عالمی معیشت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
عالمی معیشت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

عظیم سرمایہ کاروں کا فلسفہ: دولت کی تخلیق اور مارکیٹ کی نفسیات

 


دنیا کے عظیم ترین سرمایہ کاروں کی حکمت عملیوں اور ان کے مالیاتی فلسفے پر مبنی ایک جامع مضمون درج ذیل ہے:

اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں جن سرمایہ کاروں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی، ان کے پیچھے محض اتفاق یا خوش قسمتی نہیں، بلکہ ایک گہرا مالیاتی فلسفہ اور نظم و ضبط کارفرما تھا۔ اگر ہم دنیا کے دس مشہور سرمایہ کاروں، جیسے وارن بفٹ، بینجمن گراہم، پیٹر لنچ اور جان بوگل کی حکمت عملیوں کا مجموعی جائزہ لیں، تو چند بنیادی اصول ابھر کر سامنے آتے ہیں جو کسی بھی دور میں سرمایہ کاری کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
1. قدر کی تلاش (Value Investing) اور تحفظ کا مارجن
اسٹاک مارکیٹ کے فلسفے کی سب سے مضبوط بنیاد "ویلیو انویسٹنگ" ہے، جس کے بانی بینجمن گراہم تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اسٹاک محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک زندہ کاروبار کا حصہ ہے۔ ان کا مشہور فلسفہ "Margin of Safety" یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی حصص کو اس کی اصل قیمت (Intrinsic Value) سے بہت کم قیمت پر خریدنا چاہیے تاکہ نقصان کا خطرہ کم سے کم ہو۔ وارن بفٹ نے اسی نظریے کو اپنایا اور یہ ثابت کیا کہ "قیمت وہ ہے جو آپ ادا کرتے ہیں، اور قدر وہ ہے جو آپ حاصل کرتے ہیں۔"

آبنائے ہرمز: طاقت کا مظاہرہ یا عالمی توازن کا امتحان


آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست اور بین الاقوامی کشیدگی کے مرکز میں آ کھڑی ہوئی ہے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حساس سمندری گزرگاہ میں جنگی مشقیں کی جائیں گی۔ اسی تناظر میں عالمی خبر رساں اداروں نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ایران نے شپنگ کمپنیوں کو باضابطہ نوٹس جاری کر کے آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیاں متوقع ہیں۔ اگرچہ بعض غیر مصدقہ ذرائع روس اور چین کی ممکنہ شمولیت کا ذکر کر رہے ہیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس کی تاحال کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس خاموشی نے خود اس اعلان کو مزید معنی خیز بنا دیا ہے۔

یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکہ کے تعلقات ایک بار پھر شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ جوہری معاہدے کے تعطل، امریکی پابندیوں، خطے میں امریکی بحری موجودگی اور اسرائیل-غزہ جنگ کے اثرات نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نازک مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے خلیج اور اس کے اطراف میں بحری بیڑوں کی موجودگی ایران کے لیے محض ایک عسکری چیلنج نہیں بلکہ ایک مسلسل سیاسی دباؤ بھی ہے۔ ایسے ماحول میں آبنائے ہرمز میں جنگی مشقوں کا اعلان دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے کے مقابلے کے لیے تیار ہے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو آمادہ نہیں۔

نئے عالمی اتحاد اور امریکی پسپائی


بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بڑی طاقتوں کے فیصلے محض وقتی ردِعمل نہیں ہوتے، بلکہ وہ ماضی کے تجربات اور مستقبل کے خدشات کے امتزاج سے جنم لیتے ہیں۔ آج عالمی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکہ، جو کبھی واحد سپر پاور کے طور پر دنیا کی سمت متعین کرتا تھا، اب اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کر رہا ہے۔ دوسری جانب چین، روس، یورپی یونین، ہندوستان اور متعدد علاقائی قوتیں ایک نئے کثیر قطبی نظام کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔

یہ کہنا سادہ لوحی ہوگا کہ امریکہ عالمی سیاست سے مکمل طور پر دستبردار ہو رہا ہے۔ درحقیقت ماہرین کے مطابق یہ ایک اسٹریٹجک ری ایڈجسٹمنٹ ہے، نہ کہ مکمل انخلا۔

