دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدانوں میں جہاں حیران کن پیش رفت ہو رہی ہے، وہیں ایک خاموش بحران بھی جنم لے رہا ہے—زبانوں کا خاتمہ۔ ماہرینِ لسانیات کے مطابق دنیا کی ہزاروں زبانیں بتدریج معدوم ہو رہی ہیں۔ ایسے میں ایک سوال پوری شدت سے ابھرتا ہے: آخر کون سی زبانیں وقت کی اس کڑی آزمائش میں باقی رہیں گی؟
اسی تناظر میں گزشتہ چند دہائیوں میں ایک نیا علمی میدان سامنے آیا جسے Universal Science of Linguistics کہا جاتا ہے۔ اس علم کا باقاعدہ اعلان 2003 میں University of London میں کیا گیا، اور بعد ازاں امریکی جامعات نے بھی اس پر تحقیق شروع کی۔ اس علم کا مقصد دنیا کی تمام زبانوں کا ایک ساتھ مطالعہ کرنا، ان کے نحوی نظام (افعال، اسماء، ضمائر، صفات) کو سمجھنا اور ان کے باہمی “جینیاتی تعلق” کو جانچنا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون سی زبان کس ماخذ سے نکلی ہے۔
ماہرِ لسانیات David Crystal کے مطابق انسانیت کی ابتدا ایک “مادری زبان” سے ہوئی تھی، جو کسی نہ کسی صورت میں آج بھی زندہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ زبان کون سی ہے؟ اس کا جواب ابھی تحقیق کے مراحل میں ہے، تاہم بعض ماہرین عربی کو اس کے قریب ترین قرار دیتے ہیں۔
اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں۔ دنیا میں بولی جانے والی ہزاروں زبانوں میں سے سینکڑوں ختم ہو چکی ہیں، اور ہر ہفتے ایک زبان کے مرنے کی خبر سامنے آتی ہے۔ زبان کے مرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے الفاظ مٹ جاتے ہیں، بلکہ یہ کہ وہ عوامی استعمال سے نکل کر صرف کتابوں یا چند ماہرین تک محدود ہو جاتی ہے—جیسے Latin یا حالیہ مثال Nubian language۔
زبانوں کے زوال کی کئی وجوہات ہیں:
مختصر اور تیز رفتار اظہار کی ضرورت، پیچیدہ صرف و نحو سے اجتناب، اور جدید تقاضوں کو پورا نہ کر پانا۔ جب کوئی زبان اپنے زمانوں (ماضی، حال، مستقبل)، ضمائر اور اظہار کی وسعت کھو دیتی ہے تو وہ “معذور” ہو جاتی ہے۔
یہاں عربی زبان ایک منفرد مثال کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہ زبان نہ صرف اپنے تمام نحوی نظام کے ساتھ برقرار ہے بلکہ اس میں اظہار کی حیرت انگیز وسعت بھی موجود ہے۔ اندازہ ہے کہ عربی کے الفاظ کی تعداد لاکھوں بلکہ ملینز میں ہے، جب کہ دیگر بڑی زبانیں اس کے مقابلے میں کہیں کم ذخیرہ الفاظ رکھتی ہیں۔