دنیا کے عظیم ترین سرمایہ کاروں کی حکمت عملیوں اور ان کے مالیاتی فلسفے پر مبنی ایک جامع مضمون درج ذیل ہے:
" آج دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو اخلاق اور مقاصد زندگی کی ، یہ صرف انبیاء کرام اور آسمانی کتب میں ہیں ۔ آج دنیا کی تعمیر نو صرف اس طرح ممکن ہے کہ جو وسائل و زرائع جدید دور میں انسانوں نے پیدا کرلیے ان کی مدد سے اور انبیاء اور آسمانی کتب میں موجود انسانیت کے اخلاق اور مقاصد زندگی کی مدد سے دنیا کی تعمیر نو کی جائے ۔" (مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ )
دنیا کے عظیم ترین سرمایہ کاروں کی حکمت عملیوں اور ان کے مالیاتی فلسفے پر مبنی ایک جامع مضمون درج ذیل ہے:
![]() |
| قرآن مجید اور جدید معیشت وتجارت |
قرآن مجید ہمیں اس دنیاوی قدر کی ایک عارضی اور محدود حیثیت یاد دلاتا ہے:
"مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں، اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک بہتر اجر اور امید کا ذریعہ ہیں۔" (الکہف: 46)
یہ آیت ہمیں صاف بتاتی ہے کہ اصل قدر وہ نہیں جو بازار میں بکتی ہے، بلکہ وہ ہے جو دلوں کو جوڑتی، روحوں کو سنوارتی اور انسانیت کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ سونا ہو یا بٹ کوئن، اگر وہ انسان کی فلاح کا ذریعہ نہیں تو وہ محض ایک فانی زینت ہے۔
اسلامی تاریخ میں چاندی (درہم) اور سونا (دینار) کو کرنسی کی شکل میں اپنایا گیا، مگر قرآن نے ان کی محض ذخیرہ اندوزی پر شدید وعید سنائی:
"اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔" (التوبہ: 34)
یہ تنبیہ ہمیں بتاتی ہے کہ دولت خود ایک امتحان ہے، نہ کہ مقصد۔ آج جب بٹ کوئن کو "ڈیجیٹل سونا" کہا جا رہا ہے، تو یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ کیا انسان اب بھی دولت کو فقط ذخیرہ کرنے کی مشین بنا رہے گا، یا اسے فلاحِ عامہ میں استعمال کرنے والا شعور بھی پیدا کرے گا؟
سلاوی ژیژک (Slavoj Žižek) ایک مشہور فلسفی، ثقافتی نقاد، اور مارکسی مفکر ہیں۔ وہ 21ویں صدی کے اہم ترین فکری شخصیات میں شمار کیے جاتے ہیں، اور ان کی تحریریں اور تقریریں عالمی سطح پر علمی و فکری حلقوں میں اہمیت رکھتی ہیں۔ ژیژک کا تعلق سلووینیا سے ہے، اور ان کی شناخت مارکسی نظریات کے تناظر میں ثقافت، سیاست، نفسیات، اور فلسفہ کے امتزاج سے بنتی ہے۔
![]() |
| ژیژک (Slavoj Žižek) |
ژیژک کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ لاسک (Lacanian) نفسیات، ہگلی فلسفہ، اور مارکسزم کے مفاہیم کو آپس میں جوڑ کر موجودہ عالمی مسائل، سیاست، اور ثقافت پر گہری تنقید کرتے ہیں۔ ان کا اسلوب نہ صرف مفہوم کے لحاظ سے پیچیدہ ہے بلکہ وہ اکثر ثقافتی مثالوں، فلموں، اور ادبیات کو اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ژیژک کی تحریریں اور خطابات اکثر عوامی سطح پر مختلف اہم مسائل جیسے کمیونزم، سرمایہ داری، گلوبلائزیشن، اور ثقافتی پس منظر پر روشنی ڈالتی ہیں۔
ژیژک نے اپنے کام میں مابعد جدیدیت کی مخالفت کی ہے اور مادی حقیقت اور طبقاتی جدوجہد پر زور دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ موجودہ دور میں، جہاں فرد کی آزادی اور خودمختاری کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، وہاں سرمایہ داری اور گلوبلائزیشن نے انسانی زندگی کو ایک نئے نوعیت کے استحصال کا شکار بنا دیا ہے۔
"The Sublime Object of Ideology"
"Violence: Six Sideways Reflections"
"Living in the End Times"
ژیژک کو ایک فکری چیلنج کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو موجودہ دنیا کے پیچیدہ مسائل اور تضادات کو نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ فلسفے، نفسیات، اور سماجیات کو جوڑ کر عالمی سیاست اور معاشرتی حقیقتوں کی پرتوں کو کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ذیل میں سلاوی ژیژک (Slavoj Žižek) کے بارے میں ایک خیالی فکری مکالمہ ترتیب دیا جا رہا ہے، یہ مکالمہ فکری، فلسفیانہ، اور تہذیبی سوالات پر مبنی ہے۔
سوال: ژیژک صاحب، آپ کو ایک "مارکسی تہذیبی نقاد" کہا جاتا ہے، آپ کے نزدیک سرمایہ دارانہ نظام کی سب سے بڑی خامی کیا ہے؟
سلاوی ژیژک:
سرمایہ داری محض ایک معاشی نظام نہیں بلکہ یہ انسانی تعلقات، اخلاقیات اور خوابوں کی تشکیل نو کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ ہر چیز کو بازار میں بیچنے کے قابل بناتا ہے—even our desires. اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان "آزاد" نظر آتا ہے، مگر درحقیقت وہ نظام کی سب سے زیادہ جکڑ میں ہوتا ہے۔
![]() |
| ہندوستانی روپیہ |