اہم خبریں اور رپورٹ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اہم خبریں اور رپورٹ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

10 وہ ملازمتیں جن میں سنہ 2023 اور 2027 کے درمیان ترقی کی سب سے زیادہ صلاحیت ہے۔


مستقبل کی وہ دس نوکریاں جو آپ کی تقدیر بدل سکتی ہیں ۔
بی بی سی اردو
اشاعت : 6 جون 2023 م

مستقبل میں جن ملازمتوں کی سب سے زیادہ مانگ ہو گی وہ پہلے ہی ہمارے آس پاس موجود ہیں۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ ماضی کے اس خدشے کے باوجود کہ ٹیکنالوجی میں ترقی ملازمتیں ختم کر دے گی، آنے والے برسوں میں متعدد نئے مواقع ہمارے سامنے ہوں گے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی مینیجنگ ڈائریکٹر اور سینٹر فار نیو اکانومی اینڈ سوسائٹی کی سربراہ سعدیہ زاہدی نے کہا کہ ’ہم سب نے دیکھا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کیا ہو رہا ہے اور اسے مختلف صنعتوں میں کتنی تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔‘

اگلے پانچ سال میں سب سے زیادہ ترقی حاصل کرنے کے لیے ممکنہ طور پر جن دو پیشوں کی سب سے زیادہ مانگ ہو گی ان میں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ سرِ فہرست ہیں تاہم ڈبلیو ای ایف کے مطابق ایسے دیگر مواقع بھی سامنے آ رہے ہیں۔

مثال کے طور پر ماحولیاتی پائیداری کے ماہرین یا زرعی آلات کے آپریٹرز کی خدمات ایسی ملازمتیں ہیں جن کی اگلے پانچ سال میں سب سے زیادہ مانگ ہو گی۔

یہ تخمینے سوئس تنظیم نے 803 بڑی کمپنیوں کے تفصیلی سروے کی بنیاد پر لگائے ہیں جو دنیا کے تمام خطوں کی 45 معیشتوں میں ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ افراد کو ملازمت دیتی ہیں۔

دنیا کے بڑے ممالک ضرورت کی اشیا دیگر ممالک سے درآمد کرنے کے بجائے ’خود کفیل‘ ہونے کی پالیسی کیوں اپنا رہے ہیں؟

بی بی سی اردو ، ۳۰ جنوری ۲۰۲۳ء 

سنہ 1989 کے اواخر میں دیوار برلن کے گرنے اور تقریباً دو سال بعد سوویت یونین کے ٹوٹنے سے سرد جنگ کا خاتمہ ہوا اور عالمگیریت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا، جس نے عالمی معیشت کو ایک جدید شکل دی۔

لیکن 21ویں صدی میں مختلف بحرانوں نے اس ’گلوبل ویلج‘ کہلائے جانے والی دنیا کا امتحان لیا ہے۔

سنہ 2008 میں وال سٹریٹ سے شروع ہونے والا امریکی معاشی بحران جب پوری دنیا میں پھیل گیا تو اُس کے بعد کچھ لوگوں نے معیشت کے حوالے سے مختلف ممالک کے ایک دوسرے پر انحصار کرنے کے فوائد پر سوال اٹھایا۔

امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈیا میں نریندر مودی جیسی نئی سیاسی شخصیات نے اپنی ضروریات خود پوری کرنے یعنی خود کفیل ہونے جیسے خیال کو ترجیح دینے کے عمل کو فروغ دینا شروع کیا اور یورپ میں برطانیہ نے بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیا اور یورپی یونین سے خود مختاری حاصل کر لی۔لیکن عالمگیریت کو سب سے زیادہ دھچکا کووڈ وبا سے لگا، جس کی وجہ سے بہت سے ممالک نے نہ صرف اپنی سرحدیں بند کر دیں بلکہ ماسک سے لے کر ویکسین تک جو وائرس سے نمٹنے کے لیے ضروری تھا تمام طبی آلات کی برآمد بھی روک دی تھی۔

