حیوانات کی دنیا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
حیوانات کی دنیا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

کیا ہم مرغی کے پنجے کھا سکتے ہیں اور یہ چکن کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں خاص کیوں ہیں؟

بی بی سی تامل
10 مئ 2026

جب ہم مرغی خریدنے جاتے ہیں تو بہت سے لوگ شاید کہتے ہوں گے کہ کلیجی، گردن، جگر نہیں چاہیے اور لیگ پیس یا سینہ ہی چاہیے لیکن دکاندار سے اس مکالمے میں ہم مرغی کے پنجوں کو سرے سے نظر انداز ہی کر دیتے ہیں۔

کیا ہم نے کبھی اس پر غور کیا ہے کہ مرغی کے پنجے کتنے فائدہ مند ہیں؟

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مرغی کے پنجے اس کی کھال کی طرح فضول چیز ہیں لیکن سنگا پور میں مرغی کے پنجے چار سنگا پورین ڈالر فی کلو فروخت ہوتے ہیں۔ پاکستانی کرنسی میں یہ 900 روپے فی کلو بنتے ہیں۔

یہ جنوبی افریقہ اور میکسیکو میں مرغی کے گوشت سے بھی مہنگے ہیں۔

دنیا بھر میں چکن کے پنجوں کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ ویتنام، چین اور ازبکستان جیسے ممالک اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی مقدار میں چکن کے پنجے درآمد کرتے ہیں۔ سال 2022 میں امریکہ نے چین کو تقریباً ایک لاکھ 33 ہزار میٹرک ٹن چکن کے پنجے برآمد کیے تھے۔
چکن کے پنجے، جنھیں اکثر فضول سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے، دنیا کے دوسرے حصوں میں اتنے قیمتی کیوں ہیں؟ ان میں کون کون سے غذائی اجزا پائے جاتے ہیں؟

چکن کے پنجوں میں پائے جانے والے غذائی اجزا

اگرچہ کئی ممالک میں چکن کے پنجوں کو فضول سمجھا جاتا ہے لیکن امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق ان میں کئی ضروری غذائی اجزا اور صحت کے لیے فائدہ مند خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

سوئی کی نوک سے بھی چھوٹا مکھی کا دماغ جہاں سے ملنے والے رازوں نے سائنسدانوں کو حیرت میں مبتلا کیا

پلب گھوش  ( نامہ نگار برائے سائنس، بی بی سی) 


وہ پیروں کے بل چل سکتی ہیں، اُڑ سکتی ہیں، اور نر مکھی تو مادہ مکھی کا دل جیتنے کے لیے پیار بھرے گیت بھی گا سکتی ہے۔ اور یہ سب کچھ ایک ایسے دماغ کی مدد سے ممکن ہوتا ہے جو سوئی کی نوک سے بھی چھوٹا ہوتا ہے۔

پہلی بار سائنسدانوں نے تحقیق کے دوران مکھی کے سوئی کی نوک سے بھی چھوٹے دماغ میں موجود ایک لاکھ 30 ہزار خلیوں کی شکل، مقام اور حتیٰ کہ مکھی کے دماغ میں موجود پانچ کروڑ سے زیادہ ’کنکشنز‘ یعنی رابطوں کی غیر معمولی نشان دہی کی ہے۔

یہ کسی بھی بالغ کیڑے (حشرات) کے دماغ کا کیا گیا اب تک کا سب سے تفصیلی سائنسی جائزہ ہے جسے ماہرین نے انسانی دماغ کو سمجھنے کے عمل میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔ مکھی کے دماغ پر تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ کا دعویٰ ہے کہ اس سائنسی جائزے سے ’سوچنے کے عمل سے متعلق مزید تفصیلات معلوم ہوں گی۔‘

مہمان پرندوں کی ہائی پاور ٹرانسمیشن لائنز سے ٹکرا کر ہلاکتوں کے حوالے سے ایک تحقیق اور واڈلا کونج کی کہانی

 بی بی سی اردو ، 21 مئ 2021

 کونجیں اور دیگر پرندے موسم سرما گزارنے کے لیے روس اور آس پاس کے علاقوں سے جنوبی ایشیا کا رخ کرتے ہیں-

بھارت کے وائلڈ لائف انسٹیٹیوٹ دہرہ دون کے ماہرین نے سنہ 2020 میں موسمِ سرما گزارنے کے لیے آنے والے مہمان پرندوں کی ہائی پاور ٹرانسمیشن لائنز سے ٹکرا کر ہلاکتوں کے حوالے سے ایک تحقیق شروع کی تھی اور اسی تحقیق کے لیے انڈیا کی ریاست گجرات کے علاقے واڈلا میں مارچ 2020 میں پہنچنے والی ایک مادہ کونج میں جی پی ایس ٹرانسمیٹر نصب کیا گیا تھا۔ کونج کو واڈلا کا نام اسی علاقے کی نسبت سے دیا گیا تھا۔

وائلڈ لائف انسٹیٹیوٹ دہرہ دون کے ڈاکٹر سریش کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک سال سے زائد عرصہ تک ٹرانسمیٹر کی مدد سے ہر دس منٹ بعد واڈلا کے سفر کی معلومات حاصل کی جاتی رہی ہیں جس سے پہلی مرتبہ کونجوں کی سرمائی نقل مکانی کے حوالے سے بنیادی اور اہم معلومات حاصل ہو سکی ہیں۔

ڈاکٹر سریش کا کہنا ہے کہ ’واڈلا اس عرصے میں موسم سرما اور گرما اپنی روایتی آماجگاہوں میں گزارنے کے بعد مخصوص راستوں پر سفر کرتی رہی اور جب وہ رواں برس اپریل میں صوبہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں مانی ہور کے مقام پر موجود تھی تو اس کی آخری لوکیشن ہمیں موصول ہوئی جس کے بعد رابطہ ختم ہو گیا۔‘

ڈاکٹر سریش کمار کے مطابق واڈلا سے حاصل ہونے والا ڈیٹا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ’اس سے ہمیں اس کے روٹ کے علاوہ کچھ بنیادی معلومات حاصل ہوئی ہیں جو اس سے پہلے منظرِ عام پر نہیں آئی تھیں۔ اس کی اہمیت کا اندازہ صرف اس بات سے لگا لیں کہ اگر برسوں پہلے ہمارے پاس جدید ٹیکنالوجی ہوتی اور اس کی مدد سے سربیائی کونجوں کے بارے میں معلومات حاصل کی گئی ہوتیں تو پاکستان اور انڈیا کے علاوہ پورے خطے میں ان کا تحفظ ممکن ہو سکتا تھا۔