تہران میں نئے عہد کا آغاز: کیا مجتبیٰ خامنہ ای ایران کو بحران سے نکال پائیں گے؟


ایران کی مجلسِ خبرگان (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے 8 مارچ 2026 کو باضابطہ طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک مشترکہ امریکی و اسرائیلی فضائی حملے میں شہادت کے تقریباً ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی شخصیت ہمیشہ سے تہران کے سیاسی حلقوں میں ایک پرسرار اہمیت کی حامل رہی ہے۔ 1969 میں مشہد کے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے مجتبیٰ نے اگرچہ کبھی کوئی باضابطہ حکومتی یا عوامی عہدہ نہیں سنبھالا، لیکن وہ پسِ پردہ اپنے والد کے دفتر کے سب سے بااثر مہرے کے طور پر ابھرے۔ قم کے مدارس سے فارغ التحصیل یہ عالمِ دین صرف مذہبی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ ایران عراق جنگ کے دوران محاذِ جنگ پر ان کی موجودگی نے انہیں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے طاقتور جرنیلوں کے قریب کر دیا۔ یہی وہ تعلق ہے جو آج کے مشکل حالات میں ان کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آیا ہے، کیونکہ ایران کے موجودہ دفاعی ڈھانچے میں فوج اور قیادت کا ہم آہنگ ہونا بقا کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔

موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اس وقت ایک ایسی سیکیورٹی صورتحال سے دوچار ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ایک طرف اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم کی لہر ہے تو دوسری طرف معاشی پابندیوں نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے کندھوں پر اب صرف ایک ملک کو چلانے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ اس 'مزاحمتی بلاک' کی قیادت کا بوجھ بھی ہے جو تہران سے لے کر بیروت اور دمشق تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کا انتخاب یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی اسٹیبلشمنٹ فی الحال مغرب کے ساتھ کسی بڑے سمجھوتے یا پالیسی میں نرمی کے حق میں نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسی قیادت چاہتی ہے جو سخت گیر نظریات پر کاربند رہتے ہوئے نظام کا دفاع کر سکے۔

آنے والا وقت مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے کسی کڑے امتحان سے کم نہیں ہوگا۔ انہیں جہاں ایک طرف اپنی مذہبی اور سیاسی اتھارٹی کو منوانا ہوگا، وہاں دوسری طرف ملک کے اندر موجود اصلاح پسند طبقے اور نوجوان نسل کی بے چینی کو بھی مخاطب کرنا ہوگا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مجتبیٰ کے دور میں ایران کی داخلی پالیسیاں مزید سخت ہو سکتی ہیں کیونکہ وہ اپنی طاقت کے استحکام کے لیے سیکیورٹی اداروں پر زیادہ انحصار کریں گے۔ عالمی سطح پر ان کا دورِ اقتدار ایران کی خارجہ پالیسی میں 'جارحانہ دفاع' کی حکمتِ عملی کو مزید تقویت دے سکتا ہے، جس کا مطلب خطے میں جاری کشیدگی کا طویل ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ تاریخ اب یہ دیکھے گی کہ کیا مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی طرح تہران کو طوفانوں سے نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا ایران ایک نئی اور غیر یقینی تبدیلی کی زد میں آ جائے گا۔