بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

آبنائے ہرمز: طاقت کا مظاہرہ یا عالمی توازن کا امتحان


آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست اور بین الاقوامی کشیدگی کے مرکز میں آ کھڑی ہوئی ہے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حساس سمندری گزرگاہ میں جنگی مشقیں کی جائیں گی۔ اسی تناظر میں عالمی خبر رساں اداروں نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ایران نے شپنگ کمپنیوں کو باضابطہ نوٹس جاری کر کے آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیاں متوقع ہیں۔ اگرچہ بعض غیر مصدقہ ذرائع روس اور چین کی ممکنہ شمولیت کا ذکر کر رہے ہیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس کی تاحال کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس خاموشی نے خود اس اعلان کو مزید معنی خیز بنا دیا ہے۔

یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکہ کے تعلقات ایک بار پھر شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ جوہری معاہدے کے تعطل، امریکی پابندیوں، خطے میں امریکی بحری موجودگی اور اسرائیل-غزہ جنگ کے اثرات نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نازک مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے خلیج اور اس کے اطراف میں بحری بیڑوں کی موجودگی ایران کے لیے محض ایک عسکری چیلنج نہیں بلکہ ایک مسلسل سیاسی دباؤ بھی ہے۔ ایسے ماحول میں آبنائے ہرمز میں جنگی مشقوں کا اعلان دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے کے مقابلے کے لیے تیار ہے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو آمادہ نہیں۔

نئے عالمی اتحاد اور امریکی پسپائی


بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بڑی طاقتوں کے فیصلے محض وقتی ردِعمل نہیں ہوتے، بلکہ وہ ماضی کے تجربات اور مستقبل کے خدشات کے امتزاج سے جنم لیتے ہیں۔ آج عالمی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکہ، جو کبھی واحد سپر پاور کے طور پر دنیا کی سمت متعین کرتا تھا، اب اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کر رہا ہے۔ دوسری جانب چین، روس، یورپی یونین، ہندوستان اور متعدد علاقائی قوتیں ایک نئے کثیر قطبی نظام کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔

یہ کہنا سادہ لوحی ہوگا کہ امریکہ عالمی سیاست سے مکمل طور پر دستبردار ہو رہا ہے۔ درحقیقت ماہرین کے مطابق یہ ایک اسٹریٹجک ری ایڈجسٹمنٹ ہے، نہ کہ مکمل انخلا۔

معاشی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ امریکہ کو چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے صنعتی اور تکنیکی اثر و رسوخ کا سامنا ہے۔ اس چیلنج کے پیشِ نظر امریکی پالیسی ساز اب بیرونی مداخلت کے بجائے انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور مینوفیکچرنگ کی بحالی کو قومی سلامتی سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

عالمی نظام کی نئی کروٹ: کیا امریکی بالادستی کا دور ختم ہو چکا ہے؟

اکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں کے اختتام اور تیسرے عشرے کے نصف میں داخل ہونے کے ساتھ ہی، بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اور دانشور اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ عالمی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ نے "واحد سپر پاور" کے طور پر جو حیثیت حاصل کی تھی، اب وہ بتدریج کمزور پڑ رہی ہے اور دنیا ایک زیادہ پیچیدہ، کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔

 اس تبدیلی کی کئی واضح نشانیاں موجود ہیں، یورپی ممالک، خاص طور پر یورپی یونین (EU)، اب امریکی پالیسیوں کی آنکھ بند کر کے پیروی کرنے کے بجائے اپنی اسٹریٹجک خودمختاری (strategic autonomy) پر زور دے رہے ہیں۔ اس کی ایک حالیہ مثال یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ہونے والا تاریخی آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) ہے، جسے "تمام معاہدوں کی ماں" قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ سابق صدر ٹرمپ کی "امریکہ سب سے پہلے" پالیسی کے تحت بھارت پر ٹیرف بڑھا رہا تھا۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ یورپ اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے واشنگٹن سے ہٹ کر فیصلے کرنے پر آمادہ ہے۔

چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ: کینیڈا اور کئی دیگر یورپی ممالک نے چین کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سیاسی روابط کو مضبوط کیا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم کی جانب سے حال ہی میں چین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں پیش رفت کو "زیادہ پیش قیاسی کے قابل" قرار دینا، امریکی دباؤ کے باوجود اقتصادی حقیقت پسندی کو ظاہر کرتا ہے۔ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت اور اس کے عالمی تجارتی حجم نے دنیا کے دیگر ممالک کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ امریکی دائرہ اثر سے باہر نکل کر بھی اہم شراکت داریاں قائم کر سکتے ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم (WEF) 2026: مکالمے کی روح یا عالمی تضادات کی نمائش؟

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں 19 سے 23 جنوری 2026 تک منعقد ہونے والا ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کا 56 واں سالانہ اجلاس بظاہر ایک نہایت خوش آئند نعرے—“مکالمے کی روح” (A Spirit of Dialogue)—کے ساتھ عالمی رہنماؤں، کارپوریٹ ایگزیکٹوز اور پالیسی سازوں کو ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ عالمی حالات میں یہ روح واقعی سانس لے سکتی ہے، یا یہ محض ایک خوش نما تصور بن کر رہ گئی ہے؟

دنیا اس وقت جس شدت کے سیاسی، عسکری اور معاشی خلفشار سے گزر رہی ہے، اس کے تناظر میں ڈیووس کے بلند بانگ مقاصد حقیقت سے زیادہ خواہشات کا عکس دکھائی دیتے ہیں۔

فورم کے پروگرام کو پانچ بڑے عالمی چیلنجوں کے گرد ترتیب دیا گیا، جن میں بلاشبہ انسانی مستقبل سے جڑے بنیادی سوالات شامل تھے۔

جغرافیائی کشیدگی کے باوجود تعاون، معاشی ترقی کے نئے ذرائع، انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیز کا ذمہ دارانہ استعمال، اور ماحولیاتی حدود کے اندر خوشحالی—یہ سب ایسے موضوعات ہیں جن پر عالمی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔

"طاقت کے بل پر" چلنے والی دنیا اور امریکہ، چین اور روس کے درمیان غلبہ حاصل کرنے کی دوڑ

انتھنی زرچر، لورا بکر اور واٹیلی شوچنکو
عہدہ,بی بی سی 17 جنوری 2026


امریکی فورسز کی جانب سے کاراکس میں وینزویلا کے معزول صدر مادورو کو پکڑنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ’آج کے بعد مغربی کرہ میں امریکی برتری پر کوئی بھی سوال نہیں اٹھائے گا۔‘

اور ایسے میں جب ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن کی طاقت کا دعویٰ کر رہے ہیں، روس اور چین بھی اپنا حلقہ اثر پھیلانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کئی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ تینوں ممالک ایک نیا عالمی نظام (گلوبل آرڈر) لانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا یورپ اور دیگر عالمی طاقتوں پر گہرا اثر پڑے گا۔

اس مضمون میں ہم یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیسے امریکہ، چین اور روس نہ صرف اپنے ہمسایوں بلکہ اپنی سرحدوں سے کہیں دور واقع ممالک پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے فوجی، معاشی اور سیاسی ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔

امریکہ دنیا کو ’اپنی طاقت کے بل پر چلانا چاہتا ہے‘


ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی حکمت عملیوں کو ایک نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہے جس کا محور مغربی کرہ ہے۔

ٹرمپ کی یہ حکمتِ عملی ڈیموکریٹ اور ریپبلکن دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے حالیہ امریکی صدور سے یکسر مختلف ہے، جنھوں نے امریکی طاقت اور اختیار کے بارے میں زیادہ عالمی نظریہ اپنایا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کے مطابق یہ ایسی خارجہ پالیسی ہے جو ’سب سے پہلے امریکہ‘ کے نظریے کے گرد گھومتی ہے اور یہ ایسے مسائل پر زیادہ توجہ دیتی ہے جن سے امریکی عوام براہِ راست متاثر ہوتے ہیں، جیسے کہ امیگریشن، جرائم اور منشیات کی سمگلنگ۔

حال ہی میں ٹرمپ کے سینیئر مشیر سٹیفن ملر نے کہا ہے کہ یہ ایک ایسی دنیا ہے جو کہ طاقت کے بل پر چلتی ہے۔ ان کے اِس بیان کا موازنہ ہنری کسنجر اور رچرڈ نکسن کی 1960 اور 1970 کی دہائی کی عملی، غیر نظریاتی خارجہ پالیسی سے کی جا سکتا ہے۔

کوانٹم کمپیوٹنگ: سہولت، طاقت اور خدشات کا نیا دور

انسانی تاریخ میں ہر بڑی ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بھی بنایا اور خطرناک بھی۔ بھاپ کے انجن سے لے کر ایٹمی توانائی تک، ہر ایجاد نے ترقی کے ساتھ تباہی کے امکانات بھی پیدا کیے۔ آج کوانٹم کمپیوٹنگ اسی سلسلے کی ایک نئی اور کہیں زیادہ طاقتور کڑی کے طور پر ابھر رہی ہے۔ بظاہر یہ ٹیکنالوجی بیماریوں کے علاج، موسم کی پیش گوئی اور معاشی منصوبہ بندی میں انقلاب لا سکتی ہے، مگر اس کے سائے میں کچھ ایسے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں جو مستقبل کے نظامِ زندگی، بالخصوص مالیاتی نظام اور انسانی پرائیویسی کے لیے سنجیدہ خطرات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

کوانٹم کمپیوٹر کی اصل طاقت اس کی غیر معمولی حسابی رفتار ہے۔ جو کام آج کے سپر کمپیوٹرز کو ہزاروں سال میں ممکن ہیں، وہ کوانٹم مشینیں چند منٹوں یا گھنٹوں میں انجام دے سکتی ہیں۔ یہی طاقت مالیاتی نظام کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ دنیا کا موجودہ بینکاری اور ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام خفیہ کاری (Encryption) پر قائم ہے۔ یہ خفیہ کاری اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ بعض ریاضیاتی مسائل کو حل کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ لیکن کوانٹم الگورتھمز، خصوصاً بڑے نمبرز کو توڑنے کی صلاحیت، اس مفروضے کو متزلزل کر رہے ہیں۔ اگر کوانٹم کمپیوٹرز عام ہو گئے تو بینک اکاؤنٹس، کریڈٹ کارڈز اور حتیٰ کہ ریاستی مالیاتی خزانے بھی غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔

مسئلہ فلسطین کی بدلتی ہوئی جہتیں(Dynamics): ایک جائزہ

مسئلہ فلسطین محض ایک علاقائی تنازع نہیں، بلکہ ایک کثیرالجہتی، پیچیدہ اور تاریخی سانحہ ہے جو گزشتہ ایک صدی سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا محور بنا ہوا ہے۔ اس مسئلے کی کئی جہتیں (ڈائنامکس)  ہیں ان کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے تاریخی پس منظر، زمینی حقائق، عالمی سیاست، اور حالیہ پیش رفتوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ آج جب دنیا ایک نئی عالمی صف بندی کی طرف بڑھ رہی ہے، مسئلہ فلسطین کے ڈائنامکس بھی نئے رخ اختیار کر رہے ہیں۔

تاریخی تناظر: نوآبادیاتی سازش کا تسلسل

مسئلہ فلسطین کی بنیاد 1917ء کے اعلانِ بالفور اور پھر 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے ساتھ رکھی گئی۔ برطانوی سامراج کی سرپرستی میں یہودی آبادکاری کے لیے فلسطینی سرزمین پر ظلم کی ایک منظم داستان رقم کی گئی۔ فلسطینیوں کی زمینیں، گھر، ثقافت اور وجود ایک منظم منصوبے کے تحت چھینے گئے۔ اس عمل نے صرف ایک ریاست کو جنم نہیں دیا، بلکہ مشرق وسطیٰ میں دائمی کشمکش کا بیج بویا۔

جغرافیائی اور اسٹریٹیجک ڈائنامکس

فلسطین محض ایک قوم یا زمین کا نام نہیں، بلکہ یہ خطہ بحیرہ روم، مصر، اردن، لبنان اور شام جیسے اہم ممالک کے سنگم پر واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسی صرف فلسطین تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیے ہوئے ہے۔

غزہ اور مغربی کنارے کی تقسیم، یہودی بستیوں کی مسلسل توسیع، القدس کی حیثیت کو بدلنے کی کوششیں — یہ سب جغرافیائی اور سیاسی ڈائنامکس کا حصہ ہیں جو زمین پر قبضے اور حقِ خود ارادیت کے درمیان جنگ کو مسلسل بڑھا رہے ہیں۔

امت مسلمہ کی تعمیر نو: فکری بیداری سے سیاسی آزادی تک مسلم دانشوروں کا کردار

تاریخِ انسانی کی سب سے بامقصد اور بابرکت تحریک "بعثت محمدیﷺ" تھی، جس نے غلام انسان کو آزاد، منتشر قوم کو متحد، اور گمشدہ انسانیت کو منزل آشنا کیا۔ تاہم آج، وہی امت مسلمہ جسے "خیر امت" کہا گیا، فکری زوال، سیاسی محکومی، معاشی انحطاط، سائنسی پسماندگی، اور عسکری کمزوری کا شکار ہے۔ سانحۂ غزہ جیسے المناک واقعات نہ صرف ہماری بے بسی کا آئینہ ہیں بلکہ اس بات کا تقاضا بھی کہ مسلم دانشور اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور امت کی فکری و عملی تعمیر نو کے لیے عملی جدوجہد کریں۔

1. فکری تجدید اور نظریاتی احیاء

1.1 اسلامی ورلڈ ویو کی تشکیل نو

مغربی فکر نے دنیا کو مادیت، فردیت، اور سیکولرازم کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ مسلم دانشوروں کا اولین فریضہ ہے کہ وہ قرآنی تصورِ انسان، توحیدِ ربوبیت، اور عدلِ اجتماعی کو ایک مربوط نظامِ فکر کے طور پر پیش کریں۔ اس فکر کا مرکز بندے اور رب کے تعلق کی بحالی اور "اُمۃ وسطاً" کی ذمہ داری کا شعور ہونا چاہیے۔

چین اور امریکہ کی خارجہ پالیسی اور مستقبل کی عالمی قیادت کا امکان ایک جامع تجزیاتی رپورٹ

عالمی سیاست کی موجودہ ہئیت میں سب سے زیادہ توجہ دو عظیم طاقتوں—امریکہ اور چین—کے درمیان جاری کشمکش پر مرکوز ہے۔ یہ صرف دو ریاستوں کا ٹکراؤ نہیں بلکہ دو متضاد نظریات، تہذیبی رجحانات، معاشی ماڈلز، اور سفارتی حکمت عملیوں کا مقابلہ ہے۔ یہ رپورٹ ان دونوں ممالک کی خارجہ پالیسیوں، طاقت کے ذرائع، اور مستقبل میں عالمی قیادت کے امکانات کا تقابلی جائزہ فراہم کرتی ہے۔

1. نظریاتی بنیاد:

  • امریکہ:

