یہ ویڈیو علم الفرائض کے ایک پیچیدہ اور تاریخی مسئلے کا علمی جائزہ پیش کرتی ہے جس میں قرآن میں بیان کردہ وراثت کے حصوں کی تعبیر اور ان کی عملی تطبیق میں امت کے عمومی فہم اور ایک مختلف فکری موقف کا تقابلی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس گفتگو میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک علمی تجزیہ اجتماعی اجماع سے مختلف نتیجہ اخذ کر سکتا ہے اور تقسیم وراثت کے اصولوں کو قرآن کے عین مطابق سمجھا جا سکتا ہے۔
" آج دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو اخلاق اور مقاصد زندگی کی ، یہ صرف انبیاء کرام اور آسمانی کتب میں ہیں ۔ آج دنیا کی تعمیر نو صرف اس طرح ممکن ہے کہ جو وسائل و زرائع جدید دور میں انسانوں نے پیدا کرلیے ان کی مدد سے اور انبیاء اور آسمانی کتب میں موجود انسانیت کے اخلاق اور مقاصد زندگی کی مدد سے دنیا کی تعمیر نو کی جائے ۔" (مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ )