معیشت و تجارت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
معیشت و تجارت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

عظیم سرمایہ کاروں کا فلسفہ: دولت کی تخلیق اور مارکیٹ کی نفسیات

 


دنیا کے عظیم ترین سرمایہ کاروں کی حکمت عملیوں اور ان کے مالیاتی فلسفے پر مبنی ایک جامع مضمون درج ذیل ہے:

اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں جن سرمایہ کاروں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی، ان کے پیچھے محض اتفاق یا خوش قسمتی نہیں، بلکہ ایک گہرا مالیاتی فلسفہ اور نظم و ضبط کارفرما تھا۔ اگر ہم دنیا کے دس مشہور سرمایہ کاروں، جیسے وارن بفٹ، بینجمن گراہم، پیٹر لنچ اور جان بوگل کی حکمت عملیوں کا مجموعی جائزہ لیں، تو چند بنیادی اصول ابھر کر سامنے آتے ہیں جو کسی بھی دور میں سرمایہ کاری کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
1. قدر کی تلاش (Value Investing) اور تحفظ کا مارجن
اسٹاک مارکیٹ کے فلسفے کی سب سے مضبوط بنیاد "ویلیو انویسٹنگ" ہے، جس کے بانی بینجمن گراہم تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اسٹاک محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک زندہ کاروبار کا حصہ ہے۔ ان کا مشہور فلسفہ "Margin of Safety" یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی حصص کو اس کی اصل قیمت (Intrinsic Value) سے بہت کم قیمت پر خریدنا چاہیے تاکہ نقصان کا خطرہ کم سے کم ہو۔ وارن بفٹ نے اسی نظریے کو اپنایا اور یہ ثابت کیا کہ "قیمت وہ ہے جو آپ ادا کرتے ہیں، اور قدر وہ ہے جو آپ حاصل کرتے ہیں۔"

کیا معاشی ترقی دین کے خلاف ہے؟

ہمارے معاشرے میں خصوصاً بعض دیندار حلقوں میں یہ تصور جڑ پکڑ چکا ہے کہ مالی آزادی، معاشی ترقی اور دنیاوی جدوجہد شاید دین کے منافی ہیں، یا کم از کم یہ کہ ان امور میں حد سے زیادہ دلچسپی روحانیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ سوچ بظاہر تقویٰ کے غلبے کا تاثر دیتی ہے، لیکن اگر قرآنِ حکیم کی تعلیمات کو سنجیدگی سے پڑھا جائے تو یہ تصور نہ صرف کمزور بلکہ صریحاً غلط ثابت ہوتا ہے۔

قرآن انسان کو محض عبادت گاہوں تک محدود مخلوق نہیں بناتا، بلکہ اسے زمین پر خلیفہ قرار دیتا ہے۔ خلافت کا مفہوم صرف اخلاقی یا روحانی نہیں بلکہ معاشی، تمدنی اور عملی ذمہ داریوں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماتا ہے:

“هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ”
(الملک: 15)

“وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے تابع بنا دیا، پس اس کے راستوں میں چلو پھرو اور اللہ کا رزق کھاؤ۔”

یہ آیت اس بنیادی حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ رزق کے حصول کے لیے حرکت، جدوجہد اور اسباب اختیار کرنا عین مطلوبِ الٰہی ہے۔ قرآن کسی ایسے تصوف یا دینداری کی تائید نہیں کرتا جو انسان کو دنیا سے کاٹ دے، محنت سے روک دے یا معاشی ذمہ داریوں سے فرار کی ترغیب دے۔

درحقیقت، مالی جدوجہد انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ قرآن کہتا ہے:

“أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ”
(الملک: 22)

یعنی زندگی سیدھے راستے پر توازن کے ساتھ چلنے کا نام ہے، نہ کہ ایک پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز کر دینا۔ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ اسباب کے بغیر زندگی گزار سکتا ہے، وہ دراصل اللہ کے بنائے ہوئے نظامِ اسباب سے بغاوت کرتا ہے۔ دنیا دارالاسباب ہے، اور اس حقیقت کو جھٹلانا تقدس نہیں بلکہ فطرت سے انکار ہے۔

نبی کریم ﷺ کی عملی زندگی بھی اس حقیقت کی سب سے روشن مثال ہے۔ آپ ﷺ نے تجارت کی، صحابہؓ کو محنت کی ترغیب دی، اور یہ اصول دیا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ حضرت عمرؓ کا وہ مشہور قول بھی اسی ذہنیت کی اصلاح کرتا ہے کہ “میں اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں جو دین یا دنیا کے کام میں سست ہو۔”

اصل مسئلہ دولت نہیں، بلکہ دولت کا مقصد ہے۔ اسلام دولت جمع کرنے سے نہیں روکتا، بلکہ اسے ظلم، استحصال، غرور اور غفلت کا ذریعہ بنانے سے روکتا ہے۔ قرآن توازن سکھاتا ہے:

“وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا”
(القصص: 77)

یعنی آخرت کو مقصد بناؤ، مگر دنیا کے حصے کو مت بھولو۔ یہی اسلامی معاشی فکر کا خلاصہ ہے۔

آج امتِ مسلمہ جن بحرانوں سے دوچار ہے، ان میں ایک بڑی وجہ معاشی کمزوری بھی ہے۔ غربت، محتاجی اور مالی انحصار نہ صرف فرد کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں بلکہ اجتماعی سطح پر امت کو دوسروں کا محتاج بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں مالی خود کفالت اور ترقی کو دین کے خلاف سمجھنا ایک فکری خودکشی کے مترادف ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ دیندار ذہن یہ سمجھے کہ حلال ذرائع سے معاشی جدوجہد عبادت کے منافی نہیں بلکہ اس کا تسلسل ہے۔ مضبوط معیشت کے بغیر مضبوط اخلاق، آزاد فکر اور باوقار دین داری کا تصور ادھورا ہے۔

اسلام ہمیں ترکِ دنیا نہیں، تعمیرِ دنیا مع الآخرة سکھاتا ہے۔ یہی توازن اگر دوبارہ زندہ ہو جائے تو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی ایک باوقار، خودمختار اور باعمل مسلم معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔

پاکستان کی معاشی صورتِ حال 2025–2026: استحکام سے پائیدار ترقی تک

( اصلاحات، سرمایہ کاری کے مواقع اور مضبوط معیشت کی جانب سفر)

کسی بھی ملک کی معیشت کی نبض اس کے کاروباری سیکٹرز اور کمپنیوں کی کارکردگی میں دھڑکتی ہے۔ کمپنیاں محض منافع کمانے والے ادارے نہیں ہوتیں؛ وہ روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہیں، ٹیکس ادا کرتی ہیں، اور قومی پیداوار (GDP) میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کی تشکیل، آپریشنل حکمت عملی، اور سرمایہ حاصل کرنے کے طریقے (جیسے شیئرز جاری کرنا اور شیئر ہولڈرز سے سرمایہ حاصل کرنا) معاشی ترقی کے پہیے کو متحرک رکھتے ہیں۔
تاہم، انفرادی کمپنیوں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ، ایک مضبوط معیشت کے لیے حکومت کی جانب سے مؤثر مالیاتی نظم و نسق ضروری ہے۔
مالیاتی پالیسیوں کا کردار
حکومتیں اپنی معیشت کو مالیاتی پالیسی (Fiscal Policy) اور زرِ مالیاتی پالیسی (Monetary Policy) کے ذریعے منظم کرتی ہیں۔ مالیاتی پالیسی حکومت کے محصولات (ٹیکس) اور اخراجات کو کنٹرول کرتی ہے، جبکہ زرِ مالیاتی پالیسی (جس کا انتظام مرکزی بینک کرتا ہے) شرح سود اور پیسوں کی رسد کو سنبھالتی ہے۔ یہ پالیسیاں معیشت میں استحکام لانے، مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

قرآن مجید : جدید معیشت اورتجارت

قرآن کی نظر میں دولت: صرف فتنہ نہیں، بلکہ خیر و فضل بھی ہے ۔

عام مذہبی بیانیے میں دولت کو اکثر روحانیت کے مقابل لا کھڑا کیا جاتا ہے، گویا غربت تقویٰ کی علامت اور خوشحالی دین کے منافی ہو۔ مگر جب ہم قرآن کو براہِ راست پڑھتے ہیں تو ایک بالکل مختلف، متوازن اور حقیقت پسندانہ تصور سامنے آتا ہے۔ قرآن دولت کو نہ صرف انسانی زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت مانتا ہے بلکہ کئی مقامات پر اسے خیر، فضل اور نعمت کے الفاظ سے تعبیر کرتا ہے۔
قرآن مجید اور جدید معیشت وتجارت 

سورۂ جمعہ میں نمازِ جمعہ کے بعد فرمایا جاتا ہے:
“جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو”۔
یہاں “فضل” سے مراد واضح طور پر رزق، تجارت اور معاشی جدوجہد ہے۔ غور کیجیے، قرآن عبادت اور معیشت کو آمنے سامنے نہیں بلکہ ایک ہی نظمِ زندگی کے دو پہلو قرار دیتا ہے۔

اسی طرح سورۂ عادیات میں انسان کی ایک نفسیاتی کمزوری بیان کی گئی ہے:
“اور بے شک وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے”۔
یہاں بھی مال کو گناہ نہیں کہا گیا، بلکہ مال کی محبت میں شدت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ گویا مسئلہ دولت نہیں، بلکہ اس کا دل پر قابض ہو جانا ہے۔

قرآن جگہ جگہ مال کو “خیر” کہتا ہے، جیسا کہ وراثت کے احکام میں:
“اگر وہ کچھ مال (خیر) چھوڑے”۔
یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ قرآن کی نظر میں مال بذاتِ خود شر نہیں بلکہ خیر ہے، بشرطیکہ وہ صحیح طریقے سے حاصل کیا جائے اور درست مصرف میں لایا جائے۔

معاشی جدوجہد کے حوالے سے قرآن کا لہجہ غیر معمولی طور پر مثبت ہے۔ وہ انسان کو زمین میں محنت کرنے، وسائل کو بروئے کار لانے اور رزق تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ تجارت کو ناپسندیدہ مشغلہ نہیں بلکہ ایک فطری اور جائز سرگرمی قرار دیتا ہے، حتیٰ کہ حج جیسے عظیم روحانی عمل کے دوران بھی تجارت کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ دین، زندگی سے فرار نہیں بلکہ زندگی کی تنظیم ہے۔

وارن بفٹ: اپنے شیئر ہولڈز کو 61 لاکھ فیصد منافع دلانے والے ’دنیا کے بڑے سرمایہ کار‘ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

وارن بفٹ
فنانس کی دنیا کے ’لیجنڈ‘ وارن بفٹ 95 سال کی عمر میں ریٹائر ہو گئے ہیں۔

یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس نے صرف 11 سال کی عمر میں پہلی بار سرمایہ کاری کی اور 13 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے تھے۔

