15 جولائی 2016 ترکی کی جدید سیاسی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس رات فوج کے ایک دھڑے نے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی، مگر چند ہی گھنٹوں میں یہ بغاوت ناکام بنا دی گئی۔ اگرچہ یہ واقعہ مختصر دورانیے کا تھا، لیکن اس کے اثرات نے ترکی کے سیاسی، آئینی، عسکری، عدالتی اور خارجہ پالیسی کے ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ اس کے بعد ترکی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوا جہاں ریاستی سلامتی، مضبوط صدارتی نظام اور قومی خودمختاری کو حکومتی پالیسی کا بنیادی محور بنا دیا گیا، جبکہ ناقدین کے نزدیک اسی عرصے میں جمہوری اداروں، شہری آزادیوں اور سیاسی توازن کو شدید نقصان پہنچا۔
ناکام فوجی بغاوت: ایک غیر معمولی واقعہ
ترکی کی تاریخ فوجی مداخلتوں سے خالی نہیں۔ 1960، 1971، 1980 اور بعد کے ادوار میں فوج کئی مرتبہ سیاست میں مداخلت کر چکی تھی، لیکن 15 جولائی 2016 کا واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد تھا۔ پہلی مرتبہ ترک پارلیمنٹ پر فضائی حملہ کیا گیا، استنبول اور انقرہ کی سڑکوں پر ٹینک نمودار ہوئے، جنگی طیاروں نے نچلی پروازیں کیں اور ریاستی اداروں پر قبضے کی کوشش کی گئی۔
صدر رجب طیب اردوغان نے ایک موبائل فون کے ذریعے براہِ راست ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی۔ مساجد سے بھی عوام کو مزاحمت کے لیے پکارا گیا۔ نتیجتاً ہزاروں شہری فوجی بغاوت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور صبح تک بغاوت ناکام ہو گئی۔ اس واقعے میں دو سو سے زائد افراد جان سے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
ریاستی تطہیر اور ادارہ جاتی تبدیلیاں
حکومت نے اس بغاوت کا ذمہ دار امریکہ میں مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گولن اور ان کے نیٹ ورک کو قرار دیا، جبکہ گولن نے اپنی زندگی بھر اس الزام کی تردید کی۔
بغاوت کے فوراً بعد ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی، جو تقریباً دو سال تک برقرار رہی۔ اس دوران جدید ترک تاریخ کی سب سے بڑی سرکاری تطہیر (Purge) عمل میں آئی۔ ہزاروں فوجی افسران، جج، سرکاری وکیل، پولیس افسران، اساتذہ، جامعات کے اساتذہ اور سرکاری ملازمین کو گرفتار، معطل یا ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا۔ اسی طرح گولن تحریک سے منسلک سمجھے جانے والے سیکڑوں تعلیمی ادارے، جامعات، فلاحی تنظیمیں اور میڈیا ادارے بند کر دیے گئے۔
حکومت کے نزدیک یہ اقدامات ریاستی اداروں کو ایک خفیہ نیٹ ورک سے پاک کرنے کے لیے ناگزیر تھے، جبکہ مخالفین کے مطابق یہ کارروائیاں صرف بغاوت میں ملوث افراد تک محدود نہ رہیں بلکہ اختلافِ رائے رکھنے والے وسیع حلقے کو بھی ان کا نشانہ بنایا گیا۔
صدارتی نظام اور اختیارات کا ارتکاز
2017 کے آئینی ریفرنڈم نے ترکی کے سیاسی نظام کو یکسر تبدیل کر دیا۔ پارلیمانی نظام ختم کر کے صدارتی نظام نافذ کیا گیا، وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر دیا گیا اور انتظامی اختیارات براہِ راست صدر کے پاس منتقل ہو گئے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس تبدیلی سے سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ ہوا، فیصلہ سازی میں تیزی آئی اور ریاستی نظم و نسق زیادہ مؤثر ہوا۔ اس کے برعکس ناقدین کا خیال ہے کہ اس نظام نے ریاست کے مختلف ستونوں کے درمیان طاقت کا توازن کمزور کر دیا اور اختیارات ایک ہی شخصیت کے گرد مرتکز ہو گئے۔
جمہوری اداروں اور شہری آزادیوں پر بحث
ناکام بغاوت کے بعد ترکی میں عدلیہ، میڈیا اور سیاسی آزادیوں کے حوالے سے عالمی سطح پر مسلسل بحث جاری رہی۔ ہزاروں ججوں اور پراسیکیوٹرز کی برطرفی کے بعد عدلیہ کی خودمختاری پر سوالات اٹھائے گئے۔ اسی طرح عوامی اجتماعات، احتجاجی مظاہروں اور سیاسی سرگرمیوں پر مختلف اوقات میں پابندیاں عائد کی جاتی رہیں۔
صحافت بھی اس دور میں نمایاں دباؤ کا شکار رہی۔ متعدد صحافیوں اور میڈیا اداروں کے خلاف مقدمات قائم ہوئے جبکہ حکومت پر میڈیا کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کے الزامات لگتے رہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے بھی کئی معاملات عالمی توجہ کا مرکز بنے، جن میں سیاست دانوں، صحافیوں، فنکاروں اور مزاح نگاروں کے خلاف قانونی کارروائیاں شامل ہیں۔
دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ یہ تمام اقدامات قومی سلامتی، آئینی نظام کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا لازمی حصہ تھے۔
اپوزیشن اور سیاسی کشمکش
2016 کے بعد ترکی کی سیاست میں حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی گئی۔ اپوزیشن رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ ریاستی ادارے سیاسی عمل میں مداخلت کر رہے ہیں، جبکہ حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
استنبول کے مقبول میئر اکرم امام اوغلو کے خلاف قانونی کارروائیاں اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اندر عدالتی مداخلت جیسے واقعات نے اس سیاسی تناؤ کو مزید نمایاں کیا۔ ان معاملات پر ترکی کے اندر اور بیرونِ ملک مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
فوج کا بدلتا ہوا کردار
ترکی کی جدید تاریخ میں فوج خود کو سیکولر جمہوریہ کی محافظ تصور کرتی رہی ہے اور کئی مرتبہ براہِ راست اقتدار سنبھال چکی ہے۔ تاہم 2016 کے بعد عسکری اداروں کی تنظیم نو کی گئی۔ فوجی اکیڈمیوں اور ہسپتالوں کو ازسرِ نو منظم کیا گیا، کمان کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کی گئیں اور فوج پر سویلین حکومت کا کنٹرول مزید مضبوط بنایا گیا۔
بیشتر مبصرین کا خیال ہے کہ ان اصلاحات کے بعد ترکی میں فوجی بغاوت کا امکان ماضی کی نسبت بہت کم ہو گیا ہے اور سیاست میں فوج کے براہِ راست کردار کا عملاً خاتمہ ہو چکا ہے۔
خارجہ پالیسی کا نیا رخ
بغاوت کے بعد ترکی کی خارجہ پالیسی بھی نمایاں طور پر تبدیل ہوئی۔ شام میں سرحد پار فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا اور قومی سلامتی کو خارجہ حکمتِ عملی کا بنیادی ستون بنا دیا گیا۔
اسی دوران ترکی نے ایک طرف نیٹو کی رکنیت برقرار رکھی، دوسری طرف روس کے ساتھ بھی دفاعی تعاون بڑھایا۔ روس سے ایس-400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری نے امریکہ اور ترکی کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا کیا، جس کے نتیجے میں امریکہ نے ترکی کو ایف-35 پروگرام سے خارج کر دیا اور پابندیاں عائد کیں۔
دوسری طرف یورپی یونین کی رکنیت کے لیے جاری مذاکرات بھی عملی طور پر تعطل کا شکار ہو گئے، جس سے ترکی کی مغرب کے ساتھ روایتی وابستگی نسبتاً کمزور ہوئی اور اس نے زیادہ خودمختار اور متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
مجموعی جائزہ
15 جولائی 2016 کی ناکام فوجی بغاوت صرف ایک عسکری واقعہ نہیں تھی بلکہ اس نے ترکی کی ریاستی ساخت کو نئی شکل دی۔ ایک طرف حکومت نے ریاستی سلامتی، سیاسی استحکام اور سویلین بالادستی کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع اصلاحات نافذ کیں، جبکہ دوسری طرف ناقدین کے مطابق انہی اقدامات کے نتیجے میں اختیارات کا غیر معمولی ارتکاز، عدالتی آزادی کی کمزوری، میڈیا پر دباؤ اور سیاسی مخالفین کے لیے محدود ہوتی ہوئی سیاسی گنجائش جیسے مسائل پیدا ہوئے۔
یوں ایک دہائی بعد بھی 15 جولائی 2016 کا واقعہ ترکی کی سیاست، جمہوریت، ریاستی اداروں اور خارجہ پالیسی کو سمجھنے کی کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف ایک فوجی بغاوت کو ناکام بنایا بلکہ ترکی کو ایک ایسے نئے سیاسی دور میں داخل کیا جس کے اثرات آج بھی اس کے داخلی اور بین الاقوامی کردار پر نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔
