مطالعۂ انسان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مطالعۂ انسان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

شوپن ہاور اور فلسفہ قنوطیت

آرتھر شوپن ہاؤر (Arthur Schopenhauer) (1788–1860) انیسویں صدی کے ایک ممتاز مگر قنوطی (Pessimistic) جرمن فلسفی تھے، جن کے افکار پر یورپ کے سیاسی اور سماجی انتشار کے گہرے اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ انقلابِ فرانس اور نپولین کی جنگوں نے پورے یورپ کو بے یقینی، قتل و غارت اور مایوسی کی فضا میں دھکیل دیا تھا۔ نوجوان نسل کے خواب بکھر چکے تھے؛ کہیں فنکار اور ادیب ناامیدی کا شکار تھے، کہیں مفکرین فطرت، ماضی یا تخیلات میں پناہ تلاش کر رہے تھے۔ اسی ماحول نے شوپن ہاؤر کے اس فلسفے کو جنم دیا جس میں زندگی ایک ایسی جدوجہد نظر آتی ہے جو دکھ، بے معنویت اور مسلسل خواہشات سے عبارت ہے۔
شوپن ہاؤر

شوپن ہاؤر نے اپنے بنیادی نظریات شہرۂ آفاق کتاب “The World as Will and Idea” (جسے عموماً “The World as Will and Representation” بھی کہا جاتا ہے) میں پیش کیے۔ ان کے نزدیک کائنات کی اصل حقیقت “ارادہ” ہے—ایک اندھی قوت جو انسان کو مسلسل خواہشات میں مبتلا رکھتی ہے اور یوں مکمل سکون کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ اسی سبب وہ زندگی کو بنیادی طور پر تکلیف دہ اور غیر مطمئن سمجھتے تھے۔

ان کی ولادت 22 فروری 1788ء کو جرمن شہر ڈانزگ میں ہوئی۔ ان کے والد ایک مالدار تاجر تھے، جو تیز مزاج مگر آزادی پسند انسان کے طور پر معروف تھے۔ جب ڈانزگ پر غیر ملکی تسلط قائم ہوا تو اس خوددار خاندان نے شہر چھوڑ دیا۔ کچھ عرصے بعد ان کے والد کا انتقال ہوگیا، جس نے شوپن ہاؤر کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس مزید گہرا کر دیا۔ ان کی والدہ ایک معروف ناول نگار تھیں، مگر ماں بیٹے کے تعلقات خوشگوار نہ رہے اور بالآخر دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ روایت ہے کہ جدائی کے وقت شوپن ہاؤر نے کہا کہ “آنے والا زمانہ تمہیں میری وجہ سے پہچانے گا”، اور جرمن شاعر و مفکر گوئٹے نے بھی اس بات کی تائید کی۔

شوپن ہاؤر کی ذاتی زندگی میں تنہائی ایک مستقل سایے کی طرح موجود رہی۔ نہ ان کے سر پر باپ کا سایہ رہا، نہ ماں سے قلبی تعلق قائم ہو سکا، اور نہ ہی انہوں نے شادی کی یا اولاد ہوئی۔ یہی شدید تنہائی اور باطنی کرب ان کے فلسفے میں جھلکتا ہے، جہاں انسان ایک ایسے مسافر کے طور پر دکھائی دیتا ہے جو خواہشات کے صحرا میں بھٹکتا رہتا ہے۔

زندگی کیوں؟ — قرآنی فلسفۂ حیات اور جدید نوجوان کا فکری بحران

آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں آنکھ کھولتا ہے جہاں سب کچھ ہے، مگر زندگی کا جواب نہیں۔ اس کے ہاتھ میں موبائل ہے، ذہن میں معلومات کا سمندر ہے، مگر دل میں یہ سوال مستقل سر اٹھائے کھڑا ہے کہ آخر یہ سب کس لیے ہے؟ تعلیم، نوکری، کامیابی، محبت، آزادی — سب ہیں، مگر ان سب کے پیچھے کوئی واضح مقصد دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وہ فکری بحران ہے جس نے جدید انسان، خصوصاً نوجوان نسل کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔

جدید مادی اور الحادی فلسفۂ حیات نوجوان کو یہ بتاتا ہے کہ کائنات کسی منصوبے کا نتیجہ نہیں، زندگی ایک حادثہ ہے، اور انسان محض ارتقائی عمل کی پیداوار ہے۔ ایسے میں زندگی کا مقصد خود انسان کو گھڑنا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جو وجود خود بے مقصد ہو، وہ مقصد کہاں سے تراشے؟ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے نام پر بے سمتی، اور خود اختیاری کے نام پر ذہنی انتشار بڑھتا جا رہا ہے۔

قرآن اس فکری تاریکی میں زندگی کی ایک بالکل مختلف تعبیر پیش کرتا ہے۔ وہ انسان کو یہ نہیں کہتا کہ تم خود ساختہ وجود ہو، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ تم ارادۂ الٰہی کے تحت وجود میں آئے ہو۔ تمہاری زندگی کھیل یا اتفاق نہیں، بلکہ ایک امتحان ہے۔ یہاں ہر قدم، ہر نیت اور ہر جدوجہد معنی رکھتی ہے۔ یہی تصور انسان کے وجود کو وزن، وقار اور سمت عطا کرتا ہے۔

سورۂ الاسراء کی آیات (18 تا 21) میں قرآن نہایت سادہ مگر فیصلہ کن انداز میں دو طرزِ حیات سامنے رکھتا ہے۔ ایک وہ جو صرف العاجلہ کا طالب ہے، یعنی فوری فائدہ، فوری لذت اور فوری کامیابی۔ ایسا انسان بھی دنیا میں کچھ حاصل کر لیتا ہے، مگر قرآن واضح کر دیتا ہے کہ یہ عطا نہ مکمل ہے، نہ مستقل، اور نہ ہی کسی قدر و قیمت کی ضمانت۔ دوسری طرف وہ شخص ہے جو آخرت کو مقصد بنا کر جیتا ہے، ایمان کے ساتھ جدوجہد کرتا ہے، اور جس کی محنت کو خود اللہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہاں کامیابی کا معیار بدل جاتا ہے۔

