بعثت محمد ﷺ سے پہلے دنیا کے مذھبی اور سیاسی حالات

مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ 

چھٹی صدی مسیحی کی دنیا 

چھٹی صدی مسیحی بلا اختلاف تاریخ انسانی کا تاریک ترین و پست ترین دور تھا، صدیوں سے انسانیت جس پستی و نشیب کی طرف جا رہی تھی، اس کے آخری نقطہ کی طرف پہنچ گئی تھی، روئے زمین پر اس وقت کوئی ایسی طاقت نہ تھی جو گرتی ہوئی انسانیت کا ہاتھ پکڑ سکے اور ہلاکت کے غار میں اس کو گرنے سے روک سکے، نشیب کی طرف جاتے ہوئے روز بروز اس کی رفتار میں تیزی پیدا ہو رہی تھی، انسان اس صدی میں خدا فراموش ہو کر کامل طور پر خود فراموش بن چکا تھا، وہ اپنے انجام سے بالکل بے فکر اور بے خبر اور بُرے بھلے کی تمیز سے قطعا محروم ہو چکا تھا۔ پیغمبروں کی دعوت کی آواز عرصہ ہوا دب چکی تھی، جن چراغوں کو یہ حضرات روشن کر گئے تھے، وہ ہواؤں کے طوفان میں یا تو بُجھ چکے تھے یا اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اس طرح ٹمٹما رہے تھے، جن سے صرف چند خدا شناس دل روشن تھے، جو شہروں کو چھوڑ کر چند پورے پورے گھروں میں بھی اُجالا نہیں کر سکتے تھے۔ دیندار اشخاص دین کی امانت کو اپنے سینہ سے لگائے ہوئے زندگی کے میدان سے کنارہ کش ہو کر دیر و کلیسا اور صحراؤں کی تنہائیوں میں پناہ گزیں ہو گئے تھے، اور زندگی کی کشمکش، اس کے مطالبات اور اس کی تلخ حقیقتوں سے دامن بچا کر دین و سیاست اور روحانیت و مادیت کے معرکہ میں شکست کھا کر اپنے فرائض قیادت سے سبکدوش ہوگئے تھے، اور جو زندگی کے اس طوفان میں باقی رہ گئے تھے، انھوں نے بادشاہ اور اہل دنیا سے سازبازکرلی تھی، اور ان کی ناجائز خواہشات اور ظالمانہ نظام سلطنت و معیشت میں ان کے دست راست اور باطل طریقہ پر لوگوں کا مال کھانے اور ان کی قوت و دولت سے ناجائز فائدہ اٹھانے میں ان کے شریک و سہیم بن گئے تھے۔

رومی اور ایرانی اس وقت مغرب و مشرق کی زعامت اور دنیا کی قیادت کے اجارہ دار بنے ہوئے تھے، وہ دنیا کے لیے کوئی اچھا نمونہ ہونے کے بجائے ہر قسم کی خرابی اور فساد کے علمبردار و ذمہ دار تھے، مختلف اجتماعی اور اخلاقی امراض کا عرصہ سے یہ قومیں آشیانہ بنی ہوئی تھیں، ان کے افراد تعیش و تکلفات کی زندگی اور مصنوعی تمدن کے سمندر میں سرتاپا غرق تھے، بادشاہ اور حکام خواب غفلت میں مدہوش اور نشہ سلطنت میں سرشار تھے، کام ودہن کی لذت اور خواہشات نفس کی تسکین کے سوا انکو دنیا میں کوئی فکر اور زندگی میں کوئی مشغلہ نہ تھا، زندگی کی ہوس اور لذت کی حرص اتنی بڑھ گئی تھی کہ ان کو کسی طرح سیری نہیں ہوتی تھی، متوسط طبقہ کے لوگ (ہر زمانہ کے دستور کے مطابق) اس اعلی طبقہ کے قدم بقدم چلنے کی کوشش کرتے تھے، اور اسکی نقالی کو سب سے بڑا فخر سمجھتے تھے، باقی رہے، عوام تو وہ زندگی کے بوجھ اور حکومت کے مطالبات اور محصولات کے بار میں ایسے دبے ہوئے، اور غلامی اور قانون کی زنجیروں اور بیڑیوں میں ایسے جکڑے ہوئے تھے کہ ان کی زندگی جانوروں اور چوپایوں سے ذرا مختلف نہ تھی، دوسروں کی راحت کے لئے محنت کرنے اور دوسروں کے عیش و عشرت کے لئے بے زبان جانوروں کی طرح ہر وقت جتے رہنے اور جانوروں کی طرحاپنا پیٹ بھر لینے کےسوا ان کا کچھ حصہ نہ تھا ،کبھی اگر وہ اِس خشک وبےمزہ زندگی اور اس کے یکساں چکر سے اکتاجاتے ، تو نشہ آور چیزوں اورسستی تفریحات سے اپنا دل بہلا لیتے اور اگر کبھی زندگی کے اس عذاب سے ان کوسانس لینے کا موقع ملتا تو فاقہ زدہ اور ندیدہ انسان کی طرح مذہب واخلاق کی پابندیوں سے آزاد ہو کرحیوانی لذتوں پر آنکھیں بندکرکےگرتے ۔ دنیا کے مختلف حصوں اور ملکوں میں ایسی دینی غفلت وخود فراموشی ، اجتماعی بےنظمی وانتشار اور اخلاقی تنزل وزوال رونما تھا کہ یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ ممالک تنزل وانحطاط اورشروفساد میں ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتے ہیں ، اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہےکہ اِن میں سے کون سا ملک دوسرے سے بڑھا ہواہے۔

اقوام ومذاہب پر ایک نظر

اس دورمیں بڑے بڑے مذہب بازیچہٴ اظفال اور منافقین کا تختہٴ مشق بن گئے ، ان مذاہب کی صورت وحقیقت دونوں اس درجہ مسخ ہوگئی تھی کہ اگر یہ ممکن ہوتا کہ کسی طرح ان مذاہب کے پیشوا دنیا میں آکر اپنے دین کا حال دیکھ سکیں تو قطعا وہ اپنے مذاہب نہ پہچان سکتے ۔

تہذیب وتمدن کے گہواروں میں خود سری ، بےراہ روی اور اخلاقی پستی کا دور دورہ تھا ، نظامِ حکومت میں حددرجہ ابتری تھی ، حکام کی سخت گیری اورعوام کی اخلاقی گراوٹ کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام قومیں اپنے اندرونی مسائل ہی میں الجھ کر رہ گئی تھیں ، دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے ان کے پاس نہ کوئی پیغام تھا ، اور نہ انسانیت کے لئے کوئی دعوت تھی ، درحقیقت یہ اقوام و مذاہب اندر سے کھوکھلے ہو چکے تھے ، ان کی زندگی کا سوتا خشک ہو چکا تھا ، ان کے پاس نہ دینی ہدایات تھیں اور نہ نظامِ حکومت کے لئے مستحکم ومعقول اصول ۔ (1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1- "انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر "  ص 31 - 33 ،مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ )