علامہ شبلیؒ اور سید مودودیؒ کے تعلیمی افکار – ایک تقابلی مطالعہ ۔ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

(تاریخ اشاعت : 2 اکتوبر 2016 ) 


علامہ شبلی نعمانی  ؒ(۱۸۵۷ئ۔۱۹۱۴ئ) اور مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ(۱۹۰۳ئ۔۱۹۷۹ئ) دونوں کا شمار چودھویں صدی ہجری؍ بیسویں صدی عیسوی کے عظیم مفکرین میں ہوتا ہے۔دونوں نے سماج کے ایک بڑے طبقے کو متاثر کیا ہے اور ان پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔دونوں کی اصل اور نمایاں خدمات اگرچہ دوسرے میدانوں میں ہیں،لیکن انھوں نے تعلیمی میدان میں بھی اپنے قیمتی افکار پیش کیے ہیںاور ان کو عملی سطح پر بھی نافذ کرنے کی کوشش کی ہے۔

تعلیمی سرگرمیاں

علامہ شبلی کی شہرت مورخ ،سیرت نویس، سوانح نگار اور ادیب کی حیثیت سے ہے۔ان میدانوں میں ان کی وقیع تصنیفات ایک صدی گزرجانے کے باوجود اب بھی اہل علم کا مرجع بنی ہوئی ہیں۔لیکن ان کی ماہر تعلیم کی حیثیت بھی مسلّم ہے۔وہ قدیم اور جدید دونوں طرح کے تعلیمی اداروں سے منسلک رہے ہیںاور ان کی پالیسی سازی میں سرگرم حصہ لیا ہے۔وہ ۱۸۸۳ء میں سرسید علیہ الرحمۃ(۱۸۱۷ئ۔۱۸۹۸ئ) کے قائم کردہ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج (M.A.O.College) علی گڑھ سے بہ حیثیت استاد وابستہ رہے اور ۱۸۹۸ء تک سولہ سال وہاں تعلیم و تدریس کے فرائض انجام دیے۔ وہ وہاں محض ایک استاد نہ تھے، بلکہ انھوں نے سر سید کی تعلیمی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور آل انڈیا ایجوکیشنل کانفرنس کے اجلاسوں میں برابر شرکت کی۔ایم ۔اے۔او کالج کو یونیورسٹی بنانے کی تحریک میں شامل ہوئے۔اس سلسلہ میں انھوں نے ۱۹۱۱ء میں ایک وفد کے ساتھ وزیر تعلیم سے ملاقات کی۔وہ ۱۹۱۴ء میں مسلم یونیورسٹی فاونڈیشن کمیٹی کے رکن بھی نام زد ہوئے۔اسی طرح انھیں ۱۹۰۰ء میں دینیات کمیٹی علی گڑھ کالج کا رکن بنایا گیا۔


دوسری طرف وہ تحریکِ ندوۃ العلماء کے سرگرم داعیوں میں سے تھے۔۱۸۹۴ء میں اس کے اجلاس اول سے لے کر اپنی وفات تک وہ اس کے تمام اجلاسوں میں برابرشریک رہے۔  انھوں نے تحریک ندوۃ العلماء کے تحت ایک دارالعلوم کے قیام کی تجویز کی بھر پور تائید کی اور اس کے قواعدوضوابط تحریر کیے۔پھر جب دارالعلوم قائم ہوگیا تو اس کا دستور العمل تیار کیا ۔اس کے نصاب میں انگریزی شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔ انھیں ۱۹۰۵ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کا معتمد تعلیم بنایا گیا تو انھوں نے وہاں نیا نصابِ تعلیم نافذ کیا ۔ندوہ میں ہندی اور سنسکرت کا شعبہ قائم کیا۔

ان کی تعلیمی سرگرمیاں محض انہی دونوں تعلیمی اداروں تک محدود نہ تھیں، بلکہ ملک کے دیگر تعلیمی اداروں نے بھی ان سے فیض اٹھایا ۔ انھوں نے۱۸۸۳ء میں اپنے وطن اعظم گڑھ میں نیشنل اسکول کی بنیاد رکھی۔۱۸۹۵ء میں الٰہ آباد یونی ورسٹی کے بورڈآف اسٹڈی کے رکن،۱۸۹۸ء میں بھوپال کے عربی مدارس کی تنظیم نظارۃ المعارف کے رکن اور ۱۹۱۰ء اصلاح مدارس کمیٹی مشرقی بنگال و آسام کے رکن منتخب ہوئے۔۱۹۰۱ء میں ان کا تقرر سررشتہ علوم و فنون سرکار آصفیہ حیدر آباد کے ناظم کی حیثیت سے ہوا۔۱۹۰۸ء میں انھوں نے دار العلوم حیدرآباد کا نصاب تیار کیا۔مدرسۃ الاصلاح  سرائے میر کی بھی انھوں نے سرپرستی کی اور اس کی تعلیمی ترقی کی جانب مولانا حمیدالدین فراہیؒ کو متوجہ کیا۔

