فقہ و اصول فقہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
فقہ و اصول فقہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

دانش کی مجلس: "فقہائے اسلام کا مکالمہ"

یہ مکالمہ ایک علمی، غیر جانبدار اور فکری نشست کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے، تاکہ قاری کو اسلامی فقہ کے بنیادی اختلافات اور ان میں ہم آہنگی کا راستہ سمجھنے میں مدد ملے۔

(ایک فکری نشست جس میں اسلامی تاریخ کے پانچ عظیم فقہاء ایک ہی میز پر جمع ہیں، اور میزبان ان سے فقہی اختلافات، ان کے دلائل اور امت کے لیے یکجہتی کا راستہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔)


📺 سیٹ اپ:
ایک پُروقار اسٹوڈیو، جہاں پانچ ممتاز فقہاء: امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام جعفر صادق تشریف فرما ہیں۔ درمیان میں میزبان، جو سوالات کے ذریعے اس علمی مکالمے کو آگے بڑھا رہا ہے۔

🎙 میزبان:
"ناظرین! آج کی یہ نشست فقہِ اسلامی کی تاریخ کے سب سے بڑے ناموں کے ساتھ ہے۔ امتِ مسلمہ کے ان جلیل القدر ائمہ نے اسلامی قانون اور فقہ کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی آرا میں نمایاں اختلافات موجود ہیں۔ آخر یہ اختلافات کیوں پیدا ہوئے؟ اور کیا یہ اختلاف امت کے لیے رحمت ہے یا زحمت؟ آئیے، براہِ راست انہی سے گفتگو کرتے ہیں!"

اسلامی قانون وراثت

اسلام سے پہلے کے زمانے میں عرب میں ورثہ صرف مردوں میں تقسیم ہوتا تھا۔[1][2] اسلام ہر وارث کا حصہ مقرر کرتا ہے اور وراثت کی بنیاد قریبی رشتہ داری قرار دیتا ہے نہ کہ ضرورت مند کی ضرورت۔ قریبی رشتہ داری سے مراد خون کا رشتہ یا نکاح کا رشتہ ہے۔

سنی عقیدے کے مطابق قرانی احکامات پرانے عرب دستور کو رد نہیں کرتے بلکہ انھیں صرف بہتر بناتے ہیں تا کہ عورتوں کو بھی وراثت میں شامل کیا جائے۔ شیعہ عقیدے کے مطابق چونکہ قرآن نے پرانے عرب دستور کی تائید نہیں کی ہے اس لیے اسے مکمل طور پر مسترد کر کے نیا قرآنی طریقہ اپنانا چاہیے۔

پس منظر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت سعد بن الربيع کی بیوہ نے شکایت کی کہ میرا شوہر آپ کے ہمراہ غزوہ احد میں شریک تھا اور شہید ہو گیا۔ اس کی دو بیٹیاں ہیں۔ ان کے چچا انھیں کچھ ورثہ نہیں دے رہے۔ اگر ان لڑکیوں کے پاس کچھ مال نہیں ہو گا تو ان کی شادی نہیں ہو سکے گی۔ اس پر آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ کے حکم پر ورثہ کا دو تہائی حصہ سعد بن الربيع کی بیٹیوں کا اور آٹھواں حصہ بیوہ کا قرار پایا اور لگ بھگ 20 فیصد حصہ چچاوں میں تقسیم ہوا۔[3]

