قرآن کی نظر میں دولت: صرف فتنہ نہیں، بلکہ خیر و فضل بھی ہے ۔
![]() |
| قرآن مجید اور جدید معیشت وتجارت |
" آج دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو اخلاق اور مقاصد زندگی کی ، یہ صرف انبیاء کرام اور آسمانی کتب میں ہیں ۔ آج دنیا کی تعمیر نو صرف اس طرح ممکن ہے کہ جو وسائل و زرائع جدید دور میں انسانوں نے پیدا کرلیے ان کی مدد سے اور انبیاء اور آسمانی کتب میں موجود انسانیت کے اخلاق اور مقاصد زندگی کی مدد سے دنیا کی تعمیر نو کی جائے ۔" (مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ )
![]() |
| قرآن مجید اور جدید معیشت وتجارت |
دورِ جدید میں میڈیا انسانی زندگی کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔ معلومات کی تیز رفتار ترسیل نے دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی فیک نیوز (Fake News) اور گمراہ کن اطلاعات کا سیلاب بھی آیا ہے۔ قرآنِ کریم، جو ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، ہمیں اس فتنے سے محفوظ رہنے کے اصول فراہم کرتا ہے۔ اس تحریر میں ہم میڈیا کے کردار، فیک نیوز کے اثرات، اور قرآنی تعلیمات کی روشنی میں اس کے سدباب پر غور کریں گے۔
میڈیا کا بنیادی کام معلومات کی فراہمی ہے، جو مختلف شکلوں میں ہوسکتی ہے:
روایتی میڈیا: اخبارات، ریڈیو، ٹی وی
ڈیجیٹل میڈیا: ویب سائٹس، سوشل میڈیا، یوٹیوب
سوشل میڈیا: فیس بک، ٹویٹر، واٹس ایپ، ٹیلیگرام
ان ذرائع نے جہاں معلومات کی رسائی کو آسان بنایا ہے، وہیں افواہوں اور جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کو بھی ممکن بنایا ہے۔
فیک نیوز کسی بھی غلط، جھوٹی یا گمراہ کن خبر کو کہتے ہیں جسے کسی مخصوص ایجنڈے، پروپیگنڈے، یا سنسنی پھیلانے کے لیے پھیلایا جاتا ہے۔
فیک نیوز کے مقاصد:
عوام کو گمراہ کرنا
کسی خاص نظریے یا سیاسی ایجنڈے کو فروغ دینا
شخصیات یا گروہوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا
فرقہ واریت اور انتشار کو ہوا دینا
یہ مکالمہ ایک علمی، غیر جانبدار اور فکری نشست کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے، تاکہ قاری کو اسلامی فقہ کے بنیادی اختلافات اور ان میں ہم آہنگی کا راستہ سمجھنے میں مدد ملے۔
(ایک فکری نشست جس میں اسلامی تاریخ کے پانچ عظیم فقہاء ایک ہی میز پر جمع ہیں، اور میزبان ان سے فقہی اختلافات، ان کے دلائل اور امت کے لیے یکجہتی کا راستہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔)
منظرنامہ:
)ایک جدید طرز
کا اسٹوڈیو، جہاں مختلف مسلم دانشوروں کی تصویریں آویزاں ہیں۔ میزبان، ایک پُراثر
آواز رکھنے والا شخص، اپنی نشست سنبھالتا ہے۔ حاضرین کی ہلکی سرگوشیوں کے درمیان
پروگرام کا آغاز ہوتا ہے۔(
میزبان:
خواتین
و حضرات! آج کی اس تاریخی مجلس میں، ہم اسلامی فکر کے ان چراغوں کو دعوت دے رہے ہیں
جنہوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں اپنے علم اور بصیرت سے روشنی پھیلائی۔ ہمارے
ساتھ موجود ہیں امام غزالی، شیخ الاسلام ابن تیمیہ، فلسفی ابن رشد، تاریخ و عمرانیات
کے ماہر ابن خلدون، اور مجدد شاہ ولی اللہ! ہم ان عظیم شخصیات سے علمی و فکری
مسائل پر گفتگو کریں گے۔
)تمام شخصیات
اپنی نشست سنبھالتی ہیں، ایک غیر مرئی روشنی ان کے چہروں پر پڑ رہی ہے۔ گفتگو کا
