توہین رسالت کا مسئلہ - مولانا عمار ناصر

ماہنامہ اشراق ، مارچ 2011

( اس میں  توہین رسالت کے بارے میں  مختلف ادوار کے فقہائے کرام و  ائمہ مجتہدین کے نقطۂ نظر کا جائزہ لیا گیا )

چند اہم سوالات کا جائزہ

بنیادی سوالات

توہین رسالت اور اس کی سزا کے مسئلے نے ایک بار پھر ذرائع ابلاغ میں ہونے والی بحثوں میں خصوصی اہمیت حاصل کر لی ہے اور مختلف طبقہ ہاے فکر اس کے متنوع پہلووں پر اپنے اپنے نقطہ نظر کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں جو مختلف سوالات زیر بحث ہیں، ان میں سے اہم یہ ہیں: 

۱۔ توہین رسالت کے جرم کے حوالے سے مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ آیا انھیں اس حوالے سے مذہبی وجذباتی حساسیت کا اظہار کرنا چاہیے یا اسے نظر انداز کر دینے اور تحمل وبرداشت کا رویہ اپنانا چاہیے؟ خاص طور پر یہ کہ اس قسم کے واقعات کی محض اخلاقی سطح پر مذمت کافی ہے یا اسے باقاعدہ قانونی سزا کا موضوع بنانا چاہیے؟

۲۔ اگر اسلام کی نظر میں توہین رسالت کوئی ایسا جرم ہے جس کے حوالے سے نہ صرف مسلمانوں کے معاشرے کو حساس ہونا چاہیے بلکہ مسلمانوں کی ریاست میں قانونی سطح پر بھی اس کے سدباب کی تدبیر کی جانی چاہیے تو پھر کیا شریعت نے اس جرم کے بارے میں کوئی ایسی متعین سزا بیان کی ہے جس کا نفاذ ہر حال میں لازمی ہو یا اس معاملے کو مسلمانوں کے اولو الامر کی صواب دید اور اجتہاد پر چھوڑ دیا گیا ہے؟

۳۔ کیا اس معاملے کو ہر حال میں خالصتاً قانون کے زاویے سے دیکھنا چاہیے یا اسلامی ریاست کی سیاسی حکمت عملی کا بھی اس میں کوئی دخل ہے؟ دوسرے لفظوں میں ، کیا اس معاملے میں قانون کا بے لچک نفاذ ہی دین وشریعت کا منشا ہے یا اسلام اور اہل اسلام کے وسیع تر مذہبی وسیاسی مصالح کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے؟ اسی سوال کا ایک پہلو یہ ہے کہ اگر ایسا کوئی واقعہ رونما ہو تو عام انسانی سطح پر رد عمل کے اظہار میں کیا ’ہر چہ بادا باد‘ کا طریقہ شارع کی نظر میں جذبہ ایمانی کا معیار ہے یا وہ اس ضمن میں افراد کی افتاد طبع اور مزاج اور مختلف گروہوں کے معاشرتی پس منظر کے لحاظ سے رد عمل کے تنوع اور اس کی شدت میں تفاوت کی گنجائش بھی تسلیم کرتا ہے؟

۴۔ اگر کوئی شخص توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو اسے سزا دینے کا قانونی اختیار کس کے پاس ہے؟ آیا ہر مسلمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے تئیں ایسے مجرموں کے خلاف اقدام کر ڈالے یا دوسرے جرائم کی طرح یہاں بھی سزا کے نفاذ کے لیے قانون اور عدالت ہی سے رجوع کرنا لازم ہے؟

یہ تمام سوالات بدیہی طور پر بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ آئندہ صفحات میں ہم انھی سوالات کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کریں گے۔

اسلامی ریاست کی ذمہ داری

توہین رسالت کے ارتکاب پر مجرم کو سزا دینے کے حوالے سے ہمارے ہاں ایک نقطہ نظر یہ پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو اس نوعیت کے واقعات پر تحمل اور برداشت کا رویہ اختیار کرنا چاہیے اور خاص طور پر قانون کی سطح پر اسے کسی تعزیری اقدام کا موضوع نہیں بنانا چاہیے۔ یہ نقطہ نظر دو الگ الگ فکری پس منظر رکھنے والے حلقوں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے اور ظاہری نتیجے پر اتفاق کے باوجود ان دونوں کی استدلالی بنیادیں باہم بالکل مختلف ہیں۔

ان میں سے پہلے گروہ کا زاویہ نظر بنیادی طور پر ایک مذہبی استدلال پر مبنی ہے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں بہت سی دینی، دعوتی اور اجتماعی مصلحتوں کی خاطر اپنی ذات گرامی کے بارے میں سب وشتم، ہجو گوئی اور توہین وتنقیص کا رویہ اختیار کرنے والے لوگوں سے صرف نظر فرمایا تھا اور شان کریمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے جرم کو معاف کر دیا تھا، اس لیے آج مسلمانوں کو بھی آپ کے اس اسوۂ حسنہ کی پیروی کرنی چاہیے اور توہین رسالت کے واقعات کی اخلاقی مذمت پر اکتفا کرتے ہوئے اس کے جواب میں اسلام کے پیغام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کو بہتر سے بہتر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔

دوسرا گروہ سیکولر زاویہ نگاہ کی ترجمانی کرتا ہے۔ سیکولرازم کا سیاسی فلسفہ چونکہ ریاست اور مذہب کے باہمی تعلق کو قبول نہیں کرتا اور اس کی رو سے ریاست کو کسی بھی نوعیت کے مذہبی تشخص سے بالاتر اور مذہبی معاملات سے لاتعلق ہونا چاہیے، اس لیے اس زاویہ نظر کے علم برداروں کے نزدیک قانون میں مذہبی بنیادوں پر اسلام یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین وتنقیص کو سزا کا مستوجب قرار دینا اس اصول کے منافی ہے۔ 

ہماری رائے میں یہ دونوں زاویہ ہاے نظر قرآن وسنت کی ہدایات، صحابہ کرام کے طرز عمل اور فقہ اسلامی کی رو سے قابل قبول نہیں ہیں۔ 

پہلے اول الذکر طرز فکر کو دیکھیے:

اس نقطہ نظر کی ترجمانی کرنے والوں کا کہنا یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں سب وشتم اور توہین کے رویے کے جواب میں رافت ورحمت کا اظہار کیا اور اپنے حکیمانہ طرز عمل سے نہ صرف مخالفین کو اخلاقی سطح پر شکست دی بلکہ ان میں سے بے شمار لوگوں کی تالیف قلب کرتے ہوئے انھیں بالآخر اسلام قبول کرنے پر بھی آمادہ کر لیا۔ مثال کے طورپر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ یہود کا ایک گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: السام علیک (یعنی نعوذ باللہ تم پر موت آئے)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا کہ: علیکم (یعنی تم پر آئے)۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے غصے میں آکر ان سے کہا: بل علیکم السام واللعنۃ (تم پر ہی موت اور لعنت مسلط ہو)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ، اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتے ہیں۔ (بخاری، ۵۶۷۸)

انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بکری کا زہر آلود گوشت پیش کیا جسے آپ نے تناول فرما لیا۔ معلوم ہونے پر اس عورت کو آپ کے پاس لایا گیا تو آپ کے پوچھنے پر اس نے اعتراف کر لیا اور کہا کہ میں آپ کو قتل کرنا چاہتی تھی۔ صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے قتل کرنے کی اجازت طلب کی، لیکن آپ نے منع فرما دیا۔ (ابو داود، ۴۵۰۹، ۴۵۱۰)

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر کے دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت آرام کے لیے ایک درخت کے نیچے لیٹ گئے اور اپنی تلوار درخت پر لٹکا دی۔ لوگ بھی سو گئے۔ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پکار کر لوگوں کو بلایا۔ لوگ پہنچے تو آپ کے پاس ایک بدو موجود تھا۔ آپ نے بتایا کہ میں سویا ہوا تھا تو اس نے آکر میری تلوار مجھ پر سونت لی اور کہا کہ کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ اس نے کہا کہ تمھیں مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا کہ اللہ۔ اس پر اس نے تلوار نیام میں ڈال دی اور اب دیکھو، یہ بیٹھا ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کوئی سزا نہیں دی۔ (بخاری، ۳۹۰۶، ۳۹۰۸)

زیر بحث نقطہ نظر کے حاملین کی رائے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیار کردہ یہی طریقہ بعد کے مسلمانوں کے لیے بھی معیاری نمونے کی حیثیت رکھتا ہے، چنانچہ امت مسلمہ کو بھی ایسے واقعات کے ضمن میں یہی رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

ہماری رائے میں اس نقطہ نظر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کے صرف ایک پہلو کا لحاظ کیا گیا ہے جبکہ دوسرے پہلو کو، جو اتنا ہی اہم ہے، نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہوئے مختلف امور میں آپ کے طرز عمل کی درست توجیہ وتفہیم کے لیے آپ کی دو الگ الگ حیثیتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ ایک طرف آپ کی شخصی اور ذاتی حیثیت ہے۔ اس اعتبار سے آپ خدا کے ایک نہایت متواضع اور منکسر المزاج بندے تھے اور حلم، عفو ودرگزر اور ذاتی انتقام سے گریز جیسے اوصاف آپ کی شخصیت میں بے حدنمایاں تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اللہ کے پیغمبر بھی تھے اور رسولوں کے باب میں اللہ تعالیٰ کے خاص قانون کے مطابق آپ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد جزیرۂ عرب کے مشرکین اور اہل کتاب آپ پر ایمان لانے اور آپ کے اقتدار اعلیٰ کے سامنے سر اطاعت خم کرنے کے پابند تھے۔ اس تناظر میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو، جو اپنے قول وفعل سے آپ کی حیثیت رسالت کو چیلنج کرنے اور اس کے مقابلے میں سرکشی اور بغاوت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کریں، سورۂ مائدہ کی آیت ۳۳ میں سخت اور سنگین سزاؤں کا مستحق قرار دیا۔ ارشاد ہوا ہے:


اِنَّمَا جَزآؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ مِّنْ خِلاَفٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ.
’’جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرتے اور زمین میں فساد پھیلانے کے لیے سرگرم رہتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ انھیں عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیا جائے، یا انھیں سولی چڑھا دیا جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دیے جائیں یا انھیں علاقہ بدر کر دیا جائے۔ یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے، جبکہ آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘

قرآن مجید کی اس آیت کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر اس شخص یا گروہ کے خلاف اقدام کا حق حاصل تھا جو اسلام کے بارے میں محاربہ اورمعاندت کا رویہ اختیار کرے اور جسے سزا دینا آپ موقع ومحل اور حکمت کی رو سے مناسب سمجھیں۔ ظاہر ہے کہ جن افراد نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے خبث باطن اور عناد کا اظہار کرنے کے لیے آپ کی توہین وتنقیص، ہجو گوئی اور سب وشتم کا رویہ اختیار کیا اور اسے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنی معاندانہ مہم میں ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا، وہ بدیہی طور پر محاربہ کے مرتکب تھے ، چنانچہ آپ نے اسی اختیار کے تحت ایسے بہت سے افراد پر موت کی سزا نافذ فرما دی۔ 

مثال کے طورپر عصماء بنت مروان بنو خطمہ کی ایک عورت تھی جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں نہایت توہین آمیز اشعار کہے تھے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور اسلام پر طعنہ زنی کے علاوہ لوگوں کو آپ کے خلاف بھڑکاتی بھی رہتی تھی۔ چنانچہ اسی کی قوم سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی عمیر بن عدی نے اسے قتل کر دیا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے ان کے اس فعل کی تحسین فرمائی۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۶/۴۹، ۵۰۔ الصارم المسلول، ص ۹۴)

ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کی لونڈی، جو اس کے بچوں کی ماں بھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی اور آپ کی توہین کیا کرتی تھی اور اپنے مالک کے منع کرنے اور ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود اس سے باز نہیں آتی تھی۔ ایک دن اسی بات پر اس نے اشتعال میں آ کر اسے قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں یہ بات آئی تو آپ نے اس کو بلا کر پوچھ گچھ کی اور پھر اس کی وضاحت سننے کے بعد فرمایا کہ: ’الا اشہدوا ان دمہا ہدر‘ یعنی گواہ رہو کہ اس عورت کا خون رائیگاں ہے۔ (ابو داؤد، ۴۳۶۱)

اسی سے ملتا جلتا واقعہ عمیر بن امیہ کا ہے۔ ان کی بہن مشرک تھی اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے بارے میں سب وشتم کرکے عمیر کو اذیت پہنچانے کو ایک وطیرہ بنا رکھا تھا۔ اس کے اس رویے سے تنگ آ کر ایک دن عمیر نے اسے قتل کر دیا اور پھر جب انھیں خدشہ ہوا کہ ان کے علاوہ کسی اور آدمی کو قاتل سمجھ کر قتل کر دیا جائے گا تو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہو کر سارا معاملہ بیان کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صورت حال معلوم ہونے کے بعد اس عورت کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔ (مجمع الزوائد ۶/۲۶۰۔ ابن ابی عاصم، الدیات، ۱/۷۳)
فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دوسرے مجرموں کے ساتھ ان دونوں لونڈیوں کو بھی قتل کرنے کا حکم دیا تھا جو ابن خطل کے کہنے پر گانا بجانے کی محفلیں سجاتی تھیں اور ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہجویہ اشعار گایا کرتی تھیں۔ ان کے علاوہ سارہ نام کی ایک لونڈی کے بارے میں بھی آپ نے یہی حکم دیا جو ان مغنیہ لونڈیوں کو ہجویہ اشعار مہیا کیا کرتی تھی۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، ۵/۷۰، ۷۱) ان عورتوں کا جرم محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو گوئی تھا جسے انھوں نے اسے ایک مستقل مشغلہ بنا رکھا تھا اور اپنے خبث باطن اور عناد کو باقاعدہ ایک مہم کی صورت دے دی تھی۔ 

مذکورہ واقعات میں جو طرز عمل اختیار کیا گیا، اس میں اور آپ کی طرف سے عفو ودرگزر کے اظہار کے مابین کوئی تضاد نہیں، کیونکہ ان دونوں کا تعلق آپ کی دو الگ الگ حیثیتوں سے ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تک یہ محسوس فرماتے کہ کسی شخص کی طرف سے توہین وتنقیص یا گستاخی کا رویہ آپ کی ذات تک محدود ہے اور اس پر مواخذہ کرنے میں ’ذاتی انتقام‘ کا شائبہ ہو سکتا ہے، اس وقت تک آپ اس کے خلاف کوئی اقدام نہیں فرماتے تھے۔ ایسے تمام مجرموں کے خلاف آپ نے اسی وقت اقدام کیا جب آپ نے محسوس یہ کیا کہ ان کے معاندانہ اور گستاخانہ رویے کے منفی اثرات اللہ کے دین اور مسلمانوں کے سیاسی مصالح پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان ہے کہ :

واللہ ما انتقم لنفسہ فی شئ یؤتی الیہ قط حتی تنتہک حرمات اللہ فینتقم للہ.(بخاری، ۶۴۰۴)
’’بخدا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے ساتھ کی جانے والی کسی زیادتی کا بدلہ نہیں دیا۔ البتہ جب اللہ کی حرمتیں پامال کی جاتی تھیں تو پھر آپ اللہ کے لیے انتقام لیتے تھے۔‘‘

اسی نکتے کو نہ سمجھنے کے باعث شبلی جیسے فاضل مصنف کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو گوئی اور توہین کے مجرموں کو سزاے موت دیے جانے کے واقعات کو درست تسلیم کرنے میں تردد لاحق ہوا ہے اور انھوں نے اسے ’’ذاتی انتقام‘‘ تصور کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کریمانہ کے منافی قرار دیا ہے۔ (سیرت النبی، ۱/۳۱۳) ہمارے نزدیک ایسے اقدامات کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عام انسانی حیثیت سے نہیں بلکہ آپ کے منصب رسالت سے تھا اور یہ سب لوگ درحقیقت آپ سے کوئی شخصی عداوت نہیں رکھتے تھے بلکہ دراصل آپ کے لائے ہوئے دین کے دشمن تھے، چنانچہ اسے کسی طرح ذاتی انتقام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 

اب ظاہر ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے طرز عمل میں مذکورہ دونوں پہلووں کو ملحوظ رکھا ہے تو امت مسلمہ بھی یک طرفہ طور پر کسی ایک پہلو کو اختیار کر کے دوسرے پہلو کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ چنانچہ اگر اسلامی ریاست میں اس جرم کی روک تھام اور مجرم کو قرار واقعی سزا دینے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جائے تو یہ دین وشریعت اور اسوۂ نبوی کے خلاف نہیں بلکہ اس کے عین مطابق ہوگا۔

جہاں تک سیکو لر نقطہ نظر کا تعلق ہے تو وہ بنیادی طور پر دور جدید کے اہل مغرب کے زاویہ نظر اور تجربات پر مبنی ہے۔ مغربی معاشرہ چونکہ ایک خاص فکری ارتقا کے نتیجے میں مذہبی معاملات کے حوالے سے حساسیت کھو چکا ہے، نیز وہاں ریاستی نظم اور معاشرے کے مابین حقوق اور اختیارات کی بھی ایک مخصوص تقسیم وجود میں آ چکی ہے، اس وجہ سے مغربی حکومتیں قانونی سطح پر ایسے واقعات کی روک تھام کی کوئی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اہل مغرب انسانی حقوق اور آزادئ رائے کے اپنے مخصوص تصور کو بین الاقوامی سیاسی اور معاشی دباؤ کے تحت عالم اسلام پربھی مسلط کرنا چاہتے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ مذہب یا مذہبی شخصیات کی توہین پر پابندی یا اس کو جرم قرار دیتے ہوئے اس پرتعزیری سزاؤں کو مسلم ممالک کے ضابطہ قوانین سے خارج کیا جائے۔ 

ممکن ہے اہل مغرب اپنے سیکولر زاویہ نگاہ کے تحت یہ مطالبہ کرنے میں اپنے آپ کو فی الواقع حق بجانب سمجھتے ہوں کہ کوئی ریاست قانونی دائرے میں مذہبی شعائر اور شخصیات کے ساتھ کسی وابستگی کا اظہار نہ کرے، لیکن ایک اسلامی ریاست کے لیے ایسے کسی مطالبے کو تسلیم کرنے کی کوئی وجہ نہیں جو ریاست کے مذہبی تشخص کے حوالے سے اسلام کی واضح ہدایات کو پامال کرتا ہو ۔ قرآن مجید کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ وہ مذہب کو صرف انفرادی معاملات تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ مسلمانوں کے معاشرے کو سماجی، قانونی اور سیاسی، ہر سطح پر اللہ کی دی ہوئی ہدایات کے رنگ میں رنگا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو خدا اور اس کے رسولوں کے ساتھ اعتقادی وجذباتی وابستگی اور ان کی حرمت وناموس کی حفاظت محض ایک مسلمان کے انفرادی ایمان واعتقاد کا مسئلہ نہیں، بلکہ نظم اجتماعی کی سطح پر مسلمانوں کے معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے اور جو چیزیں اسلامی ریاست کو ایک مخصوص نظریاتی تشخص اور امتیاز عطا کرتی ہیں، ان میں اسلامی حدود وشعائر کا تحفظ اور ان کی بے حرمتی کا سدباب بھی شامل ہے۔ چنانچہ یہ بات اسلامی ریاست کا ایک بنیادی فریضہ قرار پاتی ہے کہ وہ اسلام اور پیغمبر اسلام کی حرمت وناموس اور مسلمانوں کی مذہبی غیرت وحمیت کو مجروح ہونے سے بچانے کے لیے پوری طرح چوکنا رہے اور قانون کی سطح پر اس نوعیت کے اقدامات کے سدباب کا پورا پورا اہتمام کرے۔ 