    • جمہوریت، آزادی، انسانی حقوق، اور قوانین پر مبنی عالمی نظام کا داعی۔

    • "امریکہ فرسٹ" (America First) سے لے کر "اتحاد کی بحالی" (Restoring Alliances)  تک پالیسی میں تسلسل کی کمی۔

  • چین:

    • عدم مداخلت، خودمختاری، اور باہمی مفاد پر مبنی اصولی موقف۔

    • مغربی بالا دستی کے متبادل کے طور پر کثیر قطبی دنیا (Multipolar World ) کا حامی۔

2. معاشی طاقت:

  • چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے اور 2040 تک PPP (Purchasing Power Parity) کے لحاظ سے اول بننے کی پیشگوئی ہے۔

  • امریکہ کا مالیاتی نظام، ڈالر کی بالادستی، اور ٹیکنالوجیکل اجارہ داری اب بھی قائم ہے۔

  • چین کی Belt and Road Initiative عالمی اثرورسوخ میں تیزی سے اضافہ کر رہی ہے۔

نتیجہ: چین کی معاشی بالا دستی کا رجحان واضح ہے، خاص طور پر ترقی پذیر دنیا میں۔

مسئلہ فلسطین : انسانی حقوق کا مغربی بیانیہ بے نقاب

ہم اگر امریکہ کے کردار کا غیر جانب دار اور تجزیاتی انداز میں مطالعہ کریں تو کئی پہلو سامنے آتے ہیں جو نہ صرف اس کی پالیسیوں کی منافقت کو بے نقاب کرتے ہیں، بلکہ عالمی ضمیر، حقوقِ انسانی کے دعوے، اور اقوام متحدہ کے اداروں کی ساکھ کو بھی سوالیہ نشان بناتے ہیں۔

1. امریکہ کی واضح جانبداری:

 اسرائیل کی غیر مشروط حمایت:

  • امریکہ مالی، عسکری، سفارتی، اور سیاسی ہر میدان میں اسرائیل کا سب سے بڑا حامی ہے۔

  • حالیہ جنگ میں ہزاروں فلسطینیوں کے بے گناہ قتل، بچوں کی شہادت، اسپتالوں اور امدادی قافلوں پر حملے جیسے مظالم کے باوجود، امریکہ نے اقوام متحدہ کی سیزفائر قراردادوں کو ویٹو کیا۔

  • یہ واضح کرتا ہے کہ امریکہ کے نزدیک "اسرائیلی مفاد" ہی اصل ترجیح ہے، چاہے اس کی قیمت انسانیت ہی کیوں نہ ہو۔

مسئلہ فلسطین : یورپ امریکہ کی منافقت اور چین روس کی خاموشی حکمت یا مصلحت ؟

دنیا ایک بار پھر تاریخ کے اُس موڑ پر کھڑی ہے جہاں انصاف، حقوقِ انسانی، اور تہذیبِ انسانی کے دعوے دار بے نقاب ہو چکے ہیں۔ غزہ کی سرزمین پر بہنے والا ہر قطرۂ خون، صرف ایک انسانی المیہ نہیں بلکہ مغربی اخلاقی بیانیے کی شکست کا اعلان ہے۔ اور اس بحران میں، امریکہ کا کردار سب سے زیادہ متنازع، منافقانہ اور غیر اخلاقی نظر آ رہا ہے۔

مگر اس پوری صورتحال میں دو بڑی طاقتیں – چین اور روس – ایک خاص طرزِ سکوت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے: کیا یہ خاموشی بزدلی ہے؟ یا حکمت؟ اور کیا واقعی یہ دونوں طاقتیں امریکہ کی زوال پذیر قیادت کے بعد دنیا کو ایک نئے عالمی نظام کی طرف لے جا سکتی ہیں؟

امریکہ: آزادی اور انصاف کا منافقانہ علمبردار

امریکہ جو خود کو عالمی "مسیحا"، جمہوریت کا پرچم بردار، اور حقوقِ انسانی کا محافظ کہتا ہے، اس وقت فلسطینی نسل کشی پر اسرائیل کا غیر مشروط حامی بنا کھڑا ہے۔

  • ہزاروں بچوں کی شہادت،

  • اسپتالوں، اسکولوں اور امدادی قافلوں پر حملے،

  • اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو ویٹو کرنا،

یہ سب کچھ دنیا کو بتا رہا ہے کہ امریکی اخلاقیات کی بنیاد طاقت، مفاد اور نسل پرستی پر کھڑی ہے۔

مسلم حکمران اور امت کی زبوں حالی — ایک تنقیدی تجزیہ


آج اگر ہم دنیا کے سیاسی نقشے پر نظر دوڑائیں، تو ایک حقیقت نہایت تلخ مگر واضح دکھائی دیتی ہے: امت مسلمہ، جسے کبھی دنیا کی قیادت کا شرف حاصل تھا، آج پستی، محکومی، اور بے بسی کی تصویر بن چکی ہے۔ معاشی بدحالی، سیاسی غلامی، فکری انحطاط اور معاشرتی بحران نے مسلم دنیا کو چاروں طرف سے جکڑ رکھا ہے۔ اور اگر ان زخموں کے ذمہ داروں کی فہرست مرتب کی جائے، تو سب سے اوّل نام خود مسلم دنیا کے حکمرانوں اور ارباب اختیار کا آتا ہے۔

یہ وہ طبقہ ہے جو اقتدار کو امانت کے بجائے دولت، طاقت اور ذاتی مفاد کا ذریعہ سمجھ بیٹھا ہے۔ ان کے اندر بددیانتی، علمی و فکری جہالت، اخلاقی پستی، ظلم و جبر، کرپشن، اقربا پروری، عوامی رائے کے استحصال، اور آزادی اظہار کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ قوموں کے لیے جو قیادت بصیرت، صداقت، عدل، خدمت اور قربانی کی علامت ہوتی ہے، مسلم دنیا میں وہی قیادت بدنامی، ظلم اور خوف کی علامت بن چکی ہے۔

آج جب فلسطین کے نہتے عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، جب ماؤں کی گود اجڑ رہی ہے، جب معصوم بچوں کی لاشیں زمین پر بکھری پڑی ہیں، تو ایسے میں ۵۵ سے زائد مسلم ممالک کے حکمرانوں کی بے حسی، بزدلی اور منافقت امت کے لیے کسی زخم سے کم نہیں۔ زبانی مذمتوں، رسمی بیانات اور اقوام متحدہ کے کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی سے نہ فلسطینیوں کے زخم بھر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے شہداء کو انصاف مل سکتا ہے۔

یوال نوح حراری سے ایک فکری گفتگو اور اس پر تبصرہ

 یوال نوح حراری ایک اسرائیلی مؤرخ، مفکر، اور فلسفی ہیں، جنہوں نے تاریخ، انسانیت، اور مستقبل کے حوالے سے غیر معمولی شہرت پائی ہے۔ وہ عبرانی یونیورسٹی یروشلم میں تاریخ کے پروفیسر ہیں اور ان کی تحریریں انسانی تہذیب، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل دنیا، اور ارتقائی نفسیات جیسے موضوعات کو گہرائی سے چھوتی ہیں۔

یوال نوح حراری

حراری کی تین عالمی شہرت یافتہ کتابیں:

  1. Sapiens: A Brief History of Humankind – انسانی تاریخ کا ارتقائی جائزہ

  2. Homo Deus: A Brief History of Tomorrow – انسان کا مستقبل اور مصنوعی ذہانت کی حکمرانی

  3. 21 Lessons for the 21st Century – اکیسویں صدی کے فکری، اخلاقی، اور سماجی چیلنجز

وہ مذہب، قوم پرستی، سرمایہ داری، اور ڈیجیٹل کنٹرول جیسے موضوعات پر تنقیدی اور فکری انداز میں گفتگو کرتے ہیں، اور ان کا انداز تحریر سادہ مگر فکری طور پر گہرا ہوتا ہے۔ ان کے بقول:

"کہانیوں اور افسانوں کی طاقت نے انسان کو جانوروں سے ممتاز کیا، اور یہی کہانیاں آج بھی دنیا پر حکومت کر رہی ہیں۔"

آئیے اب ہم یوال نوح حراری کے خیالات، فلسفے، اور دنیا کے بارے میں ان کے وژن پر مبنی ایک فرضی مگر حقیقت پر مبنی مکالمہ ترتیب دیتے ہیں۔ اس مکالمے کا اسلوب ایسا ہو گا گویا کوئی معروف دانشور یا صحافی ان کا انٹرویو کر رہا ہو، اور ان کے خیالات انہی کی زبان سے سامنے آ رہے ہوں — جیسے کسی عالمی فکری ٹاک شو کا سیگمنٹ ہو۔


 یوال نوح حراری سے ایک فکری گفتگو

عنوان: "انسان، ڈیٹا، اور مستقبل کا خدا: یوال نوح حراری کی زبانی"

میزبان: حراری صاحب، آپ کی کتاب Sapiens نے انسانی تاریخ کو نئے زاویے سے پیش کیا۔ آپ کا بنیادی نظریہ کیا ہے کہ انسان باقی جانوروں سے کیسے مختلف ہوا؟

نوام چومسکی سے ایک مکالمہ

(نوٹ : یہ مکالمہ نوام چومسکی کی شخصیت، ان کے افکار، خدمات اور عالمی مسائل کے حوالے سے ان کے نقطہ نظر پر تفصیل سے روشنی ڈالتا ہے، اور ان کے علم و فہم کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔نوام چومسکی ایک عالمی شہرت یافتہ لسانی ماہر، فلسفی اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔ انہیں جدید لسانیات کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے، خاص طور پر ان کے نظریہ گرامر نے زبان کی تفہیم میں انقلاب برپا کیا۔ چومسکی نے عالمی سیاست، معاشی نابرابری اور میڈیا کے کردار پر گہری تنقید کی، اور اپنی تحریروں میں طاقتور ریاستوں کی پالیسیوں کا شدید مقابلہ کیا۔ ان کی کتابیں جیسے "Manufacturing Consent" نے میڈیا اور معاشرتی ڈھانچوں پر ان کے تنقیدی نظریات کو عالمی سطح پر مقبول کیا۔)

میزبان:

"خواتین و حضرات، آج کے اس مکالمے میں ہم ایک ایسی شخصیت پر بات کریں گے جنہوں نے لسانیات، سیاست اور سماجی تنقید کے میدان میں ایک نیا انقلاب برپا کیا۔ وہ شخص ہے، نوام چومسکی۔ نوام چومسکی نہ صرف جدید لسانیات کے بانی ہیں بلکہ ان کا شمار عالمی سطح پر ایک ممتاز سیاسی دانشور کے طور پر بھی کیا جاتا ہے۔ آج ہم ان کی زندگی، شخصیت، افکار، خدمات اور نظریات پر تفصیل سے بات کریں گے۔"

میزبان:
"نوام چومسکی، آپ کی زندگی کا آغاز 7 دسمبر 1928 کو امریکہ کے شہر فلاڈلفیا میں ہوا۔ آپ ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم لسانیات اور فلسفہ میں ہوئی، اور آپ نے ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ آپ کا علم و فہم نہ صرف لسانیات بلکہ سیاست، سماجی تنقید، اور عالمی مسائل پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ سب سے پہلے، ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ آپ کی شخصیت پر آپ کے ابتدائی سالوں کا کیا اثر تھا؟"

نوام چومسکی:
"میرے ابتدائی سالوں میں میری والدہ اور والد کی تعلیم اور علم کا اثر بہت زیادہ تھا۔ میرے والد خود بھی ایک لسانی ماہر تھے اور میری والدہ ایک تعلیمی شخصیت تھیں۔ میرے خاندان نے ہمیشہ سوچنے، سوال کرنے، اور تنقید کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ میری زندگی کی ابتدائی سالوں میں ہی میں نے یہ سیکھا کہ علم صرف کتابوں تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ ہمیں اپنے گرد و نواح کے معاشرتی مسائل اور سیاسی تنقیدوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔"

میزبان:
"چومسکی صاحب، آپ نے لسانیات کے میدان میں ایک نئی راہ متعارف کروائی۔ آپ نے 'پرانٹیکٹیکل لسانیات' اور 'معیاری لسانیات' پر کام کیا اور 'نظریہ گرامر' پیش کیا۔ آپ کے اس کام نے لسانیات کے شعبے میں انقلاب برپا کیا۔ آپ کے اس نظریے کو لے کر آپ کی اہم تصانیف کیا ہیں؟"

اسلام دو ہزار پچاس تک دنیا کا مقبول ترین مذہب بن جائے گا: سروے

امریکی تحقیقاتی ادارے کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام اگلے 33 برسوں میں عیسائیت کی جگہ لے گا۔

امریکی تحقیقاتی ادارے پیوریسرچ سنٹر کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق اسلام دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ عیسائیت کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا مذہب بن چکا ہے اور 2050 تک اسلام عیسائیت کی جگہ لے کر پہلے نمبر پر آجائے گا۔ رپورٹ کے مطابق 2050 تک مسلمان یورپی آبادی کا دس فیصد جبکہ امریکی آبادی کا 2اعشاریہ 1فیصد ہو جائیں گے اور 31کروڑ مسلمانوں کی تعداد کے ساتھ بھارت پہلے نمبر پر ہو گا۔

دنیا کی آبادی کا 62فیصد مسلمان ایشیائی ممالک انڈونیشیا، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، ایران اور ترکی میں بستے ہیں۔ پیو نے انتالیس مسلم ممالک میں شرعی قانون کے نفاذ کے حوالے سے سروے کیا۔ افغانستان میں 99فیصد، عراق میں 91فیصد جبکہ پاکستان میں 84فیصد افراد نے شرعی قوانین کے نفاذ کی حمایت کی۔ 

2010 میں سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق عالمی آبادی میں 23فیصد حصہ مسلمان ہیں۔

وہ مبینہ چینی سائبر حملے جن میں ٹرمپ کے فون تک کو نشانہ بنایا گیا



مائیک وینڈلنگ
عہدہ,بی بی سی نیوز

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ہیکرز جو امریکہ کی بڑی مواصلاتی کمپنیوں اور اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ان کا تعلق چین کی حکومت سے ہے۔

ہیکنگ کے ایک تازہ ترین واقعے میں امریکی وزارت خزانہ کو نشانہ بنایا گیا جسے امریکی حکام ’بڑا واقعہ‘ قرار دے رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہیکرز ملازمین کے ورک سٹیشن اور اہم دستاویزات تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے تاہم چین نے ان واقعات میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے خلاف یہ تازہ ترین سائبر حملے حالیہ مہینوں میں سامنے آئے ہیں۔

ان سائبر حملوں میں ہیک کیا ہوا؟


امریکی وزارت خزانہ میں ہیکنگ کے واقعے کے بعد اکتوبر میں دو اہم امریکی صدارتی مہمات کو ہدف بنایا گیا۔

ایف بی آئی اور سائبر سکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی (سی آئی ایس اے) کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی مہمات کو ہدف بنانے والے کرداروں کا تعلق ’عوامی جمہوریہ چین‘ سے ہے۔

بدلتا عالمی منظرنامہ اور تنازعات: 2024 کی جنگوں نے نئی دشمنیاں کیسے پیدا کیں اور 2025 میں کیا ہو گا؟


