" آج دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو اخلاق اور مقاصد زندگی کی ، یہ صرف انبیاء کرام اور آسمانی کتب میں ہیں ۔ آج دنیا کی تعمیر نو صرف اس طرح ممکن ہے کہ جو وسائل و زرائع جدید دور میں انسانوں نے پیدا کرلیے ان کی مدد سے اور انبیاء اور آسمانی کتب میں موجود انسانیت کے اخلاق اور مقاصد زندگی کی مدد سے دنیا کی تعمیر نو کی جائے ۔" (مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ )
تہران میں نئے عہد کا آغاز: کیا مجتبیٰ خامنہ ای ایران کو بحران سے نکال پائیں گے؟
سانحہ غزہ: ضمیرِ انسانی کی بیداری اور اسلام کی نئی بازگشت
تاریخ کے جبر نے ایک بار پھر انسانیت کو آئینہ دکھایا ہے۔ غزہ کے زخمی چہروں، معصوم لاشوں، ملبے تلے سسکتی ماؤں اور اجڑی ہوئی بستیوں نے نہ صرف مسلم دنیا کو دہلا دیا، بلکہ اُس مغربی ضمیر کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے جو صدیوں سے انسانی حقوق، آزادی اور تہذیبی اقدار کے نعرے لگاتا آیا ہے۔
یہ بیداری محض وقتی احتجاج یا مظاہروں کی صورت میں نہیں بلکہ ایک گہری فکری بےچینی، ضمیر کی خلش اور صداقت کی تلاش کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ انہیں پہلی بار شدت سے یہ احساس ہوا ہے کہ تہذیب کا مطلب صرف تکنیکی ترقی یا سیاسی بالادستی نہیں، بلکہ اس کا اصل جوہر عدل، رحم، اور انسانی وقار کی حفاظت ہے — جو چیز مغربی تہذیب اپنے تمام تر دعوؤں کے باوجود غزہ میں مہیا نہ کر سکی۔
مغربی استعمار کے بوسیدہ بیجوں کی آج کی فصل
تاریخ کے کچھ سانحات ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر ایک معاہدہ، ایک کانفرنس، یا ایک دستخط ہوتے ہیں، مگر درحقیقت وہ قوموں کی صدیوں پر محیط تقدیر بدل دیتے ہیں۔ سان ریمو کانفرنس (اپریل 1920) اسی نوعیت کا ایک سانحہ تھا۔ فرانس اور برطانیہ نے اٹلی کے ایک چھوٹے سے قصبے میں بیٹھ کر مشرقِ وسطیٰ کی سلطنت عثمانیہ کو یوں چیر پھاڑ کر بانٹا گویا قصاب کسی بےجان شکار کو تقسیم کر رہا ہو۔
لبنان اور شام فرانس کے حوالے، عراق اور فلسطین برطانیہ کے قبضے میں چلے گئے۔ یوں مشرق وسطیٰ کے دل میں استعمار نے ایسی سیاسی و تہذیبی سرنگیں نصب کیں جن کے دھماکے آج بھی فلسطین، شام، عراق اور لبنان میں گونجتے ہیں۔
لیکن ظلم صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہ رہا۔ برصغیر بھی انہی سامراجی قوتوں کی چالاکیوں کا شکار ہوا۔ جس طرح فلسطین میں اسرائیل کا زہریلا پودا بویا گیا، اسی طرح ہندوستان میں مسلمانوں کی وحدت کو توڑ کر ایک ایسا دائمی زخم لگا دیا گیا جس کا نام آج بھی کشمیر ہے۔
استعمار جاتے جاتے دو "تھانیدار" مقرر کر گیا: مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل، اور برصغیر میں بھارت — جو ہر لمحہ اپنے اپنے علاقوں میں مسلمانوں کو دبانے اور ان کی آزادی کی سانس کو گھونٹنے پر مامور ہیں۔
معصوم فلسطینیوں کا قتل عام ؛ اصل مجرم کون ہے ؟
فلسطینیوں کے قتل عام اور ان کے حقوق کی پامالی میں صرف اسرائیل ہی مجرم نہیں، بلکہ کئی دیگر ممالک بھی براہِ راست یا بالواسطہ اس جرم میں شریک ہیں۔
1. امریکہ
امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا حمایتی اور عسکری و مالی مددگار ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر کی فوجی امداد، جدید اسلحہ، اور اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف قراردادوں کو ویٹو کرکے، امریکہ اسرائیل کے جرائم میں برابر کا شریک ہے۔
2. یورپی ممالک (برطانیہ، فرانس، جرمنی وغیرہ)
- برطانیہ وہ ملک ہے جس نے 1917 میں اعلانِ بالفور کے ذریعے یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کا منصوبہ بنایا، جو آج کے اسرائیلی ریاست کے قیام کا بنیادی سبب بنا۔
- فرانس اور جرمنی اسرائیل کو جدید اسلحہ فراہم کرتے ہیں اور ہمیشہ اس کے حق میں عالمی فورمز پر کھڑے رہتے ہیں۔
3. عرب ممالک (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر وغیرہ)
- متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے، جس سے اسرائیل کو مزید تقویت ملی۔
- سعودی عرب بظاہر فلسطینیوں کی حمایت کرتا ہے، لیکن عملی طور پر اسرائیل کے خلاف کسی مضبوط اقدام سے گریز کرتا ہے۔
- مصر نے غزہ کی سرحد بند کر رکھی ہے، جس سے محصور فلسطینیوں کو امداد نہیں مل پاتی۔
4. بھارت
بھارت اسرائیل کا قریبی اتحادی ہے اور اس سے جدید ترین اسلحہ خریدتا ہے۔ اس کے علاوہ، بھارتی حکمران نظریاتی طور پر بھی اسرائیل کے ہندو قوم پرست ایجنڈے کے حامی ہیں۔
5. اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ادارے
اقوام متحدہ کے فیصلے زیادہ تر رسمی ہوتے ہیں اور فلسطینیوں کے حق میں پاس کی گئی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ہمیشہ اسرائیل کو عالمی دباؤ سے بچاتے ہیں۔
نتیجہ
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اسرائیل کو مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام کا لائسنس دینے والے یہی ممالک ہیں۔ اگر یہ طاقتیں اسرائیل کی حمایت چھوڑ دیں، تو شاید فلسطینیوں پر ظلم رک جائے۔
غزہ کی پٹی میں 15 ماہ کی جنگ سے کتنا نقصان ہوا اور بحالی میں کتنا وقت لگے گا؟
وژیول جرنلزم ٹیم
عہدہ,بی بی سی نیوز
غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے لیکن 15 ماہ سے جاری لڑائی اور جنگ کے ساحلی فلسطینی علاقے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے اس علاقے پر فضائی حملے اور زمینی کارروائی 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے غیر معمولی سرحد پار حملے کے جواب میں شروع ہوئے، حماس کے اس حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا۔
حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق جنگ کے دوران 46 ہزار 600 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس کی فوجی اور حکومتی صلاحیتوں کو تباہ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔غزہ کے باسیوں کو اس بات کی امید ہے کہ تازہ ترین جنگ بندی بالآخر امن کا پیش خیمہ ثابت ہوگی تاہم اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس جنگ میں ہونے والی تباہ کاری کے بعد بحالی میں کئی سال یا دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
بی بی سی کی ان تصاویر کی مدد سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ یہاں (غزہ) میں جنگ کے دوران زندگی کس تیزی سے تبدیل ہوئی۔
تباہی کیسے پھیلی
اسرائیلی انتظامیہ کی توجہ ابتدا میں شمالی غزہ پر مرکوز تھی، اسی مقام اور علاقے کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ حماس کے جنگجو انھیں گنجان آباد شہری آبادی کے درمیان چھپے ہوئے ہیں۔
سرحد سے صرف 2 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شمالی قصبہ بیت حنون اسرائیلی حملوں کا پہلا نشانہ بننے والے علاقوں میں سے ایک تھا۔ اس علاقے کو اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے بھاری نقصان پہنچا۔اسرائیل نے غزہ شہر اور شمال میں دیگر شہری مراکز پر بمباری جاری رکھی اور اکتوبر کے آخر میں زمینی حملہ شروع کرنے سے پہلے شہریوں کو اپنی حفاظت کو مدِنظر رکھنے کی خاطر اس علاقے کو خالی کرنے اور 'وادی غزہ' کے جنوب میں منتقل ہونے کا حکم دیا۔
شام میں اسد خاندان کے 50 سالہ دور کا ’ایک ہفتے میں‘ خاتمہ
شام کی تاریخی حیثیت
عرب کہاں ہیں؟ فلسطین کے مسلم ہمسائے ماضی کی طرح اس کی حمایت کیوں نہیں کر رہے؟
حماس کے کون کون سے سرکردہ رہنما اسرائیلی حملوں میں مارے گئے؟

اسماعیل ہنیہ

اسماعیل ہنیہ: اعتدال پسند اور مفاہمت کے حامی فلسطینی لیڈرکی شہادت
بالفور اعلامیہ: سادہ کاغذ پر لکھے گئے 67 الفاظ جنھوں نے مشرق وسطیٰ کی تاریخ بدل ڈالی
اس اعلامیے میں کیا کہا گیا؟
گلوبل ساؤتھ کیا ہے؟
وائس آف دی گلوبل ساؤتھ: کیا ترکی، سعودی عرب اور انڈیا اپنا رخ بدل رہے ہیں؟
کھیل سعودی عرب کے وژن 2030 کا ایک اہم پہلو
کھیل سعودی عرب کے وژن 2030 کا ایک اہم پہلو
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو قطر ورلڈ کپ کے دوران کئی بار فیفا کے سربراہ جی وی انفینٹینو کے ساتھ دیکھا گیا۔ سنہ 2016 میں محمد بن سلمان کے ’وژن 2030‘ کے تحت کھیلوں کو ترجیحات میں شامل کیا گیا تھا۔
وژن 2030 میں کھیلوں کے متعلق تین اہداف طے کیے گئے ہیں اور اس کے تحت سنہ 2030 تک کھیلوں میں عوام کی شرکت کو 40 فیصد تک بڑھانا، بیرون ملک سعودی کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور کھیلوں کی معیشت کو فروغ دینا ہے۔
فٹبال صحافی اوری لیوی کے مطابق رونالڈو کا سعودی عرب پہنچنا بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ انھوں نے محمد بن سلمان کی ایک ویڈیو ٹویٹ کی ہے جس میں سعودی ولی عہد کہہ رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ اب نیا یورپ بنے گا۔
ویڈیو میں ولی عہد کا کہنا ہے کہ ’اگلے پانچ سالوں میں سعودی عرب بالکل مختلف ہو جائے گا، بحرین بالکل مختلف ہو گا، کویت۔۔۔ یہاں تک کہ قطر بھی۔۔۔ ساتھ ہمارے اختلافات کے باوجود بھی۔۔۔ ان کی معیشت مضبوط ہے اور اگلے پانچ سالوں میں بالکل مختلف نظر آئیں گے۔ متحدہ عرب امارات، عمان، لبنان، اردن، مصر، عراق اور یہاں جو مواقع ہیں۔۔۔ اگر ہم اگلے پانچ سالوں میں کامیاب رہے تو بہت سے ممالک ہمارے نقش قدم پر چلیں گے۔‘
ولی عہد کا کہنا ہے ’اگلے 30 سالوں میں مشرق وسطیٰ میں نیا عالمی نشاۃ ثانیہ ہوگا۔ یہ سعودی کی جنگ ہے۔ یہ میری جنگ ہے اور میں اس لڑائی میں اس وقت تک مرنا نہیں چاہتا جب تک میں مشرق وسطیٰ کو دنیا کی قیادت کرتے ہوئے نہ دیکھوں۔ ہدف صد فیصد حاصل ہو کر رہے گا۔‘









