بعثت محمد ﷺ سے پہلے یہویوں اور عیسائیوں کی باہم منافرت

مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندویؒ 

یورپ ، ایشیا ، افریقہ میں بسنے والی یہود نام کی قوم دنیا کی تمام قوموں میں اس لحاظ سے ممتاز تھی کہ اس کے پاس دین کا بہت بڑا سرمایہ تھا اور اس میں تعبیرات و اصطلاحا ت سمجھنے کی سب سے زیادہ صلاحیت تھی لیکن یہودی مذہب وتمدن یا سیاست میں وہ مقام نہیں رکھتے تھے، کہ دوسروں پر اثر ڈال سکیں، بلکہ ان کے لئے مقدّر ہوچکا تھا کہ ہمیشہ ان پر دوسرے لوگ حکومت کریں اور ہمیشہ ظلم واستبداد، سزا وجلا وطنی اور مصائب و مشقت کے ہدف بنے رہیں، عرصہ دراز تک غلام رہنے اور انواع واقسام کی سختیاں اور سزائیں جھیلنے کے سبب ان کا ایک خاص مزاج بن گیا تھا، قومی غرور م نسبی تکبر، حر ص اور مال و دولت کی حد سے بڑھی ہوئی طمع، مسلسل سود کے لین دین سے ان میں مخصوص ذہنیت و سیرت اور قومی خصائل و عادات پیدا ہوگئے تھے، جس میں وہ ہمیشہ منفرد رہے، کمزور یا مغلوب ہونے کے وقت ذلت وخوشامد، اور غالب ہونے کی صورت میں انتہائی بے رحمی اور بد معاملگی اور عام حالات میں دغابازی اورنفاق ، سنگدلی وخود غرضی مُفت خوری و حرام خوری، راہ حق سے لوگوں کو روکنا ان کا قومی کردار تھا، قرآن کریم نے ان کی اس صورت حال کا جو چھٹی اور ساتویں صدی میں تھی، بہت واضح اور مکمل نقشہ کھینچا ہے، اور بتلایا ہے کہ اخلاقی انحطاط، انسانی پستی اور اجتماعی فساد میں وہ کس منزل میں تھے، اور کیا اسباب تھے جن کی بنا پر وہ ہمیشہ کے لئے عالم کی قیادت اور اقوام کی امامت سے معزول کردیئے گئے۔


چھٹی صدی کے آخر میں یہویوں اور عیسائیوں کی باہم رقابت و منافرت اس حد کو پہونچ گئی تھی کہ ان میں سے کوئی دوسرے فریق کو ذلیل کرنے اور اس سے اپنی قوم کا انتقام لینے اور مفتوح کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتا تھا، سن 610 ء میں یہودیوں نے انطاکیہ میں عیسائیوں کے خلاف بلوہ کیا، شہنشاہ فوقا( PHOCAS )نے ان کی سرکوبی کے لئے مشہور فوجی افسر بنوسوس (BONOSUS) کو بھیجااس نے پوری یہودی آبادی کا اس طرح خاتمہ کیا ہزاروں کو تلوار سے، سیکڑوں کو دریا میں غرق کر کے، آگ میں جلا کر اور درندوں کے سامنے ڈال کر ہلاک کر دیا، ۶۱۵ ؁ء میں جب ایرانیوں نے شام فتح کیا تو یہود ہی کے مشورہ و ترغیب سے خسرو نے عیسائیوں پر وحشیانہ مظالم کئے اور بیشتر عیسائیوں کو تہ تیغ کیا، ایرانیوں پر فتح حاصل کرنے کے بعد ہرقل (HERCULES) نے زخم خوردہ عیسائیوں کے مشورہ سے ۶۳۰ ؁ء میں یہودیوں سے سخت انتقام لیا اور ان کا اس طرح قتل عام کیا کہ رومی مملکت میں صرف وہ یہود ہی بچ سکے جو ملک چھوڑ کر چلے گئے یا کہیں چھپے رہے ۔ ( تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب ’’الخطط المقریزیہ‘‘ ج۴ ؃ ۳۹۲ اور (THE ARAB`S CONQUEST OF EGYPT P.133-134)

اس سفاکی و بربریت اور اس خوں آشام ذہنیت کے ساتھ جس کا مظاہرہ ساتویں صدی کے ان دو عظیم ترین مذاہب نے کیا، اس کی کیا توقع کی جا سکتی تھی کہ وہ اپنے دورِ حکومت میں انسانیت کے پاسبان ثابت ہوں گے اور حق و انصاف، امن و صلح کا پیغام دنیا کو سنائیں گے۔ (1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1- " انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر" ص 38-40  سید ابوالحسن علی ندوی ؒ