عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے
جانِ مُراد اب کدھر ہائے تِرا مکان ہے
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی ، جان ہے تو جہان ہے
عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دھوم دھام
کان جدھر لگا ئیے تیری ہی داستان ہے
تجھ سا سیاہ کار کون اُن سا شفیع ہے کہاں
پھر وہ تجھی کو بھول جائیں دل یہ تِرا گمان ہے
اِک تِرے رخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی
اِنس کا اُنس اُسی سے ہے جان کی وہ ہی جان ہے
خوف نہ رکھ رضؔا ذرا تو تو ہے عبدِ مصطفیٰ
تیرے لیے امان ہے تیرے لیے امان ہے
شاعر : امام احمد رضا خان بریلوی
کتاب : حدائق بخشش