مولانا مودودی ؒ کی شخصیت ایک متکلم اسلام کی حیثیت سے متعارف ہوئی۔مغرب کے فکری وسیاسی غلبہ و تسلّط کے نتیجے میں مسلمانوں اور بالخصوص ان کی نوجوان نسل کا ایمان اسلامی عقائد واقدار سے متزلزل ہو رہا تھا۔انھوں نے اپنی طاقت ور اور موثر تحریروں کے ذریعے کمیونزم،سرمایہ داری اور دیگر غیر اسلامی نظریات پر زبردست حملے کیے اور اسلامی اقدار و تعلیمات کی حقانیت اور معقولیت ثابت کی۔ انھوں نے ’جماعت اسلامی‘ کی تشکیل کی ،جس نے دین کی اقامت کو اپنا نصب العین بنا یا اور جو سماج میں اس کے نفاذ کے لیے برابر کوشاں ہے۔انھوں نے اسلام کا ایک جامع اور ہمہ گیر تصور  پیش کیا، جس کے تحت نظامِ تعلیم بھی آجا تا ہے۔ انھوں نے جدید اور قدیم دونوں طرح کے تعلیمی اداروں میں جاکر ان کے ذمہ داروں کے سامنے اپنا یہ تصور تعلیم پیش کیا۔انھوں نے ۱۹۳۶ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک مقالہ پیش کیا، جس میں جدید نظام تعلیم کے نقصانات بیان کیے۔ ایک دوسری تحریر کے ذریعے مسلم یونیورسٹی کی مجلس اصلاحِ نصابِ دینیات کے استفسارات کا جواب دیا۔ اسی طرح ۱۹۴۱ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کی  انجمن اتحاد الطلبہ میں ایک مقالہ پڑھا،جس میں قدیم نظامِ تعلیم کے نقائص پر روشنی ڈالی۔اسلامیہ کالج( لاہور؟) کے ایک جلسۂ تقسیم اسناد میں خطبہ پیش کیا۔تقسیم ملک کے بعد اصلاح تعلیم کے سلسلہ میں پاکستان کے قومی تعلیمی کمیشن کے سوال نامے کے جواب میں اسلامی نظام تعلیم کا مفصل خاکہ پیش کیا۔

مولانا مودودی اگرچہ علامہ شبلی کی طرح تعلیمی اداروں سے وابستہ نہیں رہے، لیکن مروجہ تعلیمی نصاب میں اصلاح اور اسلامی نظام تعلیم کی تشکیل کے سلسلے میں وہ واضح تصورات رکھتے تھے۔تقسیم ملک سے قبل جماعت اسلامی کی تشکیل کے بعد انھوں نے اس کی تعلیمی کمیٹی کی تشکیل کی تھی ۔ تاکہ وہ ان کے پیش کردہ نظریۂ تعلیم کے مطابق تعلیمی اداروں کے قیام کی منصوبہ بندی کر سکے ۔

تعلیمی افکار پر مبنی تحریریں

تعلیم کے موضوع پر علامہ شبلی کی کوئی مستقل تصنیف نہیں ہے۔مختلف مواقع پر انھوں نے جو مقالے تحریر کیے تھے،انھیں ان کے شاگرد رشید مولانا سید سلیمان ندوی ؒ نے مقالات شبلی(جلد سوم)میں جمع کر دیا ہے۔یہ جلد گیارہ ( ۱۱) مقالات پر مشتمل ہے۔ایک مقالہ’ مسلمانوں کی گزشتہ تعلیم‘ کے عنوان سے ہے۔یہ اصلاً وہ مقالہ ہے جسے انھوںنے محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے اجلاس لکھنؤ میں پیش کیا تھا۔بعد میں الگ سے کتابی صورت میں وہ کئی بار شائع ہوا۔دو مقالات درس نظامی اور اس کے بانی ملا نظام الدین پر اور ایک مقالہ ندوہ کے نصاب تعلیم پر ہے۔ریاست حیدرآباد نے مولانا سے اپنے یہاں مشرقی یونی ورسٹی(دار العلوم) کے لیے نصاب تیار کر نے کی گزارش کی تھی۔ایک مقالہ میں اس نصاب کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ دیگر مقالات میں بھی جدید اور قدیم تعلیم پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اصلاح کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔علامہ شبلی کی ایک تصنیف سفر نامۂ روم و مصر و شام کے نام سے ہے۔ اس میں جا بہ جا ان کے تعلیمی افکار کا عکس نظر آتا ہے۔ وہ جہاں بھی تشریف لے گئے وہاں کے تعلیمی اداروں، علمی مراکز اور کتب خانوں کا دورہ کیا، ان کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کیے اور ان کی خوبیوں اور خامیوں کا برملا اظہار کیا۔خطبات شبلی میں تعلیم نسواں کے موضوع پر ان کا ایک مبسوط مضمون شامل ہے۔ اس کے علاوہ مکاتیب ِشبلی میںعلامہ کے تعلیمی افکار سے متعلق خاصا مواد موجود ہے۔ انھوں نے اپنے احباب اور شاگردوں کو جو خطوط لکھے ہیں ان میں تعلیم کے بارے میں نظری مباحث بھی ملتے ہیںاور علی گڑھ اور ندوہ کے پس منظر میں اصلاح نصاب کی تجاویز اور مشورے بھی۔

اسی طرح تعلیم کے موضوع پر مولانا مودودی کی بھی کوئی مستقل کتاب نہیں ہے۔انھوں نے مختلف تعلیمی اداروں میں جو مقالات پیش کیے ان کا مجموعہ’ تعلیمات‘ کے نام سے شائع کر دیا گیا ہے۔ یہ کتاب مولانا کے چار مقالات کا مجموعہ ہے۔ دو مقالات( ہمارے نظام تعلیم کا بنیادی نقص  اور مسلمانوں کے لیے جدید تعلیمی پالیسی اور لائحہ عمل) انھوں نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں پیش کے تھے۔مقالہ’ نیا نظام تعلیم ‘دارالعلوم ندوۃ العلماء میں پڑھا تھا اور خطبۂ تقسیم اسناد کے عنوان سے مقالہ اسلامیہ کالج کے جلسۂ تقسیمِ اسناد کے موقع کا ہے۔آخر میں جماعت اسلامی کی مجلس تعلیمی کی نشست منعقدہ دار الاسلام ۱۹۴۴ء کی روداد شامل کردی گئی ہے۔تعلیم کے موضوع پر مولانا کی ایک اہم تحریر    ’ اسلامی نظام تعلیم‘ کے عنوان سے الگ سے شائع ہو رہی ہے۔ اسے مولانا نے پاکستان کے قومی تعلیمی کمیشن کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ اس کے علاوہ مولانا کی تحریروں ،تقریروں،انٹرویو،عصری مجالس کی رودادوں ،استفسارات کے جوابات وغیرہ کے جو مجموعے شائع ہوئے ہیں (مثلاًادبیات مو دودی،تنقیحات،تصریحات،استفسارات،مولانامودودی کے انٹرویو،گفتاروافکار،۵۔اے،ذیلدار پارک(مولانا مودودی کی عصری مجالس)وغیرہ، ان میں بھی ان کے تعلیمی افکاروتصورات کا عکس نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔
ذیل میں تعلیم کے مختلف پہلؤوں پر علامہ شبلی اور مولانا مودودی کے افکار کا تقابلی مطالعہ پیش کیا جا رہا ہے۔

مقصدِ تعلیم

تعلیم کا مقصد محض معاشی ضروریات کی تکمیل نہیں ہے،بلکہ اس کا حقیقی مقصد تہذیب و تمدن کی ترقی اور انسانوںکو اچھا شہری بنانا ہے۔مسلمانوں کے تعلق سے اس کی اور بھی اہمیت ہے۔جو تعلیم انھیں ان کے مذہب سے بے گانہ اور ان کی نئی نسل کے اخلاق کو پراگندہ کردے وہ کس کام کی؟ یہ نکتہ علامہ شبلی اور مولانا مودودی دونوںکی تحریروں میں مشترک نظر آتا ہے۔انھوں نے اس پر بہت زور دیا ہے کہ تعلیم دیتے وقت اس کا مقصد(مذہبی وابستگی اور اخلاقی تربیت) کو ہر حال میں پیش نظر رکھنا چاہیے۔علامہ شبلی فرماتے ہیں:

’’قومی ترقی اس وقت ہو سکتی ہے جب ترقی کے ساتھ مذہب بھی قائم رہے،ورنہ اگر مذہبی حالت درست نہ رہی تو یہ ترقی کسی اور قوم کی ترقی ہوگی، مسلمانوں کی نہ ہوگی۔ اس امر سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ ترقی کی اصلی بنیاد تعلیم ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ جدید تعلیم مذہب سے خالی ہے اور قدیم تعلیم دنیاوی ترقی کے لیے کارآمد نہیں۔‘‘        (روداد ندوہ ،مارچ ۱۹۰۷ئ)
اورمولانا مودودی نے لکھا ہے:
’’لازما ہمارے پیش نظرتعلیم کا یہ مقصد ہونا چاہیے کہ ہم ایسے افراد تیار کریں جوہماری قومی تہذیب کو (اور ہماری قومی تہذیب ہمارے دین کے سوا کیا ہے؟لہٰذا)ہمارے دین کو اچھی طرح سمجھتے ہوں، اس پر سچے دل سے ایمان رکھتے ہوں، اس کے اصولوں کوخوب جانتے ہوں اور ان کے برحق ہونے کا یقین رکھتے ہوں،اس کے مطابق مضبوط سیرت اور قابل اعتماد اخلاق رکھتے ہوں اور اس قابلیت کے مالک ہوں کہ ہماری اجتماعی زندگی کے پورے کارخانے کو ہماری اس تہذیب کے اصولوں پر چلا سکیں اور مزید ترقی دے سکیں۔‘‘   (اسلامی نظام تعلیم ، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،۲۰۰۷ء ص ۱۴۲)
وہ مروّج تعلیمی نظاموں پر تنقید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی اس مقصد کی تکمیل نہیں کر سکتا:
’’اس وقت ہمارے  ملک میں جتنے نظام ہائے تعلیم رائج ہیں ان میں سے کوئی بھی اس مقصد کے لیے آدمی تیار نہیں کرتا جو ہمارے پیش نظر ہے۔۔۔ ہمیں صرف یہی نہیں کرنا ہے کہ نو خیز نسلوں کی علمی اور ذہنی تربیت کا انتظام اپنے نصب العین کے مطابق کریں، بلکہ اس کے ساتھ ان کی اخلاقی اور علمی تربیت کا بندوبست بھی کرنا ہے۔‘‘ (تعلیمات،مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی،۱۹۷۸ء ،ص۸۶)

جدید تعلیم پر تنقید

علامہ شبلی اور مولانا مودودی دونوں جدید تعلیم کے ناقد ہیں۔علامہ شبلی کو احساس ہے کہ جدید مغربی تعلیم مسلمانوں کے لیے ضروری ہے۔اگر وہ اس میدان میں پیچھے رہ گئے تو ترقی کی دوڑ میں بھی پیچھے رہ جائیں گے۔فرماتے ہیں:
’’مسلمان اس وقت کش مکشِ زندگی کے میدان میں ہیں۔ ان کی ہم سایہ قومیں مغربی تعلیم ہی کی    بہ دولت ان سے اس میدان میں بڑھ رہی ہیں۔ اگر خدانہ خواستہ مسلمان مغربی تعلیم میں ذرا بھی پیچھے رہ جائیں تو ان کی ملکی اور قومی زندگی دفعتہ برباد ہو جائے گی۔‘‘
(مقالات شبلی،مطبع معارف اعظم گڑھ،جلد سوم، ص ۱۴۶۔۱۴۷)
لیکن انھیں اس کا بھی احساس ہے کہ جدید تعلیمی اداروں میں مذہبی تعلیم کا انتظام نہیں ہے۔یہ ایک بہت بڑی کمی ہے،جس کی تلافی ضروری ہے:
’’ظاہر ہے کہ اس (جدید) طریقۂ تعلیم میں ہماری مذہبی اور قومی خصوصیات کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ اس میں نہ مذہبی تعلیم ہے نہ قومی تاریخ سے کچھ واقفیت ہو سکتی ہے،نہ اسلامی اخلاق اور مسائلِ اخلاق کا علم ہو سکتا ہے۔‘‘            (حوالہ سابق، ۱۵۶)
وہ ان اداروں میں تعلیم پانے والے طلبہ کے لیے دینیات کے ایک ایسے نصاب کی ضرورت محسوس کرتے ہیں جس سے وہ دین کی بنیادی تعلیمات اور ضروری مسائل سے واقف  ہوجائیں:
’’ یہ ظاہر ہے کہ انگریزی تعلیم یافتہ لوگوں سے ہم کو مذہبی خدمات یعنی امامت، وعظ،افتاء کا کام نہیں لینا ہے، بلکہ غرض یہ ہے کہ وہ خود بہ قدرِ ضرورت مسائلِ اسلام اور تاریخِ اسلام سے واقف ہوں۔ اس کے لیے صرف ایک مختصر اور جامع و مانع سلسلۂ کتب دینیات کی ضرورت ہے، جس میں سلسلہ بہ سلسلہ اسکول سے کالج تک کے قابل کتابیں ہوں۔ اس سلسلے میں تین قسم کی کتابیں ہونی چاہییں: فقہ، عقائد، تاریخ اسلام۔‘‘        (حوالۂ سابق،ص۱۴۱)
مولانا مودودی نے بھی جدید تعلیم کے اداروں پر سخت تنقید کی ہے۔اپنے ایک خطبے میں انھوں نے ان کو’ قتل گاہ‘ قرار دیا ہے:
’’ در اصل میں آپ کی اس مادر تعلیمی کو اور مخصوص طور پر اسی کو نہیںبلکہ ایسی تمام مادرانِ تعلیم کو درس گاہ کے بجائے قتل گاہ سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک آپ فی الواقع یہاں قتل کیے جاتے رہے ہیںاور یہ ڈگریاں جو آپ کو ملنے والی ہیں یہ در اصل موت کے صداقت نامے DEATH  CERTIFICATES) (          ہیں جو قاتل کی طرف سے آپ کو دیے جا رہے ہیں۔‘‘    (تعلیمات،ص۵۲)

قدیم طریقۂ تعلیم

علامہ شبلی اور مولانا مودودی دونوں قدیم طریقۂ تعلیم سے بھی مطمئن نہیں ہیں ۔اس سلسلہ میں علامہ شبلی کا خیال ہے کہ نصاب میں وقتا ًفوقتاً حسب ِضرورت اصلاح کرکے اسے up to date کرنا چاہیے۔انھوں نے لکھا ہے کہ نصابِ درس میں ہمیشہ تبدیلی ہوتی رہی ہے ۔اصلاحِ نصاب کا عمل متقدمین سے بغاوت نہیں ہے، بلکہ عین ان کی روایت ہے۔درسِ نظامی ابتداء میں مکمل اور جامع نصاب تھا،لیکن بعد کے ادوار میں وقتاً فوقتا ًاس میں تبدیلی ہوتی رہی ہے، اس لیے اگر موجودہ دور میں اس پرنظر ثانی کی جائے ،ایسے مضامین اور کتابیں ،جن کی اب کوئی افادیت باقی نہیں رہی، خارج کر دی جائیں اور نئے مضامین، جن کی موجودہ دور میں ضرورت ہے، اس میں شامل کردیے جائیں تو یہ علمائے سلف کی ہی روایت کا تسلسل ہوگا ۔ (ملاحظہ کیجیے: مقالات شبلی، جلد سوم میں ان کے مقالات(۱)ملا نظام الدین بانی درس نظامیہ( ۲)درس نظامیہ)۔
مولانا مودودی بھی قدیم طریقۂ تعلیم کے سخت ناقد ہیں ۔وہ کہتے ہیں:
’’ اب جو لوگ اس نظام تعلیم کے تحت پڑھ رہے ہیں اور اس سے تربیت پاکر نکل رہے ہیںان کا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ ہماری مسجدوں کو سنبھال کر بیٹھ جائیں، یا کچھ مدرسے کھول لیں یا وعظ گوئی کا پیشہ اختیار کریں اور طرح طرح کے مذہبی جھگڑے چھیڑتے رہیں، تاکہ ان جھگڑوں کی وجہ سے قوم کو ان کی ضرورت محسوس ہو۔‘‘(اسلامی نظام تعلیم، ص۶)
لیکن ساتھ ہی ان کا خیال یہ بھی ہے کہ اصلاحِ نصاب سے اس کی بنیادی خامی دور نہیں ہو سکتی ہے۔ انھوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماء میں جو مقالہ پڑھا تھا،اس میں اصلاح نصاب کی کوششوں پر ان الفاظ میں تنقید کی تھی:
’’ لوگ اس گمان میں ہیں کہ پرانی تعلیم میں خرابی صرف اتنی ہی ہے کہ نصاب  بہت پرانا ہوگیا ہے اور اس میں بعض علوم کا عنصر بعض علوم سے کم یا زیادہ ہے اور جدید زمانہ کے بعض علوم اس میں شامل نہیں ہیں۔اس لیے اصلاح کی ساری بحث اس حد تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے کہ کچھ کتابوں کو نصاب سے خارج کرکے کچھ دوسری کتابوں کو شامل کر دیا جائے۔۔۔۔۔اور بہت زیادہ روشن خیالی پر جو لوگ اتر آتے ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ صاحب ہر مولوی کو میٹرک تک انگریزی پڑھاکر نکالو ، تاکہ کم از کم تار پڑھنے اور لکھنے کے قابل تو ہوجائے۔‘‘    (تعلیمات:ص۵۵۔۵۶)
آگے مزید فرما تے ہیں:
’’لیکن یہ جدت جو آج دکھائی جا رہی ہے یہ اب بہت پرانی ہوچکی ہے۔اس کی عمر اتنی ہی ہے جتنی آپ کے دار العلوم ندوۃ العلماء کی عمر ہے۔اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اگر کچھ ہو سکتا ہے تو وہ صرف یہ کہ پہلے سے کچھ زیادہ کامیاب قسم کے مولوی پیدا ہوجائیں جو کچھ جر منی اور امریکہ کی باتیں بھی کرنے لگیں ،اس ذرا سی اصلاح کا یہ نتیجہ کبھی نہیں نکل سکتا کہ دنیا کی امامت و قیادت کی باگیں علمائے اسلام کے ہاتھ آجائیں اور وہ دنیا جو آج آگ کی طرف چلانے والے ائمہ(Leaders) کے پیچھے چل رہی ہے،جنت کی طرف بلانے والے  ائمہ کی رہبری قبول کرلے۔‘‘ (حوالہ سابق،ص۵۶)

