" آج دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو اخلاق اور مقاصد زندگی کی ، یہ صرف انبیاء کرام اور آسمانی کتب میں ہیں ۔ آج دنیا کی تعمیر نو صرف اس طرح ممکن ہے کہ جو وسائل و زرائع جدید دور میں انسانوں نے پیدا کرلیے ان کی مدد سے اور انبیاء اور آسمانی کتب میں موجود انسانیت کے اخلاق اور مقاصد زندگی کی مدد سے دنیا کی تعمیر نو کی جائے ۔" (مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ )
کوانٹم فزکس اور قرآن مجید : یقین، امکان اور حقیقت کے نئے افق
سجدۂ کائنات: اللہ کی عظمت ورضا کا پیغام
کائنات کی ہر شے میں ایک بے آواز سرگوشی ہے، ایک پُر اسرار گواہی جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہ ساری عظمت، یہ ساری زندگی، صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے ہے۔ آسمان، زمین، دریا، ہوا، درخت، پرندے، اور حتیٰ کہ ہمارے دلوں کی دھڑکنیں بھی ایک ہی ہنر میں جُڑی ہوئی ہیں—سجدہ۔ سجدہ، جو نہ صرف جسمانی عمل ہے، بلکہ ایک گہرا روحانی پیغام بھی ہے، جو ہمیں اپنی حقیقت اور اس کائنات کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ نے ہمیں یہ حقیقت بتائی ہے کہ "آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہے" (سورۃ الرعد 15)۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک مکمل کائناتی حقیقت ہے جس میں چھپے ہیں بے شمار راز اور پیغامات۔ ان رازوں کی گہرائی میں جا کر ہم ایک نئی حقیقت کو دریافت کرتے ہیں: اللہ کی حکمت، اس کا نظام، اور اس کی بے پناہ عظمت۔
اللہ کی تسبیح میں ڈوبی کائنات
کائنات ایک ایسی نظم ہے جو ہر لمحہ اپنے خالق کی عظمت کو تسلیم کرتی ہے۔ ہر ستارہ، ہر درخت، ہر دریا، ہر بادل، اور حتی کہ خاموشی بھی اپنی تسبیح میں مصروف ہے۔ جیسے کوئی گہری رات ہو، اور چاند کی چمک میں سچائی کی جھرمٹ چھپی ہو، ویسے ہی یہ پوری کائنات اپنی سچائی میں ڈوبی ہوئی ہے—اللہ کی تسبیح میں۔ ہم میں سے ہر ایک، جو اس کائنات کا جزو ہے، کسی نہ کسی طریقے سے اس عظمت کے سامنے جھکا ہوا ہے۔
میرے دل میں ایک عجیب سی بات چلی آتی ہے، جب میں صبح کے وقت سورج کی پہلی کرن کو اپنی آنکھوں میں جذب کرتا ہوں، تو کیا یہ کرن بھی اللہ کی تسبیح کر رہی ہے؟ کیا یہ درخت جو اپنے پتے ہوا کے ساتھ رقص کرتے ہیں، اور یہ دریا جو اپنی گہرائیوں سے چپ چاپ گزر رہے ہیں، اللہ کے کلام کی گواہی دے رہے ہیں؟ یہ سب تسبیح میں مصروف ہیں، اور شاید ہم ہی ہیں جو اس حقیقت سے غافل ہیں۔
کائنات کی ہر ذی روح، چاہے وہ جاندار ہو یا بے جان، ایک لحن میں ہم آواز ہے۔ بادلوں کی گرج میں، درختوں کی سرسراہٹ میں، اور ہواؤں کی سرگوشیوں میں اللہ کا ذکر چھپاہوا ہے۔ یہ تسبیح کوئی لفظی اذکار نہیں، بلکہ ایک مسلسل عبادت ہے جس میں پوری کائنات کی زبان خاموش ہے، اور صرف دل کی گہرائیوں سے ادا ہوتی ہے۔ اگر ہم اس حقیقت کو سمجھیں، تو ہماری زندگی کی حقیقت تبدیل ہو جائے گی۔ شاید پھر ہم نہ صرف اپنی زندگی کی تسبیح کر سکیں، بلکہ ہر پل، ہر لمحہ، اور ہر عمل کو ایک عبادت بنا سکیں۔
نوام چومسکی کا فطری نظریہ لسانیات (Universal Grammar) کیا ہے ؟
