صحیح بخاری کتاب العلم میں نبی رحمت (ﷺ) کا یہ ارشاد نقل کیا گیا کہ " اللہ تعالی نے مجھے جس علم و ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے اس کی مثال زبردست بارش کی سی ہے جو زمین پر خوب برسے پھر زمین کے اچھے قطعے اس پانی کو جذب کرتے ہیں اور خوب سبزہ اور گھاس اگاتے ہیں۔
زمین کے بعض قطعے سخت ہوتے ہیں وہ پانی کو روک لیتے ہیں اور اس پر جھیل سی بن جاتی ہے اس سے مخلوق خدا کو نفع پہنچتا ہے لوگ اس کو پیتے پلاتے ہیں اور اپنے کھیتوں کو اس سے سیراب کرتے ہیں ۔
زمین کے بعض حصے چٹیل میدان ہوتے ہیں وہ پانی کو جذب کرلیتے ہیں مگر وہ کوئی سبزہ گھاس نہیں اگاتے ۔
پہلی مثال اس شخص کی ہے جس نے علم دین کو سمجھا اور اس علم و ہدایت سے نفع اٹھایا اور مستفید ہوا جو اللہ تعالی نے میری وساطت سے نازل فرمائے ہیں ۔
دوسری مثال اس شخص کی ہے جس نے خود بھی سیکھا اور دوسروں کو بھی سکھایا ۔
اور تیسری مثال اس شخص کی ہے جس نے توجہ نہیں دی اور اللہ تعالی کی جو ہدایت میرے ذریعے پہنچی تھی اس کو قبول نہیں کیا " (صحیح بخاری ، کتاب العلم)
اور تیسری مثال اس شخص کی ہے جس نے توجہ نہیں دی اور اللہ تعالی کی جو ہدایت میرے ذریعے پہنچی تھی اس کو قبول نہیں کیا " (صحیح بخاری ، کتاب العلم)
حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے : " حکمت کی بات مؤمن کا گم شدہ مال ہے ، جہاں بھی وہ اس کو ملے وہ اسی کا حق ہے ۔
( ترمذی ابواب العلم )
اسی روح کے تحت اس بلاگ کا مقصد بھی یہ ہے کہ اسلام، انسان، اور انسانی
علوم سے متعلق جو کچھ ہمیں مطالعہ، تدبر اور تحقیق کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، اسے ایک
امانت سمجھ کر آپ تک منتقل کیا جائے۔ یہ محض تحریروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری
سفر کی روداد ہے، ایک ایسا سفر جس میں علم کی جستجو، سوال کی چبھن اور حقیقت کی
تلاش ساتھ ساتھ چلتی ہے۔
یہ بلاگ دراصل ایک آن لائن ڈائری ہے، جسے خاص طور پر برصغیر کے اُن طلبہ و طالبات کے لیے ترتیب دیا گیا ہے جو اسلامیات، اردو ادب اور عربی زبان و ادب میں گہرے مطالعے اور سنجیدہ تحقیق کے متلاشی ہیں۔ امید ہے کہ یہ کاوش نہ صرف آپ کے علمی ذوق کو مہمیز دے گی بلکہ فکر و نظر کے نئے دریچے بھی وا کرے گی۔