سائنس اینڈ ٹیکنالوجی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سائنس اینڈ ٹیکنالوجی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ارادہ و مشیتِ الٰہی — قرآنی تصور اور ملحدانہ اعتراضات

جدید انسان کا سب سے بڑا فکری بحران یہ ہے کہ وہ ایک طرف سائنسی قوانین کی سختی میں جکڑا ہوا ہے اور دوسری طرف اخلاقی آزادی کا دعویٰ بھی رکھتا ہے۔ یہی کشمکش اسے اس سوال تک لے آتی ہے: اگر سب کچھ اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے تو انسان کا اختیار محض ایک فریب کیوں نہ سمجھا جائے؟
ملحدانہ فکر اسی نکتے کو بنیاد بنا کر مذہب، خصوصاً اسلامی تصورِ تقدیر پر یہ اعتراض اٹھاتی ہے کہ یہ انسان کو جبری مخلوق بنا دیتا ہے۔

قرآن اس اشکال کو سرسری نہیں لیتا بلکہ اسے فکری گہرائی کے ساتھ حل کرتا ہے—اور یہ حل ارادہ اور مشیت کے فرق میں پوشیدہ ہے۔

مشیت: کائناتی قانون یا خدائی جبر؟ 
 
ملحدین کا پہلا اعتراض یہ ہے کہ اگر کوئی عمل اللہ کی مشیت کے بغیر ممکن نہیں تو پھر گناہ پر سزا اور نیکی پر جزا غیر منصفانہ ہے۔
قرآن اس اعتراض کا جواب یہ دے کر دیتا ہے کہ مشیت کا تعلق وقوع سے ہے، انتخاب سے نہیں۔

کوانٹم کمپیوٹنگ: سہولت، طاقت اور خدشات کا نیا دور

انسانی تاریخ میں ہر بڑی ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بھی بنایا اور خطرناک بھی۔ بھاپ کے انجن سے لے کر ایٹمی توانائی تک، ہر ایجاد نے ترقی کے ساتھ تباہی کے امکانات بھی پیدا کیے۔ آج کوانٹم کمپیوٹنگ اسی سلسلے کی ایک نئی اور کہیں زیادہ طاقتور کڑی کے طور پر ابھر رہی ہے۔ بظاہر یہ ٹیکنالوجی بیماریوں کے علاج، موسم کی پیش گوئی اور معاشی منصوبہ بندی میں انقلاب لا سکتی ہے، مگر اس کے سائے میں کچھ ایسے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں جو مستقبل کے نظامِ زندگی، بالخصوص مالیاتی نظام اور انسانی پرائیویسی کے لیے سنجیدہ خطرات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

کوانٹم کمپیوٹر کی اصل طاقت اس کی غیر معمولی حسابی رفتار ہے۔ جو کام آج کے سپر کمپیوٹرز کو ہزاروں سال میں ممکن ہیں، وہ کوانٹم مشینیں چند منٹوں یا گھنٹوں میں انجام دے سکتی ہیں۔ یہی طاقت مالیاتی نظام کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ دنیا کا موجودہ بینکاری اور ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام خفیہ کاری (Encryption) پر قائم ہے۔ یہ خفیہ کاری اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ بعض ریاضیاتی مسائل کو حل کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ لیکن کوانٹم الگورتھمز، خصوصاً بڑے نمبرز کو توڑنے کی صلاحیت، اس مفروضے کو متزلزل کر رہے ہیں۔ اگر کوانٹم کمپیوٹرز عام ہو گئے تو بینک اکاؤنٹس، کریڈٹ کارڈز اور حتیٰ کہ ریاستی مالیاتی خزانے بھی غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔

کوانٹم فزکس اور قرآن مجید : یقین، امکان اور حقیقت کے نئے افق

جدید سائنس نے جب مادّے کی تہہ میں جھانکنا شروع کیا تو وہاں کوئی ٹھوس یقین نہیں، بلکہ امکانات، احتمالات اور غیر یقینی کی ایک حیرت انگیز دنیا آباد ملی۔ کوانٹم فزکس نے انسان کے اس قدیم تصور کو چیلنج کر دیا کہ کائنات ایک سیدھی، سادہ اور مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی مشین ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ ذرّہ کہاں ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کہاں کہاں ہو سکتا ہے۔ یہی نکتہ وہ دروازہ ہے جہاں سے سائنس، فلسفہ اور قرآنی فکر کے درمیان ایک بامعنی مکالمہ شروع ہوتا ہے۔

قرآن انسان کو بار بار اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ حقیقت محض وہ نہیں جو آنکھ دیکھ لے یا ہاتھ چھو لے۔ “وما أوتيتم من العلم إلا قليلا”—تمہیں علم میں سے بہت ہی تھوڑا دیا گیا ہے۔ یہ آیت محض تواضعِ علم کی تلقین نہیں، بلکہ انسانی شعور کی حد بندی کا اعلان ہے۔ کوانٹم فزکس بھی اپنے تمام سائنسی جلال کے باوجود اسی نتیجے پر پہنچتی ہے کہ مشاہدہ کرنے والا خود حقیقت کا حصہ بن جاتا ہے، اور مکمل یقین محض ایک وہم ہے۔

کوانٹم نظریہ کہتا ہے کہ کسی ذرّے کی پوزیشن اور رفتار کو بیک وقت قطعی طور پر نہیں جانا جا سکتا۔ یہ غیر یقینی کوئی تکنیکی کمزوری نہیں، بلکہ فطرت کا بنیادی اصول ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآنی تصورِ تقدیر اور انسانی اختیار ایک نئے مفہوم کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ قرآن انسان کو اختیار دیتا ہے، مگر اس اختیار کو خدا کی مشیت کے دائرے میں رکھتا ہے۔ یوں نہ تو انسان مکمل مجبور ہے اور نہ ہی مکمل مختار—بالکل اسی طرح جیسے کوانٹم ذرّہ نہ مکمل متعین ہے نہ مکمل آزاد۔
کوانٹم فزکس کا ایک اور حیران کن تصور سپرپوزیشن ہے، جس کے مطابق ایک ذرّہ بیک وقت کئی حالتوں میں موجود ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ مشاہدہ اسے ایک حالت پر “منجمد” کر دے۔ قرآن اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے کہ اللہ “کل یومٍ هو في شأن” ہے—ہر آن ایک نئی شان میں ہے۔ کائنات جامد نہیں، مسلسل تخلیق کے عمل میں ہے۔ گویا حقیقت کوئی ایک جامد تصویر نہیں، بلکہ ایک زندہ، متحرک داستان ہے جو ہر لمحہ نئے معنی اختیار کر رہی ہے۔

ٹیکنالوجی کی بلندی اور دولت کا ارتکاز: 2025 کی عالمی معیشت پر چند افراد اور خاندان کا راج

2025 میں عالمی معیشت پر نظر ڈالیں تو ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے: دولت کا ایک بڑا حصہ چند ہاتھوں میں مرتکز ہو چکا ہے۔ بلومبرگ اور فوربز کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، دنیا کے دس امیر ترین افراد کی مجموعی دولت کھربوں ڈالرز میں ہے، اور ان میں سے اکثریت کا تعلق ٹیکنالوجی کی صنعت سے ہے۔ ان افراد کی دولت میں اکثر ان کی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے روزانہ نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

ٹیکنالوجی کا غلبہ:

2025 کی فہرست میں سرفہرست شخصیات میں ٹیکنالوجی سیکٹر کا غلبہ ہے۔ ایلون مسک، جیف بیزوس، مارک زکربرگ، لیری پیج، اور سرگے برن جیسی شخصیات نے اپنی اختراعات اور کاروباری سلطنتوں کے ذریعے بے پناہ دولت کمائی ہے۔ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک ایک بار پھر دنیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز رکھتے ہیں، جن کی دولت کا تخمینہ لگ بھگ 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ ان کی دولت میں اضافہ ٹیسلا کی روبوٹیکسی لانچ کی خبروں اور اسپیس ایکس کی قدر میں اضافے کا نتیجہ ہے۔

’ڈارک انرجی‘ میں عجیب و غریب ’تبدیلیاں‘: کیا واقعی کائنات پھر سے سِمٹ کر تباہ ہو جائے گی؟

پیلب گھوش
عہدہ,بی بی سی نیوز
29 دسمبر 2025 ء 

کائنات کی پراسرار قوت جسے ’ڈارک انرجی‘ کہا جاتا ہے، اس میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ یہ تبدیلیاں وقت اور خلا سے متعلق ہماری موجودہ فہم اور سمجھ کو چیلنج کر رہی ہیں۔

جنوبی کوریا کی ایک ٹیم کے تجزیے سے اشارہ ملا ہے کہ کائنات کے پھیلاؤ کے بجائے کشش ثقل کے ذریعے کہکشائیں دوبارہ اکٹھی ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے کو ماہرین فلکیات ’بگ کرنچ‘ کہتے ہیں۔

اس تجزیے میں شامل سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ وہ فلکیات کی سب سے بڑی دریافتوں میں سے ایک کے قریب ہیں۔

دیگر ماہرین فلکیات نے ان نتائج پر سوال اٹھایا لیکن یہ ناقدین جنوبی کوریا کی ٹیم کے دعوؤں کو مکمل طور پر رد نہیں کر سکے۔

’ڈارک انرجی‘ کیا ہے؟

ماہرین فلکیات پہلے سمجھتے تھے کہ کائنات کی توسیع، جو تقریباً 13.8 ارب سال پہلے بگ بینگ سے شروع ہوئی تھی، کشش ثقل کی وجہ سے آہستہ آہستہ سست ہو جانی چاہیے۔
پھر 1998 میں ڈارک انرجی کے شواہد دریافت ہوئے جو کائنات کی توسیع کو تیز کرنے والی قوت کے طور پر سامنے آئے۔

بہت روشن دھماکوں کے ساتھ پھٹنے والے ستاروں جنھیں ’سپرنووا‘ کہا جاتا ہے، کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ دور دراز کہکشائیں رفتار کم کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے دور ہو رہی تھیں۔

کیا مصنوعی ذہانت انسان کی فہم و رائے کو مغلوب کر سکتی ہے؟

ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں انسان اپنی عقل و فکر کی تخلیقات سے خود ہی چیلنج ہونے لگا ہے۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نہ صرف ہماری روزمرہ زندگی، تعلیمی نظام، اور تجارتی فیصلوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ اب انسان کے شعور، رائے، اور فکری خودمختاری کو بھی آزما رہی ہے۔

یہ سوال محض سائنسی یا تکنیکی نوعیت کا نہیں، بلکہ ایک گہرا فلسفیانہ، سماجی اور روحانی سوال ہے:

"کیا ایک بے جان مشین، جو ڈیٹا اور الگورتھمز پر مبنی ہو، انسان کی فہم و دانش، رائے اور وجدان پر حاوی ہو سکتی ہے؟"

اس مضمون میں ہم اس سوال کا تجزیہ تین سطحوں پر کریں گے:

  1. فکری و علمی سطح

  2. نفسیاتی و معاشرتی سطح

  3. روحانی و اخلاقی سطح

 فکری و علمی سطح: علم کی حقیقت اور AI کی برتری

مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی طاقت اس کی علمی وسعت اور تجزیاتی رفتار ہے۔ وہ اربوں صفحات، کتابیں، ویڈیوز، اور سوشل میڈیا بیانات کو ایک لمحے میں پڑھ کر معنی خیز خلاصہ پیش کر سکتی ہے۔

ٓمصنوعی ذہانت (AI ) کے دورمیں چند اہم سوالات جو ہر نوجوان کو خود سے پوچھنے چاہییں۔

مہارتیں یا مطابقت پذیری(Adaptability) ؟ — مستقبل کی دوڑ میں اصل ضرورت کیا ہے؟

دنیا ہمیشہ سے بدلتی رہی ہے، مگر آج کی دنیا کچھ زیادہ ہی تیز ہو گئی ہے۔ وہ دنیا جس میں ہم صبح آنکھ کھولتے ہیں، شام تک کچھ اور ہو چکی ہوتی ہے۔ نہ علوم وہی رہے، نہ تقاضے۔ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ آپ کے پاس کون سی مہارت ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آپ بدلنے کے لیے تیار ہیں؟

یہی وہ نکتہ ہے جسے ماہرین آج بار بار دہرا رہے ہیں:

"معیشت میں، سکلز سے زیادہ مطابقت پذیری (Adaptability) اہم ہو گی۔"

لیکن آخر یہ بات کہی کیوں جا رہی ہے؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ آئیے، اس فکری دریا میں اترتے ہیں۔

مہارتیں: ایک بدلتی ہوئی حقیقت

آج سے کچھ دہائیاں پہلے، اگر کوئی شخص ٹائپنگ سیکھ لیتا، مشین چلانا جان لیتا، یا کسی فیکٹری میں ایک خاص ہنر میں ماہر ہوتا، تو وہ عمر بھر کے روزگار کا یقین رکھتا تھا۔ مہارت ایک طرح کی "نوکری کی گارنٹی" ہوتی تھی۔

مگر اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔

مصنوعی ذہانت: انسانی عظمت کا مظہر یا پر خطر چیلنج؟ – ایک قرآنی تجزیہ

ہم جس عہد میں جی رہے ہیں، وہ ٹیکنالوجی، علم، اور رفتار کا عہد ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) اس تیز رفتاری کا نقطۂ عروج بن چکا ہے۔ آج ایک فرد واحد لاکھوں صفحات، خیالات، تحقیق، اور گفتگوؤں سے چند لمحوں میں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بعض لوگ اس ترقی سے خوفزدہ ہیں کہ AI انسان کو مغلوب نہ کر دے، مگر ایک فکر رکھنے والا مؤمن جانتا ہے کہ AI، انسان کی عقل، سعی، اور الٰہی عطا کردہ علم کا ہی مظہر ہے — نہ کہ اس کا نعم البدل۔

قرآن کا انسان: عقل، علم، اور خلافت کا پیکر

قرآن انسان کو محض مٹی کا پتلا قرار نہیں دیتا بلکہ اسے ایسی مخلوق کہتا ہے جسے علم، شعور، عقل، اور روح سے ممتاز کیا گیا۔ ارشادِ ربانی ہے:

﴿لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ فِيٓ أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ﴾
"یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔" (التين: 4)

﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيٓ آدَمَ وَحَمَلْنَـٰهُمْ فِي ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ وَرَزَقْنَـٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَـٰتِ وَفَضَّلْنَـٰهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًۭا﴾
"اور ہم نے بنی آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی و تری میں سوار کیا، اور پاکیزہ رزق دیا، اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں برتری دی۔" (الإسراء: 70)

انسان کو علم کی فضیلت: AI اسی علم کا عکس

اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیگر مخلوقات پر فضیلت علم کی بنیاد پر دی۔ ارشاد ہوتا ہے:

﴿وَعَلَّمَ آدَمَ ٱلْأَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى ٱلْمَلَـٰٓئِكَةِ فَقَالَ أَنۢبِـُٔونِى بِأَسْمَآءِ هَـٰٓؤُلَآءِ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ﴾
"اور (اللہ نے) آدم کو تمام نام سکھا دیے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: اگر تم سچے ہو تو ان کے نام بتاؤ۔" (البقرة: 31)

یہ آیت انسان کی ادراکی، لسانی، اور سیکھنے کی صلاحیت کا اعلان ہے، اور یہ صلاحیت ہی AI کی تخلیق کا سرچشمہ بنی۔

یوال نوح حراری سے ایک فکری گفتگو اور اس پر تبصرہ

 یوال نوح حراری ایک اسرائیلی مؤرخ، مفکر، اور فلسفی ہیں، جنہوں نے تاریخ، انسانیت، اور مستقبل کے حوالے سے غیر معمولی شہرت پائی ہے۔ وہ عبرانی یونیورسٹی یروشلم میں تاریخ کے پروفیسر ہیں اور ان کی تحریریں انسانی تہذیب، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل دنیا، اور ارتقائی نفسیات جیسے موضوعات کو گہرائی سے چھوتی ہیں۔

یوال نوح حراری

حراری کی تین عالمی شہرت یافتہ کتابیں:

  1. Sapiens: A Brief History of Humankind – انسانی تاریخ کا ارتقائی جائزہ

  2. Homo Deus: A Brief History of Tomorrow – انسان کا مستقبل اور مصنوعی ذہانت کی حکمرانی

  3. 21 Lessons for the 21st Century – اکیسویں صدی کے فکری، اخلاقی، اور سماجی چیلنجز

وہ مذہب، قوم پرستی، سرمایہ داری، اور ڈیجیٹل کنٹرول جیسے موضوعات پر تنقیدی اور فکری انداز میں گفتگو کرتے ہیں، اور ان کا انداز تحریر سادہ مگر فکری طور پر گہرا ہوتا ہے۔ ان کے بقول:

"کہانیوں اور افسانوں کی طاقت نے انسان کو جانوروں سے ممتاز کیا، اور یہی کہانیاں آج بھی دنیا پر حکومت کر رہی ہیں۔"

آئیے اب ہم یوال نوح حراری کے خیالات، فلسفے، اور دنیا کے بارے میں ان کے وژن پر مبنی ایک فرضی مگر حقیقت پر مبنی مکالمہ ترتیب دیتے ہیں۔ اس مکالمے کا اسلوب ایسا ہو گا گویا کوئی معروف دانشور یا صحافی ان کا انٹرویو کر رہا ہو، اور ان کے خیالات انہی کی زبان سے سامنے آ رہے ہوں — جیسے کسی عالمی فکری ٹاک شو کا سیگمنٹ ہو۔


 یوال نوح حراری سے ایک فکری گفتگو

عنوان: "انسان، ڈیٹا، اور مستقبل کا خدا: یوال نوح حراری کی زبانی"

میزبان: حراری صاحب، آپ کی کتاب Sapiens نے انسانی تاریخ کو نئے زاویے سے پیش کیا۔ آپ کا بنیادی نظریہ کیا ہے کہ انسان باقی جانوروں سے کیسے مختلف ہوا؟

ہماری زمین کی ساخت کیسی ہے ؟

زمین ایک پیچیدہ اور متحرک نظام ہے جس کی ساخت اور سیسمولوجیکل خصوصیات ہمیں نہ صرف زمین کی تشکیل اور ارتقاء کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ زلزلوں اور دیگر قدرتی مظاہر کے پیچھے موجود سائنسی عمل کو بھی واضح کرتی ہیں۔ ذیل میں اس نظام کے اہم پہلوؤں کی تفصیل دی جا رہی ہے:

1. زمین کی پرتیں اور ساخت

  • قشر (Crust):
    زمین کی بیرونی سطح جو ٹھوس چٹانوں پر مشتمل ہے۔ یہ پرت نسبتاً پتلی ہے اور مختلف جغرافیائی خصوصیات جیسے پہاڑ، میدانی علاقے اور سمندری تہہ پر محیط ہے۔

  • مینٹل (Mantle):
    قشر کے نیچے واقع، مینٹل جزوی طور پر پگھلا ہوا مادہ ہے جو آہستہ آہستہ اپنی حرکات کے ذریعے زمین کی سطح میں تبدیلیاں لاتا ہے۔ یہ پرت زلزلوں اور آتش فشانی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

  • نیوکلیس (Core):
    نیوکلیس دو حصوں پر مشتمل ہے: بیرونی نیوکلیس جو مائع اور اندرونی نیوکلیس جو ٹھوس ہے۔ یہ پرت زمین کے مقناطیسی میدان کی تشکیل میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

اگر سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہو تو ہمارے نظام زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ؟

اگر سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہو، جیسا کہ حدیثِ نبوی ﷺ میں ایک بڑی قیامت کی نشانی کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، تو یہ زمین کے موجودہ فزیکل، ماحولیاتی، اور سوشل سسٹمز پر انتہائی گہرے اور ناقابلِ تصور اثرات مرتب کرے گا۔ آئیے اس ممکنہ تغیر کے سائنسی اور سماجی پہلوؤں کا تجزیہ کرتے ہیں:

1. سائنسی اور ماحولیاتی اثرات:

(الف) زمین کی گردش میں بنیادی تبدیلی

  • سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ممکنہ طور پر زمین کی محوری گردش کی سمت میں تبدیلی یا الٹاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔

  • یہ تبدیلی زمین کے مقناطیسی میدان میں بڑے پیمانے پر خلل پیدا کرے گی، جو مواصلاتی نظام، برقی آلات، اور جی پی ایس پر انحصار کرنے والے نیویگیشن سسٹمز کو تباہ کر سکتی ہے۔

(ب) دن اور رات کے معمولات میں زبردست خلل

  • موجودہ دن رات کے چکر میں شدید بے ترتیبی ہوگی، جس سے موسمیاتی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

  • درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلیاں متوقع ہیں، کیونکہ زمین کا ماحولیاتی توازن بگڑ جائے گا۔

(ج) موسمی تبدیلیاں اور قدرتی آفات

  • موسموں کا حساب کتاب بدل جائے گا، اور زراعت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

  • سمندری طوفان، زلزلے، اور سونامی جیسے قدرتی مظاہر شدت اختیار کر سکتے ہیں کیونکہ زمین کا اندرونی توازن متاثر ہوگا۔

2. معاشرتی، تکنیکی، اور اقتصادی اثرات:

(الف) ہوائی اور بحری نیویگیشن

  • ہوائی جہازوں، بحری جہازوں اور زمینی سفر کے تمام نیویگیشن سسٹمز کو ازسرِ نو ترتیب دینا پڑے گا کیونکہ جی پی ایس اور کمپاسز کی سمتیں تبدیل ہو جائیں گی۔

  • مقناطیسی شمال اور جغرافیائی شمال کے درمیان تعلق متاثر ہوگا، جس سے سفری راستے اور نیویگیشن کے اصول مکمل طور پر بدل جائیں گے۔

(ب) بنکنگ سسٹم اور تجارتی امور

  • عالمی وقت کے نظام (UTC) کو مکمل طور پر نئے سرے سے ترتیب دینا پڑے گا، کیونکہ ٹائم زونز کی ترتیب بدل جائے گی۔

  • اسٹاک مارکیٹ، بینکنگ اوقات، اور دیگر مالیاتی نظام متاثر ہوں گے کیونکہ عالمی معیشت ایک مستحکم وقت کے نظام پر منحصر ہے۔

مقناطیس کی دریافت

 مقناطیس کی دریافت ایک قدیم اور دلچسپ تاریخ رکھتی ہے۔ سب سے پہلے انسان نے مقناطیس اور اس کی کشش کو قدرتی طور پر موجود "لوڈ اسٹون"(1) (Lodestone) یا "چمک پتھر" کی مدد سے دریافت کیا، جو قدرتی طور پر مقناطیسی صلاحیت رکھتا ہے۔

قدیم دور میں مقناطیس کی دریافت اور استعمال

1. قدیم یونان (600 ق م)

  • سب سے پہلے یونانی فلسفی "تھلیز آف ملیٹس" (Thales of Miletus) نے 600 قبل مسیح میں مشاہدہ کیا کہ لوڈ اسٹون لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

  • وہ اسے ایک قدرتی خاصیت سمجھتے تھے اور اس پر غور و فکر کرتے رہے، لیکن اسے سائنسی انداز میں بیان نہ کر سکے۔

2. چین (تقریباً 200 ق م)

  • چینیوں نے سب سے پہلے مقناطیس کو سمت معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا۔

  • قدیم چینی قطب نما (Magnetic Compass) 200 قبل مسیح میں استعمال ہونے لگا، جو سمندری جہازوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوا۔

  • چینی لوگ "مقناطیسی پتھر" کو ایک چمچ کی شکل میں تراش کر پانی میں رکھتے، جس کا دستہ ہمیشہ جنوب کی طرف اشارہ کرتا۔

3. ہندوستان اور عرب دنیا

  • ہندوستانی اور عربی کتب میں بھی مقناطیس کا ذکر ملتا ہے۔

  • ابن سینا (980-1037) نے اپنی کتاب "کتاب الشفا" میں مقناطیس کی کشش کے اصولوں پر بحث کی۔

  • عرب بحری جہاز راہنمائی کے لیے مقناطیسی پتھر کا استعمال کرتے تھے۔

ڈیپ سیک اور چیٹ جی پی ٹی کے درمیان موازنہ: دوڑ میں کون آگے؟


گراہم فریزر
عہدہ,ٹیکنالوجی رپورٹر
29 جنوری 2025
چین نے مصنوعی ذہانت کی اپنی ایپ ڈیپ سیک کو لانچ کیا کیا کہ دنیا بھر کی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل پیدا ہو گئی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے امریکی ٹیک انڈسٹری کے لیے ’خطرے کی گھنٹی‘ کہنے پر مجبور ہو گئے۔

ڈیپ سیک کا دعویٰ ہے کہ اس کی مصنوعی ذہانت کا ماڈل آر-1 ان کے حریفوں کے ماڈل کی لاگت کے مقابلے میں انتہائی کم لاگت میں تیار کیا گیا ہے۔ اس دعوے نے پوری صنعت کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں اور اس کی وجہ سے دنیا کی کچھ بڑی کمپنیوں کی قدر میں کمی بھی واقع ہوئی ہے۔

ڈیپ سیک لانچ ہونے کے صرف ایک ہفتے بعد امریکہ میں سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی مفت ایپ بن گئی ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ پہلے سے مستحکم اور بظاہر بہت زیادہ مہنگے اپنے امریکی حریفوں جیسے اوپن اے آئی، چیٹ جی پی ٹی، اور گوگل کے جیمنائی کے مقابلے میں کہاں کھڑی ہے۔

لکھنے میں معاونت

جب آپ چیٹ جی پی ٹی سے پوچھتے ہیں کہ اس کے استعمال کی سب سے بڑی وجوہات کیا ہیں تو وہ ان وجوہات میں لوگوں کی لکھنے میں مدد کا دعوی کرتا ہے۔
یہ اپنے استعمال کرنے والوں کے لیے ایک مددگار فارمیٹ میں معلومات اکٹھا کرنے، ان کا خلاصہ پیش کرنے سے لے کر بہت سارے موضوع پر بلاگ پوسٹ لکھنے تک کا آلہ بن گيا ہے۔

اس طرح یہ بہت سے لوگوں کے لیے ان کے دفتری کاموں میں معاون ساتھی بن گيا ہے۔

سکاٹ لینڈ کی فٹبال ٹیم کے ایک قابل فخر پرستار کے طور پر میں نے چیٹ بوٹس سے ’تاریخ کے بہترین سکاٹش فٹبال کھلاڑیوں کے خلاصہ پر مبنی ایک بلاگ پوسٹ کا مسودہ تیار کرنے‘ کا کہا۔ ایسا ہی میں نے چیٹ جی پی ٹی اور ڈیپ سیک سے کہا کہ وہ سکاٹش فٹبال کے بہترین کھلاڑیوں کا خلاصہ پیش کریں۔ڈیپ سیک نے سیکنڈوں میں جواب دیا اور چوٹی کے دس بہترین کھلاڑیوں کی فہرست تیار کر دی جس میں لیورپول اور سیلٹک کے کینی ڈالگلش کو پہلے نمبر پر رکھا گيا تھا۔ اس نے ان کھلاڑیوں کے بارے میں یہ معلومات بھی فراہم کی کہ وہ کون سی پوزیشن سے کھیلتے ہیں اور ان کے کلب کون کون سے ہیں جبکہ کہ ان کی نمایاں کارکردگیوں کا خلاصہ بھی پیش کیا۔

لیپ ٹاپ کو ہر وقت بجلی پر لگانا یا بیٹری پر چلانا، آخر بہتر کیا ہے؟



بی بی سی اردو 
۲۵ مارچ ۲۰۲۱ ء 

 لیپ ٹاپ کا استعمال کرنے والے ایک عام سوال اکثر پوچھتے ہیں کہ اس کی بیٹری لائف کو کیسے بڑھایا جائے یا کم از کم اس کے بار بار ختم ہونے کو کیسے کم کیا جائے۔

حالانکہ تمام بیٹریاں وقت گزرنے کے ساتھ خراب ہوتی ہیں لیکن بہت سے لیپ ٹاپ استعمال کرنے والے صارفین یہ سوال کرتے ہیں کہ جس طرح ہم انھیں استعمال کرتے ہیں کیا اس میں تبدیلی سے ان کی کارکردگی میں کوئی فرق آ سکتا ہے یعنی یہ زیادہ دیر تک قابل استعمال رہیں۔

اگر ایسا ہے تو ہم بیٹریوں کو کیسے استعمال کریں؟ کیا ہم انھیں ہر وقت سو فیصد چارج رکھیں یا ان کے چارجنگ لیول کے مطابق انھیں بجلی کے پلگ سے لگاتے اور ہٹاتے رہیں۔

بی بی سی منڈو نے اس سلسلے میں چند ٹیکنالوجی ماہرین سے بات کی ہے کہ بیٹریاں استعمال کرنے کا بہترین طریقہ کار کیا ہے۔بیٹری لائف

موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرز کی بیٹریاں زیادہ تر لیتھیم سے تیار کردہ ہوتی ہیں۔

ٹیکنالوجی کمپنی لینووو کی آئرلینڈ اور برطانیہ میں چیف ٹیکنالوجی آفیسر ایشلی رولف کا کہنا ہے کہ ’بیٹری لائف کی ٹیکنالوجی ہر نسل کے ساتھ بہتر سے بہتر ہوتی گئی ہے۔ دس سال پہلے لیپ ٹاپ بیٹریوں کی کارکردگی چند سو مرتبہ چارج کرنے کے بعد کم ہونا شروع ہوجاتی تھی۔‘

‘لیکن اب لیپ ٹاپ بیٹریوں کی کارکردگی عمومی طور پر تین سے پانچ برس تک کام کرتی ہے جس دوران اس کو پانچ سو سے ایک ہزار مرتبہ چارج کیا جا سکتا ہے۔‘

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں توانائی کی ٹیکنالوجی کے ایک محقق کینٹ گریفتھ نے بی بی سی ورلڈ کو بتایا کہ ’آپ چاہتے ہیں کہ بیٹری آپ کو چارج کے مطابق ہر حد تک زیادہ سے زیادہ توانائی دے اور تین سے پانچ سال تک کام کرے۔'

اس توازن کو کیسے حاصل کیا جائے؟

ٹیکنالوجی کمپنی لینووو کے رولف کا کہنا ہے کہ ’اپنے لیپ ٹاپ کو ہر وقت بجلی کے ساتھ لگائے رکھنا اور بیٹری کو ہر وقت سو فیصد چارج رکھنا بالکل محفوظ اور عام بات ہے۔‘

انھوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’لینووو یا دیگر کمپنیوں کے تیارکردہ لیپ ٹاپ کمپیوٹروں میں ایسے سینسرر اور کنٹرول لاجک کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ لیپ ٹاپ کی بیٹری اوور چارج یا زیادہ گرم نہ ہو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تاہم بیٹری کو ہر وقت چارج پر رکھنا اور سو فیصد رکھنے سے اس کی لائف میں کچھ کمی ہو جاتی ہے۔‘

کرپٹو کرنسی اور مصنوعی ذہانت سمیت سال 2025 میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں کیا کچھ ہو گا؟

 

بی بی سی اردو 
6 جنبوری 2025 ء 

سنہ 2024 میں بٹ کوائن 100،000 ڈالر سے تجاوز کر گیا اور مصنوعی ذہانت سے آراستہ ڈیوائسز اور ایپس ہماری جیبوں اور فونز میں داخل ہو رہی ہیں، اب اس نئے سال میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہمارے لیے کیا کچھ ہو گا؟

بی بی سی ٹیکنالوجی آف بزنس ایڈیٹر بین مورس اور بی بی سی ٹیکنالوجی ایڈیٹر زوئی کلین مین نے آنے والے سال کے ٹاپ ٹرینڈز کا جائزہ لیا ہے۔

بین مورس، بی بی سی کے ٹیکنالوجی بزنس کے ایڈیٹر

جیسے جیسے 2022 اختتام کو پہنچا کرپٹو کرنسی کے کاروبار کے لیے یہ مایوس کن تھا۔ اس کی معروف ترین فرموں میں سے ایک ایف ٹی ایکس صارفین کے آٹھ ارب ڈالر کے فنڈز کے ساتھ دیوالیہ ہو گئی تھی۔مارچ 2024 میں کمپنی کے شریک بانی سیم بینکمین فریڈ کو صارفین اور سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کے جرم میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس سکینڈل نے پورے شعبے میں اعتماد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایسا لگتا تھا کہ کرپٹو کرنسیاں ایک خاص پروڈکٹ ہی رہیں گی، جس میں نسبتاً محدود ترقی ہو گی۔

لیکن صرف چند ماہ بعد اس صنعت میں ایک بار پھر امید جاگی۔ اس پرجوش ترقی کی لہر کے پیچھے پانچ نومبر کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی تھی۔ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کرپٹو کرنسی کے شعبے کے لیے زیادہ سازگار ہوں گے اور اب تک ایسا لگتا ہے۔

دسمبر کے اوائل میں نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) کے سابق کمشنر پال ایٹکنز کو وال سٹریٹ ریگولیٹر کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے لیے نامزد کریں گے۔

ایٹکنز کو، وال سٹریٹ ریگولیٹر کے چیئرمین کے عہدے سے سبکدوش ہونے والے سربراہ گیری جینسلر کے مقابلے میں کہیں زیادہ کرپٹو کرنسی کے حامی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اس اعلان نے ایک بٹ کوائن کی قیمت ایک لاکھ ڈالر تک بڑھانے میں مدد کی۔

سٹینڈرڈ چارٹرڈ میں ڈیجیٹل اثاثوں کی تحقیق کے عالمی سربراہ جیفری کینڈرک کہتے ہیں کہ ’ٹرمپ کی جیت کے بعد آپ تصور کر سکتے ہیں کہ 2025 میں آپ کو فعال ضابطے ملے گا۔ کچھ منفی ضوابط کو ختم کر دیا جائے گا جس کے بعد بینکوں اور دیگر اداروں کو شامل ہونے کی اجازت ملے گی۔‘

دنیا آج سے 30 سال بعد 2055 میں کیسی ہوگی؟



گراہم فریزر
عہدہ,ٹیکنالوجی رپورٹر
2 جنوری 2025
یہ سنہ 1995 کی بات ہے جب بی بی سی کے ’ٹوماروز ورلڈ‘ پروگرام یعنی مستقبل کی دنیا پر مبنی پروگرام میں یہ پیش گوئی کرنے کا فیصلہ کیا گیا کہ 30 سال بعد سنہ 2025 میں دنیا کیسی ہوگی۔

اگرچہ یہ شو اب نشر نہیں کیا جاتا ہے لیکن سنہ 1995 میں اس وقت کے سب سے مشہور سائنسدانوں میں سے ایک پروفیسر سٹیفن ہاکنگ نے پیش گوئی کی تھی کہ ’2025 تک ہم بڑی تبدیلیوں کی توقع کر سکتے ہیں۔‘

پروگرام کی ٹیم کو ان کی پیش گوئی سے اتفاق ہے کیونکہ اس دوران ہولوگرام سرجری سے لے کر دنیا کو متحیر کر دینے والی متعدد اختراعات ہوئیں۔

ایسے میں کچھ ماہرین کی مدد سے اور تین دہائیوں کے درمیان ہونے والی اختراعات کی روشنی میں ہم یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ’ٹوماروز ورلڈ‘ نامی پروگرام میں جو پیش گوئی کی گئی تھی اس میں سے کتنی سچ ثابت ہوئی ہیں۔

2005 ’سائبر سپیس فسادات‘

سنہ 1995 میں ورلڈ وائڈ ویب نے حقیقت کا روپ دھار لیا تھا اور اس پیش رفت کے بارے میں ’ٹوماروز ورلڈ‘ میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ یہ مستقبل میں مصیبت لائے گی۔

اس میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ ’بزنس بیرنز‘ اور بینک سنہ 2000 تک انٹرنیٹ کا کنٹرول سنبھال لیں گے، وہ ایک ’سپر نیٹ‘ قائم کریں گے اور اس تک سب کی رسائی نہیں ہوگی۔

اس کی وجہ سے ہیکنگ ہوگی، وائرس پھیلائے جائیں گے، یہاں تک کہ فسادات بھی ہو سکتے ہیں۔

ہمارا سورج ایک ’تنہا خانہ بدوش‘ ہے لیکن کیا اس کا کوئی جڑواں بھائی بھی تھا؟

بی بی سی اردو 
تاریخ اشاعت : ۲۹ دسمبر ۲۰۲۴ء 

ہماری کہکشاں میں بہت سے ستارے جوڑوں کی شکل میں موجود ہیں مگر ہمارا سورج اس فہرست میں شامل نہیں۔ تاہم اب سائنسدان ایسے ثبوت تلاش کر رہے ہیں کہ شاید اس کا بھی کوئی ساتھی تھا۔

سوال یہ ہے کہ وہ کہاں گیا؟

ہمارا سورج ایک تنہا خانہ بدوش کی مانند ہے۔ یہ چکر لگاتے ہوئے تقریباً ہر 230 لاکھ سال بعد ہمیں کہکشاں کے سفر پر لے جاتا ہے۔