مطلوبہ نظام تعلیم

علامہ شبلی کے نزدیک مسلمانوں کے لیے جدید یعنی مغربی تعلیم بھی ضروری ہے اور قدیم یعنی دینی تعلیم بھی۔وہ چاہتے ہیں کہ دونوں طریقہ ہائے تعلیم کی خامیوں کی اصلاح کر دی جائے۔جدید تعلیم کے ساتھ کچھ مذہبی تعلیم لازمی کردی جائے ،تاکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ بچوں کا اپنے مذہب سے تعلق باقی رہے اور قدیم تعلیم کے ساتھ کچھ جدید مضامین بھی طلبہ کو پڑھائے جائیں، تاکہ ان کے کچھ معاش کا بھی نظم ہو سکے ۔ فرماتے ہیں:
’’یہ مناسب نہیں کہ مشرقی تعلیم سے بالکل بے اعتنائی اختیارجائے، البتہ اس کی ضرورت ہے کہ اس کو زیادہ بہ کار آمد بنایا جائے اور مذہبی حصے کو چھوڑ کرباقی چیزوں میں ایسی ترقی اور اصلاح کی جائے کہ مشرقی تعلیم یافتہ لوگوں کی معاش کے لیے کچھ وسائل پیدا ہو سکیں۔‘‘( مقالات شبلی،سوم ،ص۱۵۰)
ایک جگہ فرماتے ہیں:
’’یہ ہم نے بار بار کہا ہے اور اب پھر کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کے لیے نہ صرف انگریزی مدرسوں کی تعلیم کافی ہے نہ قدیم عربی مدرسوں کی۔ ہمارے درد کا علاج ایک ’معجون مرکب‘ ہے، جس کا ایک جز مشرقی اور دوسرا مغربی ہے۔‘‘    (حوالہ سابق ، ص۳ ۱۶)
علامہ شبلی کے نزدیک’ معجون مرکب ‘کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دونوں طریقہ ہائے تعلیم کو ختم کرکے ایک نیا نظام تعلیم تشکیل دیا جائے جو دونوں کا جامع ہو، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ مغربی تعلیم میں کچھ مذہبی تعلیم شامل کر دی جائے اور مذہبی تعلیم میں کچھ جدید مضامین کا اضافہ کر دیاجائے۔
لیکن مولانا مودودی کو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ان کے نزدیک’’علوم کو دینی و دنیوی دو الگ الگ قسموں میں منقسم کرنا دراصل دین اور دنیا کی علیٰحدگی کے تصور پر مبنی ہے اور یہ تصور بنیادی طور پر غیر اسلامی ہے۔اسلام جس چیز کو دین کہتا ہے وہ دنیا سے الگ کوئی چیز نہیں ہے ۔ ‘ ‘ (تعلیمات، ص۰ ۷)انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نصاب میں دینی تعلیم کی شمولیت پر ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے:
’’ میری نظر میں مسلم یونی ورسٹی کی دینی و دنیاوی تعلیم بہ حیثیت مجموعی بالکل ایسی ہے کہ آپ ایک شخص کو از سر تا پا غیر مسلم بناتے ہیں، پھر اس کی بغل میں دینیات کی چند کتابوں کا ایک بستہ دے دیتے ہیں۔‘‘                        (تعلیمات، ص۲۴)
وہ واضح الفاظ میں کہتے ہیں:
’’درحقیقت اب یہ ناگریز ہو چکا ہے کہ وہ دونوں نظام تعلیم ختم کر دیے جائیں جو اب تک ہمارے یہاں رائج ہیں۔پرانا مذہبی نظام تعلیم بھی ختم کیا جائے اور یہ موجودہ نظام تعلیم بھی، جو انگریز کی رہ نمائی میں قائم ہوا تھا۔ان دونوں کی جگہ ہمیں ایک نیا نظام تعلیم بنانا چاہیے جو ان نقائص سے پاک ہو اور ہماری ان ضرورتوں کو پورا کرسکے جو ہمیں ایک مسلمان قوم کی حیثیت سے  اس وقت لاحق ہیں ۔‘‘
(اسلام کا نظام تعلیم:ص۱۳)
اسلامی نظام تعلیم سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے فرمایا:
’’اسلامی نظام تعلیم سے مراد ایسا نظام تعلیم ہے جس میں تعلیمی نصاب کے جملہ اجزاء کو اسلامی اصول و نظریات کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہو۔معلمین و متعلمین دونوں کی دینی و اخلاقی تربیت کا خاص خیال رکھا گیا ہو اور عربی زبان اور کتاب و سنت کی ضروری و اساسی تعلیمات کو نظام تعلیم کا جز لازم قراردیا گیا ہو۔‘‘    (رسائل و مسائل، المنار بک سینٹر، لاہور،۱۹۸۴ئ:۵؍۳۹۷)
اس سے واضح ہے کہ آئیڈیل اور معیاری نظامِ تعلیم تو وہی ہے جو مولانا مودودی نے پیش کیا ہے۔اس میں بہت ہمہ گیری اور جامعیت پائی جاتی ہے۔اس سے دین و دنیا کی دوئی ختم ہوتی ہے۔اس کے تحت ابتدائی اور ثانوی مراحل میں تمام طلبہ تمام ضروری مضامین پڑھتے ہیں، خواہ وہ دینی ہوں یا دنیاوی۔اس طرح انھیں اپنے دین سے متعلق بنیادی اور ضروری معلومات حاصل ہو جاتی ہیں اور وہ جدید تعلیم سے بھی بہ خوبی آشنا ہوجاتے ہیں۔آگے کے مرحلے میں اختصاصی تعلیم کا آغاز ہوتا ہے اور ہر طالب علم اپنے ذوق،مزاج اور دلچسپی کے اعتبار سے اس کا انتخاب کرتا اور اس میں کمال پیدا کرتا ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسا نظامِ تعلیم برپا کرنا ،اس کے مطابق تمام مراحل میں ہر مضمون کا نصاب تیار کرنا اور ایسے تعلیمی ادارے قائم کرنا، جن میں ان کی تدریس ہوسکے، جماعتوں اور تنظیموں کے بس کی بات نہیں، بلکہ یہ اسلامی ریاست کا کام ہے۔موجودہ دور میں یہ کام بہت دشوار معلوم ہوتا ہے۔ اس تصورِ تعلیم کو نصب العین بنایا جا سکتاہے اور اس کے حصول کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جاسکتے ہیں،لیکن جب تک اپنی کامل ترین صورت میں اس کا حصول ممکن نہ ہو،قابل ِعمل صورت وہی ہے جس کا تذکرہ علامہ شبلی نے کیا ہے،یعنی دونوں طریقہ ہائے تعلیم میں اصلاحات کی جائیں ،ان کی خامیوں کو دور کیا جائے اور ان میں مفید اجزاء شامل کیے جائیں۔
علامہ شبلی کی بعض تحریروں سے بھی اس وسیع تصوّرِ تعلیم کا اشارہ ملتا ہے۔ انھوں نے ۱۹۱۹ء میں ریاست حیدرآباد کی مشرقی یونی ورسٹی (دار العلوم) کے لیے نصاب تجویز کرنے کے ساتھ لکھا تھا:
چوں کہ ریاستِ نظام ایک وسیع مملکت ہے۔۔۔اس کو موقع ہے کہ موجودہ طریقۂ تعلیم کے علاوہ ایک ایسا خاص سلسلۂ تعلیم بھی قائم کرے جس میں انگریزی تعلیم کے ساتھ اسلامی علوم اور اسلامی تاریخ بھی شامل ہو اور جس کے تعلیم یافتہ گویا دونوں قسم کی تعلیم کا مجموعہ ہوں۔ اس قسم کی تعلیم کا انتظام دار العلوم میں ہو سکتا ہے۔‘‘(مقالات شبلی، سوم،ص۱۵۷)

مجو ّ زہ نصاب تعلیم

علامہ شبلی اور مولانا مودودی نے بعض تعلیمی اداروں کے لیے نصاب ترتیب دیا تھا۔ان کا تقابلی مطالعہ دلچسپی کا حامل ہے۔اول الذکر نے حیدرآباد کی مشرقی یونیورسٹی (دارالعلوم)کے نصاب کا تنقیدی جائزہ لیا اوراس کی اصلاح کے لیے درج ذیل سفارشات کیں:
۔  قرآن مجید کی تعلیم کا حصہ نہایت کم ہے۔ اسے بڑھایا جائے۔
۔   عربی ادب کا حصہ نہایت کم ہے۔ اس میں اضافہ کیا جائے۔
۔  انشاء پردازی اور مضمون نگاری کی مشق کے لیے خاص گھنٹے مقرر کیے جائیں۔
۔  عقائد و کلام کی بلند پایہ کتابیں شامل کی جائیں۔
۔  تاریخ اسلام اور تاریخ عام کی کتابیں شاملِ نصاب کی جائیں۔
۔  علوم جدیدہ کی بعض کتابیں شامل کی جائیں۔
۔  انگریزی زبان بہ طور سیکنڈ لینگویج لازمی قرار دی جائے۔
(مقالات شبلی، سوم ،ص ۱۵۷۔۱۵۹)
مولانا مودودی نے مسلم یونیورسٹی کی مجلس اصلاح نصاب دینیات کو نصاب کے سلسلے میں جو تجاویز بھیجی تھیں ان کا خلاصہ یہ ہے:
۔  مسلم یونیورسٹی  کے حدود سے فرنگیت کا کلی استیصال کرکے اسلامی تہذیب کا تحفظ کیا جائے۔
۔  مسلم یونیورسٹی کے معلمین ایسے مقرر کیے جائیں جو ظاہری و باطنی طور سے مسلمان ہوں۔
۔  یونیورسٹی میں عربی زبان و ادب کی تعلیم لازمی ہو۔
۔  ہائی اسکول کی تعلیم میں طلبہ کو تمام بنیادی اسلامی عقائدو تصورات،تاریخ،فنون اور اسلامی ادب و ثقافت کی تعلیم  لازماً دی جائے۔
۔  ہر فن کے سلیبس میں اسلامی نظریات و تعلیمات کو اس طرح پیوست کردیا جائے کہ وہ اس کا جز لاینفک بن جائے۔
۔  اختصاصی تعلیمات میں علوم اسلامیہ کو بھی شامل کیا جائے۔
۔  بی ٹی ایچ اور ایم ٹی ایچ کرانے کے بجائے اسلامی علوم کو متعلقہ علوم کے ساتھ پڑھانے کا اہتمام کیا جائے۔
۔  علوم اسلامیہ میں ریسرچ کا ایک مستقل شعبہ ہو۔
( تعلیمات،ص۲۸۔۳۶ )
مولانا مودودی نے اصلاح تعلیم کے سلسلے میں پاکستان کے قومی تعلیمی کمیشن کو جو تجاویز بھیجی تھیں ان میں بھی ابتدائی،ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کا عملی نقشہ شامل تھا اور ہر مرحلہ کے لیے مضامین اور طریقۂ تعلیم کی نشان دہی کی گئی تھی۔( اسلامی نظام تعلیم،ص۱۷۔۲۸ )
ان دونوں بزرگوں کے تجویز کردہ نصابِ تعلیم کا تقابلی مطالعہ تفصیل کا طالب ہے، جس کا یہاں موقع نہیں ہے۔

