گوشۂ سید ابوالحسن علی ندوی ؒ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
گوشۂ سید ابوالحسن علی ندوی ؒ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

مکہ معاہدہ اور فکر ندوی (علی میاںؒ)

یسویں صدی کے وسط میں جب مسلم امہ نوآبادیاتی غلامی کے سائے سے نکل رہی تھی، تب برصغیر کے عظیم مفکر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (علی میاں) نے اپنی معرکہ آرا تصنیف "انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر"  ( اصل کتاب عربی زبان  میں  ہے جس کا عنوان ہے "ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین")  کے ذریعے عالمی افق پر ایک فکری زلزلہ برپا کیا تھا۔ انہوں نے مسلم دنیا، بالخصوص عرب حکمرانوں اور دانشوروں کو جرات مندانہ دعوتِ فکر دی کہ مسلمانوں کا زوال محض ایک خطے کی تنزلی نہیں، بلکہ اخلاقی و روحانی طور پر پوری انسانیت کی خودکشی کا سبب بن رہا ہے۔ آج اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں، جب مشرقِ وسطیٰ اور مسلم دنیا ایک نئی سیاسی الٹ پھیر اور فکری بحران سے گزر رہی ہے، فکرِ ندوی کی معنویت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

مولانا ندوی نے اپنی دوسری مایہ ناز کتاب "مسلم دنیا میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش" میں ترکی، مصر اور پاکستان کا خاص طور پر ذکر کیا تھا۔ انہوں نے بڑی باریک بینی سے یہ نکتہ واضح کیا تھا کہ یہ تینوں ممالک مسلم دنیا کے فکری اور سیاسی اعصاب ہیں۔ ترکی جہاں خلافت کا مرکز رہا اور بعد میں مغربیت کی شدید ترین لہر (اتاترک ازم) کا شکار ہوا؛ مصر جو علمی و سیاسی تحریکوں کا گہوارہ رہا؛ اور پاکستان جو اسلام کے نام پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ مولانا کے نزدیک ان ممالک میں جاری اسلامیت اور مغربیت کی یہ کشمکش محض نظریاتی نہیں، بلکہ امہ کے مستقبل کے رخ کا تعین کرنے والی ہے۔ وہ اپنی تحریروں اور خطبات میں ہمیشہ اس بات کے داعی رہے کہ مسلم دنیا کو مغرب کی فکری گداگری اور سیاسی مغلوبیت چھوڑ کر ایک ایسے مضبوط تزویراتی (Strategic) اور ایمانی اتحاد کی طرف بڑھنا چاہیے جو عالمی طاقتوں کے سامنے اپنا وزن رکھ سکے۔

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ سیاسی حالات کا جائزہ لیں تو مولانا ندوی کی پیشگوئیاں اور ان کا خواب سچ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طویل عرصے تک مغرب کی فکری غلامی اور بلاک پولیٹکس پر انحصار کرنے کے بعد، اب مسلم دنیا کے بڑے مراکز میں ایک نئی بیداری اور تزویراتی خود مختاری (Strategic Autonomy) کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ اس وقت سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے مابین مکہ معاہدہ  اور سفارتی ہم آہنگی اسی فکرِ ندوی کا عملی مظہر ہے۔ سعودی عرب اپنی روایتی اور تزویراتی قیادت کے ساتھ، ترکی اپنی فوجی و صنعتی قوت اور تاریخی تشخص کے ساتھ، اور پاکستان اپنی ایٹمی صلاحیت، سٹریٹجک لوکیشن اور افرادی قوت کے ساتھ مل کر مسلم امہ کے لیے ایک مضبوط تکون (Triangle) تشکیل دے رہے ہیں۔

یہ اتحاد اس لیے بھی ناگزیر ہے کیونکہ "مسلم دنیا میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش" اب اپنے آخری اور نازک ترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایک طرف خلیجی ممالک اور مصر میں ترقی اور "روشن خیالی" کے نام پر تیز رفتار مغرب زدگی (Westernization) کا چیلنج ہے، تو دوسری طرف مسلم عوام میں اپنے اسلامی تشخص، غزہ و فلسطین کے مسائل پر غیرتِ ایمانی اور خودمختاری کا شدید جذبہ پایا جاتا ہے۔ موجودہ حالات ثابت کر رہے ہیں کہ مصر کا سیاسی جمود ہو یا ترکی اور پاکستان کی معاشی و سیاسی آزمائشیں، ان کا حل مغرب کے آگے گھٹنے ٹیکنے میں نہیں، بلکہ اپنے وسائل اور فکری بنیادوں پر اکٹھے ہونے میں ہے۔

