‏گوشۂ سلیمان ندوی ؒ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏گوشۂ سلیمان ندوی ؒ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بیسویں صدی کے ہمارے اسلاف کے خواب اور آج کے عالمِ اسلام کا سیاسی منظرنامہ

  موجودہ عالم اسلام کا نقشہ ( اے ای تخلیق)
تاریخ کی بساط پر جب قومیں مصلحتوں کی چادر اوڑھ کر سو رہی ہوتی ہیں، تو کچھ بیدار مغز اور دور اندیش آنکھیں زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہو کر مستقبل کا نقشہ دیکھ رہی ہوتی ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ کی بیدار ہوتی ہوئی فضاؤں، فلسطین و لبنان کے مظلوموں کی بے مثال شجاعت اور عالمِ اسلام کے عوام میں انگڑائی لیتے ہوئے حریت کے نئے جذبوں کو دیکھ کر دل گواہی دیتا ہے کہ یہ محض کوئی وقتی یا جذباتی ابھار نہیں ہے۔ یہ دراصل ہمارے ان بزرگوں کے خوابوں کی تعبیر ہے جنہوں نے ایک صدی قبل، مایوسی کے اندھیروں میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑا تھا اور امت کے روشن مستقبل کی پیشگوئی کر دی تھی۔

اگر ہم بیسویں صدی کے آغاز کا موازنہ آج کے اکیسویں صدی کے حالات سے کریں، تو ایک حیرت انگیز فکری تسلسل نظر آتا ہے۔ تحریکِ خلافت کے دوران جب برصغیر کے مسلمان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے، اسی دوران جلیل القدر عالم اور مؤرخ علامہ سید سلیمان ندویؒ نے یورپ کا سفر کیا۔ انہوں نے لندن سے لکھے گئے اپنے خطوط کے مجموعے 'بریدِ فرنگ' (*) میں ایک ایسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا جو آج کے حالات پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ انہیں اس بات سے تسکین نہیں ہو رہی کہ ترکی پھر جی اٹھے گا، بلکہ وہ 'بوڑھے اسلام' کے بجائے ایک 'نوجوان اسلام' کو پیدا ہوتے دیکھ رہے ہیں، جس میں ممالکِ اسلامیہ کی حریت طلبی اور آزادی کی کوششیں صاف نظر آ رہی ہیں۔ ان کا یہ ماننا تھا کہ روس کی خاکستر سے اٹھنے والے نئے اسلامی شعلے اب مخالف ہواؤں کے جھونکوں سے بجھ نہیں سکتے۔  انہوں نے اپنے ایک  مکتوبات میں جنگِ عظیم اول کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کی بقا اور اسلامی مقاماتِ مقدسہ کے تحفظ کے لیے کی جانے والی سفارتی جدوجہد میں ناکامی کے آثار دیکھ  کر لکھا ہے : 

"مجھے تو یہاں آ کر جس بات سے تسکین ہوئی، وہ یہ نہیں ہے کہ ترکی پھر جی اٹھے گا، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ بوڑھے اسلام کے بجائے اب ایک نوجوان اسلام پیدا ہوتا میں دیکھ رہا ہوں، ممالکِ اسلامیہ کی حریت طلبی اور آزادی کے لئے ترکیب کوششوں کے آثار صاف نظر آ رہے ہیں، آج کل لندن میں نوجوانِ مصر کا وفد استقلالِ مملکت کی سند حاصل کر رہا ہے، فرانس میں ٹیونس کا وفد ان ہی اغراض سے مقیم ہے، رُوس کی خاکستر سے جو نئے شعلے (نئی اسلامی ریاستیں) اُٹھ رہے ہیں،۔۔ وہ بارِ مخالف کے جھونکوں سے بجھ نہیں سکتے۔صلح کے انعقاد تک ہم لوگوں کا قیام یہاں ضروری ہے اور آخر وقت تک انشاء اللہ مایوس نہ ہوں گے۔ بلکہ انعقادِ صلح کے بعد بھی ہمارے مطالبات اور ہمارے مساعی آخر وقت تک قائم رہیں گے۔ ہم نے اعلان کیا ہے کہ قسطنطنیہ یا دلی، انگریزوں کو یہ دونوں نہیں مل سکتے۔"  (برید فرنگ، صفحہ 127-128 از سید سلیمان ندویؒ، مطبع دار المصنفین اعظم گڑھ، سنہ 1986)