ورثہ تقسیم کرنے سے پہلے

کفن دفن کے اخراجات نکال لیے جائیں۔

عام اور خاص ۔ جاوید احمد غامدی

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت ستمبر 2011 

دنیا کی کسی زبان میں بھی یہ طریقہ نہیں ہے کہ ہر لفظ ایک معنی اور ہر اسلوب ایک ہی مدعا کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ یہ بالعموم متعدد معانی پر دلالت کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ فیصلہ کہ کسی کلام میں یہ کس مفہوم کے لیے استعمال ہوئے ہیں، ہمیشہ اِسی بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ جملے کی تالیف، متکلم کا عرف، نظم کلام ، سیاق و سباق اور اِس نوعیت کے بعض دوسرے قرائن کیا حکم لگاتے ہیں۔ اِس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ذہن تمام احتمالات کو سامنے رکھ کر کبھی فکر و تدبر کے بعد اور کبھی بادنیٰ تامل اپنا فیصلہ صادر کر دیتا ہے۔ زبان سے متعلق یہی حقیقت ہے جس کی بنا پر امام شافعی نے اپنی کتاب ’’الرسالہ‘‘ میں قرآن کے خاص و عام سے متعلق فرمایا ہے کہ زبان محتمل المعانی ہوتی ہے۔ اُس کے خاص و عام بھی جب کسی کلام کا جزو بن کر آتے ہیں تو ضروری نہیں ہے کہ ہر حال میں اُسی معنی کے لیے آئیں جس کے لیے وہ اصلاً وضع کیے گئے ہیں۔ اللہ کی کتاب اِس طرح نازل ہوئی ہے کہ اُس میں لفظ عام ہوتا ہے، مگر اُس سے خاص مراد لیا جاتا ہے اور خاص ہوتا ہے، مگر اُس سے عام مراد لیا جاتا ہے*۔لہٰذا نہ خاص کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے مدلول کے لیے قطعی ہے اور نہ عام کے بارے میں کہ وہ اپنے تحت تمام افراد پر لازماً دلالت کرے گا۔ ائمۂ اصول کے ایک گروہ کو اِس سے اختلاف ہے۔ لیکن حق یہ ہے کہ اِس معاملے میں امام شافعی کا نقطۂ نظر ہی صحیح ہے، اِس لیے کہ یہ مجرد لفظ نہیں، بلکہ اُس کا موقع استعمال ہے جو سامع یا قاری کو اُس کے مفہوم سے متعلق کسی حتمی نتیجے تک پہنچاتا ہے۔ ہم نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ کے مقدمہ ’’اصول و مبادی‘‘ میں لکھا ہے:

’’...قرآن میں یہ اسلوب جگہ جگہ اختیار کیا گیا ہے کہ بظاہر الفاظ عام ہیں،لیکن سیاق و سباق کی دلالت پوری قطعیت کے ساتھ واضح کر دیتی ہے کہ اُن سے مراد عام نہیں ہے ۔ قرآن ’النَّاس‘کہتا ہے ،لیکن ساری دنیا کا تو کیا ذکر ،بارہا اِس سے عرب کے سب لوگ بھی اُس کے پیش نظر نہیں ہوتے ۔وہ ’عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ‘کی تعبیر اختیار کرتا ہے ،لیکن اِس سے دنیا کے سب ادیان مراد نہیں لیتا ۔ وہ ’ الْمُشْرِکُوْنَ‘ کا لفظ استعمال کرتا ہے، لیکن اِسے سب شرک کرنے والوں کے معنی میں استعمال نہیں کرتا ۔ وہ ’ اِنَّ مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ‘ کے الفاظ لاتا ہے، لیکن اِس سے پورے عالم کے اہل کتاب مراد نہیں ہوتے ۔ وہ ’الْاِنْسَان‘کے لفظ سے اپنا مدعا بیان کرتا ہے ،لیکن اِس سے ساری اولادآدم کا ذکر مقصود نہیں ہوتا ۔یہ قرآن کا عام اسلوب ہے، جس کی رعایت اگر ملحوظ نہ رہے تو قرآن کی شرح و وضاحت میں متکلم کا منشا بالکل باطل ہو کر رہ جاتا ہے اور بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے، لہٰذا ناگزیر ہے کہ اِس معاملے میں قرآن کے عرف اور اُس کے سیاق و سباق کی حکومت اُس کے الفاظ پر ہرحال میں قائم ر کھی جائے۔‘‘(۲۳)

زبان کی یہی نوعیت ہے جس کے پیش نظر قرآن کے علما و محققین تقاضا کرتے ہیں کہ متکلم کے منشا تک پہنچنا ہو تو محض ظاہر الفاظ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اُن کے باطن کو سمجھ کر حکم لگانا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب الٰہی کی یہی خدمت انجام دی ہے اور اپنے ارشادات سے اُن مضمرات و تضمنات کو واضح کر دیا ہے جن تک رسائی اُن لوگوں کے لیے مشکل ہو سکتی تھی جو لفظ و معنی کی اِن نزاکتوں کو سمجھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔امام شافعی بجا طور پر اصرار کرتے ہیں کہ ظاہر الفاظ کی بنیاد پر آپ کی اِس تفہیم و تبیین سے صرف نظر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ قرآن کا بیان ہے، اِس میں کوئی چیز قرآن کے خلاف نہیں ہوتی۔ خدا کا پیغمبر کتاب الٰہی کا تابع ہے۔ وہ اُس کے مدعا کی تبیین کرتا ہے، اُس میں کبھی تغیر و تبدل نہیں کرتا۔ امام اپنی کتاب میں اِس کی مثالیں دیتے اور بار بار متنبہ کرتے ہیں کہ قرآن کے احکام سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے، وہ بیان اور صرف بیان ہے۔ اُسے نہیں مانا جائے گا تو یہ قرآن کی پیروی نہیں، اُس کے حکم سے انحراف ہو گا، اِس لیے کہ اُس کا متکلم وہی چاہتا ہے جو پیغمبر کی تفہیم و تبیین سے واضح ہو رہا ہے، اُس کا منشا اُس سے مختلف نہیں ہے۔

امام شافعی کی اِس بات سے زیادہ سچی بات کیا ہو سکتی ہے! لیکن امام کے استدلال کی کمزوری یہ ہے کہ بیش تر موقعوں پروہ مبرہن نہیں کر سکے کہ لفظ اور معنی کے جس تعلق کو وہ بیان سے تعبیر کرتے ہیں، وہ اُن میں پیدا کس طرح ہوتا ہے؟ چنانچہ اِسی کا نتیجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل کی چند ایسی روایتوں پر بھی مطمئن ہو گئے ہیں جنھیں کسی طرح بیان قرار نہیں دیا جا سکتا ، دراں حالیکہ اُن کے بارے میں یہ بحث ہو سکتی تھی کہ اُن کے راویوں نے آپ کا مدعا ٹھیک طریقے سے سمجھا اور بیان بھی کیا ہے یا نہیں؟ امام شافعی کے نقطۂ نظر سے جو لوگ اختلاف کرتے ہیں، اُن کی اصلی الجھن یہی ہے۔

ہم نے ’’میزان‘‘ میں کوشش کی ہے کہ امام کے موقف کو پوری طرح مبرہن کر دیں، اِس لیے کہ اصولاً وہ بالکل صحیح ہے۔ اہل نظر ’’میزان‘‘ کے مقدمہ ’’اصول و مبادی‘‘ میں ’’میزان اور فرقان‘‘ کے زیر عنوان یہ مباحث دیکھ سکتے ہیں۔ اِس سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ قرآن مجید کے احکام سے متعلق روایتوں میں جو کچھ بیان ہوا ہے، وہ اُس کے الفاظ کا مضمر ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تشریحات سے ظاہر کر دیا ہے۔ قرآن کے طالب علموں کو اِس سے لفظ کے باطن میں اتر کر اُس کو سمجھنے کی تربیت حاصل کرنی چاہیے، اِسے رد کر دینے یا اِس سے قرآن کے نسخ پر استدلال کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔

* الرسالہ، الشافعی۲۳۰۔ یہی وہ بات ہے جسے نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ امام شافعی بھی الفاظ کی دلالت کو اُن کے معانی پر ظنی مانتے ہیں۔ دراں حالیکہ وہ صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ زبان میں ایک سے زیادہ مفاہیم کا احتمال ہوتاہے، اِس لیے کسی ایک احتمال کو سامنے رکھ کر فیصلہ سنانے کے لیے مبادرت نہیں کرنی چاہیے، بلکہ تدبر کے ساتھ دیکھنا چاہیے کہ کسی خاص موقع پر کون سا مفہوم ہے جسے متکلم کا منشا قرار دیا جا سکتا ہے۔

ؒ محاضرات فقہ ، خطبہ نمبر 12 (فقہ اسلامی دور جدید میں ) - ڈاکٹر محمود احمد غازی

ؒ محاضرات فقہ ، خطبہ نمبر 11 (مسلمانوں کے بے مثال فقہی ذخرے کا سرسری جائزہ ) - ڈاکٹر محمود احمد غازی

ؒ محاضرات فقہ ، خطبہ نمبر 10 (اسلام کا قانون تجارت و مالیات ) - ڈاکٹر محمود احمد غازی

ؒ محاضرات فقہ ، خطبہ نمبر 9 (اسلام کا قانون جرم اور سزا ) - ڈاکٹر محمود احمد غازی

ؒ محاضرات فقہ ، خطبہ نمبر 8(اسلام کا دستوری اور انتظامی قانون ) - ڈاکٹر محمود احمد غازی

ؒ محاضرات فقہ ، خطبہ نمبر 7(مقاصد شریعت اور اجتہاد ) - ڈاکٹر محمود احمد غازی

ؒ محاضرات فقہ ، خطبہ نمبر 6 ( اسلامی قانون کے بنیادی تصورات ) - ڈاکٹر محمود احمد غازی

ؒ محاضرات فقہ ، خطبہ نمبر 5 ( تدوین فقہ اور مناہج فقہ ) - ڈاکٹر محمود احمد غازی

ؒ محاضرات فقہ ، خطبہ نمبر 4 ( اہم فقہی علوم : ایک تعارف) - ڈاکٹر محمود احمد غازی

ؒ محاضرات فقہ ، خطبہ نمبر3 (علم اصول فقہ ) - ڈاکٹر محمود احمد غازی

ؒ محاضرات فقہ ، خطبہ نمبر 2(فقہ اسلامی کے امتیازی خصائص ) - ڈاکٹر محمود احمد غازی

ؒ محاضرات فقہ ، خطبہ نمبر 1(فقہ اسلامی علوم اسلامیہ کا گل سرسبد ) - ڈاکٹر محمود احمد غازی

’’فقہ‘‘ حدیث کی نظر میں اور مذہبِ ’’ظاہریّہ‘‘ پر ایک نظر۔ علامہ سید محمد یوسف بنوری ؒ

عقل اور اس کا منصب 

’’عقل وادراک ‘‘ حق جل ذکرہٗ کا وہ ربانی عطیہ ہے جو علمی وعملی ’’کمالات ‘‘ اور فطری وکسبی ’’ملکات ‘‘ کے لیے بنیاد ہے، بلکہ علمی وروحانی منازل طے کرنے کے لیے سرچشمہ ہے۔ نظام عالم کی اصلاح کے لیے جو نوامیسِ الٰہیہ آئے ہیں، ان کا بڑی حد تک اسی پر مدار ہے۔ تہذیبِ نفوس وتزکیۂ اخلاق کا بھی یہی دارومدار ہے۔ انسان کے روحانی کمالات کا انتہائی عروج جسے ہم نبوت یا رسالت سے تعبیر کرتے ہیں، جن نفوسِ قدسیہ کو نصیب ہوا ہے، اس کے لیے سب سے پہلے عقل وادراک کے انتہائی کمال کی ضرورت ہے۔

تشریعی قوانین اور تکلیفی احکام جس کے ذریعہ سے انسان ابدی نعیم کا مستحق ہوتا ہے‘ عقل وادراک اس کے لیے شرطِ اول ہے۔ غرض اس نعمت ِ عظمیٰ کی عظمت سے کوئی عاقل انکار نہیں کرسکتا ہے۔ کائناتِ عالم کی مادی وروحانی حیرت انگیز ترقیات سب اس کے کمال کی دلیل ہیں: ’’آفتاب آمد دلیلِ آفتاب‘‘ لیکن ہر چیز کے لیے خالقِ برحق اور قادرِ مطلق نے ایک حد مقرر کردی ہے، اس قانونِ قدرت کے مطابق عقل وادراک کے لیے بھی ایک منصب منتخب کردیا گیا ہے، اس کی حدود متعین ہوگئی ہیں۔ دیکھیے!

اسلامی قانون کے مآخذ ۔ مولانا امین احسن اصلاحی ؒ

ہمارے اصول فقہ کے علما اسلامی قانون کے عموماً چار مآخذ بتاتے ہیں: کتاب، سنت، اجماع اور قیاس

مسئلے کی یہ تعبیر اگرچہ غلط نہیں ہے لیکن اس تعبیر میں بعض ایسے خلا ہیں جن کے سبب سے موجودہ زمانے کے ذہنوں کو اصل حقیقت کے سمجھنے میں بعض الجھنیں پیش آتی ہیں۔ مَیں پہلے اس تعبیر کے خلا کی طرف اشارہ کروں گا۔ تاکہ وہ الجھنیں دور ہو سکیں جو اس تعبیر کے سبب سے ذہنوں میں پیدا ہوتی ہیں، اس کے بعد تفصیل کے ساتھ بتاؤں گا کہ اسلامی قانون کے ماخذ فی الواقع کیا کیا ہیں، ان ماخذوں کے حدود کیا ہیں اور ان سے استفادے کے شرائط کیا ہیں؟