آج جب مشرقِ وسطیٰ ایک نئے جغرافیائی اور سیاسی موڑ پر کھڑا ہے، تو سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے مابین یہ اتحاد محض وقت کی ضرورت نہیں، بلکہ فکرِ ندوی کا وہ ادھورا ایجنڈا ہے جسے حاصل کیے بغیر مسلم دنیا عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقامِ قیادت حاصل نہیں کر سکتی۔ وقت آ گیا ہے کہ ان ممالک کے دانشور اور حکمران مولانا علی میاں ندوی کی اس صدا پر کان دھریں کہ مسلمانوں کی بقا مغرب کے سیاسی و فکری الحاق میں نہیں، بلکہ اپنی روح کی بازیافت اور آپس کے مضبوط اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ علامہ اقبال ؒ نے بھی اس اتحاد کی دعوت دی ہے ۔ 

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نِیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر

سید ابوالحسن علی ندویؒ: فکری امتیازات و خصائص ۔ ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

انیسویں صدی کے اواخر میں عالم اسلام سیاسی، عسکری اور علمی و فکری زوال کی انتہا کو پہنچ رہا تھا اور بیسویں صدی کے آغاز تک مغربی استعمار عالم اسلام کے حصے بخیے کرنے اور خلافت کے ادارہ کو توڑنے میں کامیاب ہوچکاتھا۔اس ناگفتہ بہ صورت حال نے عالم اسلام میں بے چینی کی ایک لہر دوڑادی اور ہر طرف علماے راسخین اور مجاہدین آزادی اٹھ کھڑے ہوئے۔ مختلف اسلامی تحریکات اور شخصیات دنیائے اسلام کے کونے کونے میں پان اسلام ازم اور احیائے اسلام کے مبارک و مقدس کاز کے لیے سرگرم عمل ہوگئیں۔ 

یہ زمانہ افکار و نظریات کی شکست و ریخت کا زمانہ تھا۔ مغرب کے صنعتی و سائنسی انقلاب نے وہاں کے حالات یکسر بدل دیے تھے۔ افکار و خیالات کی دنیا میں ایک نمایاں تغیر آچکا تھا، اب جاگیر داری ختم ہورہی تھی اور اس کی جگہ شراکت جمہور نے لے لی تھی۔ سرمایہ داری کی پرانی شکلیں تبدیل ہوکر اب بین الاقوامی تجارتی ادارے (M.N.C.S) قائم ہورہے تھے۔ موروثی بادشاہت اور آمریت کی طنابیں بیسویں صدی کی ہوائے حریت سے یکے بعد دیگرے ٹوٹ رہی تھیں۔ مزدوروں کے استحصال نے سرمایہ دارانہ نظام اور بورژروا طبقہ کے خلاف سخت معاندانہ رجحانات پیداکردیے تھے۔انفرادی ملکیت کی بجائے اب سیاست و معیشت کے اداروں میں پرولتاریہ خیالات کی گونج سنائی دے رہی تھی اور یہ فکر زندگی کے ہر شعبہ کو شدت سے متاثر کرنے لگا تھا۔

مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کا اسلوب تحریر: جس کے پیرہن سے خوشبو آئے

ابو فہد ندوی 

ہم اس مضمون میں مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے اسلوب تحریر کے انشائی پہلو پر گفتگو نہیں کریں گے بلکہ اس کی باطنیت یعنی جوش و جذبے، ذوق و شوق اور اس میں پنہاں وفور عشق و محبت اور وارفتگی کے حوالے سے بات کریں گے، جو ان کے قلم کو قوت و رعنائی اور آتش و زیبائی بہم پہنچاتی ہیں، اس میں شیرنی گھولتی ہیں اور ان کے قلم کو ہردم جواں اور ہر لحظہ رواں رکھتی ہیں۔ اور قاری دوران قرات ایسا کچھ محسوس کرتا ہے جیسے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اس کے جسم و جان اور قلب و روح کے تمام تار و پود کو بیک وقت معطر کر رہے ہیں۔