مذہبی ہدایات کے ساتھ ساتھ قانون کو توہین رسالت جیسے جرائم سے غیر متعلق کر دینے کا فلسفہ معروف جمہوری اصولوں اور عام انسانی اخلاقیات کی رو سے بھی غیر معقول اور ناقابل دفاع ہے۔ دنیا کا ہر قانونی نظام اپنے باشندوں کو نہ صرف جان ومال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، بلکہ ان کی عزت اور آبرو کا تحفظ بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے اور ہتک عزت اور ازالہ حیثیت عرفی وغیرہ سے متعلق تادیبی سزائیں اسی اصول پر مبنی ہوتی ہیں۔ اگر اس قانونی انتظام کی بنیاد کسی بھی فرد یا جماعت کی عزت نفس کا تحفظ اور ان کو توہین وتذلیل کے احساس سے بچانا ہے تو بدیہی طور پر اس کے دائرے میں صرف زندہ افراد کو نہیں، بلکہ ماضی کی ان شخصیات کو بھی شامل ہونا چاہیے جن کے حوالے سے کوئی بھی فرد یا گروہ اپنے دل میں عزت واحترام اور بالخصوص مذہبی تقدیس وتعظیم کے جذبات رکھتا ہے۔ جدید جمہوری اصولوں کی رو سے کسی بھی مملکت کے حدود میں بسنے والے ہر مذہبی گروہ کو اپنے عقیدہ ومذہب کے تحفظ کا حق اور اس کی ضمانت حاصل ہے۔ اس ضمن میں اہل مغرب کے تعصب یا بعض سیاسی مجبوریوں پر مبنی رویے سے قطع نظر کر لیا جائے تو انسانی جان و مال اور آبرو کے ساتھ ساتھ مختلف مذہبی گروہوں کے مذہبی جذبات بھی لازمی طور پر ایک قابل احترام اور قابل تحفظ چیز قرار پاتے ہیں۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ راسخ العقیدہ اہل مذہب اپنے مذہبی شعائر ، شخصیات اور جذبات کو جان ومال اور آبرو سے زیادہ محترم سمجھتے ہیں اور ان میں سے کسی بھی چیز کی توہین لازماً مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور نتیجتاً اشتعال انگیزی کا سبب بنتی ہے، چنانچہ انسانی ومذہبی حقوق کی اس خلاف ورزی کو ’جرم‘ قرار دے کر اس کے سدباب کے لیے سزا مقرر کرنا ہر لحاظ سے جمہوری اصولوں اور تصورات کے مطابق ہے۔

توہین رسالت کی شرعی سزا

ایک اسلامی ریاست میں اگرکوئی غیر مسلم نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن مجید یا اسلامی عقائد وتعلیمات کی شان میں سب وشتم، توہین اور گستاخی کا مرتکب ہو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہیے؟ سابقہ صفحات میں ہم اپنا یہ نقطہ نظر واضح کر چکے ہیں کہ اسلام یا پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کا جرم اگر اپنی نوعیت اور اثرات کے لحاظ سے اس درجے کو پہنچ جائے کہ اس کی اذیت پورے مسلمان معاشرے کو محسوس ہونے لگے اور مجرم کسی چیز کی پروا کیے بغیر اپنی روش پر قائم رہے تو اس صورت میں یہ جرم براہ راست آیت محاربہ کے تحت آ جاتا ہے، اس لیے کہ ایک اسلامی معاشرے میں، جو ایمان واعتقاد اور قانونی وسیاسی سطح پر اطاعت وسرافگندگی کا آخری مرجع خدا اور اس کے رسول کو مانتا اور اپنی اجتماعی زندگی کی تشکیل کو رسول اللہ ہی کی لائی ہوئی ہدایت کا مرہون منت سمجھتا ہے، خدا کے رسول کی علانیہ توہین وتحقیر بھی محاربہ اور فساد فی الارض کی ایک صورت ہے اور اگر کوئی شخص دانستہ ایسا کرتا اور اس پر مصر رہتا ہے تو وہ نہ صرف اس کے باشندوں کے مذہبی جذبات واحساسات کو مجروح کرتا ہے بلکہ ریاست کے مذہبی تشخص کو بھی چیلنج کرتا اور اسے پامال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ 

تاہم یہ ضروری نہیں کہ سب وشتم اور توہین وتنقیص کے جرم کو اپنی ہر صورت میں ’حرابہ‘ ہی کے دائرے میں شمار کیا جائے، کیونکہ نوعیت وکیفیت اور اثرات کے لحاظ سے اس کی نسبتاً کم تر اور ہلکی صورتوں کا رونماہونا بھی ممکن ہے۔ چنانچہ اگر جرم اپنی سنگینی کے لحاظ سے حرابہ کے درجے کو نہ پہنچا ہوا ہو اور کسی شخص نے وقتی کیفیت میں اتفاقیہ طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا اسلام کے بارے میں کوئی ناروا کلمہ زبان سے کہہ دیا ہو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہیے؟ اس ضمن میں فقہاے اسلام کے مابین اختلاف راے واقع ہوا ہے۔ جمہور فقہا کا موقف یہ ہے کہ اس جرم کی سزا ہر حال میں یہ ہے کہ مجرم کو قتل کر دیا جائے، جبکہ فقہاے احناف کا رجحان یہ ہے کہ عام حالات میں اس جرم پر سزاے موت دینے کے بجائے ایسی تعزیری سزا پر اکتفا کرنا چاہیے جو مجرم کو آئندہ اس جرم کے ارتکاب سے روکنے میں موثر ہو، البتہ اگر اس جرم کا ارتکاب علانیہ ہو اور اس میں سرکشی کا عنصر بھی شامل ہو جائے اور خاص طور پر اگر مجرم اسے ایک عادت اور معمول کے طور پر اختیار کر لے تو اسے قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔ (جصاص، مختصر اختلاف العلماء ۳/۵۰۵، ۵۰۶۔ عینی، عمدۃ القاری ۲۴/۸۲۔ ابن عابدین، رسائل ابن عابدین ۱/۳۵۴۔ ظفر احمد عثمانی، اعلاء السنن ۱۲/۵۰۵ تا ۵۱۴)

کیا سزاے موت ’حد شرعی‘ ہے؟

سب سے پہلے تو یہاں ایک خلط مبحث کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے جو اس مسئلے کے حوالے سے عام طور پر پایا جاتا ہے اور بہت سے کبار اہل علم کے ہاں بھی اس کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ وہ یہ کہ فقہاے احناف اور جمہور فقہا کے مذکورہ اختلاف کی تعبیر عام طور پر یوں کر دی جاتی ہے کہ جمہور اہل علم توہین رسالت پر سزا کو ’حد‘ یعنی شریعت کی مقرر کردہ لازمی سزا سمجھتے ہیں جبکہ احناف کے نزدیک یہ سزا ایک تعزیری اور صواب دیدی سزا ہے۔ ہماری رائے میں یہ تعبیر بالکل غلط اور اختلاف کی نوعیت پر بالکل غور نہ کرنے یا شدید قسم کے سوء فہم کا نتیجہ ہے۔ فقہا کے مابین اختلاف اس سزا کے ’حد‘ ہونے یا نہ ہونے میں نہیں اور احناف کی طرح جمہور صحابہ وتابعین، جمہور ائمہ مجتہدین اور جمہور محدثین بھی اس کو تعزیر ہی سمجھتے ہیں۔ اختلاف دراصل یہ ہے کہ جمہور اہل علم کے نزدیک توہین رسالت کے جرم کی شناعت اور سنگینی کی وجہ سے اس پر موت ہی کی سزا دینا شریعت کے مزاج سے زیادہ ہم آہنگ ہے اور اس سے کم تر کوئی سزا انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتی، جبکہ احناف کے نزدیک اس جرم پر موت کی سزا کے ساتھ ساتھ متبادل اور کم تر سزاؤں کی گنجائش بھی شرعی اصولوں کی رو سے موجود ہے۔ ایک فقیہ اور مجتہد کا کسی سزا کو اس لیے لازم قرار دینا کہ وہ شریعت کی طرف سے مقرر کی گئی ہے، بالکل اور بات ہے اور اس کا کسی سزا پر اس لیے اصرار کرنا کہ اس کے فہم کے مطابق عدل وانصاف کے عمومی تقاضوں اور شرعی وفقہی اصولوں کی رو سے وہی اس کی قرار واقعی سزا بنتی ہے، ایک بالکل دوسری بات ہے اور اہل علم ان دونوں باتوں کے فرق کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ ائمہ احناف اور دوسرے فقہا کے اختلاف کا محوری نکتہ پہلی بات نہیں، بلکہ دوسری بات ہے۔ 

جمہور فقہا کے استدلال کا بغور جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کے ہاں توہین رسالت پر سزاے موت کے باب میں روایات وآثار کا حوالہ دراصل قانونی نظائر کی حیثیت سے تائیدی طور پر دیا جاتا ہے نہ کہ اس سزا کو ’حد شرعی‘ ثابت کرنے کے لیے اصل ماخذ کے طور پر۔ ان کا زاویہ نظر یہ ہے کہ جن غیر مسلموں کو معاہدۂ ذمہ کے تحت جان کی امان دی گئی، وہ اس سے پہلے حربی اور مباح الدم تھے اور انھیں جان کا تحفظ معاہدے ہی کے تحت حاصل ہوا تھا، چنانچہ ان میں سے کوئی شخص اگر کسی ایسے جرم کا مرتکب ہوتا ہے جو معاہدے کی شرائط کے خلاف ہو تو اس سے معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے اور نتیجتاً اس کے مباح الدم ہونے کی وہ سابقہ قانونی حیثیت لوٹ آتی ہے جو عقد ذمہ سے پہلے تھی۔ صحیح بخاری کے شارح ابن بطالؒ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:


وحجۃ من رای القتل علی ]الذمی بسبہ[ انہ قد نقض العہد الذی حقن دمہ اذ لم یعاہد علی سبہ، فلما تعدی عہدہ عاد الی حال کافر لا عہد لہ فوجب قتلہ.(شرح صحیح البخاری ۸/۵۸۱)
’’جو حضرات سب وشتم کی وجہ سے ذمی کو قتل کر دینے کے قائل ہیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ اس طرح اس نے اپنا وہ معاہدہ توڑ دیا ہے جس کی وجہ سے اس کو جان کا تحفظ دیا گیا تھا، کیونکہ معاہدے کی رو سے اسے سب وشتم کی اجازت نہیں تھی۔ جب اس نے اپنے معاہدے سے تجاوز کیا تو اس کی حیثیت دوبارہ اس کافر کی ہو گئی جس کا مسلمانوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں، اس لیے اسے قتل کرنا واجب ہے۔‘‘

جمہور فقہا کے موقف کی اصل قانونی اساس یہی نکتہ ہے جو صاف بتاتا ہے کہ وہ اس سزا کو استدلال اور استنباط پر مبنی سمجھتے ہیں نہ کہ شریعت کی طرف سے مقرر کردہ کوئی حد، حتیٰ کہ امام ابن حزم نے بھی، جنھوں نے پورے فقہی لٹریچر میں غالباً سب سے زیادہ سخت لب ولہجے میں احناف کے اس موقف پر تنقیدکی ہے،* اپنی کتاب المحلیٰ میں فقہاے احناف کے اس بنیادی نکتے سے اتفاق ظاہر کیا ہے کہ ایک غیر مسلم کے حق میں سب وشتم کا ارتکاب فی نفسہ موجب قتل نہیں ہو سکتا، کیونکہ سب وشتم کفر ہی کی ایک صورت ہے اور غیر مسلم معاہد کو کسی کفرکے ارتکاب پر قتل نہیں کیا جا سکتا۔ لکھتے ہیں:


والذمیون کفار قبل ذلک ومعہ ولیس بنفس کفرہم حلت دماؤہم فی ذلک اذا تذمموا فالمسلم یقتل بکفرہ اذا احدث کفرا بعد اسلامہ والذمی لا یقتل وان احدث فی کل حین کفرا حادثا غیر کفرہ بالامس اذا کان من نوع الکفر الذی تذمم علیہ فنظرنا فی المعنی الذی وجب بہ القتل علی الذمی اذا سب اللہ تعالیٰ او رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم او استخف بشئ من دین الاسلام فوجدناہ انما ہو نقضہ الذمۃ لانہ انما تذمم وحقن دمہ بالجزیۃ علی الصغار.(المحلی ۱۱/۴۱۶)

’’اہل ذمہ اس جرم کے ارتکاب سے پہلے بھی کافر ہیں اور جب وہ ذمی بن گئے تو نفس کفر کی وجہ سے ان کا خون مباح نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ایک مسلمان اگر اسلام کے بعد کفر کا مرتکب ہو تو اسے تو اس کے کفر کی وجہ سے قتل کیا جائے گا، لیکن ذمی کو قتل نہیں کیا جا سکتا، چاہے وہ ہر لمحہ اس نوع کے کفر کا ارتکاب کرتا رہے جس پر وہ عقد ذمہ کے وقت قائم تھا۔ چنانچہ ہم نے اس اصل علت پر غور کیا جس کی وجہ سے ایک ذمی کو اللہ اور اس کے رسول کو برا بھلا کہنے یا دین اسلام کی توہین کرنے پر قتل کرنا واجب ہے تو ہمیں معلوم ہوا کہ وہ علت عقد ذمہ کو توڑنا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ معاہدہ کر کے اسے جان کا تحفظ اس شرط پر دیا گیا تھا کہ وہ ذلت اور پستی کے ساتھ جزیہ ادا کرتا رہے گا۔‘‘

گویا ابن حزم یہ نکتہ تسلیم کرنے کے بعد کہ اہل ذمہ کے حق میں سب وشتم کا ارتکاب فی حد ذاتہ موجب قتل نہیں، ان پر سزاے موت کو لازم قرار دینے کے لیے ایک متبادل دلیل بیان کر رہے ہیں، یعنی یہ کہ قرآن نے صرف اس صورت میں اہل ذمہ کو جان کی امان دینے کی ہدایت کی ہے جب وہ مسلمانوں کے مقابلے میں ’صغار‘ یعنی ذلت اور پستی کے ساتھ رہنا قبول کر لیں اور چونکہ توہین رسالت کے ارتکاب کی وجہ سے ایک غیر مسلم اس شرط کو توڑ دیتا ہے، اس لیے وہ مباح الدم ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک عمومی اصول سے استنباط ہے جبکہ اس سزا کو شرعی حد تصور کرنے کی صورت میں یہ ضروری تھا کہ وہ اس کے متعلق کوئی صریح نص پیش کرتے۔ اس سے واضح ہے کہ ابن حزم بھی اس سزا کو براہ راست شرعی نصوص میں مقرر کی جانے والی سزا تصور نہیں کرتے۔ 

ہماری تحقیق کے مطابق سب سے پہلے جس عالم نے توہین رسالت پر سزاے موت کو شریعت کی مقرر کردہ حد قرار دینے پر اصرار کر کے تعبیر کی اس غلطی کو بنیاد فراہم کی، وہ آٹھویں صدی کے عظیم مجدد امام ابن تیمیہ اور ان کی اتباع میں ان کے شاگرد امام ابن القیم رحمہما اللہ ہیں۔ ممکن ہے بعد کے دور کے بعض فقہا نے اس اختلاف کو کسی جگہ محض تجوزاً اور توسعاً حد ماننے یا نہ ماننے کے اختلاف سے تعبیر کر دیا ہو، لیکن جہاں تک صحابہ وتابعین، جمہور محدثین اور ائمہ مجتہدین میں سے بالخصوص امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا تعلق ہے تو یہ بات پورے اطمینان سے کہی جا سکتی ہے کہ انھوں نے اس سزا کو ہرگز شرعی حد کے طور پر بیان نہیں کیا اور نہ فقہی مذاہب کی امہات کتب میں اس سزا کو اس حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔

آئندہ سطور میں ہم تفصیل سے اپنی اس رائے کے دلائل بیان کریں گے:

یہ بات محتاج وضاحت نہیں کہ کسی سزا کو شریعت کی طرف سے مقرر کردہ لازمی سزا یعنی حد ماننے کی صورت میں دو نتیجے مرتب ہونا ضروری ہے۔ ان میں سے ایک نتیجہ علمی ہے اور دوسرا عملی۔ علمی طور پر یہ ضروری ہے کہ جب کوئی فقیہ یا عالم شرعی سزاؤں کا ذکر کرے یا اس ضمن میں شرعی احکام کو کسی کتاب میں مرتب کرے تو اس میں اس سزا کا ذکر بھی لازماً کرے جسے وہ ’حد‘ سمجھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک فقیہ سزاؤں کے حوالے سے شرعی قانون کی شرح ووضاحت کرتے ہوئے کسی تعزیری اور اجتہادی واستنباطی سزا کو تو نظر انداز کر سکتا ہے، لیکن جس سزا کو وہ شریعت کی مقرر کردہ سزا سمجھتا ہے، اسے قلم انداز نہیں کر سکتا۔ عملی نتیجہ یہ مرتب ہوتا ہے کہ کسی مقدمے میں اس سزا سے مختلف اور خاص طور پر اس سے کم تر کسی سزا کا نفاذ قبول نہ کیا جائے۔ اب اس معیار کی روشنی میں جب ہم صحابہ وتابعین کے آثار، ائمہ مجتہدین کے بیانات اور فقہی عنوانات کے تحت مرتب کیے گئے مجموعہ ہاے حدیث کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات نصف النہار کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ یہ حضرات توہین رسالت پر سزاے موت کو ’حدود‘ یعنی ازروے شریعت مقرر کردہ سزاؤں میں شمار نہیں کرتے۔

صحابہ وتابعین

سب سے پہلے صحابہ اور تابعین کے فیصلوں کو دیکھیے:

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مستند روایات سے ثابت ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی سزا، موت بیان فرمائی۔ (ابوداود، ۴۳۶۳)تاہم ان کے فیصلوں سے واضح ہے کہ وہ اسے ’حد‘ نہیں سمجھتے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر بعض خواتین نے خوشی کے اظہار کے لیے دف بجائے تو سیدنا ابوبکر نے صرف ان کے ہاتھ کٹوا دیے۔ (سرخسی، المبسوط ۱۰/۱۱۰) اسی طرح ان کے عہد میں یمامہ کے امیر، مہاجر بن ابی امیہ کے سامنے ایک عورت کو پیش کیا گیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہجویہ اشعار گائے تھے۔ انھوں نے اس کا ایک ہاتھ کاٹ دیا اور ایک دانت اکھاڑ دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خبر ملی تو انھوں نے کہا کہ اگر تم یہ فیصلہ نافذ نہ کر چکے ہوتے تو میں تمھیں اس عورت کو قتل کرنے کا حکم دیتا، کیونکہ انبیا کی توہین کی سزا عام سزاؤں کی طرح نہیں ہے۔ (الصارم المسلول ص ۱۹۴، ۱۹۵)
’الشفاء‘ کے شارح علامہ شہاب الدین خفا جی نے سیدنا ابوبکر کے اس ارشاد کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے:


وہذا مبنی علی انہ لا یجب قتل الساب من الکفرۃ وانما ہو مفوض الی الامام فلہ ان یغلظ ویزید فیہ بتنکیل او قتل فلما سبق من مہاجر تنکیلہ بہا لم یر ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان یجمع فیہ بین حدین.(نسیم الریاض ۶/۱۷۹) 
’’یہ فیصلہ اس بات پر مبنی ہے کہ کفار میں سے جو شخص سب وشتم کرے، اسے قتل کرنا واجب نہیں بلکہ یہ معاملہ امام کی صواب دید پر منحصر ہے۔ اسے یہ حق ہے کہ وہ اس جرم پر سخت سزا دے اور سزا کو مزید عبرت ناک بنا دے یا مجرم کو قتل کر دے۔ چونکہ مہاجر اس عورت کو پہلے ہی عبرت ناک سزا دے چکے تھے، اس لیے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے دوہری سزا دینا مناسب نہیں سمجھا۔‘‘

امام ابن تیمیہ بھی اس نکتے کو تسلیم کرتے ہیں کہ چونکہ مہاجر بن ابی امیہ مجرم پر پہلے سے ایک سزا نافذ کر چکے تھے، اس لیے سیدنا ابوبکر نے دو سزائیں نافذ کرنے کو مناسب نہیں سمجھا یا ہو سکتا ہے کہ اس عورت نے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا ہو اور سیدنا ابوبکر کا خط ملنے سے پہلے مہاجر بن ابی امیہ اس کی توبہ قبول کر چکے ہوں۔ اس کے باوجود امام صاحب کو اپنے اس موقف پر اصرار ہے کہ اس جرم کے لیے شریعت میں واحد سزا، سزاے موت ہی ہے اور مجرم کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی، حالانکہ صاف واضح ہے کہ اگر اس جرم پر موت کی سزا دینا شرعاً لازم ہوتا تو سیدنا ابوبکر اسے موت ہی کی سزا دلواتے، کیونکہ اگر غلطی سے کسی مجرم کو موت سے کم تر سزا دے دی گئی ہو جبکہ موت کی سزا دینا شرعاً لازم ہو تو یہ چیز اصل سزا کے نفاذ میں مانع نہیں بن سکتی، چنانچہ بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو زنا کی پاداش میں پہلے کوڑے لگوائے اور پھر جب معلوم ہوا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے رجم بھی کروا دیا۔ (ابو داود، ۴۴۳۸)

حصین بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک راہب کو لایا گیا اور انھیں بتایا گیا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اگر میں اس کی زبان سے سن لیتا تو اسے قتل کر دیتا۔ (ابن حجر، المطالب العالیۃ ۹/۴۴۸) ایک دوسری روایت میں ہے کہ انھوں نے اس پر تلوار سونت لی اور کہا کہ ہم نے تمھارے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنے پر صلح کا معاہدہ نہیں کیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ۳۶۲۸۰)

امام ابن تیمیہ نے یہاں بھی تاویل کی ہے اور فرمایا ہے کہ چونکہ اس راہب نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے یہ جرم نہیں کیا تھا، اس لیے ان کے نزدیک جرم ثابت نہیں ہوا تھا۔ مزید یہ کہ جب انھوں نے یہ بات سن کر اس پر تلوار سونت لی تو غالباً اس نے ارتکاب جرم سے انکار کر دیا ہوگا جس پر انھوں نے اسے قتل نہیں کیا۔ (الصارم المسلول، ۱۹۷) یہ ایک ایسی قیاس آرائی ہے جس کے حق میں خود روایت میں کوئی قرینہ موجود نہیں۔ ابن عمر کو اس کے جرم کے بارے میں بتانے والے مسلمان تھے جن کے بیان پر انھوں نے بظاہر اعتماد کیا، کیونکہ روایت میں ان کا الزام کی صداقت کے حوالے سے کوئی سوال اٹھانا نقل نہیں ہوا۔ راہب کے اپنے اقرار کی یہاں بظاہر کوئی اہمیت نہیں تھی اور نہ اس کے اس الزام سے انکار کرنے کا روایت میں کوئی ذکر ہے۔ اس لیے ابن تیمیہ کی تاویل کے برعکس روایت سے صاف واضح ہے کہ اگر کسی شخص کو اس جرم کے ارتکاب پر مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش کیا جائے اور وہ یہ سمجھے کہ اسے آئندہ اس جرم سے باز رکھنے کے لیے زجر وتوبیخ ہی موثر اور کافی ہوگی تو وہ تہدید وتنبیہ کے بعد اسے چھوڑ سکتی ہے۔

کعب بن علقمہ روایت کرتے ہیں کہ عرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ کے پاس سے ایک نصرانی گزرا۔ انھوں نے اسے اسلام کی دعوت دی تو اس نے غصے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر دی۔ اس پر عرفہ نے زور سے مکہ مار کر اس کی ناک توڑ دی۔ معاملہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انھوں نے عرفہ سے کہا کہ ہم نے تو ان کے ساتھ معاہدہ کیا ہوا ہے۔ عرفہ نے کہا کہ اس بات سے اللہ کی پناہ کہ ہم نے ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کھلم کھلا گستاخی کی اجازت دینے پر معاہدہ کیا ہو۔ عمرو بن العاص نے بھی ان کی بات سے اتفاق کیا۔ (بیہقی، السنن الکبریٰ، ۱۸۴۹۰۔ طبرانی، المعجم الکبیر ۱۸/۲۶۱)

یہاں بھی مجرم کو سزاے موت نہیں دی گئی۔ امام ابن تیمیہ نے اس واقعے کی تاویل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عرفہ دراصل مکہ مار کر اسے قتل ہی کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کا مقصد پورا نہ ہو سکا۔ پھر جب معاملہ عمرو بن العاص کے سامنے پیش ہو گیا تو خود انھوں نے اسے اس لیے قتل نہیں کیا کہ ان کے نزدیک جرم ثابت نہیں ہوا تھا، جبکہ عرفہ نے اس لیے قتل نہیں کیا کہ ایسا کرنا امام کے دائرۂ اختیار میں مداخلت کرنے کے مترادف ہوتا۔ (الصارم المسلول، ص ۱۹۹) یہ بدیہی طور پر ایک عجیب تاویل ہے، کیونکہ اگر عرفہ کا مقصد اسے قتل کرنا تھا اور ایک مکے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکا تھا تو اس کے بعد مزید اقدام کرنے میں کوئی مانع نہیں تھا۔ پھر عمرو بن العاص کے نزدیک جرم ثابت نہ ہونے کی بات بھی درست نہیں، کیونکہ اس صورت میں انھیں عرفہ سے یہ کہنے کے بجائے کہ ہم نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا ہوا ہے، یہ کہنا چاہیے تھا کہ تم اس پر جو الزام لگا رہے ہو، وہ ثابت نہیں۔ عمرو بن العاص تو عرفہ کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہ معاہدے میں گستاخی کی اجازت شامل نہیں، ان کے رد عمل کا جواز تسلیم کر رہے ہیں۔ اس سے جرم کے عدم ثبوت کا نکتہ نکالنا نہایت بعید از قیاس بات ہے۔

روایات میں نقل ہوا ہے کہ ایک موقع پر ابن یامین نضری نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی (اور ایک روایت کے مطابق مروان بن الحکم) کی مجلس میں یہ کہہ دیا کہ یہودیوں کے قبیلہ بنو نضیر کے سردار کعب بن الاشرف کو بدعہدی کرتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ اس پر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ یا مروان بن الحکم سے کہا کہ آپ کی مجلس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بدعہدی کرنے کی نسبت کی جا رہی ہے اور آپ اس پر کوئی انکار نہیں کر رہے! پھر انھوں نے ابن یامین کودھمکی دی کہ میں تمھارے ساتھ کسی مجلس میں نہیں بیٹھوں گا اور اگر کہیں تم مجھے تنہا مل گئے تو میں تمھیں قتل کر دوں گا۔ اس کے بعد ایک موقع پر ابن یامین ان کے قابو میں آ گیا تو انھوں نے چھڑیوں سے اس کی خوب پٹائی کی اور کہا کہ اگر میرے پاس اس وقت تلوار ہوتی تو میں تمھیں قتل کر دیتا۔ (بیہقی، دلائل النبوۃ، ۳/۱۹۳۔ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق ۵۵/۲۷۵)

اس واقعے میں اول تو سیدنا معاویہ یا مروان بن الحکم نے ابن یامین کا کوئی مواخذہ نہیں کیا۔ پھر محمد بن مسلمہ نے قتل کی دھمکی تو دی، لیکن عملاً اسے قتل نہیں کیا۔ اگر ان حضرات کے نزدیک اس جرم پر ہر حال میں سزاے موت کا نفاذ شرعاً لازم ہوتا تو ظاہر ہے کہ وہ مذکورہ طرز عمل اختیار کرنے کے بجائے ہر قیمت پر اس سزا کو ابن یامین پر نافذ کر کے چھوڑتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ واقعہ امام ابن تیمیہ نے بھی ایک ضمنی بحث میں نقل کیا ہے، (الصارم المسلول، ص ۸۹) لیکن اس میں توہین کے مرتکب کو عملاً قتل نہ کیے جانے کی کوئی توجیہ یا تاویل بیان نہیں کی۔ 

امام موسیٰ کاظم روایت کرتے ہیں کہ مدینہ کے عامل زیاد بن عبید اللہ کے دور میں اس نوعیت کا ایک واقعہ پیش آیا اور اس نے مدینہ کے فقہا سے رائے طلب کی تو ربیعۃ الرائے اور بیشتر اہل علم کی رائے یہ تھی کہ مجرم کی زبان کاٹ دی جائے یا کوئی اور تعزیری سزا دے دی جائے، تاہم امام جعفر صادق نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے مابین فرق ہونا چاہیے، چنانچہ ان کی رائے کے مطابق مجرم کو قتل کر دیا گیا۔ (الطوسی، تہذیب الاحکام، ۱۰/۸۴، ۸۵) ان اہل علم کے مکالمے سے واضح ہے کہ وہ اس جرم کو مستوجب حد نہیں بلکہ مستوجب تعزیر سمجھتے تھے، کیونکہ بیشتر اہل علم نے موت کے علاوہ دوسری سزائیں تجویز کیں، جبکہ امام جعفر نے موت کی سزا تجویز کرنے کے حق میں ایک عقلی اور قیاسی استدلال پیش کیا ، حالانکہ حد سمجھنے کی صورت میں انھیں کوئی نقلی دلیل دینی چاہیے تھی۔

o عبد الرزاق اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایوب بن یحییٰ کے سامنے ایک عیسائی کو پیش کیا گیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی۔ انھوں نے اس کے بارے میں اہل علم سے مشورہ طلب کیا۔ عبد الرحمن بن یزید نے انھیں مشورہ دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے، چنانچہ ایوب نے اسے قتل کر دیا۔ پھر انھوں نے یہ معاملہ لکھ کر خلیفہ عبد الملک یا ولید بن عبد الملک کے پاس بھیجا جس نے اس فیصلے کی تصویب کر دی۔ (مصنف عبد الرزاق، ۹۷۰۶) اس واقعے میں بھی ایوب بن یحییٰ کا سزا کے سلسلے میں مشورہ طلب کرنا اور پھر اپنے فیصلے کی توثیق کے لیے امیر المومنین سے رابطہ کرنا یہ بتاتا ہے کہ اہل علم کے ہاں اس جرم پر موت بطور ایک متعین اور لازمی سزا کے معروف نہیں تھی اور وہ اسے ایک اجتہادی مسئلہ سمجھتے تھے۔

’اخبار القضاۃ‘ کے مصنف نے دور تابعین کے جلیل القدر قاضی اور عالم سعد بن ابراہیم کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ان کے سامنے بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان نے محمد بن مسلمہ (جنھوں نے کعب بن الاشرف کو قتل کیا تھا) کی اولاد میں سے ایک آدمی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کعب بن الاشرف کو بدعہدی کرتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ یہ صریحاً ایک گستاخی اور طعن کا جملہ تھا۔ اس پر سعد بن ابراہیم نے وہاں کے حاکم ابن ہشام سے اس کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا اور ان کے مطالبے پر اس شخص کو ایک سو پچاس کوڑے لگائے گئے اور اس کے سر اور ڈاڑھی کے بال مونڈ دیے گئے۔ (اخبار القضاۃ ۱/۱۵۹) 

اس واقعے میں بھی توہین کے مرتکب کو قتل نہیں کیا گیا۔
صحابہ وتابعین کے بعد اب ائمہ مجتہدین کے زاویہ نظر کا جائزہ لیجیے:

فقہاے مالکیہ

امام مالک کا یہ فتویٰ فقہ مالکی کی کتابوں میں منقول ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کو لازمی طور پر قتل کر دیا جائے۔ تاہم امام صاحب کی اپنی تصنیف کردہ کتاب موطا کی کتاب الحدود اورکتاب القضاء میں توہین رسالت پر سزا سے متعلق نہ کوئی روایت بیان کی گئی ہے اور نہ ایک فقہی مسئلے کے طور پر ہی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہی صورت حال ان کے فتاویٰ کے مفصل مجموعے ’المدونہ‘ کی ہے۔ اس میں بے شمار جزوی سے جزوی مسائل کے حوالے سے ان کے فتوے مذکور ہیں، لیکن توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے کوئی ایک جزئیہ بھی بیان نہیں ہوا۔ اس سے واضح ہے کہ یہ سزا ان کے نزدیک ’حدود‘ میں شامل نہیں۔ امام مالک کے زاویہ نظر کے بارے میں ہماری اس رائے کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ چھٹی صدی کے معروف مالکی فقیہ ابن رشد نے اپنی کتاب ’بدایۃ المجتہد‘ میں سرے سے اس جرم یا اس پر کسی سزا کا کوئی ذکر نہیں کیا، جبکہ پانچویں صدی کے جلیل القدر مالکی فقیہ قاضی عیاض کی عبارت سے بھی یہ واضح ہے کہ وہ اسے ’حدود‘ سے الگ ایک سزا سمجھتے ہیں، چنانچہ لکھتے ہیں:


ان ذمتہم لا تسقط حدود الاسلام عنہم من القطع فی سرقۃ اموالہم والقتل لمن قتلوہ منہم وان کان ذلک حلالا عندہم فکذلک سبہم النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقتلون بہ.(نسیم الریاض۶/۲۹۴ ) 
’’اہل ذمہ کے ساتھ معاہدے کی وجہ سے اسلام کی ’حدود‘ مثلاً چوری کی صورت میں ہاتھ کاٹنا اور قتل کی صورت میں قاتل سے قصاص لینا ان سے ساقط نہیں ہوتا۔ (تو جس طرح حدود ساقط نہیں ہوتیں) اسی طرح اگر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوبرا بھلا کہیں گے تو انھیں قتل بھی کیا جائے گا۔‘‘

مذکورہ عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اہل ذمہ کی طرف سے سب وشتم کے ارتکاب کو معاہدہ ذمہ کے لیے ناقض نہ سمجھا جائے تو بھی اس جرم کی پاداش میں ان پر سزاے موت نافذ کرنے میں کوئی قانونی مانع موجود نہیں۔ اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے انھوں نے شریعت کی مقرر کردہ حدود کی مثال پیش کی ہے اور اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ جس طرح چوری اور قتل کے ارتکاب پر ان کا ہاتھ کاٹا جا سکتا اور قصاص لیا جا سکتا ہے اور یہ چیز معاہدے کے منافی نہیں، اسی طرح سب وشتم کے ارتکاب پر بھی مجرم کو قتل کرنے میں کوئی مانع نہیں۔ قاضی عیاض نے یہاں اس سزا کو ’حدود‘ میں شمار کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ چونکہ اہل ذمہ پر حدود کا نفاذ لازم ہے اور سب وشتم پر سزاے موت من جملہ حدود ہے، اس لیے اس کا نفاذ بھی لازم ہے۔ (اگرچہ صاحب ’نسیم الریاض‘ علامہ خفاجی نے اس کا مفہوم یہی سمجھا ہے، تاہم ہماری رائے میں قاضی عیاض کی عبارت اس کو قبول نہیں کرتی)۔ اس کے بجائے انھوں نے اہل ذمہ پر اس سزا کے نفاذ کو حدود کے نفاذ پر قیاس کیا ہے جس سے صاف واضح ہے کہ وہ اسے حدود سے الگ ایک تعزیری سزا تصور کرتے ہیں۔

نویں صدی عیسوی کی چھٹی دہائی میں اندلس میں مسیحی مذہبی راہنما سینٹ یولوجیس کی تحریک پر اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر کے ’’شہادت‘‘ کا مرتبہ پانے کی ایک باقاعدہ تحریک چلائی گئی تھی جس میں پچاس کے قریب مسیحیوں نے مختلف اوقات میں اس جرم کی پاداش میں سزاے موت پائی۔ اس تحریک اور اس میں قتل کیے جانے والے مسیحیوں کی پوری داستان خود سینٹ یولوجیس کے قلم سے تاریخ میں محفوظ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف عام مسلمانوں نے ابتداءً ا اس طرح کے واقعات کو نظر انداز کیا بلکہ مالکی قاضیوں نے بھی بعض مجرموں کو سزاے موت دینے سے گریز کرتے ہوئے انھیں اپنی روش سے باز آنے کا موقع دیا، لیکن پھر ان کی ہٹ دھرمی اور ضد کو دیکھتے ہوئے انھیں سزاے موت دے دی۔ 



فقہاے شافعیہ

امام شافعی نے ’الام‘ میں یہ بات ذکرکی ہے کہ اہل ذمہ کے ساتھ جو معاہدہ کیا جائے، اس میں ان کے ساتھ یہ شرط طے کی جائے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی تعلیمات کے بارے میں کوئی ناروا بات نہیں کریں گے اور اگر ان میں سے کوئی شخص ایسا کرے گا تو اس کو دی جانے والی امان کالعدم سمجھی جائے گی اور حربی قرار پاجانے کی وجہ سے اس کی جان ومال مباح ہو جائے گی۔ (الام، ۴/۱۹۷، ۲۰۶) تاہم امام صاحب نے دوسری بہت سی شرائط کی طرح اس شرط کا ذکر بھی اس عام عقلی اقتضا کے طور پر کیا ہے کہ اہل ذمہ مسلمانوں کے محکوم اور ان کے زیردست ہو کر رہیں گے۔ توہین رسالت کو ازروے شریعت لازماً مستوجب قتل قرار دینے کے لیے انھوں نے احادیث یا آثار سے کوئی استدلال نہیں کیا جس سے واضح ہے کہ وہ اسے ایک اجتہادی اور استنباطی مسئلے کے طو رپر ذکر کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاے شوافع کے ہاں اس ضمن میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ اگر اہل ذمہ کے ساتھ باقاعدہ معاہدے میں یہ شرط طے نہ کی گئی ہو تو آیا کسی ذمی کے توہین رسالت کا ارتکاب کرنے کی صورت میں اسے قتل کیا جائے گا یا نہیں۔ ایک بڑے گروہ کے نزدیک ایسی صورت میں قتل کی سزا نہیں دی جا سکتی۔ (ابو اسحاق الشیرازی، المہذب ۳/۵۰۳)

پھر یہ کہ سب وشتم کو ذمی کی طرف سے معاہدہ توڑنے کے مترادف قرار دینے کے باوجود امام شافعی اسے لازماً قتل کر دینے کے قائل نہیں ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

وان فعل ما وصفنا وشرط انہ نقض لعہد الذمۃ فلم یسلم ولکنہ قال اتوب واعطی الجزیۃ کما کنت اعطیہا او علی صلح اجددہ عوقب ولم یقتل الا ان یکون فعل فعلا یوجب القصاص بقتل او قود فاما ما دون ہذا من الفعل او القول وکل قول فیعاقب علیہ ولا یقتل. (الام ۴/۱۹۹)

’’اگر ذمی کوئی ایسا کام کرے جس کے بارے میں معاہدے میں یہ شرط لگائی گئی ہو کہ اس سے معاہدۂ ذمہ ٹوٹ جائے گا اور پھر اسلام تو قبول نہ کرے لیکن کہے کہ میں توبہ کرتا ہوں اور پہلے کی طرح اب بھی جزیہ دینے کے لیے تیار ہوں یا نئے سرے سے صلح کا معاہدہ کرنا چاہتا ہوں تو اسے سزا تو دی جائے گی، لیکن قتل نہیں کیا جائے گا۔ ہاں اگر اس نے کوئی ایسا جرم کیا ہو جس کی وجہ سے اسے قصاص میں قتل کرنا ضروری ہو تو الگ بات ہے، لیکن اس کے علاوہ کسی بھی فعل یا قول پر اسے سزا تو دی جائے گی، لیکن قتل نہیں کیا جائے گا۔‘‘

امام صاحب نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ معاہدہ توڑنے والے ذمی کو اس کا موقع دیا جائے گا کہ اگر وہ چاہے تو دار الاسلام کو چھوڑ کر بحفاظت کسی دوسرے علاقے میں چلا جائے۔ (الام ۴/۱۸۸)

دسویں صدی کے معروف شافعی عالم امام عبد الوہاب شعرانی (۹۷۳ھ) نے اپنی کتاب ’کشف الغمہ‘ میں اس کی تصریح کی ہے کہ توہین رسالت پر دی جانے والی سزا ایک تعزیری سزا ہے اور حکمران کسی مصلحت کے تحت اسے معاف بھی کر سکتا ہے، چنانچہ ایک شخص کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گستاخانہ رویہ اختیار کرنے اور آپ کی طرف سے اس سے درگزر کرنے کا واقعہ نقل کر کے لکھتے ہیں:

قال العلماء: وفیہ دلیل علی ان من توجہ علیہ تعزیر لحق اللہ تعالیٰ جاز للامام ترکہ.(کشف الغمہ ۲/۱۸۹) ’’علما نے کہا ہے کہ اس واقعے میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص حق اللہ کے تحت کسی تعزیر کا مستحق ہو تو امام کے لیے اسے اس پر نافذ نہ کرنا جائز ہے۔‘‘
فقہاے حنابلہ

فقہاے اربعہ میں سے صرف امام احمد ہیں جن سے شتم رسول پر موت کی سزا کے حق میں کوئی نقلی دلیل بیان کرنا ثابت ہے، چنانچہ انھوں نے بعض مواقع پر اس سوال کے جواب میں مختلف احادیث اور آثار کا حوالہ دیا۔ (مسائل احمد بن حنبل، بروایۃ عبد اللہ، ۱/۴۳۱۔ الصارم المسلول، ص ۵، ۶) تاہم ان کے بیانات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسے ایک استنباطی اور اجتہادی سزا سمجھتے ہوئے احادیث کا حوالہ محض تائیداً دے رہے ہیں۔ ان کے شاگرد حنبل کا بیان ہے:

سمعت ابا عبد اللہ یقول کل من نقض العہد واحدث فی الاسلام حدثا مثل ہذا رایت علیہ القتل، لیس علی ہذا اعطوا العہد والذمۃ.(الصارم المسلول، ص ۵) ’’میں نے امام احمد کو یہ کہتے سنا کہ جو ذمی بھی معاہدہ توڑ دے اور اسلام کے بارے میں اس طرح کے کسی جرم کا مرتکب ہو، میری رائے میں اس کی سزا قتل ہے، کیونکہ ان کے ساتھ معاہدہ اس بات پر نہیں کیا گیا تھا۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ فقہاے حنابلہ نہ صرف یہ کہ اس جرم کے ارتکاب پر عقد ذمہ کے ٹوٹ جانے کے حوالے سے متفق الرائے نہیں ہیں اور ان کے ہاں اس کے بارے میں دو قول پائے جاتے ہیں (ابو یعلیٰ، الاحکام السلطانیہ ۱۵۸، ۱۵۹) بلکہ نقض عہد کو متحقق ماننے کے بعد بھی اس کی سزا کے بارے میں ان کے مابین اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ایک گروہ سزاے موت کو لازم قرار دیتا ہے جبکہ دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ ایسے مجرم کی حیثیت قیدی کی ہے اور حاکم کو اس کو قتل کرنے، غلام بنا لینے، کسی مسلمان قیدی کے ساتھ اس کا تبادلہ کرنے یا کسی معاوضے کے بغیر رہا کر دینے کے وہ تمام اختیارات حاصل ہیں جو کسی بھی غیر مسلم قیدی کے بارے میں ہوتے ہیں۔ (ابن قدامہ، المغنی ۱۰/۶۰۸، ۶۰۹)

محدثین کا زاویہ نگاہ

فقہی مذاہب کے بعد اب ہم محدثین کے زاویہ نظر کا جائزہ لیتے ہیں:

اہل علم جانتے ہیں کہ مدون فقہی مذاہب سے ہٹ کر محدثین کے ہاں احادیث سے فقہی احکام کے استنباط کی ایک مستقل علمی روایت موجود ہے جس کے اپنے علمی خصائص اور امتیازات ہیں اور اس روایت میں معروف فقہی مذاہب کی موافقت کے ساتھ ساتھ کئی منفرد اور جداگانہ رجحانات بھی دکھائی دیتے ہیں۔ محدثین کا طریقہ یہ ہے کہ وہ عام طور پر اپنے فقہی رجحان کی وضاحت موضوع سے متعلق روایات کے انتخاب اور ان پر کوئی عنوان قائم کرنے کے ذریعے سے کرتے ہیں۔ زیر بحث مسئلے میں محدثین کے طرز اور اسلوب کو دیکھنے سے صاف واضح ہوتا ہے کہ وہ توہین رسالت پر موت کی سزا کو حدود میں شمار نہیں کرتے، کیونکہ اگر توہین رسالت پر سزاے موت کو شرعاً لازم مانا جائے تو اس کا منطقی تقاضا، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، یہ بنتا ہے کہ کوئی بھی محدث جب احادیث کی بنیاد پر اسلامی شریعت کے احکام وقوانین کو مرتب کرے تو اس میں اس سزا کا ذکر لازماً کرے، چنانچہ زنا، چوری، قذف، ارتداد اور حرابہ کے جن جرائم کی سزاؤں کے ازروے شریعت مقرر ہونے پر کلاسیکی دور کے اہل علم کا اتفاق ہے، ان کا ذکر فقہ اور حدیث کی ہر کتاب میں ملتا ہے، حتیٰ کہ شراب پینے پر ۸۰ کوڑے لگانے کی جس اجتہادی وقیاسی سزا پر صحابہ کے دور سے ایک عمومی عمل چلا آ رہا ہے، اس کا ذکر بھی سبھی محدثین اور فقہا کرتے ہیں۔ تاہم فقہی ابواب اور عنوانات کے تحت مرتب کیے جانے والے معروف اور متداول مجموعہ ہاے حدیث میں سے بیشتر میں حدود وتعزیرات کے ابواب میں توہین رسالت کی سزا کا سرے سے کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

سب سے پہلے صحاح ستہ کو لیجیے:

صحاح ستہ کی چھ میں سے تین کتابوں یعنی صحیح مسلم، سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ کے متعلقہ ابواب میں توہین رسالت کی سزا سے متعلق نہ کوئی روایت نقل کی گئی ہے اور نہ عنوان قائم کیا گیا ہے، حالانکہ کعب بن اشرف اور ابن خطل کے قتل کے جن واقعات سے اس سزا کے حق میں کسی حد تک استدلال کیا جا سکتا ہے، وہ انھی کتابوں میں دوسرے مقامات پر موجود ہیں۔

امام نسائی اور امام ابوداود نے اپنی سنن میں ’باب الحکم فی من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘ کے تحت ابن عباس، علی اور ابوبکر رضی اللہ عنہم کی روایات نقل کی ہیں جن میں ایسے مجرموں کو قتل کیے جانے کا ذکر ہوا ہے۔ (نسائی، ۴۰۷۰، ۴۰۷۱۔ ابوداود، ۴۳۶۱ تا ۴۳۶۳) تاہم اس سے قطعی طور پر یہ متعین نہیں ہوتا کہ وہ اسے ’حد‘ سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کتابوں میں بعض ایسی سزاؤں، مثلاً لواطت کے مرتکب کو قتل یا سنگسار کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو تعزیرات کے دائرے میں آتی ہیں۔

صحاح ستہ کے مصنفین میں توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے ہمارے قیاس کی سب سے واضح تائید امام بخاری کے ہاں دکھائی دیتی ہے۔ امام بخاری نے کتاب المغازی میں کعب بن اشرف اور ابو رافع کے قتل کی روایات نقل کی ہیں، لیکن کتاب الجزیہ اور کتاب الحدود میں نہ ان میں سے کوئی واقعہ نقل کیا ہے اور نہ اس مسئلے کا ذکر کیا ہے۔ اس کے برخلاف ’کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالہم‘ میں انھوں نے ’باب اذا عرض الذمی وغیرہ بسب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولم یصرح‘ (اگر ذمی یا کوئی دوسرا شخص کنایے کے انداز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہے، لیکن صراحتاً نہ کہے) کا عنوان قائم کر کے اس کے تحت یہ مشہور روایت نقل کی ہے کہ ایک یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے ’السام علیک‘ (تم پر موت آ جائے) کے الفاظ کہے تو صحابہ نے کہا کہ کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ جب اہل کتاب تمھیں سلام کریں تو تم صرف ’وعلیکم‘ کہہ دیا کرو۔ اس کے بعد امام صاحب نے یہ روایت نقل کی ہے کہ اللہ کے ایک نبی کو جب ان کی قوم نے مار مار کر لہولہان کر دیا تو وہ اس وقت بھی ان کے لیے اللہ سے معافی کی دعا مانگتے رہے۔ (بخاری، ۶۵۲۷ تا ۶۵۳۰) صحیح بخاری کے شارحین ابن المنیر اور علامہ عینی نے امام بخاری کے اس اسلوب سے بجا طور پر یہ اخذ کیا ہے کہ وہ زیر بحث مسئلے میں اہل کوفہ کی اس رائے سے اتفاق رکھتے ہیں کہ اگر ذمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے تو اسے قتل نہ کیا جائے بلکہ کوئی دوسری تعزیری سزا دی جائے۔ (عمدۃ القاری ۲۴/۸۲۔ المتواری علیٰ ابواب البخاری ۱/۳۴۶) ابن المنیر لکھتے ہیں:

کان البخاری کان علی مذہب الکوفیین فی ہذہ المسالۃ وہو ان الذمی اذا سب یعزر ولا یقتل ولہذا ادخل فی الترجمۃ حدیث ابن مسعود ومقتضاہ ان خلق الانبیاء علیہم السلام الصبر والصفح الا تری الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ضربہ قومہ فادموہ وہو یدعو لہم بالمغفرۃ فاین ہذا من السب وکان حدیث ابن مسعود یطابق الترجمۃ بالاولویۃ.(المتواری علیٰ ابواب البخاری ۱/۳۴۶) ’’گویا امام بخاری اس مسئلے میں اہل کوفہ کے مذہب پر ہیں اور وہ یہ ہے کہ ذمی اگر سب وشتم کرے تو اسے تعزیری سزا دی جائے اور قتل نہ کیا جائے۔ اسی لیے اما م بخاری نے اس عنوان کے تحت ابن مسعود کی حدیث بھی درج کی ہے جس سے یہ بات اخذ ہوتی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا اخلاق تو صبر اور درگزر کرنا ہے۔ دیکھتے نہیں کہ اس نبی کی قوم نے مار مار کر انھیں لہولہان کر دیا، لیکن وہ ان کے لیے معافی کی دعا کرتے رہے؟ اس تکلیف کے مقابلے میں سب وشتم کی کیا حیثیت ہے؟ یوں ابن مسعود کی حدیث، قائم کردہ عنوان کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔‘‘

ابن حجر رحمہ اللہ نے اگرچہ یہ کہا ہے کہ امام بخاری کا قائم کردہ عنوان ان کے مسلک کو واضح طور پر متعین نہیں کرتا، تاہم اس کے تحت لائی جانے والی روایات کی دلالت کو انھوں نے بھی تسلیم کیا ہے۔ ابن مسعود کی روایت کی شرح میں لکھتے ہیں:

والذی یظہر انہ اشار بایرادہ الی ترجیح القول بان ترک قتل الیہود لمصلحۃ التالیف لانہ اذا لم یواخذ الذی ضربہ حتی جرحہ بالدعاء علیہ لیہلک بل صبر علی اذاہ وزاد فدعا لہ فلان یصبر علی الاذی بالقول اولی ویوخذ منہ ترک القتل بالتعریض بطریق الاولی.(فتح الباری ۱۲/۲۸۲) ’’زیادہ قرین قیاس بات یہ ہے کہ یہ روایت لا کر امام بخاری اس قول کی ترجیح کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہود کو قتل نہ کرنا تالیف قلب کی مصلحت سے تھا، کیونکہ جب نبی نے ان لوگوں کے خلاف جنھوں نے اسے مار مار کر زخمی کر دیا، ہلاکت کی بد دعا نہیں کی بلکہ ان کی اذیت پر صبر کیا اور اس سے بھی بڑھ کر ان کے لیے دعا کی تو زبانی دی جانے والی اذیت پر صبر کرنا زیادہ مناسب ہے اور اسی سے یہ بات بدرجہ اولیٰ اخذ کی جا سکتی ہے کہ اگر ملفوف انداز میں گستاخی کی گئی ہو تو ایسا کرنے والے کو قتل نہ کیا جائے۔‘‘

صحاح ستہ کے علاوہ دوسرے مجموعہ ہاے حدیث کی صورت حال بھی اس سے مختلف نہیں:
امام ابن ابی شیبہ (۲۳۵ھ) نے ’المصنف‘ کی کتاب الحدود اور کتاب السیر میں اس مسئلے سے کوئی تعرض نہیں کیا اور نہ کوئی روایت ہی نقل کی ہے، حالانکہ ذمی کے کسی مسلمان عورت سے جبراً زنا کرنے سے متعلق، جو اس سے کئی درجے کم سنگینی کا حامل جرم ہے، انھوں نے ایک مستقل عنوان قائم کیا اور مجرم کو قتل کرنے سے متعلق روایتیں نقل کی ہیں۔ (۲۸۸۳۷ تا ۲۸۸۳۹) کتاب الحدود کے متصل بعد کتاب الاقضیۃ میں انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے متفرق فیصلے، جن میں سے بعض، جرائم اور ان کی سزاؤں سے متعلق بھی ہیں، جمع کیے ہیں لیکن یہاں بھی اس مسئلے سے متعلق کوئی روایت ذکر نہیں کی۔ البتہ ’کتاب الرد علیٰ ابی حنیفۃ‘ میں انھوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک اثر کے علاوہ شعبی کی ایک مرسل روایت نقل کی ہے جس میں ایک یہودی عورت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنے پر قتل کیے جانے کا ذکر ہوا ہے۔ (۳۶۲۷۹، ۳۶۲۸۰) یہ معلوم ہے کہ ’کتاب الرد علیٰ ابی حنیفۃ‘ کا موضوع فقہی وشرعی احکام کا بیان نہیں، بلکہ امام ابوحنیفہ کے ان فتووں کو جمع کرنا ہے جو ابن ابی شیبہ کے خیال میں احادیث وآثار کے خلاف ہیں۔ اگر ابن ابی شیبہ کی رائے میں یہ سزا کوئی شرعی حد ہے تو اسے اس کی اصل جگہ یعنی کتاب الحدود میں بیان کرنے کے بجائے امام ابو حنیفہ پر اعتراضات کے ضمن میں بیان کرنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ ابن خطل کے قتل کا واقعہ انھوں نے غزوات کے ضمن میں ’حدیث فتح مکۃ‘ کے زیر عنوان نقل کیا ہے۔ (۳۶۹۰۰، ۳۶۹۱۳)
امام دارمی (۲۸۰ھ) نے اپنی ’سنن‘ کی کتاب الحدود اور کتاب السیر میں اس مسئلے کا مطلقاً کوئی ذکر نہیں کیا، حالانکہ ابن خطل کے قتل کا واقعہ اسی کتاب میں دوسری جگہ منقول ہے۔

امام ابو محمد ابن الجارود (۳۰۷ھ) نے احادیث احکام پر مشتمل اپنے مجموعے’المنتقیٰ‘ میں اس مسئلے سے متعلق کوئی روایت نقل نہیں کی۔

امام ابو عوانہ (۳۱۶ھ) نے اپنی ’مسند‘ کی کتاب الحدود اور کتاب السیر میں اس مسئلے سے متعلق کوئی روایت نقل نہیں کی، حالانکہ ابن خطل اور کعب بن الاشرف کے قتل کی روایات دوسرے مقامات پر موجود ہیں۔
امام ابن حبان (۳۵۴ھ) نے اپنی ’صحیح‘ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کرنے کی سزا کے حوالے سے کوئی عنوان قائم نہیں کیا اور نہ کوئی روایت بیان کی ہے، حالانکہ ابن خطل وغیرہ کو قتل کرنے کے واقعات اس کتاب میں دوسرے عنوانات کے تحت منقول ہیں۔

امام دارقطنی (۳۸۵ھ) نے اپنی ’سنن‘ میں ’کتاب الحدود والدیات‘ کے عمومی عنوان کے تحت ابن عباس کی روایت نقل کی ہے جس میں توہین کرنے والی ایک عورت کے قتل کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ (رقم ۳۱۶۹) تاہم آگے چل کر انھوں نے یہی روایت ’کتاب الاقضیۃ والاحکام‘ میں ’باب فی المراۃ تقتل اذا ارتدت‘ کے زیر عنوان نقل کی ہے (رقم ۴۴۵۷) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسے کوئی مسلمان عورت سمجھتے تھے۔ اس صورت میں یہ کہنا درست دکھائی دیتا ہے کہ غیر مسلم کے لیے توہین رسالت کی سزا کے مسئلے کو دارقطنی نے بھی تصریحاً موضوع نہیں بنایا۔ جہاں تک ابن خطل کے واقعے کا ذکر ہے تو وہ کتاب الحدود کے بجائے کتاب الحج کے باب المواقیت میں نقل ہوا ہے۔ (۲/۳۰۱)

امام بیہقی (۴۵۸ھ) نے ’السنن الکبریٰ‘ کی کتاب الحدود میں اس مسئلے کا کوئی ذکر نہیں کیا، البتہ کتاب الجزیہ میں انھوں نے ’باب یشترط علیہم ان لا یذکروا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الا بما ہو اہلہ‘ کے زیر عنوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کرنے پر یہودیہ کے قتل کے علاوہ عرفہ بن حارث کندی کی روایت بھی نقل کی ہے جس میں ذکر ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے پر ایک نصرانی کی ناک توڑ دی۔ (رقم ۱۸۴۸۹، ۱۸۴۹۰) اس واقعے میں توہین کے مرتکب نصرانی کو قتل نہیں کیا گیا تھا، اس لیے امام بیہقی کے اس واقعے کو نقل کرنے سے اگر ان کا یہ رجحان اخذ کیا جائے کہ وہ موت کو لازمی سزا نہیں سمجھتے تھے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ یہ بات مزید اس سے واضح ہوتی ہے کہ آگے چل کر ’جماع ابواب ما خص بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘ کے تحت انھوں نے توہین رسالت کے مرتکب کو قتل کرنے سے متعلق ابن عباس، علی اور ابوبکر رضی اللہ عنہم کی روایات نقل کی ہیں اور ان پر ’باب استباحۃ قتل من سبہ او ہجاہ‘ کا عنوان قائم کیا ہے۔ (۱۳۱۵۳ تا ۱۳۱۵۶) یہاں ’وجوب‘ کے بجائے ’استباحۃ‘ کا لفظ استعمال کرنا ہماری رائے میں اسی رجحان کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ کعب بن الاشرف اور ابن خطل کے واقعات سنن بیہقی میں دوسرے مقامات مثلاً کتاب الحج اور کتاب السیر وغیرہ میں نقل ہوا ہے، لیکن توہین رسالت کی سزا کے ضمن میں ان سے کوئی استدلال نہیں کیا گیا۔

امام عبد الحق الاشبیلی (۵۸۲ھ) نے اپنی کتاب ’الجمع بین الصحیحین‘ میں، جس میں بخاری اور مسلم کی روایات کو ایک خاص انداز میں جمع کیا گیا ہے، اس جرم کی سزا کا یا اس سے متعلق کسی روایت کا کوئی ذکر نہیں کیا، حالانکہ نہ صرف ابن خطل وغیرہ کے واقعات صحیحین میں مروی ہیں بلکہ صحیح بخاری میں ذمی کے سب وشتم پر باقاعدہ ایک باب موجود ہے۔

امام زین الدین عراقی (۸۰۶ھ) نے اپنے مرتب کردہ مجموعہ حدیث اور اس کی شرح ’طرح التثریب فی شرح التقریب‘ میں اس مسئلے سے کوئی تعرض نہیں کیا۔

علامہ احمد عبد الرحمن الساعاتی (۱۳۷۸ھ) نے آخری دور میں ’الفتح الربانی‘ کے عنوان سے مسند احمد کی روایات کی موضوعاتی تبویب اور ان کی شرح کا جو عظیم الشان علمی کام کیا ہے، اس میں بھی توہین رسالت کی شرعی سزا کا مسئلہ کہیں زیر بحث نہیں آیا۔

مذکورہ تفصیل سے واضح ہے کہ جہاں تک توہین رسالت کے جرم پر سزاے موت کے حد یا تعزیر ہونے کا تعلق ہے تو اس حوالے سے فقہاے احناف کے موقف اور صحابہ وتابعین اور ائمہ مجتہدین کے مابین کوئی اختلاف نہیں۔ یہ تمام اہل علم اسے ایک تعزیری سزا ہی سمجھتے ہیں، البتہ جمہور کے نزدیک اس جرم پر ترجیحاً یہی سزا دی جانی چاہیے جبکہ احناف کا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ عمومی قانون کے طور پر سزاے موت کے بجائے کم تر سزاؤں کا نفاذ زیادہ قرین قیاس ومصلحت ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اپنی کتاب ’الصارم المسلول‘ میں سزاے موت کے حد ہونے کا نقطہ نظر مذکورہ ائمہ کے حوالے سے پیش نہیں کیا اور نہ اس پر فقہی مذاہب کے اتفاق واجماع کا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے پوری دیانت داری کے ساتھ نہ صرف فقہاے احناف کا موقف نقل کیا ہے، بلکہ دوسرے فقہی مذاہب میں پائے جانے والے ان داخلی اختلافات کی بھی پوری تفصیل نقل کر دی ہے جن میں سے بعض کا ہم نے اوپر کی سطور میں ذکر کیا ہے۔ امام صاحب نے اس سزاکے ’حد‘ ہونے کا موقف اپنی تحقیق کے طور پر اور اپنے دلائل کی بنیاد پر پیش کیا ہے، چنانچہ علمی دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ اسے انھی کے موقف کے طور پر بیان کیا جائے، نہ یہ کہ اسے جمہور فقہا کی طرف منسوب کر دیا جائے۔

