" آج دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو اخلاق اور مقاصد زندگی کی ، یہ صرف انبیاء کرام اور آسمانی کتب میں ہیں ۔ آج دنیا کی تعمیر نو صرف اس طرح ممکن ہے کہ جو وسائل و زرائع جدید دور میں انسانوں نے پیدا کرلیے ان کی مدد سے اور انبیاء اور آسمانی کتب میں موجود انسانیت کے اخلاق اور مقاصد زندگی کی مدد سے دنیا کی تعمیر نو کی جائے ۔" (مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ )
ارادہ و مشیتِ الٰہی — قرآنی تصور اور ملحدانہ اعتراضات
کوانٹم کمپیوٹنگ: سہولت، طاقت اور خدشات کا نیا دور
کوانٹم فزکس اور قرآن مجید : یقین، امکان اور حقیقت کے نئے افق
ٹیکنالوجی کی بلندی اور دولت کا ارتکاز: 2025 کی عالمی معیشت پر چند افراد اور خاندان کا راج
ٹیکنالوجی کا غلبہ:
’ڈارک انرجی‘ میں عجیب و غریب ’تبدیلیاں‘: کیا واقعی کائنات پھر سے سِمٹ کر تباہ ہو جائے گی؟
کیا مصنوعی ذہانت انسان کی فہم و رائے کو مغلوب کر سکتی ہے؟
ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں انسان اپنی عقل و فکر کی تخلیقات سے خود ہی چیلنج ہونے لگا ہے۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نہ صرف ہماری روزمرہ زندگی، تعلیمی نظام، اور تجارتی فیصلوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ اب انسان کے شعور، رائے، اور فکری خودمختاری کو بھی آزما رہی ہے۔
یہ سوال محض سائنسی یا تکنیکی نوعیت کا نہیں، بلکہ ایک گہرا فلسفیانہ، سماجی اور روحانی سوال ہے:
"کیا ایک بے جان مشین، جو ڈیٹا اور الگورتھمز پر مبنی ہو، انسان کی فہم و دانش، رائے اور وجدان پر حاوی ہو سکتی ہے؟"
اس مضمون میں ہم اس سوال کا تجزیہ تین سطحوں پر کریں گے:
-
فکری و علمی سطح
-
نفسیاتی و معاشرتی سطح
-
روحانی و اخلاقی سطح
فکری و علمی سطح: علم کی حقیقت اور AI کی برتری
مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی طاقت اس کی علمی وسعت اور تجزیاتی رفتار ہے۔ وہ اربوں صفحات، کتابیں، ویڈیوز، اور سوشل میڈیا بیانات کو ایک لمحے میں پڑھ کر معنی خیز خلاصہ پیش کر سکتی ہے۔
ٓمصنوعی ذہانت (AI ) کے دورمیں چند اہم سوالات جو ہر نوجوان کو خود سے پوچھنے چاہییں۔
مہارتیں یا مطابقت پذیری(Adaptability) ؟ — مستقبل کی دوڑ میں اصل ضرورت کیا ہے؟
دنیا ہمیشہ سے بدلتی رہی ہے، مگر آج کی دنیا کچھ زیادہ ہی تیز ہو گئی ہے۔ وہ دنیا جس میں ہم صبح آنکھ کھولتے ہیں، شام تک کچھ اور ہو چکی ہوتی ہے۔ نہ علوم وہی رہے، نہ تقاضے۔ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ آپ کے پاس کون سی مہارت ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آپ بدلنے کے لیے تیار ہیں؟
یہی وہ نکتہ ہے جسے ماہرین آج بار بار دہرا رہے ہیں:
"معیشت میں، سکلز سے زیادہ مطابقت پذیری (Adaptability) اہم ہو گی۔"
لیکن آخر یہ بات کہی کیوں جا رہی ہے؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ آئیے، اس فکری دریا میں اترتے ہیں۔
مہارتیں: ایک بدلتی ہوئی حقیقت
