ہمارے بعض معاصر دانشور اکثر اس غلط فہمی کا شکار نظر آتے ہیں کہ فرد کی طرح ریاست کا بھی کوئی دین و ایمان ہوتا ہے، اسے بھی باقاعدہ مشرف باسلام ہونا چاہیے اور اس کا بھی کوئی خاص مذہبی حلیہ یا ساخت ہونی ضروری ہے۔ یہ تصور جدید عمرانیات اور اسلامی تعلیمات کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاست کوئی جاندار یا ماورائی وجود نہیں ہے، بلکہ یہ عام انسانی ایجادات کی طرح تاریخ کے طویل تعامل، ارتقا اور انسانی ضرورتوں کے نتیجے میں وجود میں آنے والا ایک انتظامی ڈھانچہ ہے۔ یہ ارتقائی سلسلہ جامد نہیں ہے، بلکہ انسانی تجربات کی روشنی میں قیامت تک اسی طرح جاری و ساری رہے گا۔
جب ہم ریاست کو ایک میکانکی یا انتظامی آلہ تسلیم کر لیتے ہیں، تو اس بحث کا رخ خودبخود شکل و صورت سے ہٹ کر اس کے چلانے والوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ ریاست کے بارے میں سب سے اہم اور کلیدی چیز اس کے ڈھانچے نہیں، بلکہ 'اربابِ ریاست' یعنی وہ افراد ہیں جو اس کے نظم و نسق کو چلاتے ہیں۔ یہی وہ گروہ ہے جس کو قرآنِ کریم نے کبھی 'اولو الامر' (صاحبانِ امر) قرار دیا ہے اور کبھی 'اولو الالباب' (اهلِ عقل و دانش) کہہ کر پکارا ہے۔ ریاست کا حقیقی تجزیہ، اس کی اچھائی یا برائی کا فیصلہ اور اس کی اصل حیثیت کا دارومدار اسی انسانی عنصر پر ہونا چاہیے۔
قرآنِ کریم کا تصورِ حکومت و ریاست کسی خاص ظاہری حلیے، مروجہ ڈھانچے یا بے جان جغرافیے کو اسلام کا نام نہیں دیتا۔ قرآن مجید کا پورا استدلالی ڈھانچہ اصولی، اخلاقی اور مقصدی ہے۔ قرآن کے مطابق حکومت اور اقتدار کوئی پیدائشی یا ماورائی حق نہیں، بلکہ ایک "امانت" ہے، جیسا کہ سورہ النساء میں ارشاد ہے: ’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل لوگوں کے سپرد کرو‘‘ (۴:۵۸)۔ یہاں اہل لوگوں سے مراد وہی 'اولو الالباب' اور بصیرت افروز قیادت ہے جو امورِ مملکت چلانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
ریاست کے اسی تاریخی، ارتقائی اور انتظامی نوعیت کی سب سے بہترین عملی مثال ہمیں دورِ خلافتِ راشدہ، بالخصوص حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں ملتی ہے۔ آپؓ نے ریاست کو کسی جامد سانچے میں ڈھالنے کے بجائے مروجہ ساسانی (ایرانی) اور بازنطینی (رومی) سلطنتوں کے بہترین انتظامی طریقوں کا گہرا مطالعہ کیا اور مسلمانوں کی ضرورت کے مطابق انہیں اختیار کیا۔ مثال کے طور پر:دیوانِ خراج اور دیوانِ جند (محکمہ مال اور فوج): یہ محکمے خالصتاً ایرانی طرزِ حکومت سے مستعار لیے گئے تھے۔
ہجری کیلنڈر اور پولیس کا نظام: یہ وہ انتظامی اختراعات تھیں جو عہدِ رسالت میں اس شکل میں موجود نہ تھیں، بلکہ نئے حالات کے تقاضوں کے تحت وضع کی گئیں۔
بیت المال کا مستقل قیام اور مردم شماری: ریاست کو ایک مستحکم فلاحی ڈھانچہ دینے کے لیے یہ اقدامات تاریخ کے تعامل اور انسانی ضرورت کے تحت اٹھائے گئے۔
اگر ریاست کا کوئی طے شدہ مذہبی حلیہ یا آسمانی ڈھانچہ ہوتا، تو خلفائے راشدین کبھی غیر مسلم سلطنتوں کے انتظامی ماڈلز سے استفادہ نہ کرتے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ریاست ایک انتظامی اوزار ہے، جس کا ڈھانچہ حالات کے مطابق بدل سکتا ہے، مگر اس کے مقاصد (عدل اور امانت) مستقل رہنے چاہئیں۔
قرآن مجید میں بھی جہاں نظامِ کار کا ذکر آیا ہے، وہاں فیصلہ سازی کے لیے "شوریٰ" (باہمی مشاورت) کو بنیاد بنایا گیا ہے: ’’اور ان کا نظامِ کار آپس کے مشورے پر مبنی ہوتا ہے‘‘ (الشوریٰ:۳۸)۔ مشاورت کا یہ اصول بذاتِ خود یہ ثابت کرتا ہے کہ حالات، زمانے اور تاریخ کے تعامل کے ساتھ ریاست کے انتظامی ڈھانچے اور آئینی اسلوب بدلتے رہیں گے، کیونکہ مشاورت کا طریقہ کار ہر دور کی انسانی ضرورتوں کے مطابق ارتقا پذیر رہتا ہے۔
چنانچہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ریاست کے لایعنی مذہبی حلیوں کے مباحث سے نکل کر اس کے اصل جوہر پر توجہ دیں۔ ریاست کا تجزیہ اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ اس کے اولو الامر اور اولو الالباب قرآنی اصولوں کے مطابق اپنے فرائضِ منصبی کس حد تک امانت، دیانت اور عدل کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔ اصل ہدف ریاست کا روایتی اسلامائزیشن نہیں، بلکہ ریاست کو چلانے والے انسانوں کی فکری و اخلاقی تربیت ہونا چاہیے، کیونکہ تاریخ کا یہی وہ تعامل ہے جو معاشروں کو استحکام اور حقیقی بقا عطا کرتا ہے۔