علوم القرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
علوم القرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

کیا مصنوعی ذہانت(AI) ) دین کی تعبیر کر سکتی ہے؟

ڈاکٹر ابوالبشر احمد طیب

دنیا ایک نئی فکری کروٹ لے رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) نے علم، تحقیق، تدریس اور ابلاغ کے میدان میں حیرت انگیز سہولتیں پیدا کر دی ہیں۔ اب چند لمحوں میں وہ معلومات حاصل ہو جاتی ہیں جن کے لیے پہلے گھنٹوں بلکہ دنوں کی محنت درکار ہوتی تھی۔ لیکن جہاں یہ سہولت ایک نعمت ہے، وہیں دینِ اسلام—خصوصاً قرآنِ مجید—کے فہم و تعبیر کے میدان میں اس کا استعمال ایک نہایت حساس اور سنجیدہ سوال کو جنم دیتا ہے۔

قرآن محض ایک کتاب نہیں، بلکہ وحیِ الٰہی ہے—اللہ کا کلام، جو انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا۔ اس کی تعبیر و تشریح کوئی سادہ علمی عمل نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ فکری و روحانی کاوش ہے، جس کے لیے صدیوں سے مفسرین نے اصول وضع کیے، علومِ قرآن کی بنیاد رکھی، اور اپنی زندگیاں صرف کیں۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ کیا ایک مشینی نظام، جسے انسانوں نے معلومات فراہم کی ہیں، اس مقدس متن کی صحیح تعبیر کر سکتا ہے؟

یہاں اصل نکتہ سمجھنے کا ہے: مصنوعی ذہانت خود کوئی “عالم” نہیں، بلکہ ایک “آلہ” ہے۔ یہ وہی کچھ بیان کرتی ہے جو اسے سکھایا گیا ہو۔ اس کے پاس نہ شعور ہے، نہ فہمِ وحی، نہ تقویٰ، اور نہ وہ ذمہ داری کا وہ احساس جو ایک عالمِ دین کے دل میں ہوتا ہے۔ وہ صرف الفاظ کو جوڑتی ہے، مفاہیم کو ترتیب دیتی ہے، اور دستیاب مواد کی بنیاد پر جواب دیتی ہے۔ مگر دین کا فہم صرف الفاظ کا کھیل نہیں؛ یہ سیاق و سباق، شانِ نزول، لغوی باریکیوں، اور پورے دینی نظام کے تناظر سے جڑا ہوا ہے۔

کوانٹم فزکس اور قرآن مجید : یقین، امکان اور حقیقت کے نئے افق

جدید سائنس نے جب مادّے کی تہہ میں جھانکنا شروع کیا تو وہاں کوئی ٹھوس یقین نہیں، بلکہ امکانات، احتمالات اور غیر یقینی کی ایک حیرت انگیز دنیا آباد ملی۔ کوانٹم فزکس نے انسان کے اس قدیم تصور کو چیلنج کر دیا کہ کائنات ایک سیدھی، سادہ اور مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی مشین ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ ذرّہ کہاں ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کہاں کہاں ہو سکتا ہے۔ یہی نکتہ وہ دروازہ ہے جہاں سے سائنس، فلسفہ اور قرآنی فکر کے درمیان ایک بامعنی مکالمہ شروع ہوتا ہے۔

قرآن انسان کو بار بار اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ حقیقت محض وہ نہیں جو آنکھ دیکھ لے یا ہاتھ چھو لے۔ “وما أوتيتم من العلم إلا قليلا”—تمہیں علم میں سے بہت ہی تھوڑا دیا گیا ہے۔ یہ آیت محض تواضعِ علم کی تلقین نہیں، بلکہ انسانی شعور کی حد بندی کا اعلان ہے۔ کوانٹم فزکس بھی اپنے تمام سائنسی جلال کے باوجود اسی نتیجے پر پہنچتی ہے کہ مشاہدہ کرنے والا خود حقیقت کا حصہ بن جاتا ہے، اور مکمل یقین محض ایک وہم ہے۔

کوانٹم نظریہ کہتا ہے کہ کسی ذرّے کی پوزیشن اور رفتار کو بیک وقت قطعی طور پر نہیں جانا جا سکتا۔ یہ غیر یقینی کوئی تکنیکی کمزوری نہیں، بلکہ فطرت کا بنیادی اصول ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآنی تصورِ تقدیر اور انسانی اختیار ایک نئے مفہوم کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ قرآن انسان کو اختیار دیتا ہے، مگر اس اختیار کو خدا کی مشیت کے دائرے میں رکھتا ہے۔ یوں نہ تو انسان مکمل مجبور ہے اور نہ ہی مکمل مختار—بالکل اسی طرح جیسے کوانٹم ذرّہ نہ مکمل متعین ہے نہ مکمل آزاد۔
کوانٹم فزکس کا ایک اور حیران کن تصور سپرپوزیشن ہے، جس کے مطابق ایک ذرّہ بیک وقت کئی حالتوں میں موجود ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ مشاہدہ اسے ایک حالت پر “منجمد” کر دے۔ قرآن اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے کہ اللہ “کل یومٍ هو في شأن” ہے—ہر آن ایک نئی شان میں ہے۔ کائنات جامد نہیں، مسلسل تخلیق کے عمل میں ہے۔ گویا حقیقت کوئی ایک جامد تصویر نہیں، بلکہ ایک زندہ، متحرک داستان ہے جو ہر لمحہ نئے معنی اختیار کر رہی ہے۔

ڈاکٹر محمد حسان کی شخصیت اور خدمات

تعارف

ڈاکٹر محمد حسان عصرِ حاضر کے ممتاز مصری علماء میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ ایک جید محدث، نامور خطیب، اور موثر مبلغ ہیں، جنہوں نے اپنی خطابت، تدریس، اور علمی کتب کے ذریعے اسلامی تعلیمات کی ترویج کی ہے۔ مصر اور دیگر عرب ممالک میں ان کی علمی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

تعلیم و اساتذہ

محمد حسان نے ابتدائی دینی تعلیم روایتی عربی مدارس سے حاصل کی اور بعد میں جامعہ الازہر میں اپنی علمی پیاس بجھائی۔ انہوں نے معروف محدثین اور علماء سے حدیث، تفسیر، فقہ، اور دیگر اسلامی علوم میں مہارت حاصل کی۔

دعوتی خدمات

ڈاکٹر محمد حسان کی دعوتی خدمات وسیع ہیں۔ انہوں نے مصر سمیت کئی عرب و اسلامی ممالک میں تبلیغی اور اصلاحی خطبات دیے، جن میں قرآن و سنت کی بنیاد پر امت کی اصلاح پر زور دیا جاتا ہے۔ ان کی تقریریں عام فہم اور مدلل ہوتی ہیں، جو عوام و خواص دونوں میں مقبول ہیں۔

تصانیف و علمی کام

ان کے علمی کام میں کئی موضوعات پر تحریریں شامل ہیں، جن میں عقیدہ، فقہ، حدیث، اور اسلامی معاشرت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ان کی تصانیف علمی گہرائی اور استدلال پر مبنی ہوتی ہیں، جو طلبہ علم اور علماء کے لیے نہایت مفید ہیں۔

میڈیا اور خطابت

ڈاکٹر محمد حسان نے جدید میڈیا کو بھی اپنی دعوت کے لیے استعمال کیا۔ وہ مختلف اسلامی ٹی وی چینلز پر پروگرامز کرتے رہے ہیں، جہاں انہوں نے اسلامی تعلیمات کو سادہ اور موثر انداز میں پیش کیا۔ یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر ان کے خطبات لاکھوں افراد دیکھتے اور سنتے ہیں۔

مشکلات و آزمائشیں

اپنی حق گوئی کی وجہ سے انہیں بعض اوقات مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ انہیں مختلف حکومتوں اور اداروں کی طرف سے تنقید اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ ہمیشہ اپنے اصولوں پر قائم رہے اور امت کو اتحاد اور تقویٰ کی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش کی۔

اثر و رسوخ

ڈاکٹر محمد حسان کا اثر عرب دنیا میں بہت گہرا ہے۔ وہ ایک ایسے عالم ہیں جنہوں نے نوجوان نسل کو قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی گزارنے کی ترغیب دی۔ ان کے خطبات اور دروس نے بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا۔

فراہی مکتبہ فکر کورس ( کلاس 12 ) ۔ ڈاکٹر ساجد حمید


 

فراہی مکتبہ فکر کورس (کلاس 11 ) ۔ ڈاکٹر ساجد حمید


 

فراہی مکتبہ فکر کورس (کلاس 10 ) ۔ ڈاکٹر ساجد حمید


 

فراہی مکتبہ فکر کورس ( کلاس 9 ) ۔ ڈاکٹر ساجد حمید


 

