ایران، اسرائیل، امریکہ جنگ اور مغربی میڈیا کا منافقانہ رویہ


مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کی بو میں لپٹا ہوا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ہو یا اس کے پس منظر میں موجود امریکہ کی پالیسی—یہ سب کچھ کسی اچانک حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل استعماری تسلسل کی کڑیاں ہیں۔ اور اس پورے منظرنامے میں مغربی میڈیا کا کردار سوالیہ نشان بن چکا ہے؛ وہی میڈیا جو انسانی حقوق کا علَم بردار بن کر دنیا کو درس دیتا ہے، لیکن جب مظلوم کا تعلق مشرق سے ہو تو اس کی زبان گنگ اور آنکھ اندھی ہوجاتی ہے۔

غزہ کے حالیہ واقعات نے دنیا کے سامنے مغرب کے دوہرے معیار کو بے نقاب کردیا۔ غزہ میں بچوں، عورتوں اور نہتے شہریوں کی ہلاکتوں کو “دفاعِ خود” کا نام دیا جاتا ہے، جبکہ کسی بھی مزاحمت کو “دہشت گردی” قرار دے کر عالمی ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وہ بیانیہ ہے جو مغربی میڈیا مسلسل دہراتا ہے—الفاظ کا ایسا کھیل جس میں قاتل مظلوم اور مظلوم مجرم بنا دیا جاتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم سے لے کر آج تک عالمی طاقتوں کی سیاسی و معاشی بنیاد طاقت کے عدم توازن اور وسائل پر قبضے کی پالیسی پر کھڑی نظر آتی ہے۔ نوآبادیاتی نظام نے ایشیا اور افریقہ کو لوٹا، ان کی معیشتوں کو تباہ کیا اور مصنوعی سرحدیں کھینچ کر مستقل تنازعات کی بنیاد رکھ دی۔ آج اگر مشرقِ وسطیٰ آگ میں جل رہا ہے تو اس آگ کے شعلے ماضی کی انہی پالیسیوں سے بلند ہوئے ہیں۔

حالیہ دہائیوں میں اس استعماری ذہنیت کی واضح مثالیں عراق، افغانستان اور لیبیا ہیں۔ کبھی “وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیار” کا بہانہ، کبھی “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کا نعرہ، اور کبھی “جمہوریت کی بحالی” کا دعویٰ—نتیجہ ہر بار ایک ہی نکلا: تباہ حال شہر، بکھری ہوئی معیشتیں، لاکھوں بے گھر انسان اور نسلوں پر محیط عدم استحکام۔ افغانستان میں بیس سالہ جنگ کے بعد اچانک انخلا نے ثابت کردیا کہ اصل ہدف تعمیر نہیں بلکہ جغرافیائی مفادات تھے۔

افریقہ بھی اس استعماری کھیل سے محفوظ نہیں رہا۔ وسائل سے مالا مال خطے آج بھی خانہ جنگیوں اور بیرونی مداخلتوں کا شکار ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں تیل اور جغرافیائی اہمیت نے اسے عالمی طاقتوں کی بساطِ شطرنج بنا دیا ہے۔ فلسطین ایک کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے، اور اب نگاہیں ایران پر مرکوز ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سلسلہ یہیں رکے گا؟ تاریخ کا تجربہ کہتا ہے کہ طاقت کی یہ بھوک آسانی سے ختم نہیں ہوتی۔

مغربی سیاسی و معاشی نظام خود کو انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادیِ اظہار کا علمبردار کہتا ہے، مگر جب یہی اصول اس کے اتحادیوں کے خلاف کھڑے ہوں تو خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے۔ پابندیاں، معاشی دباؤ، میڈیا ٹرائل اور عسکری کارروائیاں—یہ سب اس عالمی نظام کے اوزار بن چکے ہیں۔ انسانی حقوق کا نعرہ اکثر جغرافیائی مفادات کے تابع نظر آتا ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ عالمی ڈھانچہ طاقتور ریاستوں کے مفادات کے گرد گھومتا ہے۔ جب تک عالمی سیاست میں انصاف اور مساوات کو حقیقی بنیاد نہیں بنایا جاتا، تب تک جنگوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ایران ہو یا کوئی اور ملک، اصل مسئلہ ایک ایسا عالمی نظام ہے جو طاقت کو حق پر فوقیت دیتا ہے۔