام کے لیے یہ بات لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا ہم صرف "کافیہ" اور "شرح جامی" کی منطقی بحثوں تک محدود رہیں گے؟ جبکہ جدید دنیا عربی کے صوتیاتی نظام (Phonetics)، نفسیاتی لسانیات (Psycholinguistics) اور کمپیوٹیشنل لسانیات (Computational Linguistics) پر کام کر رہی ہے۔ جب تک ہم یہ نہیں جانیں گے کہ زبان ایک سماجی اور نفسیاتی مظہر ہے، ہم جدید ذہن کو قرآن و سنت کی زبان سے متاثر نہیں کر پائیں گے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے دینی اور علمی حلقوں میں ابھی تک ان جدید عرب ماہرینِ لسانیات کے کام کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ مستحق تھے۔ ہمارے علماء، جو عربی زبان سے عشق کی حد تک شغف رکھتے ہیں، اگر ان جدید سائنسی نظریات سے واقف ہو جائیں تو وہ نہ صرف عربی زبان کی زیادہ بہتر خدمت کر سکیں گے بلکہ جدید دنیا کے سامنے عربی کے معجزاتی پہلوؤں کو ایک نئے اور علمی انداز میں پیش کرنے کے قابل ہوں گے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب دنیا کمپیوٹر کو عربی سکھا رہی ہے، ہمیں صرف "کافیہ" اور "شرح جامی" کی قدیم شرحوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں اپنے نصاب میں قدیم معتبر مصادر کے ساتھ ان جدید تحقیقات کو بھی جگہ دینی ہوگی۔ یہ جدید علوم ہمیں قرآن و سنت کے اعجاز کو سائنسی انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مدد دیں گے۔

تعلیمِ دین کا نیا افق — قرآن، سیرت اور عربی پر مبنی بارہ سالہ جامع نصاب کی ضرورت

مسلم معاشروں کا ایک بنیادی المیہ یہ ہے کہ دینِ اسلام، جو اپنی اصل میں ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، تعلیمی میدان میں ایک مربوط اور جامع نظام کی صورت میں موجود نہیں۔ ہم نے دین کو یا تو چند رسومات تک محدود کر دیا ہے یا اسے جزوی علوم میں تقسیم کر کے اس کی وحدت کو کھو دیا ہے۔ نتیجتاً نئی نسل قرآن سے بھی پوری طرح وابستہ نہیں، سیرتِ نبوی ﷺ سے بھی گہرا تعلق نہیں رکھتی، اور عربی زبان—جو دین کی اصل کلید ہے—سے بھی ناواقف ہے۔

یہی وہ خلا ہے جسے پر کرنے کے لیے ایک بارہ سالہ جامع نصاب کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے—ایسا نصاب جو کلاس 1 سے کلاس 12 تک طلبہ کو تدریج، تسلسل اور فکری ارتقاء کے ساتھ دین کے اصل مصادر یعنی قرآن اور سنت و حدیث سے جوڑ دے، اور ساتھ ہی انہیں عربی زبان میں اس درجہ مہارت دے کہ وہ دین کو براہِ راست سمجھ سکیں۔

دین کا اصل ماخذ: نصاب کی بنیاد

یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ دین اسلام کے دو ہی بنیادی مصادر ہیں:

  1. قرآن مجید — اللہ کی آخری وحی
  2. سنتِ رسول ﷺ — قرآن کی عملی تفسیر

لیکن ہمارے موجودہ تعلیمی ڈھانچے میں ان دونوں کو الگ الگ، جزوی اور غیر مربوط انداز میں پڑھایا جاتا ہے۔ کہیں صرف ناظرہ قرآن ہے، کہیں ترجمہ، کہیں چند احادیث، اور کہیں سیرت کے واقعات—مگر ایک مربوط فکری نظام مفقود ہے۔

اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ نصاب کی بنیاد ہی ان دو مصادر پر رکھی جائے، اور ہر مضمون، ہر سبق اور ہر مرحلہ انہی کے گرد گھومے۔

بارہ سالہ نصاب: ایک تدریجی فکری سفر

یہ نصاب محض معلومات کی فراہمی نہیں ہوگا بلکہ ایک فکری و روحانی تربیت کا مکمل نظام ہوگا، جسے تین بڑے مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

مدارس اسلامیہ اور ان کی تجدید کاری ۔ حبیب الرحمن اعظمی

ہماری دینی درس گاہوں کا اصل موضوع قرآن وسنت اورفقہ اسلامی ہے انہیں کی تعلیم وتعلّم افہام و تفہیم، تعمیل اتباع اور دعوت و تبلیغ مدارس عربیہ دینیہ کا مقصود اصلی ہے۔ بالفاظ دیگر یہ دینی تعلیمی و تربیتی ادارے علوم شریعت اسلامی کے نقیب اور خاتم الانبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیہم کے فرائض سہ گانہ: تلاوت قرآن، تعلیم کتاب اور تفہیم حکمت وسنت کے وارث ہیں۔

ماضی قریب میں ان تعلیمی مراکز نے اس عظیم امانت کی حفاظت اور اس قابل صد فخر امانت کو اخلاف تک منتقل کرنے میں جو نمایاں کردار ادا کیا ہے وہ ہماری علمی و ثقافتی تاریخ کا ایک زرّیں باب ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف کئے بغیر کوئی منصف مزاج نہیں رہ سکتا۔ آج کے انتشار پذیر اور مادیت کے فروغ کے دور میں بھی یہ اسلامی مدارس اپنے وسائل و ذرائع کے مطابق مصروف عمل ہیں اور ملت اسلامیہ کی اولین واہم ترین ضرورت کی کفالت کررہے ہیں۔ بھلا اس سچائی کا کیسے انکار کیاجاسکتا ہے کہ کفر وفسق کے گھٹاٹوپ اندھیرے اور مذہب بیزاری کے موجود ماحول میں اسلامی تہذیب و معاشرت اور دینی رسوم و عبادات کے جو روشن آثار نظر آرہے ہیں وہ واسطہ و بالواسطہ انہیں درسگاہوں کے جہدوعمل کا ثمرہ ہیں۔

مدارس دینیہ کا یہی وہ کردار ہے جو اسلام بیزار طبقہ کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے، کیونکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ ان مدرسوں کی آزادانہ کارکردگی کا یہ سلسلہ جب تک جاری رہے گا اسلام اور مسلمانوں کی اسلامی شناخت کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال دینے کا ان کا دیرینہ خواب شرمندئہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ اس لئے آج یورپ و امریکہ کی زیرسرپرستی عالمی پیمانہ پر اسلامی درسگاہوں کے نظام تعلیم وتربیت میں ترمیم وتنسیخ کے لئے منصوبہ بند مہم چل رہی ہے۔

یہ سب جانتے ہیں کہ سقوط روس کے بعد ہمارے ملک کی قومی حکومتوں کا جھکاؤ امریکہ کی جانب ہے اور چاروناچار اظہار وفاداری کے لئے انہیں کی آواز میں آواز ملانا ہی پڑتا ہے۔ یہ مدرسہ بورڈ کا قیام بھی غالب گمان یہی ہے کہ اسی اظہار وفاداری کا ایک حصہ ہے۔ اور مدارس کو اس بورڈ سے وابستہ کرکے دراصل انہیں بے جان بنادینے کی ایک شاطرانہ ترکیب ہے۔