مذکورہ تعبیر میں کھٹکنے والی باتیں تین ہیں: ایک تو یہ ہے کہ اس میں اجماع کو تیسرے ماخذ قانون کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔ حالانکہ کتاب و سنت کے بعد تیسرا ماخذ اسلام میں اجتہاد ہے۔ اجماع اجتہاد کی ایک قسم، بلکہ سب سے اعلی قسم تو ضرور ہے، لیکن اس کو تیسرے ماخذ قانون سے تعبیر کرنا اس عہد کے بہت سے لوگوں کو اجنبی سا معلوم ہوتا ہے۔ اجتہاد ایک تو کسی مجتہد کا انفرادی اجتہاد ہوتا ہے، ایک وہ اجتہاد ہوتا ہے جس پر وقت کے مجتہدین متفق ہو گئے ہوں۔ اس موخر الذکر اجتہاد کو اجماع کہتے ہیں۔ یہ سابق الذکر اجتہاد سے اس اعتبار سے بالکل مختلف ہوتا ہے کہ اس کی حیثیت صرف ایک رائے کی نہیں رہ جاتی، بلکہ یہ دین میں بجائے خود ایک حجت کی حیثیت حاصل کر لیتا ہے۔

امام شافعی ؒ کی کتاب ’’الرسالہ‘‘ میں ماخذ دین کی بحث: جناب جاوید احمد غامدی سے ایک گفتگو

منظور الحسن 

ماہنامہ اشراق ، 

تاریخ اشاعت : دسمبر 2018ء

[یہ سوال و جواب استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے ساتھ میری ایک گفتگو سے ماخوذ ہیں۔۲۰۱۳ء میں امام شافعی کی کتاب ’’الرسالہ‘‘کی تدریس کے دوران میں ایک مبتدی طالب علم کے اشکالات کو رفع کرنے کے لیے استاذ گرامی نے جوگفتگو فرمائی، اسے میں نے اپنے فہم کے لحاظ سے مرتب کیا ہے۔امید ہے کہ ماخذ دین کی بحث میں دل چسپی رکھنے والے طالب علموں کے لیے یہ افادیت کا باعث ہوگی۔]

     سوال: گذشتہ نشست میں آپ نے جو گفتگو فرمائی تھی، اس سے ماخذ دین کی بحث کو سمجھنے میں بہت مدد ملی ہے۔ یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اخبار آحاد کے معاملے کو ہمارے جلیل القدر علما کیسے دیکھتے ہیں۔ لیکن جہاں تک خبر واحد کے محفوف بالقرائن ہو کر درجۂ اطمینان کو پہنچنے کا تعلق ہے تو اس پر ذہن مطمئن نہیں ہو سکا۔ سوال یہ ہے کہ عقلی اطمینان کے بغیر محض نفسیاتی اطمینان کی بنا پر کیسے کسی بات کو صحیح قرار دیا جا سکتا ہے؟ یعنی ہمارے اہل علم سے اس بات کا صدور کیسے ہوا ہے کہ ظنی کو قطعی کے متوازی، حتیٰ کہ اس پر حاکم سمجھ لیا گیا ہے؟ پھر ہمارے ائمہ کے زمانے تک علم حدیث باقاعدہ سائنس بھی نہیں بنا تھا ۔تحقیق کے، تدلیس کے، وضع کے، روایت بالمعنیٰ کے اور تناقض وغیرہ کے مسائل غیر معمولی تھے۔ ان کے ہوتے ہوئے محض قرائن اور نفسیاتی اطمینان کی بنیاد پر کسی خبر واحد کو علماً یا عملاً درجۂ یقین تک پہنچا دینا کیسے ممکن ہوا ہے؟

     جواب: اگر آپ اصل واقعے سے صرف نظر کریں گے تو بات کو سمجھنا مشکل ہو جائے گا۔ واقعہ یہ ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے کچھ باتیں نقل ہو کر سامنے آگئی ہیں۔ یعنی اِن کی نسبت اُس ہستی کے ساتھ ہے جو دین کا تنہا ماخذ ہے، جس کا علم بے خطا ہے اور جس کے بارے میں یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ گفتۂ او گفتۂ اللہ بود۔ مزید یہ کہ اِن باتوں کے الفاظ، اِن کا علم ، اِن کی حکمت، اِن کی شان کلام ، اِن کی عالمانہ بلندی، اِن کی قرآن و سنت سے موافقت، سب گواہی دے رہے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہو سکتی ہیں ۔اب کیا اِنھیں صرف اِس لیے رد کر دیا جائے کہ یہ ہم تک ان