امام ابن تیمیہ کے موقف کا جائزہ

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے موقف کے حق میں جو دلائل پیش کیے ہیں، ان کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے ایک اصولی مقدمہ پیش نظر رہنا چاہیے۔ وہ یہ کہ کسی سزا کو حد قرار دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ خود شارع نے اسے اس حیثیت سے بیان کیا اور اس کی پابندی کو لازم قرار دیا ہو اور شارع کا یہ منشا شرعی نصوص سے کسی ابہام اور کسی قسم کے احتمال کے بغیر ثابت ہو۔

 یہ مقدمہ اس سادہ عقلی اصول پر مبنی ہے کہ شریعت میں کسی بھی حکم کا جس درجے میں اثبات میں مطلوب ہو، نصوص میں اس کی دلیل بھی اسی درجے کی قوی اور واضح ہونی چاہیے۔ یہ معیار دلیل کے ثبوت کے لحاظ سے بھی پایا جانا چاہیے اور معنی ومفہوم پر دلالت کے اعتبار سے بھی۔ مثال کے طور پر علماے کلام یہ کہتے ہیں کہ عقیدے کا اثبات کسی ظنی دلیل سے نہیں ہو سکتا، چنانچہ وہ کسی بات کو عقائد کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے قرآن مجید کی نص یا متواتر حدیث سے کم تر کسی دلیل کو کافی نہیں سمجھتے۔ اسی طرح فقہا یہ کہتے ہیں کہ کسی دینی حکم کو ’سنت‘ یعنی دین کے معروف اور معمول بہ حکم کے طور پر قبول کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ تواتر کے درجے میں شارع سے ثابت ہو، چنانچہ عموم بلویٰ کے معاملات میں وہ خبر واحد کو کسی حکم کے اثبات کے لیے کافی نہیں سمجھتے۔

دلالت کے قطعی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی آیت یا حدیث سے جو حکم یا شریعت میں اس حکم کا جو درجہ اخذ کیا جائے، آیت یا حدیث میں ا س کے علاوہ کوئی دوسرا احتمال نہ پایا جاتا ہو، کیونکہ اگر کسی دوسرے معنی کا احتمال پایا جائے گا تو مطلوبہ مفہوم پر دلالت میں وہ نص واضح اور قطعی نہیں رہے گی۔ مثال کے طور پر نماز وتر کے بارے میں احادیث میں بے حد تاکید بیان ہوئی ہے، لیکن جمہور فقہا نے ان تمام تاکیدات کے باوجود اس نماز کو فقہی اعتبار سے ’واجب‘ قرار نہیں دیا، کیونکہ ان کی رائے میں بعض دیگر دلائل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شارع پانچ فرض نمازوں کے علاوہ کسی زائد نماز کو لوگوں پر قانونی اعتبار سے لازم نہیں کرنا چاہتا۔

حدود وتعزیرات کے باب میں اس کی مثال یہ ہے کہ متعدد روایات میں یہ بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص شراب نوشی کے جرم میں چوتھی مرتبہ پکڑا جائے تو اسے قتل کر دیا جائے (سنن ابی داود، ۴۴۸۲ تا ۴۴۸۴) تاہم جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ایک شخص کو چوتھی مرتبہ پکڑ کر آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے اسے قتل نہیں کیا۔ (ترمذی، ۱۴۴۴) اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا منشا اس صورت میں قتل کو لازم قرار دینا نہیں تھا، چنانچہ جمہور فقہا بھی اس کو لازم نہیں سمجھتے۔

اس تمہید کی روشنی میں جب ہم توہین رسالت کے ارتکاب پر سزاے موت کو شرعاً لازم قرار دینے کے حق میں امام ابن تیمیہ کے استدلال کا جائزہ لیتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ وہ ان کے دعوے کے اثبات کے لیے کسی طرح کافی نہیں۔ امام صاحب نے اس ضمن میں آیات سے بھی استدلال کیا ہے اور احادیث سے بھی۔ جہاں تک آیات کا تعلق ہے تو اتنی بات تو بالکل واضح ہے کہ قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرے، اسے قتل کر دیا جائے۔ اس حوالے سے امام صاحب کا استدلال سراسر استنباطی ہے اور انھوں نے یہ نتیجہ کہ توہین رسالت کے مرتکب کو لازماً قتل کر دینا چاہیے، مختلف آیات کے مقتضا اور لازم کے طور پر اخذ کیا ہے۔ یہاں ہم نمونے کے طور پر بعض آیات سے ان کے استدلال کا جائزہ لیں گے۔

سورۂ توبہ کی آیت ۲۹ میں یہ کہا گیا ہے کہ اہل کتاب سے قتال کر کے انھیں محکوم بنا لیا جائے، تاآنکہ وہ ذلت اور پستی کے ساتھ مسلمانوں کے مطیع ہو کر رہنا قبول کر لیں۔ امام ابن تیمیہ نے اس سے یہ اخذ کیا ہے کہ جب کوئی ذمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو وہ قرآن کی مذکورہ ہدایت کی خلاف ورزی کرتا ہے، اس لیے اسے قتل کرنا واجب ہے۔ جہاں تک اس جرم کے ’صغار‘ کے منافی ہونے کا تعلق ہے تو یہ بات بالکل درست ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ایسے مجرم کے ساتھ معاملہ کیا کیا جائے اور یہ کہ اس ’صغار‘ کو قائم رکھنے کی واحد صورت کیا قرآن کی نظر میں یہی ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے؟ مثال کے طور پر اگر اس جرم پر اس کے ہاتھ پاؤں یا زبان کاٹ دی جائے یا اسے برسر عام کوڑے لگائے جائیں یا اس کا منہ کالا کر کے اسے گلیوں بازاروں میں پھرایا جائے تو کیا یہ سب صورتیں ’صغار‘ کے مقصود کو پورا نہیں کرتیں اور سزاے موت ہی اس کا واحد طریقہ ہے؟ خاص طور پر اگر جرم کا مرتکب اس پر ندامت ظاہر کرے اور دوبارہ اطاعت اور فرماں برداری کا رویہ اختیار کرنے پر آمادگی ظاہر کرے تو کیا پھر بھی قرآن کا منشا یہ ہے کہ اسے لازماً قتل ہی کیا جائے؟ ظاہر ہے کہ آیت میں ان سوالات سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا اور یوں اصل سوال کا جواب سراسر امام صاحب کے اجتہاد اور استنباط پر منحصر ہو جاتا ہے جسے علمی اعتبار سے کسی طرح بھی منصوص نہیں کہا جا سکتا۔

سورۂ توبہ کی آیت ۱۲ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر مشرکین تمھارے ساتھ کیے گئے عہد وپیمان کو توڑ دیں اور تمھارے دین میں طعن کریں تو ان ائمہ کفر کے ساتھ قتال کرو۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے دین میں طعن کرنے پر مشرکین کے ساتھ قتال کرنے کا حکم دیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب معاہد کو بھی قتل کرنا ضروری ہے۔ بظاہر یہ استدلال بہت قوی لگتا ہے، چنانچہ امام ابوبکر الجصاص نے بھی اس آیت کی تفسیر میں اس نقطہ نظر کے حق میں رجحان ظاہر کیا ہے۔ (احکام القرآن ۴/۲۷۵) تاہم دو وجوہ سے یہ استدلال نتیجہ خیز نہیں۔ ایک یہ کہ یہاں طعن فی الدین کا ذکر تنہا نہیں بلکہ مشرکین کی مجموعی روش کے ضمن میں معاہدۂ صلح توڑ کر مسلمانوں کے خلاف اقدام جنگ کرنے کے ساتھ ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جن مشرک قبائل کے ساتھ معاہدے کیے گئے ہیں، اگر وہ اپنے معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ مسلمانوں کے خلاف برسرجنگ ہو جائیں اور اپنی اسلام دشمنی کا دوبارہ اظہار کرنے لگ جائیں تو پھر کوئی لحاظ کیے بغیر کفر کے ان سرغنوں کے خلاف جنگ شروع کر دی جائے۔ گویا بنیادی طور پر یہ ہدایت ان کفار سے متعلق ہے جو معاہدہ توڑ کر مد مقابل اور حریف کے طو رپر مسلمانوں کے سامنے آ جائیں اور زور بازو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی زبانوں کو بھی اسلام دشمنی میں دراز کر دیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ایک ذمی کو بھی، جو ہر اعتبار سے مسلمانوں کا محکوم ومقہور اور ان کے زیر نگیں ہو، طعن فی الدین پر قتل کرنا لازم ہے، کئی اور مقدمات شامل کیے بغیر ممکن نہیں جو سراسر استنباطی ہیں اور آیت میں ان کا کوئی ذکر نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک بالواسطہ اور اجتہادی طرز استدلال ہے جو اس سزا کو ’حد‘ ثابت کرنے کے لیے غیر موزوں بھی ہے اور ناکافی بھی۔ دوسرا نکتہ جسے امام صاحب نے نظر انداز کر دیا ہے، یہ ہے کہ آیت میں ان ائمہ کفر کے خلاف قتال کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا کہ وہ اپنی روش سے باز آجائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں ہر حال میں قتل کرنے کا نہیں، بلکہ ان سے شر وفساد کی طاقت چھین کر انھیں بے دست وپا کر دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب اگر اس سے اہل ذمہ کے لیے کوئی ہدایت اخذ کی جائے تو وہ بدیہی طور پر یہ بنتی ہے کہ اگر وہ بھی طعن فی الدین کی روش سے باز آ جائیں اور مطیع اور زیر دست بن کر رہنا قبول کر لیں تو ان سے بھی کوئی تعرض نہ کیا جائے، حالانکہ امام صاحب کا دعویٰ یہ ہے کہ ذمی اگر توہین رسالت کا مرتکب ہو تو اس کی توبہ اور معذرت کا کوئی اعتبار نہیں اور اسے بہرحال قتل کر دینا ہی ازروے شریعت واجب ہے۔ گویا آیت سے جو راہنمائی حاصل ہوتی ہے، امام صاحب اس کے بالکل برعکس بات کو آیت کا مدعا قرار دے رہے ہیں۔

سورۂ احزاب کی آیت ۵۷ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں، اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ امام صاحب نے اس آیت کو بھی اپنے مدعا کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن بالبداہت واضح ہے کہ ان کا اصل دعویٰ یعنی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کو دنیوی قانون کے اعتبار سے لازماً قتل کر دینا چاہیے، اس سے ثابت نہیں ہوتا، بلکہ اگر اس آیت کو سورہ کے پورے پس منظر اور سیاق وسباق کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ امام صاحب کے دعوے کے حق میں نہیں، بلکہ اس کے خلاف دلیل بنتی ہے۔

سورۂ احزاب میں منافقین کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین وتذلیل اور آپ کو ایذا پہنچانے کی بعض انتہائی سنگین صورتوں کا ذکر ہوا ہے۔ منافقین کا یہ ٹولہ ہجرت مدینہ کے بعد سے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت تک مسلسل مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں مصروف رہا اور اس نے مسلمانوں کو اندر سے زک پہنچانے اور ان کی اخلاقی ساکھ کو مجروح کرنے کے لیے عام اہل ایمان کے ساتھ ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اور آپ کے اہل خانہ کو بھی شرم ناک اتہامات اور الزامات کا ہدف بنا رکھا تھا۔ اس ناپاک گروہ نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت تراشی کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ کی مطلقہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کرنے پر آپ کے خلاف اعتراضات کا طوفان کھڑا کیا اور صدقات کی تقسیم کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کو ہدف تنقید بنایا۔ احزاب کی آیت ۵۷ میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اسی فتنہ انگیزی پر یہ وعید سنائی ہے کہ:

إِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُونَ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَأَعَدَّ لَہُمْ عَذَاباً مُّہِیْناً. ’’جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں، اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

تاہم قرآن نے اس تمام تر شر انگیزی کے باوجود ان لوگوں کو راہ راست اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے انھیں اصلاح احوال کی مہلت دی ہے۔ ارشاد ہوا ہے:

لَءِن لَّمْ یَنتَہِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوبِہِم مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِیْ الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِہِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُونَکَ فِیْہَا إِلَّا قَلِیْلاً، مَلْعُونِیْنَ أَیْْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِیْلاً.(آیت ۶۰، ۶۱) ’’اگر یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینے میں فتنہ انگیزی کرنے والے گروہ باز نہ آئے تو ہم تمھیں ان کے خلاف بھڑکا دیں گے، پھر ان کے لیے مدینے میں تمھارے ساتھ رہنے کا موقع کم ہی ہوگا۔ یہ ملعون قرار دیے جائیں گے اور جہاں ملیں گے، ان کو پکڑا جائے گا اور بدترین طریقے سے قتل کر دیا جائے گا۔‘‘

آیات سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کے مواخذے کے لیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل بیت بلکہ مخلص اہل ایمان کی پوری جماعت کے خلاف مسلسل ایذا رسانی، تہمت تراشی اور سازشوں میں مصروف تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمیت اہل ایمان کے پورے گروہ کی عزت وآبرو کو بے ہودہ الزام تراشیوں کا نشانہ بنائے ہوئے تھا ان کے مواخذے کے لیے بھی انھیں کوئی مہلت اور اصلاح کا موقع دیے بغیر فوری طور پر اقدام کرنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ انھیں تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اپنی روش کو بدلیں، ورنہ انجام کار وہ وقت آ جائے گا کہ انھیں بے دریغ قتل کیا جائے گا اور پھر انھیں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ اس سے واضح ہے کہ توہین رسالت کے مجرموں کو تہدید وتنبیہ کے ذریعے سے اس روش سے باز رکھنے اور راہ راست پر آنے کا کوئی موقع دیے بغیر ان پر ہر حال میں سزاے موت نافذ کرنے کا جو مدعا امام صاحب قرآن مجید کی ان آیات سے اخذ کرنا چاہتے ہیں، قرآن اس سے بالکل مختلف بلکہ اس کے متضاد بات کہہ رہا ہے۔
یہی بات سورۂ مائدہ کی آیت ۳۳ سے بھی واضح ہوتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے اللہ اور رسول اور مسلمانوں کے نظم اجتماعی کے خلاف سنگین ترین جرم یعنی محاربہ کی سزا بیان کی ہے۔ محاربہ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی گروہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف سرکشی اور عناد میں اس درجے کو پہنچ جائے کہ اللہ اور اس کی رسول کی اتھارٹی کو چیلنج کرنا شروع کر دے۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے جرم کی نوعیت کے لحاظ سے جہاں مجرموں کو عبرت ناک طریقے سے قتل کرنے اور سولی چڑھانے کی سزائیں بیان کی ہیں، وہاں جرم کی نوعیت کے لحاظ سے اس سے کم تر سزاؤں یعنی ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دینے یا محض علاقہ بدر کر دینے کی سزاؤں کا بھی ذکر کیا ہے۔

آیات کے بعد اب احادیث کا جائزہ لیجیے:

سب سے پہلے تو ان روایات کو دیکھیے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف شاتم رسول کو قتل کرنے کا قولی حکم منسوب کیا گیا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من سب الانبیاء قتل ومن سب الاصحاب جلد.(طبرانی، المعجم الصغیر، ۶۵۹) ’’جو شخص انبیا کو برا بھلا کہے، اسے قتل کر دیا جائے اور جو میرے صحابہ کے بارے میں زبان طعن دراز کرے، اسے کوڑے لگائے جائیں۔‘‘

اس کی سند میں عبید اللہ بن محمد العمری ہے جسے امام نسائی نے کذاب قرار دیا ہے، جبکہ امام ذہبی نے مذکورہ روایت کو اس کے مناکیر میں شمار کیا ہے۔ (مجمع الزوائد ۶/۲۶۰۔ لسان المیزان، ۴/۱۱۲)
ابن تیمیہ نے یہی روایت ائمہ اہل بیت کی سند سے بھی نقل کی ہے، لیکن خود ہی اس پر یہ تبصرہ بھی کر دیا ہے کہ:

وفی القلب منہ حزازۃ فان ہذا الاسناد الشریف قد رکب علیہ متون منکرۃ والمحدث بہ عن اہل البیت ضعیف.(الصارم المسلول، ص ۸۲) ’’دل میں اس کی طرف سے کھٹک ہے، کیونکہ ان عظیم المرتبت لوگوں کی سند کئی منکر حدیثوں کے ساتھ جوڑ دی گئی ہے اور اسے اہل بیت سے نقل کرنے والا راوی ضعیف ہے۔‘‘

ایک اور ر وایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من سب اللہ او احدا من الانبیاء فاقتلوہ. ’’جو شخص اللہ یا اس کے کسی نبی کو برا بھلا کہے، اسے قتل کر دو۔‘‘

تاہم اس کے ایک راوی عصمہ بن محمد بن ہشام کو ابو حاتم، یحییٰ بن معین، عقیلی اور دارقطنی نے کذاب اور وضاع کہا ہے جبکہ ذہبی نے مذکورہ روایت کو اس کے اباطیل کے ایک نمونے کے طور پر پیش کیا ہے۔ (لسان المیزان ۴/۱۷۰۔ میزان الاعتدال ۵/۸۷)

اس باب میں سنداً صحیح یا قابل اعتنا روایات میں جو کچھ نقل ہوا ہے، وہ چند واقعات ہیں جن سے بالعموم استدلال کیا جا تا ہے۔ یہاں ہم ان روایات کا ایک جائزہ پیش کریں گے۔

ان واقعات کو نوعیت کے اعتبار سے تین قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

پہلی قسم میں وہ واقعات آتے ہیں جن میں ایسے افراد کو قتل کرنے کا ذکر ہوا ہے جن کی فرد قرارداد جرم میں سب وشتم کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے جرائم مثلاً دشمنوں کو مسلمانوں کے خلاف ابھارنا اور جنگی سازشیں کرنا وغیرہ بھی شامل تھا۔ یہ واقعات حسب ذیل ہیں:

کعب بن اشرف یہود کے قبیلہ بنو نضیر کا لیڈر اور شاعر تھا جسے غزوۂ بدر کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو بھیج کر خفیہ طور پر قتل کروا دیا تھا۔ (ابو داؤد، ۲۶۰۶۔ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۳/۳۱۸ تا ۳۲۵) حدیث وسیرت کی کتابوں میں اس کے جو جرائم نقل ہوئے ہیں، انھیں مولانا مودودی نے یوں بیان کیا ہے:

’’اسے اسلام اور خاص کر داعئ اسلام سے سخت عداوت تھی۔ آپ کی شان میں ہجویہ اشعار کہتا، مسلمان عورتوں کے خلاف نہایت گندے عشقیہ قصائد کہتا اور کفار قریش کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اشتعال دلاتا تھا۔ جب جنگ بدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح ہوئی تو ا س کو سخت رنج ہوا اور شدت غضب میں پکار اٹھا کہ : ’’.....خدا کی قسم! اگر محمد نے قریش کو واقعی شکست دے دی ہے تو زمین کا پیٹ ہمارے لیے اس کی پیٹھ سے زیادہ بہتر ہے۔‘‘ پھر وہ مدینہ سے مکہ پہنچا اور وہاں نہایت درد انگیز طریقہ سے قریش کے مقتولوں کے مرثیے کہہ کہہ کر ان کے عوام اور سرداروں کو انتقام کا جوش دلانے لگا۔ ...... اس نے ایک جماعت کے ساتھ مل کر یہ انتظام کیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر بلائے اور چپکے سے قتل کرا دے۔ ..... اس کے جرائم کی فہرست کو ا س سازش قتل نے مکمل کر دیا اور اس کے بعد اس کے کشتنی ہونے میں کوئی کسر باقی نہ رہی۔ ایک شخص اپنے قومی معاہدہ کو توڑتا ہے، مسلمانوں کے دشمنوں سے سازباز کرتا ہے، مسلمانوں کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکاتا ہے اور مسلمانوں کے امام کو قتل کرنے کی خفیہ سازشیں کرتا ہے۔ ایسے شخص کی سزا بجز قتل کے اور کیا ہو سکتی ہے؟‘‘(الجہاد فی الاسلام ص ۳۱۱، ۳۱۲)

ابو رافع بنو نضیر کا سردار تھا۔ یہ ان لوگوں میں سے تھا جنھوں نے قریش اور عرب کے دیگر قبائل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑکانے اور متحد ہو کر مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کرنے میں سرگرم کردار ادا کیا تھا۔ ۵ ہجری میں غزوۂ احزاب انھی کوششوں کے نتیجے میں پیش آیا اور جنگ کے ختم ہو جانے کے فوراً بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عتیک اور ان کے ساتھیوں کے ذریعے سے ابو رافع کو قتل کرا دیا۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۴/۲۳۴ تا ۲۳۷)

فتح مکہ کے موقع پر جن افراد کو کسی قسم کی کوئی رعایت دیے بغیر قتل کرنے کا حکم دیا گیا، ان میں ابن خطل بھی شامل تھا۔ اس شخص نے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر اسے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے عامل بنا کر بھیجا، لیکن اس نے اپنے ساتھ جانے والے غلام کو راستے میں قتل کر دیا اور پھر مرتد ہو کر مشرکین کے ساتھ جا ملا۔ اس کے بعد اس کی دو لونڈیاں معمول کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو پر مشتمل اشعار گایا کرتی تھیں۔ (ابن حجر، فتح الباری، ۴/۶۱) اس طرح ابن خطل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے ساتھ ساتھ قتل اور بدعہدی جیسے جرائم کا بھی مرتکب ہوا تھا۔ چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ ابن خطل جان بچانے کے لیے کعبے کے غلاف کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، لیکن آپ نے اسے امان نہیں دی اور فرمایا کہ اسے قتل کر دو۔ (بخاری، ۱۷۱۵)
مذکورہ واقعات، جیسا کہ بیان کردہ تفصیل سے واضح ہے، سب وشتم کے سادہ واقعات نہیں تھے۔ یہ سب افراد کھلم کھلا مسلمانوں کے دشمن، معاند اور محارب تھے، چنانچہ ان کے قتل سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ہر وہ شخص جس کی زبان سے کسی بھی موقع پر سب وشتم کا کوئی کلمہ صادر ہو جائے، واجب القتل ہے، بدیہی طور پر درست نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف حنفی فقہا نے ان واقعات سے اس استدلال کو درست تسلیم نہیں کیا، بلکہ جن محدثین نے ان واقعات کو اپنے مرتب کردہ مجموعوں میں نقل کیا ہے، ان میں سے کسی نے بھی ان سے توہین رسالت پر سزاے موت کے ضمن میں استدلال نہیں کیا۔ علامہ عینی لکھتے ہیں:

الجواب فی ہذا کلہ انہ لم یقتلہم بمجرد سبہم وانما کانوا عونا علیہ ویجمعون من یحاربونہ ..... علی ان ہولاء کلہم لم یکونوا من اہل الذمۃ بل کانوا مشرکین یحاربون اللہ ورسولہ.(عمدۃ القاری ۲۴/۸۲) ’’ان سب واقعات سے استدلال کا جواب یہ ہے کہ آپ نے ان افراد کو محض سب وشتم کی وجہ سے قتل نہیں کیا۔ یہ آپ کے خلاف دشمن کی مدد کرتے اور آپ کے ساتھ جنگ کرنے والوں کو اکٹھا کرتے تھے۔ مزید یہ کہ یہ سب لوگ اہل ذمہ نہیں، بلکہ مشرک تھے جو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار تھے۔‘‘

جلیل القدر مالکی محدث اور فقیہ ابن عبد البر نے ابن خطل کے واقعے سے استدلال پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے:

وزعم بعض اصحابنا المتاخرین ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انما قتل ابن خطل لانہ کان یسبہ .... ولو کان العلۃ فی قتلہ ما ذکرہ ہذا القائل ما ترک منہم من کان یسبہ وما اظن احدا منہم امتنع فی حین کفرہ ومحاربتہ لہ من سبہ وجعل القائل ہذا حجۃ لقتل الذمی اذا سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہذا لا یجوز عند احد علمتہ من العلماء ان یقیس الذمی علی الحربی لان ابن خطل فی دار حرب ولا ذمۃ لہ .... علی ان ابن خطل کان قد قتل رجلا من الانصار مسلما ثم ارتد کذالک ذکر اہل السیر وہذا یبیح دمہ عند الجمیع.(التمہید ۶/۱۶۷) ’’ہمارے بعض متاخرین اصحاب نے یہ کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن خطل کو اس لیے قتل کیا کہ وہ آپ کو برا بھلا کہتا تھا، ..... حالانکہ اگر اس کے قتل کی علت وہ ہوتی جو ان حضرات نے بیان کی ہے تو آپ سب وشتم کرنے والے کسی شخص کو نہ چھوڑتے۔ میرے خیال میں تو کفار میں سے کوئی بھی شخص اپنے کفر اور آپ کے خلاف برسرپیکار ہونے کے زمانے میں آپ کو برا بھلا کہنے سے باز نہیں رہا ہوگا۔ ان حضرات نے اس واقعے کو اس بات کی دلیل بنایا ہے کہ اگر ذمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا، حالانکہ میرے علم کے مطابق علما میں سے کسی کے نزدیک بھی یہ جائز نہیں کہ ذمی کو حربی پر قیاس کیا جائے، کیونکہ ابن خطل تو دار الحرب میں تھا اور اسے کوئی امان حاصل نہیں تھی۔ ..... مزید برآں ارباب سیر کے بیان کے مطابق ابن خطل نے ایک انصاری مسلمان کو قتل کیا تھا اور پھر مرتد بھی ہو گیا تھا اور اس جرم کی وجہ سے وہ سب کے نزدیک مباح الدم ہو گیا تھا۔‘‘

ذیل کے واقعات بھی، جن سے امام ابن تیمیہ نے استدلال کیا ہے، اسی نوعیت کے ہیں:
عصماء بنت مروان بنو خطمہ کی ایک عورت تھی جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں نہایت توہین آمیز اشعار کہے تھے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور اسلام پر طعنہ زنی کے علاوہ لوگوں کو آپ کے خلاف بھڑکاتی بھی رہتی تھی۔ چنانچہ اسی کی قوم سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی عمیر بن عدی نے اسے قتل کر دیا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے ان کے اس فعل کی تحسین فرمائی۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۶/۴۹، ۵۰۔ الصارم المسلول، ص ۹۴)

ابو عفک بنو عمرو بن عوف کا ایک یہودی بوڑھا تھا اور اپنے اشعار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیب جوئی کرتا اور آپ کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتا تھا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پرسالم بن عمیر نے اسے قتل کر دیا۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۶/۴۸۔ علی بن برہان الدین الحلبی، السیرۃ الحلبیۃ، ۳/۱۴۶)

عبد اللہ بن ابی سرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب تھا، لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد وہ مرتد ہو کر دوبارہ مشرکین مکہ کے ساتھ جا ملا۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا پردازی کی اور اپنی طرف سے ایک بات گھڑ کر کلام الٰہی کے استناد میں شبہہ ڈالنے اور لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ قرآن منزل من اللہ نہیں ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن افراد کو عام معافی سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے قتل کر دینے کا حکم دیا، ان میں یہ بھی شامل تھا، تاہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پرزور اصرار اور سفارش پر آپ نے اسے معاف کر دیا۔ (الصارم المسلول، ص ۱۰۸)



بعض افراد اسلام دشمنی میں اس پستی پر اتر آئے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے خواتین تک کو بدسلوکی کا نشانہ بنایا، چنانچہ ایسے افراد کو بھی قتل کرنے کا حکم دیا گیا۔ مثال کے طور پر ہبار بن الاسود نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو، جب وہ مکہ سے مدینہ روانہ ہو رہی تھی، اس طرح ڈرایا دھمکایا کہ خوف سے ان کا حمل ضائع ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جرم میں اس کے قتل کو مباح قرار دے دیا اور فرمایا کہ وہ جہاں ملے، اسے آگ میں جلا دیا جائے، لیکن پھر فرمایا کہ آگ کا عذاب اللہ ہی کے شایان شان ہے، اس لیے اگر وہ ملے تو ایک ایک کر کے اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۳/۲۰۵۔ مصنف عبد الرزاق، ۹۴۱۷) تاہم بعد میں اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اسی طرح عباس بن عبد المطلب سیدہ فاطمہ اور ام کلثوم کو مکہ سے مدینہ لے جا رہے تھے تو حویرث بن نقیذ نے چوٹ لگا کر دونوں خواتین کو زمین پر گرا دیا۔ جب مکہ فتح ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حویرث کو مباح الدم قرار دیا جس پر سیدنا علی نے اس کی گردن اڑا دی۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۵/۷۱، ۷۲)

مذکورہ تمام مجرموں کو دی جانے والی سزا دراصل اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاربہ کی سزا تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات میں اس جرم کا ارتکاب کرنے والے بدیہی طور پر اس سزا کے زیادہ مستحق تھے، اس لیے ان واقعات سے (جن میں جرم یا تو مرکب تھا اور سب وشتم کے علاوہ دوسرے سنگین جرائم بھی مجرموں کے نامہ اعمال میں درج تھے اور یا مجرم کا رویہ ایسی سرکشی اور عناد کا مظہر تھا کہ اس سے صرف نظر کرنا اسلام اور مسلمانوں کے سیاسی مصالح کے تناظر میں مناسب نہیں تھا) عقل ومنطق کے سادہ اصول کے مطابق یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ محض سب وشتم کے مجرم کو بھی ہرحال میں قتل کرنا لازم ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب کہ مجرم کی معاشرتی حیثیت ناقابل التفات ہو یا جرم کے اثرات بہت محدود ہوں یا مجرم اپنے کیے پر نادم اور معذرت خواہ ہو۔

امام ابن تیمیہ نے بعض ایسے واقعات سے بھی استدلال کیا ہے جن میں عین میدان جنگ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے مرتکب کو قتل کرنے کا ذکر ہوا ہے۔ مثلاً:

ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ غالباً جنگ خیبر میں ایک دشمن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تو آپ نے فرمایا کہ میرے دشمن سے کون نمٹے گا؟ اس پر زبیر آگے بڑھے، اسے للکارا اور پھر اسے قتل کر دیا۔ (مصنف عبد الرزاق، ۹۷۰۴)

مالک بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ لڑائی میں اس کا سامنا اپنے باپ سے ہوا جو مشرکوں کی صف میں تھا۔ اس کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی بے ہودہ بات کہی جسے وہ برداشت نہ کر سکا اور اس نے اپنے باپ کو قتل کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو اس پر کسی ناراضی کا اظہار نہیں کیا۔ (الصارم المسلول، ص ۱۴۶)

یہ دونوں واقعات میدان جنگ کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ حالت جنگ میں ایک دشمن کا یوں للکار کر اور چیلنج کے انداز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنا اور مسلمانوں کی غیرت کو چیلنج کرنا ایک بالکل مختلف نوعیت رکھتا ہے۔ ایسے شخص کو تو میدان جنگ میں دشمن کی صف میں شامل ہونے کی وجہ سے ویسے ہی قتل کرنا جائز ہے۔ اس کے ساتھ اگر وہ اس طرح کے شنیع فعل کا ارتکاب کرتا ہے تو یہ گویا دشمنی اور عناد کی انتہا ہے، چنانچہ ایسے لوگوں کو اگر قتل کیا جائے تو یہ بات ہر اعتبار سے قابل فہم ہے، لیکن ان تمام پہلووں کو نظر انداز کر کے اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا منطقی اعتبار سے درست نہیں کہ کوئی شخص کسی بھی کیفیت میں اور کسی بھی انداز میں سب وشتم کا مرتکب ہو تو اسے لازماً قتل کرنا شریعت کا حکم ہے۔

دوسری قسم کی روایات وہ ہیں جن میں سب وشتم اور توہین وتنقیص کو وطیرہ اور معمول بنا لینے والے مجرموں کا ذکر ہوا ہے۔ یہ واقعات حسب ذیل ہیں:

علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا کرتی اور آپ کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی۔ ایک دن ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے قتل کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔ (ابوداود، ۴۳۶۲)

ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کی لونڈی، جو اس کے بچوں کی ماں بھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی اور آپ کی توہین کیا کرتی تھی اور اپنے مالک کے منع کرنے اور ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود اس سے باز نہیں آتی تھی۔ ایک دن اسی بات پر اس نے اشتعال میں آ کر اسے قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں یہ بات آئی تو آپ نے اس کو بلا کر پوچھ گچھ کی اور پھر اس کی وضاحت سننے کے بعد فرمایا کہ: ’الا اشہدوا ان دمہا ہدر‘ یعنی گواہ رہو کہ اس عورت کا خون رائیگاں ہے۔ (ابو داؤد، ۴۳۶۱)

(اس واقعے کے بارے میں محدثین کے ہاں اختلاف رائے ہے۔ بعض محدثین اس واقعے اور سابقہ روایت میں بیان ہونے والے واقعے کو ایک ہی سمجھتے ہیں جبکہ بعض کی رائے میں یہ دو الگ الگ واقعات ہیں۔ )

اسی سے ملتا جلتا واقعہ عمیر بن امیہ کا ہے۔ ان کی بہن مشرک تھی اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے بارے میں سب وشتم کرکے عمیر کو اذیت پہنچانے کو ایک وطیرہ بنا رکھا تھا۔ اس کے اس رویے سے تنگ آ کر ایک دن عمیر نے اسے قتل کر دیا اور پھر جب انھیں خدشہ ہوا کہ ان کے علاوہ کسی اور آدمی کو قاتل سمجھ کر قتل کر دیا جائے گا تو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہو کر سارا معاملہ بیان کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صورت حال معلوم ہونے کے بعد اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔ (مجمع الزوائد ۶/۲۶۰۔ ابن ابی عاصم، الدیات، ۱/۷۳)

فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن خطل کی ان دونوں لونڈیوں کو بھی قتل کرنے کا حکم دیا تھا جو ابن خطل کے کہنے پر گانا بجانے کی محفلیں سجاتی تھیں اور ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہجویہ اشعار گایا کرتی تھیں۔ ان کے ساتھ ساتھ سارہ نام کی ایک لونڈی کے بارے میں بھی آپ نے یہی حکم دیا جو ان مغنیہ لونڈیوں کو ہجویہ اشعار مہیا کیا کرتی تھی۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، ۵/۷۰، ۷۱) ان عورتوں کا جرم یقیناًرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو گوئی تھا، لیکن واقعے کی تفصیلات سے واضح ہے کہ انھوں نے اسے ایک مستقل مشغلہ بنا رکھا تھا اور اپنے خبث باطن اور عناد کو ایک باقاعدہ مہم کی صورت دے دی تھی۔

مذکورہ واقعات سے اپنے موقف کے حق میں استدلال کرتے ہوئے ابن تیمیہ نے یہ بنیادی نکتہ نظر انداز کر دیا ہے کہ یہاں اتفاقیہ اور اکا دکا مواقع پر اس جرم کا ارتکاب کرنے والے نہیں بلکہ اسے ایک مستقل اور مسلسل معمول بنا لینے والے مجرموں کا ذکر ہے، اس لیے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مجرم اگر کسی وقتی کیفیت کے تحت ایسا کر بیٹھے اور پھر اس پر نادم ہو یا کسی تعزیری سزا کے بعد ایسا کرنے سے باز آ جائے تو بھی اس پر لازماً سزاے موت نافذ کی جائے گی۔

تیسری قسم ان روایات کی ہے جن میں مطلقاً شتم رسول پر سزاے موت کا ذکر ہوا ہے۔ مثال کے طو رپر کتب سیرت میں نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ انس بن زنیم دئلی نے آپ کی شان میں ہجویہ اشعار کہے ہیں تو آپ نے اس کے خون کو مباح قرار دے دیا، تاہم اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ یہ الزام جھوٹا ہے اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم کے لوگوں کی سفارش پر اسے معاف کر دیا۔ (الصارم المسلول، ۱۰۴، ۱۰۵) اسی طرح انھوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد کا بھی حوالہ دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کی شان میں گستاخی کرنے والے کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔ (الصارم المسلول، ص ۹۳) تاہم ان دونوں روایات سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر مجرم کی عرفی حیثیت یا جرم کے اثرات سب وشتم کے مرتکب کو قتل کی سزا دینے کا تقاضا کریں تو ایسا کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں سیدنا ابوبکر کا یہ اثر ہم بحث کے شروع میں نقل کر چکے ہیں کہ ایک مقدمے میں انھوں نے توہین رسالت کے مجرم پر قطع ید اور دانت اکھاڑ دینے کی سزا کے نفاذ کو قبول فرمایا۔ چنانچہ یہ روایات بھی ابن تیمیہ کا موقف ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں، اس لیے کہ اس کے لیے ایسی دلیل کی ضرورت ہے جو یہ بتائے کہ ایسے ہر مجرم کے لیے شریعت نے لازمی طور پر یہی سزا مقرر کی ہے اور اس میں معافی یا تخفیف کی کوئی گنجائش نہیں۔

ابن تیمیہ نے شتم رسول کے مجرموں پر سزاے موت نافذ کرنے کے ضمن میں اپنے موقف کی تائید میں صحابہ کے واقعات بھی نقل کیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کے تمام واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کا رجحان متعین کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ ابن تیمیہ کے موقف سے بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ بحث کے آغاز میں ہم سیدنا ابوبکر، عبد اللہ بن عمر اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم کے وہ واقعات نقل کر چکے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حضرات سزاے موت کو ’حد شرعی‘ نہیں سمجھتے تھے، چنانچہ بعض صورتوں میں انھوں نے اس سے کم تر سزا کا نفاذ قبول کیا۔
مزید برآں مذکورہ تمام روایات کے بارے میں یہ بنیادی نکتہ سامنے رہنا چاہیے کہ ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ایسا قولی حکم بیان نہیں ہوا جو یہ بتاتا ہو کہ ایسے ہر مجرم کو قتل کر دینا شارع کا منشا ہے۔ یہ سب روایتیں کچھ واقعات کو بیان کرتی ہیں، جبکہ اصولی طو رپر کسی سزا کو ’حد‘ قرار دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے ایک قولی حکم کے طور پر بیان کیا گیا ہو، کیونکہ واقعات جس قدر بھی واضح اور ناطق ہوں، ان سے زیادہ سے زیادہ سزاے موت دینے کا جواز ثابت ہوتا ہے نہ کہ وجوب۔

یہ ہے وہ مواد جس سے امام ابن تیمیہ یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی شخص کسی بھی حالت اور کیفیت میں توہین رسالت کا ارتکاب کر بیٹھے تو اسے ہر حال میں قتل کر دینا شریعت کا حکم ہے، حتیٰ کہ اگر وہ اس کے بعد نادم ہو کر توبہ کر لے، بلکہ اسلام قبول کر لے تو بھی یہ سزا اس سے نہیں ٹلے گی۔ ابن تیمیہ کا جذبہ ایمانی اور ان کی غیرت وحمیت یقیناًقابل قدر ہے، لیکن مسئلہ شریعت اور فقہ سے متعلق ہے جہاں کسی بات کو شارع کا حتمی اور قطعی منشا ثابت کرنے کے لیے جذبات کا حوالہ کام نہیں دیتا اور ہر چیز کے ثبوت کے لیے واحد معیار کی حیثیت علمی دلائل اور منطق واستدلال کو حاصل ہے۔ فقہ وشریعت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ہم پوری دیانت داری کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ زیر بحث مسئلے میں امام ابن تیمیہ کے موقف اور اس کے حق میں ان کے پیش کردہ استدلال میں مطابقت نہیں پائی جاتی، بلکہ اس ساری بحث میں ان کے ہاں آیات واحادیث اور صحابہ کے آثار میں اپنے نقطہ نظر کے خلاف پائے جانے والی واضح دلالتوں کو نظر انداز کرنے کی ایک مسلسل روش دکھائی دیتی ہے جو ان کے علمی وقار اور جلالت شان کے منافی ہے۔

فقہاے احناف کا نقطۂ نظر

یہ بات تو ، جیسا کہ ہم نے بحث کے آغاز میں تفصیلاً واضح کیا، سبھی فقہی مکاتب فکر کے ہاں متفق علیہ ہے کہ شتم رسول کی سزا کا مسئلہ بنیادی طو ر پر ایک اجتہادی مسئلہ ہے اور قرآن وسنت میں اس جرم پر ’حد شرعی‘ کے طریقے پر کوئی مخصوص سزا مقرر نہیں کی گئی۔ تاہم اس بنیادی نکتے پر اتفاق کے بعد فقہا کے ہاں بعض اہم اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں فقہاے احناف کا نقطہ نظر بوجوہ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں ہم اس کے بعض اہم پہلووں کے حوالے سے اپنی گزارشات پیش کریں گے۔