کیا معاشی ترقی دین کے خلاف ہے؟

ہمارے معاشرے میں خصوصاً بعض دیندار حلقوں میں یہ تصور جڑ پکڑ چکا ہے کہ مالی آزادی، معاشی ترقی اور دنیاوی جدوجہد شاید دین کے منافی ہیں، یا کم از کم یہ کہ ان امور میں حد سے زیادہ دلچسپی روحانیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ سوچ بظاہر تقویٰ کے غلبے کا تاثر دیتی ہے، لیکن اگر قرآنِ حکیم کی تعلیمات کو سنجیدگی سے پڑھا جائے تو یہ تصور نہ صرف کمزور بلکہ صریحاً غلط ثابت ہوتا ہے۔

قرآن انسان کو محض عبادت گاہوں تک محدود مخلوق نہیں بناتا، بلکہ اسے زمین پر خلیفہ قرار دیتا ہے۔ خلافت کا مفہوم صرف اخلاقی یا روحانی نہیں بلکہ معاشی، تمدنی اور عملی ذمہ داریوں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماتا ہے:

“هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ”
(الملک: 15)

“وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے تابع بنا دیا، پس اس کے راستوں میں چلو پھرو اور اللہ کا رزق کھاؤ۔”

یہ آیت اس بنیادی حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ رزق کے حصول کے لیے حرکت، جدوجہد اور اسباب اختیار کرنا عین مطلوبِ الٰہی ہے۔ قرآن کسی ایسے تصوف یا دینداری کی تائید نہیں کرتا جو انسان کو دنیا سے کاٹ دے، محنت سے روک دے یا معاشی ذمہ داریوں سے فرار کی ترغیب دے۔

درحقیقت، مالی جدوجہد انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ قرآن کہتا ہے:

“أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ”
(الملک: 22)

یعنی زندگی سیدھے راستے پر توازن کے ساتھ چلنے کا نام ہے، نہ کہ ایک پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز کر دینا۔ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ اسباب کے بغیر زندگی گزار سکتا ہے، وہ دراصل اللہ کے بنائے ہوئے نظامِ اسباب سے بغاوت کرتا ہے۔ دنیا دارالاسباب ہے، اور اس حقیقت کو جھٹلانا تقدس نہیں بلکہ فطرت سے انکار ہے۔

نبی کریم ﷺ کی عملی زندگی بھی اس حقیقت کی سب سے روشن مثال ہے۔ آپ ﷺ نے تجارت کی، صحابہؓ کو محنت کی ترغیب دی، اور یہ اصول دیا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ حضرت عمرؓ کا وہ مشہور قول بھی اسی ذہنیت کی اصلاح کرتا ہے کہ “میں اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں جو دین یا دنیا کے کام میں سست ہو۔”

اصل مسئلہ دولت نہیں، بلکہ دولت کا مقصد ہے۔ اسلام دولت جمع کرنے سے نہیں روکتا، بلکہ اسے ظلم، استحصال، غرور اور غفلت کا ذریعہ بنانے سے روکتا ہے۔ قرآن توازن سکھاتا ہے:

“وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا”
(القصص: 77)

یعنی آخرت کو مقصد بناؤ، مگر دنیا کے حصے کو مت بھولو۔ یہی اسلامی معاشی فکر کا خلاصہ ہے۔

آج امتِ مسلمہ جن بحرانوں سے دوچار ہے، ان میں ایک بڑی وجہ معاشی کمزوری بھی ہے۔ غربت، محتاجی اور مالی انحصار نہ صرف فرد کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں بلکہ اجتماعی سطح پر امت کو دوسروں کا محتاج بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں مالی خود کفالت اور ترقی کو دین کے خلاف سمجھنا ایک فکری خودکشی کے مترادف ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ دیندار ذہن یہ سمجھے کہ حلال ذرائع سے معاشی جدوجہد عبادت کے منافی نہیں بلکہ اس کا تسلسل ہے۔ مضبوط معیشت کے بغیر مضبوط اخلاق، آزاد فکر اور باوقار دین داری کا تصور ادھورا ہے۔

اسلام ہمیں ترکِ دنیا نہیں، تعمیرِ دنیا مع الآخرة سکھاتا ہے۔ یہی توازن اگر دوبارہ زندہ ہو جائے تو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی ایک باوقار، خودمختار اور باعمل مسلم معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔

کوانٹم فزکس اور قرآن مجید : یقین، امکان اور حقیقت کے نئے افق

جدید سائنس نے جب مادّے کی تہہ میں جھانکنا شروع کیا تو وہاں کوئی ٹھوس یقین نہیں، بلکہ امکانات، احتمالات اور غیر یقینی کی ایک حیرت انگیز دنیا آباد ملی۔ کوانٹم فزکس نے انسان کے اس قدیم تصور کو چیلنج کر دیا کہ کائنات ایک سیدھی، سادہ اور مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی مشین ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ ذرّہ کہاں ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کہاں کہاں ہو سکتا ہے۔ یہی نکتہ وہ دروازہ ہے جہاں سے سائنس، فلسفہ اور قرآنی فکر کے درمیان ایک بامعنی مکالمہ شروع ہوتا ہے۔

قرآن انسان کو بار بار اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ حقیقت محض وہ نہیں جو آنکھ دیکھ لے یا ہاتھ چھو لے۔ “وما أوتيتم من العلم إلا قليلا”—تمہیں علم میں سے بہت ہی تھوڑا دیا گیا ہے۔ یہ آیت محض تواضعِ علم کی تلقین نہیں، بلکہ انسانی شعور کی حد بندی کا اعلان ہے۔ کوانٹم فزکس بھی اپنے تمام سائنسی جلال کے باوجود اسی نتیجے پر پہنچتی ہے کہ مشاہدہ کرنے والا خود حقیقت کا حصہ بن جاتا ہے، اور مکمل یقین محض ایک وہم ہے۔

کوانٹم نظریہ کہتا ہے کہ کسی ذرّے کی پوزیشن اور رفتار کو بیک وقت قطعی طور پر نہیں جانا جا سکتا۔ یہ غیر یقینی کوئی تکنیکی کمزوری نہیں، بلکہ فطرت کا بنیادی اصول ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآنی تصورِ تقدیر اور انسانی اختیار ایک نئے مفہوم کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ قرآن انسان کو اختیار دیتا ہے، مگر اس اختیار کو خدا کی مشیت کے دائرے میں رکھتا ہے۔ یوں نہ تو انسان مکمل مجبور ہے اور نہ ہی مکمل مختار—بالکل اسی طرح جیسے کوانٹم ذرّہ نہ مکمل متعین ہے نہ مکمل آزاد۔
کوانٹم فزکس کا ایک اور حیران کن تصور سپرپوزیشن ہے، جس کے مطابق ایک ذرّہ بیک وقت کئی حالتوں میں موجود ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ مشاہدہ اسے ایک حالت پر “منجمد” کر دے۔ قرآن اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے کہ اللہ “کل یومٍ هو في شأن” ہے—ہر آن ایک نئی شان میں ہے۔ کائنات جامد نہیں، مسلسل تخلیق کے عمل میں ہے۔ گویا حقیقت کوئی ایک جامد تصویر نہیں، بلکہ ایک زندہ، متحرک داستان ہے جو ہر لمحہ نئے معنی اختیار کر رہی ہے۔

قرآن مجید : جدید معیشت اورتجارت

قرآن کی نظر میں دولت: صرف فتنہ نہیں، بلکہ خیر و فضل بھی ہے ۔

عام مذہبی بیانیے میں دولت کو اکثر روحانیت کے مقابل لا کھڑا کیا جاتا ہے، گویا غربت تقویٰ کی علامت اور خوشحالی دین کے منافی ہو۔ مگر جب ہم قرآن کو براہِ راست پڑھتے ہیں تو ایک بالکل مختلف، متوازن اور حقیقت پسندانہ تصور سامنے آتا ہے۔ قرآن دولت کو نہ صرف انسانی زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت مانتا ہے بلکہ کئی مقامات پر اسے خیر، فضل اور نعمت کے الفاظ سے تعبیر کرتا ہے۔
قرآن مجید اور جدید معیشت وتجارت 

سورۂ جمعہ میں نمازِ جمعہ کے بعد فرمایا جاتا ہے:
“جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو”۔
یہاں “فضل” سے مراد واضح طور پر رزق، تجارت اور معاشی جدوجہد ہے۔ غور کیجیے، قرآن عبادت اور معیشت کو آمنے سامنے نہیں بلکہ ایک ہی نظمِ زندگی کے دو پہلو قرار دیتا ہے۔

اسی طرح سورۂ عادیات میں انسان کی ایک نفسیاتی کمزوری بیان کی گئی ہے:
“اور بے شک وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے”۔
یہاں بھی مال کو گناہ نہیں کہا گیا، بلکہ مال کی محبت میں شدت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ گویا مسئلہ دولت نہیں، بلکہ اس کا دل پر قابض ہو جانا ہے۔

قرآن جگہ جگہ مال کو “خیر” کہتا ہے، جیسا کہ وراثت کے احکام میں:
“اگر وہ کچھ مال (خیر) چھوڑے”۔
یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ قرآن کی نظر میں مال بذاتِ خود شر نہیں بلکہ خیر ہے، بشرطیکہ وہ صحیح طریقے سے حاصل کیا جائے اور درست مصرف میں لایا جائے۔

معاشی جدوجہد کے حوالے سے قرآن کا لہجہ غیر معمولی طور پر مثبت ہے۔ وہ انسان کو زمین میں محنت کرنے، وسائل کو بروئے کار لانے اور رزق تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ تجارت کو ناپسندیدہ مشغلہ نہیں بلکہ ایک فطری اور جائز سرگرمی قرار دیتا ہے، حتیٰ کہ حج جیسے عظیم روحانی عمل کے دوران بھی تجارت کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ دین، زندگی سے فرار نہیں بلکہ زندگی کی تنظیم ہے۔

خیر و شر کے سنگم پر کھڑا انسان

کبھی آپ نے کسی دریا کے سنگم کو دیکھا ہے؟ جہاں دو مختلف رنگوں، رفتاروں اور ذائقوں والے پانی ایک ساتھ بہہ رہے ہوں، مگر مکمل مدغم بھی نہ ہوں؟
ایسا ہی کچھ انسان کی فطرت کے ساتھ بھی ہے۔ وہ خیر و شر، روشنی و تاریکی، جذبہ و خواہش، عقل و جبلّت کے سنگم پر کھڑا ہے۔
ایک پل اسے جنت کی ہوا چھو کر گزرتی ہے، اور دوسرے لمحے جہنم کی آندھی میں اس کی بصیرت دھندلا جاتی ہے۔
یہی انسان کا کرب ہے، اور یہی اس کا کمال۔

فطرت کی الہامی گواہی


قرآن مجید کہتا ہے:

"فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا" (الشمس: 8)
"پھر اس (نفس) کو بدی اور پرہیزگاری کی سمجھ دی"

یعنی انسان کوئی خالی تختی نہیں جس پر فقط ماحول ہی کچھ لکھے۔ اس کے اندر ایک الہامی آواز ہے، جو اسے بار بار خبردار کرتی ہے — "یہ راہ ظلم کی ہے، یہ راہ نور کی۔"
اس شعور کو ضمیر کہتے ہیں، یہی اولین وحی ہے جو ہر انسان کو عطا کی گئی۔