گلوبل ساؤتھ کیا ہے؟

بی بی سی اردو 
11 جنوری 2023ء 

وائس آف دی گلوبل ساؤتھ: کیا ترکی، سعودی عرب اور انڈیا اپنا رخ بدل رہے ہیں؟

یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے حوالے سے ترکی نے امریکہ کی ایک نہ سنی، انڈیا نے بھی روس سے تیل درآمد کرنا بند نہیں کیا، بائیڈن سعودی عرب کو الگ تھلگ کرنے کی بات کر رہے تھے لیکن اچانک خود ہی سعودی عرب پہنچ گئے۔ تو کیا یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ اب متوسط طاقت کہے جانے والے ممالک امریکی دباؤ میں آنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ادھرانڈیا 12 اور 13 جنوری کو ’وائس آف دی گلوبل ساؤتھ‘ سمٹ منعقد کر رہا ہے جس میں اس نے 120 ممالک کو مدعو کیا ہے۔اس کانفرنس کی صدارت وزیراعظم نریندر مودی کریں گے۔ اس میں بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ اور سری لنکا کے صدر رانیل وکرماسنگھے سمیت کئی عالمی رہنما شرکت کر سکتے ہیں۔

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے 2019 میں 25 اور 26 اکتوبر کو باکو، آذربائیجان میں ہونے والی نان الائنڈ موومنٹ کے 19ویں سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔ اس سے قبل 2016 میں وینزویلا میں منعقدہ 18ویں سربراہی اجلاس میں بھی انھوں نے شرکت نہیں کی تھی۔ ان سربراہی اجلاسوں میں ملک کے نائب صدر نے شرکت کی تھی۔ 2016 میں اس وقت کے نائب صدر حامد انصاری وینزویلا اجلاس میں انڈیا کی نمائندگی کررہے تھے اور 2019 میں اس وقت کے نائب صدر وینکیا نائیڈو باکو اجلاس میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ اس تحریک کے سربراہی اجلاس میں مودی کی عدم شرکت کو ایک فیصلہ کن قدم کے طور پر دیکھا گیا کیونکہ انڈیا اس کا بانی رکن تھا۔ 1961 میں اس کے سربراہی اجلاس کے آغاز کے بعد سے انڈیا کے تمام وزرائے اعظم نے اس میں شرکت کی ہے۔ نریندر مودی کا سربراہی اجلاس میں نہ جانا انڈیا کی خارجہ پالیسی میں نہرو دور کی وراثت میں تبدیلی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن کیا ایسا ہے کہ نریندر مودی کی خارجہ پالیسی نان الائنمنٹ کے اصول سے دور ہو گئی ہے؟

راسخ العقیدہ يہودى فرقہ ليو طھور

بى بى سى اردو کے مطابق، اس یہودی فرقے کے ارکان کو ’یہودی طالبان‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی عورتیں سر سے پاؤں تک کالے کپڑے پہنتی ہیں۔

تاہم میکسیکو اور گوئٹے مالا جیسے لاطینی امریکی ممالک میں قائم ہونے والے اس مذہبی گروہ کے بارے میں تنازع ان کے انتہائی قدامت پسند لباس سے کہیں بڑھ کر ہے۔


اس فرقے کا مرکز تاپاچولا شہر سے 17 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

انتہائی راسخ العقیدہ اور صہیونی مخالف

بليک واٹر کيا ہے ؟

بلیک واٹر کو ’الکلائن واٹر‘ یا ’الکلائن آیونائزڈ واٹر` بھی کہا جاتا ہے۔

طبی جریدے ’ایویڈنس بیسڈ کمپلیمنٹری اینڈ آلٹرنیٹو میڈیسن‘ (ای بی سی اے ایم) کے مطابق جم یا جسمانی ورزش کے بعد یا جسم سے بہت زیادہ پسینہ بہہ چکا ہو تو بلیک واٹر کا استعمال کچھ مددگار ثابت ہوتا ہے۔ دراصل، یہ جسم میں الیکٹرولائٹس کی فراہمی کو بڑھاتا ہے۔

ای بی سی اے ایم کے مطابق لیب میں چوہوں پر کیے گئے ٹیسٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ الکلائن پانی جسمانی وزن کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے استعمال سے میٹابولزم (میٹابولزم) کا عمل بھی تیز ہوتا ہے۔

بچے کو سمارٹ فون کس عمر میں دینا چاہیے؟

کیلی اوکس
بی بی سی، فیوچر

یہ مخمصہ جدید دور کا ہے۔ کیا اپنے بچوں کو سمارٹ فون دینا چاہیے یا جب تک ممکن ہو انھیں اس سے دور رکھا جائے؟

اگر آپ ماں باپ ہیں اور یہ سوچ رہے ہیں کہ بچے کو سمارٹ فون دینا ایسا ہے جیسے اسے ایک ایسی پوٹلی تھما دی جائے جس کے ذریعے دنیا بھر کی تمام برائیاں کُھل کر آپ کے بچے کے سامنے آ جائیں گی اور آپ کے بچے کی پوری زندگی متاثر ہو جائے گی، تو آپ کو معاف کیا جا سکتا ہے۔

بچوں پر سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے ممکنہ بُرے اثرات کے حوالے سے آئے روز شائع ہونے والی حیران کن شہ سرخیاں کسی بھی ماں باپ کو قائل کرنے کے لیے کافی ہیں کہ بچوں کو سمارٹ فون بالکل نہیں دینا چاہیے۔

بظاہر بہت سی مشہور شخصیات بھی جدید دور کے اس مسئلے سے دوچار ہیں کہ بچوں کو سمارٹ فون دیا جائے یا نہیں۔ مثلاً معروف گلوکارہ میڈونا کا کہنا تھا کہ انھیں پچھتاوا ہے کہ انھوں نے اپنے بچوں کو 13 برس کی عمر میں فون استعمال کرنے کی اجازت کیوں دی۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر انھیں معلوم ہوتا تو وہ ایسا نہ کرتیں۔

دوسری جانب، شاید یہ بھی سچ ہے کہ خود آپ کے پاس سمارٹ فون موجود ہے اور آپ اسے اپنی زندگی کا ایک ضروری حصہ سمجھتے ہیں۔ ای میلز اور آن لائن شاپنگ سے لے کر ویڈیو کال اور اپنے بچوں کی تصویروں تک، آپ ہر چیز اپنے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ اور اگر آپ کے بچوں کے ہم جماعت اور دوست، تمام سمارٹ فونز خرید رہے ہیں تو اگر آپ کے بچوں کے پاس فون نہ ہوا تو وہ اس کسی چیز سے محروم ہونے جیسا محسوس کریں گے۔

رشتے اور محبت: مخالف مزاج کے افراد میں محبت اور جسمانی کشش قدرے کم کیوں ہوتی ہے؟

جیسیکا کلین

بی بی سی اردو تاریخ اشاعت : 12 مارچ 2022 ء

ایک عرصے سے لوگ یہ کہتے آئے ہیں کہ 'مخالف مزاج کے افراد ایک دوسرے کی جانب کشش رکھتے ہیں۔' جیسا کہ کم گو شخص، کھل کے اظہار کرنے والے شخص کی جانب کھچ سکتا ہے، یا ایک لائق طالب علم کو آوارہ لڑکا بھی پسند آ سکتا ہے۔ دنیا بھر کے معاشروں میں اس مقبول خیال کو برسوں سے مانا جاتا ہے۔


اگرچہ بہت سے افراد کا یہی ماننا ہے کہ مخالف مزاج رکھنے والے ایک دوسرے کو پسند کرتے یا ان کی جانب راغب ہوتے ہیں اور بعض افراد تو اپنی زندگیوں سے اس کی مثال بھی نکال لائے گے مگر سائنسدان نے برسوں کی تحقیق کے دوران اس خیال کو رد کیا ہے۔


برے تعلقات اور رشتوں کے معاملات کو حل کرنے کے ماہر کیلیفورنیا میں مقیم ماہر نفسیات رامانی درواسولا کہتے ہیں کہ 'تحقیق اس بارے میں بہت واضح ہے کہ یہ بات درست نہیں ہے۔'


ان کا کہنا ہے کہ 'ایسے افراد جن کی ایک جیسی دلچسپیاں ہوں، ایک جیسا مزاج ہو ان کے درمیان تعلق قائم ہونے یا ڈیٹ کرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔'


درحقیقت مختلف مقالوں میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ دوستوں اور محبت کے ساتھیوں کے ایک جیسے خیالات، اقدار اور مشاغل ہوتے ہیں۔


لوگ ایک جیسی جسمانی خصوصیات رکھنے والوں کی جانب کشش محسوس کرتے یا بھروسہ کرتے ہیں اور بعض اوقات تحقیق سے بھی پتا لگتا ہے کہ ایک جیسی شخصیت کے حامل افراد میں بھی تعلق قائم ہوتا ہے۔

سعودی ولی عہد کے امریکی جریدے 'دی اٹلانٹک' کو دیئے گئے اہم انٹرویو

سعودى ولى عہد کا اہم انٹرويو
 
بی بی سی اردو 27 فروری 2022ء 

سعودی ولی عہد کے امریکی جریدے 'دی اٹلانٹک' کو دیئے گئے انٹرویو کو سعودی پریس ایجنسی نے بھی شائع کیا ہے۔

اس انٹرویو میں ولی عہد محمد بن سلمان نے اسلام، وہابیت، قرآن، اسرائیل اور امریکہ سمیت بہت سے مسائل پر تفصیل کے ساتھ بات کی۔


اٹلانٹک نے ولی عہد سے پوچھا کہ کیا وہ سعودی عرب کو اس قدر جدید کریں گے کہ اس کی اسلامی شناخت کمزور ہو جائے؟

اس سوال کے جواب میں ولی عہد نے کہا کہ 'دنیا کے ہر ملک کا قیام مختلف نظریات اور اقدار کی بنیاد پر عمل میں آیا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ جمہوریت، آزادی اور آزاد معیشت جیسی اقدار پر قائم ہے۔ لوگ ان اقدار کی بنیاد پر متحد رہتے ہیں۔ لیکن کیا تمام جمہوریتیں اچھی ہیں؟ کیا تمام جمہوریتیں ٹھیک طریقے سے کام کر رہی ہیں؟ یقینی طور پر نہیں۔


'ہمارا ملک اسلام کی اقدار اور نظریات کی بنیاد پر بنا ہے۔ اس میں قبائلی ثقافت ہے، عرب ثقافت ہے۔ سعودی ثقافت اور عقائد بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ ہماری روح ہے۔ اگر ہم نے اسے چھوڑ دیا تو ملک تباہ ہو جائے گا۔


سعودی ولی عہد نے کہا کہ ہمارے لیے سوال یہ ہے کہ سعودی عرب کو ترقی اور جدیدیت کے صحیح راستے پر کیسے ڈالا جائے۔ اسی طرح کے سوالات امریکہ کے لیے ہیں کہ جمہوریت، آزاد منڈیوں اور آزادی کو صحیح راستے پر کیسے رکھا جائے۔ یہ سوال اہم ہے کیونکہ وہ غلط راستے پر جا سکتے ہیں۔'

جوہری ہتھیار دنیا میں کتنے ہیں اور کن ممالک کے پاس ہیں؟

بی بی سی اردو 27 فروری 2022ء

جوہری ہتھیار کیا ہیں؟


یہ انتہائی طاقتور دھماکہ خیز ہتھیار ہوتے ہیں۔ آپ نے سکول میں سائنس کی کلاسوں میں ایٹم اور آئسوٹوپ کا ذکر سنا ہو گا۔

یہ دونوں جوہری دھماکہ کرنے میں اہم ہوتے ہیں۔ بم کو ایٹم توڑنے یا ان کے اندر موجود خفیف ذرات کو ملانے سے توانائی ملتی ہے۔ اسی لیے جوہری بم کو اکثر ایٹم بم بھی کہا جاتا ہے۔
جوہری ہتھیار کیا ہیں ؟


جوہری بم تاریخ میں صرف دو بار استعمال ہوئے ہیں سنہ 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ نے جاپان پر دو ایٹم بم گرائے گئے جن سے شدید تباہی اور بہت زیادہ جانی نقصان ہوا۔


ہیروشیما پر گرائے جانے والے بم کے اثرات کئی ماہ تک رہے اور اندازے کے مطابق 80 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ ناگاساکی پر گرائے جانے والے بم سے 70 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد کسی بھی جنگ میں ان کا استعمال نہیں ہوا۔

جوہری ہتھیاروں سے بڑی تعداد میں تابکاری خارج ہوتی ہے۔ دھماکے کے بعد بھی اس کے اثرات طویل عرصے تک رہتے ہیں جس سے متلی، الٹیاں، اسہال، سر درد اور بخار ہو جاتا ہے۔

چین: ’ 32 سال بعد ماں نے اپنے اغوا ہونے والے بیٹے کو ڈھونڈ نکالا‘

لی جینگزی نے تین دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ اپنے بیٹے ماؤ ین کی تلاش میں گزار دیا۔ ماؤ ین کو سنہ 1988 میں اغوا کرنے کے بعد بیچ دیا گیا تھا۔ لی اپنے بیٹے سے دوبارہ ملنے کی امید کھو بیٹھی تھیں لیکن رواں برس مئی میں انھیں ایک فون کال موصول ہوئی جس کی وہ سالہا سال سے منتظر تھیں۔

ہفتہ وار چھٹی کے دوران جینگزی اور ان کے شوہر ننھے ماؤ کو لے کر چڑیا گھر جاتے یا شہر کے بہت سے پارکس میں سے کسی ایک میں۔ وہ شنگھائی کے مرکزی شہر زیان میں رہتے تھے۔ باہر گھومنے پھرنے کے ان دنوں کی یادیں ہمیشہ تروتازہ رہی ہیں۔
32 سال  بعد ماں نے اپنے بیٹے کو  ڈھونڈ نکالا  

ان کے بیٹے کی عمر تقریباً ڈیڑھ برس تھی۔

جینگزی کہتی ہیں کہ ہم اسے شہر کے ایک چڑیا گھر میں لے کر گئے۔ اس نے وہاں زمین پر ایک کیڑا دیکھا۔

وہ بہت متجسس ہوا اور اس کی جانب اشارہ کر کے کہنے لگا ماما کیڑا! اور جیسے ہی میں اسے چڑیا گھر سے باہر لے کر گئی تو میں نے دیکھا کہ اس نے کیڑے کو اپنے ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا اور اس نے اسے میرے چہرے کے قریب کیا۔ماؤ ین ان کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ان دنوں چین میں ون چائلڈ پالیسی یعنی ایک بچہ پیدا کرنے کی پالیسی عروج پر تھی۔ اس وقت دوسرے بچے کو پیدا کرنے کے بارے میں سوچنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔

وہ چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا پڑھے لکھے اور کامیاب ہو۔ اس لیے انھوں نے اپنے بیٹے کو جیا جیا کا نام دیا جس کا مطلب ہے عظیم۔

کائنات میں تاریک مادے کی کھوج کے دوران ’نامعلوم سگنل‘ کی دریافت (بی بی سی اردو )

کائنات میں تاریک مادے کی کھوج 
 کائنات میں 'ڈارک میٹر' کے وجود کے متلاشی سائنسدانوں کو ایک ایسے سگنل کا سراغ ملا ہے جس کی فی الحال وضاحت نہیں کی جا سکتی۔

ڈارک میٹر یا تاریک مادہ کائنات میں پایا جانے والا وہ مادہ ہے جس کے وجود کا براہ راست مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا تاہم کشش ثقل (گریوٹی) کے اصول کے تحت اس پُراسرار مادے کے وجود کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

جن سائنسدانوں نے اس نامعلوم سگنل کی کھوج لگائی ہے وہ 'زینان ون ٹی' نامی سائنسی منصوبے پر کام کر رہے جس کا مقصد نظام کائنات میں پھیلے ڈارک میٹر پر تحقیق کرنا ہے۔

'زینان ون ٹی' پر کام کے دوران سائنسدانوں نے اپنے سراغ رساں آلات کے ذریعے کائنات میں اس سے کہیں زیادہ سرگرمی کا پتا لگایا ہے جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔

سائنسدانوں کا گمان ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ 'غیر متوقع سرگرمی' درحقیقت ڈارک میٹر کے اب تک ناقابلِ شناخت 'شمسی ایکسیان' نامی ذرات کی وجہ سے ہو۔ڈارک میٹر کیا ہے؟
ڈارک میٹر کائنات میں موجود مادے کا لگ بھگ 85 فیصد پر مشتمل ہے، تاہم ڈارک میٹر کی نوعیت اور ساخت کیا ہے یہ اب تک صیغہ راز ہے۔

کیا چاند پر کان کنی ممکن ہے ؟

کیا چاند پر کان کنی ممکن ہے ؟  
(بی بی سی اردو 12 اپريل 2020)

صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امریکہ چاند پر معدنیات کے لیے کان کنی شروع کرے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو کرۂ ارض سے باہر خلا میں وسائل کی تلاش کرنے اور ان کے استعمال کا حق حاصل ہے۔

حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ خلا کو وسائل کے حصول کے لیے مشترکہ علاقے کے طور پر نہیں دیکھتا ہے اور اسے وسائل کی تلاش کے لیے کسی بین الاقوامی معاہدے کے اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