فرینک گارڈنر
عہدہ,بی بی سی نامہ نگار برائے سکیورٹی
1 جنوری 2025
سنہ 2001 میں جب نائین الیون حملوں کے بعد میں نے بی بی سی کے لیے گلوبل سکیورٹی کے نامہ نگار کے طور پر کام کرنا شروع کیا تب سے لے کر اب تک یہ سال سب سے زیادہ ہنگامہ خیز رہا ہے۔

شام میں صدر بشارالاسد کی اچانک معزولی، شمالی کوریا کے فوجیوں کا روس کے لیے جنگ لڑنا، یوکرین کا برطانیہ اور امریکہ کی جانب سے بھیجے گئے میزائلوں سے روس پر حملہ، روس کو ایرانی میزائلوں کی فراہمی، امریکی اسلحے سے مسلح اسرائیل کے غزہ اور لبنان پر فضائی حملے، یمن سے اسرائیل پر میزائلوں کا داغا جانا۔

تنازعات کا ایک جال دکھائی دیتا ہے جس میں سب پھنسے نظر آتے ہیں: اس ساری صورتحال کے پیشِ نظر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا میں جاری تنازعات اور جنگیں پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ آپس میں منسلک ہیں۔

لیکن اس سب سے پہلے ایک چیز واضح کرتے چلیں کہ یہ تیسری عالمی جنگ نہیں ہے۔ حالانکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن مغربی ممالک کو یوکرین کو مزید اسلحہ فراہم کرنے سے باز رکھنے کے لیے تیسری عالمی جنگ سے ڈرا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ 

تاہم یہ بات تو واضح ہے کہ دنیا میں چل رہے بیشتر تنازعات کا ایک عالمی تناظر ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ساری چزیں ایک دوسری سے کیسے جڑی ہوئی ہیں۔

اس کے لیے ہم مشرقی یورپ میں فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے چل رہی جنگ سے شروع کرتے ہیں۔

ہماری دہلیز پر جاری یورپ کی جنگ


’ان کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ وہ یہاں مرنے آ رہے ہیں۔ یہ ان کے لیے بہت بڑا سر پرائز ہوگا۔‘ یہ کہنا تھا یوکرینی فوج کے رستم نوگودین کا۔یوکرین میں میدانِ جنگ سے ایسی میڈیا رپورٹس سامنے آئیں کہ روس کی جانب سے لڑنے کے لیے آنے والے شمالی کوریا کے بیشر فوجی انٹرنیٹ پر پورن دیکھنے میں مگن ہیں۔ یہ ایک ایسی چیز تھی جو ان کو اپنے ملک میں دستیاب نہیں۔

تاہم ان سب خبروں سے ہٹ کر جو بات سب سے زیادہ قابل غور ہے وہ یہ کہ شمالی کوریا کے فوجیوں کی اس جنگ میں شرکت نے اس تنازع کو نیا رخ دے دیا ہے۔ ان کی آمد کے بعد امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے یوکرین سے پابندی ہٹالی کہ وہ ان کے فراہم کردہ دور تک مار کرنے والے میزائلوں سے روس کی حدود کے اندر حملہ نہیں کر سکتا۔

شمالی کوریا سے آنے والے فوجیوں کی تعداد 10 ہزار سے 12 ہزار کے درمیان ہے۔ تاہم اتنی تعداد بھی یوکرین جیسے ملک کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے جسے افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔

اگلے مورچوں پر موجود یوکرینی کمانڈر رستم نوگودین کہتے ہیں کہ شمالی کوریا سے آنے والے فوجی اتنے اچھے نہیں لیکن اس کے باوجود 10 ہزار فوجی تقریباً دو بریگیڈ کی مشترکہ تعداد ہوتی ہے۔ ’یاد رکھیے کہ محض دو بریگیڈ نے روس کو خارکیو سے پیچھے دھکیل دیا تھا۔‘

انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے وہ اقدامات جنھوں نے انڈیا کو بدل کر رکھ دیا

ابھینو گویل
عہدہ,بی بی سی ہندی، نئی دہلی

سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر منموہن سنگھ سنہ 2004 سے 2014 تک انڈیا کے وزیر اعظم رہے۔ انھیں اگر دنیا بھر میں اقتصادی ماہر کے طور پر دیکھا جاتا ہے تو انڈیا میں انھیں اقتصادی لبرلائزیشن کے ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

منموہن سنگھ کو سنہ 1991 میں اس وقت کے وزیر وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی قیادت والی کانگریس پارٹی کی حکومت میں وزیر خزانہ بنایا گیا تھا۔

سنہ 1999 اور 2004 میں انھوں نے لوک سبھا کے انتخابات میں بطور کانگریس امیدوار شرکت کی لیکن انھیں کامیابی نہ مل سکی تاہم جب اکثریت حاصل کرنے والی کانگریس پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی نے وزیر اعظم بننے کی دوڑ سے کنارہ کشی اختیار کر لی تو یہ ذمہ داری ڈاکٹر منموہن سنگھ کو سونپی گئی۔

ان کے دس سالہ دور میں کئی بڑے فیصلے کیے گئے جو سنگ میل ثابت ہوئے۔ ہم یہاں ان کے سات اہم کاموں کا ذکر کر رہے ہیں۔