مدارس اسلامیہ اور عصری تعلیمی مراکز۔ حبیب الرحمن اعظمی

ہندوستان کی علمی تاریخ سے جو لوگ واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے دور اقتدار میں تعلیم و تدریس کا تمام تر انحصار مسلم حکمرانوں، امراء اور نوابین کی علم پروری، علماء نوازی اور داد ودہش پر تھا، ہر شہر اور قصبات میں سلاطین اور امراء کی جانب سے مدرسے قائم تھے جن کے مصارف کی مکمل ذمہ داری شاہی خزانے پر ہوتی تھی، چنانچہ اجمیر، دہلی، پنجاب، آگرہ، اودھ، بنگال، بہار، دکن، مالوہ، ملتان، کشمیر، گجرات وغیرہ میں اس قسم کی ہزاروں درسگاہیں قائم تھیں، ان باقاعدہ درسگاہوں کے علاوہ علماء شخصی طور پر بھی اپنے اپنے مستقر پر تعلیم وتعلّم کی خدمات انجام دیا کرتے تھے، اور ان علماء کو معاش کی جانب سے بے فکر رکھنے کے لئے دربار شاہی سے مدد معاش کے عنوان سے جاگیریں اور وظائف مقرر تھے۔

مسلمانوں کا یہ نظام تعلیم ۱۸۵۷/ تک قائم رہا، اس نظام تعلیم میں عام طور پر صَرف، نحو، بلاغت، فقہ، اصول فقہ، منطق، کلام، تصوف، تفسیر، حدیث وغیرہ کے علوم وفنون پڑھے پڑھائے جاتے تھے، البتہ حدیث و تفسیر کا فن برائے نام تھا، زیادہ توجہ فقہ و اصول فقہ اور پھر منطق وفلسفہ پر دی جاتی تھی۔

۱۸۵۷/ میں جب ہندوستان سے مسلمانوں کی حکومت کا چراغ گل ہوگیا، اور مسلمانوں کی بجائے سیاسی اقتدار پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا تو یہاں کے عام باشندے اور بطور خاص مسلمان ”انّ الملوک اذا دخلوا قریة افسدوہا وجعلوا اعزة اہلہا اذلة“(۱) کے فطری اصول کا تختہ مشق بن گئے۔

اس سیاسی انقلاب نے مسلمانوں کے اقتصادی، تمدنی اور علمی ودینی نظام کو کس طرح پامال کیا اس کی تفصیل سرولیم ہنٹر نے اپنی کتاب ”آور انڈین مسلمانز“ ہمارے ہندوستانی مسلمان میں کسی قدر بیان کی ہے، انھوں نے ایک جگہ مسلمانوں کی اقتصادی زبوں حالی اور مشکلات پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

حکومت نے ان کے لئے تمام اہم عہدوں کا دروازہ بند کردیا ہے۔ دوسرے ایسا طریقہٴ تعلیم جاری کردیا ہے جس میں ان کی قوم کے لئے کوئی انتظام نہیں ہے تیسرے قاضیوں کی موقوفی نے ہزاروں خاندانوں کو جو فقہ اور اسلامی علوم کے پاسبان تھے بیکار اورمحتاج کردیا ہے، چوتھے ان کے اوقاف کی آمدنی جو ان کی تعلیم پر خرچ ہونی چاہئے تھی غلط مصرفوں پر خرچ ہورہی ہے۔(۱)

تاریخ میں دینی مدارس کی ابتداء اور ارتقاء

از:مولانا ڈاکٹر اکرام اللہ جان قاسمی‏، ڈائریکٹر مرکز تحقیق اسلامی، پشاور صدر

 مدرسہ کا مفہوم اوراس کی ابتدائی شکل

مدرسہ اگر اس معنی میں لیا جائے جس کی اپنی مستقل عمارت ہو، اساتذہ اور طلبہ ہوں اور ایک خاص تعلیمی نظام اور منصوبہ بندی کے تحت علوم و فنون کی تدریس ہوتی ہو، تواس طرح کے مدرسہ کا وجود اسلام کے ابتدائی ادوار میں نہیں تھا اور مسجد ہی تمام مذہبی، علمی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز اور محور تھی۔ زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ حصول علم کے طور طریقے بدلنے لگے۔ علم کے حلقے بڑھ گئے، درس و تدریس اور تکرار کا شور پیدا ہوا اور بحث و مناظروں کی صدائے بازگشت گونجنے لگی، چنانچہ ان چیزوں نے مساجد سے مدارس کو الگ کردیا، کیونکہ مساجد میں ادا کی جانے والی عبادات کے لئے سکون و اطمینان کی فضا ضروری تھی۔(۱)

مذکورہ بالا تعریف کے مطابق مدرسہ کا وجود اسلام میں سب سے پہلے اہل نیشاپور (ایران) کے ہاں عمل میں آیا جہاں نیشاپور کے علماء نے ”مدرسہ بیہقیہ“ کی بنیاد رکھی تھی۔ نیشاپور میں اس کے علاوہ ایک مدرسہ سلطان محمود عزنوی نے، ایک اس کے بھائی نصر بن سبکتگین نے مدرسہ سعیدیہ کے نام سے قائم کیا تھا اور چوتھا مدرسہ امام ابن فورک (متوفی ۴۰۶ھ) کا وجود میں آیا تھا۔(۲)

دینی مدارس کی رجسٹریشن کا تنازع کیا ہے؟ فرحت جاوید

عہدہ,بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
10 دسمبر 2024

اکتوبر 2024 کے آخری ہفتے میں جب پاکستان کی پارلیمان نے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی تو اُس موقع پر جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ’دینی حلقوں کے دو اہم مطالبات‘ پارلیمان سے منظور کروانے پر ملک کے متعدد مذہبی حلقوں اور گروہوں کی جانب سے تحسین پیش کی گئی۔

اُن دو مطالبات میں ایک تو پاکستان سے سود کے نظام کا بتدریج خاتمہ تھا جبکہ دوسرا اہم مطالبہ ملک میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو محکمہ تعلیم کی بجائے پرانے سوسائیٹیز ایکٹ 1860کے ماتحت لانا تھا۔

تاہم دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق بل (سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ 2024) جب پارلیمان سے منظوری کے بعد فائنل منظوری کے لیے ایوانِ صدر پہنچا تو صدر آصف علی زرداری نے اس کے مسودے پر اعتراض لگا کر اسے واپس پارلیمان کو بھیج دیا۔

اور یہیں سے اس معاملے کی ابتدا ہوئی جس کے پس منظر میں جے یو آئی ف کے چند رہنماؤں کی جانب سے گذشتہ دنوں ’مطالبات کی منظوری کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ‘ کی بات کی گئی جبکہ گذشتہ روز (نو دسمبر) کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں مولانا نے حکمراں اتحاد پر الزام عائد کیا کہ وہ ’علما کو تقسیم کرنے کی سازش‘ پر عمل پیرا ہے۔مولانا حالیہ دنوں میں یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ ان کی جماعت حکومت کی جانب سے دینی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملات میں مداخلت کو قبول نہیں کرے گی۔

یہاں اہم سوالات یہ ہیں کہ آخر دینی مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ ہے کیا؟ نئے ترمیمی بِل میں رجسٹریشن سے متعلق کیا بات کی گئی ہے اور آخر اس معاملے نے حکومت کے اتحادی مولانا فضل الرحمان کو حکمراں اتحاد کے سامنے کیوں کھڑا کر دیا ہے؟

پاکستانی شہر پیشاور کا خاص مدرسہ جس کے معلم اور طلبہ سبھی نابینا۔

پشاور میں تین دہائی قبل قائم کیے جانے والے ایک مدرسے کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کے معلم اور طلبہ سبھی نابینا ہیں۔ یہ مدرسہ اب تک ہزاروں طلبہ کو دینی تعلیم کی دولت سے مالا مال کر چکا ہے۔



 

