عالمی بحران لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
عالمی بحران لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

آبنائے ہرمز: طاقت کا مظاہرہ یا عالمی توازن کا امتحان


آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست اور بین الاقوامی کشیدگی کے مرکز میں آ کھڑی ہوئی ہے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حساس سمندری گزرگاہ میں جنگی مشقیں کی جائیں گی۔ اسی تناظر میں عالمی خبر رساں اداروں نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ایران نے شپنگ کمپنیوں کو باضابطہ نوٹس جاری کر کے آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیاں متوقع ہیں۔ اگرچہ بعض غیر مصدقہ ذرائع روس اور چین کی ممکنہ شمولیت کا ذکر کر رہے ہیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس کی تاحال کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس خاموشی نے خود اس اعلان کو مزید معنی خیز بنا دیا ہے۔

یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکہ کے تعلقات ایک بار پھر شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ جوہری معاہدے کے تعطل، امریکی پابندیوں، خطے میں امریکی بحری موجودگی اور اسرائیل-غزہ جنگ کے اثرات نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نازک مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے خلیج اور اس کے اطراف میں بحری بیڑوں کی موجودگی ایران کے لیے محض ایک عسکری چیلنج نہیں بلکہ ایک مسلسل سیاسی دباؤ بھی ہے۔ ایسے ماحول میں آبنائے ہرمز میں جنگی مشقوں کا اعلان دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے کے مقابلے کے لیے تیار ہے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو آمادہ نہیں۔

نئے عالمی اتحاد اور امریکی پسپائی


بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بڑی طاقتوں کے فیصلے محض وقتی ردِعمل نہیں ہوتے، بلکہ وہ ماضی کے تجربات اور مستقبل کے خدشات کے امتزاج سے جنم لیتے ہیں۔ آج عالمی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکہ، جو کبھی واحد سپر پاور کے طور پر دنیا کی سمت متعین کرتا تھا، اب اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کر رہا ہے۔ دوسری جانب چین، روس، یورپی یونین، ہندوستان اور متعدد علاقائی قوتیں ایک نئے کثیر قطبی نظام کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔

یہ کہنا سادہ لوحی ہوگا کہ امریکہ عالمی سیاست سے مکمل طور پر دستبردار ہو رہا ہے۔ درحقیقت ماہرین کے مطابق یہ ایک اسٹریٹجک ری ایڈجسٹمنٹ ہے، نہ کہ مکمل انخلا۔

معاشی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ امریکہ کو چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے صنعتی اور تکنیکی اثر و رسوخ کا سامنا ہے۔ اس چیلنج کے پیشِ نظر امریکی پالیسی ساز اب بیرونی مداخلت کے بجائے انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور مینوفیکچرنگ کی بحالی کو قومی سلامتی سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

نیکی کا معیار اور مسلم دنیا کی گمشدہ روح

سورۃ البقرہ کی آیت 177 قرآن مجید کی اُن جامع ترین آیات میں سے ہے جو دین کو محض عبادات، ظاہری علامات اور سمتوں تک محدود کرنے کے بجائے ایک مکمل فکری، اخلاقی، سماجی اور معاشی نظام کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ آیت اُس پس منظر میں نازل ہوئی جب قبلہ کی تبدیلی کو بنیاد بنا کر دین کی اصل روح کو پس منظر میں دھکیلا جا رہا تھا۔ قرآن نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ نیکی مشرق و مغرب کی طرف رخ کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ، آخرت، وحی اور نبوت پر ایمان، اس ایمان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سماجی احساس، مالی ایثار، اخلاقی دیانت اور مشکل حالات میں ثابت قدمی کا نام ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے آج کی مسلم دنیا کا بحران سمجھ میں آتا ہے۔

آج کی مسلم ریاستیں کاغذوں میں اسلامی ہیں، آئین میں اسلام درج ہے، جمعے کی تعطیل ہے، مساجد آباد ہیں، مگر ریاستی سطح پر عدل ناپید، امانت مفقود اور جواب دہی کا تصور کمزور ہے۔ اقتدار کو غنیمت، وسائل کو ذاتی ملکیت اور عوام کو محض رعایا سمجھا جاتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمان محض عقیدہ نہیں بلکہ وہ اخلاقی قوت ہے جو حکمران کو ظالم بننے سے روکتی ہے، اداروں کو دیانت سکھاتی ہے اور ریاست کو عوام کی خدمت پر مجبور کرتی ہے۔ جہاں عدل نہ ہو وہاں قبلہ درست ہونے کے باوجود نیکی کا دعویٰ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔

اسی آیت میں نیکی کا دوسرا بڑا معیار مال کا درست مصرف ہے۔ قرآن رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور محروم طبقات کا ذکر کر کے دراصل ایک معاشی فلسفہ پیش کرتا ہے، جس کی بنیاد دولت کی گردش اور سماجی توازن پر ہے۔ مگر آج مسلم معاشروں میں دولت چند خاندانوں اور طبقوں میں سمٹ چکی ہے، جبکہ اکثریت مہنگائی، بے روزگاری اور قرض کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ زکوٰۃ موجود ہے مگر نظام نہیں، صدقات ہیں مگر ریاستی سطح پر سماجی انصاف کا کوئی مضبوط ڈھانچہ نظر نہیں آتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ عبادت گاہوں کے سائے میں بھوک، افلاس اور محرومی پل رہی ہے، جو قرآن کے تصورِ نیکی سے صریح انحراف ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم (WEF) 2026: مکالمے کی روح یا عالمی تضادات کی نمائش؟

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں 19 سے 23 جنوری 2026 تک منعقد ہونے والا ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کا 56 واں سالانہ اجلاس بظاہر ایک نہایت خوش آئند نعرے—“مکالمے کی روح” (A Spirit of Dialogue)—کے ساتھ عالمی رہنماؤں، کارپوریٹ ایگزیکٹوز اور پالیسی سازوں کو ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ عالمی حالات میں یہ روح واقعی سانس لے سکتی ہے، یا یہ محض ایک خوش نما تصور بن کر رہ گئی ہے؟