جمہور فقہا اور احناف کے مابین ایک اختلافی نکتہ یہ ہے کہ آیا اہل ذمہ کی طرف سے سب وشتم کے ارتکاب کی صورت میں معاہدۂ ذمہ برقرار رہتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے۔ جمہور فقہا اسے ناقض عہد مانتے ہیں اور احناف میں سے امام ابوبکر الجصاص اور ابن الہمام کا رجحان بھی یہی ہے کہ سب وشتم کو نقض عہد کے ہم معنی قرار دینا چاہیے۔ (جصاص، احکام القرآن ۴/۲۷۵۔ ابن الہمام، فتح القدیر، )اس کے برعکس جمہور فقہاے احناف کا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سب وشتم کفر ہی کی ایک شکل ہے جس پر قائم رہنے کی اجازت عقد ذمہ کی صورت میں غیر مسلموں کو پہلے ہی دی جا چکی ہے، اس وجہ سے شتم رسول کے ارتکاب کو فی نفسہٖ معاہدہ توڑنے کے ہم معنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ (کاسانی، بدائع الصنائع، ۷/۱۱۳)

اس استدلال کی حد تک جمہور فقہا کا یہ معارضہ خاصا وزنی دکھائی دیتا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ معاہدے میں انھیں ان کے کفریہ اور مشرکانہ اعتقادات پر قائم رہنے کی اجازت تو دی گئی تھی، لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اجازت ہرگز اس معاہدے کا حصہ نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ خود فقہاے احناف غیر مسلموں کے کفر وشرک پر تو انھیں کوئی سزا دینے کے قائل نہیں، لیکن توہین رسالت کو ایک قابل تعزیر جرم قرار دیتے ہیں جس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں بنتا کہ معاہدے کی رو سے انھیں ایسا کرنے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔

تاہم یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ سب وشتم کے ارتکاب سے نقض عہد کے متحقق ہونے کا اس جرم کے مستوجب قتل ہونے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ نقض عہد کا مطلب یہ ہے کہ سابقہ معاہدہ اب برقرار نہیں رہا اور ذمی کو جان ومال کی جو امان دی گئی تھی، وہ اسے حاصل نہیں رہی۔ ظاہر ہے کہ اس سے اس کا مستوجب قتل ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ جب تک کسی دوسری شرعی دلیل سے اس کے قتل کا وجوب ثابت نہ ہو، نقض عہد کے بعد معاہدے کی تجدید کرنے یا مجرم کو دار الاسلام سے خارج کر دینے میں اصولی طورپر کوئی مانع موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سب وشتم کو ناقض عہد ماننے کے باوجود امام شافعی ایسے مجرم کو دوبارہ تجدید معاہدہ کا موقع دینے کے قائل ہیں، جبکہ فقہاے حنابلہ کا ایک گروہ یہ رائے رکھتا ہے کہ ایسے مجرم کی حیثیت قیدی کی ہے اور حاکم کو اس کو قتل کرنے، غلام بنا لینے، کسی مسلمان قیدی کے ساتھ اس کا تبادلہ کرنے یا کسی معاوضے کے بغیر رہا کر دینے کے وہ تمام اختیارات حاصل ہیں جو کسی بھی غیر مسلم قیدی کے بارے میں ہوتے ہیں۔

جمہور فقہا اور احناف کے مابین اصل اور حقیقی اختلافی نکتہ یہ ہے کہ جمہور فقہا نفس جرم کے ارتکاب پر مجرم کو قرار واقعی سزا دینا چاہتے اور اسے اپنے طرز عمل کی اصلاح کا موقع یا کوئی دوسری رعایت دینا مناسب نہیں سمجھتے، جبکہ احناف کی راے میں قانونی سطح پر کیے جانے اقدام کا اصل مقصد جرم کی قرار واقعی سزا دینا نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ جرم کے اثرات بد کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

امام طحاوی فرماتے ہیں:

قال اصحابنا فی من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم او عابہ وکان مسلما فقد صار مرتدا ولو کان ذمیا عزر ولم یقتل.(مختصر اختلاف العلماء ۳/۵۰۴)’’ہمارے فقہا نے کہا ہے کہ اگر کوئی مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہے یا آپ کی تنقیص کرے تو وہ مرتد ہو جاتا ہے اور اگر وہ ذمی ہو تو اسے سزا تو دی جائے گی، لیکن قتل نہیں کیا جائے گا۔‘‘

ابن الموید نے شرح الطحاوی سے نقل کیا ہے کہ:

واما ذوو العہود من الکفار اذا فعلوا ذلک لم یخرجوا من عہودہم وامروا ان لا یعودوا فان عادوا عزروا ولم یقتلوا.(رسائل ابن عابدین ۱/۳۵۶)’’جن کفار کے ساتھ معاہدہ ہو، اگر وہ سب وشتم کے مرتکب ہوں تو اس سے ان کا معاہدہ نہیں ٹوٹتا۔ ان سے کہا جائے گاکہ وہ دوبارہ ایسا نہ کریں۔ پھر اگر دوبارہ ایسا کریں تو انھیں سزا دی جائے، لیکن قتل نہ کیا جائے۔‘‘

امام ابن تیمیہ فقہاے احناف کے موقف کی توضیح میں لکھتے ہیں:

واما ابو حنیفۃ واصحابہ فقالوا لا ینتقض العہد بالسب ولا یقتل الذمی بذلک لکن یعزر علی اظہار ذلک کما یعزر علی اظہار المنکرات التی لیس لہم فعلہا کاظہار اصواتہم بکتابہم ونحو ذلک وحکاہ الطحاوی عن فی الجرائم التی تعظمت بالتکرار وشرع القتل فی جنسہا ولہذا افتی اکثرہم بقتل من اکثر من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اہل الذمۃ وان اسلم بعد اخذہ.(الصارم المسلول، ص ۱۲) ’’امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ سب وشتم سے معاہدہ نہیں ٹوٹتا اور ایسا کرنے پر ذمی کو قتل نہ کیا جائے، بلکہ کھلم کھلا ایسا کرنے پر انھیں اسی طرح سزا دی جائے جس طرح دوسرے منکرات کے اظہار پر دی جاتی ہے جن کا انھیں حق نہیں، جیسے اپنی کتاب کو اونچی آواز سے پڑھنا وغیرہ۔ امام طحاوی نے یہی الثوری ومن اصولہم ان ما لا قتل فیہ عندہم مثل القتل بالمثقل والجماع فی غیر القبل اذا تکرر فللامام ان یقتل فاعلہ وکذلک لہ ان یزید علی الحد المقدر اذا رای المصلحۃ فی ذلک ویحملون ما جاء عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم وعن اصحابہ من القتل فی مثل ہذہ الجرائم علی انہ رای المصلحۃ فی ذلک ویسمونہ القتل سیاسۃ وکان حاصلہ ان لہ ان یعزر بالقتل مسلک سفیان ثوری کا بھی نقل کیا ہے۔ احناف کا اصول یہ ہے کہ جن جرائم پر ان کے ہاں قتل کی سزا نہیں، جیسے کسی بھاری چیز سے قتل کرنا یا (بیوی سے) لواطت کرنا، اگر کوئی آدمی بار بار ان کا ارتکاب کرے تو امام اسے قتل کر سکتا ہے۔ نیز اسے یہ بھی حق ہے کہ اگر وہ مصلحت سمجھے تو مقررہ سزا سے زیادہ سزا تجویز کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے اس طرح کے جرائم پر قتل کرنے کے جو واقعات منقول ہیں، احناف انھیں اس پر محمول کرتے ہیں کہ ایسا کرنے میں مصلحت سمجھی گئی تھی۔ وہ اسے سیاسۃً قتل کرنے سے تعبیر کرتے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ جن جرائم میں بار بار کیے جانے کی وجہ سے بے حد سنگینی پیدا ہو جائے اور اس طرح کے جرائم میں قتل کرنے کی شرعاً اجازت ہو، امام تعزیر کے طور پر ان میں قتل کی سزا دے سکتا ہے۔ اسی لیے اکثر حنفی فقہا نے فتویٰ دیا ہے کہ اہل ذمہ میں سے جو شخص بکثرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کرتا ہو، اسے قتل کر دیا جائے، چاہے وہ پکڑے جانے کے بعد اسلام ہی کیوں نہ قبول کر لے۔‘‘

علامہ ابن الہمام فرماتے ہیں:

ہذا البحث منا یوجب انہ اذا استعلی علی المسلمین علی وجہ صار متمردا علیہم حل للامام قتلہ او یرجع الی الذل والصغار.(فتح القدیر ۶/۶۲، ۶۳)’’ہماری اس بحث کا تقاضا یہ ہے کہ اگر ذمی (سب وشتم کی صورت میں) مسلمانوں کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے ہوئے باغیانہ روش اختیار کر لے تو حکمرا ن کے لیے اسے قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے، الا یہ کہ وہ دوبارہ ذلت اور پستی کی حالت قبول کرنے پر آمادہ ہو جائے۔‘‘

علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:

من کان کافرا خبیث الاعتقاد وتجاہر بالشتم والالحاد ثم لما رای الحسام بادر الی الاسلام فلا ینبغی لمسلم التوقف فی قتلہ وان تاب لکن بشرط تکرر ذلک منہ وتجاہرہ بہ کما علمتہ مما نقلنا عن الحافظ ابن تیمیۃ عن اکثر الحنفیۃ ومما نقلناہ عن المفتی ابی السعود.(رسائل ابن عابدین ۱/۳۵۶) ’’جو شخص کافر ہو اور خبیث اعتقادات رکھتا ہو اور کھلم کھلا سب وشتم اور الحاد کی باتیں کرے، لیکن جب تلوار دکھائی دے تو فوراً اسلام کی طرف لپک پڑے، ایسے شخص قتل کو کرنے کے بارے میں کسی مسلمان کو توقف نہیں ہونا چاہیے، چاہے وہ توبہ کر لے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس نے یہ جرم بار بار اور لوگوں کے سامنے علانیہ کیا ہو، جیسا کہ ہم نے حافظ ابن تیمیہ کے حوالے سے اکثر احناف کا موقف اور اس کے علاوہ مفتی ابو السعود کا فتویٰ نقل کیا ہے۔‘‘

ولیس فی المذہب ما ینفی قتلہ خصوصا اذا اظہر ما ہو الغایۃ فی التمرد وعدم الاکتراث والاستخفاف واستعلی علی المسلمین علی وجہ صار متمردا علیہم (رسائل ابن عابدین ۱/۳۵۳)

مزید لکھتے ہیں:

’’حنفی مذہب میں سب وشتم کے مرتکب کو قتل کرنے کی (کلیتاً) نفی نہیں کی گئی، خاص طور پر جب مجرم ایسا رویہ اختیار کر لے جو بے حد سرکشی کا اور (مسلمانوں کے جذبات کی) کوئی پروا نہ کرنے بلکہ ان کے استخفاف کا مظہر ہو اور وہ مسلمانوں کے مقابلے میں باغیانہ انداز اپناتے ہوئے بالکل سرکش ہو جائے۔‘‘
احناف کا یہ نقطہ نظر بدیہی طور پر ایک نازک سوال کو جنم دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خیر القرون میں اس سلسلے کے جو واقعات اور فیصلے منقول ہیں، ان میں سزاے موت کے علاوہ متبادل سزاؤں کا ثبوت ملنے کے باوجود صحابہ وتابعین کا عام رجحان اس جرم پر موت ہی کی سزا دینے کے حق میں نظر آتا ہے۔ پھر جمہور فقہا کے علاوہ خود احناف میں سے بعض جلیل القدر اہل علم کے ہاں بھی یہی رجحان پایا جاتا ہے۔ (چنانچہ جصاص اور ابن الہمام کے علاوہ علامہ عینی نے بھی لکھا ہے کہ سب وشتم کے ارتکاب پر ذمی کو قتل کر دینا چاہیے۔ عمدۃ القاری ۱۳/۷۱) چنانچہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ توہین رسالت جیسے سنگین جرم کے حوالے سے احناف کے ہاں عمومی طور پر ایک ایسا رجحان کیوں پایا جاتا ہے جو اس حساس اور نازک مسئلے میں بظاہر مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور دینی غیرت وحمیت سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتا؟

سوال کی اہمیت اس پہلو سے مزید بڑھ جاتی ہے کہ احناف کے موقف کے مطابق سب وشتم کو نقض عہد کے مترادف نہ مانا جائے تو بھی یہ بات اس سے مانع نہیں کہ مجرم پر سزاے موت نافذ کی جائے، اس لیے کہ معاہدے کو قائم مانتے ہوئے جس طرح انھیں دوسرے تمام جرائم کی سزا دی جاتی ہے اور خاص طور پر اگر ان میں سے کوئی شخص کسی کو قتل کر دے تو اس سے قصاص لینا لازم ہے، اسی طرح معاہدے کو برقرار مانتے ہوئے بھی توہین رسالت کے مرتکب کو تعزیر کے طور پر سزاے موت دینے میں کوئی اخلاقی یا قانونی مانع نہیں پایا جاتا، چنانچہ خود احناف اس صورت میں جبکہ مجرم سب وشتم کا علانیہ اظہار کرے اور اس کو ایک روش کے طور پر اختیار کر لے، معاہدے کو علیٰ حالہ قائم مانتے ہوئے اسے موت کی سزا دینے کے قائل ہیں۔ ان پہلووں کے پیش نظر یہ سوال بڑی اہمیت اختیار کر لیتا ہے کہ احناف کے ہاں نفس جرم پر سزاے موت تجویز نہ کرنے اور اس سزا کے نفاذ کو جرم کی انتہائی سنگین صورتوں تک محدود رکھنے کا رجحان کیوں پایا جاتا ہے اور اس کی علمی وعقلی بنیاد کیا ہے؟

اس ضمن میں احناف کے زاویہ نگاہ کو درست طور پر سمجھنے کے لیے یہ بنیادی نکتہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ شرعی احکام اور خاص طور پر مختلف جرائم پر سزاؤں کی تعیین میں اصل اور اساس کی حیثیت انسانی احساسات وجذبات کو نہیں، بلکہ اس چیز کو حاصل ہے کہ اس باب میں شارع کا منشا کیا ہے اور وہ کس جرم پر کس نوعیت کی سزا دلوانا چاہتا ہے۔ شرعی احکام میں انسانی جذبات اور احساسات کو یقیناًملحوظ رکھا گیا اور ان کی رعایت کی گئی ہے، لیکن کسی چیز کا فیصلہ کرنے میں انھیں فیصلہ کن اور حتمی معیار تسلیم نہیں کیا گیا۔ شریعت نے اپنے احکام کے ذریعے سے دراصل انسانی جذبات کی تہذیب کی ہے اور ان جذبات کے اظہار کے لیے جائز حدود مقرر کیے ہیں جو احکام شرعیہ کا اصل حسن اور ان کی اصل حکمت ہے۔ اگر محض انسانی جذبات کو قانون سازی کا معیار مانا جائے تو کسی بھی غیرت مند انسان کے سامنے اس کے ماں باپ کی توہین وتذلیل پر اس میں اس کیفیت کا پیدا ہو جانا بعید نہیں کہ وہ توہین کرنے والے کو قتل کر دینے پر آمادہ ہو جائے اور غیر مہذب قبائلی اور دیہاتی معاشروں میں اس نوعیت کے واقعات عام طور پر سامنے آتے رہتے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ شریعت اس کی تائید نہیں کرتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات اس موقع پر واضح فرمائی جب آپ کو یہ بتایا گیا کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا ہے کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو دیکھوں گا تو تلوار لے کر اسے وہیں قتل کر دوں گا۔ آپ نے فرمایا کہ سعد کی غیرت قابل ستائش ہے، لیکن میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہیں۔ (بخاری، ۶۴۵۴) شارحین حدیث کی تشریح کے مطابق آپ کی مراد یہ تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ غیرت مند ہونے کے باوجود ایسے اقدام کی اجازت نہیں دی تو انسان کو بھی ایسے موقع پر اپنے جذبہ غیرت کو شارع کے مقرر کردہ حدود کا پابند رکھنا چاہیے اور اپنے جذبات سے مغلوب ہو کر ان سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔

اس بنیادی نکتے کے ساتھ ساتھ ایک فقہی نکتہ بھی احناف کے زاویہ نگاہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ فقہ حنفی میں قتل، ارتداد اور زنا جیسے جرائم کے علاوہ، جن میں خود شارع نے موت کی متعین سزا مقرر کر دی ہے، باقی جرائم میں سزاے موت تجویز کرنے سے گریز کا ایک عمومی رجحان پایا جاتا ہے اور فقہاے احناف نہ صرف ایسے مسائل میں سزاے موت تجویز کرنے سے احتراز کرتے ہیں جہاں نصوص خاموش ہوں، بلکہ ان مسائل میں بھی جہاں نص میں سزاے موت بیان کی گئی ہو، لیکن کسی قابل لحاظ نقلی یا عقلی وقیاسی دلیل سے نص کی تخصیص کی گنجائش نکلتی ہو، مجرم کو سزاے موت سے بچانے ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر روایات میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ نکاح کرنے والے کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ (ترمذی، ۱۲۸۲) اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض روایات میں لواطت کے مرتکب کو (مستدرک، ۸۰۴۹۔ ترمذی، ۱۴۵۵) جبکہ بعض روایات میں شراب نوشی کے عادی مجرم کو (ابو داود، ۴۴۸۲ ۔۴۴۸۴) قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تاہم امام ابوحنیفہ نے ان جرائم میں قتل کی سزا کو لازم نہیں سمجھتے۔ (ہدایہ ۲/۱۰۲) یہی صورت حال قیاسی اور اجتہادی مسئلوں میں بھی دکھائی دیتی ہے، چنانچہ جمہور فقہا اس کے قائل ہیں کہ اگر کوئی مسلمان عادت اور معمول کے طور پر نماز کا تارک ہو اور تنبیہ کے باوجود نماز نہ پڑھے تو اس کی سزا یہ ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے، لیکن احناف نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ (بدایۃ المجتہد ۱/۶۵)

احناف کا یہ رجحان صرف مسلمانوں کے معاملات تک محدود نہیں، بلکہ کفار سے متعلق قانونی مسائل میں بھی ان کا رجحان یہی ہے۔ مثلاً شوافع اور حنابلہ کے برعکس، جو یہود ونصاریٰ اور مجوس کے علاوہ کسی بھی غیر مسلم گروہ سے جزیہ قبول کرنے کے قائل نہیں اور ان کے لیے اسلام قبول کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں، احناف کا کہنا ہے کہ اسلام قبول نہ کرنے پر قتل کا حکم صرف مشرکین عرب کے لیے ہے اور ان کے علاوہ باقی تمام کفار سے جزیہ لے کر انھیں اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت دی جائے گی۔ (سرخسی، المبسوط ۱۰/۹۸) مشرکین عرب میں سے بھی وہ معذور افراد، عورتوں اور بچوں کو قتل کے حکم سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں جبکہ مرتد ہو جانے والی عورت کے بارے میں بھی ان کا موقف یہ ہے کہ اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ (المبسوط ۱۰/۱۱۱، ۱۱۸)

اہل ذمہ کے بارے میں بھی احناف کا زاویہ نگاہ یہی ہے ، چنانچہ وہ جمہور فقہا کے برعکس بہت سے سنگین جرائم کے ارتکاب کو، حتیٰ کہ معاہدۂ ذمہ کی بنیادی شرط یعنی جزیہ کی ادائیگی سے گریز کو بھی ان کی طرف سے نقض عہد کے ہم معنی قرار نہیں دیتے۔ صاحب ہدایہ لکھتے ہیں:

ومن امتنع من الجزیۃ او قتل مسلما او سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم او زنی بمسلمۃ لم ینتقض عہدہ لانہ الغایۃ التی ینتہی بہا القتال التزام الجزیۃ لا اداؤہا ..... ولا ینقض العہد الا ان یلتحق بدار الحرب او یغلبوا علی موضع فیحاربوننا.(ہدایہ ۲/۱۶۳)
’’اگر ذمی جزیہ ادا نہ کرے یا کسی مسلمان کو قتل کر دے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہے یا کسی مسلمان عورت کے ساتھ بدکاری کرے تو اس سے اس کا معاہدہ نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ جس چیز کو قتال کی غایت قرار دیا گیا ہے، وہ جزیہ کی ادائیگی کو قبول کر لینا ہے نہ کہ عملاً اس کو ادا کرنا۔ ..... معاہدہ صرف اس صورت میں ٹوٹے گا جب ذمی دار الحرب میں چلا جائے یا اہل ذمہ کسی علاقے پر قبضہ کر کے ہمارے خلاف برسرجنگ ہو جائیں۔‘‘ *