انگریزی زبان کی اہمیت
علامہ شبلی نے علماء کے لیے انگریزی زبان سیکھنے پر بہت زور دیا ہے۔وہ تحریک ندوۃالعلماء سے وابستہ ہوئے اور اس کے تحت دارالعلوم کے قیام کی تجویز کی تائید کی تو ساتھ ہی نصاب میں انگریزی شامل کرنے پر زور دیا۔پھر جب وہ دارالعلوم کے معتمد تعلیم بنائے گئے تو انھوں نے عملًا انگریزی کو نصاب میں شامل کروایا۔دراصل وہ چاہتے تھے کہ ایسے علماء تیار ہوں جو انگریزی جاننے والوں کے درمیان انگریزی میں گفتگو کر سکیں اور اسلام کی تعلیمات ان کے سامنے پیش کرسکیں۔ایک موقع پر انھوں نے فرمایا:
’’عالم یا فاضل کے درجے کے بعد ضرور ہے کہ چند طلبہ کو دو برس تک خالص انگریزی زبان سکھائی جائے، تاکہ انگریزی زبان میں تحریر اور تقریر کا ملکہ ہو اور ایسے علماء پیدا ہوں کہ یورپ کی علمی تحقیقات کو اسلامی علوم میں اضافہ کر سکیں اور انگریزی داںجماعت کے مجمع میں انہی کی زبان اور خیالات میں اسلامی عقائد اور مسائل پر تقریر کر سکیں۔‘‘        (مقالات شبلی، سوم ص ۱۶۰۔۱۶۱)
مولانا مودودی کو بھی انگریزی زبان کی اہمیت کا احساس ہے ،لیکن وہ اسے ذریعۂ تعلیم بنانے کی مخالفت کرتے ہیں۔ان کے نزدیک طلبہ کی مادری زبان کو ذریعۂ تعلیم بنانا چاہیے۔ان کا خیال ہے:
’’جہاں تک انگریزی زبان کی تعلیم کا تعلق ہے، جدید علوم کے حصول کے لیے اس کی ضرورت اور اہمیت کا کوئی شخص بھی انصاف کے ساتھ انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن یہ بات بہ ہر حال غلط ہی نہیں، سخت نقصان دہ ہے کہ یہ ہمارے ہاں ذریعۂ تعلیم کے طور پر جاری رہے۔۔۔انگریزی کو ایک اہم زبان کی حیثیت سے شاملِ نصاب ضرور رکھنا چاہیے اور جو لوگ سائنس اور دوسرے جدید علوم حاصل کرنا چاہیں ان کے لیے اس زبان کو سیکھنا لازم بھی کیا جا سکتا ہے، مگر اسے ذر یعۂ تعلیم بنائے رکھنا انتہائی غلط فعل ہے۔‘‘     (اسلامی نظام تعلیم، ص۳۶)