وارن بفٹ گذشتہ چھ دہائیوں تک اپنی کمپنی ’برکشائر ہیتھاوے‘ کے سی ای او رہے۔ اور اس دورانیے میں اُن کی اِس کمپنی کے شیئر ہولڈرز نے لگ بھگ 61 لاکھ فیصد منافع کمایا ہے۔

ریاست ’اوماہا‘ میں قائم اپنی کمپنی کے ذریعے انھوں نے امریکہ سمیت دنیا بھر کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی اور آج کی تاریخ میں اس کمپنی کی قدر 10 کھرب ڈالر ہے جبکہ بفٹ کو دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار کیا جاتا ہے۔
فاربز میگزین کی فہرست کے مطابق وہ سنہ 2025 میں دنیا کے چھٹے امیر ترین شخص ہیں جن کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 154 ارب ڈالر بنتی ہے۔

دنیا کے مشہور سرمایہ کاروں کے تجربات اور تجاویز مالیاتی کامیابی کا درست راستہ

سرمایہ کاری محض اعداد و شمار، گراف یا وقتی منافع کا کھیل نہیں بلکہ یہ دراصل سوچ، صبر، نظم و ضبط اور طویل المدتی وژن کا امتحان ہے۔ دنیا کے عظیم سرمایہ کاروں کی زندگیوں اور تجربات کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی مالیاتی کامیابی کسی خفیہ نسخے یا پیچیدہ ریاضیاتی فارمولے کا نتیجہ نہیں، بلکہ چند سادہ مگر مضبوط اصولوں پر مستقل مزاجی سے عمل کرنے کا ثمر ہے۔

وارن بفیٹ (Warren Buffett)، رے ڈالیو (Ray Dalio) اور جان بوگل (John Bogle) جیسے عالمی شہرت یافتہ سرمایہ کار مختلف پس منظر اور حکمتِ عملی کے حامل ہونے کے باوجود کچھ بنیادی اصولوں پر متفق نظر آتے ہیں۔ ان کے تجربات نئے سرمایہ کاروں کے لیے رہنمائی کا چراغ اور تجربہ کار سرمایہ کاروں کے لیے فکری تجدید کا ذریعہ ہیں۔

وارن بفیٹ: قدر، صبر اور فہمِ کاروبار کا امتزاج

وارن بفیٹ، جنہیں دنیا “Oracle of Omaha” کے نام سے جانتی ہے، قدر کی سرمایہ کاری (Value Investing) کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ ان کا فلسفہ اس تصور پر قائم ہے کہ اسٹاک دراصل کسی کاروبار میں شراکت داری ہے، محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں۔
1. طویل مدتی سوچ (Long-Term Vision)

بفیٹ کا مشہور قول ہے:

ٹیکنالوجی کی بلندی اور دولت کا ارتکاز: 2025 کی عالمی معیشت پر چند افراد اور خاندان کا راج

2025 میں عالمی معیشت پر نظر ڈالیں تو ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے: دولت کا ایک بڑا حصہ چند ہاتھوں میں مرتکز ہو چکا ہے۔ بلومبرگ اور فوربز کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، دنیا کے دس امیر ترین افراد کی مجموعی دولت کھربوں ڈالرز میں ہے، اور ان میں سے اکثریت کا تعلق ٹیکنالوجی کی صنعت سے ہے۔ ان افراد کی دولت میں اکثر ان کی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے روزانہ نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

ٹیکنالوجی کا غلبہ:

2025 کی فہرست میں سرفہرست شخصیات میں ٹیکنالوجی سیکٹر کا غلبہ ہے۔ ایلون مسک، جیف بیزوس، مارک زکربرگ، لیری پیج، اور سرگے برن جیسی شخصیات نے اپنی اختراعات اور کاروباری سلطنتوں کے ذریعے بے پناہ دولت کمائی ہے۔ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک ایک بار پھر دنیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز رکھتے ہیں، جن کی دولت کا تخمینہ لگ بھگ 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ ان کی دولت میں اضافہ ٹیسلا کی روبوٹیکسی لانچ کی خبروں اور اسپیس ایکس کی قدر میں اضافے کا نتیجہ ہے۔

پاکستان کے امیر ترین خاندان: 2025 کا معاشی منظرنامہ اور طبقاتی خلیج

پاکستان میں معاشی منظرنامہ 2025 ء کو دیکھتے ہوئے، ایک اہم پہلو جو مسلسل زیر بحث ہے وہ دولت کی تقسیم اور طبقاتی خلیج ہے۔ مختلف معاشی رپورٹس اور تجزیے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کی معاشی ترقی کے ثمرات تمام طبقات تک یکساں طور پر نہیں پہنچ رہے، بلکہ دولت کا ارتکاز چند مخصوص، طاقتور کاروباری خاندانوں کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔
2025  کے معاشی اشاریوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معیشت کے کچھ شعبوں میں نمو دیکھنے میں آئی ہے، لیکن اس نمو کا فائدہ معاشرے کے ایک محدود حصے تک ہی پہنچا ہے۔ اس وقت ملک کی معاشی نبض پر جن افراد اور گروہوں کا کنٹرول نمایاں ہے، ان میں سر انور پرویز (بیسٹ وے گروپ)، میاں محمد منشا (نشاط گروپ)، اور یونس برادرز جیسے نام سرفہرست ہیں۔ یہ گروہ ٹیکسٹائل، سیمنٹ، بینکنگ، اور توانائی جیسے بنیادی شعبوں پر حاوی ہیں۔

دولت کا ارتکاز اور استحکام:

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 2025 کی فہرستوں میں کوئی خاص "نئے" نام شامل نہیں ہوئے ہیں۔ جو لوگ امیر تھے، وہ مزید امیر ہوئے ہیں۔ پرانے اور مسلسل نمایاں رہنے والے خاندانوں میں حبیب فیملی، داؤد فیملی اور سید بابر علی (پیکجز گروپ) شامل ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی نژاد ارب پتی، جیسے شاہد خان (فلیکس-این-گیٹ)، بھی عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مستحکم کیے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے بڑے کاروباری گروپس میں فوجی فاؤنڈیشن سرِفہرست: آخر ان کمپنیوں کی ترقی کا راز کیا ہے؟

تنویر ملک
عہدہ,صحافی
18 اگست 2025

پاکستان میں موجود 40 بڑے کاروباری گروپس کی ایک فہرست تیار کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں معاشی مشکلات کے باوجود ایسی 10 پبلک لسٹڈ کمپنیاں موجود ہیں جن کی مجموعی مالیت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

رواں سال یومِ آزادی کے موقع پر اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ (ای پی بی ڈی) نامی ایک تھنک ٹینک نے ملک کا پہلا ویلتھ پرسیپشن انڈیکس 2025 جاری کیا۔ اس انڈیکس میں پاکستان کے سرکاری و نجی شعبے کے 40 بڑے کاروباری گروپس کی درجہ بندی کی گئی ہے جن میں ملک کے متوقع ڈالروں میں ارب پتی کاروباری گروپ بھی شامل ہیں۔

ای پی بی ڈی کی رپورٹ کے مطابق انڈیکس میں 20 بڑے پبلک لسٹڈ کارپوریٹ گروپس اور 20 نمایاں پرائیویٹ کاروباری گروپس کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ گروپ بینکاری، سیمنٹ، کھاد، مینوفیکچرنگ، رئیل سٹیٹ، ایف ایم سی جی، آئی ٹی اور میڈیا جیسے اہم شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

پاکستان میں تھنک ٹینک کی جانب سے رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ برسوں کے دوران ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

غیر ملکی زر مبادلہ یعنی ڈالر کی کمی، صنعتی و زرعی پیداوار میں گراوٹ اور بجلی و گیس کی زیادہ قیمتوں کی وجہ سے ملک کا صنعتی شعبہ مشکلات کا شکار رہا۔ جبکہ رواں سال مئی کے دوران عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے سات ارب ڈالر قرض پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر قسط کی منظوری دی تھی۔

حکومت کی جانب حالیہ عرصے میں معاشی میدان میں بہتری کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم گذشتہ تین سالوں میں اوسطاً ملکی معاشی ترقی کی شرح 1.5 فیصد کے لگ بھگ رہی ہے۔

سٹاک، میوچوئل فنڈ یا سونا: وہ سرمایہ کاری جو پاکستان میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا خواب ممکن بنا سکتی ہے

عمیر سلیمی
عہدہ,بی بی سی اردو

عارف حبیب حال ہی میں اپنے کنسورشیئم کی طرف سے پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے خریدنے کے بعد شہ سرخیوں میں آئے ہیں مگر ان کے بقول ان کے کیریئر کی ابتدا سکول میں میٹرک کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران 17 سال کی عمر میں ایک بروکر کے طور پر ہوئی تھی جب ان کی تنخواہ صرف 60 روپے تھی۔

وہ مختلف انٹرویوز میں 1971 کے اس زمانے کو یاد کرتے ہوئے اپنے بڑے بھائی کی ایک بات دہراتے ہیں کہ ’سٹاک مارکیٹ کبھی اوپر جاتی ہے اور کبھی نیچے۔ سب سے بڑا فائدہ تو بروکر کو ہوتا ہے۔‘

ان کی کمپنی عارف حبیب لمیٹڈ پاکستان کے بڑے بروکریج ہاؤسز میں سے ایک ہے مگر اس گروپ کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری کئی شعبوں میں پھیلی ہوئی ہے، جیسے سیمنٹ، فرٹیلائزر، سٹیل، ریئل اسٹیٹ وغیرہ۔

اب جب کہ دسمبر 2025 میں 135 ارب ڈالر کی کامیاب بولی لگا کر عارف حبیب کنسورشیئم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص خرید لیے ہیں تو یہ سوال بارہا پوچھا جا رہا ہے کہ آیا یہ سرمایہ کاروں اور حکومت پاکستان دونوں کے لیے ایک اچھی ڈیل ہے۔

خود عارف حبیب اکثر سرمایہ کاری سے متعلق اپنے فلسفے کو کرکٹ کی مثالوں سے سمجھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جو بال سمجھ نہ آئے تو لیو اِٹ۔ اگر سمجھ آئے تو ہِٹ اِٹ۔‘2025 میں پاکستانی سوشل میڈیا پر سرمایہ کاری سے متعلق ویڈیوز کی بھرمار ہے اور اسی دوران ایکس اور ریڈاِٹ پر ایسی کمیونٹیز مقبول ہونے لگی ہیں جو معاشی آزادی اور قبل آز وقت ریٹائرمنٹ سے متعلق معلومات شیئر کرتی ہیں۔

یہ عالمی سطح پر ایک جانا پہچانا نظریہ ہے جو کہتا ہے کہ آپ ہر ماہ اپنی تنخواہ سے زیادہ سے زیادہ پیسے بچائیں، اس سے سرمایہ کاری کریں اور 15، 20 سال میں مالیاتی آزادی حاصل کر کے ریٹائر ہو جائیں۔

سونا، بٹ کوئن اور اصل قدر کا سوال

آج کی دنیا ایک حیران کن دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف قدیم معاشی اقدار کا تسلسل ہے، جن میں سونا، چاندی اور زمین جیسے مادی اثاثے ہمیشہ سے "قدر" کی علامت رہے ہیں۔ دوسری طرف ڈیجیٹل دنیا ایک ایسی نئی کرنسی متعارف کرا رہی ہے جسے نہ چھوا جا سکتا ہے، نہ ذخیرہ کیا جا سکتا ہے، مگر پھر بھی اس کی قیمت آسمان چھو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں اصل "قدر" کا پیمانہ کیا رہا ہے؟ اور اسلام اس سوال کا کیا جواب دیتا ہے؟

قرآن مجید ہمیں اس دنیاوی قدر کی ایک عارضی اور محدود حیثیت یاد دلاتا ہے:

"مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں، اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک بہتر اجر اور امید کا ذریعہ ہیں۔" (الکہف: 46)

یہ آیت ہمیں صاف بتاتی ہے کہ اصل قدر وہ نہیں جو بازار میں بکتی ہے، بلکہ وہ ہے جو دلوں کو جوڑتی، روحوں کو سنوارتی اور انسانیت کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ سونا ہو یا بٹ کوئن، اگر وہ انسان کی فلاح کا ذریعہ نہیں تو وہ محض ایک فانی زینت ہے۔

اسلامی تاریخ میں چاندی (درہم) اور سونا (دینار) کو کرنسی کی شکل میں اپنایا گیا، مگر قرآن نے ان کی محض ذخیرہ اندوزی پر شدید وعید سنائی:

"اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔" (التوبہ: 34)

یہ تنبیہ ہمیں بتاتی ہے کہ دولت خود ایک امتحان ہے، نہ کہ مقصد۔ آج جب بٹ کوئن کو "ڈیجیٹل سونا" کہا جا رہا ہے، تو یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ کیا انسان اب بھی دولت کو فقط ذخیرہ کرنے کی مشین بنا رہے گا، یا اسے فلاحِ عامہ میں استعمال کرنے والا شعور بھی پیدا کرے گا؟

سلاوی ژیژک کے تصورات اور اسلامی نقطۂ نظر

 سلاوی ژیژک (Slavoj Žižek) ایک مشہور فلسفی، ثقافتی نقاد، اور مارکسی مفکر ہیں۔ وہ 21ویں صدی کے اہم ترین فکری شخصیات میں شمار کیے جاتے ہیں، اور ان کی تحریریں اور تقریریں عالمی سطح پر علمی و فکری حلقوں میں اہمیت رکھتی ہیں۔ ژیژک کا تعلق سلووینیا سے ہے، اور ان کی شناخت مارکسی نظریات کے تناظر میں ثقافت، سیاست، نفسیات، اور فلسفہ کے امتزاج سے بنتی ہے۔

ژیژک (Slavoj Žižek)

ژیژک کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ لاسک (Lacanian) نفسیات، ہگلی فلسفہ، اور مارکسزم کے مفاہیم کو آپس میں جوڑ کر موجودہ عالمی مسائل، سیاست، اور ثقافت پر گہری تنقید کرتے ہیں۔ ان کا اسلوب نہ صرف مفہوم کے لحاظ سے پیچیدہ ہے بلکہ وہ اکثر ثقافتی مثالوں، فلموں، اور ادبیات کو اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ژیژک کی تحریریں اور خطابات اکثر عوامی سطح پر مختلف اہم مسائل جیسے کمیونزم، سرمایہ داری، گلوبلائزیشن، اور ثقافتی پس منظر پر روشنی ڈالتی ہیں۔

ژیژک نے اپنے کام میں مابعد جدیدیت کی مخالفت کی ہے اور مادی حقیقت اور طبقاتی جدوجہد پر زور دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ موجودہ دور میں، جہاں فرد کی آزادی اور خودمختاری کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، وہاں سرمایہ داری اور گلوبلائزیشن نے انسانی زندگی کو ایک نئے نوعیت کے استحصال کا شکار بنا دیا ہے۔

اہم تصنیفات:

  • "The Sublime Object of Ideology"

  • "Violence: Six Sideways Reflections"

  • "Living in the End Times"

ژیژک کو ایک فکری چیلنج کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو موجودہ دنیا کے پیچیدہ مسائل اور تضادات کو نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ فلسفے، نفسیات، اور سماجیات کو جوڑ کر عالمی سیاست اور معاشرتی حقیقتوں کی پرتوں کو کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 ذیل میں سلاوی ژیژک (Slavoj Žižek) کے بارے میں  ایک خیالی فکری مکالمہ ترتیب دیا جا رہا ہے،  یہ مکالمہ فکری، فلسفیانہ، اور تہذیبی سوالات پر مبنی ہے۔ 

عنوان : سرمایہ داری، تہذیب اور مستقبل

سوال: ژیژک صاحب، آپ کو ایک "مارکسی تہذیبی نقاد" کہا جاتا ہے، آپ کے نزدیک سرمایہ دارانہ نظام کی سب سے بڑی خامی کیا ہے؟
سلاوی ژیژک:
سرمایہ داری محض ایک معاشی نظام نہیں بلکہ یہ انسانی تعلقات، اخلاقیات اور خوابوں کی تشکیل نو کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ ہر چیز کو بازار میں بیچنے کے قابل بناتا ہے—even our desires. اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان "آزاد" نظر آتا ہے، مگر درحقیقت وہ نظام کی سب سے زیادہ جکڑ میں ہوتا ہے۔

سیور فوڈز: 18 کرسیوں سے شروع ہونے والے راولپنڈی کے معروف ریستوران کی کہانی

عمیر سلیمی
عہدہ,بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
4 اگست 2020

’انگریزی میں بزنس کہتے ہیں، اُردو میں کاروبار۔ مگر پنجابی میں اسے ’کروبار‘ کہتے ہیں۔ کروبار کرنا ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اب کاروبار کے لیے آپ کو گھر سے باہر رہنا پڑے گا۔‘

حاجی محمد نعیم کو شاید زیادہ لوگ نہیں جانتے۔ لیکن ان کا پلاؤ کباب کا کاروبار پاکستان کے جڑواں شہروں میں بہت مقبول ہے۔ سنہ 1988 میں یہ کاروبار ایک چھوٹی سی دکان میں 18 کرسیوں کے ساتھ ’سیور‘ کے نام سے شروع کیا گیا تھا۔

حاجی محمد نعیم کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل گوجرہ کے ایک زمیندار مگر مذہبی گھرانے سے ہے۔ وہ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد کاروبار سے منسلک ہو گئے تھے۔حاجی نعیم کے والد محمد امین وٹرنری ڈاکٹر ہیں۔ وہ تین بیٹوں میں سب سے بڑے ہیں۔

انھیں کاروبار کا شوق تھا تو والد صاحب نے چاول کا کاروبار کرنے کا مشورہ دیا۔ خاندان کے بڑوں نے ریستوران کے شعبے میں جانے کی تجویز دی۔

دنیا کے 10 ’امیر ترین خاندان

بی بی سی اردو ، 18 دسمبر 2024

امریکی ادارے بلوم برگ نے دنیا کے دس امیر ترین خاندانوں کی فہرست جاری کی ہے اور اس برس ایک بار پھر وال مارٹ سُپر مارکیٹ کا مالک والٹن خاندان یہاں سرِفہرست نظر آتا ہے۔

تقریباً چھ دہائیوں قبل سیم والٹن نے پہلی سُپر مارکیٹ کھولی تھی اور آج ان کے خاندان سے منسلک افراد کا تعلق دنیا کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا ہے۔ اس برس ان کی وال مارٹ چین کے شیئرز کی قدر میں 80 فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بلوم برگ کے مطابق وال مارٹ کی ترقی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے اثاثوں کا تحفظ کیا ہے اور ایسے کاروباری معاہدے کیے ہیں جس سے ان کی دولت میں کمی نہ آئے۔

اس فہرست میں مزید خاندانوں کے نام بھی شامل ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ ان لوگوں کے پاس کتنی دولت ہے اور ان کے امیر ہونے کا راز کیا ہے۔

(1) والٹن خاندان


تقریباً چھ دہائیوں قبل سیم والٹن نے پہلی سُپر مارکیٹ کھولی تھی

کُل دولت: 432 ارب ڈالر

ملک: امریکہ

عالمی تنازعات اور اسلحہ سازوں کی ’چاندی‘: وہ کمپنیاں جنھوں نے صرف ایک سال میں 632 ارب ڈالر کمائے



شکیل اختر
عہدہ,بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
دنیا بھر میں جاری تنازعات یوکرین، روس اور اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگوں کا سب سے زیادہ فائدہ اسلحہ بنانے والی امریکی کمپنیوں کو ہوا ہے۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹٹیوٹ (سپری) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سنہ 2023 میں دنیا بھر میں فروخت ہونے والا 50 فیصد جنگی سامان صرف امریکی کمپنیوں نے بنایا تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس امریکی کمپنیوں نے 317 ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے تھے۔

سپری کے مطابق امریکہ کے بعد اس فہرست میں دوسرے نمبر پر چین ہے جس کی کمپنیوں نے گذشتہ برس دنیا بھر میں 130 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کیے۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2023 میں ہتھیار بنانے والی دنیا کی ٹاپ 100 کمپنیوں نے 632 ارب ڈالر کا جنگی ساز و سامان فروخت کیا جو کہ 2022 کے مقابلے میں چار اعشاریہ دو فیصد زیادہ ہے۔

دنیا بھر میں جاری تنازعات کے سبب روس اور اسرائیل میں واقع چھوٹی کمپنیوں کے منافع میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سنیاس سے 10 کروڑ ڈالرسالانہ کی مراقبہ کمپنی تک کا سفر



بی بی سی اردو 
4 اکتوبر 2019
بی بی سی کی ہفتہ وار دی باس سیریز میں دنیا بھر کے مختلف کاروباری لیڈروں کی کہانی پر نظر ڈالی گئی۔ اس میں مراقبے میں مدد دینے والی موبائل ایپ ’ہیڈسپیس‘ کے شریک بانیوں اینڈی پڈیکومب اور رچرڈ پیئرسن سے بھی بات ہوئی۔

اینڈی پڈکومبے کی زندگی کو بالکل نیا رخ المیوں کے ایک سلسلہ نے دیا۔

جب وہ 22 سال کے تھے تو وہ ایک دن لندن کے ایک پب کے باہر کھڑے تھے جب ایک نشے میں دھت ڈرائیور نے ان کے دوستوں پر گاڑی چڑھا دی جس سے ان کے دو دوست ہلاک ہوگئے۔