دنیا اس وقت جس شدت کے سیاسی، عسکری اور معاشی خلفشار سے گزر رہی ہے، اس کے تناظر میں ڈیووس کے بلند بانگ مقاصد حقیقت سے زیادہ خواہشات کا عکس دکھائی دیتے ہیں۔

فورم کے پروگرام کو پانچ بڑے عالمی چیلنجوں کے گرد ترتیب دیا گیا، جن میں بلاشبہ انسانی مستقبل سے جڑے بنیادی سوالات شامل تھے۔

جغرافیائی کشیدگی کے باوجود تعاون، معاشی ترقی کے نئے ذرائع، انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیز کا ذمہ دارانہ استعمال، اور ماحولیاتی حدود کے اندر خوشحالی—یہ سب ایسے موضوعات ہیں جن پر عالمی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔

کوانٹم کمپیوٹنگ: سہولت، طاقت اور خدشات کا نیا دور

انسانی تاریخ میں ہر بڑی ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بھی بنایا اور خطرناک بھی۔ بھاپ کے انجن سے لے کر ایٹمی توانائی تک، ہر ایجاد نے ترقی کے ساتھ تباہی کے امکانات بھی پیدا کیے۔ آج کوانٹم کمپیوٹنگ اسی سلسلے کی ایک نئی اور کہیں زیادہ طاقتور کڑی کے طور پر ابھر رہی ہے۔ بظاہر یہ ٹیکنالوجی بیماریوں کے علاج، موسم کی پیش گوئی اور معاشی منصوبہ بندی میں انقلاب لا سکتی ہے، مگر اس کے سائے میں کچھ ایسے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں جو مستقبل کے نظامِ زندگی، بالخصوص مالیاتی نظام اور انسانی پرائیویسی کے لیے سنجیدہ خطرات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

کوانٹم کمپیوٹر کی اصل طاقت اس کی غیر معمولی حسابی رفتار ہے۔ جو کام آج کے سپر کمپیوٹرز کو ہزاروں سال میں ممکن ہیں، وہ کوانٹم مشینیں چند منٹوں یا گھنٹوں میں انجام دے سکتی ہیں۔ یہی طاقت مالیاتی نظام کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ دنیا کا موجودہ بینکاری اور ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام خفیہ کاری (Encryption) پر قائم ہے۔ یہ خفیہ کاری اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ بعض ریاضیاتی مسائل کو حل کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ لیکن کوانٹم الگورتھمز، خصوصاً بڑے نمبرز کو توڑنے کی صلاحیت، اس مفروضے کو متزلزل کر رہے ہیں۔ اگر کوانٹم کمپیوٹرز عام ہو گئے تو بینک اکاؤنٹس، کریڈٹ کارڈز اور حتیٰ کہ ریاستی مالیاتی خزانے بھی غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔

سلاوی ژیژک کے تصورات اور اسلامی نقطۂ نظر

 سلاوی ژیژک (Slavoj Žižek) ایک مشہور فلسفی، ثقافتی نقاد، اور مارکسی مفکر ہیں۔ وہ 21ویں صدی کے اہم ترین فکری شخصیات میں شمار کیے جاتے ہیں، اور ان کی تحریریں اور تقریریں عالمی سطح پر علمی و فکری حلقوں میں اہمیت رکھتی ہیں۔ ژیژک کا تعلق سلووینیا سے ہے، اور ان کی شناخت مارکسی نظریات کے تناظر میں ثقافت، سیاست، نفسیات، اور فلسفہ کے امتزاج سے بنتی ہے۔

ژیژک (Slavoj Žižek)

ژیژک کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ لاسک (Lacanian) نفسیات، ہگلی فلسفہ، اور مارکسزم کے مفاہیم کو آپس میں جوڑ کر موجودہ عالمی مسائل، سیاست، اور ثقافت پر گہری تنقید کرتے ہیں۔ ان کا اسلوب نہ صرف مفہوم کے لحاظ سے پیچیدہ ہے بلکہ وہ اکثر ثقافتی مثالوں، فلموں، اور ادبیات کو اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ژیژک کی تحریریں اور خطابات اکثر عوامی سطح پر مختلف اہم مسائل جیسے کمیونزم، سرمایہ داری، گلوبلائزیشن، اور ثقافتی پس منظر پر روشنی ڈالتی ہیں۔

ژیژک نے اپنے کام میں مابعد جدیدیت کی مخالفت کی ہے اور مادی حقیقت اور طبقاتی جدوجہد پر زور دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ موجودہ دور میں، جہاں فرد کی آزادی اور خودمختاری کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، وہاں سرمایہ داری اور گلوبلائزیشن نے انسانی زندگی کو ایک نئے نوعیت کے استحصال کا شکار بنا دیا ہے۔

اہم تصنیفات:

  • "The Sublime Object of Ideology"

  • "Violence: Six Sideways Reflections"

  • "Living in the End Times"

ژیژک کو ایک فکری چیلنج کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو موجودہ دنیا کے پیچیدہ مسائل اور تضادات کو نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ فلسفے، نفسیات، اور سماجیات کو جوڑ کر عالمی سیاست اور معاشرتی حقیقتوں کی پرتوں کو کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 ذیل میں سلاوی ژیژک (Slavoj Žižek) کے بارے میں  ایک خیالی فکری مکالمہ ترتیب دیا جا رہا ہے،  یہ مکالمہ فکری، فلسفیانہ، اور تہذیبی سوالات پر مبنی ہے۔ 

عنوان : سرمایہ داری، تہذیب اور مستقبل

سوال: ژیژک صاحب، آپ کو ایک "مارکسی تہذیبی نقاد" کہا جاتا ہے، آپ کے نزدیک سرمایہ دارانہ نظام کی سب سے بڑی خامی کیا ہے؟
سلاوی ژیژک:
سرمایہ داری محض ایک معاشی نظام نہیں بلکہ یہ انسانی تعلقات، اخلاقیات اور خوابوں کی تشکیل نو کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ ہر چیز کو بازار میں بیچنے کے قابل بناتا ہے—even our desires. اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان "آزاد" نظر آتا ہے، مگر درحقیقت وہ نظام کی سب سے زیادہ جکڑ میں ہوتا ہے۔

غزہ کی پٹی میں 15 ماہ کی جنگ سے کتنا نقصان ہوا اور بحالی میں کتنا وقت لگے گا؟

وژیول جرنلزم ٹیم

عہدہ,بی بی سی نیوز

غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے لیکن 15 ماہ سے جاری لڑائی اور جنگ کے ساحلی فلسطینی علاقے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے اس علاقے پر فضائی حملے اور زمینی کارروائی 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے غیر معمولی سرحد پار حملے کے جواب میں شروع ہوئے، حماس کے اس حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا۔

حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق جنگ کے دوران 46 ہزار 600 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس کی فوجی اور حکومتی صلاحیتوں کو تباہ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔غزہ کے باسیوں کو اس بات کی امید ہے کہ تازہ ترین جنگ بندی بالآخر امن کا پیش خیمہ ثابت ہوگی تاہم اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس جنگ میں ہونے والی تباہ کاری کے بعد بحالی میں کئی سال یا دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

بی بی سی کی ان تصاویر کی مدد سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ یہاں (غزہ) میں جنگ کے دوران زندگی کس تیزی سے تبدیل ہوئی۔

تباہی کیسے پھیلی

اسرائیلی انتظامیہ کی توجہ ابتدا میں شمالی غزہ پر مرکوز تھی، اسی مقام اور علاقے کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ حماس کے جنگجو انھیں گنجان آباد شہری آبادی کے درمیان چھپے ہوئے ہیں۔

سرحد سے صرف 2 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شمالی قصبہ بیت حنون اسرائیلی حملوں کا پہلا نشانہ بننے والے علاقوں میں سے ایک تھا۔ اس علاقے کو اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے بھاری نقصان پہنچا۔اسرائیل نے غزہ شہر اور شمال میں دیگر شہری مراکز پر بمباری جاری رکھی اور اکتوبر کے آخر میں زمینی حملہ شروع کرنے سے پہلے شہریوں کو اپنی حفاظت کو مدِنظر رکھنے کی خاطر اس علاقے کو خالی کرنے اور 'وادی غزہ' کے جنوب میں منتقل ہونے کا حکم دیا۔

امریکی تاریخ کی ’سب سے مہنگی‘ آتش زدگی



بی بی سی اردو 
۱۰ جنوری ۲۰۲۵
'ہمارا کچھ نہیں بچا۔۔۔ میری والدہ کی وفات ہو گئی تھی اور میں نے ان کی کچھ یادیں گھر میں سنبھال کر رکھی تھی، میری شادی کے جوڑے اور تصویروں والے البم سے لے کر گھر میں سب کچھ جل کر خاک ہو گیا ہے۔ ہمارے پاس بس یہ ایک ایک جوڑا ہی بچا ہے جو ہم پچھلے دو دنوں سے پہنے ہوئے ہیں۔'

یہ الفاظ اس جوڑے کے ہیں جو لاس اینجلس میں لگنے والی آگ کے بعد آج اپنا جلا ہوا گھر دیکھنے پہنچے جس میں عمارت سمیت سب کچھ جل کر خاکستر ہو چکا تھا۔

جنگل کی آگ سے متاثرہ علاقوں سے اپنے گھر باہر چھوڑ کر جانے والے رہائشی آب جب واپس لوٹے تو انھیں ہر طرف تباہی کے مناظر ملے ہیں۔ ان کے گھر اور کاروبار راکھ کا ڈھیر بن گئے ہیں۔

پاؤل بیرن 12 سال سے لاس اینجلس میں رہ رہے ہیں۔ انھیں اپنی پارٹنر اور پالتو جانوروں کے ساتھ گھر اور علاقہ چھوڑنا پڑا۔

وہ بتاتے ہیں کہ 'یہ تباہی سے بھرپور کسی ہالی وڈ فلم جیسا منظر تھا۔ ہر طرف آگ کی چنگاریاں اڑ رہی تھیں۔ لوگ اپنے بچوں اور پالتو جانورں کے ساتھ سڑکوں پر حیران پریشان کھڑے تھے۔'

عالمی تنازعات اور اسلحہ سازوں کی ’چاندی‘: وہ کمپنیاں جنھوں نے صرف ایک سال میں 632 ارب ڈالر کمائے



شکیل اختر
عہدہ,بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
دنیا بھر میں جاری تنازعات یوکرین، روس اور اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگوں کا سب سے زیادہ فائدہ اسلحہ بنانے والی امریکی کمپنیوں کو ہوا ہے۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹٹیوٹ (سپری) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سنہ 2023 میں دنیا بھر میں فروخت ہونے والا 50 فیصد جنگی سامان صرف امریکی کمپنیوں نے بنایا تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس امریکی کمپنیوں نے 317 ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے تھے۔

سپری کے مطابق امریکہ کے بعد اس فہرست میں دوسرے نمبر پر چین ہے جس کی کمپنیوں نے گذشتہ برس دنیا بھر میں 130 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کیے۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2023 میں ہتھیار بنانے والی دنیا کی ٹاپ 100 کمپنیوں نے 632 ارب ڈالر کا جنگی ساز و سامان فروخت کیا جو کہ 2022 کے مقابلے میں چار اعشاریہ دو فیصد زیادہ ہے۔

دنیا بھر میں جاری تنازعات کے سبب روس اور اسرائیل میں واقع چھوٹی کمپنیوں کے منافع میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

وہ دور جب ہندوستانی روپے نے خلیجی ریاستوں میں سونے کے سکوں کے مقابلے میں اپنی جگہ بنائی

وقار مصطفیٰ | بی بی سی اردو | 16 جولائی 2024

عربی میں حرف ’پ‘ نہیں، سو ہندوستانی روپے کو تو گھونگھوں سے موتی نکالتے خلیج کے عرب مچھیروں نے روبیا کہہ لیا لیکن اس کا کیا کیجیے کہ برطانوی حکمران کی تصویر والے کاغذ کے اس ٹکڑے میں نہ سونے کے عثمانی سکے جیسی چمک تھی نہ چھونے، گننے اور جمع کر کے رکھنے میں ویسا مزہ اور اعتماد اور بھیگ گیا تو ضائع۔
ہندوستانی روپیہ

موتیوں کے عرب تاجروں کے بیان میں لنڈا شلچر لکھتی ہیں کہ سونے کے سکے نہ صرف زر مبادلہ کا ذریعہ تھے بلکہ دولت اور تحفظ کی علامت بھی تھے۔

’سونے کے سکوں کی گنتی ہوتی اور ہر لین دین میں وزن کیا جاتا، سامان خریدنے سے لے کر قرضوں کے تصفیہ تک۔‘

خلیجی ریاستوں کی معیشتوں کی تبدیلی کا احاطہ کرتی اپنی تحریر میں انتھونی بی ٹوتھ بتاتے ہیں کہ کیسے ابوظہبی کے ایک چھوٹے تجارتی مقام پر احمد نامی تاجر ایک برطانوی افسر سے روپے لینے سے انکار اور سونے کے سکوں پر اصرار کرتے ہیں۔افسر ان کی ہچکچاہٹ کو سمجھتے ہوئے احمد کے سامنے دوسرے تاجروں سے روپے کے بدلے سامان خریدتے ہیں۔

اس مظاہرے سے قائل ہو کر ہی احمد نے کاغذی کرنسی پراعتماد کیا۔

یہی مسئلہ بیسویں صدی کے اوائل میں دبئی کے موتیوں کے ایک تاجرعبداللہ کا بھی تھا، جن کی کہانی ان زبانی روایات میں سے ایک ہے جو دبئی میوزیم آرکائیوز نے جمع کی ہیں۔

عثمانی سونے کے سکوں میں تجارت کرنے کے بعد عبداللہ کو ابتدائی طور پر نئی کاغذی کرنسی ہندوستانی روپے پر شک تھا۔ ایسی ہی ہچکچاہٹ بہت سے اور تاجروں میں بھی تھی جنھیں خدشہ تھا کہ کاغذی کرنسی سونے جیسی قیمتی نہیں۔

ایک دن عبداللہ کو اپنے موتیوں کے بدلے ایک اہم پیشکش ملی لیکن ادائیگی ہندوستانی روپے میں تھی۔ نئی کرنسی کو قبول کرنے یا معاہدہ کھونے کے انتخاب کا سامنا کرتے ہوئے انھوں نے ہچکچاتے ہوئے اس پر اتفاق کر لیا۔ آہستہ آہستہ دوسرے تاجر بھی ان کی پیروی کرنے لگے۔

’عظیم تعمیرنو منصوبہ‘ اور مستقبل کی دُنیا

حسان احمد | ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن | جولائی 2024

 گذشتہ صدی کے آخر میں ’نئے عالمی نظام‘ [New World Order]، ’تہذیبوں کے تصادم‘ [Clash of Civilization] اور اختتام تاریخ [End of History] کی بحثوں کا شور برپا تھا۔ لیکن گذشتہ کچھ عرصے میں مغرب میں ’عظیم تعمیرِنو‘ [The Great Reset] کی بحث نہ صرف پوری قوت سے جاری ہے بلکہ دنیا کے طاقت ور افراد کھل کر اس کے حق میں یا مخالفت میں اپنی اپنی رائے کا اظہار بھی کررہے ہیں بلکہ اپنی دولت اور اثرورسوخ کے بل بوتے پر اپنے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں بھی لگے ہیں۔

دنیا کے مال دار ترین امریکی سیٹھ ایلون مسک نے گذشتہ دنوں اپنی ایکس پوسٹ میں کہا :

The True battle is Extinctionists who want a holocaust for all of Humanity. Vs Expansionists who want to reach the stars and Understand the Universe.

اصل لڑائی دو قوتوں کے درمیان ہے: ’معدومیت پسند‘ ،کہ جو پوری انسانیت کے لیے ہولوکاسٹ چاہتے ہیں، اور’ توسیع پسند‘، کہ جو ستاروں تک پہنچنا اور کائنات کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

یہ ذومعنی ’ٹویٹ‘ یا ’پوسٹ‘ گذشتہ کئی عشروں سے جاری 'تہذیبی تصادم کے تناظر میں نظر آئے گی، لیکن ایلون مسک نے اگلے ٹویٹ میں اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھا:

Now Imagine if the Extinctionist philosophy is programmed into Al- No need to imagine - this is already the case with Gemini and ChatGPT.