نوام چومسکی کا نظریہ گرامر (یا نظریہ لسانیات) جدید لسانیات میں ایک انقلاب کا باعث بن چکا ہے۔ اس نے زبان کی فطری نوعیت کو سمجھنے کی نئی راہیں ہموار کیں اور لسانیات کے مطالعے کو صرف سماجی اور ثقافتی اثرات تک محدود کرنے کی بجائے، زبان کے اندر موجود داخلی، قدرتی ساخت کی طرف بھی توجہ مرکوز کی۔ ان کا یہ نظریہ زبان کو انسانی دماغ کی ایک فطری صلاحیت کے طور پر دیکھتا ہے اور اس میں مختلف اہم اجزاء شامل ہیں:
1. فطری لسانی صلاحیت (Innateness Hypothesis)
چومسکی کے مطابق، انسانوں میں زبان سیکھنے کی ایک فطری صلاحیت موجود ہے، جو جینیاتی طور پر وراثت میں ملتی ہے۔ ان کے اس نظریے کو "فطری لسانی صلاحیت" (Innateness Hypothesis) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے دماغ میں زبان سیکھنے کے لیے ایک "پری پروگرامڈ" نظام موجود ہے، اور یہ نظام کسی بھی زبان کو سیکھنے کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔ اس طرح انسانوں میں زبان سیکھنے کی یہ صلاحیت حیاتیاتی طور پر موجود ہوتی ہے، اور یہ کوئی سیکھا ہوا عمل نہیں ہوتا۔
2. نظریہ گرامر (Universal Grammar)
چومسکی نے "نظریہ گرامر" (Universal Grammar) کا تصور پیش کیا، جس کے مطابق تمام انسانوں میں زبان کی ایک بنیادی ساخت یا اصول موجود ہوتی ہے جو تمام زبانوں میں مشترک ہے۔ اس کے مطابق، دنیا کی تمام زبانیں ایک ہی بنیادی گرامر کے اصولوں پر مبنی ہوتی ہیں، اور مختلف زبانوں کے درمیان فرق ان اصولوں کی سطح پر مختلف ہوتا ہے۔ چومسکی نے اس نظریے کو اس بات کے طور پر پیش کیا کہ تمام زبانوں میں موجود گرامری ڈھانچہ انسان کے دماغ میں "پری پروگرامڈ" ہوتا ہے۔
3. پرانٹیکٹیکل لسانیات (Transformational-Generative Grammar)
چومسکی کا پرانٹیکٹیکل لسانیات (Transformational-Generative Grammar) ماڈل زبان کے ساختی تجزیے کے لیے ایک بنیادی نظریہ ہے۔ اس ماڈل کے مطابق، زبان کے جملے کی تفصیل اور تشکیل کے مختلف اصول ہوتے ہیں جنہیں "پرانٹیکٹیکل قواعد" (transformational rules) اور "جینیریٹو قواعد" (generative rules) کہا جاتا ہے۔
ہمارا سورج ایک ’تنہا خانہ بدوش‘ ہے لیکن کیا اس کا کوئی جڑواں بھائی بھی تھا؟
خدا سے متعلق الحاد کے 10 سوالات (حصہ چہارم ) ۔ جاوید احمد غامدی
اس پروگرام میں درج ذیل سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں:
1۔ کیا دعا سے اللہ تعالیٰ کی ابتلا کی اسکیم میں کوئی مداخلت واقع ہوتی ہے؟
2۔ اگر دعا مانگنے سے قانون آزمائش میں مداخلت نہیں ہوتی تو خاص اوقات میں دعا مانگنے کی تلقین کیوں کی گئی ہے؟
3۔ کیا اللہ تعالیٰ نے دنیوی نعمتیں دینے کا کوئی اصول مقرر کیا ہوا ہے؟
4۔ کیا بددعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ براہ راست مداخلت کرتے ہیں؟
5۔ رحیم و کریم خدا اپنے بندوں کو اذیت ناک بیماریوں میں کیسے مبتلا کر سکتا ہے؟
6۔ کیا انسان اس کائنات میں ایک مجبور محض ہے؟
7۔ انسان اللہ تعالیٰ کے قانون آزمائش کو سمجھنے میں ناکام کیوں ہے؟
8۔ کیا دنیا کی ناتمامی ہی انسان کے اندر یہاں رہنے کی آرزو پیدا کرتی ہے؟
خدا سے متعلق الحاد کے 10 سوالات حصہ اول - جاوید احمد غامدی