آج سے کچھ دہائیاں پہلے، اگر کوئی شخص ٹائپنگ سیکھ لیتا، مشین چلانا جان لیتا، یا کسی فیکٹری میں ایک خاص ہنر میں ماہر ہوتا، تو وہ عمر بھر کے روزگار کا یقین رکھتا تھا۔ مہارت ایک طرح کی "نوکری کی گارنٹی" ہوتی تھی۔
مگر اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔
مصنوعی ذہانت: انسانی عظمت کا مظہر یا پر خطر چیلنج؟ – ایک قرآنی تجزیہ
ہم جس عہد میں جی رہے ہیں، وہ ٹیکنالوجی، علم، اور رفتار کا عہد ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) اس تیز رفتاری کا نقطۂ عروج بن چکا ہے۔ آج ایک فرد واحد لاکھوں صفحات، خیالات، تحقیق، اور گفتگوؤں سے چند لمحوں میں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بعض لوگ اس ترقی سے خوفزدہ ہیں کہ AI انسان کو مغلوب نہ کر دے، مگر ایک فکر رکھنے والا مؤمن جانتا ہے کہ AI، انسان کی عقل، سعی، اور الٰہی عطا کردہ علم کا ہی مظہر ہے — نہ کہ اس کا نعم البدل۔
قرآن کا انسان: عقل، علم، اور خلافت کا پیکر
قرآن انسان کو محض مٹی کا پتلا قرار نہیں دیتا بلکہ اسے ایسی مخلوق کہتا ہے جسے علم، شعور، عقل، اور روح سے ممتاز کیا گیا۔ ارشادِ ربانی ہے:
﴿لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ فِيٓ أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ﴾"یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔" (التين: 4)
﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيٓ آدَمَ وَحَمَلْنَـٰهُمْ فِي ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ وَرَزَقْنَـٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَـٰتِ وَفَضَّلْنَـٰهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًۭا﴾"اور ہم نے بنی آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی و تری میں سوار کیا، اور پاکیزہ رزق دیا، اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں برتری دی۔" (الإسراء: 70)
انسان کو علم کی فضیلت: AI اسی علم کا عکس
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیگر مخلوقات پر فضیلت علم کی بنیاد پر دی۔ ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَعَلَّمَ آدَمَ ٱلْأَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى ٱلْمَلَـٰٓئِكَةِ فَقَالَ أَنۢبِـُٔونِى بِأَسْمَآءِ هَـٰٓؤُلَآءِ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ﴾"اور (اللہ نے) آدم کو تمام نام سکھا دیے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: اگر تم سچے ہو تو ان کے نام بتاؤ۔" (البقرة: 31)
یہ آیت انسان کی ادراکی، لسانی، اور سیکھنے کی صلاحیت کا اعلان ہے، اور یہ صلاحیت ہی AI کی تخلیق کا سرچشمہ بنی۔
یوال نوح حراری سے ایک فکری گفتگو اور اس پر تبصرہ
یوال نوح حراری ایک اسرائیلی مؤرخ، مفکر، اور فلسفی ہیں، جنہوں نے تاریخ، انسانیت، اور مستقبل کے حوالے سے غیر معمولی شہرت پائی ہے۔ وہ عبرانی یونیورسٹی یروشلم میں تاریخ کے پروفیسر ہیں اور ان کی تحریریں انسانی تہذیب، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل دنیا، اور ارتقائی نفسیات جیسے موضوعات کو گہرائی سے چھوتی ہیں۔
![]() |
| یوال نوح حراری |
حراری کی تین عالمی شہرت یافتہ کتابیں:
-
Sapiens: A Brief History of Humankind – انسانی تاریخ کا ارتقائی جائزہ
-
Homo Deus: A Brief History of Tomorrow – انسان کا مستقبل اور مصنوعی ذہانت کی حکمرانی
-
21 Lessons for the 21st Century – اکیسویں صدی کے فکری، اخلاقی، اور سماجی چیلنجز
وہ مذہب، قوم پرستی، سرمایہ داری، اور ڈیجیٹل کنٹرول جیسے موضوعات پر تنقیدی اور فکری انداز میں گفتگو کرتے ہیں، اور ان کا انداز تحریر سادہ مگر فکری طور پر گہرا ہوتا ہے۔ ان کے بقول:
"کہانیوں اور افسانوں کی طاقت نے انسان کو جانوروں سے ممتاز کیا، اور یہی کہانیاں آج بھی دنیا پر حکومت کر رہی ہیں۔"
آئیے اب ہم یوال نوح حراری کے خیالات، فلسفے، اور دنیا کے بارے میں ان کے وژن پر مبنی ایک فرضی مگر حقیقت پر مبنی مکالمہ ترتیب دیتے ہیں۔ اس مکالمے کا اسلوب ایسا ہو گا گویا کوئی معروف دانشور یا صحافی ان کا انٹرویو کر رہا ہو، اور ان کے خیالات انہی کی زبان سے سامنے آ رہے ہوں — جیسے کسی عالمی فکری ٹاک شو کا سیگمنٹ ہو۔
یوال نوح حراری سے ایک فکری گفتگو
عنوان: "انسان، ڈیٹا، اور مستقبل کا خدا: یوال نوح حراری کی زبانی"
میزبان: حراری صاحب، آپ کی کتاب Sapiens نے انسانی تاریخ کو نئے زاویے سے پیش کیا۔ آپ کا بنیادی نظریہ کیا ہے کہ انسان باقی جانوروں سے کیسے مختلف ہوا؟
ہماری زمین کی ساخت کیسی ہے ؟
زمین ایک پیچیدہ اور متحرک نظام ہے جس کی ساخت اور سیسمولوجیکل خصوصیات ہمیں نہ صرف زمین کی تشکیل اور ارتقاء کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ زلزلوں اور دیگر قدرتی مظاہر کے پیچھے موجود سائنسی عمل کو بھی واضح کرتی ہیں۔ ذیل میں اس نظام کے اہم پہلوؤں کی تفصیل دی جا رہی ہے:
1. زمین کی پرتیں اور ساخت
-
قشر (Crust):زمین کی بیرونی سطح جو ٹھوس چٹانوں پر مشتمل ہے۔ یہ پرت نسبتاً پتلی ہے اور مختلف جغرافیائی خصوصیات جیسے پہاڑ، میدانی علاقے اور سمندری تہہ پر محیط ہے۔
-
مینٹل (Mantle):قشر کے نیچے واقع، مینٹل جزوی طور پر پگھلا ہوا مادہ ہے جو آہستہ آہستہ اپنی حرکات کے ذریعے زمین کی سطح میں تبدیلیاں لاتا ہے۔ یہ پرت زلزلوں اور آتش فشانی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
-
نیوکلیس (Core):نیوکلیس دو حصوں پر مشتمل ہے: بیرونی نیوکلیس جو مائع اور اندرونی نیوکلیس جو ٹھوس ہے۔ یہ پرت زمین کے مقناطیسی میدان کی تشکیل میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
اگر سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہو تو ہمارے نظام زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ؟
اگر سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہو، جیسا کہ حدیثِ نبوی ﷺ میں ایک بڑی قیامت کی نشانی کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، تو یہ زمین کے موجودہ فزیکل، ماحولیاتی، اور سوشل سسٹمز پر انتہائی گہرے اور ناقابلِ تصور اثرات مرتب کرے گا۔ آئیے اس ممکنہ تغیر کے سائنسی اور سماجی پہلوؤں کا تجزیہ کرتے ہیں:
1. سائنسی اور ماحولیاتی اثرات:
(الف) زمین کی گردش میں بنیادی تبدیلی
-
سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ممکنہ طور پر زمین کی محوری گردش کی سمت میں تبدیلی یا الٹاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
-
یہ تبدیلی زمین کے مقناطیسی میدان میں بڑے پیمانے پر خلل پیدا کرے گی، جو مواصلاتی نظام، برقی آلات، اور جی پی ایس پر انحصار کرنے والے نیویگیشن سسٹمز کو تباہ کر سکتی ہے۔
(ب) دن اور رات کے معمولات میں زبردست خلل
-
موجودہ دن رات کے چکر میں شدید بے ترتیبی ہوگی، جس سے موسمیاتی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
-
درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلیاں متوقع ہیں، کیونکہ زمین کا ماحولیاتی توازن بگڑ جائے گا۔
(ج) موسمی تبدیلیاں اور قدرتی آفات
-
موسموں کا حساب کتاب بدل جائے گا، اور زراعت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
-
سمندری طوفان، زلزلے، اور سونامی جیسے قدرتی مظاہر شدت اختیار کر سکتے ہیں کیونکہ زمین کا اندرونی توازن متاثر ہوگا۔
2. معاشرتی، تکنیکی، اور اقتصادی اثرات:
(الف) ہوائی اور بحری نیویگیشن
-
ہوائی جہازوں، بحری جہازوں اور زمینی سفر کے تمام نیویگیشن سسٹمز کو ازسرِ نو ترتیب دینا پڑے گا کیونکہ جی پی ایس اور کمپاسز کی سمتیں تبدیل ہو جائیں گی۔
-
مقناطیسی شمال اور جغرافیائی شمال کے درمیان تعلق متاثر ہوگا، جس سے سفری راستے اور نیویگیشن کے اصول مکمل طور پر بدل جائیں گے۔
(ب) بنکنگ سسٹم اور تجارتی امور
-
عالمی وقت کے نظام (UTC) کو مکمل طور پر نئے سرے سے ترتیب دینا پڑے گا، کیونکہ ٹائم زونز کی ترتیب بدل جائے گی۔
-
اسٹاک مارکیٹ، بینکنگ اوقات، اور دیگر مالیاتی نظام متاثر ہوں گے کیونکہ عالمی معیشت ایک مستحکم وقت کے نظام پر منحصر ہے۔
مقناطیس کی دریافت
مقناطیس کی دریافت ایک قدیم اور دلچسپ تاریخ رکھتی ہے۔ سب سے پہلے انسان نے مقناطیس اور اس کی کشش کو قدرتی طور پر موجود "لوڈ اسٹون"(1) (Lodestone) یا "چمک پتھر" کی مدد سے دریافت کیا، جو قدرتی طور پر مقناطیسی صلاحیت رکھتا ہے۔
قدیم دور میں مقناطیس کی دریافت اور استعمال
1. قدیم یونان (600 ق م)
-
سب سے پہلے یونانی فلسفی "تھلیز آف ملیٹس" (Thales of Miletus) نے 600 قبل مسیح میں مشاہدہ کیا کہ لوڈ اسٹون لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
-
وہ اسے ایک قدرتی خاصیت سمجھتے تھے اور اس پر غور و فکر کرتے رہے، لیکن اسے سائنسی انداز میں بیان نہ کر سکے۔
2. چین (تقریباً 200 ق م)
-
چینیوں نے سب سے پہلے مقناطیس کو سمت معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا۔
-
قدیم چینی قطب نما (Magnetic Compass) 200 قبل مسیح میں استعمال ہونے لگا، جو سمندری جہازوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوا۔
-
چینی لوگ "مقناطیسی پتھر" کو ایک چمچ کی شکل میں تراش کر پانی میں رکھتے، جس کا دستہ ہمیشہ جنوب کی طرف اشارہ کرتا۔
3. ہندوستان اور عرب دنیا
-
ہندوستانی اور عربی کتب میں بھی مقناطیس کا ذکر ملتا ہے۔
-
ابن سینا (980-1037) نے اپنی کتاب "کتاب الشفا" میں مقناطیس کی کشش کے اصولوں پر بحث کی۔
-
عرب بحری جہاز راہنمائی کے لیے مقناطیسی پتھر کا استعمال کرتے تھے۔
ڈیپ سیک اور چیٹ جی پی ٹی کے درمیان موازنہ: دوڑ میں کون آگے؟
لکھنے میں معاونت
لیپ ٹاپ کو ہر وقت بجلی پر لگانا یا بیٹری پر چلانا، آخر بہتر کیا ہے؟
حالانکہ تمام بیٹریاں وقت گزرنے کے ساتھ خراب ہوتی ہیں لیکن بہت سے لیپ ٹاپ استعمال کرنے والے صارفین یہ سوال کرتے ہیں کہ جس طرح ہم انھیں استعمال کرتے ہیں کیا اس میں تبدیلی سے ان کی کارکردگی میں کوئی فرق آ سکتا ہے یعنی یہ زیادہ دیر تک قابل استعمال رہیں۔
اگر ایسا ہے تو ہم بیٹریوں کو کیسے استعمال کریں؟ کیا ہم انھیں ہر وقت سو فیصد چارج رکھیں یا ان کے چارجنگ لیول کے مطابق انھیں بجلی کے پلگ سے لگاتے اور ہٹاتے رہیں۔
بی بی سی منڈو نے اس سلسلے میں چند ٹیکنالوجی ماہرین سے بات کی ہے کہ بیٹریاں استعمال کرنے کا بہترین طریقہ کار کیا ہے۔بیٹری لائف
موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرز کی بیٹریاں زیادہ تر لیتھیم سے تیار کردہ ہوتی ہیں۔
ٹیکنالوجی کمپنی لینووو کی آئرلینڈ اور برطانیہ میں چیف ٹیکنالوجی آفیسر ایشلی رولف کا کہنا ہے کہ ’بیٹری لائف کی ٹیکنالوجی ہر نسل کے ساتھ بہتر سے بہتر ہوتی گئی ہے۔ دس سال پہلے لیپ ٹاپ بیٹریوں کی کارکردگی چند سو مرتبہ چارج کرنے کے بعد کم ہونا شروع ہوجاتی تھی۔‘
‘لیکن اب لیپ ٹاپ بیٹریوں کی کارکردگی عمومی طور پر تین سے پانچ برس تک کام کرتی ہے جس دوران اس کو پانچ سو سے ایک ہزار مرتبہ چارج کیا جا سکتا ہے۔‘
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں توانائی کی ٹیکنالوجی کے ایک محقق کینٹ گریفتھ نے بی بی سی ورلڈ کو بتایا کہ ’آپ چاہتے ہیں کہ بیٹری آپ کو چارج کے مطابق ہر حد تک زیادہ سے زیادہ توانائی دے اور تین سے پانچ سال تک کام کرے۔'
اس توازن کو کیسے حاصل کیا جائے؟
ٹیکنالوجی کمپنی لینووو کے رولف کا کہنا ہے کہ ’اپنے لیپ ٹاپ کو ہر وقت بجلی کے ساتھ لگائے رکھنا اور بیٹری کو ہر وقت سو فیصد چارج رکھنا بالکل محفوظ اور عام بات ہے۔‘
انھوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’لینووو یا دیگر کمپنیوں کے تیارکردہ لیپ ٹاپ کمپیوٹروں میں ایسے سینسرر اور کنٹرول لاجک کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ لیپ ٹاپ کی بیٹری اوور چارج یا زیادہ گرم نہ ہو۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تاہم بیٹری کو ہر وقت چارج پر رکھنا اور سو فیصد رکھنے سے اس کی لائف میں کچھ کمی ہو جاتی ہے۔‘


.jpg)