 آزادی اور امتحان کا فلسفہ


یہ بات حیرت انگیز ہے کہ ربِ کائنات نے انسان کو چاہنے کی آزادی دی — چاہے وہ خیر کو چنے یا شر کو۔
یہی آزادی جنت اور جہنم کے دروازے کھولتی ہے۔
انسانی تاریخ کا ہر قصہ — آدمؑ کا اجتباء، ابلیس کا انکار، ہابیل و قابیل کی کہانی، فرعون کا تکبر، موسیٰؑ کا انکسار — دراصل خیر و شر کے بیچ کھڑے انسان کے انتخاب کی تمثیل ہے۔

کیا مصنوعی ذہانت انسان کی فہم و رائے کو مغلوب کر سکتی ہے؟

ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں انسان اپنی عقل و فکر کی تخلیقات سے خود ہی چیلنج ہونے لگا ہے۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نہ صرف ہماری روزمرہ زندگی، تعلیمی نظام، اور تجارتی فیصلوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ اب انسان کے شعور، رائے، اور فکری خودمختاری کو بھی آزما رہی ہے۔

یہ سوال محض سائنسی یا تکنیکی نوعیت کا نہیں، بلکہ ایک گہرا فلسفیانہ، سماجی اور روحانی سوال ہے:

"کیا ایک بے جان مشین، جو ڈیٹا اور الگورتھمز پر مبنی ہو، انسان کی فہم و دانش، رائے اور وجدان پر حاوی ہو سکتی ہے؟"

اس مضمون میں ہم اس سوال کا تجزیہ تین سطحوں پر کریں گے:

  1. فکری و علمی سطح

  2. نفسیاتی و معاشرتی سطح

  3. روحانی و اخلاقی سطح

 فکری و علمی سطح: علم کی حقیقت اور AI کی برتری

مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی طاقت اس کی علمی وسعت اور تجزیاتی رفتار ہے۔ وہ اربوں صفحات، کتابیں، ویڈیوز، اور سوشل میڈیا بیانات کو ایک لمحے میں پڑھ کر معنی خیز خلاصہ پیش کر سکتی ہے۔

نور ایمان

(یہ کہانی ایک مومن کے روحانی سفر کو بیان کرتی ہے، جو اللہ کے نور سے منور ہو کر اپنے اندر کی حقیقت کو پہچانتا ہے اور پھر ایمان اور سچائی کے راستے پر چلنے لگتا ہے۔)

 شہر کے شور شرابے میں ایک چھوٹے سے کمرے میں، احمد اپنے گزرے ہوئے دنوں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ وہ ایک مومن تھا، لیکن اپنی زندگی میں ایک کمی محسوس کرتا تھا۔ وہ ہر روز قرآن پڑھتا، نماز ادا کرتا، مگر اس کا دل ہمیشہ بے چین رہتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ کچھ غائب ہے، کچھ ایسا جسے وہ پانے کی کوشش کرتا رہتا ہے، مگر وہ اسے سمجھ نہیں پاتا۔

ایک دن، جب وہ قرآن کے مطالعے میں غرق تھا، ایک آیت نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی:
"اللّٰہُ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ..."
"اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے..."
یہ الفاظ اس کے دل میں ایک گہرائی تک اُتر گئے۔ اس نے سوچا، "اللہ کا نور کیا ہے؟ اور میں اسے اپنے اندر کیسے جذب کر سکتا ہوں؟"

وہ رات بھر سوچتا رہا اور فیصلہ کیا کہ اب اسے ایک نئی راہ پر چلنا ہوگا۔ وہ اپنی زندگی کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کرے گا۔ احمد نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ہر کام میں اللہ کی رضا کو اولیت دے گا، ہر عمل کو خلوص نیت سے کرے گا، اور ہر لمحے میں اس کے نور کو اپنے دل میں محسوس کرنے کی کوشش کرے گا۔

ٓمصنوعی ذہانت (AI ) کے دورمیں چند اہم سوالات جو ہر نوجوان کو خود سے پوچھنے چاہییں۔

مہارتیں یا مطابقت پذیری(Adaptability) ؟ — مستقبل کی دوڑ میں اصل ضرورت کیا ہے؟

دنیا ہمیشہ سے بدلتی رہی ہے، مگر آج کی دنیا کچھ زیادہ ہی تیز ہو گئی ہے۔ وہ دنیا جس میں ہم صبح آنکھ کھولتے ہیں، شام تک کچھ اور ہو چکی ہوتی ہے۔ نہ علوم وہی رہے، نہ تقاضے۔ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ آپ کے پاس کون سی مہارت ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آپ بدلنے کے لیے تیار ہیں؟

یہی وہ نکتہ ہے جسے ماہرین آج بار بار دہرا رہے ہیں:

"معیشت میں، سکلز سے زیادہ مطابقت پذیری (Adaptability) اہم ہو گی۔"

لیکن آخر یہ بات کہی کیوں جا رہی ہے؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ آئیے، اس فکری دریا میں اترتے ہیں۔

مہارتیں: ایک بدلتی ہوئی حقیقت

آج سے کچھ دہائیاں پہلے، اگر کوئی شخص ٹائپنگ سیکھ لیتا، مشین چلانا جان لیتا، یا کسی فیکٹری میں ایک خاص ہنر میں ماہر ہوتا، تو وہ عمر بھر کے روزگار کا یقین رکھتا تھا۔ مہارت ایک طرح کی "نوکری کی گارنٹی" ہوتی تھی۔

مگر اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔

میں کون ہوں؟

انسان کی کہانی کا پہلا ورق، پہلا سوال… اور شاید آخری بھی —

خاموشی میں کچھ سوال ہوتے ہیں، جو بولتے نہیں، مگر اندر کہیں گونجتے رہتے ہیں۔ یہ سوال کوئی آواز نہیں رکھتے، مگر زندگی کی ہر سانس میں اپنا عکس چھوڑ جاتے ہیں۔ انہی میں ایک سوال ہے — شاید سب سے پہلا، سب سے پُراسرار، اور سب سے قریب: "میں کون ہوں؟"

کیا میں فقط گوشت پوست کا ایک ڈھانچہ ہوں؟ یا وہ سوچ ہوں جو میرے دل میں پلتی ہے؟ کیا میں وہ چہرہ ہوں جو آئینے میں نظر آتا ہے؟ یا وہ احساس جو کسی کی آنکھوں میں جھانک کر بیدار ہوتا ہے؟

کبھی بچپن میں کھیلتے ہوئے، کبھی تنہائی میں چھت پر تکتے ہوئے، کبھی کسی موت پر لرزتے ہوئے، اور کبھی کسی محبت میں بھیگتے ہوئے… یہ سوال دبے پاؤں آتا ہے، دل کے اندر بیٹھ جاتا ہے، اور پھر کبھی پوری عمر وہاں سے جاتا ہی نہیں۔

لیکن اس سوال کا مطلب صرف خود کو پہچاننا نہیں، بلکہ اس پوری کہانی کو سمجھنا ہے جس میں میں ایک کردار ہوں، اور شاید مرکزی کردار — ایک مکمل داستان، جس کا ہر صفحہ میری سانسوں سے لکھا جا رہا ہے۔

قرآن کہتا ہے:

"وفی أنفسکم، أفلا تبصرون"
(اور تمہارے نفسوں میں بھی [ہماری نشانیاں ہیں]، کیا تم غور نہیں کرتے؟)

حضرت آدم ؑو حواءؑ : جنت کی آزمائش اور وسوسے کی حقیقت

انسان کی داستانِ حیات کا آغاز آدم علیہ السلام سے ہوتا ہے۔ وہ پہلی ہستی، جو براہِ راست اللہ کے نورِ تخلیق سے منصہءِ شہود پر آئی، اور جنہیں خالقِ کائنات نے اپنی خلافت کے شرف سے نوازا۔ یہ صرف ایک فرد کی تخلیق نہیں تھی، بلکہ ایک عہد، ایک داستان، اور ایک امتحان کی ابتدا تھی—وہ امتحان جو ہر انسان کو اسی لمحے وراثت میں ملا، جب اس کی روح کو تخلیق کے سانچے میں ڈھالا گیا۔

آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل، ملائکہ نے سوال کیا:
"کیا تُو اس (مخلوق) کو پیدا کرے گا جو زمین میں فساد کرے گی اور خون بہائے گی؟" (البقرہ: 30)

یہ سوال درحقیقت انسان کی آزاد مرضی، اس کی جبلّت، اور اس کے امتحان کی طرف اشارہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جواب دیا کہ جو کچھ وہ جانتے ہیں، وہ محدود ہے، اور جو کچھ اللہ جانتا ہے، وہ لامحدود ہے۔ یہاں یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ انسان کو زمین پر خلیفہ بنانے میں ایک عظیم راز پوشیدہ تھا—وہ امتحان جس میں حق اور باطل، خیر اور شر، اور وسوسے اور ہدایت کا مستقل تصادم ہونے والا تھا۔

یوال نوح حراری سے ایک فکری گفتگو اور اس پر تبصرہ

 یوال نوح حراری ایک اسرائیلی مؤرخ، مفکر، اور فلسفی ہیں، جنہوں نے تاریخ، انسانیت، اور مستقبل کے حوالے سے غیر معمولی شہرت پائی ہے۔ وہ عبرانی یونیورسٹی یروشلم میں تاریخ کے پروفیسر ہیں اور ان کی تحریریں انسانی تہذیب، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل دنیا، اور ارتقائی نفسیات جیسے موضوعات کو گہرائی سے چھوتی ہیں۔

یوال نوح حراری

حراری کی تین عالمی شہرت یافتہ کتابیں:

  1. Sapiens: A Brief History of Humankind – انسانی تاریخ کا ارتقائی جائزہ

  2. Homo Deus: A Brief History of Tomorrow – انسان کا مستقبل اور مصنوعی ذہانت کی حکمرانی

  3. 21 Lessons for the 21st Century – اکیسویں صدی کے فکری، اخلاقی، اور سماجی چیلنجز

وہ مذہب، قوم پرستی، سرمایہ داری، اور ڈیجیٹل کنٹرول جیسے موضوعات پر تنقیدی اور فکری انداز میں گفتگو کرتے ہیں، اور ان کا انداز تحریر سادہ مگر فکری طور پر گہرا ہوتا ہے۔ ان کے بقول:

"کہانیوں اور افسانوں کی طاقت نے انسان کو جانوروں سے ممتاز کیا، اور یہی کہانیاں آج بھی دنیا پر حکومت کر رہی ہیں۔"

آئیے اب ہم یوال نوح حراری کے خیالات، فلسفے، اور دنیا کے بارے میں ان کے وژن پر مبنی ایک فرضی مگر حقیقت پر مبنی مکالمہ ترتیب دیتے ہیں۔ اس مکالمے کا اسلوب ایسا ہو گا گویا کوئی معروف دانشور یا صحافی ان کا انٹرویو کر رہا ہو، اور ان کے خیالات انہی کی زبان سے سامنے آ رہے ہوں — جیسے کسی عالمی فکری ٹاک شو کا سیگمنٹ ہو۔


 یوال نوح حراری سے ایک فکری گفتگو

عنوان: "انسان، ڈیٹا، اور مستقبل کا خدا: یوال نوح حراری کی زبانی"

میزبان: حراری صاحب، آپ کی کتاب Sapiens نے انسانی تاریخ کو نئے زاویے سے پیش کیا۔ آپ کا بنیادی نظریہ کیا ہے کہ انسان باقی جانوروں سے کیسے مختلف ہوا؟

یادوں کی چھاؤں

یادیں زندگی کا ایک ایسا حصہ ہیں جس میں ہم اپنے آپ کو ایک نئی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ جب ہم ماضی کو یاد کرتے ہیں، تو یہ ہمیں ایک ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم کسی پرانے درخت کے نیچے بیٹھ کر اس کی ٹھنڈی چھاؤں میں پناہ لے رہے ہوں۔ کبھی کبھار، یہ یادیں خوشی کی ہوتی ہیں، تو کبھی غم کی، لیکن ہر یاد ہمیں اپنے آپ کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع دیتی ہے۔

یادیں جیسے دریا کی سیلابی لہریں ہیں، جو ایک وقت میں آپ کو ڈبو دیتی ہیں، تو دوسرے وقت میں آپ کو کنارے تک لے آتی ہیں۔ وہ لمحے جو کبھی اتنے واضح تھے، آج محض دھندلے نقوش کی صورت میں ہمارے دماغ میں رہ گئے ہیں۔ اور یہی دھندلے نقوش کبھی ہمیں ہنسا دیتے ہیں، کبھی رونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

یادیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ ہم کب خوش تھے، کب غمگین، اور کب ہم نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی جیت یا شکست سنی۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ یادیں، چاہے وہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہوں، ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ ہر لمحہ اہم ہے، اور ہر لمحے کی قدر کی جانی چاہیے۔

یادوں کا ایک اور پہلو ہے، جو ہمیں انسان بناتا ہے۔ ہم اپنی یادوں کے ذریعے اپنے ماضی کو زندہ رکھتے ہیں، اور ان یادوں کے ساتھ ہم اپنی موجودہ زندگی کی ہمت اور امید کا سفر طے کرتے ہیں۔

سجدۂ کائنات: اللہ کی عظمت ورضا کا پیغام

کائنات کی ہر شے میں ایک بے آواز سرگوشی ہے، ایک پُر اسرار گواہی جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہ ساری عظمت، یہ ساری زندگی، صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے ہے۔ آسمان، زمین، دریا، ہوا، درخت، پرندے، اور حتیٰ کہ ہمارے دلوں کی دھڑکنیں بھی ایک ہی ہنر میں جُڑی ہوئی ہیں—سجدہ۔ سجدہ، جو نہ صرف جسمانی عمل ہے، بلکہ ایک گہرا روحانی پیغام بھی ہے، جو ہمیں اپنی حقیقت اور اس کائنات کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ نے ہمیں یہ حقیقت بتائی ہے کہ "آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہے" (سورۃ الرعد 15)۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک مکمل کائناتی حقیقت ہے جس میں چھپے ہیں بے شمار راز اور پیغامات۔ ان رازوں کی گہرائی میں جا کر ہم ایک نئی حقیقت کو دریافت کرتے ہیں: اللہ کی حکمت، اس کا نظام، اور اس کی بے پناہ عظمت۔

خواب اور حقیقت کی سرحد پر – انسانی ذہن کی ماورائی کیفیات

ہماری آنکھیں بند ہوتی ہیں، مگر پردۂ تخیل پر روشنی کا ایک ہالہ سا ابھرتا ہے۔ لمحہ بہ لمحہ شکلیں بنتی اور بگڑتی ہیں، کبھی مانوس، کبھی اجنبی۔ ایک دروازہ کھلتا ہے، اور ہم کسی اور ہی دنیا میں قدم رکھ دیتے ہیں۔ یہ خواب کی دنیا ہے – حقیقت کے قریب مگر حقیقت سے ماورا۔ خواب اور حقیقت کی سرحد پر کھڑا انسانی ذہن، بیک وقت روشنی اور دھند میں لپٹا، حقیقت اور تصور کے سنگم پر حیرت انگیز مناظر تخلیق کرتا ہے۔

انسانی ذہن ایک پیچیدہ طلسمی قلعہ ہے، جس کے کئی دروازے ہیں۔ کچھ دروازے حقیقت کی جانب کھلتے ہیں، جہاں تجربات، مشاہدات اور منطق کی روشنی ہمیں راستہ دکھاتی ہے۔ مگر کچھ دروازے ایسے بھی ہیں جو خوابوں، تخیل، اور ماورائی کیفیات کی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ دونوں دروازے آپس میں یوں جُڑ جاتے ہیں کہ حقیقت اور خواب کی لکیر مدھم ہو جاتی ہے۔ ہم حیران رہ جاتے ہیں کہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، وہ خواب ہے یا حقیقت؟

اگر سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہو تو ہمارے نظام زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ؟

اگر سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہو، جیسا کہ حدیثِ نبوی ﷺ میں ایک بڑی قیامت کی نشانی کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، تو یہ زمین کے موجودہ فزیکل، ماحولیاتی، اور سوشل سسٹمز پر انتہائی گہرے اور ناقابلِ تصور اثرات مرتب کرے گا۔ آئیے اس ممکنہ تغیر کے سائنسی اور سماجی پہلوؤں کا تجزیہ کرتے ہیں:

1. سائنسی اور ماحولیاتی اثرات:

(الف) زمین کی گردش میں بنیادی تبدیلی

  • سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ممکنہ طور پر زمین کی محوری گردش کی سمت میں تبدیلی یا الٹاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔

  • یہ تبدیلی زمین کے مقناطیسی میدان میں بڑے پیمانے پر خلل پیدا کرے گی، جو مواصلاتی نظام، برقی آلات، اور جی پی ایس پر انحصار کرنے والے نیویگیشن سسٹمز کو تباہ کر سکتی ہے۔

(ب) دن اور رات کے معمولات میں زبردست خلل

  • موجودہ دن رات کے چکر میں شدید بے ترتیبی ہوگی، جس سے موسمیاتی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

  • درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلیاں متوقع ہیں، کیونکہ زمین کا ماحولیاتی توازن بگڑ جائے گا۔

(ج) موسمی تبدیلیاں اور قدرتی آفات

  • موسموں کا حساب کتاب بدل جائے گا، اور زراعت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

  • سمندری طوفان، زلزلے، اور سونامی جیسے قدرتی مظاہر شدت اختیار کر سکتے ہیں کیونکہ زمین کا اندرونی توازن متاثر ہوگا۔

2. معاشرتی، تکنیکی، اور اقتصادی اثرات:

(الف) ہوائی اور بحری نیویگیشن

  • ہوائی جہازوں، بحری جہازوں اور زمینی سفر کے تمام نیویگیشن سسٹمز کو ازسرِ نو ترتیب دینا پڑے گا کیونکہ جی پی ایس اور کمپاسز کی سمتیں تبدیل ہو جائیں گی۔

  • مقناطیسی شمال اور جغرافیائی شمال کے درمیان تعلق متاثر ہوگا، جس سے سفری راستے اور نیویگیشن کے اصول مکمل طور پر بدل جائیں گے۔

(ب) بنکنگ سسٹم اور تجارتی امور

  • عالمی وقت کے نظام (UTC) کو مکمل طور پر نئے سرے سے ترتیب دینا پڑے گا، کیونکہ ٹائم زونز کی ترتیب بدل جائے گی۔

  • اسٹاک مارکیٹ، بینکنگ اوقات، اور دیگر مالیاتی نظام متاثر ہوں گے کیونکہ عالمی معیشت ایک مستحکم وقت کے نظام پر منحصر ہے۔

مقناطیس کی دریافت

 مقناطیس کی دریافت ایک قدیم اور دلچسپ تاریخ رکھتی ہے۔ سب سے پہلے انسان نے مقناطیس اور اس کی کشش کو قدرتی طور پر موجود "لوڈ اسٹون"(1) (Lodestone) یا "چمک پتھر" کی مدد سے دریافت کیا، جو قدرتی طور پر مقناطیسی صلاحیت رکھتا ہے۔

قدیم دور میں مقناطیس کی دریافت اور استعمال

1. قدیم یونان (600 ق م)

  • سب سے پہلے یونانی فلسفی "تھلیز آف ملیٹس" (Thales of Miletus) نے 600 قبل مسیح میں مشاہدہ کیا کہ لوڈ اسٹون لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

  • وہ اسے ایک قدرتی خاصیت سمجھتے تھے اور اس پر غور و فکر کرتے رہے، لیکن اسے سائنسی انداز میں بیان نہ کر سکے۔

2. چین (تقریباً 200 ق م)

  • چینیوں نے سب سے پہلے مقناطیس کو سمت معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا۔

  • قدیم چینی قطب نما (Magnetic Compass) 200 قبل مسیح میں استعمال ہونے لگا، جو سمندری جہازوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوا۔

  • چینی لوگ "مقناطیسی پتھر" کو ایک چمچ کی شکل میں تراش کر پانی میں رکھتے، جس کا دستہ ہمیشہ جنوب کی طرف اشارہ کرتا۔

3. ہندوستان اور عرب دنیا

  • ہندوستانی اور عربی کتب میں بھی مقناطیس کا ذکر ملتا ہے۔

  • ابن سینا (980-1037) نے اپنی کتاب "کتاب الشفا" میں مقناطیس کی کشش کے اصولوں پر بحث کی۔

  • عرب بحری جہاز راہنمائی کے لیے مقناطیسی پتھر کا استعمال کرتے تھے۔

حضرت آدم علیہ السلام اور ابتدائی انسان: الہامی بیانات اور سائنسی تحقیقات

مقدمہ

حضرت آدم علیہ السلام کا تذکرہ تمام الہامی مذاہب میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن مجید، تورات، زبور، اور انجیل میں ان کے تخلیق، خلافتِ ارضی، آزمائش، اور جنت سے زمین پر نزول کے بارے میں تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ دوسری طرف، جدید سائنسی تحقیقات، خاص طور پر بشریات (Anthropology)، علم الحفریات (Paleontology)، اور جینیات (Genetics) نے انسانی نسل کے آغاز کے بارے میں مختلف نظریات پیش کیے ہیں۔

یہ مطالعہ بنیادی طور پر دو پہلوؤں پر مشتمل ہوگا:

  1. الہامی کتب میں حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر
  2. جدید سائنسی تحقیقات اور اکتشافات

حصہ اول: الہامی کتب میں حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر

1. قرآن مجید میں حضرت آدم علیہ السلام

قرآن مجید حضرت آدم علیہ السلام کو نوع انسانی کا پہلا فرد اور اللہ کا برگزیدہ نبی قرار دیتا ہے۔ مختلف آیات میں ان کے تخلیق، علم، آزمائش، شیطان کے دھوکے، اور زمین پر ان کے نزول کے واقعات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔

(الف) تخلیقِ آدم

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا اور ان میں اپنی روح پھونکی:

"إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِن طِينٍ"  (سورہ ص: 71)

"فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ"  (سورہ ص: 72)

(ب) خلافت اور علم

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا اور فرشتوں کے سامنے ان کے علم کی برتری ثابت کی:

"وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا"  (البقرہ: 31)

(ج) آزمائش اور جنت سے زمین پر نزول

حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو جنت میں رکھا گیا لیکن شیطان نے انہیں بہکا کر ممنوعہ درخت کا پھل کھانے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں انہیں زمین پر بھیج دیا گیا:

"قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا" (البقرہ: 38)

2. تورات، زبور، اور انجیل میں حضرت آدم علیہ السلام

تورات اور انجیل میں بھی آدم علیہ السلام کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے، لیکن ان میں بعض بیانات قرآن سے مختلف ہیں۔

