تاریخی روایات کو پرکھنے کا معیار- ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

تحقیق وتخریج حدیث کی معاصر تحریک سے جو غلط مناہج اس امت میں رواج پا گئے، ان میں سے ایک منہج یہ بھی ہے کہ تاریخی واقعات کی صحت وضعف کو اصول حدیث کی روشنی میں پرکھا جا رہا ہے حالانکہ اصول حدیث اصلا حدیث کی خبر کے تحقیق کے اصول ہیں نہ کہ تاریخ کی خبر کے تحقیق کے اصول۔ بلکہ اس سے بھی بڑی غلطی یا المیہ کہنا چاہیے یہ ہوا کہ قرآن مجید کی خبر کو بھی اصول حدیث کی روشنی میں پرکھا جانے لگا اور بہت سی قراءت جو کہ قرآن مجید کی خبر کے اصول تحقیق پر پوری اترتی ہیں، انہیں ضعیف قرار دے دیا گیا، صرف اس لیے کہ وہ حدیث کی تحقیق کے اصولوں کے مطابق نہ تھیں۔

یہاں تک کہ ہم نے ہر فن یعنی قراءات، تفسیری اقوال، سیرت اور تاریخی واقعات تک پر اصول حدیث کی روشنی میں حکم لگانا شروع کر دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اصول حدیث، حدیث کی تحقیق کے اصول ہیں اور حدیث ایک خبر ہے لیکن خبر، خبر میں فرق ہوتا ہے لہذا ہر خبر کے تحقیق کے اصول ایک جیسے نہ ہوتے ہیں اور نہ ہی ہیں۔ قرآن مجید کی روایات یعنی قراءات کی تحقیق کے اصول ”اصول قراءات“ ہیں۔ قراء کا جن ائمہ قراءات کی قراءات لینے پر اجماع اور اتفاق ہے، مثلا امام حفص کہ جن کی روایت سب سے زیادہ تلاوت کی جاتی ہے، محدثین کی جرح وتعدیل کی روشنی میں وہ ضعیف راوی ہیں اور بعض نے انہیں متروک الحدیث بھی کہا ہے۔


اگر آپ اصول حدیث کی روشنی میں قرآن مجید کی خبر کو پرکھنا شروع کر دیں گے تو یہ قرآن بھی ثابت نہ ہو گا جو آپ اس وقت پڑھ رہے ہیں۔ پھر تفسیری اقوال، سیرت اور تاریخ وغیرہ شریعت نہیں ہیں کہ ان کے قبول ورد کے لیے اتنی سخت چھلنی لگائی جائے جو کہ حدیث کے لیے لگائی گئی ہے۔ پھر یہ کہ اگر اصول حدیث کی چھلنی میں سے سیرت اور تاریخ کو گزارا جائے گا تو آپ کے پاس سیرت اور تاریخ کے نام پر کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ تو معتدل بات یہی ہے کہ قرآن مجید کی خبر کا ثبوت ”اصول قراءات“، حدیث کی خبر کا ثبوت ”اصول حدیث”، تفسیری اقوال کی خبر کا ثبوت ”اصول تفسیر“، سیرت کی خبر کا ثبوت ”اصول سیرت“ اور تاریخ کی خبر کا ثبوت ”اصول تاریخ“ کی روشنی میں طے ہو گا۔

تفسیری اقوال کی صحت وضعف میں امام ابن تیمیہ نے مقدمہ اصول تفسیر میں بہت خوبصورت بحث کی ہے جو کہ مرسل اقوال کے حوالے سے ہے۔ امام ابن تیمیہ کا کہنا یہ ہے کہ اگر کوئی مرسل قول لمبا چوڑا ہے اور کسی اور راوی نے بھی اس کو بیان کیا ہے اور دونوں کے بیان میں اتفاق ہے، تو وہ مرسل قول قطعی طور صحیح ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اتنا لمبا چوڑا قول دو افراد کے لیے اس طرح گھڑنا کہ اس میں کوئی فرق نہ ہو، عقلی طور ممکن نہیں ہے جبکہ دونوں کی ملاقات بھی ثابت نہ ہو۔ اسی طرح سیرت اور تاریخ کے متقدمین ائمہ جب سیرت یا تاریخ کا واقعہ بیان کرتے ہیں تو ان کا انداز یوں ہوتا ہے کہ ہمیں ایک جماعت نے خبر دی ہے۔ تو ہر فن کی تدوین کے ساتھ اس کی تحقیق کے اصول، مناہج اور رویے بھی مدون ہوئے ہیں کہ جو سوچ بچار کرنے والوں کو مل جاتے ہیں۔

یہی رویہ سیرت کے بیان میں ابن شہاب زہری جیسے امام حدیث کا بھی انداز ہے۔ گویا سیرت کو بیان کرتے ہوئے ان کی نظر میں راوی اہم نہیں بلکہ واقعہ اہم ہے جبکہ حدیث کے بیان میں راوی اہم ہے کیونکہ حدیث بطور شریعت نقل ہو رہی ہے اور سیرت بطور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ اور بائیوگرافی کے بیان ہو رہی ہے۔ تو شریعت کے بیان میں اصل اہمیت بیان کرنے والے کی ہوتی ہے کہ اس کے بیان کو ہی ہم شریعت سمجھ رہے ہیں لیکن سیرت اور تاریخ وغیرہ میں اصل اہمیت واقعے کی ہے نہ کہ سیرت نگار اور مورخ کی لہذا واقعے کو بطور واقعہ پرکھا جائے گا۔ اور واقعے کو پرکھنے کے بہت سے عقلی اور درایتی اصول ہیں مثلا اس واقعے کے مختلف طرق ایک دوسرے کے خلاف نہ ہو، عقل عام کے خلاف نہ ہو، مورخ کے عقیدے کو اسپوٹ نہ کرتا ہو وغیرہ وغیرہ۔

تو اگر حدیث کی طرح تاریخ کی سند تلاش کرنا شروع کر دیں گے تو پھر تو قائد اعظم کے اقوال کی بھی سندیں نہیں ملیں گے چہ جائیکہ محمد بن قاسم، یوسف بن تاشفین، شیر شاہ سوری، صلاح الدین ایوبی، جلال الدین خوارزمی اور ٹیپو سلطان جیسے معروف ومشہور سلاطین یا دنیا کی تاریخ کا رخ بدل دینے والے سپہ سالاروں اور لیڈروں کے واقعات کی سندیں تلاش کر کے لا سکیں۔ تو اصول تاریخ یعنی تاریخ کو پرکھنے کے اصول اصلا سند پر نہیں بلکہ متن پر قائم ہیں اور یہ روایتی کم اور درایتی زیادہ ہیں یعنی خبری کم اور عقلی زیادہ ہیں یعنی ان کی سند کی تحقیق کم اور متن کی تحقیق زیادہ ہو گی۔ اور متن کی تحقیق، متن سے ہو گی۔ اس کے برعکس حدیث کی تحقیق کے اصول، روایتی زیادہ اور درایتی کم ہیں یعنی ان کی بنیاد سند کی تحقیق پر زیادہ اور متن کی تحقیق پر کم ہے۔

تاریخی اقوال کو پرکھنے کا حدیثی معیار [قسط دوم]: واقدی کے تناظر میں
-------------------------------------------------------------------------
اب سیرت کے فن کو ہی لے لیں کہ سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی یا نبوی تاریخ کا دوسرا نام ہے۔ سیرت کی کتب اور مصادر، حدیث وسنت کی کتب اور مصادر سے علیحدہ ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ حدیث وسنت کی تحقیق کے اصولوں پر سیرت کو پرکھنا شروع کر دیں۔ حدیث وسنت کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی زندگی سے ہے جبکہ سیرت کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محض زندگی سے ہے، چاہے وہ بشری ہے یا نبوی۔
اگر ہم محدثین کے معیار پر سیرت کو پرکھنا شروع کر دیں تو سیرت کے ابتدائی مصادر بھی اڑ جاتے ہیں اور کچھ باقی نہیں رہ جاتا۔ مثال کے طور پر سیرت کے ابتدائی مصادر میں واقدی [130-207ھ] کی کتاب "المغازی" کا تذکرہ ملتا ہے کہ جس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں کا تفصیل سے تذکرہ کیا ہے۔ ابن ندیم نے اپنی فہرست میں واقدی کی چالیس کے قریب تصانیف کا تذکرہ کیا ہے۔ واقدی کے اساتذہ میں امام اوزاعی، امام مالک اور سفیان ثوری جیسے ائمہ دین کا تذکرہ ملتا ہے جبکہ ان کے شاگردوں میں ابن ابی شیبہ، ابن سعد اور امام شافعی جیسے جلیل القدر لوگ شامل ہیں۔
واقدی کی قدر ومنزلت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ محمد بن سعد جیسے مورخ یعنی طبقات ابن سعد والے، واقدی کے کاتب رہے ہیں۔ اور ابن اسحاق کے بعد واقدی سیرت میں دوسرا بڑا ماخذ ہے۔ اس واقدی کے بارے میں جو آج سیرت کا دوسرا بڑا ماخذ ہے، محدثین کے اقوال کیا ہیں، ذرا ملاحظہ فرمائیں۔ امام احمد بن حنبل نے اسے "کذاب" کہا۔ امام بخاری، امام ابو حاتم رازی اور امام نسائی نے "متروک الحدیث" کہا۔ یحی بن معین نے کہا کہ "ثقہ" نہیں ہے۔ امام مسلم، امام دار قطنی اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ نے بھی "ضعیف" کہا ہے۔

محدثین نے اصل میں اس پر جو جرح کی ہے، وہ حدیث کے حوالے سے کی ہے کہ وہ حدیث وسنت کے بیان میں ضعیف ہے لیکن خود محدثین ہی کی ایک جماعت کا واقدی کو سیرت میں بطور ماخذ لے لینا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ حدیث اور سیرت کے معیار تحقیق میں فرق کو روا رکھتے تھے۔ امام ذہبی نے واقدی کو حدیث میں ضعیف قرار دینے کے باوجود امام اورعلامہ لکھا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ مغازی اور سیرت میں واقدی سے مستغنی رہنا ممکن نہیں ہے۔ امام ذہبی کے الفاظ یہ ہیں: "الواقدي، المديني، القاضي، صاحب التصانيف والمغازي، العلامة، الإمام، أبو عبد الله، أحد أوعية العلم على ضعفه ... ومع هذا، فلا يستغنى عنه في المغازي، وأيام الصحابة، وأخبارهم۔

خطیب بغدادی نے بھی واقدی پر محدثین کی جرح نقل کرنے کے باوجود اسے سیرت، مغازی اور طبقات کے علوم وفنون کا ایک ایسا مصدر مانا ہے کہ جس کی شہرت مشرق ومغرب میں پھیلی ہوئی ہے۔ خطیب بغدادی کے الفاظ ہیں: وهو ممن طبق شرق الأرض وغربها ذكره، ولم يخف على أحد -عرف أخبار الناس- أمره، وسارت الركبان بكتبه في فنون العلم من المغازي والسير، والطبقات، وأخبار النبي صلى الله عليه وسلم، والأحداث التي كانت في وقته، وبعد وفاة النبي صلى الله عليه وسلم۔ یہی وجہ ہے کہ امام شافعی واقدی پر شدید نقد بھی کرتے ہیں لیکن دوسری طرف اس سے روایت بھی نقل کر لیتے ہیں۔

بعض محققین کا کہنا یہ ہے کہ واقدی پر محدثین کی نقد کی اصل وجہ یہ تھی کہ واقدی محدثین کے منہج تحقیق کو قبول نہیں کرتے تھے۔ ہماری رائے میں یہ بات آدھی درست ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ واقدی کا منہج، محدثین کے منہج تحقیق سے مختلف تھا کہ واقدی کتب سے بھی نقل کر لیتے تھے جبکہ محدثین اس کو درست نہیں سمجھتے تھے جب تک کہ سماع ثابت نہ ہو۔ دوسرا واقدی ایک ہی موضوع سے متعلق مختلف اسناد سے مروی متن کو علیحدہ علیحدہ نہیں بلکہ ایک ہی متن کے طور پیش کر دیتے تھے اور محدثین اس کو عیب سمجھتے ہیں۔

لیکن واقدی سے پہلے، ابن اسحاق اور ان سے پہلے امام ابن شہاب زہری بھی یہی کام کرتے تھے۔ لیکن وہ یہ کام سیرت میں کرتے تھے لہذا سیرت میں اس کے جواز کے قائل تھے کہ مختلف اسناد سے مروی متن کو ایک ساتھ ہی بیان کر دیا جائے کہ اصل متن ہے نہ کہ سند۔ محدثین کو اس طریقے پر جو اختلاف تھا، وہ اس وجہ سے نہیں کہ وہ حدیث اور سیرت کے مناہج تحقیق کو مختلف نہیں سمجھتے تھے۔ وہ بالکل اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ یہ دو مختلف میدان ہیں اور ان کے تحقیقی مناہج بھی مختلف ہیں، اسی لیے تو امام ابن شہاب زہری نے اس فرق کا عملا لحاظ کیا ہے۔

سختی کی وجہ یہ تھی کہ محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک یہ دونوں مضامین یعنی حدیث اور سیرت اس قدر ایک دوسرے سے خلط ملط ہیں کہ ان کو کلی طور علیحدہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن دوسری طرف سیرت کا فن مدون کرنے والوں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ائمہ فن کے لیے اس کا لحاظ کرنا اور رکھنا ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واقدی سے جب تقاضا کیا گیا کہ وہ اپنے متن کی علیحدہ علیحدہ اسناد بیان کیا کریں تو انہوں نے صرف غزوہ احد کو جب متنوع اسناد کے ساتھ بیان کیا تو وہ بیس جلدیں بن گئیں۔ اس پر ان کے شاگردوں نے اپنے مطالبے سے رجوع کر لیا کہ یہ شرعی احکامات تو ہیں نہیں کہ جن کے لیے اس قدر اسناد کا علم محفوظ رکھنے کی مشقت اٹھائی جائے۔

تاریخی واقعات کو پرکھنے کا حدیثی معیار [قسط سوم]: ابن اسحاق کے تناظر میں
-------------------------------------------------------------------------------
اس مسئلے کو یوں بھی دیکھ لیں کہ ابن اسحاق [85-151ھ] سیرت کے اولین مصادرمیں سے ہیں بلکہ انہیں فن سیرت نگاری کا امام کہا جاتا ہے کہ "سیرت ابن اسحاق" یا "السیرۃ النبویۃ" یا "سیرت رسول اللہ" سیرت کی پہلی باقاعدہ اور اولین تصنیف شمار ہوتی ہے کہ جس کا خلاصہ ابن ہشام نے "سیرت ابن ہشام" میں پیش کیا اور وہ آج ہمارے پاس موجود ہے۔ ابن اسحاق، امام ابن شہاب الزہری کے خاص شاگردوں میں سے ہیں بلکہ انہوں نے امام جعفر الباقر سے بھی استفادہ کیا۔
اور دوسری طرف محدثین کے ہاں ابن اسحاق کا کوئی خاص رتبہ نہیں ہے۔ امام مالک نے تو انہیں "دجال" کا لقب دیا۔ امام احمد اور امام دار قطنی نے کہا کہ وہ "حجت" نہیں ہے۔ امام نسائی نے کہا کہ وہ "قوی" نہیں ہے۔ امام ابن حجر نے کہا کہ ضعیف اور مجہول راویوں سے تدلیس میں مشہور ہے۔ لیکن حدیث میں ضعیف ہونے کے باوجود سیرت میں انہیں امام مانا گیا ہے جیسا کہ امام شافعی نے کہا: من أراد أن يتبحر في المغازي فهو عيال على محمد بن إسحاق۔ ترجمہ: جو مغازی یعنی غزاوت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں تبحر حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ محمد بن اسحاق کا محتاج ہے۔ اور امام ذہبی نے کہا: قد كان في المغازي علامة۔ ترجمہ: ابن اسحاق، مغازی میں علامہ تھے۔

تو محدثین نے موضوع اور موضوع کا فرق کیا ہے کہ کسی کو حدیث میں ضعیف قرار دے کرسیرت میں نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ امام بھی مانا ہے۔ اور اس حوالے سے ائمہ کے اقوال میں غور کرنے والوں کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔ مثال کے طور امام احمد جب ابن اسحاق پر نقد کرتے ہیں تو کہتے ہیں: لم يكن يحتج به في السنن۔ اسے سنت اور حدیث کے بیان میں حجت نہیں مانا جائے گا۔ یہی رویہ ہمیں امام احمد کی واقدی پر نقد میں نظر آتا ہے کہ امام احمد حدیث کے سیاق میں واقدی کو نقد کا نشانہ بناتے ہیں جیسا کہ ان کا کہنا ہے: لم نزل ندافع أمر الواقدي حتى روى عن معمر، عن الزهري۔ ترجمہ: ہم تو واقدی کا دفاع کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ اس نے معمر عن زہری سے وہ حدیث بیان کی .... 
۔
امام احمد بن حنبل کا یہ قول تو بہت معروف ہے بلکہ امام ابن تیمیہ نے اسے اپنے مقدمہ میں بھی نقل کیا ہے: ثلاثة كتب ليس لها اصول؛ المغازي والملاحم والتفسير۔ ترجمہ: تین قسم کی کتابوں کی کوئی سند نہیں ہوتی؛ مغازی، ملاحم اور تفسیر یعنی تفسیری اقوال کی۔ امام احمد کے اس قول کے دو معنی کیے گئے ہیں؛ ایک یہ کہ ان تینوں مضامین کی کوئی مرفوع اور متصل سند نہیں پائی جاتی بلکہ اس بارے اکثر وبیشتر مرسل اور منقطع یعنی ضعیف روایات پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔ اس قول کا یہی معنی جمہور علماء نے بیان کیا ہے۔ اس قول کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ غزوات، جنگوں اور تفیسری اقوال کی سند تلاش نہیں کرنی چاہیے کہ سند ہے ہی نہیں۔ ہے ہی نہیں کا لفظ مبالغتا بولا گیا ہے کہ اکثر وبیشتر ان کی سند نہیں ہے۔
اب یہ اعتراض کہ اگر "اصول حدیث" کی کتابیں مدون ہو گئیں تو "اصول تاریخ" کی مدون کیوں نہ ہوئیں، ہماری نظر میں درست اعتراض نہیں ہے۔ آج اصول تفسیر کے نام سے آپ سب ایک علیحدہ فن کے قائل ہیں لیکن امام ابن تیمیہ یعنی آٹھویں صدی ہجری سے پہلے "اصول تفسیر" کے نام سے ہمیں کوئی کتاب نہیں ملتی۔ تو اصول تفسیر در اصل کتب تفاسیر کے ساتھ ہی مدون ہو گئے تھے جیسا کہ ابن جریر طبری اور ان جیسے جلیل القدر مفسرین نے اپنی تفاسیر کے مقدمات میں ان اصول وضوابط کو بیان کیا ہے کہ جن کی روشنی میں انہوں نے اپنی تفاسیر کو مرتب کیا لیکن علیحدہ سے کسی فن کی صورت میں اسی نام سے اصول تفسیر آج تک مدون نہیں ہو سکا سوائے امام ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ دہلوی کے دو چھوٹے چھوٹے رسالوں کے کہ وہ بھی چند فکری مباحث ہیں نہ کہ کوئی مدون علم۔ البتہ اب آ کر اس فن کی تدوین پر کچھ جدید کتابیں مرتب کی جا رہی ہیں۔

تو تاریخ کے اصولوں کا ذکر بھی دو مقامات پر ہوا ہے؛ ایک تو تاریخ کی معروف کتابوں کے مقدمات میں جیسا کہ تاریخ طبری کا مقدمہ دیکھ لیں یا ابن خلدون کا مقدمہ دیکھ لیں۔ اور دوسرا خود نامور مورخین نے تاریخ لکھتے وقت کچھ اصولوں کی روشنی میں تاریخی واقعات کی چھان پھٹک کی ہے اور ان پر حکم لگایا ہے۔ تو کتب تاریخ سے ان اصولوں کا استخراج واستنباط اور ان کی ترتیب وتدوین ایک علمی اور مشقت طلب کام تو ہے لیکن کوئی ناممکن امر نہیں ہے۔ پھر اخباری اور مورخ میں بھی فرق ہے۔ اخباری کا کام صرف خبر نقل کر دینا ہے جبکہ مورخ خبر کی چھان پھٹک بھی کرتا ہے اور یہ فرق اہل علم کی جماعت کے ہاں معروف ہے۔ اب اس سے بڑی دلیل کیا ہو سکتی ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل سے روایت کی اجازت دے دی ہے حالانکہ اسرائیلیات کی کوئی سند نہیں ہوتی۔ لہذا اس سے فضول بات کوئی نہیں ہے کہ کوئی واقعہ بغیر سند کے نقل کرنا جائز نہیں ہے۔

اگر کوئی واقعہ بغیر سند کے نقل ہوا ہے تو اگر اس کے غلط ہونے کا امکان ہے تو صحیح ہونے کا امکان بھی برابر سطح پر موجود ہے۔ اسی لیے تو اسرائیلیات کی تصدیق وتکذیب سے منع کیا گیا کہ ہو سکتا ہے کہ تم اس کی تکذیب کرو اور وہ صحیح بات ہو۔ تو حدیث بغیر سند کے نقل نہیں ہو سکتی لیکن تاریخ ہو سکتی ہے، یہ کتنا بڑا فرق ہے۔ واقدی محدثین کے ہاں کتنا ہی کذاب اور ضعیف سہی لیکن اس کی بھی دس روایات ایسی ہیں جنہیں صحیحین میں سے دونوں یا ایک کی تصدیق حاصل ہے۔ تو یہ سطحی بات ہے نا کہ ہم نے صحیحین کی صحت کی وجہ سے ان روایات کو مانا ہے۔ گہری بات یہ ہے کہ صحیحین کی روایت نہ ہوتی تو بھی واقدی کی روایت صحیح تھی، یہ ہمیں صحیحین کی روایت نے بتلایا ہے۔


علوم وفنون کی خبر کو پرکھنے کا حدیثی معیار [قسط چہارم]: قراء سبعہ کے تناظر میں
--------------------------------------------------------------------------------------
پھر قرآن مجید کی قراءات کی خبر پر غور کر لیں۔ قراء تو کجا آج پورے عالم کا جن قراء کی قراءت کی خبر کی صحت پر اتفاق ہے، محدثین کے ہاں وہ قابل جرح ہیں۔ امام حمزہ الزیات [80-156ھ] ان سات قراء میں سے ہیں کہ جن کی قراءت، قراءت سبعہ کے نام سے معروف ہوئی اور ہر بڑے مدرسہ اور یونیورسٹی کے کلیۃ قرآن میں پڑھی پڑھائی جاتی ہے۔ اب ان کی قراءت کے بارے محدثین کے اقوال ملاحظہ فرمائیں۔ عبد الرحمن بن مہدی فرماتے ہیں کہ اگر میرے پاس اختیار آ جائے تو میں اس شخص کو کوڑے ماروں جو حمزہ کی قراءت پڑھتا ہے۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ اس کے پیچھے نماز ہی نہ پڑھو جو نماز میں حمزہ کی قراءت پڑھتا ہو۔ ابو بکربن عیاش نے کہا کہ حمزہ کی قراءت بدعت ہے۔ عبد اللہ بن ادریس نے کہا کہ اس پر لعنت ہو جو حمزہ کی قراءت پڑھے۔ امام احمد بن حنبل تک حمزہ کی قراءت سے کراہت کرتے تھے وغیرہ۔

سیدھی سی بات ہے کہ قراءات، محدثین کا میدان نہیں ہے لہذا قراءت کی خبر میں محدثین کے حکم کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے کیونکہ خبر، خبر میں فرق ہے۔ ہر خبر اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک علیحدہ اور منفرد نظام میں نقل ہوئی ہے لہذا اسے اسی کے فریم آف ریفرنس میں دیکھا جائے گا۔ جب آپ ایک خبر کو دوسرے فریم آف ریفرنس سے دیکھنے کی کوشش کریں گے تو غلطی کریں گے اور آپ کا علم، صحیح علم نہیں کہلائے گا۔ ریل گاڑی کے اندر بیٹھے ہوئے شخص کا فریم آف ریفرنس ریل گاڑی کا اندر ہی ہے، باہر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ ریل گاڑی کے باہر کی اشیاء کو دیکھتا ہے تو اسے درخت حرکت میں نظر آتے ہیں حالانکہ وہ حرکت میں نہیں ہوتے۔ اور ان درختوں کا حرکت میں نہ ہونا، ریل گاڑی سے باہر کھڑے شخص کو نظر آ رہا ہوتا ہے کہ اس کا فریم آف ریفرنس ریل گاڑی سے باہر کا ہے۔

سادہ سی بات ہے کہ تاریخ، سیرت، حدیث اور قرآن مجید کی خبر میں سے ہر خبر کا ایک مزاج ہے اور وہ اپنے مزاج کے ساتھ منتقل ہوئی ہے۔ اگر حدیث روایت کرنے والے راویوں کا ڈیٹا طبقات المحدثین کی کتب کی صورت مرتب ہوا ہے تو قراءت نقل کرنے والے قاریوں کے احوال بیان کرنے کے لیے طبقات القراء جیسے انسائیکلوپیڈیاز بھی مدون ہوئے ہیں۔ محدثین اپنے فن میں اتھارٹی ہیں اور وہاں ان کے قول کی اہمیت ہے لیکن دوسرے فن میں ان کے قول کی اہمیت اس طرح سے نہیں ہے جس طرح سے ماہرین فن کی ہے۔ عصر حاضر کی تحقیق وتخریج حدیث کی تحریک کی بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ محدث کو ہر فن مولا بنا دیا ہے۔ سب سے بڑا محدث ہی سب سے بڑا فقیہ ہوتا ہے، بھلا اس سے بے کار بات کیا ہو گی۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے سب سے بڑے محدث کو سب سے بڑا مفسر کہہ دیا جائے۔ ائمہ کے احوال پر جس نے غور کیا ہے، وہ یہ مانے گا کہ امام ابو حنیفہ کا فقاہت میں جو رتبہ ہے، امام احمد کا وہ نہیں ہے۔ اور امام احمد کا حدیث میں جو مقام ہے، امام ابو حنیفہ اس سے بہت پیچھے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ امام ذہبی لکھتے ہیں: انعقد الإجماع بآخرة على تلقي قراءة حمزة بالقبول، والإنكار على من تكلَّم فيها۔ ترجمہ: بالآخر امام حمزہ کی قراءت کو قبول کرنے پر اجماع امت ہو گیا۔ اور اس بات پر اجماع ہو گیا کہ جنہوں نے امام حمزہ کی قراءت میں کلام کیا ہے، ان کے کلام کا انکار کیا جائے گا۔ اسی طرح قراء سبعہ میں سے ایک معروف امام ابن کثیر المکی کے ایک راوی احمد البزی [170-250ھ] کو لے لیں۔ امام ابن کثیر مکی کی قراءت کے مستند ترین راویوں میں سے امام بزی ہیں لیکن محدثین کے ہاں مجروح ہیں۔ ابو حاتم الرازی انہیں "ضعیف الحدیث" اور العقیلی انہیں "منکر الحدیث" کہتے ہیں۔ اسی طرح قراءت کے امام عاصم کے معروف ترین شاگرد حفص [90-180ھ] کو لے لیں کہ آج آدھی سے زیادہ مسلم دنیا ان کی روایت کے مطابق قرآن مجید پڑھ رہی ہے۔ امام احمد نے انہیں "متروک" کہا۔ امام بخاری نے بھی یہی کہا۔ علی بن مدینی اور ابو زرعہ نے "ضعیف الحدیث" کہا۔ یحی بن معین، امام مسلم اور امام نسائی نے "غیر ثقہ" کہا۔ یہاں تک کہ امام ذہبی کو یہ کہنا پڑا کہ حفص "ثَبتًا في القراءة، واهيًا في الحديث" یعنی قراءت میں مضبوط جبکہ حدیث میں بے کار ہیں۔

ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ محدثین نے ان ائمہ قراءت پر بلاوجہ نقد کی ہے۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ حدیث کی خبر، محدثین کا میدان ہے لہذا حدیث کے حوالے سے ان ائمہ قراء کے بارے بھی محدثین کا حکم ہی معتبر ہے۔ لیکن چونکہ قرآن مجید کی خبر، محدثین کا میدان نہیں ہے لہذا ان قراء کی قراءت کی خبر کے بارے میں محدثین کے حکم کا کچھ اعتبار نہ ہو گا اور نہ ہی قراءت کی خبر کو اصول حدیث کی سان پر پرکھا جائے گا۔ قرآن مجید کی خبر یعنی قراءت کی صحت وضعف کے اپنے اصول ہیں جو کہ اصول حدیث یا مصطلح حدیث سے بہت مختلف ہیں۔ علم قراءات کے اپنے راوی ہیں، اپنی اسناد ہیں، اپنے طبقات ہیں، اپنے میزان اور معیارات ہیں کہ جن پر قراءات کو پرکھ کر ضعیف، موضوع، شاذ اور متواتر قراءات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ تو اب تک کی بحث میں یہ خلاصہ آیا ہے کہ ہر فن اور علم کی خبر کا مزاج اور میکانزم مختلف ہے لہذا اس کی تحقیق کے اصول وضوابط بھی مختلف ہیں جو اس فن کے ماہرین کے ہاں مقبول اور معروف ہیں۔ اگلی قسط میں ہم تاریخ کی تحقیق کے اصول وضوابط پر کچھ گفتگو کریں گے، ان شاء اللہ۔

سیرت اور تاریخ کی تحقیق کا حدیثی معیار [قسط پنجم]
--------------------------------------------------------------------
سیرت اور تاریخ دو قسم پر ہے؛ ایک وہ جس کی سند ہے اور دوسری وہ جس کی سند ہی نہیں ہے۔ اب جس کی سند ہے، وہ پھر دو قسم پر ہے؛ ایک وہ جس کی سند صحیح یا متصل ہے اور دوسری وہ جس کی سند ضعیف یا منقطع ہے۔ چلیں، ہم سب سے پہلے اس سیرت اور تاریخ پر گفتگو کرتے ہیں کہ جس کی سند صحیح اور متصل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ محدثین نے کتب احادیث میں سیرت اور تاریخی واقعات کو بیان کیا ہے اور ان کے بیان میں سند کے اعلی معیار کا اہتمام کیا گیا ہے اور یہ بہت اچھی بات ہے۔ مثال کے طور پر واقدی اگرچہ بہت بڑا سیرت نگار ہے لیکن سیرت کے کسی واقعے کے بارے اس کی خبر اگر صحیح بخاری کی خبر سے ٹکرا جائے گی تو ہم صحیح بخاری ہی کی خبر کو اس کی صحت کی بناء پر ترجیح دیں گے، یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔

لیکن ہر صورت ایسا ہی ہو گا تو یہ اصولا درست نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر محدثین نے سیرت یا تاریخ کے ایک واقعے کو صحیح سند سے بیان کر دیا تو امر واقعہ بھی ویسا ہی ہے تو یہ بات اصولا درست نہیں ہے؟ اس کی وجہ تاریخ کی تحقیق کا وہ اصول ہے جسے داخلی نقد (internal criticims) کہا جاتا ہے۔ اگرچہ روایت پسند حلقوں میں ظاہر پرستوں کی ایک جماعت داخلی نقد کی نسبت مستشرقین کی طرف کر کے اسے ایک فتنہ قرار دیتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود محدثین کی جماعت داخلی نقد کی قائل تھی اور اس داخلی نقد کا تعلق حدیث میں بیان شدہ تاریخی حقیقت سے تھا نہ کہ حدیث میں بیان شدہ شرعی مسائل سے۔ لہذا داخلی نقد کے اس اصول کے ذریعے محدثین اصلا تاریخی حقیقت کو معلوم کرنے کے اصول وضع کر رہے تھے۔
امام ابن صلاح فرماتے ہیں: "ومتى قالوا: "هذا حديث صحيح" فمعناه أنه اتصل سنده، مع سائر الأوصاف المذكورة. وليس من شرطه أن يكون مقطوعا به في حقيقة الأمر." ترجمہ: جب محدثین یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے تو اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ اس کی سند متصل ہے اور اس میں صحیح حدیث کی تمام شرائط مذکور ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ امر واقعہ بھی قطعی طور ایسا ہی ہو جیسا کہ صحیح حدیث میں بیان ہوا ہے۔ اب اس اصول کی تطبیق میں ایک مثال کو ہم بیان کرتے ہیں۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں واقعہ معراج کو ((قبل أن يُوحَى إليه)) کے الفاظ کے ذریعے نبوت سے پہلے کا واقعہ قرار دیا گیا ہے حالانکہ سیرت نگاروں کا اس پر اتفاق ہے کہ واقعہ معراج نبوت کے بعد ہوا ہے۔ اور نبوت سے پہلے اس واقعے کی کوئی تُک ہی نہیں بنتی۔ اسی لیے ابن حجر نے کہا ہے کہ یہ راوی کا وہم ہے۔
اسی طرح صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: عن ابنِ عبَّاس: أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم قال يومَ أحُدٍ: ((هذا جبريلُ آخِذٌ برأسِ فَرَسِه، عليه أداةُ الحَربِ))۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد والے دن یہ کہا کہ یہ جبریل علیہ السلام اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے آ رہے ہیں حالانکہ سیرت نگاروں کا اس پر اتفاق ہے کہ ملائکہ کا نزول یوم بدر میں ہوا نہ کہ یوم احد میں۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ ابن حجر نے اسے راوی کا وہم قرار دیا ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ اس سے صحیح بخاری کی روایت ضعیف ہو جاتی ہے، وہ روایت اپنی جگہ صحیح ہے لیکن روایت کو من جملہ صحیح مان لینے کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ اس روایت کا لفظ لفظ امر واقعی میں بھی صحیح ہے اور تاریخی حقیقت کے مطابق ہے کیونکہ تاریخی حقیقت کے بیان میں الفاظ اصلا صحابہ کا بیان ہیں نہ کہ بیان رسول صلی اللہ علیہ وسلم لہذا ان میں غلطی کا امکان ہے۔

تو ماہرین فن کا اتفاق ایک بہت بڑا اصول ہے کہ جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیرت ایک فن ہے، تاریخ ایک فن ہے۔ ان دونوں کے کچھ ماہرین ہیں۔ ان کا کچھ تاریخی حقائق پر اتفاق ہے۔ اب ان تاریخی حقائق کے خلاف صحیح سے صحیح خبر بھی آ جائے، صحیح سے صحیح حدیث کی کتاب میں آ جائے، تو آپ کو اس خبر پر غور کرنا پڑے گا اور اس کی تاویل کرنا پڑے گی نہ کہ ماہرین فن کے اتفاق اور اجماع کا انکار کر دیں۔ اور اجماع تو ہوتا ہی ماہرین فن کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قراء صحیح بخاری کی صحیح ترین سند سے مروی قراءات کو بھی نہیں مانتے کیونکہ وہ ان کے معیار کے مطابق نہیں ہیں جیسا کہ عبد اللہ ابن مسعود کی قراءت۔ اب قراء کا معیار یہ ہے کہ قراءت کے صحیح ہونے کے لیے صرف خبر کا صحیح ہونا کافی نہیں ہے بلکہ وہ رسم عثمانی کے موافق بھی ہونی چاہیے لہذا وہ بخاری کی سند سے مروی صحیح ترین قراءت کو بھی قرآن ماننے کو تیار نہیں ہیں۔

آپ قراء سے منوا لیں، میں اس معاملے میں آپ کے ساتھ ہوں گا۔ لیکن میں اس وقت آپ کا ساتھ نہیں دوں گا جبکہ ماہرین فن آپ کے ساتھ نہیں ہوں گےکیونکہ مجھے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ہر فن کا ایک مزاج ہے اور اس مزاج کے مطابق اس کی نقل کا ایک معیار مدون ہوا ہے لہذا اس فن کو کسی دوسرے فن کے معیار پر پرکھنا درست نہیں ہے۔ لیکن اگر ماہرین فن ہی اپنے فن کے لیے کسی دوسرے فن کے معیار کو قبول کر لیں تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ اس لیے کسی قراءت کی خبر کے صحیح اور ضعیف ہونے کے لیے اصول حدیث کو معیار بنانا ماہرین فن کے نزدیک درست نہیں ہے۔ ذرا عبد اللہ ابن مسعود کی قراءت کے حوالے سے درج ذیل روایت پر غور کریں کہ کیسے زور دار الفاظ ہیں، خاص طور ان لوگوں کے لیے جو حدیثی معیار کو ہر فن میں معیار بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔

عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَدِمَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَطَلَبَهُمْ فَوَجَدَهُمْ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ؟ قَالَ: كُلُّنَا، قَالَ: فَأَيُّكُمْ أَحْفَظُ؟ فَأَشَارُوا إِلَى عَلْقَمَةَ، قَالَ: كَيْفَ سَمِعْتَهُ يَقْرَأُ: {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} [الليل: 1]؟ قَالَ عَلْقَمَةُ: وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى، قَالَ: «أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ هَكَذَا»، وَهَؤُلاَءِ يُرِيدُونِي عَلَى أَنْ أَقْرَأَ: {وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنْثَى} [الليل: 3] وَاللَّهِ لاَ أُتَابِعُهُمْ۔ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود کے شاگرد، ابو درداء کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ تم میں سے کون ہے کہ جسے عبد اللہ ابن مسعود کی قراءت آتی ہے؟ تو سب نے کہا کہ ہم سب۔ تو ابو درداء نے کہا کہ ان کی قراءت کا زیادہ علم کس کے پاس ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ علقمہ کے پاس ہے۔ تو ابو درداء نے علقمہ سے کہا کہ آپ نے عبد اللہ بن مسعود کو سورۃ اللیل کیسے پڑھتے سنا ہے؟ تو علقمہ نے کہا: "وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى" پڑھتے تھے۔ تو ابو درداء نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا ہے لیکن یہ لوگ مجھے مجبور کر رہے ہیں کہ میں "وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنْثَى" پڑھوں اور میں ایسا ہر گز نہیں کروں گا۔

تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حدیث کا نہ تو کوئی رسم عثمانی ہے کہ اسے صحیح ہونے کے لیے اس کے مطابق ہونا چاہیے اور نہ ہی اس کے صحیح ہونے کے لیے اس کا لغت عرب کے موافق ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے لیکن قراءت کے صحیح اور مقبول ہونے میں ان چیزوں کی شرط لگائی گئی ہے۔ تو قراءت کی خبر کے صحیح اور ضعیف ہونے کا معیار، حدیثی معیار سے علیحدہ ہے۔ اب یہ جواب بالکل بے کار جواب ہے کہ یہ قراءت منسوخ ہو چکی تھی اور عبد اللہ بن مسعود کو اس کے نسخ کا علم نہیں تھا اور وہ دھڑا دھڑ اپنے شاگردوں کو اس کی تعلیم دے رہے تھے۔ ہم نے ایسی قراءات کو اپنے ایک مقالے میں جمع کیا ہے جو حدیثی معیار کے مطابق بالکل صحیح ہیں لیکن قراء انہیں قراءت ماننے کو تیار نہیں ہیں جبکہ ان میں سے ایسی قراءت بھی ہیں کہ حضرت عمر جیسے صحابہ انہیں نماز میں مسجد نبوی میں پڑھ رہے ہیں۔ یہ خبر حدیث کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن قراء کے معیار کے مطابق مقبول نہیں ہے لہذا انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ تو فن، فن کا فرق ہے۔ ہر جگہ ہر خبر کو حدیثی معیار پر پرکھنا درست نہیں ہے اور نہ ہی ماہرین فن نے اس رویے کو قبول کیا ہے۔ 

سیرت اور تاریخ کی تحقیق کا حدیثی منہج [قسط ششم]: محدثین اور ان کے متبع معاصر علماء کے اقوال کی روشنی میں
------------------------------------------------------------------------------
پچھلی قسط میں ہم نے عرض کیا تھا کہ سیرت اور تاریخ دو قسم پر ہے؛ ایک وہ جس کی سند متصل اور صحیح ہے اور دوسری وہ جس کی سند ضعیف ہے یا بالکل ہے ہی نہیں۔ تو سیرت اور تاریخ کی پہلی صورت تو سب کے نزدیک مستند ترین صورت ہے لیکن اختلاف اس میں ہے کہ وہ سیرت اور تاریخ جو ضعیف سند سے مروی ہے یا جس کی بالکل سند ہی نہیں ہے تو کیا ہمیں اسے بالکل چھوڑ دینا چاہیے یا اس میں سے بھی لے سکتے ہیں۔ تو معاصر سلفی علماء کی ایک جماعت کا موقف یہ ہے کہ ہمیں صرف اسی سیرت اور تاریخ کو نقل کرنا ہے جو صحیح اور متصل سند کے ساتھ مروی ہے اور محدثین کے تحقیقی منہج اور معیار پر پوری اترتی ہے۔ یہ موقف علامہ البانی کا ہے اور انہوں نے اپنے اس موقف کے مطابق ایک مختصر صحیح السیرۃ النبویۃ" بھی مرتب کی ہے۔

اس کے برعکس معروف سیرت نگار ڈاکٹر ضیاء اکرم العمری کا موقف یہ ہے کہ اگر ہم صرف صحیح اور متصل سند سے مروی سیرت اور تاریخ تک اپنے آپ کو محدود کر لیں گے تو ہم سیرت اور تاریخ کے ایک بڑے ذخیرے سے محروم ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ محدثیں کے ہاں سیرت اور تاریخ کی تحقیق کا معیار، حدیث کی تحقیق کے معیار سے مختلف تھا۔ وہ لکھتے ہیں: لا شك أن اشتراط الصحة الحديثية في كل رواية تاريخية نريد قبولها فيه تعسف... لذلك يكفي في الفترات اللاحقة التوثق من عدالة المؤرخ وضبطه لقبول ما يسجله مع استخدام قواعد النقد الحديثي في الترجيح عند التعارض بين المؤرخين. ترجمہ: بلاشبہ اس تاریخی روایت کہ جس کو ہم قبول کرنا چاہتے ہیں، اس کو قبول کرنے کے لیے ہم اگر حدیثی معیار کی شرط لگائیں گے تو یہ ظلم وزیادتی ہو گی ... لہذا آنے والے وقتوں میں ایک مورخ کی عدالت اور ضبط بھی اس بارے کافی ہے کہ ہم اس کے لکھے کو قبول کر لیں۔ لیکن اگر مورخین کے بیانات تعارض ہو تو پھر ہم اس تعارض کو رفع کرنے کے لیے حدیثی معیار سے رہنمائی لے لیں۔

اسی طرح ایک اور جگہ وہ لکھتے ہیں: ولا يلجأ إلى الضعيف فيما له أثر في العقائد أو التشريع، ولا بأس من الأخذ به - عندما لا نجد غيره من الروايات القوية - فيما سوى ذلك من أخبار تتعلق بالحث على مكارم الأخلاق أو وصف لعمران أو صناعات أو زرع، أو ما شاكل ذلك. وهذا المنهج اتبعه أهل الحديث أنفسهم۔ ترجمہ: عقائد اور شرع کے بیان میں تو ضعیف حدیث کی طرف ہم توجہ نہیں کریں گے لیکن اگر قوی روایات موجود نہ ہوں تو مکارم اخلاق، تہذیب وتمدن، صنعت وحرفت اور زراعت وغیرہ کے باب میں ضعیف حدیث کو بیان کیا جا سکتا ہے اور یہی محدثین کا منہج ہے۔

معروف محدث شیخ حاتم الشریف کا بھی یہی موقف ہے۔ وہ کہتے ہیں: إذا جئت للسيرة النبوية، أجد أن أخبارها منها ما يمكن أن يستنبط منه حكم شرعي: فهذا من السنة التي تنقد بهذا المنهج المحتاط لها ، ومنها ما لا يستنبط منه حكم شرعي، كتاريخ سرية من السرايا، وعدد من كان فيها، وتحديد موقعها بدقة .. ونحو ذلك: فهذه لا نطبق عليها منهج المحدثين... فإذا جئنا لأخبار تاريخية بعد ذلك، مما وقع في القرن الهجري الثاني أو الثالث: فالأصل فيها إمرارها والاستفادة منها دون نقد حديثي محتاط؛ إلا إذا أراد أحد أن يصدر حكما دينيا على شخص من الأشخاص له حرمة دينية۔ ترجمہ: جب آپ سیرت کی بات کرتے ہیں تو اس کی دو قسمیں ہیں؛ ایک وہ کہ جس سے کوئی شرعی حکم مستنبط ہوتا ہو تو یہ تو سنت میں شمار ہو گی اور اس کی تحقیق کا منہج بھی وہی محدثین والا احتیاطی منہج ہو گا۔ لیکن اگر سیرت ایسی ہو کہ جس سے کوئی شرعی حکم ثابت نہ ہو رہا ہو جیسا کہ سرایا کی تاریخ، ان میں شامل ہونے والوں کی تعداد، ان سرایا کے واقع ہونے کا وقت اور مقام تو اس قسم کی سیرت کی تحقیق کے لیے ہم محدثین کا منہج نہیں لیں گے۔ اسی طرح اگر ہم دوسری اور تیسری صدی ہجری کی تاریخ کی بات کریں تو اس تاریخ پر محتاط حدیثی نقد کرنے کی بجائے ہم اس تاریخ کو اسی طرح جاری کریں گے اور اس سے استفادہ کریں گے الا یہ کہ اگر ہمیں کسی شخص پر کوئی دینی حکم لگانا پڑ جائے تو اس صورت ہم احتیاطی منہج اختیار کریں گے۔

شیخ حاتم الشریف نے بھی اس موقف کی نسبت متقدمین محدثین کی طرف کی ہے کہ وہ حدیث اور تاریخ کے نقد کے معیار میں فرق کو روا رکھتے تھے۔ وہ خطیب البغدادی کو بطور مثال بیان کرتے ہوئےکہتے ہیں: الباب الذي عقده الخطيب البغدادي في كتابه (الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع): بعنوان: (ما لايفتقر كتْبُه إلى إسناد). ومما جاء فيه قول الخطيب :(( وأما أخبار الصالحين، وحكايات الزهاد والمتعبدين، ومواعظ البلغاء، وحكم الأدباء = فالأسانيد زينة لها، وليست شرطا في تأديتها )) ثم أسند الخطيب إلى يوسف الرازي أنه قال: (( إسناد الحكمة وُجودُها )). وأسند عن ابن المبارك أنه سئل: (( نجد المواعظ في الكتب، فننظر فيها؟ قال: لابأس، وإن وَجدتَ على الحائط موعظة فانظر فيها تتعِظ. قيل له فالفقه؟ قال : لا يستقيم إلا بسماع)).

ترجمہ: اس بات کی دلیل خطیب بغدادی کی کتاب "الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع" میں اس باب سے عنوان باندھنا بھی ہے کہ اس کا بیان کہ جس کے بیان کے لیے سند کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر خطیب بغدادی نے کہا کہ صالحین کی اخبار، متقین اور پرہیزگاروں کی حکایات، خطباء کے مواعظ، ادباء کے اقوال زریں کے لیے اسانید زنیت کا باعث ضرور ہیں لیکن ان کے نقل کرنے کے لیے شرط نہیں ہیں۔ پھر خطیب بغدادی نے یوسف الرازی سے یہ نقل کیا ہے کہ حکیمانہ قول کی سند، خود وہ قول ہی ہے۔ اسی طرح عبد اللہ بن المبارک سے سوال ہوا کہ ہم کتابوں میں بہت سے مواعظ [بلا سند] دیکھتے ہیں تو کیا ان میں غور کر لیا کریں تو انہوں نے کہا کہ کوئی حرج نہیں۔ اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی دیوار پر بھی کوئی نصیحت لکھی دیکھو تو اس میں غور ضرور کرو۔ ان سے جب یہ کہا گیا کہ فقہ کے بارے آپ کی کیا رائے ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ سماع سے ثابت ہو گی۔

محدثین کے ہاں حدیث اور سیرت کے قبولیت کے معیارات فرق تھے، اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ جب امام احمد بن حنبل سے یہ سوال ہوا کہ آپ کی محمد بن اسحاق سے حدیث لینے کے بارے کیا رائے ہے؟ تو انہوں نے جواب میں کہا: فقال: أما محمد بن إسحاق فهو رجل تكتب عنه هذه الأحاديث - كأنه يعني المغازي ونحوها - ترجمہ: محمد بن اسحاق جیسے شخص سے ایسی احادیث لکھی جا سکتی ہیں اور ان کی مراد مغازی وغیرہ کی روایات تھیں۔ شیخ حاتم الشریف کہتے ہیں کہ ابن عدی جیسے امام جب یہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے کئی اساتذہ سے یہ بات سنی ہے کہ جب امام بخاری بغداد میں آئے تو اہل بغداد نے ان کے امتحان کے لیے سو حدیثیں ان کے سامنے رکھیں کہ جن کی سند اور متن کو الٹ پلٹ دیا تھا۔ شیخ حاتم الشریف کہتے تھے کہ ایک صاحب نے اس واقعے پر ضعیف ہونے کا حکم اس لیے لگایا کہ امام ابن عدی کے اساتذہ اس کے لیے مجہول ہیں حالانکہ امام ابن عدی کے اساتذہ، امام بخاری کے شاگرد ہیں۔ کمال ہے! 

سیرت اور تاریخ کی تحقیق کا حدیثی منہج [قسط ہفتم]: محدثین اور ان کے متبع معاصر علماء کے اقوال کی روشنی میں
-------------------------------------------------------------------------------------
تو اب تک کی بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ حدیث کی تحقیق کا معیار اور سیرت وتاریخ کی تحقیق کا معیار فرق ہے۔ یہ تو پہلی بات ہوئی۔ اب تک کی بحث میں دوسرا نکتہ ہم نے یہ بیان کیا ہے کہ خود محدثین نے حدیث کے تحقیقی معیار اور سیرت وتاریخ کے تحقیقی معیار میں فرق کو روا رکھا ہے۔ تیسرا نکتہ ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ حدیث کی تحقیق وتخریج سے شغل رکھنے والے معاصر علماء میں سے بعض کا موقف یہ ہے کہ سیرت اور تاریخ کی تحقیق کے لیے بھی حدیث کی صحت وضعف کے معیار ہی کو واحد معیار بنایا جائے گا اور ہمیں اس موقف سے اتفاق نہیں ہے۔ اس موقف کے حاملین پھر آگے تین مناہج میں منقسم ہو گئے کہ جس پر ہم آگے چل کر گفتگو کرتے ہیں۔ چوتھا نکتہ یہ بیان ہوا ہے کہ حدیث کی تحقیق وتخریج سے شغل رکھنے والے علماء کی ایک جماعت نے تیسرے نکتے کے تحت بیان ہونے والے محققین کے موقف کا رد کرتے ہوئے محدثین کے منہج کا احیاء کیا ہے۔ اور اس احیائی تحریک میں پھر ہمیں دو قسم کے مناہج ملتے ہیں۔

وہ اہل علم جو سیرت اور تاریخ کو حدیثی معیار پر پرکھنے کے قائل ہیں تو ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے ضعیف روایت کو کسی صورت قبول نہیں کیا جیسا کہ ڈاکٹر محمد بن عبد اللہ العوشن کی کتاب "ما شاع ولم يثبت في السيرة النبوية" اسی منہج پر مرتب کی گئی ہے اور انہوں نے اپنی کتاب میں سیرت کے 54 معروف واقعات کو صرف اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کا معیار حدیثی معیار نہیں ہے۔ انہوں نے فجار کی جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرکت، شادی کے وقت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر کا چالیس سال ہونا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شروع کی خفیہ دعوت کا تین سال ہونا، حضرت عمر کے اسلام لانے کے واقعے، طائف سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا "اللهم إليك أشكو ضعفي"، حضرت علی کا ہجرت کے موقع پر بستر رسول پر سونا، سراقہ کے لیے کسری کے کنگن کے حصول کی بشارت اور مسجد ضرار کو جلا دینے جیسے واقعات کو ناقابل اعتبار کہا ہے۔ محمد بن حمد الصویانی کی کتاب "الصَّحيِحُ من أحاديث السّيرة النبوية" بھی اسی منہج پر ہے۔

اسی موقف کی حامل اہل علم کی ایک دوسری جماعت ایسی ہے کہ جس نے بعض ضعیف روایات کو سیرت میں کچھ شرائط کے ساتھ قبول کیا ہے جیسا کہ علامہ البانی نے اپنی کتاب "صحيح السيرة النبوية" کا منہج بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں نے اپنی اس کتاب میں سیرت کے ہر اس واقعے کو شامل نہیں کیا کہ جس کی سند نہیں ہے یا اس کی سند مرسل ہے یا معضل ہے الا یہ کہ اس واقعے کے بیان پر اہل علم کا اتفاق ہو تو [پھر منقطع سند کے ساتھ بھی واقعہ بیان کر دیا ہے]۔ علامہ البانی کے الفاظ ہیں: "حذفت ما لا سند له أو كان مرسلا أو معضلا إلا ما صرح بأنه مجمع عليه أو نحوه"۔ تو سیرت کی جمع وتدوین اور تحقیق وتنقیح کا یہ منہج تو ان معاصر علماء کا ہے جنہوں نے حدیثی معیار کو سختی کے ساتھ سیرت پر لاگو کیا ہے۔ علماء کی اس جماعت میں تیسرا منہج عبد الکریم عکوی نے متعارف کروایا کہ انہوں نے اپنی کتاب "جهود علماء المسلمين في تمييز صحيح السيرة النبوية من ضعيفها" میں واقعات سیرت کو درجات کے اعتبار سے تقسیم کر دیا۔

دوسری طرف وہ علماء جو حدیثی معیار کو سختی سے سیرت پر لاگو نہیں کرتے ہیں تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو سیرت کی تحقیق کے لیے حدیثی معیار کو نرم کر دیتے ہیں اور سیرت کی تحقیق کے لیے کسی علیحدہ معیار کا ذکر نہیں کرتے۔ اور بعض علماء ایسے ہیں جو سیرت کی تحقیق کے لیے نہ صرف حدیثی معیار کو نرم کر دیتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک علیحدہ معیار کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ پہلی قسم کی مثال میں عبد الرحمن الفالوذة کی کتاب "الموسوعة في صحيح السيرة النبوية" کو بیان کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں یہ بیان کیا ہے کہ ہم نے اس کتاب میں ان روایات کو بھی شامل کیا ہے جو سند میں تو ضعیف ہیں لیکن متن میں صحیح ہیں جبکہ وہ روایات عقائد واحکام کی بجائے رسوم ورواج اور تہذیب وتمدن سے متعلق ہوں۔ ان کے الفاظ ہیں: ذكرت بعض الأحاديث النبوية الضعيفة السند والصحيحة المعنى التي تتمم الحدث ولا تخل بالعقيدة والشرع وثوابت الدين كعادات العرب وتقاليدهم وحضارتهم في الجاهلية.
تو اب کتاب کے نام میں "صحيح السيرة" کے الفاظ ہیں بلکہ یہ کتاب صحیح سیرت کا انسائیکلوپیڈیا ہے لیکن مصنف اس کتاب میں ضعیف روایات کو بھی ایک منہج کے تحت لائے ہیں کیونکہ محدثین نے حدیث میں ضعیف روایت کو قبول نہیں کیا لیکن سیرت میں قبول کیا ہے اور اس بارے ہم امام احمد بن حنبل اور خطیب بغدادی وغیرہ کے اقوال بیان کر چکے ہیں۔ ابراہیم بن محمد العلی نے بھی اسی منہج کے تحت صحیح سیرت کو جمع کیا ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب "صحيح السيرة النبوية" میں ان ضعیف روایات کو قبول کیا ہے کہ جن کا تعلق عقیدے یا احکام سے نہیں ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ تاریخ میں ضعیف روایات قابل قبول ہیں: أما الروايات الضعيفة فيمكن الاعتماد عليها في إثبات حوادث تاريخية لا ينبني عليها أي حكم شرعي أو أمر في جانب العقيدة، لأن الأحكام الشرعية والأمور العقدية لا تثبت إلا بالأحاديث الصحيحة.

بعض علماء جو کہ سیرت کی تحقیق کے لیے نہ صرف حدیثی معیار کو نرم کر دیتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک علیحدہ معیار کا بھی ذکر کرتے ہیں، ان میں دو بڑے نام ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری اور شیخ حاتم شریف العونی کے ہیں۔ اب اگر کوئی صاحب یہ سوال کریں کہ آپ کوئی ایک اصول ان علماء سے بیان کر دیں جو انہوں نے سیرت یا تاریخ کی تحقیق کے ضمن میں بیان کیا ہو تو ہمیں آسانی رہے گی۔ تو اس کا جواب اگرچہ پہلے گزر چکا لیکن میں پھر اشارہ کیے دیتا ہوں کہ ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری کا کہنا ہے کہ بعض اوقات کسی تاریخی واقعے کو قبول کرنے کے لیے زمانے کے مورخ کی عدالت اور ضبط ہی کافی ہوتا ہے، سند ضروری نہیں ہوتی۔ ان کے الفاظ ہیں: "لذلك يكفي في الفترات اللاحقة التوثق من عدالة المؤرخ وضبطه لقبول ما يسجله"۔ یہی بات خطیب بغدادی سے حاتم شریف العونی صاحب نے ان الفاظ میں نقل کی ہے: "ما لايفتقر كتْبُه إلى إسناد"۔ یعنی کچھ اخبار ایسی ہیں کہ جن کے لکھنے یا نقل کرنے کے لیے سند ضروری نہیں ہے۔ اب بغیر سند کے واقعے کو بیان اور قبول کرنا تو حدیثی معیار نہیں ہے بلکہ تاریخ کی تحقیق کا معیار ہے۔

اگر سائل کا سوال یہ ہو کہ ابھی تک تو آپ محدثین میں ہی گھوم رہے ہیں، تو یہ تو محدثین کا ہی دیا ہوا معیار ہے جو آپ سیرت اور تاریخ میں لاگو کر رہے ہیں۔ تو ہمارا جواب یہ ہے کہ یہی دعوی تو ہم شروع سے کر رہے ہیں کہ محدثین نے بھی حدیث کے ساتھ سیرت وتاریخ کے معیار تحقیق میں فرق کیا ہے البتہ کچھ معاصر محققین نے اس میں غلو اور سختی کی جو کہ مناسب نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ہمارا کہنا یہ بھی ہے کہ مورخین نے محدثین کے اس معیار تحقیق میں مزید اضافے کیے ہیں جیسا کہ ابن خلدون وغیرہ کا ہم تذکرہ کریں گے کہ وہ تاریخی واقعے کو جن چار قوانین پر پرکھتے ہیں، وہ کیا ہیں؟ اسی طرح یہ اعتراض کرنا کہ اصول تفسیر تو فہم کے اصول ہیں نہ کہ روایت کے تو یہ بات بھی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ آپ ابن تیمیہ کا مقدمہ اصول تفسیر اٹھا کر دیکھ لیں، وہ قرآن فہمی کے اصولوں سے پہلے سلف کے تفسیری اقوال کے روایت ہونے کے انداز واسلوب اور ان کے پرکھنے کے معیارات کو زیر بحث لاتے ہیں۔ اور اسی طرح یہ کہنا کہ ایک دو چار کر کے وہ اصول بیان کر دیں کہ جن ہر سیرت اور تاریخ پرکھی جائے گی تو اس طرح تو اصول حدیث کی کتابوں میں بھی حدیث کی تحقیق کے اصول بیان نہیں ہوئے۔ تو انہیں اصول حدیث کی کتابیں عرفا کہہ دیتے ہیں، اصلا وہ مصطلح الحدیث اور علوم حدیث کی کتابیں ہیں، یہ قابل غور اور گہرا نکتہ ہے۔ 

سیرت اور تاریخ کی تحقیق کا منہج [قسط ہشتم]: مورخین کی نظر میں
-------------------------------------------------------------------------
تو علوم کی تقسیم شروع میں ہی ہو گئی تھی۔ سنت کی کتابیں علیحدہ مدون ہو رہی تھیں اور سیرت کی علیحدہ اور تاریخ کی علیحدہ۔ اور ہر ایک کے امام اور رجال معروف تھے۔ پھر طبقات، تراجم اور تاریخ کی کتب اور ان کے مناہج میں بھی فرق ہو گیا اور یہ تینوں علیحدہ علیحدہ فن کے طور معروف ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ ابن خلدون اپنے مقدمہ میں معروف مورخین کو بیان کرتے ہوئے ابن اسحاق، واقدی اور طبری کا ذکر تو مورخ کے طور کرتا ہے لیکن ابن سعد کو نظر انداز کر جاتا ہے کہ ان کا کام طبقات پر ہے۔

امام مالک کی "الموطأ" اگر سنت کے اولین مصادر میں سے ہے تو واقدی کی "مغازی" سیرت کے اولین مصادر میں شمار ہوتی ہے۔ سنت کی تدوین میں جو مقام امام بخاری کو حاصل ہوا ہے، وہی سیرت کی تدوین میں ابن سحاق کا ہے۔ سنت کے ائمہ بھی سیرت اور تاریخ میں بعض اشخاص کی مہارت کے نہ صرف معترف تھے بلکہ قدر دان بھی تھے۔ مثال کے طور پر امام بخاری اپنی صحیح بخاری میں "کتاب المغازی" کا آغاز اس جملے سے کرتے ہیں: "قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: أَوَّلُ مَا غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الأَبْوَاءَ، ثُمَّ بُوَاطَ، ثُمَّ العُشَيْرَةَ۔"۔ ترجمہ: ابن اسحاق نے یہ کہا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا غزوہ ابواء تھا، دوسرا بواط اور تیسرا عشیرہ تھا۔ تو یہ دراصل امام بخاری نے ابن اسحاق کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

اسی طرح امام مالک سے جب ایک شخص نے سوال کیا کہ جس یہودی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ خیبر میں زہر دیا تھا تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ تو امام مالک نے کہا کہ میرے علم میں نہیں ہے لیکن میں کسی صاحب علم سے پوچھ کر بتاؤں گا۔ تو امام مالک کی واقدی سے ملاقات ہوئی اور اس سے پوچھا تو واقدی نے بتلایا کہ میرے پاس جو اخبار ہیں، ان کے مطابق اس عورت کو قتل کر دیا گیا تھا۔ تو امام مالک نے بعد میں سائل کو یوں جواب دیا: قد سألتُ أهل العلم فأخبروني أنه قتلها۔ ترجمہ: میں نے یہ بات اہل علم سے پوچھی ہے تو ان کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو قتل کروا دیا تھا۔ تو امام مالک کی یہاں اہل علم سے کیا مراد ہے یعنی وہ لوگ جو سیرت کا علم رکھتے ہیں۔ ہم پہلے نقل کر چکے کہ اسی بات کو ابن حجر نے واقدی کے حالات میں یوں بیان کیا ہے: "متروك مع سعة علمه"۔ واقدی حدیث میں متروک ہے باوجود اپنی وسعت علمی کے۔ اب یہ اس کی کون سی وسعت علمی کا اعتراف ہو رہا ہے؟ ظاہری بات ہے، سیرت کی وسعت علمی مراد ہے۔

تو ماہرین فن کے ماہرین ہونے کا اعتبار خود محدثین نے کیا ہے لہذا یہ کہنا بالکل بے کار اور سطحی ہو گا کہ ماہرین فن کو اپنے فن کے تحقیق کے اصول وضع کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور غیر ماہرین یعنی محدثین کو صرف یہ حق حاصل ہے۔ سیرت نگار، سیرت کی تحقیق اور مورخین، تاریخ کی خبر کی تحقیق کے اصول وضع کر سکتے ہیں بلکہ انہیں کرنا چاہیے، یہی معقول اور معتدل موقف ہے۔ مثال کے طور پر واقدی کو سیرت کی جمع وتدوین میں چار وجوہات سے جو امتیاز حاصل ہے، وہ محدثین کو اس پر حاصل نہیں ہے۔ ایک تو یہ کہ واقدی سیرت کی جمع وتدوین میں محدثین سے مقدم ہے۔ دوسرا واقدی کا تخصص سیرت ہے یعنی اس نے سیرت کو جمع کرنے میں زندگی لگائی اور کھپائی ہے۔ تیسرا اس نے اپنی "مغازی" میں اس بات کا اہتمام کیا ہے کہ وہ ہر غزوے کے مقام اور گرد ونواح کا جا کر عینی مشاہدہ کرے اور پھر اسے قلمبند کرے۔ چوتھا اس نے یہ اہتمام کیا ہے کہ ہر غزوے میں شرکت کرنے والوں کی اولاد سے اس غزوے کے بارے میں خبریں حاصل کرے کہ اس کے خیال کے مطابق اس خاندان میں وہ خبریں نسل در نسل جاری ہوئی ہوں گی اور زیادہ محفوظ رہی ہوں گی کہ لوگوں کا اپنی خاندان کے بڑوں کی تاریخ کو محفوظ رکھنے میں اہتمام فطری طور پایا جاتا ہے۔

اب رہی یہ بات کہ حدیث، سیرت اور تاریخ کے تحقیقی معیارات میں کیا نمایاں فرق ہے تو اب تک ہم نے تین قسم کے فروق کا تذکرہ خود محدثین یا ماہرین فن سے نقل کیا ہے۔ پہلا یہ کہ سنت اور حدیث کی تدوین کے لیے سماع ضروری ہے یعنی سنت، تحمل واداء سے نقل ہوتی ہے اور یہ اس کی نقل میں ایک ضروری شرط ہے جبکہ سیرت اور تاریخ کی تدوین کے لیے سماع ضروری نہیں ہے بلکہ ان کی تدوین اور نقل کتب سے بھی ہو سکتی ہے۔ اسی لیے واقدی کی "مغازی" کے مصادر میں اخبار کے علاوہ کتب بھی شامل ہیں۔ سیرت کی تدوین میں کتب کو مصادر مان لینے کی مثال جدید اصطلاح میں ریاست کا آرکائیوز ڈیپارٹمنٹ ہو سکتا ہے جو ریاستی سطح کی خط وکتابت کی نقول کو محفوظ رکھتا ہے کہ ان کی سند تو نہیں ہوتی لیکن وہ ایک تاریخی ثبوت ضرور ہوتے ہیں۔ تو صلح حدیبیہ، میثاق مدینہ اور شاہان عجم کو لکھے جانے والے خطوط وغیرہ سیرت کے کتابی مصادر میں شامل ہیں۔ اس میں صحابہ کرام کی لکھائی گئی وصیتوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

دوسرا فرق ہم نے یہ بیان کیا تھا کہ سیرت کی تدوین اور نقل میں ماہر فن کے لیے یہ عیب نہیں ہے کہ وہ ایک سے زائد اسناد کے متون کو ایک متن کے طور پر ایک جماعت سے نقل کر دے کہ اس میں واقعہ اصل ہے نہ کہ سند۔ اور یہ کام امام ابن شہاب زہری نے حدیث میں تو نہیں کیا لیکن سیرت میں کیا ہے۔ اور ابن اسحاق نے بھی یہی کام سیرت میں کیا ہے۔ تو ماہرین فن کے سیرت میں ایک جماعت سے نقل کرنے میں حرج نہیں ہے۔ تیسرا فرق ہم نے یہ بیان کیا ہے کہ حدیث میں مرسل اور منقطع روایت قابل قبول نہیں ہیں لیکن سیرت اور تاریخ میں ایسی روایات قبول کر لی جاتی ہے جب تک کہ راوی کذاب نہ ہو یا اس پر تہمت کذب نہ ہو، اس کے اپنے فن میں، یہ اہم بات ہے۔ واقدی کو اگر کسی نے کذاب کہا بھی ہے تو اس وجہ سے کہ وہ مختلف اسناد کے متنون کو ملا کر ایک ساتھ نقل کر دیتا ہے لیکن یہی کام اس سے پہلے ابن اسحاق بھی کر چکے اور ابن شہاب زہری بھی لیکن سیرت میں۔ تو اس کے فن میں یہ کرنا عیب نہیں ہے کہ اس وجہ سے اسے کذاب کہا جائے بلکہ یہ اس کے فن کا امتیاز ہے کہ ایک محدث کو بھی اس فن میں کچھ کہنا پڑتا ہے تو وہ بھی اسی طرح کہتا ہے جیسے اس نے کہا ہے یعنی ابن شہاب زہری کی بات کر رہا ہوں۔

چوتھا فرق یہ نقل ہوا کہ تاریخ بغیر سند کے بھی نقل ہو سکتی ہے جیسا کہ خطیب بغدادی کا قول نقل ہو چکا کہ کچھ علوم کے نقل کے لیے سند کا ہونا ضروری نہیں ہے لیکن حدیث اور سنت، سند کے بغیر نقل نہیں ہو سکتی۔ اور قرون وسطی (middle ages) کے بعد کی اسلامی تاریخ کی تو سند ہے ہی نہیں۔ یہ تو اوائل اسلام کا امتیاز ہے کہ اس دور میں تاریخ کی بھی سند محفوظ کرنے کا اہتمام کیا گیا ورنہ تاریخ کہاں سند سے نقل ہوتی ہے؟ تو ایسی تاریخ کو پرکھنے کے اصول اخباری نہیں بلکہ عقلی، طبیعی اور آثاری ہوں گے۔ مثلا علم الآثار (archeology) ایک باقاعدہ سائنس بن چکا ہے کہ جس کے ذریعے قوموں اور تہذیبوں کی تاریخ، ثقافت، عقائد ونظریات اور رہن سہن کو جانا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر تاریخ کی کتب میں ایک خبر یہ نقل ہوئی ہے کہ بغداد کی بعض مساجد کا رخ کعبے کی طرف نہیں تھا۔

اور آج بھی کوئی چار تو قدیم مساجد کے آثار بغداد اور قاہرہ وغیرہ میں اب بھی موجود ہیں جو یہ بتلاتے ہیں کہ ان مساجد کا رخ خانہ کعبہ سے 30 سے 33 فی صد ہٹا ہوا ہے۔ اب چاہے اس خبر کی سند نہ بھی ہو یا ضعیف ہو لیکن یہ خبر علم الآثار کی روشنی میں صحیح ثابت ہو رہی ہے۔ مطلب اس سے بڑی بے وقوفی کیا ہو گی کہ میں یہ کہوں کے تاج محل بنوایا گیا تھا، میں اس وقت تک نہیں مانوں گا، جب تک صحیح سند سے ثابت نہ ہو جائے۔ تاج محل کا وجود ہی اس کی خبر اور سند سے مستغنی کر دیتا ہے۔ تو اب اس کی معقول وجوہات پر غور کر لیا جائے کہ اوائل اسلام میں دور دراز علاقوں میں قبلہ کی صحیح سمت کا اندازہ لگانا مشکل تھا لہذا اس قدر غلطی ہو جاتی تھی وغیرہ وغیرہ۔ البتہ مستشرقین کا یہ اخذ کرنا کہ ان مساجد کا قبلہ خانہ کعبہ نہیں، مسجد اقصی تھا تو یہ دجل اور فریب ہے کہ وہ مسجد اقصی کے رخ پر نہیں ہیں۔ تو تاریخی واقعات کو پرکھنے میں علامہ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں بہت عمدہ مباحث درج کی ہیں۔ اب یہ کہنا کہ ایک دور چار کی طرح کچھ اصول مورخین نے نقل نہیں کیے کہ جس سے اصول تاریخ کا علم حاصل ہو سکے تو اتنی سیدھی طرح یا حساب کے انداز میں دو اور دو چار کر کے تو محدثین نے بھی اصول حدیث بیان نہیں کیے ہیں۔

اصول حدیث کی دس صفحات کی کتاب سے لے کر ہزار صفحات کی کتاب تک میں آپ کو پانچ اصول ہی ملیں گے کہ جن پر پورا اترنے کی صورت میں ایک حدیث صحیح حدیث قرار پاتی ہے۔ اور وہ پانچ اصول محض پانچ لائنوں میں صحیح حدیث کی شرائط کے عنوان کے تحت بیان ہو جاتے ہیں۔ اصول حدیث کا باقی سارا علم تو انہی پانچ اصولوں کی وضاحت ہی تو ہے، کوئی نیا اصول بہرحال نہیں ہے۔ اس لیے اصول حدیث کے علم کو اہل علم کے ہاں عام طور مصطلح الحدیث یا علوم حدیث کہتے ہیں۔ تو معروف مورخین نے اپنی کتب تاریخ کے مقدمات میں تاریخ کی جانچ پڑتال کے اصولوں کا تذکرہ کیا ہے جس طرح کہ معروف مفسرین نے اپنی کتب تفاسیر کے مقدمات میں اصول تفسیر کو بیان کیا ہے۔ لیکن یہ ایک دو چار کے انداز میں نہیں ہیں کہ ایک عامی کو سمجھ آ جائیں کہ یہ اصول تاریخ یا اصول تفسیر بیان ہو رہے ہیں۔ ان کا انداز وہی ہے جو اصول حدیث کے بیان کا انداز ہے کہ چند اصولوں کو بیان کر کے اس سے متعلقہ مصطلحات، ان کی تشریح وتعبیر اور ان پر غور فکر پر زور دیا جاتا ہے۔ اور یہی کام ابن خلدون نے بہت بہتر انداز میں مقدمہ میں کیا ہے کہ تاریخی واقعے کی تحقیق کے چھ اصول بیان کیے ہیں اور پھر ان کی گہرائی کو مقدمہ میں جا بجا کھولا ہے۔

------------
بشکریہ محدث فورم



(نوٹ : بلاگر کا مضمون نگار کی تحقیق اور رائی  سے متفق ہونا لازمی نہیں )