سورج کے قریب ترین موجود ستارہ پروگزیما سینٹوری ہے جو کہ اس سے چار اعشاریہ دو نوری سالوں کے فاصلے پر ہے۔ یہ اتنا دور ہے کہ اس کو سورج تک پہنچنے کے لیے اب تک کی تیز ترین خلائی گاڑی بھی دی جائے تو اسے 7000 سال سے زیادہ عرصہ درکار ہو گا۔ہم جہاں کہیں اپنی کہکشاں میں دیکھتے ہیں ہمارے نظام شمسی کے مرکز میں موجود سورج ایک عجیب چیز معلوم ہوتا ہے۔ بائنری ستارے یعنی وہ ستارے جو کہکشاں کے گرد چکر لگاتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ سختی کے ساتھ جوڑے کے طور پر جڑے ہوتے ہیں اور عام سے نظر آتے ہیں۔

حال ہی میں ماہرین فلکیات نے ایک ایسے ہی جوڑے کا پتا لگایا جو غیر معمولی طور پر بلیک ہول کے بہت قریب چکر لگا رہا تھا اور یہ ہماری کہکشاں (ملکی وے) کے قلب میں ہے۔

سوئی کی نوک سے بھی چھوٹا مکھی کا دماغ جہاں سے ملنے والے رازوں نے سائنسدانوں کو حیرت میں مبتلا کیا

پلب گھوش  ( نامہ نگار برائے سائنس، بی بی سی) 


وہ پیروں کے بل چل سکتی ہیں، اُڑ سکتی ہیں، اور نر مکھی تو مادہ مکھی کا دل جیتنے کے لیے پیار بھرے گیت بھی گا سکتی ہے۔ اور یہ سب کچھ ایک ایسے دماغ کی مدد سے ممکن ہوتا ہے جو سوئی کی نوک سے بھی چھوٹا ہوتا ہے۔

پہلی بار سائنسدانوں نے تحقیق کے دوران مکھی کے سوئی کی نوک سے بھی چھوٹے دماغ میں موجود ایک لاکھ 30 ہزار خلیوں کی شکل، مقام اور حتیٰ کہ مکھی کے دماغ میں موجود پانچ کروڑ سے زیادہ ’کنکشنز‘ یعنی رابطوں کی غیر معمولی نشان دہی کی ہے۔

یہ کسی بھی بالغ کیڑے (حشرات) کے دماغ کا کیا گیا اب تک کا سب سے تفصیلی سائنسی جائزہ ہے جسے ماہرین نے انسانی دماغ کو سمجھنے کے عمل میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔ مکھی کے دماغ پر تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ کا دعویٰ ہے کہ اس سائنسی جائزے سے ’سوچنے کے عمل سے متعلق مزید تفصیلات معلوم ہوں گی۔‘

دنیا کے وہ پانچ ’سمارٹ‘ شہر جہاں ٹیکنالوجی اور دیگر سہولیات زندگی آسان بنا رہی ہیں

لنڈسے گیلوے 
بی بی سی | 20 جولائی 2024

ماحولیاتی تبدیلی اور بڑھتی گرمی کے ساتھ ساتھ شہروں کے لیے اپنے باسیوں کو ایک محفوظ مستقبل مہیا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن وہیں کچھ شہروں میں ایسے اقدامات لیے گئے ہیں جن کی وجہ سے وہاں رہنے والوں کو اپنا مستقبل روشن دکھائی دے رہا ہے۔

’سمارٹ سٹی‘ کہلائے جانے والے یہ شہر باقیوں کے لیے مثال قائم کر رہے ہیں۔

انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار منیجمنٹ ڈیویلپمنٹ (آئی ایم ڈی) بہترین معیارِ زندگی مہیا کرنے والے دنیا کے بہترین شہروں کی فہرست تیار کرتا ہے۔ اس فہرست کو تیار کرتے ہوئے ہر شہر کی معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ یہ فہرست ’سمارٹ سٹیز اِنڈیکس‘ کہلاتی ہے۔

اس سال آئی ایم ڈی نے اپنی پانچویں فہرست ’سمارٹ سٹیز اِنڈیکس 2024‘ شائع کی ہے جس کے لیے 142 شہروں کے باسیوں کا انٹرویو لیا گیا ہے۔

ان انٹرویوز میں لوگوں سے ان کے شہر میں دستیاب صحت اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات، سکیورٹی، ترقی کے مواقع، دیگر سرگرمیوں اور گورننس کے حوالے سے ان کی رائے لی گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال جنوبی امریکہ یا افریقہ کا ایک بھی شہر چوٹی کے 20 شہروں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ ان 20 شہروں میں سے 17 یورپ یا ایشیا میں واقع ہیں ہیں۔

یہ جاننے کے لیے کہ کیا چیز ان شہروں کو باقی جگہوں سے بہتر اور ’سمارٹ‘ بناتی ہے، ہم نے کچھ شہروں کے باسیوں سے بات کی۔

کینبرا، آسٹریلیا


انڈیکس میں آسٹریلیا کا دارالحکومت کینبرا تیسرے نمبر پر ہے۔ یہ اس فہرست میں شامل تین غیر ایشیائی یا یورپین شہروں میں سے ایک ہے۔

کینبرا کو اس کی صاف آب و ہوا اور ہریالی کے لیے امتیازی نمبرز ملے ہیں۔ اس کے علاوہ اس شہر کو یہاں بسنے والی اقلیتوں کو برابری کے سلوک اور ہم آہنگی کے احساس کی وجہ سے بھی سراہا گیا۔

تاہم یہ بات برائیڈن کیمپ بیل اور ڈیوڈ کیمپ بیل کے لیے حیران کن نہیں۔ یہ دونوں کینبرا میں واقع ایک کنسلٹنسی فرم ’برینڈ ریبیلین‘ کے بانی ہیں۔