کچھ ماہ بعد ان کی سوتیلی بہن سائیکلنگ کرتے ہوئے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئیں اور پھر اس کے بعد ان کی ایک سابق گرل فرینڈ سرجری کے دوران ہی چل بسی۔اینڈی اس وقت سپورٹس سائنس کی تعلیم حاصل کر رہے تھے لیکن اس صدمے کی وجہ سے انھوں نے تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔ زندگی میں مکمل تبدیلی لانے کے لیے انھوں نے بدھ راہب بننے کے لیے ہمالیہ کے سفر کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے اگلے دس سال راہب کی حیثیت سے گزارے۔ اس دوران انھوں نے پورے ایشیا کا سفر کیا اور دن میں 16 گھنٹے تک مراقبہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ مراقبے نے انھیں تمام تر حالات سے سمجھوتہ کرنے میں مدد دی ہے۔اب 46 برس کے اینڈی کا کہنا ہے کہ ’اس (مراقبہ) نے میرے نقطہ نظر کو بدل کر رکھ دیا۔ اس نے مجھے اپنے آپ سے توجہ کم کر کے دوسروں کے لیے خوشیوں کا باعث بننا سکھایا۔‘

وہ دور جب ہندوستانی روپے نے خلیجی ریاستوں میں سونے کے سکوں کے مقابلے میں اپنی جگہ بنائی

وقار مصطفیٰ | بی بی سی اردو | 16 جولائی 2024

عربی میں حرف ’پ‘ نہیں، سو ہندوستانی روپے کو تو گھونگھوں سے موتی نکالتے خلیج کے عرب مچھیروں نے روبیا کہہ لیا لیکن اس کا کیا کیجیے کہ برطانوی حکمران کی تصویر والے کاغذ کے اس ٹکڑے میں نہ سونے کے عثمانی سکے جیسی چمک تھی نہ چھونے، گننے اور جمع کر کے رکھنے میں ویسا مزہ اور اعتماد اور بھیگ گیا تو ضائع۔
ہندوستانی روپیہ

موتیوں کے عرب تاجروں کے بیان میں لنڈا شلچر لکھتی ہیں کہ سونے کے سکے نہ صرف زر مبادلہ کا ذریعہ تھے بلکہ دولت اور تحفظ کی علامت بھی تھے۔

’سونے کے سکوں کی گنتی ہوتی اور ہر لین دین میں وزن کیا جاتا، سامان خریدنے سے لے کر قرضوں کے تصفیہ تک۔‘

خلیجی ریاستوں کی معیشتوں کی تبدیلی کا احاطہ کرتی اپنی تحریر میں انتھونی بی ٹوتھ بتاتے ہیں کہ کیسے ابوظہبی کے ایک چھوٹے تجارتی مقام پر احمد نامی تاجر ایک برطانوی افسر سے روپے لینے سے انکار اور سونے کے سکوں پر اصرار کرتے ہیں۔افسر ان کی ہچکچاہٹ کو سمجھتے ہوئے احمد کے سامنے دوسرے تاجروں سے روپے کے بدلے سامان خریدتے ہیں۔

اس مظاہرے سے قائل ہو کر ہی احمد نے کاغذی کرنسی پراعتماد کیا۔

یہی مسئلہ بیسویں صدی کے اوائل میں دبئی کے موتیوں کے ایک تاجرعبداللہ کا بھی تھا، جن کی کہانی ان زبانی روایات میں سے ایک ہے جو دبئی میوزیم آرکائیوز نے جمع کی ہیں۔

عثمانی سونے کے سکوں میں تجارت کرنے کے بعد عبداللہ کو ابتدائی طور پر نئی کاغذی کرنسی ہندوستانی روپے پر شک تھا۔ ایسی ہی ہچکچاہٹ بہت سے اور تاجروں میں بھی تھی جنھیں خدشہ تھا کہ کاغذی کرنسی سونے جیسی قیمتی نہیں۔

ایک دن عبداللہ کو اپنے موتیوں کے بدلے ایک اہم پیشکش ملی لیکن ادائیگی ہندوستانی روپے میں تھی۔ نئی کرنسی کو قبول کرنے یا معاہدہ کھونے کے انتخاب کا سامنا کرتے ہوئے انھوں نے ہچکچاتے ہوئے اس پر اتفاق کر لیا۔ آہستہ آہستہ دوسرے تاجر بھی ان کی پیروی کرنے لگے۔

امریکہ میں ارب پتی اور بااثر افراد کی محفل جہاں مستقبل کی سمت طے ہوتی ہے

بی بی سی اردو | 13 جولائی 2024

سن ویلی امریکہ کا ایک ایسا ’سمر کیمپ‘ ہے جہاں دنیا بھر میں اثر و رسوخ رکھنے والے ارب پتی افراد کی خصوصی ملاقاتیں ہوتی ہیں۔

سن ویلی میں جاری امریکہ کے بااثر کاروباری افراد اور ٹائیکونز کی ملاقاتوں کو ملک کے سیاسی مستقبل کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی صدارتی انتخاب میں صرف چار ماہ باقی رہ گئے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن جہاں بطور صدارتی امیدوار بحث کا موضوع ہیں وہیں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ آخری مباحثے میں ان کی کارکردگی کے بعد یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ارب پتیوں کے سمر کیمپ میں اس مرتبہ موضوعِ گفتگو یہ مباحثہ اور جو بائیڈن ہی ہوں گے۔