فراہی مکتبہ فکر کورس ( کلاس 8 ) ۔ ڈاکٹر ساجد حمید


 

فراہی مکتبہ فکر کورس ( کلاس 7 ) ۔ ڈاکٹر ساجد حمید


 

فراہی مکتبہ فکر کورس ( کلاس 6) ۔ ڈاکٹر ساجد حمید


 

فراہی مکتبہ فکر کورس ( کلاس 5) ۔ ڈاکٹر ساجد حمید


 

فراہی مکتبہ فکرکورس ( کلاس 4 ) ۔ ڈاکٹر ساجد حمید


 

فراہی مکتبہ فکر کورس (کلاس 3) ۔ ڈاکٹر ساجد حمید


 

فراہی مکتبہ فکر کورس (کلاس 2) ۔ ڈاکٹر ساجد حمید


 

مقدرات کے مبنیٰ و معاونین ۔ ساجد حمید

مبنیٰ ۱؂


مقدر مقدمات کا استعمال تمام زبانوں میں سماجی، ذہنی، لسانی اور اخلاقی مبانی پر منحصر رہتے ہوئے ہوتا ہے۔ یعنی مقدرات ہمارے تسلیم شدہ مقدمات پرمبنی ہوتے ہیں۔ مقدرات کے یہ مبنیٰ ہم نے عرض کیا تھا کہ آفاقی (universal) بھی ہوتے ہیں اور علاقائی (local) بھی۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ مقدرات کبھی الل ٹپ نہیں ہوتے، بلکہ وہ ہمارے اکتسابی و جبلی علم و تصورات پر قائم ہوتے ہیں۔ آفاقی تصورات تمام انسانوں کے مشترکہ محسوسات اور مشترکہ جبلی امور پر قائم ہوتے ہیں ۔
مصنف: ساجد حمید

مثلاً، ہماری علمی فطرت میں تقابل و موازنہ ایک عمومی طرز تجزیہ و فکر ہے۔ بلکہ حکما اسے ایک جملے میں یوں بیان کرتے ہیں کہ ’تعرف الأشیاء بأضدادہا‘۔ مردوعورت، زمین وآسمان، ظلمت و نور، گھٹیا و اعلیٰ اسی طرح کے تقابل کا بیان ہیں۔ تقابل کے طریقے کا مطلب یہ ہے کہ دو چیزیں باہم مقابلے و موازنے میں لائی جائیں، خواہ متضاد ہوں خواہ ہم آہنگ۔ مثلاً قلم وقرطاس تحریر کے میدان میں دو ہم آہنگ مقابل ہیں، جب کہ آگ اور پانی عام زندگی میں دو متضاد مقابل ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ ہماری فطرت کا علمی شعبہ دیگرطریقوں کے ساتھ ساتھ موازنے کے طریقے پر بھی چیزوں کو سمجھتا ہے ۔اسی سے زبان و کلام میں تقابل کا اسلوب جنم لیتا ہے۔ہر بولنے والا اس جبلت کے سہارے پر چیزوں کو مقابل میں پیش کرتا اور بلاتبصرہ ہماری جبلت کو دعوتِ موازنہ دے دیتا ہے ۔ اسی طرح تمام مقدرات ایسے ہی مسلّم مقدمات اور طریقوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ غوروفکر کے طریقے کی طرح زبان میں بھی تقابل ایک بین الالسنۃ مانا ہوا لسانی اسلوب ہے۔ صنعتِ تضاد ۲؂ کی اصطلاح اسی طرح کے ایک اسلوب کو بیان کرتی ہے۔

درج ذیل سطور میں ہم قرآن سے چند مثالیں دیکھیں گے اور کوشش کریں گے کہ ان کے اندر کے مقدمات کی لسانی اور علمی و فکری بنیادیں واضح کریں۔
پہلی مثال

قرآن نے کلمۂ طیبہ کو شجرِ طیبہ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے:
کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَا فِی السَّمَآءِ.(ابراہیم ۱۴: ۲۴)
’’شجر طیبہ کے مانند جس کی جڑ — استقرار پائے ہوئے ہے اور جس کی شاخ آسمان میں — ہے۔‘‘

ترجمہ میں خالی جگہوں پر غور کریں۔ جڑیں کہاں استقرار پائے ہوئے ہیں، مذکور نہیں ہے۔ تمام انسان اپنے تجربات سے جانتے ہیں کہ ہر درخت کی جڑیں زمین میں گڑی ہوئی ہوتی ہیں۔یہ آفاقی حسی مشاہدہ ہے جو مقدر کا کردار ادا کررہا ہے۔ لہٰذا اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔دوسری خالی جگہ میں بھی غور کریں کہ درخت کا تنااور شاخیں آسمان میں بلند ہوتی ہیں۔ بالکل معلوم و معروف بات ہے۔ لہٰذا بیان نہیں کیا۔ اب اسی آیت کے مفہوم کو میں یوں لکھوں تو غلط نہیں ہوگا:
شجر طیبہ کے مانند جس کی جڑ زمین میں استقرار پائے ہوئے ہے اورجس کی شاخ آسمان میں اٹھی ہوئی ہے۔

تعددِ معنی اور دلالتِ لسانی ۔ ڈاکٹر ساجد حمید

زبان اپنے معنی کی ادائیگی میں کامیاب ہے یا نہیں ، اس کا فیصلہ عالم عمل میں ہونا چاہیے، نہ کہ مجرد عالمِ عقل میں۔ صدیوں سے ہم افلاطون کے طرزِ فکر کے اسیر ہیں۔اس کا منہج یہ تھا کہ ہماری عقل علم کاماخذِ کُل ہے اورہمارا حسی تجربہ، یعنی ہمارے حواس خطا کار ہیں۔ اس طرز فکر نے صدیوں تک انسان کو علوم میں ترقی سے روکے رکھا۔انسان کی اس طرز فکر میں جو ترقی ہوئی، وہ ایک طرف اہل فلسفہ کی عقلی موشگافیاں تھیں اور دوسری طرف تصوف کی وجدانی خود فریبیاں۔ علم اسی میدان میں پھنسا رہا، اور اقبال کے الفاظ میں اس دانشِ برہانی نے حیرت کے سوا ہمیں کچھ عطا نہیں کیا۔

اس منہج کی تاثیر اور گرفت اتنی زیادہ تھی کہ کوئی حتمی سے حتمی چیز بھی جب اس کے معیار پر پوری نہ اتری تو بے وقعت قرار پائی۔ مثلاً ان کے مطابق وحی محض ظاہریت اورمعیار میں پست ٹھیری، تجربات پر مبنی علم محض دنیوی اور سفلی سے شاید کچھ بڑا درجہ پا کر علم آلی قرار پایا۔ لہٰذا، نہ فہمِ وحی کے لیے ذہین عناصرآگے بڑھے اور نہ مادی علوم کے لیے۔ لہٰذا امت کے بڑے اذہان فلسفہ و تصوف کی بھینٹ چڑھ کر خانقاہوں اور فلسفیانہ مدارس کی روح و رواں بن کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ وحی پر اعتماد کرنے والے بے وزن ٹھیرے۔پھرامام رازی وغیرہ نے وحی کو اس معیار پر پورا دکھانے کے لیے ’’التفسیر الکبیر‘‘ جیسی تفاسیر لکھی۔ بالکل اسی طرح، جس طرح ہمارے عہد میں سرسید وغیرہ نے قرآن کو سائنس کے میعار پر دکھانے کے لیے تفسیر یں لکھیں۔

عقلی منہج اور حقیقتِ واقعہ


افلاطونی طرز فکر کا اصل طریقہ یہ ہے کہ حقائقِ واقعہ (ground realities) سے ہٹ کر خالص ذہنی بنیادوں پر ایک نظریہ بنائیں گے اور پھر اسی کے نتائج و عواقب عقل کی بھٹی سے کشید کرکے دکھائیں گے۔ مثلاً ایک عقلی مقدمہ قائم ہوگا، کہ کوئی چیز عدم سے وجود میں نہیں آسکتی۔تو سوال پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ کہاں سے آئے؟ جواب آیا کہ چیزیں دو قسم کی ہیں: ایک واجب الوجود (necessary being)اور ایک حادث یا ممکن الوجود (contingent)۔ واجب الوجودوہ ہے جو بس از خود ہے ، اس کا کوئی آغاز نہیں ہے اور اس کا وجود ہی حقیقی وجود ہے ۔ ممکن الوجود وہ ہے جو اصلاً نہیں ہے، مگر وجود میں آ سکتا ہے۔ جب یہ عقلی مقدمات مان لیے گئے تو سوال پیدا ہوا کہ کائنات ممکن الوجود ہے کہ واجب الوجود؟ ایک گروہ نے اپنے خیال میں اسے واجب الوجود مانا اور دوسرے نے حادث۔جس نے حادث مانا، اس کے نزدیک یہ حقیقی وجود نہیں تھا۔ لہٰذا ہر چند کہیں کہ ہے ،نہیں ہے کی صورت پیدا ہوگئی۔چنانچہ کائنات کا ہونا محض خواب، واہمہ یا عکس و تجلی قرار پایا، یعنی ایک ٹھوس حقیقی دنیا اس عقلی فریب میں بے وجود قرار پائی۔چنانچہ صدیوں بعد ڈیکارٹ نے منوایا کہ کم از کم اپنے آپ کے ہونے کو تو مانا جائے۔ ڈیکارٹ نے ذاتِ خویش کی موجودگی اندھوں کو نہیں منوائی تھی، بلکہ ان دانا و بینا لوگوں کومنوائی تھی جو فلاسفر کہلاتے اور ذہین ترین عناصر سمجھے جاتے ہیں۔۱؂ اگر آپ اس پر سوال اٹھائیں گے کہ حضور،حقیقت واقعہ تو یہ ہے کہ یہ دنیا موجود ہے، کیا آپ کو دکھائی نہیں دیتی ؟ آپ کس طرح کی باتیں کررہے ہیں! تو یہ افلاطونی طرز کا فلسفی آپ کو ظاہر پرست اور عقلی اعتبار سے پست قرار دے دے گا۔کبھی آپ کو کہے گا کہ یہ حواس کا دھوکا ہے اور کبھی آپ کو کہے گا کہ آپ کی عقل اتنی بالیدہ نہیں ہے کہ ہماری بات سمجھ سکیں، وغیرہ۔ایسا وہ اس لیے کہتے ہیں کہ اپنے عقلی موشگافی کے سوا ان کے پاس ہوتا ہی کیا ہے ۔۲؂

لسانی میدان میں بھی یہی حرکت ہوئی۔ حقیقی دنیا میں اس کی دلالت دیکھنے کے بجاے ، کچھ اسی طرح کے عقلی مقدمات قائم کرلیے گئے۔پھر ان سے کچھ تصورا ت کشید کیے گئے۔ حالاں کہ عملی میدان میں زبان ان نظریات کو ویسے ہی جھٹلاتی ہے، جیسے کائنات کو واہمہ قرار دینے والوں کو کائنات کا وجود جھٹلاتا ہے۔

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں؟ غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے؟
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں؟ ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے؟

غالب کے اشعار کا یہی وہ تحیر ہے جسے اقبال نے حیرت کی فراوانی کہا ہے:

ہے دانش برہانی حیرت کی فروانی

جس طرح وہم کا مریض اپنے وہم کو حقیقی سمجھ رہا ہوتا ہے، بالکل اسی طرح فلسفی اپنے عقلی وہموں کو حق سمجھ رہا ہوتا ہے اور حقیقی باتوں کو وہم۔گویا کچھ لوگوں کی آنکھوں اور حواس کو وہم لاحق ہوتا ہے تو کچھ کی عقلوں کو ۔افلاطون کو لاکھ قائل کرلیں کہ جناب آپ کا عالم امثال آپ کے ذہن کی اختراع ہے اور بس! لیکن وہ اپنے نظریے کوترک نہیں کرے گا، کیونکہ اس کی عقلی تُک بندیوں نے یہی سجھایا ہے۔ وہ عقل کے اس فریب سے باہر نہیں نکلے گا۔ایسے فلسفیوں کو دنیا بھر کی مانی ہوئی موجود چیزیں غیرموجود اور غیر موجود چیزیں موجود لگتی ہیں۔

