معاشی نظام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
معاشی نظام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

عظیم سرمایہ کاروں کا فلسفہ: دولت کی تخلیق اور مارکیٹ کی نفسیات

 


دنیا کے عظیم ترین سرمایہ کاروں کی حکمت عملیوں اور ان کے مالیاتی فلسفے پر مبنی ایک جامع مضمون درج ذیل ہے:

اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں جن سرمایہ کاروں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی، ان کے پیچھے محض اتفاق یا خوش قسمتی نہیں، بلکہ ایک گہرا مالیاتی فلسفہ اور نظم و ضبط کارفرما تھا۔ اگر ہم دنیا کے دس مشہور سرمایہ کاروں، جیسے وارن بفٹ، بینجمن گراہم، پیٹر لنچ اور جان بوگل کی حکمت عملیوں کا مجموعی جائزہ لیں، تو چند بنیادی اصول ابھر کر سامنے آتے ہیں جو کسی بھی دور میں سرمایہ کاری کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
1. قدر کی تلاش (Value Investing) اور تحفظ کا مارجن
اسٹاک مارکیٹ کے فلسفے کی سب سے مضبوط بنیاد "ویلیو انویسٹنگ" ہے، جس کے بانی بینجمن گراہم تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اسٹاک محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک زندہ کاروبار کا حصہ ہے۔ ان کا مشہور فلسفہ "Margin of Safety" یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی حصص کو اس کی اصل قیمت (Intrinsic Value) سے بہت کم قیمت پر خریدنا چاہیے تاکہ نقصان کا خطرہ کم سے کم ہو۔ وارن بفٹ نے اسی نظریے کو اپنایا اور یہ ثابت کیا کہ "قیمت وہ ہے جو آپ ادا کرتے ہیں، اور قدر وہ ہے جو آپ حاصل کرتے ہیں۔"

پاکستان کی معاشی صورتِ حال 2025–2026: استحکام سے پائیدار ترقی تک

( اصلاحات، سرمایہ کاری کے مواقع اور مضبوط معیشت کی جانب سفر)

کسی بھی ملک کی معیشت کی نبض اس کے کاروباری سیکٹرز اور کمپنیوں کی کارکردگی میں دھڑکتی ہے۔ کمپنیاں محض منافع کمانے والے ادارے نہیں ہوتیں؛ وہ روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہیں، ٹیکس ادا کرتی ہیں، اور قومی پیداوار (GDP) میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کی تشکیل، آپریشنل حکمت عملی، اور سرمایہ حاصل کرنے کے طریقے (جیسے شیئرز جاری کرنا اور شیئر ہولڈرز سے سرمایہ حاصل کرنا) معاشی ترقی کے پہیے کو متحرک رکھتے ہیں۔
تاہم، انفرادی کمپنیوں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ، ایک مضبوط معیشت کے لیے حکومت کی جانب سے مؤثر مالیاتی نظم و نسق ضروری ہے۔
مالیاتی پالیسیوں کا کردار
حکومتیں اپنی معیشت کو مالیاتی پالیسی (Fiscal Policy) اور زرِ مالیاتی پالیسی (Monetary Policy) کے ذریعے منظم کرتی ہیں۔ مالیاتی پالیسی حکومت کے محصولات (ٹیکس) اور اخراجات کو کنٹرول کرتی ہے، جبکہ زرِ مالیاتی پالیسی (جس کا انتظام مرکزی بینک کرتا ہے) شرح سود اور پیسوں کی رسد کو سنبھالتی ہے۔ یہ پالیسیاں معیشت میں استحکام لانے، مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

قرآن مجید : جدید معیشت اورتجارت

قرآن کی نظر میں دولت: صرف فتنہ نہیں، بلکہ خیر و فضل بھی ہے ۔

عام مذہبی بیانیے میں دولت کو اکثر روحانیت کے مقابل لا کھڑا کیا جاتا ہے، گویا غربت تقویٰ کی علامت اور خوشحالی دین کے منافی ہو۔ مگر جب ہم قرآن کو براہِ راست پڑھتے ہیں تو ایک بالکل مختلف، متوازن اور حقیقت پسندانہ تصور سامنے آتا ہے۔ قرآن دولت کو نہ صرف انسانی زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت مانتا ہے بلکہ کئی مقامات پر اسے خیر، فضل اور نعمت کے الفاظ سے تعبیر کرتا ہے۔
قرآن مجید اور جدید معیشت وتجارت 

سورۂ جمعہ میں نمازِ جمعہ کے بعد فرمایا جاتا ہے:
“جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو”۔
یہاں “فضل” سے مراد واضح طور پر رزق، تجارت اور معاشی جدوجہد ہے۔ غور کیجیے، قرآن عبادت اور معیشت کو آمنے سامنے نہیں بلکہ ایک ہی نظمِ زندگی کے دو پہلو قرار دیتا ہے۔

اسی طرح سورۂ عادیات میں انسان کی ایک نفسیاتی کمزوری بیان کی گئی ہے:
“اور بے شک وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے”۔
یہاں بھی مال کو گناہ نہیں کہا گیا، بلکہ مال کی محبت میں شدت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ گویا مسئلہ دولت نہیں، بلکہ اس کا دل پر قابض ہو جانا ہے۔

قرآن جگہ جگہ مال کو “خیر” کہتا ہے، جیسا کہ وراثت کے احکام میں:
“اگر وہ کچھ مال (خیر) چھوڑے”۔
یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ قرآن کی نظر میں مال بذاتِ خود شر نہیں بلکہ خیر ہے، بشرطیکہ وہ صحیح طریقے سے حاصل کیا جائے اور درست مصرف میں لایا جائے۔

معاشی جدوجہد کے حوالے سے قرآن کا لہجہ غیر معمولی طور پر مثبت ہے۔ وہ انسان کو زمین میں محنت کرنے، وسائل کو بروئے کار لانے اور رزق تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ تجارت کو ناپسندیدہ مشغلہ نہیں بلکہ ایک فطری اور جائز سرگرمی قرار دیتا ہے، حتیٰ کہ حج جیسے عظیم روحانی عمل کے دوران بھی تجارت کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ دین، زندگی سے فرار نہیں بلکہ زندگی کی تنظیم ہے۔

وارن بفٹ: اپنے شیئر ہولڈز کو 61 لاکھ فیصد منافع دلانے والے ’دنیا کے بڑے سرمایہ کار‘ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

وارن بفٹ
فنانس کی دنیا کے ’لیجنڈ‘ وارن بفٹ 95 سال کی عمر میں ریٹائر ہو گئے ہیں۔

یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس نے صرف 11 سال کی عمر میں پہلی بار سرمایہ کاری کی اور 13 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے تھے۔

وارن بفٹ گذشتہ چھ دہائیوں تک اپنی کمپنی ’برکشائر ہیتھاوے‘ کے سی ای او رہے۔ اور اس دورانیے میں اُن کی اِس کمپنی کے شیئر ہولڈرز نے لگ بھگ 61 لاکھ فیصد منافع کمایا ہے۔

ریاست ’اوماہا‘ میں قائم اپنی کمپنی کے ذریعے انھوں نے امریکہ سمیت دنیا بھر کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی اور آج کی تاریخ میں اس کمپنی کی قدر 10 کھرب ڈالر ہے جبکہ بفٹ کو دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار کیا جاتا ہے۔
فاربز میگزین کی فہرست کے مطابق وہ سنہ 2025 میں دنیا کے چھٹے امیر ترین شخص ہیں جن کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 154 ارب ڈالر بنتی ہے۔

دنیا کے مشہور سرمایہ کاروں کے تجربات اور تجاویز مالیاتی کامیابی کا درست راستہ

سرمایہ کاری محض اعداد و شمار، گراف یا وقتی منافع کا کھیل نہیں بلکہ یہ دراصل سوچ، صبر، نظم و ضبط اور طویل المدتی وژن کا امتحان ہے۔ دنیا کے عظیم سرمایہ کاروں کی زندگیوں اور تجربات کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی مالیاتی کامیابی کسی خفیہ نسخے یا پیچیدہ ریاضیاتی فارمولے کا نتیجہ نہیں، بلکہ چند سادہ مگر مضبوط اصولوں پر مستقل مزاجی سے عمل کرنے کا ثمر ہے۔

وارن بفیٹ (Warren Buffett)، رے ڈالیو (Ray Dalio) اور جان بوگل (John Bogle) جیسے عالمی شہرت یافتہ سرمایہ کار مختلف پس منظر اور حکمتِ عملی کے حامل ہونے کے باوجود کچھ بنیادی اصولوں پر متفق نظر آتے ہیں۔ ان کے تجربات نئے سرمایہ کاروں کے لیے رہنمائی کا چراغ اور تجربہ کار سرمایہ کاروں کے لیے فکری تجدید کا ذریعہ ہیں۔

وارن بفیٹ: قدر، صبر اور فہمِ کاروبار کا امتزاج

وارن بفیٹ، جنہیں دنیا “Oracle of Omaha” کے نام سے جانتی ہے، قدر کی سرمایہ کاری (Value Investing) کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ ان کا فلسفہ اس تصور پر قائم ہے کہ اسٹاک دراصل کسی کاروبار میں شراکت داری ہے، محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں۔
1. طویل مدتی سوچ (Long-Term Vision)

بفیٹ کا مشہور قول ہے:

پاکستان کے امیر ترین خاندان: 2025 کا معاشی منظرنامہ اور طبقاتی خلیج

پاکستان میں معاشی منظرنامہ 2025 ء کو دیکھتے ہوئے، ایک اہم پہلو جو مسلسل زیر بحث ہے وہ دولت کی تقسیم اور طبقاتی خلیج ہے۔ مختلف معاشی رپورٹس اور تجزیے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کی معاشی ترقی کے ثمرات تمام طبقات تک یکساں طور پر نہیں پہنچ رہے، بلکہ دولت کا ارتکاز چند مخصوص، طاقتور کاروباری خاندانوں کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔
2025  کے معاشی اشاریوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معیشت کے کچھ شعبوں میں نمو دیکھنے میں آئی ہے، لیکن اس نمو کا فائدہ معاشرے کے ایک محدود حصے تک ہی پہنچا ہے۔ اس وقت ملک کی معاشی نبض پر جن افراد اور گروہوں کا کنٹرول نمایاں ہے، ان میں سر انور پرویز (بیسٹ وے گروپ)، میاں محمد منشا (نشاط گروپ)، اور یونس برادرز جیسے نام سرفہرست ہیں۔ یہ گروہ ٹیکسٹائل، سیمنٹ، بینکنگ، اور توانائی جیسے بنیادی شعبوں پر حاوی ہیں۔

دولت کا ارتکاز اور استحکام:

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 2025 کی فہرستوں میں کوئی خاص "نئے" نام شامل نہیں ہوئے ہیں۔ جو لوگ امیر تھے، وہ مزید امیر ہوئے ہیں۔ پرانے اور مسلسل نمایاں رہنے والے خاندانوں میں حبیب فیملی، داؤد فیملی اور سید بابر علی (پیکجز گروپ) شامل ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی نژاد ارب پتی، جیسے شاہد خان (فلیکس-این-گیٹ)، بھی عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مستحکم کیے ہوئے ہیں۔

سونا، بٹ کوئن اور اصل قدر کا سوال

آج کی دنیا ایک حیران کن دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف قدیم معاشی اقدار کا تسلسل ہے، جن میں سونا، چاندی اور زمین جیسے مادی اثاثے ہمیشہ سے "قدر" کی علامت رہے ہیں۔ دوسری طرف ڈیجیٹل دنیا ایک ایسی نئی کرنسی متعارف کرا رہی ہے جسے نہ چھوا جا سکتا ہے، نہ ذخیرہ کیا جا سکتا ہے، مگر پھر بھی اس کی قیمت آسمان چھو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں اصل "قدر" کا پیمانہ کیا رہا ہے؟ اور اسلام اس سوال کا کیا جواب دیتا ہے؟

قرآن مجید ہمیں اس دنیاوی قدر کی ایک عارضی اور محدود حیثیت یاد دلاتا ہے:

"مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں، اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک بہتر اجر اور امید کا ذریعہ ہیں۔" (الکہف: 46)

یہ آیت ہمیں صاف بتاتی ہے کہ اصل قدر وہ نہیں جو بازار میں بکتی ہے، بلکہ وہ ہے جو دلوں کو جوڑتی، روحوں کو سنوارتی اور انسانیت کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ سونا ہو یا بٹ کوئن، اگر وہ انسان کی فلاح کا ذریعہ نہیں تو وہ محض ایک فانی زینت ہے۔

اسلامی تاریخ میں چاندی (درہم) اور سونا (دینار) کو کرنسی کی شکل میں اپنایا گیا، مگر قرآن نے ان کی محض ذخیرہ اندوزی پر شدید وعید سنائی:

"اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔" (التوبہ: 34)

یہ تنبیہ ہمیں بتاتی ہے کہ دولت خود ایک امتحان ہے، نہ کہ مقصد۔ آج جب بٹ کوئن کو "ڈیجیٹل سونا" کہا جا رہا ہے، تو یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ کیا انسان اب بھی دولت کو فقط ذخیرہ کرنے کی مشین بنا رہے گا، یا اسے فلاحِ عامہ میں استعمال کرنے والا شعور بھی پیدا کرے گا؟

تنخواہ دار طبقے کے نئے مجوزہ سلیبز کیا ہیں؟

رواں مالی سال کی طرح آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی کُل ٹیکس سلیب چھ ہی ہیں تاہم چار سلیبز اور ان کے ریٹس میں تبدیلی کی گئی ہے۔ نئے مجوزہ سلیبز کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
پہلا سلیب: تنخواہ چھ لاکھ روپے سالانہ
دوسراسلیب: تنخواہ چھ لاکھ سے 12 لاکھ سالانہ
تیسرا سلیب: تنخواہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 12-24 لاکھ تھا)
چوتھا سلیب: تنخواہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 24-36 لاکھ تھا)
پانچواں سلیب: تنخواہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 36-60 لاکھ تھا)
چھٹا سلیب: تنخواہ 41 لاکھ سے زیادہ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 60 لاکھ سے زیادہ تنخواہ والے افراد کے لیے تھا)

واضح رہے کہ 30 جون تک رواں مالی سال ہے جبکہ یکم جولائی 2024 سے اگلا مالی سال شروع ہو گا۔

تنخواہوں پر ٹیکس کے نئے ریٹس کیا ہیں؟


تنخواہوں کے نئے سلیب کا جائزہ لینے کے بعد آئیے جانتے ہیں کہ نئے ریٹس کیا ہیں۔ اس سال پانچ سلیبز کے ریٹس میں تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔

پہلے سلیب میں ایسے افراد شامل ہیں جن کی تنخواہ چھ لاکھ روپے سالانہ ہے اور ان پر کوئی انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا.

دوسرا سلیب ایسے افراد کا ہے، جن کی سالانہ آمدن چھ لاکھ سے زیادہ مگر 12 لاکھ تک ہے۔ ایسے افراد کو چھ لاکھ سے زیادہ آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس دینا ہو گا۔ (یہ رواں مالی سال میں ڈھائی فیصد تھا)

تیسرا سلیب سالانہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ کی آمدن والے افراد کے لیے ہے۔ ان کے لیے 30 ہزار فکسڈ ٹیکس ہو گا جبکہ اس کے علاوہ 12 لاکھ سے زائد کی آمدن پر 15 فیصد ٹیکس لگے گا۔ (یہ رواں مالی سال میں 15 ہزار فکسڈ اور 12 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 12.5 فیصد تھا)

چوتھا سلیب ان افراد کے لیے ہے جن کی سالانہ تنخواہ 22 لاکھ سے زیادہ اور 32 لاکھ تک ہے۔ انھیں سالانہ ایک لاکھ 80 ہزار فکسڈ اور 22 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 25 فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ (یہ رواں مالی سال میں ایک لاکھ 65 ہزار فکسڈ اور 24 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 22.5 فیصد تھا)

پاکستان سٹاک مارکیٹ: بازارِ حصص کیا ہے اور نوجوان یہاں سرمایہ کاری کیسے کر سکتے ہیں؟

محمد صہیب
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
19 اکتوبر 2020

یہ کہانی ایک ایسے بازار کی ہے جہاں بقول مقبول امریکی کاروباری شخصیت وارن بفیٹ ’بے صبروں سے پیسہ صبر کرنے والوں کو منتقل ہوتا ہے‘ اور جہاں ایک بروکر کے مطابق آپ ایک ہی دن میں آسمان کی بلندیاں چھونے کے بعد زمین پر پٹخے جا سکتے ہیں۔

26 سالہ کراچی کے رہائشی اور حال ہی میں فارغ التحصیل جہانزیب طاہر کو ٹینس کورٹ میں اس بازار سے متعلق آگاہی ملی۔

اس وقت ان کی تنخواہ محض 18 ہزار روپے تھی۔ انھوں نے ہچکچاتے ہوئے بہت چھوٹے پیمانے پر یہاں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ تو کر لیا لیکن آج وہ اس سرمایہ کاری کو ’منافع بخش‘ قرار دیتے ہیں۔

یہ کیسا بازار ہے جہاں لالچ اور جلد بازی کے فیصلوں کے نتیجے میں آخر نقصان ہی ہوتا ہے لیکن سٹے بازی کی باز گشت بھی سنائی دیتی ہے، جہاں صبر کی اہمیت سب سے زیادہ بتائی جاتی ہے لیکن متوسط طبقے اور معاشی امور سے نابلد افراد کے لیے جگہ بنانا بھی انتہائی مشکل ہے۔

یہاں بات بازارِ حصص یعنی پاکستان سٹاک مارکیٹ کی ہو رہی ہے۔

پاکستان میں رواں برس پیدا ہونے والے معاشی بحران کے باوجود سٹاک مارکیٹ کی مثبت کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے اور حکومت کی جانب سے اس میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے۔

عموماً پاکستان میں جب ایک نوجوان اپنی پہلی نوکری کا آغاز کرتا ہے تو اسے بچت کرنے اور سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے مختلف مشورے دیے جاتے ہیں۔

لیکن اکثر بازارِ حصص میں سرمایہ کاری کرنا ان مشوروں میں شامل نہیں ہوتا۔ تو بازارِ حصص ہے کیا اور یہاں نوجوان کیسے سرمایہ کاری کر سکتے ہیں؟