جیسے بھیگی بھیگی سی کوئی شام ہے اور قاری اس میں مزید بھیگ جانا چاہتا ہے۔ اور باوجود اس کے کہ وہ بعض دفعہ خود اپنے اوپر لکھی گئی تنقید پڑھ رہا ہوتا ہے اور تب بھی اس کی یہی خواہش ہو سکتی ہے کہ وہ مزید بھیگتا رہے۔ شاید اس کے شوق کو یہ احساس مہمیز کرتا ہے کہ یہ تحریر براہ راست اسی سے مخاطب ہے اور خاص کر اسی کے لیے ہمدردی و خیر خواہی کا بے پناہ جذبہ اپنے ظاہر و باطن میں سموئے ہوئے ہے۔

مولانا مرحوم کی تنقیدات کی اسی خصوصیت کے تعلق سے مولانا محمد تقی عثمانی صاحب نے لکھا ہے : ”ان کی تحریر و تقریر میں جو اخلاص، دردمندی اور دل سوزی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، وہ ان کی سخت سے سخت بات کو مخاطب کے لیے قابل قبول بنا دیتی تھی۔ اس کا نتیجہ تھا کہ عربوں پر کھری کھری تنقید کے باوجود عرب ممالک میں ان کی مقبولیت کسی بھی غیر عرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔“ [مفتی مولانا محمد تقی عثمانی، مضمون : ”توصیف کیا بیاں کریں ان کے کمال“ مطبوعہ: فکر انقلاب، فروری 2019، نئی دہلی]

اسی حوالے سے ایک اور شہادت دیکھیں :

اصلاح و تجدید کی ضرورت اور تاریخ اسلام میں ان کا تسلسل - مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی

 زندگی متحرک ہے اور تغیر پذیر ہے:

 اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے، اور کامل و مکمل طور پر دنیا کے سامنے آچکا ہے، اور اعلان کیا جاچکا ہے کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ (المائدہ-3)ترجمہ: آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور دین کی حیثیت سے اسلام کو تمہارے لیے پسند کرچکا۔ ایک طرف تو اللہ کا دین مکمل ہے، دوسری طرف یہ حقیقت ہے کہ زندگی متحرک اور تغیر پذیر ہے، اور اس کا شباب ہر وقت قائم ہے۔               

جاوداں، پیہم دواں، ہردم جواں ہے زندگی

اس رواں دواں اور سداجواں زندگی کا ساتھ دینے اور اس کی رہنمائی کے لئے اللہ تعالٰے نے آخری طور پر جس دین کو بھیجا ہے، اس کی بنیاد اگرچہ"ابدی عقائدوحقائق"پر ہے مگر وہ زندگی سے پُر ہے، اور حرکت اسکی رگ و پے میں بھری ہوئی ہے، اس میں اللہ تعالٰی نے یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ ہر حال میں دنیا کی رہنمائی کرسکے، اور ہر منزل میں تغیر پذیر انسانیت کا ساتھ دے سکے، وہ کسی خاص عہد کی تہذیب یا کسی خاص دور کا فن تعمیر نہیں ہے جو اس دور کی یادگاروں کے اندر محفوظ ہو اور اپنی زندگی کھوچکا ہو، بلکہ ایک زندہ دین ہے جو علم و حکیم صانع کی صنعت کا

بہترین نمونہ ہے۔

 ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ﴿الانعام:٩٦﴾

یہ ہے اندازہ غالب اور علم رکھنے والے کا۔

صُنْعَ اللَّـهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ ۚ  ﴿النمل:٨٨﴾

کاریگری اللہ کی جس نے ہر چیز کو محکم کیا۔

اُمتِ اسلامیہ کا زمانہ سب سے زیادہ پُر از تغیرات ہے

یہ دین چونکہ آخری اور عالمگیر دین ہے اور یہ امت آخری اور عالمگیر اُمت ہے اس لئے یہ بالکل قدرتی بات ہے کہ دنیا کے مختلف انسانوں اور مختلف زمانوں سے اس امت کا واسطہ رہے گا اور ایسی کشمکش کا اس کو مقابلہ کرنا ہو گا، جو کسی دوسری امت کو دنیا کی تاریخ میں پیش نہیں آئی۔ اس امت کو جو زمانہ دیا گیا ہے، وہ سب سے زیادہ پُر از تغیرات اور پُر از انقلابات ہے اور اس کے حالات میں جتنا تنوع ہے، وہ تاریخ کے کسی گذشتہ دور میں نظر نہیں آتا۔