تعلیمِ نسواں

علامہ شبلی اور مولانا مودودی دونوں ہی تعلیم نسواں کے حامی ہیں۔خطبات شبلی میں شامل ایک مضمون میں تعلیمِ نسواں پر بہت زور دیا گیا ہے۔ علامہ شبلی کا خیال ہے کہ تعلیم کے معاملے میں لڑکوں اور لڑکیوں میں ذرا بھی فرق کرنا مناسب نہیں ہے۔حتیّٰ کہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے نصاب میں بھی کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔فرماتے ہیں:
’’ عورتوں کو اسی حد تک تعلیم دی جا سکتی ہے جس حد تک مردوں کو۔ اس لیے مجھے اس خیال سے اتفاق نہیں کہ لڑکیوں کے لیے الگ کورس ہو اور لڑکوں کے لیے الگ۔ میرے خیال میں دونوں کا نصاب یکساں ہونا چاہیے۔‘‘        (خطبات شبلی،ص۱۸۴)
علامہ نے مسلم ممالک روم اور مصروشام کے سفر میں جہاں بھی عورتوں میں بیداری اور ان کی تعلیم کا مشاہدہ کیا،اس پر اپنی پسندیدگی اور خوشی کا اظہار اور اپنے سفرنامہ میں خصوصیت سے اس کا تذکرہ کیا۔مثلاًترکوں کے تعلق سے لکھتے ہیں:
’’ترکوں کی تہذیب و ترقی میں جو چیز سب سے زیادہ قابلِ قدر اور قابلِ تقلید ہے وہ عورتوں کی تعلیم و تربیت و طریقۂ معاشرت ہے۔۔۔وہ تعلیم یافتہ ہیں،لیکن بے شرمی، شوخی، بے جا آزادی،رقاصی کی (وہ بھی غیر مردوں کے ساتھ) ان کو تعلیم نہیں ہوئی ہے۔وہ پردہ کی پابند ہیں، لیکن جاہل، دنیا سے   بے خبر مکان کے قفس میں بند،حیوان انسان نما نہیں ہیں۔۔۔ان مدارس کی وجہ سے تعلیم اس قدر عام ہو گئی ہے کہ زمانۂ حال میںبہ مشکل ایسی عورت مل سکتی ہے جس نے مناسب درجے تک تعلیم نہ پائی ہو۔‘‘
(سفر نامۂ روم و مصر و شام،ص۱۱۱۔۱۱۲)
مولانا مودودی نے بھی تعلیم نسواں کی پرزور وکالت کی ہے اور اس کو اسی طرح ضروری قرار دیا ہے جس طرح مردوں کی تعلیم ضروری ہے۔۔وہ فرماتے ہیں:
’’جہاں تک عورتوں کی تعلیم کا تعلق ہے یہ اسی قدر ضروری ہے جتنی کہ مردوں کی تعلیم۔ کوئی قوم اپنی عورتوں کو جاہل اور پس ماندہ رکھ کر دنیا میںآگے نہیں بڑھ سکتی۔ اس لیے ہمیں عورتوں کی تعلیم کے لیے بھی بہتر سے بہتر انتطام کرنا ہے، جیسا کہ مردوں کی تعلیم کے لیے‘‘    (اسلامی نظام تعلیم، ص۳۱)
لیکن وہ اس جانب بھی توجہ دلاتے ہیں کہ عورتوں کو ایسی تعلیم دی جائے جس سے ان کی فطری ذمہ داریاں متاثر نہ ہوں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’ عورتوں کی تعلیم میں اس بات کو بھی خاص طور پر ملحوظ رکھنا چاہیے کہ ان کی اصل اور فطری ذمے داری زراعتی فارم،کارخانے اور دفاتر چلانے کے بجائے گھر چلانے اور انسان سازی کی ہے۔ ہمارے نظام تعلیم کو ان کے اندر ایک ایسی مسلمان قوم وجود میں لانے کی قابلیت پیدا کرنی چاہیے جو دنیا کے سامنے اس فطری نظامِ زندگی کا عملی مظاہرہ کر سکے جو خود خالقِ کائنات نے بنی نوع انسان کے لیے مقرر فرمایا ہے۔‘‘    (حوالہ سابق، ص۳۱)
مولانا مودودی نے جہاں تعلیمِ نسواں کی حمایت کی ہے وہیں وہ اس بات پر بہت زور دیتے ہیں کہ طالبات کی تعلیم کا انتظام طلبہ سے الگ کرنا ضروری ہے۔ مخلوط تعلیم کو وہ سراسر غیر اسلامی اور ضرررساں سمجھتے ہیں۔ فرماتے ہیں:
’’ ہمارے ہاں عورتوں کی تعلیم کا انتظام ان کے فطری وظائف و ضروریات کے مطابق اور مردوں سے بالکل الگ ہونا چاہیے۔ یہاں اوپر سے لے کر نیچے تک کسی سطح پر بھی مضلوط تعلیم کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا۔‘‘        (حوالہ سابق، ص۳۱)
مخلوط تعلیم کے بارے میں ایک سوال کا جواب انھوں نے ان الفاظ میں دیا:
’ہم مخلوط تعلیم کو بالکل غلط قرار دیتے ہیں۔  میں سمجھتا ہوں کہ مغربی اقوام آج جس اخلاقی پستی اور معاشرتی انتشار میں مبتلا ہیں اور وہاں خاندانی نظام جس اخلاقی پستی کو پہنچا ہوا ہے اس میں دوسری چیزوں کے علاوہ مخلوط تعلیم کا بھی زبردست حصہ ہے۔‘‘    (ماہنامہ آئین ،اپریل۱۹۷۶ئ)

دینی مدارس کا وفاق

تعلیم کے میدان میں علامہ شبلی کی فراست و بصیرت کا ایک ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے ایک صدی قبل دینی مدارس کے وفاق کی تجویز پیش کی تھی۔انھوں نے فرمایا تھا:
’’اس امر میں سعی کی جائے کہ مدارس اسلامیہ، جو کثرت سے جا بہ جا قائم ہیں، ان کو ایک سلسلے میں مربوط کرنے کے لیے دو تین بڑے مدرسے، مثل مدرسہ دیوبند، مدرسہ فیض عام کان پور اور مدرسہ احمدیہ آرہ وغیرہ بہ طور دار العلوم قرار دے دیے جائیں اور چھوٹے چھوٹے مدرسے ان کی شاخیں قرار دی جائیں اور ان چھوٹے چھوٹے مدرسوںکی تمام کارروائی ان دار العلوموں کی نگرانی میں رہے۔‘‘
(تحریک ندوۃ العلماء کے اجلاس اول میں پیش کی گئی تجویز۔حیات شبلی،ص ۳۰۷۔۳۰۸)
موجودہ دور میں دینی مدارس جن نازک حالات سے گزر رہے ہیں ان میں اس تجویز کو رو بہ عمل لانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔اس لیے دینی مدارس کے ذمہ داروں کو اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