" آج دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو اخلاق اور مقاصد زندگی کی ، یہ صرف انبیاء کرام اور آسمانی کتب میں ہیں ۔ آج دنیا کی تعمیر نو صرف اس طرح ممکن ہے کہ جو وسائل و زرائع جدید دور میں انسانوں نے پیدا کرلیے ان کی مدد سے اور انبیاء اور آسمانی کتب میں موجود انسانیت کے اخلاق اور مقاصد زندگی کی مدد سے دنیا کی تعمیر نو کی جائے ۔" (مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ )
آبنائے ہرمز: طاقت کا مظاہرہ یا عالمی توازن کا امتحان
نئے عالمی اتحاد اور امریکی پسپائی
عالمی نظام کی نئی کروٹ: کیا امریکی بالادستی کا دور ختم ہو چکا ہے؟
ورلڈ اکنامک فورم (WEF) 2026: مکالمے کی روح یا عالمی تضادات کی نمائش؟
"طاقت کے بل پر" چلنے والی دنیا اور امریکہ، چین اور روس کے درمیان غلبہ حاصل کرنے کی دوڑ
امریکہ دنیا کو ’اپنی طاقت کے بل پر چلانا چاہتا ہے‘
کوانٹم کمپیوٹنگ: سہولت، طاقت اور خدشات کا نیا دور
مسئلہ فلسطین کی بدلتی ہوئی جہتیں(Dynamics): ایک جائزہ
مسئلہ فلسطین محض ایک علاقائی تنازع نہیں، بلکہ ایک کثیرالجہتی، پیچیدہ اور تاریخی سانحہ ہے جو گزشتہ ایک صدی سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا محور بنا ہوا ہے۔ اس مسئلے کی کئی جہتیں (ڈائنامکس) ہیں ان کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے تاریخی پس منظر، زمینی حقائق، عالمی سیاست، اور حالیہ پیش رفتوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ آج جب دنیا ایک نئی عالمی صف بندی کی طرف بڑھ رہی ہے، مسئلہ فلسطین کے ڈائنامکس بھی نئے رخ اختیار کر رہے ہیں۔
تاریخی تناظر: نوآبادیاتی سازش کا تسلسل
مسئلہ فلسطین کی بنیاد 1917ء کے اعلانِ بالفور اور پھر 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے ساتھ رکھی گئی۔ برطانوی سامراج کی سرپرستی میں یہودی آبادکاری کے لیے فلسطینی سرزمین پر ظلم کی ایک منظم داستان رقم کی گئی۔ فلسطینیوں کی زمینیں، گھر، ثقافت اور وجود ایک منظم منصوبے کے تحت چھینے گئے۔ اس عمل نے صرف ایک ریاست کو جنم نہیں دیا، بلکہ مشرق وسطیٰ میں دائمی کشمکش کا بیج بویا۔
جغرافیائی اور اسٹریٹیجک ڈائنامکس
فلسطین محض ایک قوم یا زمین کا نام نہیں، بلکہ یہ خطہ بحیرہ روم، مصر، اردن، لبنان اور شام جیسے اہم ممالک کے سنگم پر واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسی صرف فلسطین تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیے ہوئے ہے۔
غزہ اور مغربی کنارے کی تقسیم، یہودی بستیوں کی مسلسل توسیع، القدس کی حیثیت کو بدلنے کی کوششیں — یہ سب جغرافیائی اور سیاسی ڈائنامکس کا حصہ ہیں جو زمین پر قبضے اور حقِ خود ارادیت کے درمیان جنگ کو مسلسل بڑھا رہے ہیں۔
امت مسلمہ کی تعمیر نو: فکری بیداری سے سیاسی آزادی تک مسلم دانشوروں کا کردار
1. فکری تجدید اور نظریاتی احیاء
1.1 اسلامی ورلڈ ویو کی تشکیل نو
مغربی فکر نے دنیا کو مادیت، فردیت، اور سیکولرازم کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ مسلم دانشوروں کا اولین فریضہ ہے کہ وہ قرآنی تصورِ انسان، توحیدِ ربوبیت، اور عدلِ اجتماعی کو ایک مربوط نظامِ فکر کے طور پر پیش کریں۔ اس فکر کا مرکز بندے اور رب کے تعلق کی بحالی اور "اُمۃ وسطاً" کی ذمہ داری کا شعور ہونا چاہیے۔
چین اور امریکہ کی خارجہ پالیسی اور مستقبل کی عالمی قیادت کا امکان ایک جامع تجزیاتی رپورٹ
عالمی سیاست کی موجودہ ہئیت میں سب سے زیادہ توجہ دو عظیم طاقتوں—امریکہ اور چین—کے درمیان جاری کشمکش پر مرکوز ہے۔ یہ صرف دو ریاستوں کا ٹکراؤ نہیں بلکہ دو متضاد نظریات، تہذیبی رجحانات، معاشی ماڈلز، اور سفارتی حکمت عملیوں کا مقابلہ ہے۔ یہ رپورٹ ان دونوں ممالک کی خارجہ پالیسیوں، طاقت کے ذرائع، اور مستقبل میں عالمی قیادت کے امکانات کا تقابلی جائزہ فراہم کرتی ہے۔
1. نظریاتی بنیاد:
-
امریکہ:
-
جمہوریت، آزادی، انسانی حقوق، اور قوانین پر مبنی عالمی نظام کا داعی۔
-
"امریکہ فرسٹ" (America First) سے لے کر "اتحاد کی بحالی" (Restoring Alliances) تک پالیسی میں تسلسل کی کمی۔
-
-
چین:
-
عدم مداخلت، خودمختاری، اور باہمی مفاد پر مبنی اصولی موقف۔
-
مغربی بالا دستی کے متبادل کے طور پر کثیر قطبی دنیا (Multipolar World ) کا حامی۔
-
2. معاشی طاقت:
-
چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے اور 2040 تک PPP (Purchasing Power Parity) کے لحاظ سے اول بننے کی پیشگوئی ہے۔
-
امریکہ کا مالیاتی نظام، ڈالر کی بالادستی، اور ٹیکنالوجیکل اجارہ داری اب بھی قائم ہے۔
-
چین کی Belt and Road Initiative عالمی اثرورسوخ میں تیزی سے اضافہ کر رہی ہے۔
نتیجہ: چین کی معاشی بالا دستی کا رجحان واضح ہے، خاص طور پر ترقی پذیر دنیا میں۔
مسئلہ فلسطین : انسانی حقوق کا مغربی بیانیہ بے نقاب
ہم اگر امریکہ کے کردار کا غیر جانب دار اور تجزیاتی انداز میں مطالعہ کریں تو کئی پہلو سامنے آتے ہیں جو نہ صرف اس کی پالیسیوں کی منافقت کو بے نقاب کرتے ہیں، بلکہ عالمی ضمیر، حقوقِ انسانی کے دعوے، اور اقوام متحدہ کے اداروں کی ساکھ کو بھی سوالیہ نشان بناتے ہیں۔
1. امریکہ کی واضح جانبداری:
اسرائیل کی غیر مشروط حمایت:
-
امریکہ مالی، عسکری، سفارتی، اور سیاسی ہر میدان میں اسرائیل کا سب سے بڑا حامی ہے۔
-
حالیہ جنگ میں ہزاروں فلسطینیوں کے بے گناہ قتل، بچوں کی شہادت، اسپتالوں اور امدادی قافلوں پر حملے جیسے مظالم کے باوجود، امریکہ نے اقوام متحدہ کی سیزفائر قراردادوں کو ویٹو کیا۔
-
یہ واضح کرتا ہے کہ امریکہ کے نزدیک "اسرائیلی مفاد" ہی اصل ترجیح ہے، چاہے اس کی قیمت انسانیت ہی کیوں نہ ہو۔
مسئلہ فلسطین : یورپ امریکہ کی منافقت اور چین روس کی خاموشی حکمت یا مصلحت ؟
دنیا ایک بار پھر تاریخ کے اُس موڑ پر کھڑی ہے جہاں انصاف، حقوقِ انسانی، اور تہذیبِ انسانی کے دعوے دار بے نقاب ہو چکے ہیں۔ غزہ کی سرزمین پر بہنے والا ہر قطرۂ خون، صرف ایک انسانی المیہ نہیں بلکہ مغربی اخلاقی بیانیے کی شکست کا اعلان ہے۔ اور اس بحران میں، امریکہ کا کردار سب سے زیادہ متنازع، منافقانہ اور غیر اخلاقی نظر آ رہا ہے۔
مگر اس پوری صورتحال میں دو بڑی طاقتیں – چین اور روس – ایک خاص طرزِ سکوت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے: کیا یہ خاموشی بزدلی ہے؟ یا حکمت؟ اور کیا واقعی یہ دونوں طاقتیں امریکہ کی زوال پذیر قیادت کے بعد دنیا کو ایک نئے عالمی نظام کی طرف لے جا سکتی ہیں؟
امریکہ: آزادی اور انصاف کا منافقانہ علمبردار