ایڈاہو کے ایک ریزورٹ ٹاؤن سن ویلی میں سرمایہ کاری بینک ایلن اینڈ کمپنی کی میزبانی میں منعقد ہونے والے اس کیمپ کا آغاز چار دہائیوں قبل ہوا تھا۔ اسے اشرافیہ کا ایک نجی اجتماع کہا جاتا ہے جس میں حصہ لینے والے تمام افراد سیاسی اثر و رسوخ بھی رکھتے ہیں۔

اس سال ایمیزون کے بانی جیف بیزوس، اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین، ایپل کے سی ای او ٹم کک، ڈزنی کے سی ای او باب ایگر، وارنر برادرز کے سی ای او ڈیوڈ زسلاو، مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس، میڈیا انٹرپرینیور شاری ریڈسٹون سمیت دیگر شخصیات اس میں شرکت کر رہے ہیں۔

بڑے بڑے تجارتی سودوں کا مقام

یہ تمام اشرافیہ سن ویلی اپنے پرائیویٹ جیٹ طیاروں پر آئے ہیں۔

سن ویلی کی سالانہ کانفرنس پہلی بار 1983 میں منعقد کی گئی تھی۔ یہاں نہ صرف بڑے بڑے تجارتی سودے کیے جاتے ہیں بلکہ بڑی بڑی جماعتوں کے رہنما اپنے کاروبار کے ساتھ ساتھ امریکہ کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

کیمپ میں اس بار تفریحی کمپنیوں اور میڈیا گروپس کے سربراہان اور ٹیکنالوجی کے میدان کے با اثر اور طاقتور شخصیات بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

تنخواہ دار طبقے کے نئے مجوزہ سلیبز کیا ہیں؟

رواں مالی سال کی طرح آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی کُل ٹیکس سلیب چھ ہی ہیں تاہم چار سلیبز اور ان کے ریٹس میں تبدیلی کی گئی ہے۔ نئے مجوزہ سلیبز کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
پہلا سلیب: تنخواہ چھ لاکھ روپے سالانہ
دوسراسلیب: تنخواہ چھ لاکھ سے 12 لاکھ سالانہ
تیسرا سلیب: تنخواہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 12-24 لاکھ تھا)
چوتھا سلیب: تنخواہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 24-36 لاکھ تھا)
پانچواں سلیب: تنخواہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 36-60 لاکھ تھا)
چھٹا سلیب: تنخواہ 41 لاکھ سے زیادہ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 60 لاکھ سے زیادہ تنخواہ والے افراد کے لیے تھا)

واضح رہے کہ 30 جون تک رواں مالی سال ہے جبکہ یکم جولائی 2024 سے اگلا مالی سال شروع ہو گا۔

تنخواہوں پر ٹیکس کے نئے ریٹس کیا ہیں؟


تنخواہوں کے نئے سلیب کا جائزہ لینے کے بعد آئیے جانتے ہیں کہ نئے ریٹس کیا ہیں۔ اس سال پانچ سلیبز کے ریٹس میں تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔

پہلے سلیب میں ایسے افراد شامل ہیں جن کی تنخواہ چھ لاکھ روپے سالانہ ہے اور ان پر کوئی انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا.

دوسرا سلیب ایسے افراد کا ہے، جن کی سالانہ آمدن چھ لاکھ سے زیادہ مگر 12 لاکھ تک ہے۔ ایسے افراد کو چھ لاکھ سے زیادہ آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس دینا ہو گا۔ (یہ رواں مالی سال میں ڈھائی فیصد تھا)

تیسرا سلیب سالانہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ کی آمدن والے افراد کے لیے ہے۔ ان کے لیے 30 ہزار فکسڈ ٹیکس ہو گا جبکہ اس کے علاوہ 12 لاکھ سے زائد کی آمدن پر 15 فیصد ٹیکس لگے گا۔ (یہ رواں مالی سال میں 15 ہزار فکسڈ اور 12 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 12.5 فیصد تھا)

چوتھا سلیب ان افراد کے لیے ہے جن کی سالانہ تنخواہ 22 لاکھ سے زیادہ اور 32 لاکھ تک ہے۔ انھیں سالانہ ایک لاکھ 80 ہزار فکسڈ اور 22 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 25 فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ (یہ رواں مالی سال میں ایک لاکھ 65 ہزار فکسڈ اور 24 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 22.5 فیصد تھا)

وہ تین خوبیاں جن کی بدولت لوگوں نے نوکری چھوڑ کر اپنے کاروبار میں کامیابی پائی

 ایون ڈیویز
عہدہ,بی بی سی نیوز
7 جون 2024

کیا آپ مزدوری سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور اپنا کاروبار چلانا چاہتے ہیں؟ ترجیحی طور پر ایک ایسا کاروبار جو آپ کے لیے محض لائف سٹائل سے بڑھ کر کچھ ہو یعنی ایسا کاروبار جسے آپ پائیدار بنا کر فروخت کر سکتے ہوں اور جس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر آپ باقی زندگی گزار سکیں۔

بی بی سی نے ایک سریز ’ایسے فیصلے جن سے میں لیڈر بن گیا‘ کے لیے چھ کامیاب کاروباری شخصیات سے بات کی ہے۔ اگرچہ یہ کسی بھی سروے کے لیے بہت ہی مختصر نمونہ ہے مگر ان انٹرویوز سے ہمیں کچھ دلچسپ معلومات ضرور حاصل ہوتی ہیں۔