بینکاک میں منعقدہ حالیہ عالمی معاشی کانفرنس سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ پاکستان کو ترقی پذیر مقروض ممالک کے بین الاقوامی فورم ’باروئرز پلیٹ فارم‘ (Borrowers' Platform) کی گورننگ کونسل کی سربراہی سونپ دی گئی ہے۔ عالمی سفارت کاری اور تکنیکی میدان میں اسے یقیناً پاکستان کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اگر ہم جذباتیت سے ہٹ کر زمینی حقائق کا مروجہ اصولوں کے تحت جائزہ لیں، تو یہ منصب خوشی سے زیادہ ہمارے لیے گہرے فکری اضطراب کا باعث ہونا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صدارت ہماری کسی معاشی خوشحالی کا اعتراف نہیں، بلکہ اس تلخ حقیقت کی تصدیق ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں قرضوں کے دلدل میں دھنسے ہوئے ممالک کی فہرست میں فرنٹ لائن پر کھڑا ہے۔
اگر ہم اقوامِ متحدہ کے ادارے ’یو این سی ٹی اے ڈی‘ (UNCTAD) کے فراہم کردہ حالیہ اعداد و شمار کا گہرائی سے مطالعہ کریں، تو تیسری دنیا کا معاشی نقشہ انتہائی ہولناک نظر آتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دنیا کے 46 ممالک میں ساڑھے تین ارب سے زائد آبادی اس وقت ایسے معاشی جبر کا شکار ہے جہاں حکومتیں اپنے وسائل کا بڑا حصہ انسانی ترقی، یعنی تعلیم اور صحت پر خرچ کرنے کے بجائے بیرونی قرضوں کے سود کی ادائیگی کی نذر کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ موجودہ عالمی مالیاتی نظام غریب اور نام نہاد ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک ایسا ساختی جال بن چکا ہے جس سے نکلنے کی کوئی راہ بظاہر دکھائی نہیں دیتی۔
اب ذرا اس پس منظر میں خود پاکستان کے داخلی معاشی اشاریوں پر نظر ڈالیے۔ اسٹیٹ بینک کے حالیہ ریکارڈ کے مطابق، پاکستان کا مجموعی ملکی و بیرونی قرضہ 82 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ بیرونی قرضوں کا حجم 138 ارب ڈالر کی خطرناک سطح کو چھو رہا ہے۔ ان حالات میں جب ہمارے معاشی مینیجرز یہ بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ "قرضوں کو ترقی کا ذریعہ ہونا چاہیے"، تو دل سوزی کے ساتھ یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کہ کیا گذشتہ چند دہائیوں میں لیے گئے کھربوں ڈالر کے قرضے واقعی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال ہوئے؟ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہم پچھلا سود اتارنے کے لیے نیا قرضہ لینے کے اس چکر (Vicious Cycle) میں پھنس چکے ہیں جہاں معیشت کا سارا زور محض نادہندگی (Default) سے بچنے پر لگا ہوا ہے۔
اس سنگین معاشی ڈھانچے کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ اس کا سارا بوجھ ملک کی غریب اور مڈل کلاس عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے نتیجے میں بالواسطہ ٹیکسوں، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہونے والا مسلسل اضافہ عام آدمی کی کمر توڑ چکا ہے۔ جب ریاست اپنی آمدنی کا خطیر حصہ بیرونی قرض خواہوں کو منتقل کر دے گی، تو سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی عدم دستیابی اور تعلیمی اداروں کی زبوں حالی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے معاشی فیصلوں کی وجہ سے اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل گروی رکھ رہے ہیں۔
ہماری ناقص رائے میں، پاکستان کا اس ’باروئرز پلیٹ فارم‘ کا سربراہ بننا سفارتی سطح پر ایک موقع ضرور فراہم کرتا ہے کہ ہم عالمی فورمز پر مقروض ممالک کی منصفانہ ری اسٹرکچرنگ کے لیے آواز اٹھائیں، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کشکول توڑنے کا عمل کسی بیرونی پلیٹ فارم سے نہیں بلکہ داخلی اصلاحات سے شروع ہوتا ہے۔ جب تک ہم اپنی پیداواری صلاحیت نہیں بڑھاتے، ٹیکس نیٹ میں منصفانہ اصلاحات نہیں لاتے اور اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ نہیں کرتے، تب تک ایسی صدارتیں ہماری معاشی خودمختاری کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وقتی ریلیف اور عارضی معاشی سہاروں پر تکیہ کرنے کے بجائے، اب ٹھوس داخلی اصلاحات اور پائیدار معاشی خودانحصاری کی جانب پیش قدمی کی جائے۔