لسانیات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
لسانیات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

نوام چومسکی کا فطری نظریہ لسانیات (Universal Grammar) کیا ہے ؟

 نوام چومسکی کا نظریہ گرامر (یا نظریہ لسانیات) جدید لسانیات میں ایک انقلاب کا باعث بن چکا ہے۔ اس نے زبان کی فطری نوعیت کو سمجھنے کی نئی راہیں ہموار کیں اور لسانیات کے مطالعے کو صرف سماجی اور ثقافتی اثرات تک محدود کرنے کی بجائے، زبان کے اندر موجود داخلی، قدرتی ساخت کی طرف بھی توجہ مرکوز کی۔ ان کا یہ نظریہ زبان کو انسانی دماغ کی ایک فطری صلاحیت کے طور پر دیکھتا ہے اور اس میں مختلف اہم اجزاء شامل ہیں:

1. فطری لسانی صلاحیت (Innateness Hypothesis)

چومسکی کے مطابق، انسانوں میں زبان سیکھنے کی ایک فطری صلاحیت موجود ہے، جو جینیاتی طور پر وراثت میں ملتی ہے۔ ان کے اس نظریے کو "فطری لسانی صلاحیت" (Innateness Hypothesis) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے دماغ میں زبان سیکھنے کے لیے ایک "پری پروگرامڈ" نظام موجود ہے، اور یہ نظام کسی بھی زبان کو سیکھنے کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔ اس طرح انسانوں میں زبان سیکھنے کی یہ صلاحیت حیاتیاتی طور پر موجود ہوتی ہے، اور یہ کوئی سیکھا ہوا عمل نہیں ہوتا۔

2. نظریہ گرامر (Universal Grammar)

چومسکی نے "نظریہ گرامر" (Universal Grammar) کا تصور پیش کیا، جس کے مطابق تمام انسانوں میں زبان کی ایک بنیادی ساخت یا اصول موجود ہوتی ہے جو تمام زبانوں میں مشترک ہے۔ اس کے مطابق، دنیا کی تمام زبانیں ایک ہی بنیادی گرامر کے اصولوں پر مبنی ہوتی ہیں، اور مختلف زبانوں کے درمیان فرق ان اصولوں کی سطح پر مختلف ہوتا ہے۔ چومسکی نے اس نظریے کو اس بات کے طور پر پیش کیا کہ تمام زبانوں میں موجود گرامری ڈھانچہ انسان کے دماغ میں "پری پروگرامڈ" ہوتا ہے۔

3. پرانٹیکٹیکل لسانیات (Transformational-Generative Grammar)

چومسکی کا پرانٹیکٹیکل لسانیات (Transformational-Generative Grammar) ماڈل زبان کے ساختی تجزیے کے لیے ایک بنیادی نظریہ ہے۔ اس ماڈل کے مطابق، زبان کے جملے کی تفصیل اور تشکیل کے مختلف اصول ہوتے ہیں جنہیں "پرانٹیکٹیکل قواعد" (transformational rules) اور "جینیریٹو قواعد" (generative rules) کہا جاتا ہے۔

عربی سیکھنے کی مشکلات ۔ عبیر حیدر

عربی سیکھنے کا سفر: کچھ باآسانی کیوں سیکھ لیتے ہیں جبکہ دوسرے مشکلات کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟

کیوں کچھ طالب علم چند مہینوں میں عربی زبان پر مہارت حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ دوسرے کئی سالوں کے بعد بھی سادہ مکالمہ کرنے سے قاصر رہتے ہیں؟ کیا اس کا راز زبان سیکھنے کی فطری صلاحیت میں ہے، تدریسی طریقہ کار میں ہے، یا کچھ ایسے مخفی عوامل ہیں جو بعض طلبہ کے لیے عربی سیکھنے کے عمل کو ہموار کر دیتے ہیں، جبکہ دوسروں کے لیے یہ ایک دشوار گزار پہاڑی پر چڑھنے کے مترادف ہو جاتا ہے؟

عربی زبان کے غیر ملکی طالب علموں کو سکھانے کے تجربے کی روشنی میں، میں نے مختلف پس منظر اور قومیتوں کے طلبہ سے بات چیت کی ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ کچھ طلبہ آسانی سے زبان میں ضم ہو جاتے ہیں، جبکہ دوسروں کو مایوسی کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ فرق اتفاقی نہیں بلکہ کچھ بنیادی عوامل کے باعث ہے جو عربی سیکھنے میں کامیابی کا تعین کرتے ہیں، جیسے: مادری زبان کا اثر، تدریسی حکمت عملی، ثقافتی فرق، اور ردِ عمل (فیڈ بیک) دینے کے طریقے۔

اس مضمون میں، میں اپنے تجربے سے یہ وضاحت کروں گی کہ یہ عوامل عربی سیکھنے پر کس طرح اثر ڈالتے ہیں اور ہم، بطور اساتذہ، اس تجربے کو سب کے لیے زیادہ مؤثر اور کامیاب کیسے بنا سکتے ہیں۔

1۔ مادری زبان کا اثر: کیا عربی پہلے سے جانی پہچانی ہے یا بالکل نئی؟

طالب علم کی مادری زبان اس بات کا تعین کرتی ہے کہ عربی سیکھنا اس کے لیے کتنا آسان یا مشکل ہوگا۔ وہ طلبہ جو ایسی زبانیں بولتے ہیں جن میں عربی کے الفاظ اور جملے موجود ہیں، انہیں فائدہ ہوتا ہے، جبکہ وہ جو بالکل مختلف زبانوں سے آتے ہیں، انہیں زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں۔

  • ترک طلبہ: ان کے ذخیرۂ الفاظ میں عربی کے بے شمار الفاظ پہلے سے شامل ہوتے ہیں، جیسے "مدرسہ" (Mektep)، "اقتصاد" (Iktisat)، "حضارت" (Medeniyet)، جس کی وجہ سے انہیں نئے الفاظ یاد رکھنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔
  • فارسی بولنے والے: ان کے لیے تعلیمی زبان میں عربی کے الفاظ جیسے "تجارت" (Tejarat) اور "جامعہ" (Daneshgah) عام ہیں، اس لیے وہ علمی زبان کو جلد سمجھ سکتے ہیں۔
  • جاپانی اور چینی طلبہ: ان کے لیے عربی سیکھنا زیادہ چیلنجنگ ہوتا ہے کیونکہ ان کی زبانوں میں الفاظ، جملوں کی ترتیب، اور تحریری نظام بالکل مختلف ہوتا ہے۔ مثلاً عربی جملہ "أنا طالب في الجامعة" کو جاپانی گرامر کے مطابق مکمل طور پر دوبارہ ترتیب دینا پڑتا ہے، جو عربی سیکھنے کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

2۔ روایتی تدریسی طریقے: کیا استاد کا انداز سیکھنے میں رکاوٹ بنتا ہے؟

عربی سکھانے کے حوالے سے سب سے بڑی مشکلات میں سے ایک یہ ہے کہ کئی اساتذہ پرانے روایتی طریقوں پر قائم رہتے ہیں، جو برسوں پہلے ان کے خود سیکھنے کے تجربے پر مبنی ہوتے ہیں۔

  • بعض اساتذہ گرامر کی براہِ راست وضاحت پر زور دیتے ہیں، حالانکہ زبان سیکھنے کے لیے عملی مشق اور گفتگو زیادہ مؤثر ہے۔
  • کچھ اساتذہ سخت لہجے میں غلطیاں درست کرتے ہیں، جو کہ نرم مزاج ثقافتوں (جیسے جاپانی اور کوریائی طلبہ) کے لیے پریشان کن ہو سکتا ہے۔
  • کئی اساتذہ طلبہ کی انفرادی تعلیمی ضروریات کو نظر انداز کرتے ہوئے سب کو ایک ہی رفتار اور طریقے سے پڑھاتے ہیں، جو سیکھنے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔

3۔ ثقافتی فرق اور سیکھنے کا دورانیہ: کچھ طلبہ کو زیادہ وقت کیوں درکار ہوتا ہے؟

میرے تدریسی تجربے کے دوران، میں نے محسوس کیا کہ کچھ قومیتوں کے طلبہ کو عربی سیکھنے میں زیادہ وقت اور تحمل درکار ہوتا ہے، جیسے:

  • کوریائی اور جاپانی طلبہ عام طور پر بولنے میں محتاط رہتے ہیں اور آہستہ آہستہ سیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
  • یورپی طلبہ فوراً نئی زبان میں گفتگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں، چاہے ان کی بول چال میں غلطیاں ہوں۔
  • کچھ ثقافتیں گروپ میں سیکھنے اور مباحثے کو پسند کرتی ہیں، جبکہ بعض تنہا سیکھنے اور تحریری مشق پر زور دیتی ہیں۔

4۔ ردِ عمل (فیڈ بیک): کیا اساتذہ درست طریقے سے رہنمائی فراہم کرتے ہیں؟

کچھ اساتذہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ردِ عمل دینے کے مختلف طریقے مختلف ثقافتوں پر مختلف اثرات ڈالتے ہیں۔

  • جرمنی اور مشرقی یورپ کے طلبہ براہِ راست اور واضح فیڈ بیک کو ترجیح دیتے ہیں، چاہے وہ سخت کیوں نہ ہو۔
  • جاپانی اور کوریائی طلبہ نرمی اور نجی طور پر تصحیح کو زیادہ پسند کرتے ہیں، کیونکہ عوامی سطح پر کی جانے والی تنقید ان کے لیے باعثِ شرمندگی ہو سکتی ہے۔

نتیجہ: کیا عربی سیکھنا آسان ہے یا مشکل؟

اس سوال کا کوئی سیدھا سادہ جواب نہیں، کیونکہ عربی سیکھنے کا عمل زبان سیکھنے والے کی مادری زبان، تدریسی طریقہ، سیکھنے کی لگن، ثقافتی پسِ منظر اور ملنے والی رہنمائی پر منحصر ہوتا ہے۔

تاہم، اگر ہم ان عوامل کو سمجھیں، تو ہم اساتذہ کے طور پر سیکھنے کے تجربے کو بہتر بنا سکتے ہیں، اور عربی کو سب کے لیے آسان اور دل چسپ بنا سکتے ہیں۔ ہمیں تدریسی طریقوں میں لچک پیدا کرنی ہوگی، طلبہ کے اختلافات کو مدِنظر رکھنا ہوگا، اور ایک ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہوگا جو سیکھنے کے شوق کو پروان چڑھائے۔

اگر ہم تدریسی طریقوں کو بہتر بنائیں تو ہم طلبہ کی مشکلات کم کر سکتے ہیں اور عربی سیکھنے کے عمل کو ایک خوشگوار اور نتیجہ خیز تجربہ بنا سکتے ہیں۔

ںوٹ: ( یہ مضمون مکہ نیوز پیپر میں ۱۱ مارچ ۲۰۲۵ کو رحلة تعلم العربية: لماذا يبحر البعض بسلاسة بينما يغرق الآخرون؟ کے عنوان سے شائع ہوا )

عام اور خاص ۔ جاوید احمد غامدی

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت ستمبر 2011 

دنیا کی کسی زبان میں بھی یہ طریقہ نہیں ہے کہ ہر لفظ ایک معنی اور ہر اسلوب ایک ہی مدعا کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ یہ بالعموم متعدد معانی پر دلالت کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ فیصلہ کہ کسی کلام میں یہ کس مفہوم کے لیے استعمال ہوئے ہیں، ہمیشہ اِسی بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ جملے کی تالیف، متکلم کا عرف، نظم کلام ، سیاق و سباق اور اِس نوعیت کے بعض دوسرے قرائن کیا حکم لگاتے ہیں۔ اِس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ذہن تمام احتمالات کو سامنے رکھ کر کبھی فکر و تدبر کے بعد اور کبھی بادنیٰ تامل اپنا فیصلہ صادر کر دیتا ہے۔ زبان سے متعلق یہی حقیقت ہے جس کی بنا پر امام شافعی نے اپنی کتاب ’’الرسالہ‘‘ میں قرآن کے خاص و عام سے متعلق فرمایا ہے کہ زبان محتمل المعانی ہوتی ہے۔ اُس کے خاص و عام بھی جب کسی کلام کا جزو بن کر آتے ہیں تو ضروری نہیں ہے کہ ہر حال میں اُسی معنی کے لیے آئیں جس کے لیے وہ اصلاً وضع کیے گئے ہیں۔ اللہ کی کتاب اِس طرح نازل ہوئی ہے کہ اُس میں لفظ عام ہوتا ہے، مگر اُس سے خاص مراد لیا جاتا ہے اور خاص ہوتا ہے، مگر اُس سے عام مراد لیا جاتا ہے*۔لہٰذا نہ خاص کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے مدلول کے لیے قطعی ہے اور نہ عام کے بارے میں کہ وہ اپنے تحت تمام افراد پر لازماً دلالت کرے گا۔ ائمۂ اصول کے ایک گروہ کو اِس سے اختلاف ہے۔ لیکن حق یہ ہے کہ اِس معاملے میں امام شافعی کا نقطۂ نظر ہی صحیح ہے، اِس لیے کہ یہ مجرد لفظ نہیں، بلکہ اُس کا موقع استعمال ہے جو سامع یا قاری کو اُس کے مفہوم سے متعلق کسی حتمی نتیجے تک پہنچاتا ہے۔ ہم نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ کے مقدمہ ’’اصول و مبادی‘‘ میں لکھا ہے:

’’...قرآن میں یہ اسلوب جگہ جگہ اختیار کیا گیا ہے کہ بظاہر الفاظ عام ہیں،لیکن سیاق و سباق کی دلالت پوری قطعیت کے ساتھ واضح کر دیتی ہے کہ اُن سے مراد عام نہیں ہے ۔ قرآن ’النَّاس‘کہتا ہے ،لیکن ساری دنیا کا تو کیا ذکر ،بارہا اِس سے عرب کے سب لوگ بھی اُس کے پیش نظر نہیں ہوتے ۔وہ ’عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ‘کی تعبیر اختیار کرتا ہے ،لیکن اِس سے دنیا کے سب ادیان مراد نہیں لیتا ۔ وہ ’ الْمُشْرِکُوْنَ‘ کا لفظ استعمال کرتا ہے، لیکن اِسے سب شرک کرنے والوں کے معنی میں استعمال نہیں کرتا ۔ وہ ’ اِنَّ مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ‘ کے الفاظ لاتا ہے، لیکن اِس سے پورے عالم کے اہل کتاب مراد نہیں ہوتے ۔ وہ ’الْاِنْسَان‘کے لفظ سے اپنا مدعا بیان کرتا ہے ،لیکن اِس سے ساری اولادآدم کا ذکر مقصود نہیں ہوتا ۔یہ قرآن کا عام اسلوب ہے، جس کی رعایت اگر ملحوظ نہ رہے تو قرآن کی شرح و وضاحت میں متکلم کا منشا بالکل باطل ہو کر رہ جاتا ہے اور بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے، لہٰذا ناگزیر ہے کہ اِس معاملے میں قرآن کے عرف اور اُس کے سیاق و سباق کی حکومت اُس کے الفاظ پر ہرحال میں قائم ر کھی جائے۔‘‘(۲۳)

زبان کی یہی نوعیت ہے جس کے پیش نظر قرآن کے علما و محققین تقاضا کرتے ہیں کہ متکلم کے منشا تک پہنچنا ہو تو محض ظاہر الفاظ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اُن کے باطن کو سمجھ کر حکم لگانا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب الٰہی کی یہی خدمت انجام دی ہے اور اپنے ارشادات سے اُن مضمرات و تضمنات کو واضح کر دیا ہے جن تک رسائی اُن لوگوں کے لیے مشکل ہو سکتی تھی جو لفظ و معنی کی اِن نزاکتوں کو سمجھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔امام شافعی بجا طور پر اصرار کرتے ہیں کہ ظاہر الفاظ کی بنیاد پر آپ کی اِس تفہیم و تبیین سے صرف نظر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ قرآن کا بیان ہے، اِس میں کوئی چیز قرآن کے خلاف نہیں ہوتی۔ خدا کا پیغمبر کتاب الٰہی کا تابع ہے۔ وہ اُس کے مدعا کی تبیین کرتا ہے، اُس میں کبھی تغیر و تبدل نہیں کرتا۔ امام اپنی کتاب میں اِس کی مثالیں دیتے اور بار بار متنبہ کرتے ہیں کہ قرآن کے احکام سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے، وہ بیان اور صرف بیان ہے۔ اُسے نہیں مانا جائے گا تو یہ قرآن کی پیروی نہیں، اُس کے حکم سے انحراف ہو گا، اِس لیے کہ اُس کا متکلم وہی چاہتا ہے جو پیغمبر کی تفہیم و تبیین سے واضح ہو رہا ہے، اُس کا منشا اُس سے مختلف نہیں ہے۔

امام شافعی کی اِس بات سے زیادہ سچی بات کیا ہو سکتی ہے! لیکن امام کے استدلال کی کمزوری یہ ہے کہ بیش تر موقعوں پروہ مبرہن نہیں کر سکے کہ لفظ اور معنی کے جس تعلق کو وہ بیان سے تعبیر کرتے ہیں، وہ اُن میں پیدا کس طرح ہوتا ہے؟ چنانچہ اِسی کا نتیجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل کی چند ایسی روایتوں پر بھی مطمئن ہو گئے ہیں جنھیں کسی طرح بیان قرار نہیں دیا جا سکتا ، دراں حالیکہ اُن کے بارے میں یہ بحث ہو سکتی تھی کہ اُن کے راویوں نے آپ کا مدعا ٹھیک طریقے سے سمجھا اور بیان بھی کیا ہے یا نہیں؟ امام شافعی کے نقطۂ نظر سے جو لوگ اختلاف کرتے ہیں، اُن کی اصلی الجھن یہی ہے۔

ہم نے ’’میزان‘‘ میں کوشش کی ہے کہ امام کے موقف کو پوری طرح مبرہن کر دیں، اِس لیے کہ اصولاً وہ بالکل صحیح ہے۔ اہل نظر ’’میزان‘‘ کے مقدمہ ’’اصول و مبادی‘‘ میں ’’میزان اور فرقان‘‘ کے زیر عنوان یہ مباحث دیکھ سکتے ہیں۔ اِس سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ قرآن مجید کے احکام سے متعلق روایتوں میں جو کچھ بیان ہوا ہے، وہ اُس کے الفاظ کا مضمر ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تشریحات سے ظاہر کر دیا ہے۔ قرآن کے طالب علموں کو اِس سے لفظ کے باطن میں اتر کر اُس کو سمجھنے کی تربیت حاصل کرنی چاہیے، اِسے رد کر دینے یا اِس سے قرآن کے نسخ پر استدلال کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔

* الرسالہ، الشافعی۲۳۰۔ یہی وہ بات ہے جسے نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ امام شافعی بھی الفاظ کی دلالت کو اُن کے معانی پر ظنی مانتے ہیں۔ دراں حالیکہ وہ صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ زبان میں ایک سے زیادہ مفاہیم کا احتمال ہوتاہے، اِس لیے کسی ایک احتمال کو سامنے رکھ کر فیصلہ سنانے کے لیے مبادرت نہیں کرنی چاہیے، بلکہ تدبر کے ساتھ دیکھنا چاہیے کہ کسی خاص موقع پر کون سا مفہوم ہے جسے متکلم کا منشا قرار دیا جا سکتا ہے۔

مقدرات کے مبنیٰ و معاونین ۔ ساجد حمید

مبنیٰ ۱؂


مقدر مقدمات کا استعمال تمام زبانوں میں سماجی، ذہنی، لسانی اور اخلاقی مبانی پر منحصر رہتے ہوئے ہوتا ہے۔ یعنی مقدرات ہمارے تسلیم شدہ مقدمات پرمبنی ہوتے ہیں۔ مقدرات کے یہ مبنیٰ ہم نے عرض کیا تھا کہ آفاقی (universal) بھی ہوتے ہیں اور علاقائی (local) بھی۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ مقدرات کبھی الل ٹپ نہیں ہوتے، بلکہ وہ ہمارے اکتسابی و جبلی علم و تصورات پر قائم ہوتے ہیں۔ آفاقی تصورات تمام انسانوں کے مشترکہ محسوسات اور مشترکہ جبلی امور پر قائم ہوتے ہیں ۔
مصنف: ساجد حمید

مثلاً، ہماری علمی فطرت میں تقابل و موازنہ ایک عمومی طرز تجزیہ و فکر ہے۔ بلکہ حکما اسے ایک جملے میں یوں بیان کرتے ہیں کہ ’تعرف الأشیاء بأضدادہا‘۔ مردوعورت، زمین وآسمان، ظلمت و نور، گھٹیا و اعلیٰ اسی طرح کے تقابل کا بیان ہیں۔ تقابل کے طریقے کا مطلب یہ ہے کہ دو چیزیں باہم مقابلے و موازنے میں لائی جائیں، خواہ متضاد ہوں خواہ ہم آہنگ۔ مثلاً قلم وقرطاس تحریر کے میدان میں دو ہم آہنگ مقابل ہیں، جب کہ آگ اور پانی عام زندگی میں دو متضاد مقابل ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ ہماری فطرت کا علمی شعبہ دیگرطریقوں کے ساتھ ساتھ موازنے کے طریقے پر بھی چیزوں کو سمجھتا ہے ۔اسی سے زبان و کلام میں تقابل کا اسلوب جنم لیتا ہے۔ہر بولنے والا اس جبلت کے سہارے پر چیزوں کو مقابل میں پیش کرتا اور بلاتبصرہ ہماری جبلت کو دعوتِ موازنہ دے دیتا ہے ۔ اسی طرح تمام مقدرات ایسے ہی مسلّم مقدمات اور طریقوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ غوروفکر کے طریقے کی طرح زبان میں بھی تقابل ایک بین الالسنۃ مانا ہوا لسانی اسلوب ہے۔ صنعتِ تضاد ۲؂ کی اصطلاح اسی طرح کے ایک اسلوب کو بیان کرتی ہے۔

درج ذیل سطور میں ہم قرآن سے چند مثالیں دیکھیں گے اور کوشش کریں گے کہ ان کے اندر کے مقدمات کی لسانی اور علمی و فکری بنیادیں واضح کریں۔
پہلی مثال

قرآن نے کلمۂ طیبہ کو شجرِ طیبہ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے:
کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَا فِی السَّمَآءِ.(ابراہیم ۱۴: ۲۴)
’’شجر طیبہ کے مانند جس کی جڑ — استقرار پائے ہوئے ہے اور جس کی شاخ آسمان میں — ہے۔‘‘

ترجمہ میں خالی جگہوں پر غور کریں۔ جڑیں کہاں استقرار پائے ہوئے ہیں، مذکور نہیں ہے۔ تمام انسان اپنے تجربات سے جانتے ہیں کہ ہر درخت کی جڑیں زمین میں گڑی ہوئی ہوتی ہیں۔یہ آفاقی حسی مشاہدہ ہے جو مقدر کا کردار ادا کررہا ہے۔ لہٰذا اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔دوسری خالی جگہ میں بھی غور کریں کہ درخت کا تنااور شاخیں آسمان میں بلند ہوتی ہیں۔ بالکل معلوم و معروف بات ہے۔ لہٰذا بیان نہیں کیا۔ اب اسی آیت کے مفہوم کو میں یوں لکھوں تو غلط نہیں ہوگا:
شجر طیبہ کے مانند جس کی جڑ زمین میں استقرار پائے ہوئے ہے اورجس کی شاخ آسمان میں اٹھی ہوئی ہے۔

کلام کی ایک اہم خوبی: مقدرات ۔ ساجد حمید

نومبر ۲۰۱۷ء کے اشراق کے شمارہ میں ہمارا ایک مضمون نظمِ قرآن کے حوالے سے شائع ہوا تھا۔ ہم نے اس میں مقدر مقدمات کو نظم قرآن کی کلید قرار دیا تھا۔ اس کے بارے میں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مقدمات کو مقدر کیوں رکھا، کلام کو بسیط کیوں نہیں بنایا کہ نظم کا مسئلہ ہی پیدا نہ ہوتا؟

اس کا ایک پہلو تو وہ ہے کہ جسے ہم نے عربوں کے طرز تخاطب کا پسندیدہ ترین وصف قرار دیا تھا کہ ’خیر الکلام قل ودل‘، اس لیے ان کے لیے موثر کلام وہی ہوسکتا تھا جو ان کے اس اسلوب پر بہ حسن و خوبی پورا اترتا ہو۔ ذیل میں ہم ایک مثال سے بات کو سمجھاتے ہیں، جس میں عربوں کا کلام مختصر کرنے کے طریقے کی ندرت شاید کچھ واضح ہوگی:
وَاِنْ تَجْھَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّہٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰی.(طٰہٰ ۲۰: ۷)

’’اور اگر تم قول کو بلند آواز سے کہو، تو وہ مخفی، بلکہ مخفی تر باتوں کو جانتا ہے۔‘‘