آغاز ہوتا ہے۔(
میزبان:
پہلا
سوال امام غزالی سے! آپ نے فلسفہ پر سخت تنقید کی اور "تہافۃ الفلاسفہ"
جیسی معرکہ آراء کتاب لکھی۔ آپ کے خیال میں اسلامی عقائد کے لیے فلسفہ کیوں خطرہ
تھا؟
امام
غزالی:
بسم
اللہ الرحمن الرحیم! فلسفہ جب اپنی حدود میں رہے تو مفید ہے، مگر جب یہ وحی کی جگہ
لینے کی کوشش کرے تو فکری گمراہی کا سبب بن جاتا ہے۔ میں نے یونانی فلسفے کا باریک
بینی سے مطالعہ کیا اور پایا کہ ارسطو اور افلاطون کے نظریات بعض مقامات پر اسلامی
عقائد سے متصادم ہیں۔ میں نے ان فکری تضادات کو "تہافۃ الفلاسفہ" میں بے
نقاب کیا۔
میزبان:
لیکن
ابن رشد، آپ نے اس کا جواب "تہافۃ التہافۃ" میں دیا اور فلسفے کا دفاع کیا۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ امام غزالی کی تنقید درست نہ تھی؟
ابن
رشد:
امام
غزالی نے فلسفے کے بعض پہلوؤں کو غلط سمجھا۔ میرا ماننا ہے کہ وحی اور عقل ایک
دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے تکمیل کرنے والے ہیں۔ فلسفہ انسانی عقل کی
معراج ہے، اور اگر ہم نے اسے ترک کر دیا تو ہم سائنسی اور منطقی ترقی سے پیچھے رہ
جائیں گے۔ میں نے "فصل المقال" میں ثابت کیا کہ فلسفہ اور شریعت میں کوئی
تضاد نہیں، بلکہ دونوں یکجا ہو سکتے ہیں۔
میزبان:
ابن
تیمیہ! آپ نے فلسفہ اور تصوف دونوں پر تنقید کی اور "درء تعارض العقل
والنقل" میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عقل وحی کے تابع ہونی چاہیے۔ اس پر
آپ کیا کہیں گے؟
ابن
تیمیہ:
اللہ
کی کتاب اور نبی اکرمﷺ کی سنت ہمارے لیے کافی ہے۔ فلسفہ اور منطق کے پیچیدہ مباحث
میں الجھنے کے بجائے ہمیں خالص دین کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اسلامی عقائد کو کسی
فلسفیانہ توجیہ کی ضرورت نہیں، بلکہ سادہ اور فطری انداز میں انہیں اپنانا ضروری
ہے۔
میزبان:
ابن
خلدون! آپ نے تاریخ و عمرانیات کو ایک نئے انداز میں دیکھا اور "مقدمہ"
لکھی، جو آج بھی جدید سماجی علوم کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ آپ کے نزدیک مسلم تہذیب
کے زوال کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
ابن
خلدون:
ہر
تہذیب کی عمر ایک خاص دورانیے پر محیط ہوتی ہے۔ جب ایک قوم اپنے اصولوں سے انحراف
کرتی ہے، سہولت پسندی اختیار کرتی ہے، علم و تحقیق سے کنارہ کش ہو جاتی ہے، تو
زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ میں نے "عصبیت" کے اصول کے تحت ثابت کیا کہ
اتحاد اور مقصدیت کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔
میزبان:
شاہ
ولی اللہ! آپ نے امت کے اتحاد پر زور دیا اور مختلف اسلامی مکاتب فکر کے درمیان پل
بنانے کی کوشش کی۔ آج کی دنیا میں اس اتحاد کی کیا اہمیت ہے؟
شاہ
ولی اللہ:
امت
مسلمہ کو انتشار نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ میں نے "حجۃ اللہ
البالغہ" میں اجتہاد کی راہ ہموار کرنے کی بات کی تاکہ نئے فکری چیلنجز کا حل
نکالا جا سکے۔ ہمیں باہمی اختلافات کو ختم کر کے مشترکہ اسلامی اصولوں پر متحد
ہونا ہوگا۔
میزبان:
آخر
میں، آپ سب سے ایک سوال! کیا آج کا مسلم نوجوان ان فکری مسائل کا سامنا کرنے کے لیے
تیار ہے؟
امام
غزالی:
اگر
وہ اپنی عقل کو صحیح بنیادوں پر استوار کرے اور وحی کو اپنی رہنمائی مانے، تو یقیناً!
ابن
رشد:
اگر
وہ علم و تحقیق کے دروازے کھولے، تو ہاں!
ابن
تیمیہ:
اگر
وہ کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھام لے، تو ضرور!
ابن
خلدون:
اگر
وہ اپنی تہذیب کی تاریخ سے سبق سیکھے، تو بالکل!
شاہ
ولی اللہ:
اگر
وہ اختلافات سے نکل کر اتحاد پر آ جائے، تو کامیاب ہوگا!
(تالیاں بجنے لگتی ہیں، منظر دھندلا ہوتا ہے، اور پروگرام کا اختتام ہوتا ہے۔)
اسلام سے پہلے کے زمانے میں عرب میں ورثہ صرف مردوں میں تقسیم ہوتا تھا۔[1][2] اسلام ہر وارث کا حصہ مقرر کرتا ہے اور وراثت کی بنیاد قریبی رشتہ داری قرار دیتا ہے نہ کہ ضرورت مند کی ضرورت۔ قریبی رشتہ داری سے مراد خون کا رشتہ یا نکاح کا رشتہ ہے۔
سنی عقیدے کے مطابق قرانی احکامات پرانے عرب دستور کو رد نہیں کرتے بلکہ انھیں صرف بہتر بناتے ہیں تا کہ عورتوں کو بھی وراثت میں شامل کیا جائے۔ شیعہ عقیدے کے مطابق چونکہ قرآن نے پرانے عرب دستور کی تائید نہیں کی ہے اس لیے اسے مکمل طور پر مسترد کر کے نیا قرآنی طریقہ اپنانا چاہیے۔
پس منظر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت سعد بن الربيع کی بیوہ نے شکایت کی کہ میرا شوہر آپ کے ہمراہ غزوہ احد میں شریک تھا اور شہید ہو گیا۔ اس کی دو بیٹیاں ہیں۔ ان کے چچا انھیں کچھ ورثہ نہیں دے رہے۔ اگر ان لڑکیوں کے پاس کچھ مال نہیں ہو گا تو ان کی شادی نہیں ہو سکے گی۔ اس پر آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ کے حکم پر ورثہ کا دو تہائی حصہ سعد بن الربيع کی بیٹیوں کا اور آٹھواں حصہ بیوہ کا قرار پایا اور لگ بھگ 20 فیصد حصہ چچاوں میں تقسیم ہوا۔[3]
ورثہ تقسیم کرنے سے پہلے
کفن دفن کے اخراجات نکال لیے جائیں۔
بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت ستمبر 2011
زبان کی یہی نوعیت ہے جس کے پیش نظر قرآن کے علما و محققین تقاضا کرتے ہیں کہ متکلم کے منشا تک پہنچنا ہو تو محض ظاہر الفاظ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اُن کے باطن کو سمجھ کر حکم لگانا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب الٰہی کی یہی خدمت انجام دی ہے اور اپنے ارشادات سے اُن مضمرات و تضمنات کو واضح کر دیا ہے جن تک رسائی اُن لوگوں کے لیے مشکل ہو سکتی تھی جو لفظ و معنی کی اِن نزاکتوں کو سمجھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔امام شافعی بجا طور پر اصرار کرتے ہیں کہ ظاہر الفاظ کی بنیاد پر آپ کی اِس تفہیم و تبیین سے صرف نظر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ قرآن کا بیان ہے، اِس میں کوئی چیز قرآن کے خلاف نہیں ہوتی۔ خدا کا پیغمبر کتاب الٰہی کا تابع ہے۔ وہ اُس کے مدعا کی تبیین کرتا ہے، اُس میں کبھی تغیر و تبدل نہیں کرتا۔ امام اپنی کتاب میں اِس کی مثالیں دیتے اور بار بار متنبہ کرتے ہیں کہ قرآن کے احکام سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے، وہ بیان اور صرف بیان ہے۔ اُسے نہیں مانا جائے گا تو یہ قرآن کی پیروی نہیں، اُس کے حکم سے انحراف ہو گا، اِس لیے کہ اُس کا متکلم وہی چاہتا ہے جو پیغمبر کی تفہیم و تبیین سے واضح ہو رہا ہے، اُس کا منشا اُس سے مختلف نہیں ہے۔
(گذشتہ سے پیوستہ)
تمہید
میں نے اس مضمون کا عنوان ’’متنِ حدیث میں علما کے تصرفات‘‘ باندھا تھا۔ لفظ ’تصرف‘ کے معنی معاملہ کرنا، الٹنا پلٹنا، استعمال میں لانا وغیرہ کے آتے ہیں۔ دورِ تدوین سے آج تک حدیث کے ساتھ ہم نے جو کچھ کیا ہے، تصرف ہی اس کے بیان کے لیے ایک اچھا لفظ ہے، لیکن بعض لوگوں نے میرا پہلا مضمون پڑھ کر یہ تاثر بیان کیا ہے کہ اس لفظ میں ایک سختی ہے، وہ یہ کہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ شایدعلما نے جانتے بوجھتے ایسا کیا ہے۔لغوی اعتبار سے یہ لفظ نہ منفی ہے اور نہ مثبت۔ان مضامین میں میرا مقصد علما کی تنقیص نہیں ہے، نہ میں نے اسے اس قسم کے کسی منفی مقصد کے لیے لکھا ہے ۔ اس لیے میں نے اس مضمون کا عنوان تبدیل کردیا ہے، اور عنوان میں سے ’علما‘ کا لفظ نکال دیا ہے۔
میں نے اپنے مضمون کی پہلی قسط اور اس قسط میں بھی یہی بات عرض کی ہے کہ یہ تصرفات بیان و حکایت کا فطری تقاضا ہیں، راویوں اور علما نے یہ جان بوجھ کر نہیں کیے۔ ’علما‘ کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا تھا کہ اس میں رواۃِ حدیث کے ساتھ ساتھ صوفیہ، محدثین ، فقہا، شارحین، مفسرین اور مصنفین سب شامل تھے، ان کے لیے علما ہی کی تعبیر سب سے زیادہ موزوں تھی۔بہرحال کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو زائل کرنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ میں اس کے عنوان میں تبدیلی کردوں۔ اب یہ مضمون اسی عنوان سے چھپے گا تاآنکہ اس میں کسی قسم کی کوئی خطا سامنے آجائے۔
اس سلسلے کے مضامین کے دو حصے ہیں: ایک تصرفات کے بیان کا اور دوسرا مسئلے کی توجیہ کا۔ واضح رہے کہ یہ دوسرا حصہ میرے ان مضامین کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ اس دوسرے حصے، یعنی توجیہ و توضیح کے لیے ان مضامین میں میرا اصول یہ ہے کہ اگر میں مختلف درجے کی احادیث سے اخذ و استفادہ کروں گا، تو اس میں کوئی بھی حدیث حسن یا حسن لغیرہ کے درجے سے نیچے کی نہ ہو، یعنی یہ کہ ان احادیث کو میں اس اصول پر لوں کہ کم ازکم صحیح تر احادیث میں ان مضامین کی تائید اور بنیاد موجود ہو، اوریہ بھی میری کوشش ہوگی کہ اسی حدیث سے استشہاد کروں جسے کسی نہ کسی محدث نے قابلِ احتجاج قرار دیا ہو، میں اپنی راے پر اس کو منحصر نہیں کروں گا۔ البتہ تصرفات کے بیان میں صحیح و ضعیف کا امتیاز میرے خیال میں ضروری نہیں ہے،اس لیے کہ یہ بھی تصرف ہی کی ایک صورت ہے۔اور اس لیے بھی کہ ان ضعیف حدیثوں کو حدیث کی حیثیت نہ بھی دیں، ایک تاریخی دستاویزی حیثیت تو انھیں حاصل ہے ہی، اس لیے تصرف کے تحت تو اسے لایا جاسکتا ہے ۔مزید یہ کہ ضعیف روایات کا وجود اور ان کو کتابوں میں لکھنا بذات خود ایک تصرف ہے،یعنی باوجود ضعفِ سند کے اسے کسی مجموعۂ حدیث میں درج کرناوغیرہ اقوال رسول پر ایک تصرف ہی تو ہے۔ اسی طرح اس میں بھی شبہ نہیں ہے کہ امت کا ایک بڑا طبقہ ضعیف احادیث سے اخذو استفادہ کرتا ہے۔۱ جس مضمون پر ’’اشراق‘‘ کے اداریے میں تبصرہ ہوا، اس میں بحمد اللہ ایک بھی روایت اس اصول سے ہٹی ہوئی نہیں ہے، جسے میں نے اوپر بیان کیا ہے ۔
اسی طرح بعض احباب نے کہا کہ تمھارا مضمون جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے خاصا مشکل تھا، ان کی آسانی کے لیے میں نے حسب ضرورت مشکل الفاظ کے انگریزی مترادف دے دیے ہیں۔
متن حدیث میں لفظی و معنوی ادراج
تجزۂ حدیث کے بعد اگلا اہم تصرف ادراج ہے ۔ ادراج سے ہماری مراد راوی کا عمداً یا سہواً کلام نبوی میں اپنی بات شامل کرنا ہے۔اس سے دو قسم کی چیزیں متنِ حدیث میں شامل ہوئی ہیں:
ایک الفاظ ،یعنی راوی نے اپنے یا کسی اور راوی کے الفاظ و جمل کو اس طر ح سے بیان کردیا کہ وہ حدیث کے متن کا حصہ قرار پا گئے ۔
دوسری راے ، اس کی دو صورتیں ہیں،
۱۔ ایک یہ کہ کسی صحابی یا راوی کی راے یا فتویٰ قول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر حدیث کی حیثیت پاگیا، قطع نظر اس کے کہ یہ عمل عمداً ہوا ہو یا سہواً۔
۲۔ دوسرے یہ کہ احادیث کا معتد بہ حصہ روایت بالمعنیٰ۲ کے طریقے پر منتقل ہوا ہے،اور فقیہ (prudent) سے فقیہ آدمی بھی جب کسی بات کو سمجھ کردوسروں کواپنے لفظوں میں سناتا ہے، تو وہ دراصل متکلم کا نہیں، بلکہ اپنا فہم آگے بیان کررہا ہوتا ہے ۔۳
1- اگر میت کے ذمہ قرض ہو تو سب سے پہلے میت کے ترکہ میں سے وہ ادا کیا جائے گا، پھر وصیت پوری کی جائے گی، اور اس کے بعد وراثت تقسیم ہوگی۔ اگر میت اپنی وصیت میں کوئی ناجائز کرے، یا اپنے اختیار کو غلط طور پر اس طرح استعمال کرے جس سے وارثین میں سے کسی کے جائز حقوق متاثر ہوتے ہوں تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ خاندان کے لوگ باہمی رضامندی سے اس کی اصلاح کرلیں یا قاضی شرعی سے مداخلت کی درخواست کی جائے اور وہ وصیت کو درست کردے۔
2- میراث کے معاملہ میں یہ اولین اصولی ہدایت ہے کہ مرد کا حصہ عورت سے دوگنا ہے۔
3- اگر میت کا کوئی بیٹا نہ ہو بلکہ صرف بیٹیاں ہوں ، خواہ دو بیٹیاں ہوں یا دو سے زیادہ ، تو میت کے کل ترکہ کے دو تہائی 2/3حصہ ان لڑکیوں میں تقسیم ہوگا، باقی ایک تہائی 1/3 حصہ دوسرے وارثوں میں۔اگر میت کی صرف ایک بیٹی ہو تو اس کو کل میراث کا آدھا حصہ ملے گا۔ لیکن اگر میت کا صرف ایک بیٹا ہو تو اس پر اجماع ہے کہ دوسرے وارثوں کی غیر موجودگی میں وہ کل مال کا وارث ہوگا، اور دوسرے وارث موجود ہوں تو ان کا حصہ دینے کے بعد باقی سب مال اسے ملے گا۔
4- میت کے والدین میں سے ہر ایک کو کل میراث کا چھٹا 1/6 حصہ ملے گا اگر میت کی کوئی اولاد ہو ۔ خواہ میت کی وارث صرف بیٹیاں ہوں، یا صرف بیٹے ہوں، یا بیٹے اور بیٹیاں ہوں، یا ایک بیٹا ہو، یا ایک بیٹی۔اور اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کو ایک تہائی 1/3 حصہ ملے گا اور باقی 2/3 حصہ والد کو ملے گا ۔ ہاں اگر اس کے کئی بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کو چھٹا 1/6 حصہ ملے گا۔ ( بھائی بہن ہونے کی صورت میں ماں کا حصہ 1/3 کے بجائے 1/6 کردیا گیا ہے۔ اس طرح ماں کے حصہ میں سے جو حصہ لیا گیا ہے وہ باپ کو ملے گا۔ کیونکہ اس صورت میں باپ کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ یہ واضح رہے کہ میت کے والدین اگر زندہ ہوں تو اس کے بہن بھائیوں کو حصہ نہیں پہنچتا۔)
5- اگر بیوی فوت ہوجائے خواہ ایک ہو یا ایک سے زیادہ ، اگر اس کی یا ان کی کوئی اولاد نہ ہو تو شوہر کو آدھا حصہ ملے گا ۔ اگر بیوی کی کوئی اولاد ہو تو شوہر کو میراث کا چوتھا 1/4 حصہ ملے گا ۔ اور اسی طرح اگر شوہر فوت ہوجائے تو چوتھا 1/4 حصہ بیوی کو ملے گا اگر شوہر کی کوئی اولاد نہ ہو۔ اگر اولاد ہو تو بیوی کو آٹھواں 1/8حصہ ملے گا ۔ اگر بیوی ایک سے زیادہ ہوں تو یہ 1/4 یا 1/8 حصہ سب بیویوں میں برابری کے ساتھ تقسیم ہوگا۔
6- اگر میت خواہ مرد ہو یا عورت ایسا ہو کہ نہ اس کے والدین زندہ ہوں اور نہ کوئی اولاد (جس کو کلالہ کہتے ہیں) اگر اس کا ماں شریک بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا 1/6حصہ ملے گا۔ باقی 5/6 یا 2/3جو بچتے ہیں ان میں اگر کوئی وارث موجود ہو تو اس کو حصہ ملے گا۔ اگر سگے بھائی بہن، یا وہ سوتیلے بھائی بہن جو باپ کی طرف سے ہوں، تو جیسے پہلے ذکر ہوا ہے کہ اس طرح کے بھائی کو بہن کے مقابلے میں دوگنا حصہ ملے گا ۔
اسلام میں جذبہ عبودیت کے اظہار کے لیے جو مخصوص طریقے اور مراسم
مقرر کیے گئے ہیں، ان میں جانوروں کی قربانی بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس حوالے سے
دور جدید میں پائے جانے والی ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ قربانی صدقہ اور انفاق کی
ایک صورت ہے اور جانور قربان کرنے کے بجائے اگر اس رقم کو اہل احتیاج کی عمومی
ضروریات پر صرف کیا جائے تو یہ رقم کا بہتر مصرف ہے۔.jpg)
قربانی کی عبادت : چند اہم سوالات - عمار خان ناصر
تاہم شرعی دلائل پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ قربانی، صدقہ وانفاق
کی ذیلی صورت نہیں، بلکہ ایک مستقل اور بذات خود مطلوب رسم عبادت ہے۔ سیدنا ابراہیم
علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر بیٹے کو قربان کرنے کا فیصلہ کر کے جس جذبہ اطاعت
کا اظہار کیا تھا، قربانی اسی کی یادگار اور اس جذبے کا ایک علامتی اظہار ہے۔
قربانی کے گوشت سے فقرا اور محتاجوں کی امداد، اس کا ایک ضمنی اور اضافی پہلو ہے،
ورنہ پہلی شریعتوں میں قربانی کی ایک بڑی قسم ”سوختنی قربانی“ ہوتی تھی جس میں
جانور کو ذبح کر کے گوشت کو جلا دیا جاتا تھا اور اسے کھانے کی اجازت نہیں تھی۔
اس امت پر اللہ نے خاص عنایت کرتے ہوئے قربانی کا گوشت بھی کھانے کی اجازت دی ہے۔
اس سے واضح ہے کہ اس عمل میں اصل چیز جانور کو اللہ کے نام پر ذبح کرنا ہے، جبکہ
محتاجوں کی مدد اور اعانت ایک زائد پہلو ہے۔ اس وجہ سے ان مخصوص دنوں میں تقرب
الٰہی کے لیے جانور ہی ذبح کرنا شریعت کا مطلوب ہے۔ یہ رقم بطور صدقہ فقرا پر صرف
کرنے سے شریعت کا منشا پورا نہیں ہوگا۔
قربانی سے متعلق دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ شریعت میں عید الاضحی کے موقع پر قربانی ، فقہی طور پر کیا درجہ رکھتی ہے؟ کیا اس کا درجہ، وجوب کا ہے اور کیا یہ ہر اس شخص پر واجب ہے جو ایک مخصوص مالی نصاب کا مالک ہو؟ اس ضمن میں امت کے اہل علم کے مواقف مختلف ہیں۔ جمہور صحابہ وتابعین اور جمہور فقہائے امت کی رائے یہ ہے کہ قربانی ایک مسنون اور مستحب عمل ہے، یعنی واجب نہیں ہے۔ یہ قول صحابہ میں سے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر، عقبة بن عمرو، ابو مسعود انصاری، شعبی اور بلال رضی اللہ عنہم سے جبکہ تابعین میں سے علقمہ، عطا اور سعید بن المسیب وغیرہ سے منقول ہے (جصاص، احکام القرآن، ۳/۲۴۸۔ مصنف عبد الرزاق، ۸۱۳۴، تا ۸۱۵۶) اور ان میں سے ابو مسعود، عقبہ بن عمرو، اور علقمہ اس امر کی باقاعدہ تصریح کرتے ہیں کہ ان کے قربانی نہ کرنے کا باعث یہ ہے کہ لوگ کہیں اس کو واجب نہ سمجھ لیں۔
2 جنوری 2023ء
اپنی پیدائش کے آٹھویں دن حضرت عیسیٰ کے بھی ختنے کیے گئے مگر ان کے بعد آنے والوں نے اس رسم کو ترک کر دیا۔ حالانکہ یہودیوں اور مسیحیوں میں کئی روایات اب بھی مشترکہ ہیں مثلاً اہم دنوں پر اجتماعی عبادات۔
مسیحی لوگ کیوں اپنے نومولود بچوں کے ختنے نہیں کرتے، اس کا جواب بائبل میں موجود ہے۔
بائبل کے عہد نامہ جدید یا نیو ٹیسٹامینٹ کے مطابق یہودیت اور مسیحیت میں ختنوں کے بارے میں تضاد سنہ 50 عیسوی میں آیا اور سینٹ پال (پولُس) اور سینٹ پیٹر (پِطرس) کے درمیان اس موضوع پر سخت بحث ہوئی۔
کیتھولک یونیورسٹی آف یوراگوئے میں مذہبی فلسفے کے پروفیسر میگیل پاستورینو نے بی بی سی مُنڈو سروس کو بتایا: ’یہ کلیسا کا پہلا ادارہ جاتی اختلاف تھا۔‘
سینٹ پال کو اس وقت تک سینٹ یا بزرگ کا درجہ نہیں دیا گیا تھا اور وہ صرف پال آف طرسوس کے نام سے جانے جاتے تھے۔ پال شروع میں شریعتِ موسوی کے فقیہ یعنی فریسی تھے اور حضرت عیسیٰ کے حواریوں کو ستایا کرتے تھے مگر پھر بائبل کے مطابق وہ بدل گئے اور اُنھوں نے پوری دنیا میں یسوع مسیح کا پیغام پھیلایا۔
![]() |
| اقامت ِ دین اور نفاذِ شریعت - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی |
اس دینی فریضے کی انجام دہی کے لیے بیسویں صدی عیسوی میں برصغیر کی مشہور دینی تحریک ’جماعت اسلامی‘ کا قیام عمل میں آیا۔ تحریک کے اکابر نے اس کام کی اہمیت، ضرورت اور وجوب پر قابلِ قدر لٹریچر تیار کیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ اس کام کے واجب اور مطلوب ہونے پر قرآن و سنت کی متعدد تعبیرات دلالت کرتی ہیں، مثلاً دعوت، تبلیغ، وصیت، شہادتِ حق، امربالمعروف ونہی عن المنکر، انذار و تبشیر اور اقامت ِ دین وغیرہ۔
![]() |
| ہندوستان مین قربانی کا مسئلہ |
![]() |
| شب برات کی بدعتیں - عبد الماجد دریابادی |