تعارف ادارہ علوم القرآن شبلی باغ ، علی گڑھ اور مجلہ علوم القرآن ششماہی


ادارہ علوم القرآن


قرآن مجید خالق کائنات کی طرف سے انسانیت کے لیے آخری صحیفہ ہدایت اور رہتی دنیا تک کے لیے رب العالمین کی مرضیات کا ترجمان ہے۔ قرآن کریم کی اس عظمت اور اللہ تعالیٰ کے اس عظیم احسان کی صحیح شکر گذاری کا تقاضا ہے کہ ہماری فکر و نظر کا محور و مرکز یہی کتاب الہی ہو اور عملی زندگی کے ہر گوشہ میں یہ نور مبین ہمارے لیے حقیقی مشعل راہ ہو۔ قرآنی حقائق و معارف سے فیض یاب ہونے اور اس کے متعین کردہ خطوط پر انفرادی و اجتماعی زندگی کی تعمیر کے لیے ناگزیر ہے کہ اس پر غور و فکر کا سلسلہ بغیر کسی انقطاع کے جاری رہے اور اس کی تعلیم و تشریح کا آوازہ برابر بلند ہو تا رہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ مسلمان کسی دور میں بھی اس احساس سے خالی نہیں رہے، لیکن کتاب اللہ کی عظمت اور اس کی اساسی حیثیت کا تقاضا ہے کہ نگاہیں ہر وقت اس کی طرف متوجہ رہیں، مختلف انداز اور مختلف پہلوؤں سے اس سے ربط و تعلق کو ہمیشہ تازہ و استوار رکھا جائے اور قرآنی علوم و معارف کی توسیع و اشاعت کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رہے۔
اس احساس کے پیش نظر اللہ تعالی کی توفیق و مدد سے ۱۹۸۴ میں ادارہ علوم القرآن کا قیام عمل میں آیا۔

ہیڈ آفس کا سنگ بنیاد


ادارہ علوم القرآن کا قیام ۱۹۸۴ میں عمل میں آیا مگر اس وقت ادارہ کے پاس کوئی مستقل عمارت نہیں تھی لہذا ادارہ جزء وقتی طور پر مختلف مقامات پر رہا۔ ادارہ کے دائرہ کار اور اس کے اغراض و مقاصد مستقل اس بات کے متقاضی تھے کہ ادارہ کی کوئی ذاتی عمارت ہو تا کہ یکسوئی کے ساتھ اس کے اغراض و مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے لہٰذا ۲۴ / اکتوبر ۲۰۰۷ کو شیلی باغ، علی گڑھ میں ادارہ علوم القرآن کے ہیڈ آفس کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اور سرسید نگر ، علی گڑھ اس عارضی مقام سے اپنی نئی جگہ پر منتقل ہوا۔

ادارہ کے مقاصد اور دائرہ کار


۱۔  اسلام کے دستور اساسی قرآن کریم کو محور بناکر امت اور انسانیت کو درپیش مسائل کا حل پیش کرنا۔

۲۔  قرآن وسنت کی روشنی میں علوم دینیہ کی تجدید اور علوم جدیدہ کی تطہیر۔

۳۔  قرآن کریم سے متعلق اہم موضوعات پر علمی وتحقیقی کام۔
 

دائرہ کار


۱۔  قرآنی افکار وعلوم کی اشاعت کے لیے ایک معیاری رسالہ کا اجرا ۔

۲۔   قرآنیات سے متعلق اہم موضوعات پر علمی وتحقیقی کتابوں کی تیاری اور اشاعت کا اہتمام۔

۳۔  علوم اسلامیہ بالخصوص قرآنیات سے متعلق ایک وسیع  لائبریری کا قیام۔

۴۔  قرآنیات پر مطالعہ وتحقیق کے لیے طلبہ کی تربیت ونگرانی اور اس مقصد کے حصول کے لیے وظائف ودیگر سہولیات کی فراہمی۔

۵۔  قرآنیات سے متعلق کانفرنس، سیمینار، درس کی مجالس اور مذاکرات کا اہتمام۔

۶۔  علوم اسلامیہ کے مراکز اور ہم مقصد اداروں سے تعاون ورابطہ۔

قرآنیات کی لائبریری

کسی بھی علمی مرکز اور ادارہ کے لیے لائبریری و کتب خانے رگِ جاں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے پیش نظر ادارہ علوم القرآن کے ساتھ ہی اس کی لائبریری کا قیام بھی عمل میں آیا۔ شروع ہی سے یہ کوشش رہی ہے کہ یہ لائبریری قرآنیات کے ساتھ مختص ہو اور اسے قرآنی علوم سے متعلق کتابوں کا ایک ایسا مخزن بنایا جائے جس میں اس اہم موضوع پر مطالعہ و تحقیق کے لیے مختلف زبانوں میں بہترین مواد فراہم ہو سکے اور یہ قرآنیات پر ایک حوالہ (Reference) لائبریری کا کام دے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس جہت میں کوششیں بار آور ہو رہی ہیں۔ اس وقت اس کی لائبریری میں علوم اسلامیہ بالخصوص قرآنیات پر اردو، عربی و انگریزی کتابوں کا اچھا خاصا ذخیرہ دستیاب ہے۔