اس پروگرام میں درج ذیل سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں:
1۔ اللہ تعالیٰ ظلم اور زیادتی کرنے والوں کو خود کیوں نہیں روکتے؟
2۔ اگر پیغمبروں کے معاملے میں اللہ نے براہ راست مداخلت کی ہے تو انسانوں کے معاملے میں کیوں نہیں کی؟
3۔ اگر پیغمبروں کے معاملے میں اللہ کی براہ راست مداخلت سے آزمایش ختم نہیں ہوئی تو انسانوں کے معاملے میں کیسے ختم ہو جاتی؟
4۔ اللہ تعالیٰ آخرت میں ظالموں سے جو بدلہ و انتقام لیں گے، وہ دنیا میں کیوں نہیں لیتے؟
5۔ ظالموں اور سرکشوں کو دنیا میں نہ روکنا کیا ان کو خود جہنم کی طرف دھکیلنا نہیں ہے؟
6۔ ظلم کو خود روکنے کے بجائے اللہ نے انسانوں کو جہاد کا حکم کیوں دیا؟
7۔ اللہ تعالیٰ ظلم و زیادتی کو خود نہیں روکتے، لیکن اپنے بندوں کو اس کا حکم کیوں دیتے ہیں؟
8۔ کیا خدا کے بارے میں الحاد کے اعتراضات خود ان کے نقطۂ نظر پر بھی وارد ہوتے ہیں؟
جیمز ویپ ٹیلیسکوپ کو ایک سال کے دوران کیا کیا نظر آیا ؟
بی بی سی اردو
تاریخ اشاعت : 27 دسمبر 2022ء
یہ دنیا کے لیے 10 ارب ڈالر کا تحفہ تھا، ایسی مشین جو اس کائنات میں ہمیں ہماری حیثیت سے روشناس کروانے والی تھی۔
آج سے ایک برس قبل جیمز ویب سپیس ٹیلیسکوپ (یعنی دسمبر 2021 ء) کرسمس کے موقع پر لانچ کی گئی تھی۔ اس کی منصوبہ بندی، ڈیزائننگ اور تیاری میں تین دہائیاں لگی تھیں۔
![]() |
| جیمز ویپ ٹیلیسکوپ کو ایک سال کے دوران کیا کیا نظر آیا ؟ |
کئی لوگوں کو اس حوالے سے خدشات تھے کہ مشہورِ زمانہ ہبل سپیس ٹیلیسکوپ کی جانشین کہلائی جانے والی یہ دوربین کیا واقعی توقعات پر پوری اتر سکے گی۔
ہمیں اس کی لانچ کے بعد کچھ مہینے انتظار کرنا پڑا جس دوران اس کا شاندار ساڑھے چھ میٹر قطر والا شیشہ کھلا اور اس نے خود کو فوکس کیا۔ اس دوران اس کے دیگر سسٹمز بھی ٹیسٹنگ اور کیلیبریشن سے گزرتے رہے۔
مگر پھر یہ بالکل وہی چیز ثابت ہوئی جو کہ کہا جا رہا تھا۔ امریکہ، یورپ اور کینیڈا کے خلائی اداروں نے جولائی میں اس کی پہلی رنگین تصوایر جاری کیں۔
اس صفحے پر آگے موجود تصاویر وہ ہیں جو شاید آپ کی نظر سے نہ گزری ہوں۔
جیمز ویب ٹیلیسکوپ کے بارے میں آپ سب سے پہلے جو چیز نوٹ کریں گے وہ یہ کہ یہ ایک انفراریڈ ٹیلیسکوپ ہے۔ یہ آسمان کو روشنی کی اُن ویو لینتھس (طول الموج) میں بھی دیکھ سکتی ہے جو ہماری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔
ماہرینِ فلکیات اس کے مختلف کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے کائنات کے مختلف حصوں کا جائزہ لیتے ہیں، جیسے کہ گیس اور دھول کے ان بلند و بالا ٹاورز کا۔
آئزک نیوٹن، جنھوں نے مذہب کے بارے میں اپنے بعض خیالات کو خفیہ رکھا
فلسفہِ رواقیت: زندگی میں غیر یقینی حالات سے نمٹنے کا ایک قدیم نسخہ

عدم سے وجود کا معمہ
عدم سے وجود کا پُراصرار معمہ:
بِگ بینگ یا 'اِنفجارِ کبیر' سے پہلے کیا موجود تھا؟
پہلا مادّہ
کیا کوانٹم فزکس ’روح‘ کے راز کو سمجھ جائے گی؟
10 مئ 2019
برقی مقادیر یا کوانٹم کی دنیا اس دنیا سے مختلف ہے جسے ہم دیکھتے ہیں۔
تصور کریں کہ آپ ایک آسیب زدہ جگہ میں ہیں۔ یہ ایک تاریک، سرد اورغیرآباد حویلی ہے۔