برید فرنگ از علامہ سید سلیمان ندوی

(نوٹ : "بریدِ فرنگ" علامہ سید سلیمان ندوی ؒ  کے ان تاریخی خطوط کا مجموعہ ہے جو انہوں نے 1920ء میں تحریکِ خلافت کے وفد کے رکن کی حیثیت سے یورپ (انگلستان اور فرانس) کے سفر کے دوران ہندوستان میں اپنے رفقاء، خاص طور پر دار المصنفین اعظم گڑھ کے ساتھیوں کو لکھے تھے۔ فارسی میں "برید" کے معنی ڈاک یا قاصد کے ہیں، اس لیے فرنگ (یورپ) سے بھیجی گئی اس علمی و سیاسی ڈاک کو "بریدِ فرنگ" کا نام دیا گیا۔ ان مکتوبات میں جنگِ عظیم اول کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کی بقا اور اسلامی مقاماتِ مقدسہ کے تحفظ کے لیے کی جانے والی سفارتی جدوجہد، برطانوی حکام سے ملاقاتوں کے احوال، اور وفد کی سرگرمیوں کو نہایت تفصیل سے قلمبند کیا گیا ہے۔ سید سلیمان ندوی نے ایک حساس عالمِ دین اور گہرے مبصر کی نظر سے یورپی طرزِ تمدن اور وہاں کے معاشرے کا تنقیدی مشاہدہ کرنے کے ساتھ ساتھ خطوط میں دار المصنفین کے علمی کاموں اور رسالہ "معارف" کی اشاعت سے متعلق ہدایات بھی شامل کی ہیں۔ اپنے سادہ، سلیس اور دلکش اسلوب کی وجہ سے یہ مجموعہ محض روایتی خطوط نہیں بلکہ ایک تاریخی سفرنامے اور ڈائری کی حیثیت رکھتا ہے، جو بیسویں صدی کے آغاز میں مسلم بیداری، بین الاقوامی سیاست اور ہندوستانی مسلمانوں کی ملی تڑپ کا ایک گراں قدر تاریخی اور ادبی دستاویز ہے۔ یہاں اس مجموعہ خطوط کا پس منظر پیش خدمت ہے جومصنف نے لکھا ہے )

آج ۱۹۵۱ء ہے، آج سے بتیس برس پہلے ۱۹۲۰ء تھا، ہماری کہانی اسی سال کی دُنیا سے تعلق رکھتی ہے، جب ۱۹۱۴ء، ۱۹۱۸ء والی جنگِ عظیم ختم ہو چکی تھی، اور ایران سے لے کرتھریس ( تونس) تک ساری دنیائے اسلام اتحادیوں کے ہاتھوں پامال ہو رہی تھی۔

۱۸۵۷ء کے بعد مسلمانوں کی سیاسی بیداری کا آغاز ۱۹۰۱ء سے شروع ہوتا ہے بوڑھوں میں اس کے پہلے محرک سرسید کے رفقائے خاص میں سے ان کے جانشین دوم و قارالملک اور نوجوانوں میں پٹنہ کے مشہور بیرسٹر مظہرالحق تھے، دونوں نے مل کر جیسا کہ مظہرالحق صاحب مرحوم نے مجھ سے کہا مسلم لیگ کا خاکہ تیار کیا اور ۱۹۰۶ء میں مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے اجلاس کے ساتھ ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ خان کی قیادت میں اس کے مستقل وجود کا اعلان کیا گیا، یہ ملکی سیاست کے میدان میں مسلمانوں کا سب سے پہلا قدم تھا۔ اُس کے بعد اسی کانفرنس کے ساتھ اس کے رو کے پھیکے جلسے سال بسال ہونے لگے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو ملکی سیاست سے دلآویزی پیدا نہیں ہوتی تھی اور اس کی کھلی وجہ یہ تھی کہ ان کو صاف نظر آتا تھا کہ آج کل کے  اصول سیاست او ںظام جمہوریت کے مطابق جو حکومت بھی ہندوستان میں قائم ہوگی اس میں مسلمانوں کی حیثیت محکومانہ ہوگی اور زیادہ سے زیادہ جو مسلمان کر سکتے تھے وہ یہ تھا کہ ملازمتوں میں استحقاق کے مطابق  اور کونسلوں کی ممبریوں میں کچھ استحقاق سے زیادہ جگہ حاصل کرلیں اور یہی اس زمانہ کے مسلم لیگ کی سیاست تھی۔ عام مسلمانوں کو اس سیاست سے کچھ زیادہ دلچسپی نہ تھی بلکہ ان کی تمام تر دلچسپیاں بین الاقوامی سیاست میں خلافتِ عثمانیہ میں تھیں جس سے مسلمان دنیا  میں اپنی ملی عزت و احترام کو  وابستہ سمجھتے تھے، اور جو سلطانِ حرمین محترمین کا خادم اور اسلامی مقاماتِ مقدسہ کا محافظ تھا۔

ماہنامہ معارف - دارالمصنفین، شبلی اکیڈمی ، اعظم گڑھ

ماہنامہ "معارف" ہندوستان کے علمی و تحقیقی ادارے دار المصنفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ کا ماہانہ علمی و تحقیقی جریدہ ہے، جسے سید سلیمان ندوی نے جولائی ۱۹۱۶ میں جاری کیا تھا۔ اس کا مقصد مذہب و فلسفہ و فکر کی ترجمانی اور نئی تحقیق اور تازہ خیالات کا فروغ عام ہے۔ اس رسالے نے علمِ مذہبی کے ارتقا کو منظر عام پر لانے، اکابرِ سلف کی سوانح عمریوں کو مرتب کرنے اور حکمتِ اسلامی پر تحقیقی مضامین پیش کرنے میں فوقیت حاصل کی۔ نیز مباحث و انتقاداتِ ادب میں اپنے بلند معیار کو برقرار رکھا اور قارئین کم ہونے کے باوجود اس رسالے کی روشنی اب تک قائم ہے۔ ماضی میں الطاف حسین حالی، عبد السلام ندوی، پروفیسر نواب علی، شیخ عبد القادر، عبد الماجد دریابادی، اقبال احمد سہیل، ڈاکٹر محمد اقبال اور نیاز فتحپوری جیسے زعما اس کے مقالہ نگاروں میں شامل تھے۔ معارف کی ادبی خدمات اس دور کے متعدد رسائل سے زیادہ ہیں۔ سلیمان ندوی نے "معارف" کے مقاصد پر کچھ اس طرح روشنی ڈالی ہے، "فلسفہ حال کے اصول اور اس کا معتد بہ حصہ پبلک میں لایا جائے۔ عقائد اسلام کو دلائل عقلی سے ثابت کیا جائے، علوم قدیمہ کو جدید طرز پراز سر نوترتیب دیا جائے، علوم اسلامی کی تاریخ لکھی جائے اور بتایا جائے کہ اصل حصہ کہا ں تک تھا اور مسلمانوں نے اس پر کیا اضافہ کیا، علوم مذہبی کی تدوین اور اس کے عہد بہ عہد کی ترقیوں کی تاریخ ترتیب دی جائے، اکابر سلف کی سوانح عمریاں لکھی جائیں، جن میں زیادہ تر ان کے مجتہدات اور ایجادات سے بحث ہو، عربی زبان کی نادر الفن اور کم یاب کتابوں پر ریویو لکھے جائیں، اور دیکھا جائے کہ ان خزانوں میں ہمارے اسلاف نے کیا کیا زرو جواہر امانت رکھے ہیں اور سب سے آخر لیکن سب سے اول یہ کہ قرآن مجید سے متعلق، عقلی، ادبی، تاریخی، تمدنی اور اخلاقی مباحث جو پیدا ہوگئے ہیں، ان پر محققانہ مضامین شائع کیے جائیں۔" (ماہنامہ معارف جولائی ۱۹۱۶ء ص ۵) "معارف" کے ادبی حصہ میں جن شعرا کے کلام شائع ہوتے تھے ان میں مولانا محمد علی جوہر، اقبال سہیل، مولانا آزاد سبحانی، علامہ اقبال، اکبرالہ آبادی، اصغر گونڈوی، مولانا عبدالسلام ندوی، روش صدیقی، فراق گورکھ پوری، حسرت موہانی، فانی بدایونی اور جگر مرادآبادی جیسے شعرا شامل رہے ہیں۔ ماہنامہ "معارف" کی اردو ادبی تحقیقات کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔۱۔ قلمی نسخوں اور نادر مطبوعات سے متعلق مقالات و مضامین۔ ۲۔ ادبا وشعرا کے احوال سے متعلق تحریریں۔۳ - متفرق تحقیقی موضوعات۔ ۴- ذخیرہ ہائے مخطوطات کا تعارف اور۵۔ اردو شعرا کے تذکروں سے متعلق مقالات۔

ترتیب بہ اعتبار : شمارہ نمبر

علامہ شبلی ؒ کے خطوط بنام مولوی سید ابوظفر دسنوی ندوی کےنام

( اس میں خطوط کے خاص حصے شامل ہیں )
(1)

یک عیسائی نے مکتوب الیہ سے سور کی وجہ حرمت پوچھی تھی ، مکتوب الیہ نے مولانا سے دریافت کیا۔

علامہ شبلی نے جواب میں لکھا : 

 " سور کے چند خصائل بد ہیں ، قرآن مجید میں تو صاف حرمت کی تصریح ہے ، " حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ (1)   توریت (2) و انجیل کا حال مجھ کو معلوم نہیں ، عوام کو رام کرنا تو بہت آسان ہے ، آنحضرت ﷺ کے صحیح اخلاق ، تواضع،  فیاضی ، عفو وغیرہ کا بیان مؤثر طرح کیا جائے تو عوام پر بھی نہایت قوی اثر ہوتا ہے " 

( شبلی ، 6 جنوری 1912ء) 


(2) 

" سور نہایت بے عزت جانور ہے ، کوئی جانور ایسا نہیں ہے کہ اپنی جفت کی نسبت اس کی عزت نہ ہو اور دوسرے سے اس کا تعلق پسند کرے ، لیکن سور اس سے مستثنی ہے ، اس کے علاوہ طبعََا اس کی غذا فضلہ ہے ، اور وہ نہایت ذوق سے کھاتا ہے ، مجھ کو خود مشاہدہ گزرا ہے۔

حضرت عیسی ؑ نے شادی نہیں کی تو یہ ان کی رہبانیت تھی ، ان کی یہ عام تعلیم تھی ، ان کا مقولہ ہے کہ " سوئی کے ناکے سے اونٹ نکل سکتا ہے ، لیکن صاحب دولت خدا کی سلطنت میں داخل نہیں ہوسکتا " شادی نہ کرنا تمدن کے خلاف ہے ، اس لیے وہ کسی خاذص آدمی کے لیے جائز ہو سکتا ہے ، لیکن سوسائٹی کے لیے مضر ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے 53 برس تک خدیجہ (رض) کے سوا جو شادی کے دن 40 برس کی تھیں ، کسی سے شادی نہیں کی ، یہ شباب کا بلکہ انحطاط کا زمانہ ہے ، اس لیے اگر مقصود ہوس نفس ہوتی تو اس زمانہ میں اور شادیاں کی ہوتیں ، جو شادیاں کیں اکثر پولیٹکل تھیں ، یعنی ان کے ذریعہ سے بڑے بڑے عرب کے قبائل سے اتحاد پیداہوا ، اور ان میں اسلام پھیلا، 
ازواج مطہرات (رض ) کے تفصیلی حالات دیکھو تو صاف معلوم ہوجائےگا ، اس بحث پر سر سید و مولوی امیر علی نے اچھا لکھا ہے ، کم ازکم مولوی امیر علی اور سر سید کی تصنیفات پڑھنی چاہیے  " 

(شبلی ، 23 جنوری 1912)


قرآن اور حدیث کا باہمی تعلق اور تدوین حدیث

 مولانا سید سلیمان ندویؒ 

علم القرآن اسلامی علوم میں دل کی حیثیت رکھتا ہے تو علم حدیث شہ رگ کی۔ یہ شہ رگ اسلامی علوم کے تمام اعضاء و جوارح تک خون پہنچا کر ہر آن ان کے لئے تازہ زندگی کا سامان پہنچاتا رہتا ہے، آیات کا شانِ نزول اور ان کی تفسیر، احکام القرآن کی تشریح و تعیین، اجمال کی تفصیل ، عموم کی تخصیص، مبہم کی تعیین، سب علم حدیث کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے، اسی طرح حامل قرآن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت اور حیاتِ طیبہ، اور اخلاق و عاداتِ مبارکہ، اور آپ کے اقوال و اعمال اور آپ کے سنن و مستحبات اور احکام و ارشادات اسی علم حدیث کے ذریعہ ہم تک پہنچے ہیں۔ اسی طرح خود اسلام کی تاریخ ، صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ کے احوال اور ان کے اعمال و اقوال اور اجتہاد و استنباطات کا خزانہ بھی اسی کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے، اس بنا پر اگر یہ کہا جائے تو صحیح ہے کہ اسلام کے عملی پیکر کا صحیح مرقع اسی علم کے بدولت مسلمانوں میں ہمیشہ کے لئے موجود و قائم ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ تا قیامت رہے گا۔