زمین پر زندگی کا آغاز اور ارتقاء

کرہ ارض پر زندگی کا آغاز تقریباً تین ارب اسی کروڑ سال پہلے ہوا، لیکن اس کا حتمی جواب کسی کے پاس نہیں ہے کہ یہ آغاز کیسے ہوا۔ مذہبی مفکرین اور سائنس دانوں نے مختلف نظریات پیش کیے ہیں، جن میں سے چند نمایاں خیالات درج ذیل ہیں:

1. خودبخود پیدائش کا نظریہ

قدیم زمانے میں یہ عام خیال تھا کہ زندگی بے جان اشیاء سے خود بخود پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً، یہ تصور کیا جاتا تھا کہ خراب ہوتا ہوا شوربہ جراثیم کو جنم دیتا ہے یا گوشت گل سڑ کر کیڑوں کی پیدائش کا سبب بنتا ہے۔ لیکن 17ویں صدی میں اطالوی سائنس دان فرانسسکو ریڈی نے تجربات کے ذریعے اس نظریے کی تردید کی۔ اس نے ثابت کیا کہ کیڑے گوشت کے اندر سے خود بخود پیدا نہیں ہوتے، بلکہ وہ مکھیاں جو گوشت پر بیٹھتی ہیں، اپنے انڈے دیتی ہیں اور انہی سے کیڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے بعد مزید سائنسی تجربات سے یہ نظریہ مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا۔

2. زندگی کے ماورائے ارضی آغاز کا نظریہ

کچھ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ زمین پر زندگی کسی اور سیارے سے آئی۔ اس نظریے کے حامی ایرک وان ڈینکن جیسے محققین کا خیال ہے کہ لاکھوں سال قبل کوئی مخلوق (دیوتا) کسی دوسرے سیارے سے زمین پر آئی، اس نے انسانی زندگی کی بنیاد رکھی اور پھر واپس چلی گئی۔ تاہم، یہ نظریہ اس سوال کا جواب نہیں دیتا کہ اس مخلوق کی اپنی ابتدا کیسے ہوئی۔ اس لیے سائنسی برادری میں اس نظریے کو زیادہ پذیرائی نہیں ملی۔

3. خصوصی تخلیق کا نظریہ

یہ نظریہ کہتا ہے کہ زمین پر موجود تمام جاندار ایک مافوق الفطرت ہستی یا ہستیوں نے پیدا کیے۔ ہر جاندار اپنی مخصوص شکل میں پیدا ہوا اور یہ ہمیشہ اسی حالت میں رہے گا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ کئی بڑے سائنس دان بھی اس نظریے کے حامی رہے ہیں، لیکن جدید تحقیق نے اس پر متعدد سوالات کھڑے کیے ہیں۔

پتھر کا دور: ایک تحقیقی مطالعہ

تعارف:

مورخین اور ماہرین آثار قدیمہ کا ماننا ہے کہ انسان کی زمین پر موجودگی کا بیشتر حصہ پتھر کے دور پر مشتمل ہے۔ تقریباً 99 فیصد انسانی تاریخ کا تعلق اسی دور سے ہے، جبکہ باقی تمام ترقی یافتہ ادوار محض ایک فیصد پر محیط ہیں۔ پتھر کے دور کا آغاز تقریباً دس لاکھ سال قبل ہوا اور اس کا اختتام تقریباً 8 ہزار قبل مسیح پر ہوتا ہے۔ اس دور کے متعلق معلومات زیادہ تر ان اوزاروں، جانوروں اور انسانی ڈھانچوں سے حاصل کی گئی ہیں جو کھدائی کے دوران دریافت ہوئے ہیں۔

پتھر کے دور کی درجہ بندی:

ماہرین آثار قدیمہ نے پتھر کے دور کو تین بنیادی حصوں میں تقسیم کیا ہے:

  1. قدیم سنگی دور (Paleolithic Age):

    • یہ دور تقریباً 25 لاکھ سال قبل سے 10 ہزار قبل مسیح تک محیط ہے۔
    • انسان شکار پر انحصار کرتا تھا اور غاروں یا کھلی جگہوں پر رہتا تھا۔
    • آگ کی دریافت اور اس کے استعمال کا آغاز اسی دور میں ہوا۔
    • ابتدائی اوزار پتھر کے بنے ہوئے تھے، جو شکار اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
  2. اوسط سنگی دور (Mesolithic Age):

    • یہ دور تقریباً 10 ہزار قبل مسیح سے 8 ہزار قبل مسیح تک جاری رہا۔
    • انسان نے زراعت کی ابتدائی شکلوں کی دریافت کی اور کچھ جانوروں کو پالتو بنانا شروع کیا۔
    • چھوٹے اور زیادہ ترقی یافتہ اوزار بنائے گئے، جنہیں مائیکرولیتھس (Microliths) کہا جاتا ہے۔
    • اس دور میں شکار کے ساتھ ساتھ ماہی گیری اور ابتدائی کھیتی باڑی کا آغاز بھی ہوا۔
  3. جدید سنگی دور (Neolithic Age):

    • یہ تقریباً 8 ہزار قبل مسیح سے 3 ہزار قبل مسیح تک جاری رہا۔
    • انسان نے زراعت کو مکمل طور پر اپنایا اور مستقل بستیوں کی بنیاد رکھی۔
    • مٹی کے برتن، کپڑے بنانے اور گھریلو جانوروں کو پالنے کا رواج عام ہوا۔
    • انسانی تہذیب کی بنیاد پڑی اور ابتدائی سماجی نظام تشکیل پانے لگے۔

پتھر کے دور کے شواہد:

پتھر کے دور کے شواہد زیادہ تر انسانی ڈھانچوں، غاروں میں بنی تصویروں، اور پتھروں سے بنے اوزاروں کی شکل میں موجود ہیں۔