اس آیت کا میں نے صرف ترجمہ کردیا ہے۔ترجمہ میں دیکھیے کہ ہم اردو مذاق لوگوں کو ایک خلا سا نظر آئے گا۔ یعنی پہلے کہا گیا کہ اگر تم بلند آواز میں بولو، پھر کہا گیا کہ اللہ پوشیدہ اور مخفی باتوں کو جانتا ہے۔ یہ بتایا ہی نہیں کہ وہ بلند آواز سے کہی گئی بات کو جانتا ہے یا نہیں۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مخفی بات آ کہاں سے گئی؟ اس لیے کہ بات تو بلند آواز سے کہے گئے قول کے بارے میں ہو رہی تھی۔ جملہ تو یوں ہونا چاہیے تھا کہ اگر تم بلند آواز سے بولو تو اللہ اس کو جانتا ہے۔ یہ خلا ہمیں اس لیے نظر آرہے ہیں کہ ہم عربوں کے اسلوب میں بات نہیں کرتے۔لیکن اردو میں ہم ایک ملتا جلتا اسلوب رکھتے ہیں، لیکن وہ عموماًجملوں کے اختتام پر آتا ہے۔ مثلاً ہم کہتے ہیں: ’’کل سے میں نے نہ کھانا کھایا اور نہ پانی‘‘۔ یعنی ہم پانی کے بعد ’’پیا‘‘ کا فعل حذف کردیتے ہیں، اس لیے کہ پچھلے کلام اور ’’پانی‘‘ کے لفظ سے واضح تھا۔ تو پورا جملہ یوں تھا: ’’کل سے میں نے نہ کھانا کھایا اور نہ پانی پیا‘‘۔ جس طرح ہم نے اردو کا جملہ پورا کیا ہے،ایسے ہی قرآن کا جملہ مکمل کردیں تو وہ یوں ہو گا:
اگر تم بلند آواز سے بات کرو، تو اللہ اسے جانتا ہے، اور اگر مخفی طریقے سے کرو تو اللہ تمھاری مخفی باتوں کو بھی جانتا ہے، بلکہ اس سے بڑھ کرمخفی باتوں کو بھی جانتا ہے۔

تعددِ معنی اور دلالتِ لسانی ۔ ڈاکٹر ساجد حمید

زبان اپنے معنی کی ادائیگی میں کامیاب ہے یا نہیں ، اس کا فیصلہ عالم عمل میں ہونا چاہیے، نہ کہ مجرد عالمِ عقل میں۔ صدیوں سے ہم افلاطون کے طرزِ فکر کے اسیر ہیں۔اس کا منہج یہ تھا کہ ہماری عقل علم کاماخذِ کُل ہے اورہمارا حسی تجربہ، یعنی ہمارے حواس خطا کار ہیں۔ اس طرز فکر نے صدیوں تک انسان کو علوم میں ترقی سے روکے رکھا۔انسان کی اس طرز فکر میں جو ترقی ہوئی، وہ ایک طرف اہل فلسفہ کی عقلی موشگافیاں تھیں اور دوسری طرف تصوف کی وجدانی خود فریبیاں۔ علم اسی میدان میں پھنسا رہا، اور اقبال کے الفاظ میں اس دانشِ برہانی نے حیرت کے سوا ہمیں کچھ عطا نہیں کیا۔

اس منہج کی تاثیر اور گرفت اتنی زیادہ تھی کہ کوئی حتمی سے حتمی چیز بھی جب اس کے معیار پر پوری نہ اتری تو بے وقعت قرار پائی۔ مثلاً ان کے مطابق وحی محض ظاہریت اورمعیار میں پست ٹھیری، تجربات پر مبنی علم محض دنیوی اور سفلی سے شاید کچھ بڑا درجہ پا کر علم آلی قرار پایا۔ لہٰذا، نہ فہمِ وحی کے لیے ذہین عناصرآگے بڑھے اور نہ مادی علوم کے لیے۔ لہٰذا امت کے بڑے اذہان فلسفہ و تصوف کی بھینٹ چڑھ کر خانقاہوں اور فلسفیانہ مدارس کی روح و رواں بن کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ وحی پر اعتماد کرنے والے بے وزن ٹھیرے۔پھرامام رازی وغیرہ نے وحی کو اس معیار پر پورا دکھانے کے لیے ’’التفسیر الکبیر‘‘ جیسی تفاسیر لکھی۔ بالکل اسی طرح، جس طرح ہمارے عہد میں سرسید وغیرہ نے قرآن کو سائنس کے میعار پر دکھانے کے لیے تفسیر یں لکھیں۔

عقلی منہج اور حقیقتِ واقعہ


افلاطونی طرز فکر کا اصل طریقہ یہ ہے کہ حقائقِ واقعہ (ground realities) سے ہٹ کر خالص ذہنی بنیادوں پر ایک نظریہ بنائیں گے اور پھر اسی کے نتائج و عواقب عقل کی بھٹی سے کشید کرکے دکھائیں گے۔ مثلاً ایک عقلی مقدمہ قائم ہوگا، کہ کوئی چیز عدم سے وجود میں نہیں آسکتی۔تو سوال پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ کہاں سے آئے؟ جواب آیا کہ چیزیں دو قسم کی ہیں: ایک واجب الوجود (necessary being)اور ایک حادث یا ممکن الوجود (contingent)۔ واجب الوجودوہ ہے جو بس از خود ہے ، اس کا کوئی آغاز نہیں ہے اور اس کا وجود ہی حقیقی وجود ہے ۔ ممکن الوجود وہ ہے جو اصلاً نہیں ہے، مگر وجود میں آ سکتا ہے۔ جب یہ عقلی مقدمات مان لیے گئے تو سوال پیدا ہوا کہ کائنات ممکن الوجود ہے کہ واجب الوجود؟ ایک گروہ نے اپنے خیال میں اسے واجب الوجود مانا اور دوسرے نے حادث۔جس نے حادث مانا، اس کے نزدیک یہ حقیقی وجود نہیں تھا۔ لہٰذا ہر چند کہیں کہ ہے ،نہیں ہے کی صورت پیدا ہوگئی۔چنانچہ کائنات کا ہونا محض خواب، واہمہ یا عکس و تجلی قرار پایا، یعنی ایک ٹھوس حقیقی دنیا اس عقلی فریب میں بے وجود قرار پائی۔چنانچہ صدیوں بعد ڈیکارٹ نے منوایا کہ کم از کم اپنے آپ کے ہونے کو تو مانا جائے۔ ڈیکارٹ نے ذاتِ خویش کی موجودگی اندھوں کو نہیں منوائی تھی، بلکہ ان دانا و بینا لوگوں کومنوائی تھی جو فلاسفر کہلاتے اور ذہین ترین عناصر سمجھے جاتے ہیں۔۱؂ اگر آپ اس پر سوال اٹھائیں گے کہ حضور،حقیقت واقعہ تو یہ ہے کہ یہ دنیا موجود ہے، کیا آپ کو دکھائی نہیں دیتی ؟ آپ کس طرح کی باتیں کررہے ہیں! تو یہ افلاطونی طرز کا فلسفی آپ کو ظاہر پرست اور عقلی اعتبار سے پست قرار دے دے گا۔کبھی آپ کو کہے گا کہ یہ حواس کا دھوکا ہے اور کبھی آپ کو کہے گا کہ آپ کی عقل اتنی بالیدہ نہیں ہے کہ ہماری بات سمجھ سکیں، وغیرہ۔ایسا وہ اس لیے کہتے ہیں کہ اپنے عقلی موشگافی کے سوا ان کے پاس ہوتا ہی کیا ہے ۔۲؂

لسانی میدان میں بھی یہی حرکت ہوئی۔ حقیقی دنیا میں اس کی دلالت دیکھنے کے بجاے ، کچھ اسی طرح کے عقلی مقدمات قائم کرلیے گئے۔پھر ان سے کچھ تصورا ت کشید کیے گئے۔ حالاں کہ عملی میدان میں زبان ان نظریات کو ویسے ہی جھٹلاتی ہے، جیسے کائنات کو واہمہ قرار دینے والوں کو کائنات کا وجود جھٹلاتا ہے۔

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں؟ غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے؟
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں؟ ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے؟

غالب کے اشعار کا یہی وہ تحیر ہے جسے اقبال نے حیرت کی فراوانی کہا ہے:

ہے دانش برہانی حیرت کی فروانی

جس طرح وہم کا مریض اپنے وہم کو حقیقی سمجھ رہا ہوتا ہے، بالکل اسی طرح فلسفی اپنے عقلی وہموں کو حق سمجھ رہا ہوتا ہے اور حقیقی باتوں کو وہم۔گویا کچھ لوگوں کی آنکھوں اور حواس کو وہم لاحق ہوتا ہے تو کچھ کی عقلوں کو ۔افلاطون کو لاکھ قائل کرلیں کہ جناب آپ کا عالم امثال آپ کے ذہن کی اختراع ہے اور بس! لیکن وہ اپنے نظریے کوترک نہیں کرے گا، کیونکہ اس کی عقلی تُک بندیوں نے یہی سجھایا ہے۔ وہ عقل کے اس فریب سے باہر نہیں نکلے گا۔ایسے فلسفیوں کو دنیا بھر کی مانی ہوئی موجود چیزیں غیرموجود اور غیر موجود چیزیں موجود لگتی ہیں۔

اردو ادب میں صنعتِ تلازم یا متلازمہ سے کیا مراد ہے ؟

ادب میں اس سے مراد ہے لفظوں يا فقروں کے معانى کا  ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻻﺯﻡ  ﻭ ﻣﻠﺰﻭﻡ ہونا ۔ جیسے شاعرنے  کہا : 

" ﮨﻮﺍﺅﮞ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ

ﻣﮩﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﮔﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ" 

ﯾﮩﺎﮞ " ﻣﮩﮏ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ " ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮨﯿﮟ. ﻟﻔﻆ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﻋﺮﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺛﻼﺛﯽ ﻣﺰﯾﺪ ﻓﯿﮧ ﺑﮯ ﮨﻤﺰﮦ ﻭﺻﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﺏ ﺗﻔﺎﻋﻞ ﺳﮯ ﺍ ﺳﻢ ﻓﺎﻋﻞ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺑﻄﻮﺭ ﺻﻔﺖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺑﺎﺏ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺻﯿﺖ ﺗﺸﺎﺭﮎ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺏ ﮐﺎ ﻓﻌﻞ Word ﺩﻭ ﺍﺳﻤﺎﺀ Nouns ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﺍﺷﺘﺮﺍﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮐﺎ ﻣﺼﺪﺭ ﺗﻼﺯﻡ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﮨﻢ ﻻﺯﻡ ﮨﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﺍﺳﻢ ﻓﺎﻋﻞ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽٰ ﮨﮯ ﺑﺎﮨﻢ ﻻﺯﻡ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﻻﺯﻡ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺷﺮﯾﮏ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺁﮒ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮨﯿﮟ ( ﺁﮒ ﺟﻠﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﻻﺯﻣﺎ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮔﺎ ) ۔ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺭﮨﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮨﯿﮟ ( ﺑﮭﻮﮐﮯ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻻﺯﻣﺎ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ) ۔ ﻇﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﭘﮑﮍ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮨﯿﮟ ( ﻇﻠﻢ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﮐﮯ ﺗﻮ ﻻﺯﻣﺎ ﭘﮑﮍ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ) ۔ ﺧﻠﻮﺹ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ ﻣﺘﻼﺯﻡ ﮨﯿﮟ ( ﺍﺧﻼﺹ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻻﺯﻣﺎ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ )

ﺍﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﺎﺏ ﺗﻔﺎﻋﻞ ﺳﮯ ﺗﻘﺎﺗﻞ ﻣﺼﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻢ ﻓﺎﻋﻞ ﻣﺘﻘﺎﺗﻞ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﮨﻢ ﻗﺘﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ( ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳرﮯ ﮐﻮ مارنا  )،  ﺗﺒﺎﺩﻝ ﻣﺼﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻢ ﻓﺎﻋﻞ ﻣﺘﺒﺎﺩﻝ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﮨﻢ ﺑﺪﻝ ( ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ) ﮨﻮﻧﺎ ( ﺑﺮﻋﮑﺲ ) ، ﺗﺒﺎﺭﮎ ﻣﺼﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻢ ﻓﺎﻋﻞ ﻣﺘﺒﺎﺭﮎ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﮨﻢ ﺑﺮﮐﺖ ﻭﻻ ﮨﻮﻧﺎ ( ﺑﺮﮐﺖ ﻭﺍﻟﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺑﺮﮐﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﻧﺎ )

ﻣﺰﯾﺪ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻋﻠﻢ ﺻﺮ ﻑ ﮐﯽ ﮐﺘﺐ ﻣﻼﺣﻈﮧ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ.

 ﺍﺩﺑﯽ ﺗﻨﻘﯿﺪﯼ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻟﻔﻆ ﺑﮩﺖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ : ’’ ﺗﻼﺯﻣﮧ ‘‘

ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻻﺯﻡ ﻭ ﻣﻠﺰﻭﻡ ﻭﺍﻟﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺘﻤﯿﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ، ﺗﺎﮨﻢ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﮨﻢ ﺑﮩﺖ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺳﻤﺎﺀ ، ﺍﻓﻌﺎﻝ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻻﮔﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

مثاﻝ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺷﻌﺮ ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ :

ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺑﺮ ﺗﮭﺎ ، ﮐﮧ ﻭﮦ ﺟﮭﯿﻞ ﺗﮭﯽ ، ﮐﮧ ﺳﺮﺍﺏ ﺗﮭﺎ

ﺳﻮ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ، ﮐﮩﯿﮟ ﭘﺎﺋﯿﮯ ﺟﻮ ﺳﺮﺍﻍِ ﺩﻝ

انڈین طالبعلم نے سنسکرت کا 2500 سال پرانا معمہ حل کر دیا

بی بی سی اردو 

16 دسمبر 2022 

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے ایک طالبعلم نے سنسکرت زبان کی گرائمر کا ایک ایسا معمہ حل کر لیا ہے جس نے بڑے بڑے عالموں کو پانچویں صدی قبل مسیح سے پریشان کر رکھا تھا۔

27 سالہ رِشی راجپوپات نے سنسکرت کے جس اصول کی گتھی سلجھائی ہے اس کے بانی ماضی قدیم کے مشہور استاد پانینی تھے جنھوں نے یہ اصول آج سے تقریباً اڑھائی ہزار برس پہلے وضع کیا تھا۔

پانینی کے قدیم نسخہ کا ایک صحفہ 

کیمبرج یونیورسٹی کے مطابق آج کل سنسکرت صرف انڈیا میں بولی جاتی ہے جہاں اس قدیم زبان کے بولنے والوں کی تعداد اندازاً 25 ہزار ہے۔

مسٹر رِشی راجپوپات کا کہنا ہے کہ وہ نو ماہ تک ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے تھے اور ان کی تحقیق بالکل آگے نہیں بڑھ رہی تھی، لیکن آخر کار وہ لمحہ آ گیا جب انھیں یہ راز سمجھ آ گیا۔

’جب مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی تو میں نے ایک مہینے کے لیے کتابیں بند کر دیں اور موسم گرما سے لطف اندوز ہونے نکل پڑا، کبھی تیراکی، کبھی کھانا پکانا، کبھی پوجا اور سوچ و بچار۔‘

’اس کے بعد میں پاؤں گھسیٹتا ہوا دوبارہ کام پر آ گیا، اور ابھی مجھے صفحے پلٹتے ہوئے چند ہی منٹ گزرے تھے کہ (پنینی کے لکھے ہوئے صفحات کے نمونے) مجھے سمجھ آنے لگ گئے۔‘

رِشی بتاتے ہیں کہ وہ ’کئی کئی گھنٹے لائبریری میں بیٹھے رہتے، اور کبھی تو رات دیر گئے تک۔‘

فن ادب اور ادبی تخلیق - ابوالبشر احمد طیب

فن ادب

فن ادب اور ادبی تخلیق
یہ حقیقت ہے کہ انسانیت اور انسانی معاشرت  فلسفہ اور سائنس پر نہیں بلکہ جذبات پر قائم  ہے ، فرض کریں ایک بڈھے شخص کا بیٹا مرگیا ہے اور لاش سامنے پڑی ہے ، یہ شخص اگر سائنسدان سے رائے لے تو جواب ملے گا کہ ایسے اسباب جمع ہوگئے جن کی وجہ سےدوران خون یا دل کی حرکت بندہوگئی ، اسى کا نام موت ہے ، یہ ایک مادی  حادثہ ہے لہذا رونا دھونا بےکار ہے ، رونے سے وہ دو بارہ زندہ نہیں ہوگا۔ لیکن کیا سائنسدا ن خود اس اصول پر عمل پیرا ہوسکتا ہے ، بچوں کا پیار ، ماں کی مامتا ، محبت کا جوش ، غم کا ہنگامہ ، موت کا رنج ، ولادت کی خوشی ، کیا ان چیزوں کو سائنس سے کوئی تعلق ہے ، لیکن یہ چیزیں اگر مٹ جائیں تو زندگی میں سناٹا چھاجائے گا ، اور دنیا قالب بے جان ، شراب بے کیف ، گل بےرنگ ، گوہر بے آب ہوکر رہ جائیگی ، دنیا کی چہل پہل ، رنگینی ، دلآویزی ، دلفریبی ، سائنس  اور فلسفہ کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانی جذبات کی وجہ سے ہے جو عقل کی حکومت سے تقریبا آزاد ہیں ۔

 فن ادب یا تخلیق ادب کو جذبات ہی سے تعلق ہے  اس لیے تاثیر اس کا عنصر ہے ، ادب ہر قسم کے جذبات کو برانگیختہ کرتا ہے ، اس لیے رنج ، خوشی ، جوش ، استعجاب ، حیرت  میں جواثر ہے وہی ادب میں ہے ، باد سحر کی جھونکے ، آب رواں کی رفتا ر ، پھولوں کی شگفتگی ، غنچوں کا تبسم ، سبزہ کی لہلہاہٹ ، خوشبؤں کی لپٹ ، بادل کی پھوہار ، بجلی کی چمک ، یہ منظر آنکھ کے سامنے ہو تو دل پر وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے، شاعر یا انشا پرداز ان مناظر کو بعینہ پیش کردیتا ہے تو  دل پر ان کا اثر ہوتا ہے ۔  ادب صرف محسوسات کی تصویر نہیں کھینچتا ، بلکہ جذبات اور احساسات کو بھی پیش نظر کردیتا ہے ، اکثر عام انسان اپنے جذبات سے خود واقف نہیں ہوتے اگر ہوتے ہیں تو صرف دھندلاسا نقش نظر آتا ہے ، شاعر یا انشا پر داز ان پس ِپردہ چیزوں کو پیش نظر کردیتا ہے ، دھندلی چیزیں چمک اٹھتی ہیں ، مٹا ہوا نقش اجاگر ہوجاتا ہے ،یہاں تک کہ روحانی تصویر جو کسی آئینہ کے ذریعہ ہم نہیں دیکھ سکتے ، ادب ہمیں دکھا دیتا ہے ۔ 

اردو زبان کا خون کیسے ہوا؟

یہ ہماری پیدائش سے کچھ ہی پہلے کی بات ہے جب مدرسہ کو اسکول بنا دیا گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔۔ 
لیکن ابھی تک انگریزی زبان کی اصطلاحات دورانِ تعلیم استعمال نہیں ہوتی تھیں۔ صرف انگریزی کے چند الفاظ ہی مستعمل تھے، 
مثلا": 
ہیڈ ماسٹر، 
فِیس، 
فیل، 
پاس وغیرہ
 "گنتی" ابھی "کونٹنگ" میں تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ اور "پہاڑے" ابھی "ٹیبل" نہیں کہلائے تھے۔

60 کی دھائی میں چھوٹے بچوں کو نام نہاد پڑھے لکھے گھروں میں "خدا حافظ" کی جگہ "ٹاٹا" سکھایا جاتا اور مہمانوں کے سامنے بڑے فخر سے معصوم بچوں سے "ٹاٹا" کہلوایا جاتا۔
زمانہ آگے بڑھا، مزاج تبدیل ہونے لگے۔ 
 عیسائی مشنری سکولوں کی دیکھا دیکھی کچھ نجی (پرائیوٹ) سکولوں نے انگلش میڈیم کی پیوند کاری شروع کی۔
 سالانہ امتحانات کے موقع پر کچھ نجی (پرائیویٹ) سکولوں میں پیپر جبکہ سرکاری سکول میں پرچے ہوا کرتے تھے۔ پھر کہیں کہیں استاد کو سر کہا جانے لگا- اور پھر آہستہ آہستہ سارے اساتذہ ٹیچرز بن گئے۔ 
 پھر عام بول چال میں غیر محسوس طریقے سے اردو کا جو زوال شروع ہوا وہ اب تو نہایت تیزی سے جاری ہے۔

اب تو یاد بھی نہیں کہ کب جماعت، کلاس میں تبدیل ہوگئی- اور جو ہم جماعت تھے وہ کب کلاس فیلوز بن گئے۔

ہمیں بخوبی یاد ہے کہ 50 اور 60 کی دھائی میں؛ اول، دوم، سوم، چہارم، پنجم، ششم، ہفتم، ہشتم، نہم اور دہم، جماعتیں ہوا کرتی تھیں، اور کمروں کے باہر لگی تختیوں پر اسی طرح لکھا ہوتا تھا۔ 
پھر ان کمروں نے کلاس روم کا لباس اوڑھ لیا-
اور فرسٹ سے ٹینتھ کلاس کی نیم پلیٹس لگ گئیں۔ 
 تفریح کی جگہ ریسیس اور بریک کے الفاظ استعمال ہونے لگے۔

ڈراما کب اور کیوں وجود میں آیا ۔۔۔ ڈاکٹر اے ایم چشتی

ڈراما کب اور کیوں وجود میں آیا ؟
 ڈراما ایک ایسی کہانی ہے جو چند کرداروں کی مدد سے اسٹیج پر اسٹیج کے دیگر لوازمات کے ساتھ تماشائیوں کی موجودگی میں عملی طور پر پیش کی جاتی ہے۔ اس کہانی کا بنیادی مقصد تفکراتِ غم کا مداوا اور معاشرتی اصلاح ہے۔ لیکن سنسکرت قواعد کی رو سے ڈراما ایک ایسی نظم ہے جسے دیکھا جا سکے یا ایسی نظم جسے دیکھا اور سنا جا سکے۔(۱)

 دراصل شاعری پڑھنے اور سننے کی چیز ہے، اور ڈراما پڑھنے، سننے اور دیکھنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حرکت و عمل ڈرامے کا بنیادی ستون ہے۔جب کوئی ادیب یا شاعر زندگی کے کسی واقعہ کو بیان کرتا ہے تو وہ ایک رہبر کی طرح ہمیں زندگی کی سیر کراتا ہے۔ لیکن جب کوئی ڈراما نویس کسی واقعہ کو پیش کرتا ہے تو وہ صرف زندگی بیان نہیں کرتا، بلکہ زندگی کو پوری شان اور آن بان سے پیش کرتا ہے۔ ایک ایسی زندگی جو چلتی پھرتی، ہنستی بولتی یا پھر نالاں و گراں، آسودہ اور تھکی ہوئی۔

 واضح رہے کہ جدید ڈراموں میں ڈراما نگار ناول یا افسانہ نویس کی طرح زندگی کی مختلف تہوں میں چھپے حالات و واقعات کو بھی پیش کرتا ہے اور ان حالات و واقعات کو حرکت و عمل کا لباس بھی زیب تن کرواتا ہے۔ جس وجہ سے ڈراما نہ صرف تفریح مہیا کرتا ہے بلکہ لوگوں کو ایجوکیٹ بھی کرتا ہے، اور مخاطبین کا نقطہ نظر بدلنے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ ڈرامے میں تفنّن، تفریح اور اصلاح کا گہرا امتزاج پایا جاتا ہے۔ یہ ایک ٹیم ورک ہے۔ اس کی تخلیق میں مصنّف، اداکار، تماشائی، اسٹیج اور اسٹیج کے دیگر لوازمات مصروفِ عمل ہوتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر قمر اعظم ہاشمی:

اردو لسانیات -- ایک تعارف - ڈاکٹر محمد حسین

( صدر شعبہ اردو گورنمنٹ ڈگری کالج کولگام کشمیر )
اردو لسانیات --ایک تعارف 

زبان سے متعلق سنجیدگی سے غور کرنے کا سلسلہ ابتدائی زمانے سے چلا آرہا ہے۔مذہبی مفکروں کے شانہ بہ شانہ اہل علم حضرات جیسے افلاطون اور ارسطو نے بھی زبان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔افلاطون کی کتاب(Cratylus) علمِ زبان کے تعلق سے پہلی کتاب تصور کی جاتی ہے۔واحد جمع‘تذکیروتانیث اور اجزائے کلام کی ابتدائی تعریفیں یونانی دانشور ارسطو سے منسوب ہیں۔ ابجدی تحریر کاآغاز بھی یونان سے ہی ہوا۔قدیم ہندوستانیوں اور عربوں نے زبان کے بارے میں کافی غوروخوض کیا۔اس سلسلے میں پاننی کی (اشٹا دھیائی) خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔

انیسویں صدی میں جرمنی میں زبانوں کے مطالعے کے سلسلے میں اہم شعبہ (Comparative Philology) سامنے آیا۔سر ولیم جونز سے اشارہ پاکر یہ شعبہ، زبانوں کے خاندانی رشتوں کی کھوج میں لگ گیالیکن ان ماہرین زبان کا طریقہ کار محض تاریخی اورکلاسیکی زبانوں تک محدود رہا۔زندہ زبانیں ان کے مطالعے کی توجہ کا مرکز نہ بن سکیں۔

زبان کے مطالعے کی سائنسی بنیادیں بیسویں صدی کے آغاز میں اس وقت شروع ہوئیں جب سویئزرلینڈ کےFeridanand de sasure) (کی کتاب منظرِ عام پر آئی۔ساسور نے پہلی بار زبان کے تقریری روپ کی جانب اہلِ علم کی توجہ مبذول کی۔دیکھتے ہی دیکھتے ماہرین لسانیات کی ایک صحت مند تحریک نے جنم لیا اور اس طرح سے جدید لسانیات کے شعبے کا قیام عمل میں آیا۔

لسانیات --تعارف اور اہمیت - ڈاکٹر رابعہ سرفراز

لسانیات -- تعارف اور اہمیت 
ایسوسی ایٹ پروفیسرشعبہ اردو

گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی فیصل آباد

لسانیات اس علم کو کہتے  ہیں جس کے  ذریعے  زبان کی ماہیت ‘تشکیل‘ارتقا‘زندگی اور موت کے  متعلق آگاہی حاصل ہوتی ہے۔زبان کے  بارے  میں  منظم علم کو لسانیات کہا جاتا ہے۔یہ ایسی سائنس ہے  جو زبان کو اس کی داخلی ساخت کے  اعتبار سے  سمجھنے  کی کوشش کرتی ہے۔ ان میں  اصوات‘خیالات‘سماجی صورتِ احوال اور معنی وغیرہ شامل ہیں ۔ لسانیات میں  زبان خاص معنی میں  استعمال ہوتی ہے۔اشاروں  کی زبان یاتحریر لسانیات میں  مرکزی حیثیت نہیں  رکھتی۔لسانیات میں  زبانی کلمات کے  مطالعے  کو تحریر کے  مقابلے  میں  زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔اس کی متعدد وجوہات ہیں ۔

۱۔انسانی تہذیب کے  ارتقا میں  انسان زبان پہلے  بولنا شروع ہُوا اور تحریر بہت بعد میں  ایجاد ہوئی۔

۲۔بچہ پہلے  بولنا شروع کرتاہے  اور بعد میں  لکھنا سیکھتاہے۔

۳۔دنیا میں  سب ہی انسان بولنا جانتے  ہیں  لیکن مقابلتاً کم لوگ لکھنا جانتے  ہیں ۔

۴۔بہت سی ایسی چیزیں  جو زبانی گفتگو میں  شامل ہوتی ہیں  ‘تحریر میں  ظاہر نہیں  کی جاتیں ۔

ابوالاعجاز حفیظ صدیقی کے  بقول:

گوپی چند نارنگ کی تصنیفات


گوپی چند نارنگ کی تصنیفات
گوپی چند نارنگ 11 فروری 1931ء کو ڈکی، زیریں پنجاب میں پیدا ہوئے ۔  پروفیسر گوپی چند نارنگ کو عہد حاضر کا صف اول کا اردو نقاد، محقق اور ادیب مانا جاتا ہے۔ گو کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ دہلی میں مقیم ہیں مگر وہ باقاعدگی سے پاکستان میں اردو ادبی محافل میں شریک ہوتے ہیں جہاں ان کی علمیت کو نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اردو کے جلسوں اور مذاکروں میں شرکت کرنے کے لیے وہ ساری دنیاکا سفر کرتے رہتے ہیں اورانہیں سفیر اردو کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ جہاں انہیں بھارت میں پدم بھوشن کا خطاب مل چکا ہے وہیں انہیں پاکستان میں متعدد انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا ہے۔  وہ بھارت کے سب سے اہم ادبی ادارے ساہتیہ اکادمی کے صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں ۔



Niyaz Ahmad
1991


Waqar-ul-Hasan Siddiqi
2006


Bhartiya Gyanpeeth, New Delhi
2016

ادبی تنقید کے لسانی مضمرات ۔۔۔ مرزا خلیل احمد بیگ (٭)

(۱)

یہ امر محتاجِ دلیل نہیں کہ کسی زبان میں ’تنقید‘ اس وقت معرضِ وجود میں آتی ہے جب اس زبان میں ادب کا فروغ عمل میں آ چکا ہوتا ہے۔ ادب کی تخلیق کے لیے اس کے خالق یعنی مصنف (Author) کا ہونا بھی ضروری ہے۔ مصنف، تخلیق اور تنقید یہ تینوں مل کر ایک مثلث بناتے ہیں۔ مصنف اور تخلیق کے درمیان رشتہ پہلے استوار ہوتا ہے، اور تخلیق کا تنقید (یا نقاد) کے ساتھ رشتہ بعد میں قائم ہوتا ہے۔ تخلیق کلیۃً مصنف کے تابع ہوتی ہے، یعنی کہ جیسا اور جس خیال، نظریے یا طرزِ فکر کا مصنف ہو گا ویسی ہی اس کی تخلیق ہو گی۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ادب اپنے سماج کا آئینہ ہوتا ہے۔ یہ ایک قدیم تصور ہے، اور یہ بات اس لیے درست نہیں کہ سماج خواہ کیسا بھی ہو، ادب ویسا ہی ہو گا جیسا کہ اس کے مصنف کی منشا ہو گی۔ بہت سی باتیں جو سماج میں کہیں نظر نہیں آتیں ، لیکن ادب میں ان کا وجود ہوتا ہے۔ اسی طرح بہت سی باتیں جو سماج کا حصہ ہیں ، ادب میں ان کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے یا سماج کے تابع ہوتا ہے، درست نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مصنف بھی جو سماج کا ایک فرد ہوتا ہے، سماج کے تابع (یا پورے طور پر تابع) نہیں ہوتا۔ وہ کبھی کبھی سماج سے بغاوت بھی کر بیٹھتا ہے، اس کے بنائے ہوئے اصولوں اور قاعدوں کی نفی بھی کرتا ہے، اور اس کے بندھنوں اور پابندیوں کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے، کیوں کہ اس کی اپنی آئیڈیا لوجی ہوتی ہے جواس کی رہبری کرتی ہے۔

ي سیاست، اور اخلاقیات (جس کا مذہب سے گہرا تعلق ہے)، دونوں سماجی ادارے ہیں اور ہر سماج کسی نہ کسی طور پر سیاسی/ مذہبی / اخلاقی بندھنوں میں جکڑا ہوتا ہے۔ مصنف کی آزادانہ روش یا اس کی باغیانہ فکر یا آئیڈیالوجی سماجی اداروں کے نظریات اور ان کے زریں اصولوں کو صد فی صد تسلیم کرنے کی پابند نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض سیاسی وجوہ کی بنا پر پریم چند کے افسانوی مجموعے ’سوزِ وطن‘(۱) کی، اور اخلاقی وجوہ کی بنا پر ایک دوسرے افسانوی مجموعے ’انگارے‘(۲) کی ضبطی عمل میں آئی تھی۔

مغرب کے چند اسلوبیاتی نظریہ ساز- مرزا خلیل احمد بیگ کی کتاب ’تنقید اور اسلوبیاتی تنقید‘ کا ایک حصہ

لسانیات کی روشنی میں ادبی فن پارے کے مطالعے اور تجزیے کو ’اسلوبیات‘ (Stylistics)  کا نام دیا گیا ہے۔ لسانیات زبانوں کے سائنسی مطالعے کا نسبۃً ایک جدید علم ہے۔ اس شعبۂ علم کا اپنا  مخصوص طریقۂ کار ہے جسے بروئے عمل لاتے ہوئے یہ زبانوں کے مطالعے اور تجزیے کا کام انجام دیتا ہے۔ لسانیاتی طریقۂ کار کا اطلاق جب ادب کے مطالعے میں کیا جاتا ہے تو یہ مطالعہ اسلوبیات (Stylistics)  کہلاتا ہے۔ 


اسے اسلوبیاتی تنقید بھی کہتے ہیں۔ اسلوبیات اسلوب کے سائنسی مطالعے کا بھی نام ہے۔ چوں کہ ادب کا ذریعۂ اظہار زبان ہے، اس لیے اسلوب کی تشکیل و تعمیر، زبان کے اشتراک کے بغیر نا ممکن ہے۔ اسی لیے اسلوب کو ادبی فن پارے کی ان لسانی خصوصیات سے تعبیر کیا جاتا ہے جو اسے انفرادیت بخشتی ہیں اور جن کی وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ فلاں مصنف کی تصنیف یا تخلیق ہے۔ زبان کا بنیادی ڈھانچا اگرچہ ایک ہوتا ہے، لیکن زبان کے استعمال کی نوعیت ہر شاعر اور ادیب کے یہاں جداگانہ ہوتی ہے۔ اسی لیے ہر ادبی فن کار کا اسلوب بھی جداگانہ ہوتا ہے اور جب اس کا اسلوب اس درجہ مخصوص ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی پہچان یا شناخت بن جائے تو اسے صاحبِ اسلوب کہا جانے لگتا ہے۔

فرمان فتح پوری کی کتابیں

ڈاکٹر فرمان فتح پوری پاکستان سے تعلق رکھنے والے مصنف، محقق، ماہرِ لسانیات، نقاد، معلم اور مدیر تھے۔ وہ جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے سربراہ اور اردو لغت بورڈ کے مدیر اعلیٰ بھی رہے۔




Progressive Book Club
1993

Maktaba Jamia Limited, New Delhi
1982

اردو املا اور رسم الخط
(اصول و مسائل)
Niyaz Ahmad
1977

Muqtadra Qaumi Zaban,Pakistan
1990

Maktaba-e-Aliya Lahore
1982

Educational Publishing House, Delhi
1994

Majlis-e-Taraqqi-e-Adab, Lahore
1972

Syed Waqar Moin
2004

Anjuman Taraqqi Urdu, Pakistan
1992


Educational Publishing House, Delhi
2013

Bekan Books Multan
1988

Firoz Sons Pvt Ltd Lahore
1988

Anjuman Taraqqi Urdu, Pakistan
1971

Halq-e-Niyaz-o-Nigar, Karachi
1974

Urdu academy Sindh,Karachi
1978


Saiqa Book Depot Delhi
1969

Qamar Kitab Ghar Karachi
1977


Muqtadra Qaumi Zaban,Pakistan
1986

Halq-e-Niyaz-o-Nigar, Karachi
1995

Syed Waqar Moin
2005

Aaina-e-Adab, Lahore
1972

Qamar Kitab Ghar Karachi
1980

Syed Waqar Moin
2009

Izhar sons Urdu Bazar, Lahore
1970

قمر زمانی بیگم
علامہ نیاز فتحپوری کی انوکھی داستان معاشقہ
Urdu academy Sindh,Karachi
1979

میر انیس
(حیات اور شاعری)
Urdu academy Sindh,Karachi
1976

نصف الملاقات
مشاہیر کے خطوط مع سوانحی کوائف
Bekan Books Multan
2005

Qamar Kitab Ghar Karachi
1974

National Book Foundation, Islamabad
1977

National Book Foundation Lahore


ادب کیا ہے؟

ادب کیا ہے؟
یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ’’ادب‘‘ کیا ہے؟ اس کا جواب دینے سے پہلے اگر میں آپ سے یہ سوال کروں کہ ’’زندگی‘‘ کیا ہے تو آپ کے پاس اس کا کیا جواب ہو گا؟ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جو جواب بھی آپ دیں گے وہ جامع نہیں ہو گا، اس میں صرف وہ زاویہ ہو گا جس سے خود آپ نے زندگی کو دیکھا ہے یا دیکھ رہے ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ دوسرا بھی اس سے اتفاق کرے یا آپ کے جواب سے مطمئن ہو جائے۔ یہ سوال بھی کہ ادب کیا ہے، اسی نوعیت کا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ خود ادب بھی ’’زندگی‘‘ کے اظہار کا نام ہے۔ ادب چونکہ لفظوں کی ترتیب و تنظیم سے وجود میں آتا ہے اور ان لفظوں میں جذبہ و فکر بھی شامل ہوتے ہیں اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ لفظوں کے ذریعے جذبے، احساس یا فکر و خیال کے اظہار کو ادب کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی تعریف ہے جس میں کم و بیش ہر وہ بات جس سے کسی جذبے، احساس یا فکر کا اظہار ہوتا ہے اور جو منہ یا قلم سے نکلے، ادب کہلائے گی۔ لیکن میری طرح یہ آپ بھی جانتے ہیں کہ ہر وہ بات جو منہ سے نکلتی ہے یا ہر وہ بات جو قلم سے ادا ہوتی ہے، ادب نہیں ہے۔ عام طور پر اخبار کے کالم یا اداریئے ادب نہیں کہلاتے حالانکہ ان میں الفاظ بھی ہوتے ہیں اور اثر و تاثیر کی قوت بھی ہوتی ہے۔ ہم سب خط لکھتے ہیں لیکن ہمارے خطوط ادب کے ذیل میں نہیں آتے لیکن اس کے برخلاف غالب کے خطوط ادب کے ذیل میں آتے ہیں۔ 

ادب اور تاریخی شعور

ادب اور تاریخی شعور 
(ممتاز نقاد اور شاعر سلیم احمد مرحوم کا ایک غیر مطبوعہ مضمون) 

زندگی میں دو اصول کام کرتے ہیں۔ایک اصول ثبات کا دوسرا اصول تغیر کا۔ ایک اصول سکون کا دوسرا اصول حرکت کا جس طرح حرکت اور تغیر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ تاریخ کا تعلق اصول حرکت سے ہے کیونکہ تاریخ داں کہتے ہیں کسی شے کے ساتھ جو ہورہا ہے اس کی روئداد کو شے جس طرح کچھ بنتی یا بگڑتی ہے وہ اس کی تاریخ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جو چیزیں اصول ثبات سے تعلق رکھتی ہیں ان کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی ہے۔وہ چونکہ ’’ہوتے رہتے‘‘ کے عمل میں گرفتارنہیں ہوتیں اس لیے غیر تاریخی ہوتی ہیں۔ اب جب ہم ادب میں تاریخی شعور کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد ادب میں اس چیز کا شعور ہوتا ہے جو بدلتی رہتی ہے۔ ادب دو چیزوں کا مجموعہ ہے مواد اور ہیٔت ۔ مواد سے مراد ہر وہ چیز ہے جو ادیب کو زندگی کے تجربے، مشاہدہ اور مطالعہ سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ مواد حقیقی ہو یا خیالی‘ ہمیشہ بدلتا رہتا ہے اس لیے اس کی ایک تاریخ ہوتی ہے اس کے برعکس مواد کے مقابلے پر ہیئت اصول ثبات کی نمائندگی کرتی ہی اور مواد کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے وہ مواد کے مقابلے پر غیر تاریخی یا کم تاریخی ہوتی ہے۔ چنانچہ تاریخی شعور کا تعلق ادب کے مواد سے ہے، تاریخی شعو ر کے معنی یہ ہیں کہ ہم یہ جانیں کہ ہمارا مواد ماضی میں کیا تھا اوراب کیا ہے اور ان دونوں کے درمیان کیا تعلق ہے۔ تاریخی شعور ایک طرف لمحہ موجود کا شعور ہے۔ دوسری طرف لمحہ گزشتہ کا اور تیسری طرف ان کے تعلق اور تسلسل کا۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ انفرادی اور اجتماعی طور پر ہم ہمارا ماحول اور ہمارا معاشرہ کیا تھا اور آج کیا ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان کیا رشتہ ہے۔ ادب میں جب تک ہم یہ تاریخی شعور حاصل نہیں کرتے ہمارا شعور یک رخا رہتا ہے یا تو ہم ماضی میں گھرے رہ جاتے ہیں اور ہمیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ہم ہمارا ماحول اور ہمارا تجربہ یعنی ہمارامواد کتنا بدل گیا ہے یا پھر ہم حال میں اسیر ہوجاتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ اس حال کے پیچھے ہمارا ماضی کس طرح برسرِ عمل ہے۔ بالفرض ہم اگر انھیں الگ الگ دیکھ بھی لیں تو ہمیں ان کے تسلسل کا شعور نہیں حاصل ہوتا۔ ہمارے ادب میں قدیم و جدید کے جتنے تنازعے موجود ہیں اور اس سلسلے میں جتنی غلط فکری پائی جاتی ہے وہ اسی تاریخی شعور کے نہ ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ یا تو ہم صرف حال کو دیکھتے ہیں اور ماضی کو نہیں دیکھ سکتے یا صرف ماضی کو دیکھتے ہیں اور حال کو نہیں دیکھ سکتے یا اگر ان دونوں کو دیکھتے ہیں تو ان کے رشتے کو نہیں دیکھ پاتے۔