معاشی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ امریکہ کو چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے صنعتی اور تکنیکی اثر و رسوخ کا سامنا ہے۔ اس چیلنج کے پیشِ نظر امریکی پالیسی ساز اب بیرونی مداخلت کے بجائے انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور مینوفیکچرنگ کی بحالی کو قومی سلامتی سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

عالمی نظام کی نئی کروٹ: کیا امریکی بالادستی کا دور ختم ہو چکا ہے؟

اکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں کے اختتام اور تیسرے عشرے کے نصف میں داخل ہونے کے ساتھ ہی، بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اور دانشور اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ عالمی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ نے "واحد سپر پاور" کے طور پر جو حیثیت حاصل کی تھی، اب وہ بتدریج کمزور پڑ رہی ہے اور دنیا ایک زیادہ پیچیدہ، کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔

 اس تبدیلی کی کئی واضح نشانیاں موجود ہیں، یورپی ممالک، خاص طور پر یورپی یونین (EU)، اب امریکی پالیسیوں کی آنکھ بند کر کے پیروی کرنے کے بجائے اپنی اسٹریٹجک خودمختاری (strategic autonomy) پر زور دے رہے ہیں۔ اس کی ایک حالیہ مثال یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ہونے والا تاریخی آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) ہے، جسے "تمام معاہدوں کی ماں" قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ سابق صدر ٹرمپ کی "امریکہ سب سے پہلے" پالیسی کے تحت بھارت پر ٹیرف بڑھا رہا تھا۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ یورپ اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے واشنگٹن سے ہٹ کر فیصلے کرنے پر آمادہ ہے۔

چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ: کینیڈا اور کئی دیگر یورپی ممالک نے چین کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سیاسی روابط کو مضبوط کیا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم کی جانب سے حال ہی میں چین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں پیش رفت کو "زیادہ پیش قیاسی کے قابل" قرار دینا، امریکی دباؤ کے باوجود اقتصادی حقیقت پسندی کو ظاہر کرتا ہے۔ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت اور اس کے عالمی تجارتی حجم نے دنیا کے دیگر ممالک کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ امریکی دائرہ اثر سے باہر نکل کر بھی اہم شراکت داریاں قائم کر سکتے ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم (WEF) 2026: مکالمے کی روح یا عالمی تضادات کی نمائش؟

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں 19 سے 23 جنوری 2026 تک منعقد ہونے والا ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کا 56 واں سالانہ اجلاس بظاہر ایک نہایت خوش آئند نعرے—“مکالمے کی روح” (A Spirit of Dialogue)—کے ساتھ عالمی رہنماؤں، کارپوریٹ ایگزیکٹوز اور پالیسی سازوں کو ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ عالمی حالات میں یہ روح واقعی سانس لے سکتی ہے، یا یہ محض ایک خوش نما تصور بن کر رہ گئی ہے؟

دنیا اس وقت جس شدت کے سیاسی، عسکری اور معاشی خلفشار سے گزر رہی ہے، اس کے تناظر میں ڈیووس کے بلند بانگ مقاصد حقیقت سے زیادہ خواہشات کا عکس دکھائی دیتے ہیں۔

فورم کے پروگرام کو پانچ بڑے عالمی چیلنجوں کے گرد ترتیب دیا گیا، جن میں بلاشبہ انسانی مستقبل سے جڑے بنیادی سوالات شامل تھے۔

جغرافیائی کشیدگی کے باوجود تعاون، معاشی ترقی کے نئے ذرائع، انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیز کا ذمہ دارانہ استعمال، اور ماحولیاتی حدود کے اندر خوشحالی—یہ سب ایسے موضوعات ہیں جن پر عالمی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔

کوانٹم کمپیوٹنگ: سہولت، طاقت اور خدشات کا نیا دور

انسانی تاریخ میں ہر بڑی ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بھی بنایا اور خطرناک بھی۔ بھاپ کے انجن سے لے کر ایٹمی توانائی تک، ہر ایجاد نے ترقی کے ساتھ تباہی کے امکانات بھی پیدا کیے۔ آج کوانٹم کمپیوٹنگ اسی سلسلے کی ایک نئی اور کہیں زیادہ طاقتور کڑی کے طور پر ابھر رہی ہے۔ بظاہر یہ ٹیکنالوجی بیماریوں کے علاج، موسم کی پیش گوئی اور معاشی منصوبہ بندی میں انقلاب لا سکتی ہے، مگر اس کے سائے میں کچھ ایسے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں جو مستقبل کے نظامِ زندگی، بالخصوص مالیاتی نظام اور انسانی پرائیویسی کے لیے سنجیدہ خطرات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

کوانٹم کمپیوٹر کی اصل طاقت اس کی غیر معمولی حسابی رفتار ہے۔ جو کام آج کے سپر کمپیوٹرز کو ہزاروں سال میں ممکن ہیں، وہ کوانٹم مشینیں چند منٹوں یا گھنٹوں میں انجام دے سکتی ہیں۔ یہی طاقت مالیاتی نظام کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ دنیا کا موجودہ بینکاری اور ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام خفیہ کاری (Encryption) پر قائم ہے۔ یہ خفیہ کاری اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ بعض ریاضیاتی مسائل کو حل کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ لیکن کوانٹم الگورتھمز، خصوصاً بڑے نمبرز کو توڑنے کی صلاحیت، اس مفروضے کو متزلزل کر رہے ہیں۔ اگر کوانٹم کمپیوٹرز عام ہو گئے تو بینک اکاؤنٹس، کریڈٹ کارڈز اور حتیٰ کہ ریاستی مالیاتی خزانے بھی غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی معاشی صورتِ حال 2025–2026: استحکام سے پائیدار ترقی تک

( اصلاحات، سرمایہ کاری کے مواقع اور مضبوط معیشت کی جانب سفر)

کسی بھی ملک کی معیشت کی نبض اس کے کاروباری سیکٹرز اور کمپنیوں کی کارکردگی میں دھڑکتی ہے۔ کمپنیاں محض منافع کمانے والے ادارے نہیں ہوتیں؛ وہ روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہیں، ٹیکس ادا کرتی ہیں، اور قومی پیداوار (GDP) میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کی تشکیل، آپریشنل حکمت عملی، اور سرمایہ حاصل کرنے کے طریقے (جیسے شیئرز جاری کرنا اور شیئر ہولڈرز سے سرمایہ حاصل کرنا) معاشی ترقی کے پہیے کو متحرک رکھتے ہیں۔
تاہم، انفرادی کمپنیوں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ، ایک مضبوط معیشت کے لیے حکومت کی جانب سے مؤثر مالیاتی نظم و نسق ضروری ہے۔
مالیاتی پالیسیوں کا کردار
حکومتیں اپنی معیشت کو مالیاتی پالیسی (Fiscal Policy) اور زرِ مالیاتی پالیسی (Monetary Policy) کے ذریعے منظم کرتی ہیں۔ مالیاتی پالیسی حکومت کے محصولات (ٹیکس) اور اخراجات کو کنٹرول کرتی ہے، جبکہ زرِ مالیاتی پالیسی (جس کا انتظام مرکزی بینک کرتا ہے) شرح سود اور پیسوں کی رسد کو سنبھالتی ہے۔ یہ پالیسیاں معیشت میں استحکام لانے، مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

قرآن مجید : جدید معیشت اورتجارت

قرآن کی نظر میں دولت: صرف فتنہ نہیں، بلکہ خیر و فضل بھی ہے ۔

عام مذہبی بیانیے میں دولت کو اکثر روحانیت کے مقابل لا کھڑا کیا جاتا ہے، گویا غربت تقویٰ کی علامت اور خوشحالی دین کے منافی ہو۔ مگر جب ہم قرآن کو براہِ راست پڑھتے ہیں تو ایک بالکل مختلف، متوازن اور حقیقت پسندانہ تصور سامنے آتا ہے۔ قرآن دولت کو نہ صرف انسانی زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت مانتا ہے بلکہ کئی مقامات پر اسے خیر، فضل اور نعمت کے الفاظ سے تعبیر کرتا ہے۔
قرآن مجید اور جدید معیشت وتجارت 

سورۂ جمعہ میں نمازِ جمعہ کے بعد فرمایا جاتا ہے:
“جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو”۔
یہاں “فضل” سے مراد واضح طور پر رزق، تجارت اور معاشی جدوجہد ہے۔ غور کیجیے، قرآن عبادت اور معیشت کو آمنے سامنے نہیں بلکہ ایک ہی نظمِ زندگی کے دو پہلو قرار دیتا ہے۔

اسی طرح سورۂ عادیات میں انسان کی ایک نفسیاتی کمزوری بیان کی گئی ہے:
“اور بے شک وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے”۔
یہاں بھی مال کو گناہ نہیں کہا گیا، بلکہ مال کی محبت میں شدت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ گویا مسئلہ دولت نہیں، بلکہ اس کا دل پر قابض ہو جانا ہے۔

قرآن جگہ جگہ مال کو “خیر” کہتا ہے، جیسا کہ وراثت کے احکام میں:
“اگر وہ کچھ مال (خیر) چھوڑے”۔
یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ قرآن کی نظر میں مال بذاتِ خود شر نہیں بلکہ خیر ہے، بشرطیکہ وہ صحیح طریقے سے حاصل کیا جائے اور درست مصرف میں لایا جائے۔

معاشی جدوجہد کے حوالے سے قرآن کا لہجہ غیر معمولی طور پر مثبت ہے۔ وہ انسان کو زمین میں محنت کرنے، وسائل کو بروئے کار لانے اور رزق تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ تجارت کو ناپسندیدہ مشغلہ نہیں بلکہ ایک فطری اور جائز سرگرمی قرار دیتا ہے، حتیٰ کہ حج جیسے عظیم روحانی عمل کے دوران بھی تجارت کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ دین، زندگی سے فرار نہیں بلکہ زندگی کی تنظیم ہے۔

ٹیکنالوجی کی بلندی اور دولت کا ارتکاز: 2025 کی عالمی معیشت پر چند افراد اور خاندان کا راج

2025 میں عالمی معیشت پر نظر ڈالیں تو ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے: دولت کا ایک بڑا حصہ چند ہاتھوں میں مرتکز ہو چکا ہے۔ بلومبرگ اور فوربز کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، دنیا کے دس امیر ترین افراد کی مجموعی دولت کھربوں ڈالرز میں ہے، اور ان میں سے اکثریت کا تعلق ٹیکنالوجی کی صنعت سے ہے۔ ان افراد کی دولت میں اکثر ان کی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے روزانہ نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

ٹیکنالوجی کا غلبہ:

2025 کی فہرست میں سرفہرست شخصیات میں ٹیکنالوجی سیکٹر کا غلبہ ہے۔ ایلون مسک، جیف بیزوس، مارک زکربرگ، لیری پیج، اور سرگے برن جیسی شخصیات نے اپنی اختراعات اور کاروباری سلطنتوں کے ذریعے بے پناہ دولت کمائی ہے۔ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک ایک بار پھر دنیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز رکھتے ہیں، جن کی دولت کا تخمینہ لگ بھگ 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ ان کی دولت میں اضافہ ٹیسلا کی روبوٹیکسی لانچ کی خبروں اور اسپیس ایکس کی قدر میں اضافے کا نتیجہ ہے۔

پاکستان کے بڑے کاروباری گروپس میں فوجی فاؤنڈیشن سرِفہرست: آخر ان کمپنیوں کی ترقی کا راز کیا ہے؟

تنویر ملک
عہدہ,صحافی
18 اگست 2025

پاکستان میں موجود 40 بڑے کاروباری گروپس کی ایک فہرست تیار کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں معاشی مشکلات کے باوجود ایسی 10 پبلک لسٹڈ کمپنیاں موجود ہیں جن کی مجموعی مالیت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

رواں سال یومِ آزادی کے موقع پر اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ (ای پی بی ڈی) نامی ایک تھنک ٹینک نے ملک کا پہلا ویلتھ پرسیپشن انڈیکس 2025 جاری کیا۔ اس انڈیکس میں پاکستان کے سرکاری و نجی شعبے کے 40 بڑے کاروباری گروپس کی درجہ بندی کی گئی ہے جن میں ملک کے متوقع ڈالروں میں ارب پتی کاروباری گروپ بھی شامل ہیں۔

ای پی بی ڈی کی رپورٹ کے مطابق انڈیکس میں 20 بڑے پبلک لسٹڈ کارپوریٹ گروپس اور 20 نمایاں پرائیویٹ کاروباری گروپس کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ گروپ بینکاری، سیمنٹ، کھاد، مینوفیکچرنگ، رئیل سٹیٹ، ایف ایم سی جی، آئی ٹی اور میڈیا جیسے اہم شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

پاکستان میں تھنک ٹینک کی جانب سے رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ برسوں کے دوران ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

غیر ملکی زر مبادلہ یعنی ڈالر کی کمی، صنعتی و زرعی پیداوار میں گراوٹ اور بجلی و گیس کی زیادہ قیمتوں کی وجہ سے ملک کا صنعتی شعبہ مشکلات کا شکار رہا۔ جبکہ رواں سال مئی کے دوران عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے سات ارب ڈالر قرض پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر قسط کی منظوری دی تھی۔

حکومت کی جانب حالیہ عرصے میں معاشی میدان میں بہتری کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم گذشتہ تین سالوں میں اوسطاً ملکی معاشی ترقی کی شرح 1.5 فیصد کے لگ بھگ رہی ہے۔

سٹاک، میوچوئل فنڈ یا سونا: وہ سرمایہ کاری جو پاکستان میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا خواب ممکن بنا سکتی ہے

عمیر سلیمی
عہدہ,بی بی سی اردو

عارف حبیب حال ہی میں اپنے کنسورشیئم کی طرف سے پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے خریدنے کے بعد شہ سرخیوں میں آئے ہیں مگر ان کے بقول ان کے کیریئر کی ابتدا سکول میں میٹرک کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران 17 سال کی عمر میں ایک بروکر کے طور پر ہوئی تھی جب ان کی تنخواہ صرف 60 روپے تھی۔

وہ مختلف انٹرویوز میں 1971 کے اس زمانے کو یاد کرتے ہوئے اپنے بڑے بھائی کی ایک بات دہراتے ہیں کہ ’سٹاک مارکیٹ کبھی اوپر جاتی ہے اور کبھی نیچے۔ سب سے بڑا فائدہ تو بروکر کو ہوتا ہے۔‘

ان کی کمپنی عارف حبیب لمیٹڈ پاکستان کے بڑے بروکریج ہاؤسز میں سے ایک ہے مگر اس گروپ کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری کئی شعبوں میں پھیلی ہوئی ہے، جیسے سیمنٹ، فرٹیلائزر، سٹیل، ریئل اسٹیٹ وغیرہ۔

اب جب کہ دسمبر 2025 میں 135 ارب ڈالر کی کامیاب بولی لگا کر عارف حبیب کنسورشیئم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص خرید لیے ہیں تو یہ سوال بارہا پوچھا جا رہا ہے کہ آیا یہ سرمایہ کاروں اور حکومت پاکستان دونوں کے لیے ایک اچھی ڈیل ہے۔

خود عارف حبیب اکثر سرمایہ کاری سے متعلق اپنے فلسفے کو کرکٹ کی مثالوں سے سمجھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جو بال سمجھ نہ آئے تو لیو اِٹ۔ اگر سمجھ آئے تو ہِٹ اِٹ۔‘2025 میں پاکستانی سوشل میڈیا پر سرمایہ کاری سے متعلق ویڈیوز کی بھرمار ہے اور اسی دوران ایکس اور ریڈاِٹ پر ایسی کمیونٹیز مقبول ہونے لگی ہیں جو معاشی آزادی اور قبل آز وقت ریٹائرمنٹ سے متعلق معلومات شیئر کرتی ہیں۔

یہ عالمی سطح پر ایک جانا پہچانا نظریہ ہے جو کہتا ہے کہ آپ ہر ماہ اپنی تنخواہ سے زیادہ سے زیادہ پیسے بچائیں، اس سے سرمایہ کاری کریں اور 15، 20 سال میں مالیاتی آزادی حاصل کر کے ریٹائر ہو جائیں۔