عربی سیکھنے کا سفر: کچھ باآسانی کیوں سیکھ لیتے ہیں جبکہ دوسرے مشکلات کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟
کیوں کچھ طالب علم چند مہینوں میں عربی زبان پر مہارت حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ دوسرے کئی سالوں کے بعد بھی سادہ مکالمہ کرنے سے قاصر رہتے ہیں؟ کیا اس کا راز زبان سیکھنے کی فطری صلاحیت میں ہے، تدریسی طریقہ کار میں ہے، یا کچھ ایسے مخفی عوامل ہیں جو بعض طلبہ کے لیے عربی سیکھنے کے عمل کو ہموار کر دیتے ہیں، جبکہ دوسروں کے لیے یہ ایک دشوار گزار پہاڑی پر چڑھنے کے مترادف ہو جاتا ہے؟
عربی زبان کے غیر ملکی طالب علموں کو سکھانے کے تجربے کی روشنی میں، میں نے مختلف پس منظر اور قومیتوں کے طلبہ سے بات چیت کی ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ کچھ طلبہ آسانی سے زبان میں ضم ہو جاتے ہیں، جبکہ دوسروں کو مایوسی کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ فرق اتفاقی نہیں بلکہ کچھ بنیادی عوامل کے باعث ہے جو عربی سیکھنے میں کامیابی کا تعین کرتے ہیں، جیسے: مادری زبان کا اثر، تدریسی حکمت عملی، ثقافتی فرق، اور ردِ عمل (فیڈ بیک) دینے کے طریقے۔
اس مضمون میں، میں اپنے تجربے سے یہ وضاحت کروں گی کہ یہ عوامل عربی سیکھنے پر کس طرح اثر ڈالتے ہیں اور ہم، بطور اساتذہ، اس تجربے کو سب کے لیے زیادہ مؤثر اور کامیاب کیسے بنا سکتے ہیں۔
1۔ مادری زبان کا اثر: کیا عربی پہلے سے جانی پہچانی ہے یا بالکل نئی؟
طالب علم کی مادری زبان اس بات کا تعین کرتی ہے کہ عربی سیکھنا اس کے لیے کتنا آسان یا مشکل ہوگا۔ وہ طلبہ جو ایسی زبانیں بولتے ہیں جن میں عربی کے الفاظ اور جملے موجود ہیں، انہیں فائدہ ہوتا ہے، جبکہ وہ جو بالکل مختلف زبانوں سے آتے ہیں، انہیں زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں۔
- ترک طلبہ: ان کے ذخیرۂ الفاظ میں عربی کے بے شمار الفاظ پہلے سے شامل ہوتے ہیں، جیسے "مدرسہ" (Mektep)، "اقتصاد" (Iktisat)، "حضارت" (Medeniyet)، جس کی وجہ سے انہیں نئے الفاظ یاد رکھنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔
- فارسی بولنے والے: ان کے لیے تعلیمی زبان میں عربی کے الفاظ جیسے "تجارت" (Tejarat) اور "جامعہ" (Daneshgah) عام ہیں، اس لیے وہ علمی زبان کو جلد سمجھ سکتے ہیں۔
- جاپانی اور چینی طلبہ: ان کے لیے عربی سیکھنا زیادہ چیلنجنگ ہوتا ہے کیونکہ ان کی زبانوں میں الفاظ، جملوں کی ترتیب، اور تحریری نظام بالکل مختلف ہوتا ہے۔ مثلاً عربی جملہ "أنا طالب في الجامعة" کو جاپانی گرامر کے مطابق مکمل طور پر دوبارہ ترتیب دینا پڑتا ہے، جو عربی سیکھنے کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
2۔ روایتی تدریسی طریقے: کیا استاد کا انداز سیکھنے میں رکاوٹ بنتا ہے؟
عربی سکھانے کے حوالے سے سب سے بڑی مشکلات میں سے ایک یہ ہے کہ کئی اساتذہ پرانے روایتی طریقوں پر قائم رہتے ہیں، جو برسوں پہلے ان کے خود سیکھنے کے تجربے پر مبنی ہوتے ہیں۔
- بعض اساتذہ گرامر کی براہِ راست وضاحت پر زور دیتے ہیں، حالانکہ زبان سیکھنے کے لیے عملی مشق اور گفتگو زیادہ مؤثر ہے۔
- کچھ اساتذہ سخت لہجے میں غلطیاں درست کرتے ہیں، جو کہ نرم مزاج ثقافتوں (جیسے جاپانی اور کوریائی طلبہ) کے لیے پریشان کن ہو سکتا ہے۔
- کئی اساتذہ طلبہ کی انفرادی تعلیمی ضروریات کو نظر انداز کرتے ہوئے سب کو ایک ہی رفتار اور طریقے سے پڑھاتے ہیں، جو سیکھنے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔
3۔ ثقافتی فرق اور سیکھنے کا دورانیہ: کچھ طلبہ کو زیادہ وقت کیوں درکار ہوتا ہے؟
میرے تدریسی تجربے کے دوران، میں نے محسوس کیا کہ کچھ قومیتوں کے طلبہ کو عربی سیکھنے میں زیادہ وقت اور تحمل درکار ہوتا ہے، جیسے:
- کوریائی اور جاپانی طلبہ عام طور پر بولنے میں محتاط رہتے ہیں اور آہستہ آہستہ سیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
- یورپی طلبہ فوراً نئی زبان میں گفتگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں، چاہے ان کی بول چال میں غلطیاں ہوں۔
- کچھ ثقافتیں گروپ میں سیکھنے اور مباحثے کو پسند کرتی ہیں، جبکہ بعض تنہا سیکھنے اور تحریری مشق پر زور دیتی ہیں۔
4۔ ردِ عمل (فیڈ بیک): کیا اساتذہ درست طریقے سے رہنمائی فراہم کرتے ہیں؟
کچھ اساتذہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ردِ عمل دینے کے مختلف طریقے مختلف ثقافتوں پر مختلف اثرات ڈالتے ہیں۔
- جرمنی اور مشرقی یورپ کے طلبہ براہِ راست اور واضح فیڈ بیک کو ترجیح دیتے ہیں، چاہے وہ سخت کیوں نہ ہو۔
- جاپانی اور کوریائی طلبہ نرمی اور نجی طور پر تصحیح کو زیادہ پسند کرتے ہیں، کیونکہ عوامی سطح پر کی جانے والی تنقید ان کے لیے باعثِ شرمندگی ہو سکتی ہے۔
نتیجہ: کیا عربی سیکھنا آسان ہے یا مشکل؟
اس سوال کا کوئی سیدھا سادہ جواب نہیں، کیونکہ عربی سیکھنے کا عمل زبان سیکھنے والے کی مادری زبان، تدریسی طریقہ، سیکھنے کی لگن، ثقافتی پسِ منظر اور ملنے والی رہنمائی پر منحصر ہوتا ہے۔
تاہم، اگر ہم ان عوامل کو سمجھیں، تو ہم اساتذہ کے طور پر سیکھنے کے تجربے کو بہتر بنا سکتے ہیں، اور عربی کو سب کے لیے آسان اور دل چسپ بنا سکتے ہیں۔ ہمیں تدریسی طریقوں میں لچک پیدا کرنی ہوگی، طلبہ کے اختلافات کو مدِنظر رکھنا ہوگا، اور ایک ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہوگا جو سیکھنے کے شوق کو پروان چڑھائے۔
اگر ہم تدریسی طریقوں کو بہتر بنائیں تو ہم طلبہ کی مشکلات کم کر سکتے ہیں اور عربی سیکھنے کے عمل کو ایک خوشگوار اور نتیجہ خیز تجربہ بنا سکتے ہیں۔
ںوٹ: ( یہ مضمون مکہ نیوز پیپر میں ۱۱ مارچ ۲۰۲۵ کو رحلة تعلم العربية: لماذا يبحر البعض بسلاسة بينما يغرق الآخرون؟ کے عنوان سے شائع ہوا )