اب ذرا تصور کریں کہ اگر ’معدومیت پسندوں‘ کے فلسفے کو ’مصنوعی ذہانت‘ [کے پروگرام] میں شامل کردیا جائے۔ [بلکہ] تصور کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ کام جیمینی [گوگل کا ’اے آئی‘ پروگرام ] اور چیٹ جی پی ٹی [Chat GPT] پہلے ہی کررہے ہیں۔

ایلون مسک نے یہ پوسٹ ایک خبر کے جواب میں کی ہے، جس کے مطابق ایک مشہور انگریزی فلم [Planet of The Apes] کے اداکاروں نے ایک انٹرویو میں کہا: ’’یوں تو وہ فلم میں انسانوں کو بندروں سے بچاتے نظر آتے ہیں، لیکن حقیقی زندگی میں وہ بندروں کے ساتھ شامل ہونا پسند کریں گے، تاکہ بندروں کے ساتھ مل کر انسانوں کا خاتمہ کرسکیں کیونکہ انسانوں نے دنیا کو برباد کردیا ہے۔ بظاہر تو یہ پوری گفتگو ہی بے معنی اور بےتکی لگتی ہے۔ لیکن صورتِ حال اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایلون مسک نے ہنسی مذاق کے ماحول میں ہونے والی اس گفتگو کے پیچھے اُس اصل سوچ پر تنقید کی ہے، جو زمین کے بچائو کے لیے انسانوں کے خاتمے کی حامی ہے۔

افراط زر کیا ہے ؟ اور اس کا تاریخی جائزہ ۔

کاغذی کرنسی پہلے تو حکومت کے پاس موجود سونے چاندی کی مالیت کے برابر مقدار میں چھاپی جاتی تھی لیکن 1971 میں بریٹن ووڈ معاہدہ ٹوٹنے کے بعد ایسی کوئی روک ٹوک باقی نہیں رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرنسی کنٹرول کرنے والے ادارے اور حکومتیں اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ کرنسی چھاپنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کرنسی زیادہ چھاپی جائے تو افراط زر کی وجہ سے اس کی قدر لامحالہ کم ہو جاتی ہے ( یعنی اس کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے) اس طرح لوگوں کا اور باقی دنیا کا اعتبار اس کرنسی پر کم ہونے لگتا ہے۔ جو کرنسی چھاپنے والے ادارے یا حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ لوگ اب دوسری کرنسی کی طرف رجوع کرنے لگتے ہیں۔ اس لیے حکومتیں ایک حد سے زیادہ کرنسی نہیں چھاپ پاتیں۔ اس کی مثال سونے کا انڈا دینے والی مرغی کی طرح ہے جسے ذبح نہ کرنا ہی سود مند رہتا ہے۔ لیکن تھوڑی تھوڑی مقدار میں بھی مسلسل کاغذی کرنسی چھپتے رہنے سے اس کرنسی کی قوت خرید کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کے بر عکس دھاتی کرنسی کی قدر وقت کے ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اسی لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اپنے رکن ممالک کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی کرنسی کو سونے سے منسلک نہ کریں۔ اگر کوئی کرنسی سونے سے منسلک ہو گی تو آئی-ایم-ایف کے لیے اس کی شرح تبادلہ اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔

 افراط زرپچھلی دہائی میں زمبابوے کی حکومت نے اپنی بقا کے لیے بے تحاشہ کاغذی کرنسی چھاپ کر اپنی آمدنی میں اضافہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں 2008 میں زمبابوے کے 1200 ارب ڈالر صرف ایک برطانوی پاونڈ کے برابر رہ گئے۔ اس قدر افراط زر کی وجہ سے زمبابوے میں شرح سود %800 تک جا پہنچی تھی۔ کاغذی نوٹوں کی بے تحاشہ چھپائی کے نتیجے میں زمبابوے کی اسٹاک مارکیٹ تیزی سے اوپر جانے لگی۔ آئے دن اسٹاک کی قیمت ڈبل ہو جاتی تھی۔  لیکن فروری 2018 میں وینیزویلا کی کرنسی عوام نے ردّی کی طرح سڑک پر پھینکنا شروع کر دی۔  نومبر 2016ء میں ایک امریکی ڈالر 1500 وینیزویلا کے بولیور کے برابر تھا۔ صرف دیڑھ سال بعد 8 جون 2018ء کو ایک امریکی ڈالر کی قیمت 23 لاکھ بولیور کے برابر پہنچ چکی تھی یعنی ڈالر اس عرصہ میں 1533 گنا مہنگا ہو گیا تھا۔

کاغذی کرنسی کا کمال یہ ہے کہ کسی کو اپنی بڑھتی ہوئی غربت کا احساس نہیں ہوتا۔ اگر کسی مزدور کی تنخواہ پانچ فیصد کم کر دی جائے تو اسے شدید اعتراض ہوتا ہے۔ لیکن جب افراط زر کی وجہ سے اس کی تنخواہ کی قوت خرید دس فیصد کم ہو جاتی ہے تو وہ اتنا اعتراض نہیں کرتا۔ جتنے سالوں میں کسی کی تنخواہ دوگنی ہوتی ہے اتنی ہی مدت میں سونے کی قیمت ( اور مہنگائی ) تین گنی ہو چکی ہوتی ہے۔ 

پچھلے 255 سالوں میں قیمتیں دوگنی ہونے میں ابتدائی 185 سال لگے حالانکہ اس عرصے میں دنیا کو دو جنگ عظیم بھی جھیلنا پڑیں۔ لیکن بریٹن ووڈز کے معاہدے کے بعد کے 70 سالوں میں قیمتیں 50 گنا بڑھ گئیں۔

لینن کون تھے ؟

 لینن

 خدا کے حضور میں

(شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ )

اے انفس و آفاق میں پیدا ترے آیات
حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پائندہ تری ذات

میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہے
ہر دم متغیر تھے خرد کے نظریات

محرم نہیں فطرت کے سرود ازلی سے
بینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات

آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابت
میں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات

ہم بند شب و روز میں جکڑے ہوئے بندے
تو خالق اعصار و نگارندۂ آنات!

اک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوں
حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات

جب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے نیچے
کانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ بات

گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا
جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات

وہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبود
وہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر سماوات؟

مشرق کے خداوند سفیدان فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندۂ فلزات

یورپ میں بہت روشنی علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات

رعنائی تعمیر میں ، رونق میں ، صفا میں
گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات

ظاہر میں تجارت ہے ، حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجات

یہ علم ، یہ حکمت ، یہ تدبر ، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو ، دیتے ہیں تعلیم مساوات

بے کاری و عریانی و مے خواری و افلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات

وہ قوم کہ فیضان سماوی سے ہو محروم
حد اس کے کمالات کی ہے برق و بخارات

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

آثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخر
تدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا مات

میخانے کی بنیاد میں آیا ہے تزلزل
بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیران خرابات

چہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سر شام
یا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کرامات

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
دنیا ہے تری منتظر روز مکافات


  لینن کون تھے ؟ 

لیون ٹراٹسکی

ترجمہ: حسن جان

انقلابِ روس کے قائد ولادیمیر لینن کی 152 ویں سالگرہ کے موقع پر اُن کی مختصر سوانح حیات، جو لیون ٹراٹسکی نے 1929ء میں تحریر کی،  قارئین کے لئے خصوصی طور پر شائع کی جا رہی ہے۔

لینن کون تھے ؟

سوویت جمہوریہ اور کمیونسٹ انٹرنیشنل کے بانی اور روح رواں، مارکس کے شاگرد، بالشویک پارٹی کے رہنما اور روس میں اکتوبر انقلاب کے منتظم ولادیمیر لینن 9 اپریل 1870ء کو سمبرسک کے قصبے (موجودہ الیانوسک) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد الیانکولاوچ ایک سکول ماسٹر تھے۔ اس کی والدہ ماریہ الیگزنڈرانوا برگ نامی ایک ڈاکٹر کی بیٹی تھی۔ بڑا بھائی ایک انقلابی دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوا اور الیگزنڈر دوئم کی زندگی پر ناکام حملوں میں حصہ لیا۔ اسے 1891ء میں پھانسی دے دی گئی۔ یہ لینن کی زندگی میں فیصلہ کن عنصر ثابت ہوا۔

ابتدائی زندگی

چھ افراد کے خاندان میں تیسرے لینن نے 1887ء میں سمبرسک جمنازیم سے گولڈ میڈل جیت کر اپنا کورس مکمل کیا۔ اس نے قانون کی تعلیم کے لیے کازان یونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن طلبہ کے اجتماعات میں حصہ لینے کی پاداش میں اُسی سال یونیورسٹی سے نکال دیا گیا اور مضافاتی علاقے میں بھیج دیا گیا۔ 1889ء کے موسم خزاں میں اسے کازان واپس آنے کی اجازت دی گئی۔ جہاں اس نے مارکس کا باقاعدہ مطالعہ شروع کیا اور مقامی مارکسی سرکل کے ممبران سے ملاقات کی۔ 1891ء میں لینن نے سینٹ پیٹرزبرگ یونیورسٹی سے قانون کا امتحان پاس کیا اور 1892ء میں سمارا میں ایک بیرسٹر کی حیثیت سے پریکٹس شروع کی اور کئی مقدمات میں وکیل صفائی کے طور پر پیش ہوا۔ لیکن وہ مارکسزم کے مطالعے، روس اور بعد ازاں پوری دنیا کے معاشی اور سیاسی ارتقا پر اس کے اطلاق میں مصروف رہا۔

دنیا کے بڑے ممالک ضرورت کی اشیا دیگر ممالک سے درآمد کرنے کے بجائے ’خود کفیل‘ ہونے کی پالیسی کیوں اپنا رہے ہیں؟

بی بی سی اردو ، ۳۰ جنوری ۲۰۲۳ء 

سنہ 1989 کے اواخر میں دیوار برلن کے گرنے اور تقریباً دو سال بعد سوویت یونین کے ٹوٹنے سے سرد جنگ کا خاتمہ ہوا اور عالمگیریت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا، جس نے عالمی معیشت کو ایک جدید شکل دی۔

لیکن 21ویں صدی میں مختلف بحرانوں نے اس ’گلوبل ویلج‘ کہلائے جانے والی دنیا کا امتحان لیا ہے۔

سنہ 2008 میں وال سٹریٹ سے شروع ہونے والا امریکی معاشی بحران جب پوری دنیا میں پھیل گیا تو اُس کے بعد کچھ لوگوں نے معیشت کے حوالے سے مختلف ممالک کے ایک دوسرے پر انحصار کرنے کے فوائد پر سوال اٹھایا۔

امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈیا میں نریندر مودی جیسی نئی سیاسی شخصیات نے اپنی ضروریات خود پوری کرنے یعنی خود کفیل ہونے جیسے خیال کو ترجیح دینے کے عمل کو فروغ دینا شروع کیا اور یورپ میں برطانیہ نے بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیا اور یورپی یونین سے خود مختاری حاصل کر لی۔لیکن عالمگیریت کو سب سے زیادہ دھچکا کووڈ وبا سے لگا، جس کی وجہ سے بہت سے ممالک نے نہ صرف اپنی سرحدیں بند کر دیں بلکہ ماسک سے لے کر ویکسین تک جو وائرس سے نمٹنے کے لیے ضروری تھا تمام طبی آلات کی برآمد بھی روک دی تھی۔

سائنسدانوں نے وہ گھڑی آگے کر دی ہے جس کا کام دنیا کے خاتمے کا وقت بتانا ہے۔

بی بی سی اردو :  ۲۷ جنوری ۲۰۲۳ء 

اس گھڑی کے منتظم ادارے ’بلیٹن آف اٹامک سائنٹسٹس‘ کے مطابق یہ گھڑی دن کے اختتام کے 90 سیکنڈ قریب کر دی گئی ہے۔

یہ گھڑی سنہ 1947 میں شروع کی گئی تھی اور اس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ ہماری دنیا انسانوں کے اقدامات کی وجہ سے خاتمے کے کس قدر قریب پہنچ چکی ہے۔

