![]() |
| موجودہ عالم اسلام کا نقشہ ( اے ای تخلیق) |
" آج دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو اخلاق اور مقاصد زندگی کی ، یہ صرف انبیاء کرام اور آسمانی کتب میں ہیں ۔ آج دنیا کی تعمیر نو صرف اس طرح ممکن ہے کہ جو وسائل و زرائع جدید دور میں انسانوں نے پیدا کرلیے ان کی مدد سے اور انبیاء اور آسمانی کتب میں موجود انسانیت کے اخلاق اور مقاصد زندگی کی مدد سے دنیا کی تعمیر نو کی جائے ۔" (مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ )
بیسویں صدی کے ہمارے اسلاف کے خواب اور آج کے عالمِ اسلام کا سیاسی منظرنامہ
برید فرنگ از علامہ سید سلیمان ندوی
(نوٹ : "بریدِ فرنگ" علامہ سید سلیمان ندوی ؒ کے ان تاریخی خطوط کا مجموعہ ہے جو انہوں نے 1920ء میں تحریکِ خلافت کے وفد کے رکن کی حیثیت سے یورپ (انگلستان اور فرانس) کے سفر کے دوران ہندوستان میں اپنے رفقاء، خاص طور پر دار المصنفین اعظم گڑھ کے ساتھیوں کو لکھے تھے۔ فارسی میں "برید" کے معنی ڈاک یا قاصد کے ہیں، اس لیے فرنگ (یورپ) سے بھیجی گئی اس علمی و سیاسی ڈاک کو "بریدِ فرنگ" کا نام دیا گیا۔ ان مکتوبات میں جنگِ عظیم اول کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کی بقا اور اسلامی مقاماتِ مقدسہ کے تحفظ کے لیے کی جانے والی سفارتی جدوجہد، برطانوی حکام سے ملاقاتوں کے احوال، اور وفد کی سرگرمیوں کو نہایت تفصیل سے قلمبند کیا گیا ہے۔ سید سلیمان ندوی نے ایک حساس عالمِ دین اور گہرے مبصر کی نظر سے یورپی طرزِ تمدن اور وہاں کے معاشرے کا تنقیدی مشاہدہ کرنے کے ساتھ ساتھ خطوط میں دار المصنفین کے علمی کاموں اور رسالہ "معارف" کی اشاعت سے متعلق ہدایات بھی شامل کی ہیں۔ اپنے سادہ، سلیس اور دلکش اسلوب کی وجہ سے یہ مجموعہ محض روایتی خطوط نہیں بلکہ ایک تاریخی سفرنامے اور ڈائری کی حیثیت رکھتا ہے، جو بیسویں صدی کے آغاز میں مسلم بیداری، بین الاقوامی سیاست اور ہندوستانی مسلمانوں کی ملی تڑپ کا ایک گراں قدر تاریخی اور ادبی دستاویز ہے۔ یہاں اس مجموعہ خطوط کا پس منظر پیش خدمت ہے جومصنف نے لکھا ہے )
آج ۱۹۵۱ء ہے، آج سے بتیس برس پہلے ۱۹۲۰ء تھا، ہماری کہانی اسی سال کی دُنیا سے تعلق رکھتی ہے، جب ۱۹۱۴ء، ۱۹۱۸ء والی جنگِ عظیم ختم ہو چکی تھی، اور ایران سے لے کرتھریس ( تونس) تک ساری دنیائے اسلام اتحادیوں کے ہاتھوں پامال ہو رہی تھی۔
۱۸۵۷ء کے بعد مسلمانوں کی سیاسی بیداری کا آغاز ۱۹۰۱ء سے شروع ہوتا ہے بوڑھوں میں اس کے پہلے محرک سرسید کے رفقائے
خاص میں سے ان کے جانشین دوم و قارالملک اور نوجوانوں میں پٹنہ کے مشہور بیرسٹر
مظہرالحق تھے، دونوں نے مل کر جیسا کہ مظہرالحق صاحب مرحوم نے مجھ سے کہا مسلم لیگ
کا خاکہ تیار کیا اور ۱۹۰۶ء میں مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے
اجلاس کے ساتھ ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ خان کی قیادت میں اس کے مستقل وجود کا
اعلان کیا گیا، یہ ملکی سیاست کے میدان میں مسلمانوں کا سب سے پہلا قدم تھا۔ اُس
کے بعد اسی کانفرنس کے ساتھ اس کے رو کے پھیکے جلسے سال بسال ہونے لگے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو ملکی سیاست سے دلآویزی پیدا نہیں ہوتی تھی اور اس کی کھلی وجہ یہ تھی کہ ان کو صاف نظر آتا تھا کہ آج کل کے اصول سیاست او ںظام جمہوریت کے مطابق جو حکومت بھی ہندوستان میں قائم ہوگی اس میں مسلمانوں کی حیثیت محکومانہ ہوگی اور زیادہ سے زیادہ جو مسلمان کر سکتے تھے وہ یہ تھا کہ ملازمتوں میں استحقاق کے مطابق اور کونسلوں کی ممبریوں میں کچھ استحقاق سے زیادہ جگہ حاصل کرلیں اور یہی اس زمانہ کے مسلم لیگ کی سیاست تھی۔ عام مسلمانوں کو اس سیاست سے کچھ زیادہ دلچسپی نہ تھی بلکہ ان کی تمام تر دلچسپیاں بین الاقوامی سیاست میں خلافتِ عثمانیہ میں تھیں جس سے مسلمان دنیا میں اپنی ملی عزت و احترام کو وابستہ سمجھتے تھے، اور جو سلطانِ حرمین محترمین کا خادم اور اسلامی مقاماتِ مقدسہ کا محافظ تھا۔
خلیج فارس کا سلگتا سمندر: تزویراتی توازن کی تلاش یا ناگزیر تباہی؟
15 جولائی 2016 کے بعد ترکی: ناکام فوجی بغاوت سے صدارتی ریاست تک
ناکام فوجی بغاوت: ایک غیر معمولی واقعہ
سیمی کنڈکٹر چِپس بنانے والی کمپنی اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ کون ہیں ؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کی "ڈیل" اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل
اسلام آباد مذاکرات: قرآن مجید کا زریں اصول "وَالصُّلْحُ خَيْرٌ" اور پاکستان کا کردار
"اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو... پھر اگر وہ رجوع کریں تو عدل کے ساتھ ان کے درمیان اصلاح کر دو۔"
- امت کی بقا: ایران ایک برادر اسلامی ملک ہے، اس کی سلامتی خطے کے استحکام سے جڑی ہے۔
- انسانیت کی خدمت: جنگ کی صورت میں کروڑوں معصوم انسان لقمہ اجل بن سکتے ہیں، اور قرآن کہتا ہے کہ "جس نے ایک انسان کی جان بچائی، اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔"
- ثالث کا عدل: اسلام مطالبہ کرتا ہے کہ ثالث (Mediator) غیر جانبدار اور عادل ہو۔ پاکستان اس وقت دونوں فریقین کا اعتماد جیت کر اسی "عدل" کے منصب پر فائز ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی اور موجودہ مشرق وسطی کی سنگین صورت حال
تہران میں نئے عہد کا آغاز: کیا مجتبیٰ خامنہ ای ایران کو بحران سے نکال پائیں گے؟
عہدِ رفتہ کا اختتام: آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور ایک نئے دور کا آغاز
آبنائے ہرمز: طاقت کا مظاہرہ یا عالمی توازن کا امتحان
نئے عالمی اتحاد اور امریکی پسپائی
عالمی نظام کی نئی کروٹ: کیا امریکی بالادستی کا دور ختم ہو چکا ہے؟
ورلڈ اکنامک فورم (WEF) 2026: مکالمے کی روح یا عالمی تضادات کی نمائش؟
"طاقت کے بل پر" چلنے والی دنیا اور امریکہ، چین اور روس کے درمیان غلبہ حاصل کرنے کی دوڑ
امریکہ دنیا کو ’اپنی طاقت کے بل پر چلانا چاہتا ہے‘
کوانٹم کمپیوٹنگ: سہولت، طاقت اور خدشات کا نیا دور
مسئلہ فلسطین کی بدلتی ہوئی جہتیں(Dynamics): ایک جائزہ
مسئلہ فلسطین محض ایک علاقائی تنازع نہیں، بلکہ ایک کثیرالجہتی، پیچیدہ اور تاریخی سانحہ ہے جو گزشتہ ایک صدی سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا محور بنا ہوا ہے۔ اس مسئلے کی کئی جہتیں (ڈائنامکس) ہیں ان کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے تاریخی پس منظر، زمینی حقائق، عالمی سیاست، اور حالیہ پیش رفتوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ آج جب دنیا ایک نئی عالمی صف بندی کی طرف بڑھ رہی ہے، مسئلہ فلسطین کے ڈائنامکس بھی نئے رخ اختیار کر رہے ہیں۔
تاریخی تناظر: نوآبادیاتی سازش کا تسلسل
مسئلہ فلسطین کی بنیاد 1917ء کے اعلانِ بالفور اور پھر 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے ساتھ رکھی گئی۔ برطانوی سامراج کی سرپرستی میں یہودی آبادکاری کے لیے فلسطینی سرزمین پر ظلم کی ایک منظم داستان رقم کی گئی۔ فلسطینیوں کی زمینیں، گھر، ثقافت اور وجود ایک منظم منصوبے کے تحت چھینے گئے۔ اس عمل نے صرف ایک ریاست کو جنم نہیں دیا، بلکہ مشرق وسطیٰ میں دائمی کشمکش کا بیج بویا۔
جغرافیائی اور اسٹریٹیجک ڈائنامکس
فلسطین محض ایک قوم یا زمین کا نام نہیں، بلکہ یہ خطہ بحیرہ روم، مصر، اردن، لبنان اور شام جیسے اہم ممالک کے سنگم پر واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسی صرف فلسطین تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیے ہوئے ہے۔
غزہ اور مغربی کنارے کی تقسیم، یہودی بستیوں کی مسلسل توسیع، القدس کی حیثیت کو بدلنے کی کوششیں — یہ سب جغرافیائی اور سیاسی ڈائنامکس کا حصہ ہیں جو زمین پر قبضے اور حقِ خود ارادیت کے درمیان جنگ کو مسلسل بڑھا رہے ہیں۔
امت مسلمہ کی تعمیر نو: فکری بیداری سے سیاسی آزادی تک مسلم دانشوروں کا کردار
1. فکری تجدید اور نظریاتی احیاء
1.1 اسلامی ورلڈ ویو کی تشکیل نو
مغربی فکر نے دنیا کو مادیت، فردیت، اور سیکولرازم کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ مسلم دانشوروں کا اولین فریضہ ہے کہ وہ قرآنی تصورِ انسان، توحیدِ ربوبیت، اور عدلِ اجتماعی کو ایک مربوط نظامِ فکر کے طور پر پیش کریں۔ اس فکر کا مرکز بندے اور رب کے تعلق کی بحالی اور "اُمۃ وسطاً" کی ذمہ داری کا شعور ہونا چاہیے۔
چین اور امریکہ کی خارجہ پالیسی اور مستقبل کی عالمی قیادت کا امکان ایک جامع تجزیاتی رپورٹ
عالمی سیاست کی موجودہ ہئیت میں سب سے زیادہ توجہ دو عظیم طاقتوں—امریکہ اور چین—کے درمیان جاری کشمکش پر مرکوز ہے۔ یہ صرف دو ریاستوں کا ٹکراؤ نہیں بلکہ دو متضاد نظریات، تہذیبی رجحانات، معاشی ماڈلز، اور سفارتی حکمت عملیوں کا مقابلہ ہے۔ یہ رپورٹ ان دونوں ممالک کی خارجہ پالیسیوں، طاقت کے ذرائع، اور مستقبل میں عالمی قیادت کے امکانات کا تقابلی جائزہ فراہم کرتی ہے۔
1. نظریاتی بنیاد:
-
امریکہ:
-
جمہوریت، آزادی، انسانی حقوق، اور قوانین پر مبنی عالمی نظام کا داعی۔
-
"امریکہ فرسٹ" (America First) سے لے کر "اتحاد کی بحالی" (Restoring Alliances) تک پالیسی میں تسلسل کی کمی۔
-
-
چین:
-
عدم مداخلت، خودمختاری، اور باہمی مفاد پر مبنی اصولی موقف۔
-
مغربی بالا دستی کے متبادل کے طور پر کثیر قطبی دنیا (Multipolar World ) کا حامی۔
-
2. معاشی طاقت:
-
چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے اور 2040 تک PPP (Purchasing Power Parity) کے لحاظ سے اول بننے کی پیشگوئی ہے۔
-
امریکہ کا مالیاتی نظام، ڈالر کی بالادستی، اور ٹیکنالوجیکل اجارہ داری اب بھی قائم ہے۔
-
چین کی Belt and Road Initiative عالمی اثرورسوخ میں تیزی سے اضافہ کر رہی ہے۔
نتیجہ: چین کی معاشی بالا دستی کا رجحان واضح ہے، خاص طور پر ترقی پذیر دنیا میں۔
مسئلہ فلسطین : انسانی حقوق کا مغربی بیانیہ بے نقاب
ہم اگر امریکہ کے کردار کا غیر جانب دار اور تجزیاتی انداز میں مطالعہ کریں تو کئی پہلو سامنے آتے ہیں جو نہ صرف اس کی پالیسیوں کی منافقت کو بے نقاب کرتے ہیں، بلکہ عالمی ضمیر، حقوقِ انسانی کے دعوے، اور اقوام متحدہ کے اداروں کی ساکھ کو بھی سوالیہ نشان بناتے ہیں۔
1. امریکہ کی واضح جانبداری:
اسرائیل کی غیر مشروط حمایت:
-
امریکہ مالی، عسکری، سفارتی، اور سیاسی ہر میدان میں اسرائیل کا سب سے بڑا حامی ہے۔
-
حالیہ جنگ میں ہزاروں فلسطینیوں کے بے گناہ قتل، بچوں کی شہادت، اسپتالوں اور امدادی قافلوں پر حملے جیسے مظالم کے باوجود، امریکہ نے اقوام متحدہ کی سیزفائر قراردادوں کو ویٹو کیا۔
-
یہ واضح کرتا ہے کہ امریکہ کے نزدیک "اسرائیلی مفاد" ہی اصل ترجیح ہے، چاہے اس کی قیمت انسانیت ہی کیوں نہ ہو۔
















