عالم اسلام کے حالات اور واقعات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
عالم اسلام کے حالات اور واقعات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کی "ڈیل" اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل


ڈونلڈ ٹرمپ کی 1987 کی مشہور زمانہ کتاب "دی آرٹ آف دی ڈیل" محض ایک کاروباری سوانح عمری نہیں بلکہ یہ ان کی اس مخصوص نفسیات کا آئینہ ہے جو ریاست کو ایک منافع بخش کارپوریشن اور سفارت کاری کو محض ایک تجارتی لین دین کے طور پر دیکھتی ہے۔ ٹرمپ صاحب کا فلسفہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریئل اسٹیٹ کی دنیا میں جو ہتھکنڈے کسی بلڈنگ کی خریداری میں کامیاب ثابت ہو سکتے ہیں، عالمی سیاست اور بالخصوص ایران جیسے پیچیدہ معاملے میں وہی طریقے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ سیاست کو کاروبار کی عینک سے دیکھنا اس لیے خطرناک ہے کیونکہ ایک تاجر کا حتمی مقصد صرف اور صرف اپنا فائدہ یا "جیت" ہوتا ہے، جبکہ ایک مدبر سیاست دان کا مقصد عالمی استحکام، انسانی جانوں کا تحفظ اور طویل مدتی امن ہوتا ہے۔

ٹرمپ صاحب کا ایران کے ساتھ مذاکرات کا انداز ان کی کتاب کے اسی فلسفے پر مبنی ہے جہاں وہ حریف کو معاشی دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے دیوار سے لگا کر اسے اپنی شرائط پر سودا کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں بحری ناکہ بندیوں کی باتیں اور تزویراتی دباؤ اسی "میکسیمم پریشر" پالیسی کا تسلسل ہیں، لیکن بین الاقوامی تعلقات میں یہ بھول جانا کہ قومیں اپنی خود مختاری اور غیرت پر سودا نہیں کرتیں، ایک بڑی سفارتی غلطی ہے۔ کاروبار میں اگر کوئی ڈیل ناکام ہو جائے تو صرف بینک بیلنس کم ہوتا ہے، لیکن عالمی سیاست میں ایک غلط قدم یا غلط فہمی پورے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہے، جس کی قیمت معصوم انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔

اسلام آباد مذاکرات: قرآن مجید کا زریں اصول "وَالصُّلْحُ خَيْرٌ" اور پاکستان کا کردار

 

تحریر: ڈاکٹر ابو البشر احمد طیب

اس وقت پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں، جہاں دو بڑے حریف، امریکہ اور ایران، ایک میز پر بیٹھے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سیاسی اور سفارتی بیٹھک ہے، لیکن اگر ہم اسے اسلامی تعلیمات اور قرآنِ حکیم کے آئینے میں دیکھیں تو یہ پاکستان کی جانب سے ایک عظیم دینی فریضے کی ادائیگی ہے۔
قرآن مجید کا زریں اصول ہے: "وَالصُّلْحُ خَيْرٌ" (اور صلح بہترین چیز ہے)۔ سورۃ النساء کی یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جنگ اور تصادم کے مقابلے میں تصفیہ اور مفاہمت ہمیشہ برتر راستہ ہے۔ پاکستان نے اسی قرآنی فلسفے کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد بناتے ہوئے دو متحارب گروہوں کے درمیان "خیر" کی راہ نکالی ہے۔
اسلامی ریاست کی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآنِ کریم سورۃ الحجرات میں واضح حکم دیتا ہے:
"اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو... پھر اگر وہ رجوع کریں تو عدل کے ساتھ ان کے درمیان اصلاح کر دو۔"
اگرچہ اس تنازع میں ایک فریق غیر مسلم ہے، مگر اسلام کا "اصولِ امن" آفاقی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے "میثاقِ مدینہ" اور "صلحِ حدیبیہ" کے ذریعے دنیا کو دکھایا کہ امن کے قیام کے لیے دشمن سے بات چیت کرنا اور بظاہر مشکل شرائط پر بھی صلح کرنا کتنا بڑا اہم ہے۔ پاکستان آج اسی سنتِ نبوی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایک "پل" کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات محض سیاسی نمبر گیم نہیں ہیں، بلکہ:
  1. امت کی بقا: ایران ایک برادر اسلامی ملک ہے، اس کی سلامتی خطے کے استحکام سے جڑی ہے۔
  2. انسانیت کی خدمت: جنگ کی صورت میں کروڑوں معصوم انسان لقمہ اجل بن سکتے ہیں، اور قرآن کہتا ہے کہ "جس نے ایک انسان کی جان بچائی، اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔"
  3. ثالث کا عدل: اسلام مطالبہ کرتا ہے کہ ثالث (Mediator) غیر جانبدار اور عادل ہو۔ پاکستان اس وقت دونوں فریقین کا اعتماد جیت کر اسی "عدل" کے منصب پر فائز ہے۔
عالمی دانشور اسے ایک سیاسی کامیابی کہہ رہے ہیں، لیکن ایک مسلمان کی نظر میں یہ "اصلاح بین الناس" کی وہ کوشش ہے جس کا اجر اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے۔ اگر پاکستان ان مذاکرات کے ذریعے خطے کو جنگ کی آگ سے نکالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف سفارتی فتح ہوگی بلکہ قرآن کے حکم "والصلح خیر" کی عملی تفسیر بھی ثابت ہوگی۔
آج اسلام آباد سے اٹھنے والی امن کی یہ آواز دراصل اس قرآنی پیغام کی گونج ہے کہ انسانیت کی بقا جنگ میں نہیں، بلکہ مکالمے اور صلح میں ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی اور موجودہ مشرق وسطی کی سنگین صورت حال

حدیثِ جبریل کے آئینے میں جب ہم آج کے عرب معاشرے اور مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، تو چودہ سو سال پہلے کی گئی پیش گوئیاں جیتی جاگتی حقیقت بن کر سامنے آتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ننگے پاؤں بکریاں چرانے والوں کے بلند و بالا عمارتوں میں مقابلے کا ذکر فرمایا تھا، تو یہ محض مادی ترقی کی خبر نہ تھی بلکہ ایک ایسی اخلاقی اور فکری تبدیلی کی طرف اشارہ تھا جہاں ترجیحات بدل جانی تھیں۔ آج دبئی، ابوظہبی اور سعودی عرب کے صحراؤں میں آسمان سے باتیں کرتے برج اور پرتعیش منصوبے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ وہ بدوی قوم جس کی پہچان سادگی اور فقر تھی، آج مادی ہوس کی اس دوڑ میں سب سے آگے نکل چکی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جیسے جیسے عمارتوں کی بلندی بڑھی، کردار کی بلندی میں اتنی ہی پستی آتی گئی۔ امارات جیسے ممالک میں جدیدیت اور سیاحت کے نام پر جس طرح عریانی، فحاشی اور نائٹ کلبز کو جگہ دی گئی، اس نے اس خطے کے اس اسلامی تشخص کو بری طرح مجروح کیا ہے جو کبھی پوری دنیا کے لیے حیا اور غیرت کا استعارہ تھا۔

یہ اخلاقی بگاڑ محض داخلی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس "الٰہی قانون" کو دعوت دے رہا ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے جواب میں کیا گیا کہ اللہ کا عہد ظالموں اور نافرمانوں کو نہیں پہنچے گا۔ جب مرکزِ اسلام کی سرزمین پر اللہ کی حدود پامال ہونے لگیں، حرمین کے پاس تفریحی میلے سجنے لگیں اور مظلوم فلسطینیوں کے خون پر مصلحت پسندی کی چادر تان کر ظالم قوتوں سے پینگیں بڑھائی جانے لگیں، تو پھر قدرت کا تازیانہ حرکت میں آتا ہے۔ موجودہ دور میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی اور عرب دنیا کا اس بھنور میں پھنسنا بظاہر ایک سیاسی بحران نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ وہی "عذاب کا کوڑا" محسوس ہوتا ہے جس کا ذکر قرآن کی مختلف آیات میں نافرمان قوموں کے لیے کیا گیا ہے۔

تہران میں نئے عہد کا آغاز: کیا مجتبیٰ خامنہ ای ایران کو بحران سے نکال پائیں گے؟


ایران کی مجلسِ خبرگان (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے 8 مارچ 2026 کو باضابطہ طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک مشترکہ امریکی و اسرائیلی فضائی حملے میں شہادت کے تقریباً ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی شخصیت ہمیشہ سے تہران کے سیاسی حلقوں میں ایک پرسرار اہمیت کی حامل رہی ہے۔ 1969 میں مشہد کے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے مجتبیٰ نے اگرچہ کبھی کوئی باضابطہ حکومتی یا عوامی عہدہ نہیں سنبھالا، لیکن وہ پسِ پردہ اپنے والد کے دفتر کے سب سے بااثر مہرے کے طور پر ابھرے۔ قم کے مدارس سے فارغ التحصیل یہ عالمِ دین صرف مذہبی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ ایران عراق جنگ کے دوران محاذِ جنگ پر ان کی موجودگی نے انہیں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے طاقتور جرنیلوں کے قریب کر دیا۔ یہی وہ تعلق ہے جو آج کے مشکل حالات میں ان کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آیا ہے، کیونکہ ایران کے موجودہ دفاعی ڈھانچے میں فوج اور قیادت کا ہم آہنگ ہونا بقا کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔

موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اس وقت ایک ایسی سیکیورٹی صورتحال سے دوچار ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ایک طرف اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم کی لہر ہے تو دوسری طرف معاشی پابندیوں نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے کندھوں پر اب صرف ایک ملک کو چلانے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ اس 'مزاحمتی بلاک' کی قیادت کا بوجھ بھی ہے جو تہران سے لے کر بیروت اور دمشق تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کا انتخاب یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی اسٹیبلشمنٹ فی الحال مغرب کے ساتھ کسی بڑے سمجھوتے یا پالیسی میں نرمی کے حق میں نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسی قیادت چاہتی ہے جو سخت گیر نظریات پر کاربند رہتے ہوئے نظام کا دفاع کر سکے۔

ایران، اسرائیل، امریکہ جنگ اور مغربی میڈیا کا منافقانہ رویہ


مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کی بو میں لپٹا ہوا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ہو یا اس کے پس منظر میں موجود امریکہ کی پالیسی—یہ سب کچھ کسی اچانک حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل استعماری تسلسل کی کڑیاں ہیں۔ اور اس پورے منظرنامے میں مغربی میڈیا کا کردار سوالیہ نشان بن چکا ہے؛ وہی میڈیا جو انسانی حقوق کا علَم بردار بن کر دنیا کو درس دیتا ہے، لیکن جب مظلوم کا تعلق مشرق سے ہو تو اس کی زبان گنگ اور آنکھ اندھی ہوجاتی ہے۔

غزہ کے حالیہ واقعات نے دنیا کے سامنے مغرب کے دوہرے معیار کو بے نقاب کردیا۔ غزہ میں بچوں، عورتوں اور نہتے شہریوں کی ہلاکتوں کو “دفاعِ خود” کا نام دیا جاتا ہے، جبکہ کسی بھی مزاحمت کو “دہشت گردی” قرار دے کر عالمی ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وہ بیانیہ ہے جو مغربی میڈیا مسلسل دہراتا ہے—الفاظ کا ایسا کھیل جس میں قاتل مظلوم اور مظلوم مجرم بنا دیا جاتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم سے لے کر آج تک عالمی طاقتوں کی سیاسی و معاشی بنیاد طاقت کے عدم توازن اور وسائل پر قبضے کی پالیسی پر کھڑی نظر آتی ہے۔ نوآبادیاتی نظام نے ایشیا اور افریقہ کو لوٹا، ان کی معیشتوں کو تباہ کیا اور مصنوعی سرحدیں کھینچ کر مستقل تنازعات کی بنیاد رکھ دی۔ آج اگر مشرقِ وسطیٰ آگ میں جل رہا ہے تو اس آگ کے شعلے ماضی کی انہی پالیسیوں سے بلند ہوئے ہیں۔

آبنائے ہرمز: طاقت کا مظاہرہ یا عالمی توازن کا امتحان


آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست اور بین الاقوامی کشیدگی کے مرکز میں آ کھڑی ہوئی ہے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حساس سمندری گزرگاہ میں جنگی مشقیں کی جائیں گی۔ اسی تناظر میں عالمی خبر رساں اداروں نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ایران نے شپنگ کمپنیوں کو باضابطہ نوٹس جاری کر کے آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیاں متوقع ہیں۔ اگرچہ بعض غیر مصدقہ ذرائع روس اور چین کی ممکنہ شمولیت کا ذکر کر رہے ہیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس کی تاحال کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس خاموشی نے خود اس اعلان کو مزید معنی خیز بنا دیا ہے۔

یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکہ کے تعلقات ایک بار پھر شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ جوہری معاہدے کے تعطل، امریکی پابندیوں، خطے میں امریکی بحری موجودگی اور اسرائیل-غزہ جنگ کے اثرات نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نازک مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے خلیج اور اس کے اطراف میں بحری بیڑوں کی موجودگی ایران کے لیے محض ایک عسکری چیلنج نہیں بلکہ ایک مسلسل سیاسی دباؤ بھی ہے۔ ایسے ماحول میں آبنائے ہرمز میں جنگی مشقوں کا اعلان دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے کے مقابلے کے لیے تیار ہے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو آمادہ نہیں۔

نیکی کا معیار اور مسلم دنیا کی گمشدہ روح

سورۃ البقرہ کی آیت 177 قرآن مجید کی اُن جامع ترین آیات میں سے ہے جو دین کو محض عبادات، ظاہری علامات اور سمتوں تک محدود کرنے کے بجائے ایک مکمل فکری، اخلاقی، سماجی اور معاشی نظام کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ آیت اُس پس منظر میں نازل ہوئی جب قبلہ کی تبدیلی کو بنیاد بنا کر دین کی اصل روح کو پس منظر میں دھکیلا جا رہا تھا۔ قرآن نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ نیکی مشرق و مغرب کی طرف رخ کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ، آخرت، وحی اور نبوت پر ایمان، اس ایمان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سماجی احساس، مالی ایثار، اخلاقی دیانت اور مشکل حالات میں ثابت قدمی کا نام ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے آج کی مسلم دنیا کا بحران سمجھ میں آتا ہے۔

آج کی مسلم ریاستیں کاغذوں میں اسلامی ہیں، آئین میں اسلام درج ہے، جمعے کی تعطیل ہے، مساجد آباد ہیں، مگر ریاستی سطح پر عدل ناپید، امانت مفقود اور جواب دہی کا تصور کمزور ہے۔ اقتدار کو غنیمت، وسائل کو ذاتی ملکیت اور عوام کو محض رعایا سمجھا جاتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمان محض عقیدہ نہیں بلکہ وہ اخلاقی قوت ہے جو حکمران کو ظالم بننے سے روکتی ہے، اداروں کو دیانت سکھاتی ہے اور ریاست کو عوام کی خدمت پر مجبور کرتی ہے۔ جہاں عدل نہ ہو وہاں قبلہ درست ہونے کے باوجود نیکی کا دعویٰ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔

اسی آیت میں نیکی کا دوسرا بڑا معیار مال کا درست مصرف ہے۔ قرآن رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور محروم طبقات کا ذکر کر کے دراصل ایک معاشی فلسفہ پیش کرتا ہے، جس کی بنیاد دولت کی گردش اور سماجی توازن پر ہے۔ مگر آج مسلم معاشروں میں دولت چند خاندانوں اور طبقوں میں سمٹ چکی ہے، جبکہ اکثریت مہنگائی، بے روزگاری اور قرض کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ زکوٰۃ موجود ہے مگر نظام نہیں، صدقات ہیں مگر ریاستی سطح پر سماجی انصاف کا کوئی مضبوط ڈھانچہ نظر نہیں آتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ عبادت گاہوں کے سائے میں بھوک، افلاس اور محرومی پل رہی ہے، جو قرآن کے تصورِ نیکی سے صریح انحراف ہے۔

بنگلہ دیش کا نوجوان انقلابی لیڈر شریف عثمان ہادی : سیاسی جدوجہد، شہادت اور بنگلہ دیشی سیاست پر اس کے اثرات



شریف عثمان بن ہادی (Sharif Osman Bin Hadi)، جو عثمان ہادی کے نام سے مشہور تھے، بنگلہ دیش کے ایک ابھرتے ہوئے نوجوان سیاسی رہنما اور سماجی کارکن تھے جن کی المناک شہادت نے ملک کی موجودہ اور مستقبل کی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ وہ جولائی 2024 کے طلبہ کی زیرقیادت تحریک کے ایک اہم اور مقبول چہرے تھے، جس کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔

سیاسی جدوجہد اور عروج

32 سالہ عثمان ہادی نے "انقلاب منچ" (Inqilab Mancha) نامی طلبہ سیاسی پلیٹ فارم کے شریک بانی اور ترجمان کے طور پر قومی سطح پر مقبولیت حاصل کی۔ ان کی جدوجہد کی نمایاں خصوصیات درج ذیل تھیں:جولائی انقلاب: وہ جولائی 2024 کی اس عوامی اور طلبہ تحریک میں صف اول کے رہنماؤں میں شامل تھے، جس نے حسینہ واجد کی 15 سالہ آمرانہ حکومت کا خاتمہ کیا۔

بھارت مخالف موقف: ہادی بھارت کی مبینہ "بالادستی" کے سخت ناقد تھے اور "گریٹر بنگلہ دیش" کے پرجوش حامی تھے۔ ان کا یہ موقف انہیں نوجوانوں اور حکومت مخالف حلقوں میں خاصا مقبول بناتا تھا۔
جمہوریت اور احتساب: ان کا پلیٹ فارم پرانے سیاسی نظام کے خلاف تھا اور "جولائی کے شہداء" کے لیے انصاف اور عوامی لیگ کو سیاست سے مکمل طور پر بے دخل کرنے کا مطالبہ کرتا تھا۔

انتخابی سیاست: حسینہ حکومت کے خاتمے اور نگران حکومت کے قیام کے بعد، ہادی نے فروری 2026 میں ہونے والے عام انتخابات میں ڈھاکہ سے آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

سید ابوالحسن علی ندویؒ: فکری امتیازات و خصائص ۔ ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

انیسویں صدی کے اواخر میں عالم اسلام سیاسی، عسکری اور علمی و فکری زوال کی انتہا کو پہنچ رہا تھا اور بیسویں صدی کے آغاز تک مغربی استعمار عالم اسلام کے حصے بخیے کرنے اور خلافت کے ادارہ کو توڑنے میں کامیاب ہوچکاتھا۔اس ناگفتہ بہ صورت حال نے عالم اسلام میں بے چینی کی ایک لہر دوڑادی اور ہر طرف علماے راسخین اور مجاہدین آزادی اٹھ کھڑے ہوئے۔ مختلف اسلامی تحریکات اور شخصیات دنیائے اسلام کے کونے کونے میں پان اسلام ازم اور احیائے اسلام کے مبارک و مقدس کاز کے لیے سرگرم عمل ہوگئیں۔ 

یہ زمانہ افکار و نظریات کی شکست و ریخت کا زمانہ تھا۔ مغرب کے صنعتی و سائنسی انقلاب نے وہاں کے حالات یکسر بدل دیے تھے۔ افکار و خیالات کی دنیا میں ایک نمایاں تغیر آچکا تھا، اب جاگیر داری ختم ہورہی تھی اور اس کی جگہ شراکت جمہور نے لے لی تھی۔ سرمایہ داری کی پرانی شکلیں تبدیل ہوکر اب بین الاقوامی تجارتی ادارے (M.N.C.S) قائم ہورہے تھے۔ موروثی بادشاہت اور آمریت کی طنابیں بیسویں صدی کی ہوائے حریت سے یکے بعد دیگرے ٹوٹ رہی تھیں۔ مزدوروں کے استحصال نے سرمایہ دارانہ نظام اور بورژروا طبقہ کے خلاف سخت معاندانہ رجحانات پیداکردیے تھے۔انفرادی ملکیت کی بجائے اب سیاست و معیشت کے اداروں میں پرولتاریہ خیالات کی گونج سنائی دے رہی تھی اور یہ فکر زندگی کے ہر شعبہ کو شدت سے متاثر کرنے لگا تھا۔

سانحہ غزہ: ضمیرِ انسانی کی بیداری اور اسلام کی نئی بازگشت

تاریخ کے جبر نے ایک بار پھر انسانیت کو آئینہ دکھایا ہے۔ غزہ کے زخمی چہروں، معصوم لاشوں، ملبے تلے سسکتی ماؤں اور اجڑی ہوئی بستیوں نے نہ صرف مسلم دنیا کو دہلا دیا، بلکہ اُس مغربی ضمیر کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے جو صدیوں سے انسانی حقوق، آزادی اور تہذیبی اقدار کے نعرے لگاتا آیا ہے۔

سانحہ غزہ نے امریکہ اور یورپ کے سلیم الفطرت غیر مسلم دانشوروں، پروفیسروں، لکھاریوں اور یونیورسٹیوں کے حساس نوجوانوں کو ایک فکری زلزلے سے دوچار کر دیا ہے۔ وہ نوجوان جو کبھی تہذیبِ مغرب کے ناقابلِ شکست ہونے کا یقین رکھتے تھے، اب ظلم و جبر کے اس اندوہناک منظرنامے میں اپنی تہذیب کی منافقت، دوہرا معیار، اور طاقت پرستی کا نوحہ پڑھنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

یہ بیداری محض وقتی احتجاج یا مظاہروں کی صورت میں نہیں بلکہ ایک گہری فکری بےچینی، ضمیر کی خلش اور صداقت کی تلاش کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ انہیں پہلی بار شدت سے یہ احساس ہوا ہے کہ تہذیب کا مطلب صرف تکنیکی ترقی یا سیاسی بالادستی نہیں، بلکہ اس کا اصل جوہر عدل، رحم، اور انسانی وقار کی حفاظت ہے — جو چیز مغربی تہذیب اپنے تمام تر دعوؤں کے باوجود غزہ میں مہیا نہ کر سکی۔

یہی بےچینی اُنہیں اِس سوال کی طرف لے آئی ہے کہ:
اگر مغربی تہذیب انسانیت کی اعلیٰ ترین صورت ہے تو وہ اس قدر ظالم، اندھی اور خاموش کیوں ہے؟
یہ سوال صرف تہذیبوں کے درمیان فرق کا نہیں، بلکہ اُن کی روحانی بنیادوں، اخلاقی ساخت اور نظریاتی اساس کا ہے۔ اور اسی سوال نے اُنہیں مجبور کیا ہے کہ وہ اسلام، قرآن مجید، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی طرف پلٹ کر دیکھیں۔

مسلم دنیا کی سیاسی و مذہبی قیادت کا فکری تضاد اور اس کا حل

مسلم دنیا اس وقت فکری، سیاسی اور تہذیبی بحران سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف مغربی تہذیب و تعلیم سے متاثر حکمران طبقہ ہے، جو اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہے، اور دوسری طرف عوام میں اثر و رسوخ رکھنے والے علما ہیں، جن کا دینی علم تو مضبوط ہے مگر وہ عصر حاضر کی ریاستی و عالمی سیاست کے تقاضوں سے اکثر ناآشنا ہیں۔ ان دونوں طبقات کے درمیان ایک فکری خلیج حائل ہے، جس نے مسلم معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ نتیجتاً، نہ تو اسلامی نظامِ حیات نافذ ہو سکا، اور نہ ہی مغربی ماڈل سے کوئی پائیدار ترقی حاصل ہوئی۔

نوآبادیاتی دور کے بعد مسلم دنیا میں جو قیادت ابھری، وہ مغربی تعلیمی اداروں سے تربیت یافتہ تھی۔ ان کے نزدیک ترقی کا پیمانہ صرف صنعتی ترقی، مغربی جمہوریت، سیکولر قانون، اور مغربی طرزِ معیشت تھا۔ انہوں نے اسلامی تاریخ، تمدن، اور فقہ کو دقیانوسیت سمجھا اور مذہب کو نجی زندگی تک محدود کر دیا۔ انہوں نے ریاستی ڈھانچے، عدلیہ، تعلیم، معیشت اور میڈیا کو مغرب کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی، جس سے مسلم معاشروں کی تہذیبی شناخت مجروح ہوئی۔

دوسری جانب علمائے کرام کا طبقہ ہے، جو اگرچہ اسلامی علوم میں مہارت رکھتا ہے، مگر اکثر جدید ریاستی نظام، گلوبل پالیٹکس، معیشت، ٹیکنالوجی اور سائنس سے ناآشنا ہے۔ ان کی اکثریت نے صرف روایتی مذہبی اداروں میں تعلیم حاصل کی، جس سے وہ ایک محدود دائرے میں مؤثر ضرور ہیں، مگر ریاستی سطح پر وہ فیصلہ سازی میں شامل نہیں۔ ان کی اپروچ ماضی پرست اور اجتہادی فکر سے خالی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے جدید نسل ان سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

یہ فکری خلیج مسلم معاشرے کو دو انتہاؤں میں بانٹ چکی ہے: ایک طرف مذہب سے بیزار، مغرب زدہ اشرافیہ؛ اور دوسری طرف روایت زدہ، جدیدیت سے ناآشنا دینی طبقہ۔ اس تقسیم نے امت کی اجتماعی قوت کو زائل کر دیا ہے۔ ریاستیں ظاہری ترقی کے باوجود کرپشن، ظلم، بدامنی اور غربت کا شکار ہیں۔ نہ اسلامی عدل میسر ہے، نہ مغربی خوشحالی۔

ایک افغان پناہ گزین کا سوال : "کیا پاکستان میں ہمارے لیے کوئی حقوق نہیں؟"

 1. تاریخی تناظر:

پاکستان نے 1979ء سے لے کر اب تک لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو اپنی سرزمین پر جگہ دی۔ یہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک تاریخی فیصلہ تھا، جو اسلامی اخوت، مشترکہ ثقافت، اور ہمسائیگی کے جذبے سے سرشار تھا۔ مگر وقت کے ساتھ یہ جذبہ کمزور ہوتا گیا اور پالیسیوں نے انسانی فطرت سے زیادہ سیاسی و سیکورٹی خدشات کی صورت اختیار کرلی۔

2. قانونی حیثیت کی کمی:

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے 1951 کے Refugee Convention اور 1967 کے Protocol پر دستخط نہیں کیے۔ نتیجتاً، پاکستان میں پناہ گزینوں کے حقوق کو قانونی تحفظ حاصل نہیں۔ افغان پناہ گزینوں کی حیثیت اکثر ایک مبہم، غیر مستحکم، اور عارضی درجے کی رہی ہے، جس میں ان کی بنیادی انسانی ضروریات — تعلیم، صحت، روزگار، اور نقل و حرکت — کو مکمل تسلیم نہیں کیا گیا۔

3. پالیسیوں کا تضاد:

افغان پناہ گزینوں کے ساتھ پاکستان کا رویہ کئی دہائیوں میں تبدیل ہوتا رہا۔ کبھی ریاستی سرپرستی میں ان کی امداد کی گئی، تو کبھی "واپسی" کے اعلانات اور زبردستی اخراج کی خبریں سامنے آئیں۔ یہ تضاد خود پناہ گزینوں کی نفسیاتی اور معاشی حالت کو مزید غیر مستحکم کرتا ہے۔

مسئلہ فلسطین کی بدلتی ہوئی جہتیں(Dynamics): ایک جائزہ

مسئلہ فلسطین محض ایک علاقائی تنازع نہیں، بلکہ ایک کثیرالجہتی، پیچیدہ اور تاریخی سانحہ ہے جو گزشتہ ایک صدی سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا محور بنا ہوا ہے۔ اس مسئلے کی کئی جہتیں (ڈائنامکس)  ہیں ان کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے تاریخی پس منظر، زمینی حقائق، عالمی سیاست، اور حالیہ پیش رفتوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ آج جب دنیا ایک نئی عالمی صف بندی کی طرف بڑھ رہی ہے، مسئلہ فلسطین کے ڈائنامکس بھی نئے رخ اختیار کر رہے ہیں۔

تاریخی تناظر: نوآبادیاتی سازش کا تسلسل

مسئلہ فلسطین کی بنیاد 1917ء کے اعلانِ بالفور اور پھر 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے ساتھ رکھی گئی۔ برطانوی سامراج کی سرپرستی میں یہودی آبادکاری کے لیے فلسطینی سرزمین پر ظلم کی ایک منظم داستان رقم کی گئی۔ فلسطینیوں کی زمینیں، گھر، ثقافت اور وجود ایک منظم منصوبے کے تحت چھینے گئے۔ اس عمل نے صرف ایک ریاست کو جنم نہیں دیا، بلکہ مشرق وسطیٰ میں دائمی کشمکش کا بیج بویا۔

جغرافیائی اور اسٹریٹیجک ڈائنامکس

فلسطین محض ایک قوم یا زمین کا نام نہیں، بلکہ یہ خطہ بحیرہ روم، مصر، اردن، لبنان اور شام جیسے اہم ممالک کے سنگم پر واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسی صرف فلسطین تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیے ہوئے ہے۔

غزہ اور مغربی کنارے کی تقسیم، یہودی بستیوں کی مسلسل توسیع، القدس کی حیثیت کو بدلنے کی کوششیں — یہ سب جغرافیائی اور سیاسی ڈائنامکس کا حصہ ہیں جو زمین پر قبضے اور حقِ خود ارادیت کے درمیان جنگ کو مسلسل بڑھا رہے ہیں۔

امت مسلمہ کی تعمیر نو: فکری بیداری سے سیاسی آزادی تک مسلم دانشوروں کا کردار

تاریخِ انسانی کی سب سے بامقصد اور بابرکت تحریک "بعثت محمدیﷺ" تھی، جس نے غلام انسان کو آزاد، منتشر قوم کو متحد، اور گمشدہ انسانیت کو منزل آشنا کیا۔ تاہم آج، وہی امت مسلمہ جسے "خیر امت" کہا گیا، فکری زوال، سیاسی محکومی، معاشی انحطاط، سائنسی پسماندگی، اور عسکری کمزوری کا شکار ہے۔ سانحۂ غزہ جیسے المناک واقعات نہ صرف ہماری بے بسی کا آئینہ ہیں بلکہ اس بات کا تقاضا بھی کہ مسلم دانشور اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور امت کی فکری و عملی تعمیر نو کے لیے عملی جدوجہد کریں۔

1. فکری تجدید اور نظریاتی احیاء

1.1 اسلامی ورلڈ ویو کی تشکیل نو

مغربی فکر نے دنیا کو مادیت، فردیت، اور سیکولرازم کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ مسلم دانشوروں کا اولین فریضہ ہے کہ وہ قرآنی تصورِ انسان، توحیدِ ربوبیت، اور عدلِ اجتماعی کو ایک مربوط نظامِ فکر کے طور پر پیش کریں۔ اس فکر کا مرکز بندے اور رب کے تعلق کی بحالی اور "اُمۃ وسطاً" کی ذمہ داری کا شعور ہونا چاہیے۔

مسئلہ فلسطین : انسانی حقوق کا مغربی بیانیہ بے نقاب

ہم اگر امریکہ کے کردار کا غیر جانب دار اور تجزیاتی انداز میں مطالعہ کریں تو کئی پہلو سامنے آتے ہیں جو نہ صرف اس کی پالیسیوں کی منافقت کو بے نقاب کرتے ہیں، بلکہ عالمی ضمیر، حقوقِ انسانی کے دعوے، اور اقوام متحدہ کے اداروں کی ساکھ کو بھی سوالیہ نشان بناتے ہیں۔

1. امریکہ کی واضح جانبداری:

 اسرائیل کی غیر مشروط حمایت:

  • امریکہ مالی، عسکری، سفارتی، اور سیاسی ہر میدان میں اسرائیل کا سب سے بڑا حامی ہے۔

  • حالیہ جنگ میں ہزاروں فلسطینیوں کے بے گناہ قتل، بچوں کی شہادت، اسپتالوں اور امدادی قافلوں پر حملے جیسے مظالم کے باوجود، امریکہ نے اقوام متحدہ کی سیزفائر قراردادوں کو ویٹو کیا۔

  • یہ واضح کرتا ہے کہ امریکہ کے نزدیک "اسرائیلی مفاد" ہی اصل ترجیح ہے، چاہے اس کی قیمت انسانیت ہی کیوں نہ ہو۔

مسئلہ فلسطین : یورپ امریکہ کی منافقت اور چین روس کی خاموشی حکمت یا مصلحت ؟

دنیا ایک بار پھر تاریخ کے اُس موڑ پر کھڑی ہے جہاں انصاف، حقوقِ انسانی، اور تہذیبِ انسانی کے دعوے دار بے نقاب ہو چکے ہیں۔ غزہ کی سرزمین پر بہنے والا ہر قطرۂ خون، صرف ایک انسانی المیہ نہیں بلکہ مغربی اخلاقی بیانیے کی شکست کا اعلان ہے۔ اور اس بحران میں، امریکہ کا کردار سب سے زیادہ متنازع، منافقانہ اور غیر اخلاقی نظر آ رہا ہے۔

مگر اس پوری صورتحال میں دو بڑی طاقتیں – چین اور روس – ایک خاص طرزِ سکوت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے: کیا یہ خاموشی بزدلی ہے؟ یا حکمت؟ اور کیا واقعی یہ دونوں طاقتیں امریکہ کی زوال پذیر قیادت کے بعد دنیا کو ایک نئے عالمی نظام کی طرف لے جا سکتی ہیں؟

امریکہ: آزادی اور انصاف کا منافقانہ علمبردار

امریکہ جو خود کو عالمی "مسیحا"، جمہوریت کا پرچم بردار، اور حقوقِ انسانی کا محافظ کہتا ہے، اس وقت فلسطینی نسل کشی پر اسرائیل کا غیر مشروط حامی بنا کھڑا ہے۔

  • ہزاروں بچوں کی شہادت،

  • اسپتالوں، اسکولوں اور امدادی قافلوں پر حملے،

  • اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو ویٹو کرنا،

یہ سب کچھ دنیا کو بتا رہا ہے کہ امریکی اخلاقیات کی بنیاد طاقت، مفاد اور نسل پرستی پر کھڑی ہے۔

مسلم حکمران اور امت کی زبوں حالی — ایک تنقیدی تجزیہ


آج اگر ہم دنیا کے سیاسی نقشے پر نظر دوڑائیں، تو ایک حقیقت نہایت تلخ مگر واضح دکھائی دیتی ہے: امت مسلمہ، جسے کبھی دنیا کی قیادت کا شرف حاصل تھا، آج پستی، محکومی، اور بے بسی کی تصویر بن چکی ہے۔ معاشی بدحالی، سیاسی غلامی، فکری انحطاط اور معاشرتی بحران نے مسلم دنیا کو چاروں طرف سے جکڑ رکھا ہے۔ اور اگر ان زخموں کے ذمہ داروں کی فہرست مرتب کی جائے، تو سب سے اوّل نام خود مسلم دنیا کے حکمرانوں اور ارباب اختیار کا آتا ہے۔

یہ وہ طبقہ ہے جو اقتدار کو امانت کے بجائے دولت، طاقت اور ذاتی مفاد کا ذریعہ سمجھ بیٹھا ہے۔ ان کے اندر بددیانتی، علمی و فکری جہالت، اخلاقی پستی، ظلم و جبر، کرپشن، اقربا پروری، عوامی رائے کے استحصال، اور آزادی اظہار کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ قوموں کے لیے جو قیادت بصیرت، صداقت، عدل، خدمت اور قربانی کی علامت ہوتی ہے، مسلم دنیا میں وہی قیادت بدنامی، ظلم اور خوف کی علامت بن چکی ہے۔

آج جب فلسطین کے نہتے عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، جب ماؤں کی گود اجڑ رہی ہے، جب معصوم بچوں کی لاشیں زمین پر بکھری پڑی ہیں، تو ایسے میں ۵۵ سے زائد مسلم ممالک کے حکمرانوں کی بے حسی، بزدلی اور منافقت امت کے لیے کسی زخم سے کم نہیں۔ زبانی مذمتوں، رسمی بیانات اور اقوام متحدہ کے کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی سے نہ فلسطینیوں کے زخم بھر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے شہداء کو انصاف مل سکتا ہے۔

امتِ مسلمہ: ایک جاں، ہزار قالب

کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے ہم ایک خواب کی کرچیاں چن رہے ہیں… ایک ایسا خواب جسے تاریخ کے بوسیدہ اوراق میں کہیں سجا کر رکھ دیا گیا ہو۔

مگر نہیں، یہ خواب نہیں، یہ ایک روحانی حقیقت ہے… ایک عقیدہ، ایک احساس، ایک رشتہ، جو دلوں کو جوڑتا ہے، آنکھوں کو نم کرتا ہے، اور اذان کے ہر ترنم میں بازگشت دیتا ہے کہ:

"إِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمْ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ..."  (الأنبیاء: 92)

یہ امتِ مسلمہ ہے...
نہ قوم کی قید میں، نہ رنگ و نسل کی زنجیروں میں...
بلکہ سجدوں کی روانی میں، روزوں کی تھکن میں، اور حج کے لباسِ سفید میں سمٹی ہوئی ایک جیتی جاگتی اکائی۔

کیا امت مسلمہ کا تصور ختم ہو چکا ہے؟

غزہ کے جلتے چہروں، ٹوٹتے خوابوں اور معصوم لاشوں کے ساتھ صرف انسانیت ہی نہیں، امت مسلمہ کے تصور پر یقین رکھنے والوں کا دل بھی چکناچور ہو چکا ہے۔ اس المناک منظرنامے نے جہاں ظالموں کے چہرے بےنقاب کیے، وہیں ایک کربناک سوال بھی جنم دیا:

"کیا واقعی امت مسلمہ کا تصور محض ایک خیالی، کتابی بات ہے؟"

یہ سوال ایک فرد کی مایوسی نہیں، ایک پوری نسل کے سوالات کی بازگشت ہے۔

❓ امت مسلمہ: حقیقت یا خیال؟

یہ کہنا کہ امت مسلمہ کا تصور ختم ہو چکا ہے، ایک سطحی، وقتی اور جذباتی نتیجہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ کا تصور:

  • قرآن سے نکلا ہے:

    "إِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمْ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ وَأَنَا۠ رَبُّكُمْ فَٱعْبُدُونِ"   (الأنبیاء: 92)

  • نبی ﷺ کی سنت سے جڑا ہے:

    "المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضاً"  (بخاری و مسلم)

یعنی امت مسلمہ کا تصور نظریاتی، روحانی، اور فطری حقیقت ہے، جسے کسی سیاسی زوال یا معاشی مفادات سے مٹایا نہیں جا سکتا۔

بدلتا عالمی منظرنامہ اور تنازعات: 2024 کی جنگوں نے نئی دشمنیاں کیسے پیدا کیں اور 2025 میں کیا ہو گا؟


فرینک گارڈنر
عہدہ,بی بی سی نامہ نگار برائے سکیورٹی
1 جنوری 2025
سنہ 2001 میں جب نائین الیون حملوں کے بعد میں نے بی بی سی کے لیے گلوبل سکیورٹی کے نامہ نگار کے طور پر کام کرنا شروع کیا تب سے لے کر اب تک یہ سال سب سے زیادہ ہنگامہ خیز رہا ہے۔

شام میں صدر بشارالاسد کی اچانک معزولی، شمالی کوریا کے فوجیوں کا روس کے لیے جنگ لڑنا، یوکرین کا برطانیہ اور امریکہ کی جانب سے بھیجے گئے میزائلوں سے روس پر حملہ، روس کو ایرانی میزائلوں کی فراہمی، امریکی اسلحے سے مسلح اسرائیل کے غزہ اور لبنان پر فضائی حملے، یمن سے اسرائیل پر میزائلوں کا داغا جانا۔

تنازعات کا ایک جال دکھائی دیتا ہے جس میں سب پھنسے نظر آتے ہیں: اس ساری صورتحال کے پیشِ نظر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا میں جاری تنازعات اور جنگیں پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ آپس میں منسلک ہیں۔

لیکن اس سب سے پہلے ایک چیز واضح کرتے چلیں کہ یہ تیسری عالمی جنگ نہیں ہے۔ حالانکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن مغربی ممالک کو یوکرین کو مزید اسلحہ فراہم کرنے سے باز رکھنے کے لیے تیسری عالمی جنگ سے ڈرا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ 

تاہم یہ بات تو واضح ہے کہ دنیا میں چل رہے بیشتر تنازعات کا ایک عالمی تناظر ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ساری چزیں ایک دوسری سے کیسے جڑی ہوئی ہیں۔

اس کے لیے ہم مشرقی یورپ میں فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے چل رہی جنگ سے شروع کرتے ہیں۔

ہماری دہلیز پر جاری یورپ کی جنگ


’ان کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ وہ یہاں مرنے آ رہے ہیں۔ یہ ان کے لیے بہت بڑا سر پرائز ہوگا۔‘ یہ کہنا تھا یوکرینی فوج کے رستم نوگودین کا۔یوکرین میں میدانِ جنگ سے ایسی میڈیا رپورٹس سامنے آئیں کہ روس کی جانب سے لڑنے کے لیے آنے والے شمالی کوریا کے بیشر فوجی انٹرنیٹ پر پورن دیکھنے میں مگن ہیں۔ یہ ایک ایسی چیز تھی جو ان کو اپنے ملک میں دستیاب نہیں۔

تاہم ان سب خبروں سے ہٹ کر جو بات سب سے زیادہ قابل غور ہے وہ یہ کہ شمالی کوریا کے فوجیوں کی اس جنگ میں شرکت نے اس تنازع کو نیا رخ دے دیا ہے۔ ان کی آمد کے بعد امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے یوکرین سے پابندی ہٹالی کہ وہ ان کے فراہم کردہ دور تک مار کرنے والے میزائلوں سے روس کی حدود کے اندر حملہ نہیں کر سکتا۔

شمالی کوریا سے آنے والے فوجیوں کی تعداد 10 ہزار سے 12 ہزار کے درمیان ہے۔ تاہم اتنی تعداد بھی یوکرین جیسے ملک کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے جسے افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔

اگلے مورچوں پر موجود یوکرینی کمانڈر رستم نوگودین کہتے ہیں کہ شمالی کوریا سے آنے والے فوجی اتنے اچھے نہیں لیکن اس کے باوجود 10 ہزار فوجی تقریباً دو بریگیڈ کی مشترکہ تعداد ہوتی ہے۔ ’یاد رکھیے کہ محض دو بریگیڈ نے روس کو خارکیو سے پیچھے دھکیل دیا تھا۔‘