جب آپ اس میں داخل ہوتے ہیں تو پہلے آپ کو یہ گھر خالی لگتا ہے لیکن فوراً آپ غور کرنے لگتے ہیں کہ کچھ اشیا اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور پھر اچانک غائب ہو جاتی ہیں۔
اس گھر پر مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے، لیکن آپ ذرّات گزرتے ہوئے محسوس کرتے ہیں اور باورچی خانے سے ہلکی سے آواز سنتے ہیں جیسے لکڑی کے فرش پر کسی کے چلنے کی خفیف سی چرچر ہو۔
کائنات کے سب سے اہم سوالوں میں سے ایک حل کے قریب
پال رنکون ، سائنس ایڈیٹر بی بی سی نیوز
16 اپريل 2020
نو سال کے ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد سائنسدانوں کو پتا چلا ہے کہ نیوٹرینوز اور اینٹی نیوٹرینوز اپنی خصوصیات تبدیل مختلف طریقے سے کرتے ہیں
ستارے، کہکشائیں، سیارے سبھی کچھ جو آج وجود میں ہے کائنات کی ایک انوکھی خصوصیت کی وجہ ہے۔
اس خصوصیت کی نوعیت آج تک سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ ہے جس کے تحت ’میٹر‘ یعنی مادہ ’اینٹی میٹر‘ پر حاوی ہے۔
اب جاپان میں ایک تجربے کے نتائج سے اس معاملے کو سلجھانے میں مدد ملے گی جو کہ سائنس میں دورِ حاضر کے سب سے بڑے سوالات میں سے ایک ہے۔
کیا فزکس خدا کے وجود کو ثابت کر سکتی ہے؟
بی بی سی اردو ، 24 مارچ 2021
مضمون نگار : مونیکا گریڈی
( نوٹ : یہ مضمون معلومات میں اضافہ کے لے شائع کیا جارہاہے ، بلاگر کا اس کے مندرجات سے اتفاق لازمی نہیں )
میں خدا پر ایمان رکھتا تھا (میں اب دہریہ ہو چکا ہوں) لیکن میں نے ایک سیمینار میں مندرجہ ذیل سوال سنا، جو کہ سب سے پہلے آئنسٹائین نے اٹھایا تھا، اور یہ سوال سن کر میں ایک دم سے ساکت ہو گیا۔
![]() |
| کیا فزکس خداکے وجود کو ثابت کر سکتی ہے ؟ |
وہ یہ کہ: ’اگر کسی خدا کا وجود ہے جس نے یہ ساری کائنات اور اس کے تمام قوانین کو تخلیق کیا، تو کیا یہ خدا خود اپنے بنائے ہوئے قوانین کے تابع ہے یا خدا اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین سے ماورا ہو سکتا ہے، مثلاً روشنی کی رفتار سے تیز سفرکرنا اور اس طرح کئی جگہوں پر ایک ہی وقت میں موجود ہونا۔'
کیا اس سوال کا جواب خدا کے وجود یا عدمِ وجود کو ثابت کرسکتا ہے یا یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں سائنسی ایمپیریسزم (فلسفہ کا یہ نظریہ کہ علم تجربے اور عملی ثبوت سے حاصل ہوتا ہے) اور مذہب کا باہمی مکالمہ ہوتا ہے اور وہاں کسی بات کا کوئی جواب نہیں موجود ہوتا ہے؟ (ڈیوڈ فراسٹ، عمر 67 برس، لاس اینجلیز، امریکہ)۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ : "حشرات الارض کے بغیر ہم فضلے اور مرے ہوئے جانوروں کے تالاب میں تیریں گے"
![]() |
| حشرات الارض کے بغیر ہم مرے ہوئے جانوروں کے تالاب میں تیریں گے |
’ہم ہلاک ہو جائیں گے‘
خدا کا وجود ، جاوید احمد غامدی
![]() |
| خدا کا وجود۔ جاوید احمد غامدی |
سید سبط حسن - متفرق تحریریں (مارکس کا فلسفہ بیگانگی ٫ سیکولرازم اور انقلابِ ایران) خصوصی رکارڈنگ براے آواز خزانہ لُطُف اللہ خان
گریٹ ایپس / hominidae- بلال الرشید
![]() |
| گریٹ ایپس /hominid |