میراث کے بارے میں قرآن مجید کے اصولی احکام (سورۃ النساء آیات ۱۱۔۱۲ کی روشنی میں )

        1-        اگر میت کے ذمہ قرض ہو تو سب سے پہلے میت کے ترکہ میں سے وہ ادا کیا جائے گا، پھر وصیت پوری کی جائے گی، اور اس کے بعد وراثت تقسیم ہوگی۔  اگر  میت  اپنی وصیت میں کوئی ناجائز کرے، یا اپنے اختیار  کو غلط طور پر اس طرح استعمال کرے جس سے وارثین میں سے کسی کے جائز حقوق متاثر ہوتے ہوں تو اس کے لیے  حکم یہ ہے کہ خاندان کے لوگ باہمی رضامندی سے اس کی اصلاح کرلیں یا قاضی شرعی سے مداخلت کی درخواست کی جائے اور وہ وصیت کو درست کردے۔

       2-         میراث کے معاملہ میں یہ اولین اصولی ہدایت ہے کہ مرد کا حصہ عورت سے دوگنا ہے۔

       3-        اگر   میت کا کوئی بیٹا  نہ ہو بلکہ صرف بیٹیاں  ہوں ، خواہ  دو  بیٹیاں ہوں یا دو سے زیادہ ،  تو میت کے کل ترکہ کے دو تہائی 2/3حصہ ان لڑکیوں میں تقسیم ہوگا، باقی ایک تہائی  1/3 حصہ دوسرے وارثوں میں۔اگر میت کی صرف ایک بیٹی ہو تو اس کو  کل میراث کا آدھا حصہ ملے گا۔  لیکن اگر میت کا صرف ایک بیٹا ہو تو اس پر اجماع ہے کہ دوسرے وارثوں کی غیر موجودگی میں وہ کل مال کا وارث ہوگا، اور دوسرے وارث موجود ہوں تو ان کا حصہ دینے کے بعد باقی سب مال اسے ملے گا۔

       4-         میت  کے والدین میں سے ہر ایک کو  کل میراث کا  چھٹا  1/6 حصہ ملے گا  اگر میت کی کوئی اولاد  ہو ۔ خواہ میت کی وارث صرف بیٹیاں ہوں، یا صرف بیٹے ہوں، یا بیٹے اور بیٹیاں ہوں، یا ایک بیٹا ہو، یا ایک بیٹی۔اور اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو  اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کو  ایک تہائی  1/3 حصہ ملے گا  اور باقی  2/3 حصہ  والد کو ملے گا ۔  ہاں اگر اس کے کئی بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کو چھٹا  1/6 حصہ ملے گا۔  ( بھائی بہن ہونے کی صورت میں ماں کا حصہ 1/3 کے بجائے 1/6 کردیا گیا ہے۔ اس طرح ماں کے حصہ میں سے جو حصہ لیا گیا ہے وہ باپ کو ملے گا۔ کیونکہ اس صورت میں باپ کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ یہ واضح رہے کہ میت کے والدین اگر زندہ ہوں تو اس کے بہن بھائیوں کو حصہ نہیں پہنچتا۔)

       5-        اگر بیوی   فوت ہوجائے خواہ ایک ہو یا ایک سے زیادہ ،   اگر اس کی یا ان کی کوئی اولاد نہ ہو تو شوہر کو آدھا حصہ ملے گا ۔ اگر  بیوی کی کوئی اولاد ہو تو  شوہر کو  میراث کا چوتھا 1/4  حصہ ملے گا ۔  اور اسی طرح اگر شوہر فوت  ہوجائے تو  چوتھا 1/4  حصہ بیوی کو ملے گا  اگر شوہر کی کوئی  اولاد نہ ہو۔ اگر اولاد ہو تو بیوی کو  آٹھواں  1/8حصہ ملے گا ۔ اگر بیوی  ایک سے زیادہ ہوں تو یہ  1/4 یا 1/8 حصہ سب بیویوں میں برابری کے ساتھ تقسیم ہوگا۔

       6-         اگر میت  خواہ مرد ہو یا عورت ایسا ہو کہ نہ اس کے والدین زندہ ہوں اور نہ کوئی اولاد (جس کو کلالہ کہتے ہیں)  اگر اس کا ماں شریک بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک  کو چھٹا 1/6حصہ ملے گا۔  باقی 5/6 یا 2/3جو بچتے ہیں ان میں اگر کوئی  وارث موجود ہو تو اس کو حصہ ملے گا۔ اگر سگے بھائی بہن، یا  وہ سوتیلے بھائی بہن جو باپ کی طرف سے  ہوں،   تو جیسے پہلے ذکر ہوا ہے کہ  اس طرح کے بھائی کو  بہن کے مقابلے  میں دوگنا حصہ ملے گا ۔

اعجازِ قرآن ۔ ایک مختصر جائزہ

محمد حسنین
ماہنامہ الشریعہ 
علوم قرآن کے تمام مباحث پر قرن اول سے اب تک ہر پہلو اور ہر زاویہ سے بحث کی جاتی رہی ہے لیکن پھر بھی ان کا حق ادا نہ ہو سکا اور اب بھی وہ تشنہ معلوم ہوتے ہیں۔ دوسرے مباحث کی طرح ’’اعجاز قرآن‘‘ کا موضوع بھی ابتدا ہی سے زیر بحث رہا ہے۔ اگرچہ ابتدائی صدیوں میں متکلمین کے کلامی مباحث یا مفسرین کی تفسیروں کے ضمن میں اس کا تذکرہ ہوتا تھا، لیکن بہت جلد اس موضوع پر مستقل تالیفات وجود میں آنے لگیں۔ چنانچہ کوئی صدی ایسی نہیں ملتی جس میں اعجاز قرآن کے موضوع پر پائے جانے والے علمی سرمایہ میں اضافہ نہ ہوا ہو۔

اعجاز قرآن کے مسئلہ کو شروع شروع میں مستقل بحث و تحقیق کا موضوع نہیں بنایا گیا، بلکہ اسے دیگر ان مسائل کے ساتھ شامل رکھا گیا جن میں اس زمانے میں زبردست کلامی بحثیں ہوتی تھیں اور ان کے سلسلہ میں اسلامی فرقوں کے درمیان باہم اختلاف تھا، خاص طور پر ان مسائل کے ساتھ جو نبوت اور معجزہ سے متعلق تھے۔ تیسری صدی ہجری میں اسلامی معاشرہ میں اعجاز قرآن کے بارے میں مختلف اقوال تھے جن کی وجہ سے اسلامی فرقوں میں کشمکش کی نازک صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ ہر فرقہ کے لوگ اعجاز قرآن کے بارے میں اپنی رائے کا اثبات اور اپنے مخالفین کی آواز کا ابطال کرتے تھے۔ اس قسم کی کتابوں میں ابن قتیبہ کی ’’تاویل مشکل القرآن‘‘ ابوالحسن اشعری کی ’’مقالات الاسلامیین‘‘ جاحظ کی ’’حجج النبوۃ‘‘ اور ابوالحین خیاط کی ’’الانتصار‘‘ قابل ذکر ہیں۔ ہر صدی میں ’’اعجاز قرآن‘‘ پر لکھی جانے والی تالیفات کے مصنفین نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ اعجاز قرآن پر جو کچھ لکھ رہے ہیں، وہ حرفِ آخر ہے، لیکن اگلی صدی نے ان کے اس دعویٰ پر خط نسخ کھینچ دیا۔

معجزہ
معجزہ کی حقیقت پر بات کرتے ہوئے علامہ جلال الدین السیوطی ؒ المتوفی ۹۱۱ھ ؁ رقمطراز ہیں کہ 

’’اعلم أنَّ المعجزۃ أمر خارق للعادۃ ، مقرون بالتحدی، سالم من المعارضۃ‘‘ ۱؂
ترجمہ’’ معجزہ ایسے خارق عادت امر کو کہتے ہیں جس کے ساتھ تحدی بھی کی گئی ہو اور وہ معارضہ سے سالم رہے۔‘‘
جہاں تک معجزہ کی اقسام کا تعلق ہے حضرات علماء نے اس کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ 

۱۔ حسی معجزہ 

۲۔ عقلی معجزہ

قوم بنی اسرائیل کے اکثر معجزات کا تعلق حسی معجزات سے تھا جس کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ قوم بڑی کند ذہن اور کم فہم تھی جبکہ امت محمدیہ کے زیادہ تر معجزات عقلی ہیں جس کا سبب اس امت کے افراد کی ذکاوت اور ان کے عقل کا کمال ہے اور دوسرا سبب یہ ہے کہ شریعت محمدیہ چونکہ آخری اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، اس لحاظ سے بھی اس کو عقلی معجزہ دیا گیا تاکہ اہل بصیرت اسے ہر وقت اور ہر زمانہ میں دیکھیں۔۲؂