دار الافتاء ڈاٹ انفو۔۔ مختصر تعارف

دار الافتاء ڈاٹ انفو-مختصر تعارف
- دیوبند مکتبہ فکر کے مختلف دار الافتاؤں کے فتاوی سے استفادہ کرنے کے لئے ایک منفرد سرچ انجن۔ 
- دنیا بھر کے دیوبند مکتبہ فکر کے دار الافتاؤں کی ویب سائٹس پر موجود فتاوی یکجا کیا گیا ۔ 
- تمام فتاوی یونیکوڈ، پی ڈی ایف فارمیٹ میں دستیاب۔
- مستند با حوالہ فتاوی
درج ذیل دارالافتاوں کی ویپ سائٹس دیکھیں 

دار الافتاء دار العلوم دیوبند
دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
دار الافتاء دار العلوم کراچی
دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
دار الافتاء اشرف المدارس کراچی
دار الافتاء خیر المدارس ملتان
دار الافتاء جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم یاسین القرآن کراچی
دار الافتاء صادق آباد
دار الافتاء جامعہ فاروقیہ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
دار الافتاء جامعہ بنوریہ کراچی
دار الافتاء الاخلاص کراچی
دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

مدرسہ اور ’مدرسہ ڈسکورسز- خورشید ندیم

دینی مدارس کی اصلاحات
یہ ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں، دینی مدارس کے حوالے سے دو مختلف سرگرمیاں، ایک ساتھ جاری تھیں۔

ایک سرگرمی جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کے ساتھ دینی مدارس کے ذمہ داران کی سات گھنٹے پر محیط ملاقات تھی۔ دوسری سرگرمی کا تعلق 'مدرسہ ڈسکورسز‘ سے تھا۔ جنرل صاحب نے اتحاد تنظیمات المدارس کے ذمہ داران اور بعض دیگر مذہبی شخصیات کو مدعو کیا تھا تاکہ وہ دینی مدارس میں اصلاحات کے لیے ان حضرات کی راہنمائی فرمائیں۔ ایسی ہی راہنمائی وہ اس سے پہلے قومی معیشت کے ذمہ داران کو بھی فراہم کر چکے جو اب ان کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہتے ہیں۔ 

مدارس کے باب میں ریاست کا موقف ظاہر و باہر ہے۔ ریاست سمجھتی ہے کہ مدارس کے نصاب میں فزکس‘ کیمسٹری اور انگریزی یا کمپیوٹر کی تعلیم شامل کرنے سے مدرسے کی 'اصلاح ‘ ہو جائے گی۔ اس لیے ہر دور میں ریاست مدارس سے یہی مطالبہ کرتی آئی ہے۔ بعض صاحبانِ عقل و دانش اس پر یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ القاعدہ یا داعش کے پاس کیا انگریزی یا کمپیوٹر کی تعلیم کم تھی؟ اصلاح کی اس تجویز پر میں اتنا لکھ چکا ہوں کہ مزید کچھ کہنا تحصیلِ حاصل ہے۔

دینی تعلیم و تربیت میں زوال اور انیسویں صدی کا انقلابی اقدام

بیرن توسی ایک مسیحی عالم نے انیسوی صدی میں ممالک اسلامیہ کا سفر کیا اس نے گیارہ جلدوں میں اپنا سفر نامہ مرتب کیا پھر خاص اہتمام سے مصر سے چھپوایا ۔  اس نے خاص کر اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا  کہ جن طریقوں پر اسلامی اور عربی علوم کا نظام تعلیم رائج ہے وہ کامیاب نہیں ہوسکتا ۔

 یہ حقیقت  مصر کے مشہور عالم  شیخ عبدہ نے تسلیم کی ،  انہون نے بیروت میں سید جمال الدین افغانی سے 1892ء ملاقات کی ان کے ساتھ ملکر  انہوں نے  ایک سکیم تیار کی،  اسے مرتب کرکے  اس وقت  ترکی کے شیخ الاسلام کے پاس پھیجی ۔ اس میں شیخ الاسلام کو مشورہ دیا گیا کہ قسطنطنیہ (موجودہ  استنبول) میں ایک نیا مدرسہ اور کالج قائم کیا جائے۔  چانچہ شیخ رشید رضا مصری کے مضامین بھی اس سکیم کا حصہ تھے۔