تکنیکی دنیا میں جب بھی کوئی نئی ایجاد سامنے آتی ہے، وہ اپنے ساتھ سہولت اور خوف کے دو متضاد پہلو لے کر آتی ہے، لیکن امریکی کمپنی 'اینتھروپک' کی جانب سے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے ماڈل 'مائیتھوس' نے اس بحث کو ایک نئی اور خطرناک نہج پر لا کھڑا کیا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں مائیتھوس کو محض ایک سافٹ ویئر نہیں بلکہ ایک "ڈیجیٹل ایٹم بم" کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ مصنوعی ذہانت کی وہ نسل ہے جو خود سیکھنے اور عمل کرنے کی ایسی صلاحیت رکھتی ہے جو اس سے پہلے ناممکن سمجھی جاتی تھی۔ اسے دنیا کے پیچیدہ ترین ڈیٹا، کوڈنگ اور دفاعی نظاموں کو سمجھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، لیکن اصل تشویش مائیتھوس کے ان کاموں سے ہے جو وہ انسانی مداخلت کے بغیر کر گزرتا ہے۔
دفاعی اور تکنیکی ماہرین مائیتھوس کو ایک سنگین خطرہ اس لیے قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ پلک جھپکتے ہی سافٹ ویئر کی وہ خامیاں ڈھونڈ نکالتا ہے جن کا علم خود اس کے خالقوں کو بھی نہیں ہوتا، اور یہی صلاحیت اسے دنیا کے کسی بھی ملک کے پاور گرڈ، بینکنگ سسٹم یا دفاعی نیٹ ورک کو مفلوج کرنے کی طاقت دیتی ہے۔ اس کی ایک حیرت انگیز صلاحیت سمندروں میں ان "خفیہ جہازوں" کو ٹریس کرنا ہے جو اپنا لوکیشن سسٹم بند کر کے غیر قانونی نقل و حمل کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ اسمگلنگ روکنے کے لیے مثبت ہے، لیکن جنگی حالات میں یہ کسی بھی ملک کی بحری برتری کو سیکنڈوں میں ختم کر سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے جغرافیائی سیاست میں آبنائے ہرمز سے بھی بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔









