آج دنیا بھر میں جمہوریت کا راگ الاپا جاتا ہے، پارلیمنٹ کی بالادستی کے دعوے کیے جاتے ہیں اور حکمرانوں کے عوام دوست ہونے کے ڈھونگ رچائے جاتے ہیں۔ لیکن اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہیڈ آف سٹیٹ کے لہجے سے 'انا' اور 'تکبر' کی جو بو آتی ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ موجودہ دور کے زوال پذیر سیاسی نظام اور آمرانہ طرزِ فکر کے ماحول میں، تاریخِ اسلام کا ایک روشن ورق یاد آتا ہے، جو رہتی دنیا تک کے حکمرانوں کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔
یہ دورِ فاروقی کا واقعہ ہے، جب عراق اور شام کی عظیم الشان سلطنتیں اسلام کے زیرِ نگیں آ چکی تھیں۔ مالِ غنیمت اور زمینوں کی تقسیم کا ایک ایسا پیچیدہ معاشی مسئلہ سامنے آیا جس پر صحابہ کرام کے مابین شدید اختلافِ رائے پیدا ہو گیا۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، جو کہ ایک وسیع و عریض سلطنت کے تنِ تنہا مالک تھے اور جن کے رعب سے قیصر و کسریٰ کی دیواریں ہلتی تھیں، انہوں نے اس بحران کو حل کرنے کے لیے نہ تو کوئی صدارتی آرڈیننس جاری کیا اور نہ ہی اپنی مرضی مسلط کی۔ بلکہ انہوں نے مدینہ منورہ میں انصار و مہاجرین کی ایک پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ) بلائی۔
اس پارلیمنٹ کے آغاز میں خلیفہ وقت منبر پر کھڑے ہوتے ہیں اور ایک ایسا جملہ ارشاد فرماتے ہیں جو آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا:
"إِنِّي لَمْ أُزْعِجْكُمْ إِلَّا لِأَنْ تَشْتَرِكُوا فِي أَمَانَتِي فِيمَا حُمِّلْتُ مِنْ أُمُورِكُمْ، فَإِنِّي وَاحِدٌ كَأَحَدِكُمْ، وَلَسْتُ أُرِيدُ أَنْ تَتَّبِعُوا هَذَا الَّذِي هُوَ هَوَايَ۔" (*)
"میں نے تمہیں کسی اور وجہ سے زحمت نہیں دی، بلکہ صرف اس لیے جمع کیا ہے کہ تمہارے معاملات کی جو امانت مجھ پر ڈالی گئی ہے، تم اس میں میرے شریک بنو۔ میں بھی تمہاری طرح کا ہی ایک عام انسان ہوں۔ اور میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ تم میری اس بات کی پیروی کرو جو میری نفسانی خواہش ہو۔"
سبحان اللہ! اس ایک جملے میں سیاسی اخلاقیات کا پورا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ "میں بھی تمہاری طرح کا ہی ایک عام انسان ہوں"۔ یہ ہے وہ زوالِ انا جس نے اسلام کے نظامِ حکومت کو دنیا کے تمام دساتیر سے ممتاز کر دیا۔ خلیفہ وقت خود کو عقلِ کل نہیں سمجھ رہا، بلکہ اپنی رعایا کو سلطنت کے امور اور امانت میں شریکِ کار بنا رہا ہے۔ وہ واضح کر رہے ہیں کہ حکمران کوئی مافوق الفطرت مخلوق نہیں ہوتا، بلکہ وہ عوامی امانت کا ایک چوکیدار ہوتا ہے۔
اس خطبے کا اگلا حصہ اور بھی ایمان افروز ہے۔ آپؓ نے صحابہ سے فرمایا کہ میں نے اس زمین کے معاملے پر کتاب اللہ (قرآن مجید) کا مطالعہ کیا، تو مجھے سورہ الحشر کی آیات ملیں، جن میں اللہ پاک نے فتح شدہ اموال میں صرف موجودہ نسل کا نہیں، بلکہ "والذین جآؤ من بعدھم" (یعنی آنے والی نسلوں) کا بھی حق رکھا ہے۔ حضرت عمرؓ کا یہ استدلال اتنا جاندار اور مخلصانہ تھا کہ مجلس میں موجود تمام صحابہ، جو کل تک اختلاف کر رہے تھے، پکار اٹھے: "آپ کی رائے بالکل درست ہے"۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اسلام میں "شوریٰ" (Consultation) محض ایک رسمی کارروائی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ حکومت کی اصل روح ہے۔ جب حکمران اپنی انا کو پسِ پشت ڈال کر، خلوصِ نیت کے ساتھ اہلٔ علم اور عوام کے نمائندوں سے مشورہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس مشاورت میں وہ برکت اور بصیرت پیدا فرما دیتا ہے جس سے بڑے سے بڑا بحران بھی چند لمحوں میں حل ہو جاتا ہے۔ کاش کہ آج کے مسلم حکمران بھی فاروقی طرزِ سیاست کا ادراک کر پاتے!
یہ بھی ملاحظہ کریں
عمر سیریز (عرب ٹیلی ویژن ڈراما)
---------
حواشی :
(*) ۔ الخراج: أبو يوسف يعقوب بن إبراهيم، المطبعة السلفية: القاهرة، ط (٣) ١٣٨٢ هـ، ج ١، ص ٢٦، برقم ٦٧۲۔
او الأوسط: ابن المنذر، ج ١١، ص ٣٤، برقم ٦٤٢٣.
او الأموال: أبو عبيد، ج ١، ص ٧٤ - ٧٥، برقم ١٥٢ - ١٥٣.