امریکہ جو خود کو عالمی "مسیحا"، جمہوریت کا پرچم بردار، اور حقوقِ انسانی کا محافظ کہتا ہے، اس وقت فلسطینی نسل کشی پر اسرائیل کا غیر مشروط حامی بنا کھڑا ہے۔
-
ہزاروں بچوں کی شہادت،
-
اسپتالوں، اسکولوں اور امدادی قافلوں پر حملے،
-
اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو ویٹو کرنا،
یہ سب کچھ دنیا کو بتا رہا ہے کہ امریکی اخلاقیات کی بنیاد طاقت، مفاد اور نسل پرستی پر کھڑی ہے۔
مسلم حکمران اور امت کی زبوں حالی — ایک تنقیدی تجزیہ
یہ وہ طبقہ ہے جو اقتدار کو امانت کے بجائے دولت، طاقت اور ذاتی مفاد کا ذریعہ سمجھ بیٹھا ہے۔ ان کے اندر بددیانتی، علمی و فکری جہالت، اخلاقی پستی، ظلم و جبر، کرپشن، اقربا پروری، عوامی رائے کے استحصال، اور آزادی اظہار کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ قوموں کے لیے جو قیادت بصیرت، صداقت، عدل، خدمت اور قربانی کی علامت ہوتی ہے، مسلم دنیا میں وہی قیادت بدنامی، ظلم اور خوف کی علامت بن چکی ہے۔
آج جب فلسطین کے نہتے عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، جب ماؤں کی گود اجڑ رہی ہے، جب معصوم بچوں کی لاشیں زمین پر بکھری پڑی ہیں، تو ایسے میں ۵۵ سے زائد مسلم ممالک کے حکمرانوں کی بے حسی، بزدلی اور منافقت امت کے لیے کسی زخم سے کم نہیں۔ زبانی مذمتوں، رسمی بیانات اور اقوام متحدہ کے کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی سے نہ فلسطینیوں کے زخم بھر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے شہداء کو انصاف مل سکتا ہے۔
یوال نوح حراری سے ایک فکری گفتگو اور اس پر تبصرہ
یوال نوح حراری ایک اسرائیلی مؤرخ، مفکر، اور فلسفی ہیں، جنہوں نے تاریخ، انسانیت، اور مستقبل کے حوالے سے غیر معمولی شہرت پائی ہے۔ وہ عبرانی یونیورسٹی یروشلم میں تاریخ کے پروفیسر ہیں اور ان کی تحریریں انسانی تہذیب، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل دنیا، اور ارتقائی نفسیات جیسے موضوعات کو گہرائی سے چھوتی ہیں۔
![]() |
| یوال نوح حراری |
حراری کی تین عالمی شہرت یافتہ کتابیں:
-
Sapiens: A Brief History of Humankind – انسانی تاریخ کا ارتقائی جائزہ
-
Homo Deus: A Brief History of Tomorrow – انسان کا مستقبل اور مصنوعی ذہانت کی حکمرانی
-
21 Lessons for the 21st Century – اکیسویں صدی کے فکری، اخلاقی، اور سماجی چیلنجز
وہ مذہب، قوم پرستی، سرمایہ داری، اور ڈیجیٹل کنٹرول جیسے موضوعات پر تنقیدی اور فکری انداز میں گفتگو کرتے ہیں، اور ان کا انداز تحریر سادہ مگر فکری طور پر گہرا ہوتا ہے۔ ان کے بقول:
"کہانیوں اور افسانوں کی طاقت نے انسان کو جانوروں سے ممتاز کیا، اور یہی کہانیاں آج بھی دنیا پر حکومت کر رہی ہیں۔"
آئیے اب ہم یوال نوح حراری کے خیالات، فلسفے، اور دنیا کے بارے میں ان کے وژن پر مبنی ایک فرضی مگر حقیقت پر مبنی مکالمہ ترتیب دیتے ہیں۔ اس مکالمے کا اسلوب ایسا ہو گا گویا کوئی معروف دانشور یا صحافی ان کا انٹرویو کر رہا ہو، اور ان کے خیالات انہی کی زبان سے سامنے آ رہے ہوں — جیسے کسی عالمی فکری ٹاک شو کا سیگمنٹ ہو۔
یوال نوح حراری سے ایک فکری گفتگو
عنوان: "انسان، ڈیٹا، اور مستقبل کا خدا: یوال نوح حراری کی زبانی"
میزبان: حراری صاحب، آپ کی کتاب Sapiens نے انسانی تاریخ کو نئے زاویے سے پیش کیا۔ آپ کا بنیادی نظریہ کیا ہے کہ انسان باقی جانوروں سے کیسے مختلف ہوا؟
نوام چومسکی سے ایک مکالمہ
(نوٹ : یہ مکالمہ نوام چومسکی کی شخصیت، ان کے افکار، خدمات اور عالمی مسائل کے حوالے سے ان کے نقطہ نظر پر تفصیل سے روشنی ڈالتا ہے، اور ان کے علم و فہم کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔نوام چومسکی ایک عالمی شہرت یافتہ لسانی ماہر، فلسفی اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔ انہیں جدید لسانیات کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے، خاص طور پر ان کے نظریہ گرامر نے زبان کی تفہیم میں انقلاب برپا کیا۔ چومسکی نے عالمی سیاست، معاشی نابرابری اور میڈیا کے کردار پر گہری تنقید کی، اور اپنی تحریروں میں طاقتور ریاستوں کی پالیسیوں کا شدید مقابلہ کیا۔ ان کی کتابیں جیسے "Manufacturing Consent" نے میڈیا اور معاشرتی ڈھانچوں پر ان کے تنقیدی نظریات کو عالمی سطح پر مقبول کیا۔)
اسلام دو ہزار پچاس تک دنیا کا مقبول ترین مذہب بن جائے گا: سروے
وہ مبینہ چینی سائبر حملے جن میں ٹرمپ کے فون تک کو نشانہ بنایا گیا
ان سائبر حملوں میں ہیک کیا ہوا؟
بدلتا عالمی منظرنامہ اور تنازعات: 2024 کی جنگوں نے نئی دشمنیاں کیسے پیدا کیں اور 2025 میں کیا ہو گا؟
ہماری دہلیز پر جاری یورپ کی جنگ
انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے وہ اقدامات جنھوں نے انڈیا کو بدل کر رکھ دیا
عہدہ,بی بی سی ہندی، نئی دہلی
سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر منموہن سنگھ سنہ 2004 سے 2014 تک انڈیا کے وزیر اعظم رہے۔ انھیں اگر دنیا بھر میں اقتصادی ماہر کے طور پر دیکھا جاتا ہے تو انڈیا میں انھیں اقتصادی لبرلائزیشن کے ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
منموہن سنگھ کو سنہ 1991 میں اس وقت کے وزیر وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی قیادت والی کانگریس پارٹی کی حکومت میں وزیر خزانہ بنایا گیا تھا۔
سنہ 1999 اور 2004 میں انھوں نے لوک سبھا کے انتخابات میں بطور کانگریس امیدوار شرکت کی لیکن انھیں کامیابی نہ مل سکی تاہم جب اکثریت حاصل کرنے والی کانگریس پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی نے وزیر اعظم بننے کی دوڑ سے کنارہ کشی اختیار کر لی تو یہ ذمہ داری ڈاکٹر منموہن سنگھ کو سونپی گئی۔
ان کے دس سالہ دور میں کئی بڑے فیصلے کیے گئے جو سنگ میل ثابت ہوئے۔ ہم یہاں ان کے سات اہم کاموں کا ذکر کر رہے ہیں۔
1۔ معلومات کا حق
معلومات کا حق یعنی رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں 12 اکتوبر سنہ 2005 کو ملک میں نافذ کیا گیا۔
اس قانون کے تحت انڈین شہریوں کو سرکاری اہلکاروں اور اداروں سے معلومات حاصل کرنے کا حق ملا۔
یہ وہ حق ہے جو شہریوں کو باخبر فیصلے کرنے اور مرضی کے مطابق طاقت استعمال کرنے والوں سے سوال کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
آر ٹی آئی کا اثر پنچائیت سے لے کر پارلیمنٹ تک ثابت ہو چکا ہے۔ اس سے نہ صرف افسر شاہی کو ہٹانے میں مدد ملی بلکہ بیوروکریسی کے تاخیر کرنے والے رویے کو بھی دور کرنے میں مدد ملی۔
