اسے ایٹمی جنگوں کے خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے دوسری عالمی جنگ کے بعد شروع کیا گیا تھا۔

جب سائنسدان حالیہ کچھ مہینوں میں انسانیت کو لاحق خطرات کا جائزہ لیتے ہیں تو اس گھڑی کو آگے یا پیچھے کر دیا جاتا ہے۔

فی الوقت یہ نصف شب سے صرف 90 سیکنڈ دور ہے جبکہ نصف شب کا مطلب انسانیت کی اپنے ہی ہاتھوں تباہی ہے۔

امریکہ قرض لینے کی آخری حد پر

بی بی سی اردو 

21 جنوری 2023ء 

 امریکہ قرض لینے کی آخری حد پر: سپرپاور کے ڈیفالٹ ہونے کے خدشات سمیت ڈالر کی قیمت غیرمستحکم ہونے کے اندیشوں تک

جمعرات کے روز امریکہ قرض لینے کی اپنی طے شدہ آخری حد تک پہنچ گیا جس کے بعد امریکہ کے محکمہ خزانہ نے ادائیگی کے ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے چند فوری اور خصوصی اقدامات اٹھائے ہیں۔

قرض کی آخری حد کو چھونے کا مطلب یہ ہے کہ امریکی حکومت اب اس وقت تک مزید رقم قرض نہیں لے سکتی جب تک کانگریس قرض حاصل کرنے کی لِمٹ یعنی حد کو بڑھانے پر راضی نہ ہو جائے۔ اس وقت امریکی حکومت کی قرض حاصل کرنے کی حد تقریباً 31.4 کھرب ڈالر ہے۔

سنہ 1960 کے بعد سے سیاست دانوں نے قرض کی حد میں 78 بار اضافہ، توسیع یا نظر ثانی کی ہے۔ اگر صرف پچھلے چھ ماہ کی بات کی جائے تو تین مرتبہ اس حد پر نظر ثانی کی گئی ہے۔

لیکن اس مرتبہ صورتحال تھوڑی مختلف ہے کیونکہ کانگریس میں معاملات گذشتہ دو ہفتوں سے تناؤ کا شکار ہیں یعنی اس وقت سے جب سے ریپبلکنز نے ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کیا ہے اور وہ مسلسل اخراجات میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پیسہ کب ایجاد ہوا اور امریکی ڈالر دنیا کی سب سے اہم کرنسی کیسے بنا؟

بی بی سی اردو | 13 جنوری 2023ء 

پیسے کی تاریخ کافی دلچسپ ہے۔ ہزاروں سال سے ادائیگی کا یہ واحد طریقہ ہے اور دولت کی پیمائش کا بھی۔ اسی سے وہ نظام جڑا ہے جس کے تحت قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے اور قرض کی ادائیگی کی جاتی ہے۔

کرنسی کی تاریخ
عالمی کرنسی کا تصور کیسے پیدا ہوا ؟

تاہم پیسے کی تاریخ اس کی تعریف کی طرح ہی متنازع ہے۔ فلسفی اور معاشی ماہرین اس پراسرار وقت کے بارے میں الگ الگ نظریے رکھتے ہیں جب پیسے کا نظام متعارف ہوا۔

تاہم ہزاروں سال قبل چاندی، مٹی کی چیزوں اور دیگر اشکال میں لین دین ہوا کرتا تھا حتی کہ ایک وقت آیا جب قدیم عراق میں دھاتی سکے پہلی بار متعارف کروائے گئے۔

اس کے کافی عرصہ بعد چین میں کاغذ کے نوٹ سامنے آئے جو اس لیے بنائے گئے کیوںکہ سکے اتنے بھاری ہو چکے تھے کہ ان کو رکھنا ہی ایک مسئلہ تھا۔

اور صرف 70 سال پہلے، ایک پہاڑی سلسلے میں موجود ہوٹل میں رات گئے ہونے والے خفیہ سیاسی مذاکرات کے نتیجے میں ایک ہرے رنگ کا کاغذ، ڈالر، دنیا کی سب سے طاقت ور کرنسی بن گیا۔

بی بی سی منڈو پیسے کے جنم اور ارتقا کی تاریخ بتا رہا ہے جو انسانیت کے سفر کو سمجھنے کا اہم جزو ہے۔

سیاستدانوں کی جگہ انجینیئرز اور سائنسدانوں کو حکمراں بنانے والی ٹیکنوکریٹ تحریک کیا تھی؟

پاؤلا روزاس

بی بی سی اردو

 تاریخ اشاعت : 10 دسمبر 2022 

ٹیکنو کریٹ تحریک کیا تھی ؟
کام کے اوقات صرف 16 گھنٹے فی ہفتہ ہوں گے۔ ہر کسی کو کام نہیں کرنا پڑے گا لیکن جو کریں گے وہ 25 برس کی عمر سے کام کرنا شروع ہوں گے اور 45 برس کی عمر میں ریٹائر ہو جائیں گے۔

باقیوں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کی تمام ضروریات، چاہے صحت، تربیت، رہائش یا خوراک ہو سب کا خیال رکھا جائے گا۔

پیسے کا وجود ویسے بھی نہیں ہو گا۔ اس کی جگہ توانائی کے سرٹیفکیٹ کے نظام لے لیں گے۔ چیزوں کو پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والی توانائی کے مطابق لاگت اور معاوضہ لیا جائے گا۔

اس کے بدلے میں، جمہوریت کے سیاسی نظام جس میں شہری اپنے نمائندوں کو منتخب کرتے ہیں، اسے ختم کرنا پڑے گا۔ کوئی سیاستدان یا تاجر نہیں ہو گا بلکہ تمام فیصلے انجینیئرز اور سائنسدان کریں گے۔

ٹیکناٹو‘میں خوش آمدید، جس خیالی دنیا کا خواب امریکہ میں شدید کساد بازاری کے دوران خام خیالی میں مبتلا چند افراد کے ایک گروہ نے دیکھا تھا اور جس کی گونج  آج بھی امریکہ کی سلیکون ویلی جیسی جگہوں پر سنائی دیتی ہے۔

یقیناً ٹیکناٹو کی خیالی دنیا کبھی وجود میں نہیں آئی لیکن ٹیکنو کریٹ تحریک، یعنی سائنسدانوں اور دانشوروں کا وہ گروپ جس نے 1930 اور 1940 کی دہائیوں میں اس ’بے مثال دنیا‘ کا خواب سجایا تھا، کے ارکان کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہو گئی تھی اور انھوں نے اپنی تحریک میں ایسے سوالات اٹھائے جو آج بھی متعلقہ ہیں۔

ورلڈ فورڈ ڈے : بھوک کے اصل محرکات کیا ہیں؟

16 اکتوبر کو ہر سال خوارک کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ اس دن سے پہلے بی بی سی نے دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے چار لوگوں سے بات کی جنھوں نے شدید بھوک کا تجربہ کیا، اور ان سے پوچھا کہ وہ کیسے زندہ بچ گئے۔

ورلڈ فورڈ ڈے : بھوک کے اصل محرکات کیا ہیں؟

بی بی سی کے رپورٹرسوامی ناتهن ناتاراجن کے مطابق دنیا کے قحط زدہ خطے جہاں عوام چوہے کا گوشت، ہڈیاں، مٹی اور کھالیں کھا کر پیٹ بھرنے پر مجبور ہیں۔

قحط، غربت، جنگ، بیماری۔۔۔ ایسے بہت سے عوامل ہیں جو ہمارے کھانے پینے کے عمل کو یکسر تبدیل کر سکتے ہیں۔

غیر معمولی حالات میں مایوسی کا شکار لوگ زندہ رہنے کے لیے کیچڑ، کیکٹس کے پھل، پھول، چوہے، ضائع شدہ ہڈیاں یا جانوروں کی کھال کا سہارا لیتے ہیں۔

شدید بھوک، غذا اور غذائیت کی کمی دنیا کے کئی حصوں میں روزمرہ کا چیلنج ہے اور اس کا پیمانہ واقعی بہت بڑا ہے: اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ ’ہر رات تقریباً 82 کروڑ افراد بھوکے سوتے ہیں‘ اور ’34 کروڑ شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ دنیا میں اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ بھوک ہے۔

یہ اس ’بڑے پیمانے پر بھوک کے بحران کا ذمہ دار چار عوامل کو ٹھراتا ہے: تنازع، المناک ماحولیاتی تبدیلیاں، کووڈ 19 وبائی امراض کے معاشی نتائج اور بڑھتے ہوئے اخراجات۔

سنہ 2022 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈبلیو ایف پی کے ماہانہ آپریٹنگ اخراجات سنہ 2019 کی اوسط سے 73.6 ملین امریکی ڈالر زیادہ ہیں جو کہ ایک حیران کن 44 فیصد اضافہ بنتا ہے۔

آپریٹنگ اخراجات پر اب جو اضافی خرچ کیا جاتا ہے اس سے پہلے ایک ماہ کے لیے چالیس لاکھ لوگوں کو کھانا کھلایا جاتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق صرف پیسہ ہی بحران کو ختم نہیں کرے گا: جب تک تنازعات کو ختم کرنے کے لیے سیاسی عزم اور گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کا عزم نہ ہو تو ’بھوک کے اصل محرکات بلا روک ٹوک جاری رہیں گے۔‘

انگریزوں نے ہندوستان کو کل کتنا مالی نقصان پہنچایا؟

ظفر سید ،  بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سر ٹامس رو شہنشاہ جہانگیر کے دربار میں
15 اگست 2018

آج بادشاہ کی سالگرہ ہے اورمغل روایات کے مطابق انھیں تولا جانا ہے۔ اس موقعے پر برطانوی سفیر سر ٹامس رو بھی دربار میں موجود ہیں۔

تقریب پانی میں گھرے ایک چوکور چبوترے پر منعقد کی جا رہی ہے۔ چبوترے کے بیچوں بیچ ایک دیوہیکل طلائی ورق منڈھی ترازو نصب ہے۔ ایک پلڑے میں کئی ریشمی تھیلے رکھے ہوئے ہیں، دوسرے میں خود چوتھے مغل شہنشاہ نورالدین محمد جہانگیر احتیاط سے سوار ہوئے۔

بھاری لبادوں، تاج اور زر و جواہر سمیت شہنشاہ جہانگیر کا وزن تقریباً ڈھائی سو پاؤنڈ نکلا۔ ایک پلڑے میں ظلِ الٰہی متمکن رہے، دوسرے میں رکھے ریشمی تھیلے باری باری تبدیل کیے جاتے رہے۔ پہلے مغل بادشاہ کو چاندی کے سکوں سے تولا گیا، جو فوراً ہی غریبوں میں تقسیم کر دیے گئے۔ اس کے بعد سونے کی باری آئی، پھر جواہرات، بعد میں ریشم، اور آخر میں دوسری بیش قیمت اجناس سے بادشاہ سلامت کے وزن کا تقابل کیا گیا۔یہ وہ منظر ہے جو آج سے تقریباً ٹھیک چار سو سال قبل مغل شہنشاہ نورالدین محمد جہانگیر کے دربار میں انگریز سفیر سر ٹامس رو نے دیکھا اور اپنی ڈائری میں قلم بند کر لیا۔ تاہم دولت کے اس خیرہ کن مظاہرے نے سر ٹامس کو شک میں ڈال دیا کہ کیا بند تھیلے واقعی ہیرے جواہرات یا سونے سے بھرے ہوئے ہیں، کہیں ان میں پتھر تو نہیں؟