1۔ معلومات کا حق


معلومات کا حق یعنی رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں 12 اکتوبر سنہ 2005 کو ملک میں نافذ کیا گیا۔

اس قانون کے تحت انڈین شہریوں کو سرکاری اہلکاروں اور اداروں سے معلومات حاصل کرنے کا حق ملا۔

یہ وہ حق ہے جو شہریوں کو باخبر فیصلے کرنے اور مرضی کے مطابق طاقت استعمال کرنے والوں سے سوال کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

آر ٹی آئی کا اثر پنچائیت سے لے کر پارلیمنٹ تک ثابت ہو چکا ہے۔ اس سے نہ صرف افسر شاہی کو ہٹانے میں مدد ملی بلکہ بیوروکریسی کے تاخیر کرنے والے رویے کو بھی دور کرنے میں مدد ملی۔

عالمی تنازعات اور اسلحہ سازوں کی ’چاندی‘: وہ کمپنیاں جنھوں نے صرف ایک سال میں 632 ارب ڈالر کمائے



شکیل اختر
عہدہ,بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
دنیا بھر میں جاری تنازعات یوکرین، روس اور اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگوں کا سب سے زیادہ فائدہ اسلحہ بنانے والی امریکی کمپنیوں کو ہوا ہے۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹٹیوٹ (سپری) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سنہ 2023 میں دنیا بھر میں فروخت ہونے والا 50 فیصد جنگی سامان صرف امریکی کمپنیوں نے بنایا تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس امریکی کمپنیوں نے 317 ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے تھے۔

سپری کے مطابق امریکہ کے بعد اس فہرست میں دوسرے نمبر پر چین ہے جس کی کمپنیوں نے گذشتہ برس دنیا بھر میں 130 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کیے۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2023 میں ہتھیار بنانے والی دنیا کی ٹاپ 100 کمپنیوں نے 632 ارب ڈالر کا جنگی ساز و سامان فروخت کیا جو کہ 2022 کے مقابلے میں چار اعشاریہ دو فیصد زیادہ ہے۔

دنیا بھر میں جاری تنازعات کے سبب روس اور اسرائیل میں واقع چھوٹی کمپنیوں کے منافع میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

افغانستان کا دریائے آمو جہاں تیل اور گیس کی تلاش میں چین اور روس پیش پیش ہیں۔



بی بی سی اردو 24 نومبر 2024 
خطے کے دو طاقتور ترین ممالک روس اور چین ان دنوں افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں میں تعاون کے لیے مصروف عمل دکھائی دے رہے ہیں، جس کی تازہ ترین مثال ان دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کا حال ہی میں افغانستان کا دورہ ہے۔

چند روز قبل روسی سرمایہ کاروں کے ایک وفد نے کابل کا دورہ کر کے حکام سے ملاقاتیں کی ہیں اور اس دوران افغانستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق طالبان کے زیرِ انتطام افغانستان کے سرکاری ٹی وی چینل نے 17 نومبر کو ایک رپورٹ میں کہا کہ ’نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر نے کابل میں روسی اور افغان سرمایہ کاروں کے ایک گروہ سے ملاقات کی ہے۔

روسی سرمایہ کاروں نے ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ روس مختلف شعبوں میں افغانستان میں نہ صرف سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے بلکہ اپنے تجربات بھی ان کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہے۔روسی سرمایہ کاروں نے توانائی، صنعت، تجارت، نقل و حمل، زراعت، ریلوے اور صحت سمیت بنیادی شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

افغانستان کے سرکاری ٹی وی چینل کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’اجلاس میں روسی تاجروں کی جانب سے انفراسٹرکچر، صنعت، تجارت، ٹرانسپورٹ، زراعت، ریلوے اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔‘

رپورٹ کے مطابق عبدالغنی برادر نے کہا کہ طالبان حکومت روسی سرمایہ کاروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی اور ملک میں پُرامن ماحول ان کی سرگرمیوں کے لیے سازگار ثابت ہو گا۔

یاد رہے کہ افغانستان میں چین کی کمپنی افچین کی جانب سے دریائے آمو کے بیسن (طاس) میں تیل کے مزید 18 کنوؤں کی کھدائی اور گیس کی تلاش کی تلاش کا کام بھی شروع کیا جا چکا ہے۔

افغانستان میں روسی سرمایہ کاری

ایک ایسے وقت میں جب ایک چینی کمپنی کی مدد سے شمالی افغانستان میں خام تیل نکالنے کا کام جاری ہے، چین کی طرح روس بھی اس بات کا خواہاں ہے کہ افغانستان میں گیس، تیل اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جائے۔

روس نے اس مد میں ذرائع نقل و حمل، زراعت اور صنعت کے شعبوں اور افغانستان میں سابق سوویت یونین کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں بھی اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

ان منصوبوں سے یہ بات عیاں ہو رہی ہے کہ روس افغانستان کے ساتھ اقتصادی شراکت دار اور جغرافیائی سیاسی اتحادی دونوں کی طرز پر تعلقات کو وسعت دینے پر آمادہ ہے۔