" آج دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو اخلاق اور مقاصد زندگی کی ، یہ صرف انبیاء کرام اور آسمانی کتب میں ہیں ۔ آج دنیا کی تعمیر نو صرف اس طرح ممکن ہے کہ جو وسائل و زرائع جدید دور میں انسانوں نے پیدا کرلیے ان کی مدد سے اور انبیاء اور آسمانی کتب میں موجود انسانیت کے اخلاق اور مقاصد زندگی کی مدد سے دنیا کی تعمیر نو کی جائے ۔" (مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ )
عربی لسانیات اور مدارسِ دینیہ
کیا عربی زبان واقعی یونیورسل لنگوئج ہے ؟
قرآن، سنت اور روایت: ڈاکٹر خضر یاسین کی فکر کا تنقیدی جائزہ
قرآنِ کریم صرف ایک کتابِ مقدس ہی نہیں بلکہ پوری اسلامی تہذیب کی بنیاد ہے۔ اس کتاب کی فہم، تعبیر اور تطبیق کی ایک علمی روایت ہے جو چودہ سو سال پر محیط ہے۔ لیکن جدید دور میں بعض مفکرین اس روایت کو رد کرتے ہوئے ایک نیا زاویۂ نظر پیش کرتے ہیں۔ ان میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر خضر یاسین کا ہے، جو قرآنی متن اور اسلامی روایت کے باہمی تعلق کو فلسفیانہ اسلوب میں زیرِ بحث لاتے ہیں۔ ان کا مدعا اگرچہ "براہِ راست فہمِ قرآن" پر زور دینا ہے، لیکن ان کی تعبیرات کئی علمی، تاریخی اور عملی ابہامات سے بھرپور ہیں۔
یہ مضمون ڈاکٹر خضر کے چار بنیادی مقدمات کا جائزہ لیتا ہے اور ہر مقدمے پر ایک علمی تنقید پیش کرتا ہے۔
مقدمہ اول: متن اور فہمِ متن میں فرق
ڈاکٹر خضر یاسین کا دعویٰ:
قرآن کا اصل متن (Text) ایک مستقل وجود رکھتا ہے، جبکہ اس کا فہم (Understanding) ایک الگ وجودی مظہر ہے۔ فہمِ متن، متن سے خارج ہوتا ہے، اس لیے فہم کو متن کا جزو یا عین قرار دینا علمی خیانت ہے۔
جواب:
-
یہ بات درست ہے کہ متن اور فہم دو الگ سطحیں ہیں، لیکن جب فہم درست اور علمی ہو تو وہ متن سے جدا نہیں ہوتا بلکہ متن ہی کی شرح بن جاتا ہے۔
-
اگر فہمِ قرآن کو ہمیشہ متن سے الگ اور مشکوک مانا جائے، تو ہدایت کا تصور ناممکن بن جائے گا۔
-
قرآن خود تدبر، تفکر، تعقل کی دعوت دیتا ہے، جو فہمِ متن کے بغیر ممکن نہیں۔
’’أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا‘‘ (محمد:24)
نوام چومسکی کا فطری نظریہ لسانیات (Universal Grammar) کیا ہے ؟
نوام چومسکی کا نظریہ گرامر (یا نظریہ لسانیات) جدید لسانیات میں ایک انقلاب کا باعث بن چکا ہے۔ اس نے زبان کی فطری نوعیت کو سمجھنے کی نئی راہیں ہموار کیں اور لسانیات کے مطالعے کو صرف سماجی اور ثقافتی اثرات تک محدود کرنے کی بجائے، زبان کے اندر موجود داخلی، قدرتی ساخت کی طرف بھی توجہ مرکوز کی۔ ان کا یہ نظریہ زبان کو انسانی دماغ کی ایک فطری صلاحیت کے طور پر دیکھتا ہے اور اس میں مختلف اہم اجزاء شامل ہیں:
1. فطری لسانی صلاحیت (Innateness Hypothesis)
چومسکی کے مطابق، انسانوں میں زبان سیکھنے کی ایک فطری صلاحیت موجود ہے، جو جینیاتی طور پر وراثت میں ملتی ہے۔ ان کے اس نظریے کو "فطری لسانی صلاحیت" (Innateness Hypothesis) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے دماغ میں زبان سیکھنے کے لیے ایک "پری پروگرامڈ" نظام موجود ہے، اور یہ نظام کسی بھی زبان کو سیکھنے کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔ اس طرح انسانوں میں زبان سیکھنے کی یہ صلاحیت حیاتیاتی طور پر موجود ہوتی ہے، اور یہ کوئی سیکھا ہوا عمل نہیں ہوتا۔
2. نظریہ گرامر (Universal Grammar)
چومسکی نے "نظریہ گرامر" (Universal Grammar) کا تصور پیش کیا، جس کے مطابق تمام انسانوں میں زبان کی ایک بنیادی ساخت یا اصول موجود ہوتی ہے جو تمام زبانوں میں مشترک ہے۔ اس کے مطابق، دنیا کی تمام زبانیں ایک ہی بنیادی گرامر کے اصولوں پر مبنی ہوتی ہیں، اور مختلف زبانوں کے درمیان فرق ان اصولوں کی سطح پر مختلف ہوتا ہے۔ چومسکی نے اس نظریے کو اس بات کے طور پر پیش کیا کہ تمام زبانوں میں موجود گرامری ڈھانچہ انسان کے دماغ میں "پری پروگرامڈ" ہوتا ہے۔
3. پرانٹیکٹیکل لسانیات (Transformational-Generative Grammar)
چومسکی کا پرانٹیکٹیکل لسانیات (Transformational-Generative Grammar) ماڈل زبان کے ساختی تجزیے کے لیے ایک بنیادی نظریہ ہے۔ اس ماڈل کے مطابق، زبان کے جملے کی تفصیل اور تشکیل کے مختلف اصول ہوتے ہیں جنہیں "پرانٹیکٹیکل قواعد" (transformational rules) اور "جینیریٹو قواعد" (generative rules) کہا جاتا ہے۔
عربی سیکھنے کی مشکلات ۔ عبیر حیدر
کیوں کچھ طالب علم چند مہینوں میں عربی زبان پر مہارت حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ دوسرے کئی سالوں کے بعد بھی سادہ مکالمہ کرنے سے قاصر رہتے ہیں؟ کیا اس کا راز زبان سیکھنے کی فطری صلاحیت میں ہے، تدریسی طریقہ کار میں ہے، یا کچھ ایسے مخفی عوامل ہیں جو بعض طلبہ کے لیے عربی سیکھنے کے عمل کو ہموار کر دیتے ہیں، جبکہ دوسروں کے لیے یہ ایک دشوار گزار پہاڑی پر چڑھنے کے مترادف ہو جاتا ہے؟
عربی زبان کے غیر ملکی طالب علموں کو سکھانے کے تجربے کی روشنی میں، میں نے مختلف پس منظر اور قومیتوں کے طلبہ سے بات چیت کی ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ کچھ طلبہ آسانی سے زبان میں ضم ہو جاتے ہیں، جبکہ دوسروں کو مایوسی کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ فرق اتفاقی نہیں بلکہ کچھ بنیادی عوامل کے باعث ہے جو عربی سیکھنے میں کامیابی کا تعین کرتے ہیں، جیسے: مادری زبان کا اثر، تدریسی حکمت عملی، ثقافتی فرق، اور ردِ عمل (فیڈ بیک) دینے کے طریقے۔
اس مضمون میں، میں اپنے تجربے سے یہ وضاحت کروں گی کہ یہ عوامل عربی سیکھنے پر کس طرح اثر ڈالتے ہیں اور ہم، بطور اساتذہ، اس تجربے کو سب کے لیے زیادہ مؤثر اور کامیاب کیسے بنا سکتے ہیں۔
1۔ مادری زبان کا اثر: کیا عربی پہلے سے جانی پہچانی ہے یا بالکل نئی؟
طالب علم کی مادری زبان اس بات کا تعین کرتی ہے کہ عربی سیکھنا اس کے لیے کتنا آسان یا مشکل ہوگا۔ وہ طلبہ جو ایسی زبانیں بولتے ہیں جن میں عربی کے الفاظ اور جملے موجود ہیں، انہیں فائدہ ہوتا ہے، جبکہ وہ جو بالکل مختلف زبانوں سے آتے ہیں، انہیں زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں۔
- ترک طلبہ: ان کے ذخیرۂ الفاظ میں عربی کے بے شمار الفاظ پہلے سے شامل ہوتے ہیں، جیسے "مدرسہ" (Mektep)، "اقتصاد" (Iktisat)، "حضارت" (Medeniyet)، جس کی وجہ سے انہیں نئے الفاظ یاد رکھنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔
- فارسی بولنے والے: ان کے لیے تعلیمی زبان میں عربی کے الفاظ جیسے "تجارت" (Tejarat) اور "جامعہ" (Daneshgah) عام ہیں، اس لیے وہ علمی زبان کو جلد سمجھ سکتے ہیں۔
- جاپانی اور چینی طلبہ: ان کے لیے عربی سیکھنا زیادہ چیلنجنگ ہوتا ہے کیونکہ ان کی زبانوں میں الفاظ، جملوں کی ترتیب، اور تحریری نظام بالکل مختلف ہوتا ہے۔ مثلاً عربی جملہ "أنا طالب في الجامعة" کو جاپانی گرامر کے مطابق مکمل طور پر دوبارہ ترتیب دینا پڑتا ہے، جو عربی سیکھنے کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
2۔ روایتی تدریسی طریقے: کیا استاد کا انداز سیکھنے میں رکاوٹ بنتا ہے؟
عربی سکھانے کے حوالے سے سب سے بڑی مشکلات میں سے ایک یہ ہے کہ کئی اساتذہ پرانے روایتی طریقوں پر قائم رہتے ہیں، جو برسوں پہلے ان کے خود سیکھنے کے تجربے پر مبنی ہوتے ہیں۔
- بعض اساتذہ گرامر کی براہِ راست وضاحت پر زور دیتے ہیں، حالانکہ زبان سیکھنے کے لیے عملی مشق اور گفتگو زیادہ مؤثر ہے۔
- کچھ اساتذہ سخت لہجے میں غلطیاں درست کرتے ہیں، جو کہ نرم مزاج ثقافتوں (جیسے جاپانی اور کوریائی طلبہ) کے لیے پریشان کن ہو سکتا ہے۔
- کئی اساتذہ طلبہ کی انفرادی تعلیمی ضروریات کو نظر انداز کرتے ہوئے سب کو ایک ہی رفتار اور طریقے سے پڑھاتے ہیں، جو سیکھنے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔
3۔ ثقافتی فرق اور سیکھنے کا دورانیہ: کچھ طلبہ کو زیادہ وقت کیوں درکار ہوتا ہے؟
میرے تدریسی تجربے کے دوران، میں نے محسوس کیا کہ کچھ قومیتوں کے طلبہ کو عربی سیکھنے میں زیادہ وقت اور تحمل درکار ہوتا ہے، جیسے:
- کوریائی اور جاپانی طلبہ عام طور پر بولنے میں محتاط رہتے ہیں اور آہستہ آہستہ سیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
- یورپی طلبہ فوراً نئی زبان میں گفتگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں، چاہے ان کی بول چال میں غلطیاں ہوں۔
- کچھ ثقافتیں گروپ میں سیکھنے اور مباحثے کو پسند کرتی ہیں، جبکہ بعض تنہا سیکھنے اور تحریری مشق پر زور دیتی ہیں۔
4۔ ردِ عمل (فیڈ بیک): کیا اساتذہ درست طریقے سے رہنمائی فراہم کرتے ہیں؟
کچھ اساتذہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ردِ عمل دینے کے مختلف طریقے مختلف ثقافتوں پر مختلف اثرات ڈالتے ہیں۔
- جرمنی اور مشرقی یورپ کے طلبہ براہِ راست اور واضح فیڈ بیک کو ترجیح دیتے ہیں، چاہے وہ سخت کیوں نہ ہو۔
- جاپانی اور کوریائی طلبہ نرمی اور نجی طور پر تصحیح کو زیادہ پسند کرتے ہیں، کیونکہ عوامی سطح پر کی جانے والی تنقید ان کے لیے باعثِ شرمندگی ہو سکتی ہے۔
نتیجہ: کیا عربی سیکھنا آسان ہے یا مشکل؟
اس سوال کا کوئی سیدھا سادہ جواب نہیں، کیونکہ عربی سیکھنے کا عمل زبان سیکھنے والے کی مادری زبان، تدریسی طریقہ، سیکھنے کی لگن، ثقافتی پسِ منظر اور ملنے والی رہنمائی پر منحصر ہوتا ہے۔
تاہم، اگر ہم ان عوامل کو سمجھیں، تو ہم اساتذہ کے طور پر سیکھنے کے تجربے کو بہتر بنا سکتے ہیں، اور عربی کو سب کے لیے آسان اور دل چسپ بنا سکتے ہیں۔ ہمیں تدریسی طریقوں میں لچک پیدا کرنی ہوگی، طلبہ کے اختلافات کو مدِنظر رکھنا ہوگا، اور ایک ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہوگا جو سیکھنے کے شوق کو پروان چڑھائے۔
اگر ہم تدریسی طریقوں کو بہتر بنائیں تو ہم طلبہ کی مشکلات کم کر سکتے ہیں اور عربی سیکھنے کے عمل کو ایک خوشگوار اور نتیجہ خیز تجربہ بنا سکتے ہیں۔
ںوٹ: ( یہ مضمون مکہ نیوز پیپر میں ۱۱ مارچ ۲۰۲۵ کو رحلة تعلم العربية: لماذا يبحر البعض بسلاسة بينما يغرق الآخرون؟ کے عنوان سے شائع ہوا )
عام اور خاص ۔ جاوید احمد غامدی
بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت ستمبر 2011
زبان کی یہی نوعیت ہے جس کے پیش نظر قرآن کے علما و محققین تقاضا کرتے ہیں کہ متکلم کے منشا تک پہنچنا ہو تو محض ظاہر الفاظ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اُن کے باطن کو سمجھ کر حکم لگانا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب الٰہی کی یہی خدمت انجام دی ہے اور اپنے ارشادات سے اُن مضمرات و تضمنات کو واضح کر دیا ہے جن تک رسائی اُن لوگوں کے لیے مشکل ہو سکتی تھی جو لفظ و معنی کی اِن نزاکتوں کو سمجھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔امام شافعی بجا طور پر اصرار کرتے ہیں کہ ظاہر الفاظ کی بنیاد پر آپ کی اِس تفہیم و تبیین سے صرف نظر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ قرآن کا بیان ہے، اِس میں کوئی چیز قرآن کے خلاف نہیں ہوتی۔ خدا کا پیغمبر کتاب الٰہی کا تابع ہے۔ وہ اُس کے مدعا کی تبیین کرتا ہے، اُس میں کبھی تغیر و تبدل نہیں کرتا۔ امام اپنی کتاب میں اِس کی مثالیں دیتے اور بار بار متنبہ کرتے ہیں کہ قرآن کے احکام سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے، وہ بیان اور صرف بیان ہے۔ اُسے نہیں مانا جائے گا تو یہ قرآن کی پیروی نہیں، اُس کے حکم سے انحراف ہو گا، اِس لیے کہ اُس کا متکلم وہی چاہتا ہے جو پیغمبر کی تفہیم و تبیین سے واضح ہو رہا ہے، اُس کا منشا اُس سے مختلف نہیں ہے۔
مقدرات کے مبنیٰ و معاونین ۔ ساجد حمید
مبنیٰ ۱
![]() |
| مصنف: ساجد حمید |
کلام کی ایک اہم خوبی: مقدرات ۔ ساجد حمید
تعددِ معنی اور دلالتِ لسانی ۔ ڈاکٹر ساجد حمید
عقلی منہج اور حقیقتِ واقعہ
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں؟ غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے؟سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں؟ ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے؟
ہے دانش برہانی حیرت کی فروانی
اردو ادب میں صنعتِ تلازم یا متلازمہ سے کیا مراد ہے ؟
ادب میں اس سے مراد ہے لفظوں يا فقروں کے معانى کا ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻻﺯﻡ ﻭ ﻣﻠﺰﻭﻡ ہونا ۔ جیسے شاعرنے کہا :
" ﮨﻮﺍﺅﮞ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﻣﮩﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﮔﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ"
ﯾﮩﺎﮞ " ﻣﮩﮏ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ " ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮨﯿﮟ. ﻟﻔﻆ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﻋﺮﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺛﻼﺛﯽ ﻣﺰﯾﺪ ﻓﯿﮧ ﺑﮯ ﮨﻤﺰﮦ ﻭﺻﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﺏ ﺗﻔﺎﻋﻞ ﺳﮯ ﺍ ﺳﻢ ﻓﺎﻋﻞ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺑﻄﻮﺭ ﺻﻔﺖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺑﺎﺏ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺻﯿﺖ ﺗﺸﺎﺭﮎ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺏ ﮐﺎ ﻓﻌﻞ Word ﺩﻭ ﺍﺳﻤﺎﺀ Nouns ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﺍﺷﺘﺮﺍﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮐﺎ ﻣﺼﺪﺭ ﺗﻼﺯﻡ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﮨﻢ ﻻﺯﻡ ﮨﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﺍﺳﻢ ﻓﺎﻋﻞ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽٰ ﮨﮯ ﺑﺎﮨﻢ ﻻﺯﻡ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﻻﺯﻡ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺷﺮﯾﮏ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺁﮒ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮨﯿﮟ ( ﺁﮒ ﺟﻠﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﻻﺯﻣﺎ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮔﺎ ) ۔ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺭﮨﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮨﯿﮟ ( ﺑﮭﻮﮐﮯ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻻﺯﻣﺎ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ) ۔ ﻇﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﭘﮑﮍ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮨﯿﮟ ( ﻇﻠﻢ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﮐﮯ ﺗﻮ ﻻﺯﻣﺎ ﭘﮑﮍ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ) ۔ ﺧﻠﻮﺹ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮨﯿﮟ ( ﺍﺧﻼﺹ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻻﺯﻣﺎ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ )
ﺍﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﺎﺏ ﺗﻔﺎﻋﻞ ﺳﮯ ﺗﻘﺎﺗﻞ ﻣﺼﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻢ ﻓﺎﻋﻞ ﻣﺘﻘﺎﺗﻞ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﮨﻢ ﻗﺘﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ( ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳرﮯ ﮐﻮ مارنا )، ﺗﺒﺎﺩﻝ ﻣﺼﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻢ ﻓﺎﻋﻞ ﻣﺘﺒﺎﺩﻝ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﮨﻢ ﺑﺪﻝ ( ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ) ﮨﻮﻧﺎ ( ﺑﺮﻋﮑﺲ ) ، ﺗﺒﺎﺭﮎ ﻣﺼﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻢ ﻓﺎﻋﻞ ﻣﺘﺒﺎﺭﮎ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﮨﻢ ﺑﺮﮐﺖ ﻭﻻ ﮨﻮﻧﺎ ( ﺑﺮﮐﺖ ﻭﺍﻟﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺑﺮﮐﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﻧﺎ )
ﻣﺰﯾﺪ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻋﻠﻢ ﺻﺮ ﻑ ﮐﯽ ﮐﺘﺐ ﻣﻼﺣﻈﮧ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ.
ﺍﺩﺑﯽ ﺗﻨﻘﯿﺪﯼ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻟﻔﻆ ﺑﮩﺖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ : ’’ ﺗﻼﺯﻣﮧ ‘‘
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻻﺯﻡ ﻭ ﻣﻠﺰﻭﻡ ﻭﺍﻟﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺘﻤﯿﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ، ﺗﺎﮨﻢ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﮨﻢ ﺑﮩﺖ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺳﻤﺎﺀ ، ﺍﻓﻌﺎﻝ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻻﮔﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
مثاﻝ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺷﻌﺮ ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ :
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺑﺮ ﺗﮭﺎ ، ﮐﮧ ﻭﮦ ﺟﮭﯿﻞ ﺗﮭﯽ ، ﮐﮧ ﺳﺮﺍﺏ ﺗﮭﺎ
ﺳﻮ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ، ﮐﮩﯿﮟ ﭘﺎﺋﯿﮯ ﺟﻮ ﺳﺮﺍﻍِ ﺩﻝ
انڈین طالبعلم نے سنسکرت کا 2500 سال پرانا معمہ حل کر دیا
بی بی سی اردو
16 دسمبر 2022
برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے ایک طالبعلم نے سنسکرت زبان کی گرائمر کا ایک ایسا معمہ حل کر لیا ہے جس نے بڑے بڑے عالموں کو پانچویں صدی قبل مسیح سے پریشان کر رکھا تھا۔
27 سالہ رِشی راجپوپات نے سنسکرت کے جس اصول کی گتھی سلجھائی ہے اس کے بانی ماضی قدیم کے مشہور استاد پانینی تھے جنھوں نے یہ اصول آج سے تقریباً اڑھائی ہزار برس پہلے وضع کیا تھا۔
![]() |
| پانینی کے قدیم نسخہ کا ایک صحفہ |
کیمبرج یونیورسٹی کے مطابق آج کل سنسکرت صرف انڈیا میں بولی جاتی ہے جہاں اس قدیم زبان کے بولنے والوں کی تعداد اندازاً 25 ہزار ہے۔
مسٹر رِشی راجپوپات کا کہنا ہے کہ وہ نو ماہ تک ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے تھے اور ان کی تحقیق بالکل آگے نہیں بڑھ رہی تھی، لیکن آخر کار وہ لمحہ آ گیا جب انھیں یہ راز سمجھ آ گیا۔
’جب مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی تو میں نے ایک مہینے کے لیے کتابیں بند کر دیں اور موسم گرما سے لطف اندوز ہونے نکل پڑا، کبھی تیراکی، کبھی کھانا پکانا، کبھی پوجا اور سوچ و بچار۔‘
’اس کے بعد میں پاؤں گھسیٹتا ہوا دوبارہ کام پر آ گیا، اور ابھی مجھے صفحے پلٹتے ہوئے چند ہی منٹ گزرے تھے کہ (پنینی کے لکھے ہوئے صفحات کے نمونے) مجھے سمجھ آنے لگ گئے۔‘
رِشی بتاتے ہیں کہ وہ ’کئی کئی گھنٹے لائبریری میں بیٹھے رہتے، اور کبھی تو رات دیر گئے تک۔‘
فن ادب اور ادبی تخلیق - ابوالبشر احمد طیب
فن ادب
![]() |
| فن ادب اور ادبی تخلیق |
اردو زبان کا خون کیسے ہوا؟
ڈراما کب اور کیوں وجود میں آیا ۔۔۔ ڈاکٹر اے ایم چشتی
![]() |
| ڈراما کب اور کیوں وجود میں آیا ؟ |
اردو لسانیات -- ایک تعارف - ڈاکٹر محمد حسین
![]() |
| اردو لسانیات --ایک تعارف |
لسانیات --تعارف اور اہمیت - ڈاکٹر رابعہ سرفراز
![]() |
| لسانیات -- تعارف اور اہمیت |
گوپی چند نارنگ کی تصنیفات
![]() |
| گوپی چند نارنگ کی تصنیفات |
ادبی تنقید کے لسانی مضمرات ۔۔۔ مرزا خلیل احمد بیگ (٭)
یہ امر محتاجِ دلیل نہیں کہ کسی زبان میں ’تنقید‘ اس وقت معرضِ وجود میں آتی ہے جب اس زبان میں ادب کا فروغ عمل میں آ چکا ہوتا ہے۔ ادب کی تخلیق کے لیے اس کے خالق یعنی مصنف (Author) کا ہونا بھی ضروری ہے۔ مصنف، تخلیق اور تنقید یہ تینوں مل کر ایک مثلث بناتے ہیں۔ مصنف اور تخلیق کے درمیان رشتہ پہلے استوار ہوتا ہے، اور تخلیق کا تنقید (یا نقاد) کے ساتھ رشتہ بعد میں قائم ہوتا ہے۔ تخلیق کلیۃً مصنف کے تابع ہوتی ہے، یعنی کہ جیسا اور جس خیال، نظریے یا طرزِ فکر کا مصنف ہو گا ویسی ہی اس کی تخلیق ہو گی۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ادب اپنے سماج کا آئینہ ہوتا ہے۔ یہ ایک قدیم تصور ہے، اور یہ بات اس لیے درست نہیں کہ سماج خواہ کیسا بھی ہو، ادب ویسا ہی ہو گا جیسا کہ اس کے مصنف کی منشا ہو گی۔ بہت سی باتیں جو سماج میں کہیں نظر نہیں آتیں ، لیکن ادب میں ان کا وجود ہوتا ہے۔ اسی طرح بہت سی باتیں جو سماج کا حصہ ہیں ، ادب میں ان کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے یا سماج کے تابع ہوتا ہے، درست نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مصنف بھی جو سماج کا ایک فرد ہوتا ہے، سماج کے تابع (یا پورے طور پر تابع) نہیں ہوتا۔ وہ کبھی کبھی سماج سے بغاوت بھی کر بیٹھتا ہے، اس کے بنائے ہوئے اصولوں اور قاعدوں کی نفی بھی کرتا ہے، اور اس کے بندھنوں اور پابندیوں کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے، کیوں کہ اس کی اپنی آئیڈیا لوجی ہوتی ہے جواس کی رہبری کرتی ہے۔
ي سیاست، اور اخلاقیات (جس کا مذہب سے گہرا تعلق ہے)، دونوں سماجی ادارے ہیں اور ہر سماج کسی نہ کسی طور پر سیاسی/ مذہبی / اخلاقی بندھنوں میں جکڑا ہوتا ہے۔ مصنف کی آزادانہ روش یا اس کی باغیانہ فکر یا آئیڈیالوجی سماجی اداروں کے نظریات اور ان کے زریں اصولوں کو صد فی صد تسلیم کرنے کی پابند نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض سیاسی وجوہ کی بنا پر پریم چند کے افسانوی مجموعے ’سوزِ وطن‘(۱) کی، اور اخلاقی وجوہ کی بنا پر ایک دوسرے افسانوی مجموعے ’انگارے‘(۲) کی ضبطی عمل میں آئی تھی۔

.jpg)