مذکورہ تمام مسائل کی توضیح میں عام طور پر فقہاے احناف جزوی نوعیت کے نقلی یا عقلی وقیاسی دلائل پیش کرتے ہیں، تاہم ایک خاص بحث میں انھوں نے فلسفہ قانون کا ایک اہم اصولی نکتہ بھی بیان کیا ہے جو ان کے انداز نظر کی تفہیم میں زیادہ مدد دیتا ہے۔ احناف کہتے ہیں کہ انبیا کی تعلیمات کی رو سے یہ دنیا دار الامتحان ہے جبکہ جزا وسزا کا معاملہ اصلاً آخرت کے دن پر موقوف رکھا گیا ہے، چنانچہ کفر وایمان کا معاملہ اصلاً خدا اور بندے کے مابین ہے اور اس کا فیصلہ دار الجزاء میں خود کائنات کا پروردگار ہی کرے گا۔ دنیا میں قصاص کے طور پر یا دفع فساد کے لیے تو کسی انسان کی جان لینے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن کفر وشرک کی پاداش میں کسی کو قتل جیسی انتہائی سزا دے دینا دار الابتلاء اور دار الجزاء کی مذکورہ تقسیم کے منافی ہے۔
سرخسی لکھتے ہیں:

ان تبدیل الدین واصل الکفر من اعظم الجنایات ولکنہا بین العبد وبین ربہ فالجزاء علیہا موخر الی دار الجزاء وما عجل فی الدنیا سیاسات مشروعۃ لمصالح تعود الی العباد کالقصاص لصیانۃ النفوس وحد الزنا لصیانۃ الانساب والفرش وحد السرقۃ لصیانۃ الاموال وحد القذف لصیانۃ الاعراض وحد الخمر لصیانۃ العقول. (سرخسی، المبسوط، ۱۰/۱۱۰) ’’کفر پر قائم رہنا یا اس کی طرف پلٹ جانا اگرچہ سب گناہوں سے بڑا گناہ ہے، لیکن وہ انسان اور اس کے رب کا معاملہ ہے اور ایسے گناہ کی سزا روز قیامت کے لیے موخر رکھی گئی ہے۔ دنیا میں جس بات کی اجازت دی گئی ہے، وہ کچھ تدبیری سزائیں ہیں جن کا تعلق انسانوں کے فائدے سے ہے، مثلاً جانوں کی حفاظت کے لیے قصاص، نسب اور فراش کے تحفظ کے لیے زنا کی سزا، مال کی حرمت قائم رکھنے کے لیے چوری کی سزا، عزت وآبرو کی حفاظت کے لیے حد قذف اور عقل کی حفاظت کے لیے شراب کی سزا۔‘‘

ابن نجیم نے لکھا ہے:

ان الاصل تاخیر الاجزیۃ الی دار الآخرۃ اذ تعجیلہا یخل بمعنی الابتلاء وانما عدل عنہ دفعا لشر ناجز وہو الحراب.(البحر الرائق ۵/۱۳۹) ’’اصل تو یہ ہے کہ (کسی بھی عمل کی) جزا وسزا کو آخرت پر ہی موقوف رکھا جائے، کیونکہ دنیا میں جزا وسزا کو جاری کرنا آزمائش کے اصول میں خلل ڈالتاہے۔ تاہم اس اصول کو چھوڑ کر دنیا میں جزا وسزا کا طریقہ اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ ایک فوری شر یعنی حرابہ کو دورکیا جا سکے۔‘‘

ابن الہمام فرماتے ہیں:

ان الاصل فی الاجزیۃ بان تتاخر الی دار الجزاء وہی الدار الآخرۃ فانہا الموضوعۃ للاجزیۃ علی الاعمال الموضوعۃ ہذہ الدار لہا فہذہ دار اعمال وتلک دار جزاۂا وکل جزاء شرع فی ہذہ الدار ما ہو الا لمصالح فی ہذہ الدار کالقصاص وحد القذف والشرب والزنا والسرقۃ شرعت لحفظ النفوس والاعراض والعقول والانساب والاموال.(فتح القدیر ۶/۷۲) ’’جزا وسزا میں اصل یہ ہے کہ اسے دار الجزاء یعنی آخرت کے قائم ہونے تک موخر رکھا جائے، کیونکہ آخرت ان اعمال کی جزا کے لیے قائم کی جائے گی جو اس دنیا میں کیے جاتے ہیں۔ یہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت دار الجزاء۔ چنانچہ دنیا میں جو بھی سزا مشروع کی گئی ہے، وہ درحقیقت اس دنیا میں ہی مقصود چند مصالح کے لیے کی گئی ہے، جیسا کہ قصاص کو جانوں کی، حد قذف کو آبرو کی، حد شرب کو عقل کی ، حد زنا کو نسب کی اور حد سرقہ کو مال کی حفاظت کے لیے مشروع کیا گیا ہے۔‘‘

یہ نکتہ اگرچہ جہاد وقتال کے ابواب میں ایک خاص بحث کے تحت بیان کیا جاتا ہے، تاہم ہماری طالب علمانہ رائے میں احناف کے تصور قانون میں ا س کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے اور خاص طور پر ان کے ہاں قتل کی سزا تجویز کرنے سے گریز کا جو عمومی رجحان پایا جاتا ہے، اس کی بنیاد میں بھی یہ تصور کارفرما ہے۔ اس تناظر میں اگر شتم رسول کے مجرم کے حوالے سے ان کے موقف کا جائزہ لیا جائے تو نہ صرف یہ کہ اس کی قانونی بنیاد زیادہ واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے بلکہ احناف کے مجموعی قانونی فکر کی تفہیم میں بھی اس سے بہت مدد ملتی ہے۔
سطور بالا میں کی گئی بحث کا حاصل ہم درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کر سکتے ہیں:

۱۔ صحابہ وتابعین، جمہور فقہا اور جمہور محدثین کے نزدیک شتم رسول پر سزاے موت کو فقہی اصطلاح میں ’’حد شرعی‘‘ کا درجہ حاصل نہیں۔ یہ تمام اہل علم اسے ایک تعزیری سزا سمجھتے ہیں، جبکہ اسے حد قرار دینے کا موقف، دستیاب علمی ذخیرے کے مطابق، امام ابن تیمیہ سے پہلے کسی نمایاں صاحب علم نے اختیار نہیں کیا۔

۲۔ اس جرم کے ارتکاب پر سزاے موت کو حد قرار دینے کے لیے قرآن یا حدیث میں کوئی قطعی اور صریح دلیل موجود نہیں۔ اس کا ماخذ عام طور پر ایسے واقعات کو بنایا گیا ہے جن میں ایسے افراد کو قتل کیا گیا جنھوں نے صرف سب وشتم کا نہیں، بلکہ اس کے علاوہ دوسرے سنگین جرائم کا بھی ارتکاب کیا تھا یا سب وشتم کو مستقل روش کے طور پر اختیار کر لیا تھا۔

۳۔ شتم رسول کے جرم پر تعزیری طور پر سزاے موت تجویز کرنے والے فقہی مکاتب فکر باہم متفق الراے نہیں۔ شوافع اور حنابلہ کے ہاں سزاے موت کو لازم قرار دینے یا نہ دینے کے دونوں قول موجود ہیں، جبکہ مالکیہ کے ہاں اصولی طور پر سزاے موت کو لازم قرار دینے کے باوجود مالکی فقہا کے فیصلوں میں اس سے مختلف رجحان کا ثبوت بھی ملتا ہے۔
۴۔ جمہور فقہاے احناف کی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی شخص وقتی کیفیت کے تحت اس جرم کا ارتکاب کرے اور پھر اس پر اصرار کے بجائے معذرت کا رویہ اختیار کرے تو اس سے درگزر کرنا یا ہلکی سزا دینے پر اکتفا کرنا مناسب ہے، البتہ اگر توہین رسالت کا عمل سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی نیت سے دیدہ ودانستہ کیا جائے یا وہ ایک معمول کی صورت اختیار کر لے تو عدالت کو قتل کی سزا دینے کا اختیار بھی حاصل ہے۔

حکمت ومصلحت کے چند اہم پہلو

امام ابن تیمیہ نے اس بحث میں جو نقطہ نظر اختیار کیا ہے، قانونی پہلو کے علاوہ ایک دوسرے پہلو سے بھی اس کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے جو کئی اعتبار سے قانونی پہلو سے زیادہ اہم معلوم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی قانونی تعبیر کے اثرات عمومی انسانی رویوں پر بھی لازماً پڑتے ہیں اور مثال کے طور پر ابن تیمیہ کی پیش کردہ قانونی تعبیر کو قبول کرنے کی صورت میں انسانی سطح پر مسلمانوں کا جو عمومی ذہنی رویہ تشکیل پائے گا، وہ اس سے بے حد مختلف ہوگا جو اس حوالے سے احناف کی تعبیر پیدا کرے گی۔ اس تناظر میں یہ بات برمحل دکھائی دیتی ہے کہ بحث کے تتمے کے طور پر سیرت نبوی اور سیرت صحابہ سے چند ایسی مثالیں اور واقعات اور ان کی توضیح میں اہل علم کی تشریحات نقل کر دی جائیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین وتنقیص کا رویہ اختیار کرنے والے مجرموں کے حوالے سے کوئی اقدام کرتے ہوئے نہ صرف خود بہت سی حکمتوں اور مصلحتوں کو ملحوظ رکھا، بلکہ عام مسلمانوں سے بھی اس کا تقاضا نہیں کیا کہ وہ ہر طرح کے نفسیاتی اور سماجی عوامل سے بالاتر ہو کر کوئی ایک مخصوص اور بے لچک رویہ اختیار کریں۔ اس کے بجائے آپ نے انسانی نفسیات اور لوگوں کی انفرادی افتاد طبع، مزاج اور سماجی ومعاشرتی پس منظر کی رعایت کرتے ہوئے ایسے واقعات کے حوالے سے صحابہ کے رد عمل اور رویے میں تنوع کو قبول کیا، بلکہ بعض صورتوں میں خود بھی انھیں مبنی برحکمت رویہ اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔
اجڈ اور تربیت سے محروم افراد کی رعایت

کتب حدیث بعض ایسے واقعات روایت ہوئے ہیں جن میں اجڈ، غیر تربیت یافتہ اور گنوار قسم کے افراد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا، لیکن آپ نے ان کے گنوارپن کا لحاظ کرتے ہوئے ان سے درگزر فرمایا:
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا۔ آپ نے ایک نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی جس کے کنارے موٹے اور کھردرے تھے۔ راستے میں ایک اعرابی آپ سے ملا اور آپ کی چادر کو پکڑ کر اس زور سے کھینچا کہ آپ کے کندھے پر چادر کا نشان پڑ گیا۔ اس نے کہا اے محمد، تمھارے پاس اللہ کا جو مال ہے، اس میں سے کچھ مال مجھے دو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا اور ہنس پڑے۔ پھر آپ نے اسے مال دینے کا حکم دیا۔ (بخاری، ۵/۲۲۶۰)

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جنگ حنین کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب مصلحت مال غنیمت تقسیم کیا تو ایک شخص نے اس پر یہ تبصرہ کیا کہ: واللہ ان ہذہ القسمۃ ما عدل فیہا وما ارید بہا وجہ اللہ۔ (بخدا، اس تقسیم میں انصاف اور اللہ کی رضا کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔) عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ کو اس قدر غصہ آیا کہ مجھے یہ خواہش ہونے لگی کہ کاش میں یہ بات آپ کو نہ بتاتا۔آپ نے فرمایا کہ اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کرے گا تو پھر اور کون کرے گا؟ اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، انھیں اس سے زیادہ اذیت کا سامنا کرنا پڑا اور انھوں نے صبر سے کام لیا۔ (بخاری، ۲۹۸۱، ۵۷۴۹)
شہاب الدین خفاجی اس روایت کی شرح میں لکھتے ہیں:

فہم من کلمتہ ہذہ انہا صدرت من وجہ الغلظۃ ای صدرت منہ لغلظۃ طبعہ وعدم ادبہ کما ہو عادۃ الاعراب ... فی الرای الذی یراہ جفاۃ العرب کما ہو رای امثالہم فی امور الدنیا لحرصہم علیہا والاجتہاد فی مصالح اہلہا الذین یرون ان تغلیظ المقال یحصلہا کما یقال الابرام یحصل المرام ویعدون الوقاحۃ سلاحا لہم فلم یر ذلک الکلام الذی واجہہ بہ سبا وتنقیصا لہ.(نسیم الریاض ۶/۲۰۳) ’’آپ نے اس بات کو اس پر محمول کیا کہ یہ اس کی طبیعت کی درشتی اور بد تہذیبی کی وجہ سے صادر ہوا ہے، جیسا کہ اعراب کا طریقہ ہوتا ہے۔ عرب کے ان بدمزاج بدووں کے خیالات دنیا کے معاملات میں ایسے ہی ہوتے تھے، کیونکہ وہ دنیا کے حریص ہوتے تھے اور دنیوی مفادات ہی کے لیے تگ ودو کرتے تھے۔ وہ بدکلامی کو اپنا مفاد حاصل کرنے کا ذریعہ اور بے ہودگی کو اپنا ہتھیار سمجھتے تھے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلام کو جو اس اعرابی نے آپ سے کیا، سب وشتم اور اپنی تنقیص پر محمول نہیں فرمایا۔‘‘

یہ اسی مصلحت کی ایک مثال ہے جس کا نمونہ اس مشہور حدیث میں دیکھنے کو ملتا ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک اعرابی مسجد نبوی میں آیا اور بیٹھ کر پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ لوگوں نے اسے پکڑنے اور روکنے کی کوشش کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا پیشاب مت روکو۔ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی کا ایک ڈول منگوا کر پیشاب پر بہا دیا اور لوگوں سے کہا کہ تمھیں آسانی کے لیے بھیجا گیا ہے نہ کہ مشکل پیدا کرنے کے لیے۔ (بخاری، ۲۱۷، ۵۶۷۹) پھر آپ نے اس اعرابی کو بلایا اور اسے سمجھایا کہ مسجدیں پیشاب پاخانہ کرنے کے لیے نہیں بنائی گئیں۔ یہاں صرف اللہ کا ذکر، نماز اور قرآن کی تلاوت کی جا سکتی ہے۔ (مسلم، ۲۸۵)


مجرم کے لیے توبہ واصلاح کا موقع

حدیث وسیرت کے ذخیرے میں متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں جن میں صحابہ نے سب وشتم کا واقعہ سامنے آنے پر ابتدا میں تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی فوری اقدام کرنے کے بجائے مجرم کو سمجھانے بجھانے کی کوشش کی۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں بیان ہوا ہے کہ ایک شخص کی لونڈی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی اور آپ کی توہین کیا کرتی تھی اور اپنے مالک کے منع کرنے اور ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود اس سے باز نہیں آتی تھی۔ ایک دن اسی بات پر اس نے اشتعال میں آ کر اسے قتل کر دیا۔ (ابو داؤد، ۴۳۶۱) اسی طرح عمیر بن امیہ کی بہن نے، جو مشرک تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے بارے میں سب وشتم کو ایک مستقل روش بنا رکھا تھا اور اس کے اس رویے سے تنگ آ کر ایک دن عمیر نے اسے قتل کر دیا تھا۔ (طبرانی، مجمع الزوائد ۶/۲۶۰۔ ابن ابی عاصم، الدیات، ۱/۷۳) ان دونوں واقعات میں صحابہ نے پہلے ہی دن ان مجرموں کے خلاف قتل جیسا انتہائی اقدام نہیں کر ڈالا، بلکہ انھیں سمجھانے بجھانے اور ان کی حرکتوں کو نظر انداز کرنے کا طریقہ اختیار کیا، لیکن جب وہ کسی طرح مان کر نہ دیے تو پھر تنگ آکر انھیں قتل کر دیا۔

اسی نوع کا ایک اور واقعہ ابن تیمیہ نے نقل کیا ہے۔ روایت کے مطابق مشرکین کے ساتھ ایک جنگ کے موقع پر جب دونوں لشکر آمنے سامنے صف آرا ہوئے تو ایک مشرک نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ اس پر ایک مسلمان نے اس سے کہا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں اور میری ماں کا نام یہ ہے۔ تم مجھے اور میرے ماں باپ کو گالی دے لو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنے سے باز آجاؤ۔ تاہم اس سے وہ مشرک مزید جوش میں آ کر گالیاں دینے لگے۔ اس مسلمان نے دوسری مرتبہ اس سے یہی بات کہی، لیکن مشرک کا طرز عمل یہی رہا۔ تیسری مرتبہ مسلمان نے اس سے کہا کہ اب اگر تم نے آپ کی شان میں گستاخی کی تو اپنی تلوار سے تمھیں قتل کر دوں گا۔ جب اس پر بھی وہ مشرک باز نہ آیا تو وہ مسلمان تلوار لے کر اس کے پیچھے مشرکین کے لشکر میں گھس گیا اور اسے قتل کرتے کرتے خود بھی مشرکین کی تلواروں کا شکار ہو گیا۔ (الصارم المسلول، ص ۱۴۶) یہاں بھی دیکھ لیجیے، صحابہ نے باوجود اس کے کہ دشمن عین حالت جنگ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کر کے ان کی غیرت ایمانی کو چیلنج کر رہا تھا، اسے علی الفور قتل نہیں کیا، بلکہ اسے بار بار تنبیہ کر کے اس طرز عمل سے باز رکھنے کی کوشش کی، لیکن جب وہ باز نہیں آیا تو پھر اسے قتل کرنے کے لیے اپنی جان کی بھی بازی لگا دی۔

سیرت کی کتابوں میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کو دبا اور عمان کے علاقوں میں محصل بنا کر بھیجا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد اس علاقے کے لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور مرتد ہو گئے۔ واقدی کا بیان ہے:

فدعاہم حذیفۃ الی التوبۃ فابوا واسمعوہ شتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال لہم حذیفۃ اسمعونی فی ابی وامی ولا تسمعونی فی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فابوا الا ذلک فکتب حذیفۃ الی ابی بکر یخبرہ بذالک.(زیلعی، نصب الرایہ ۳/۴۵۲۔ سلیمان بن موسیٰ الکلاعی، الاکتفاء بما تضمنہ من مغازی رسول اللہ ۳/۹۲) ’’حذیفہ رضی اللہ عنہ نے انھیں توبہ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، لیکن انھوں نے انکار کر دیا، بلکہ ان کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ حذیفہ نے ان سے کہا کہ تم میرے ماں باپ کو میرے سامنے برا بھلاکہہ لو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کچھ نہ کہو، لیکن وہ باز نہ آئے۔ چنانچہ حذیفہ نے خط لکھ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس صورت حال سے مطلع کیا۔‘‘

یہاں سیدنا حذیفہ کا طرز عمل بھی اسی حکمت کی نشان دہی کرتا ہے جس کی طرف ہم نے توجہ دلائی ہے۔
رشتہ وقرابت اور شخصی تعلقات کی رعایت

توہین رسالت کے مسئلے سے متعلق ایک اہم اور نازک سوال یہ ہے کہ شارع اس حوالے سے مسلمانوں میں کس انداز اور کس درجے کی حساسیت دیکھنا چاہتا ہے اور دین وایمان کے ایک تقاضے کے طور پر عام انسانی سطح پر ان سے کس نوع کے رد عمل کی توقع رکھتا ہے؟ انسانوں کی طبیعت، مزاج اور افتاد طبع میں بدیہی طو رپر تنوع پایا جاتا ہے اور مختلف قسم کے جذبات اور نفسیاتی احساسات کے قوی یا کمزور ہونے کے لحاظ سے بھی بنی نوع انسان کے افراد میں اللہ نے تفاوت رکھا ہے۔ مزید برآں انسانی تعلقات کے دائرے میں ترجیحات کا تعین کرنے میں بھی انسانوں کا طرز عمل مختلف ہوتا ہے اور اس میں ان کے رجحان طبع کے علاوہ ان کے حالات، ذہنی تربیت اور مخصوص سماجی پس منظر کا بھی گہرا دخل ہوتا ہے۔ ان تمام تنوعات کے ساتھ جب افراد یا گروہ مذہب اور مذہبی تعلیمات سے متعلق ہوتے ہیں تو فطری طور پر یہاں بھی ان کی وابستگیوں کا اظہار یکساں اور یک رنگ نہیں ہوتا، بلکہ گوناگوں انداز اختیار کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے انسانی رویوں اور تعلقات پر اثر انداز ہونے والے ان سب عوامل کا پوری طرح لحاظ رکھا اور لوگوں کے ایمان واعتقاد اور خدا اور رسول کے ساتھ ان کی وابستگی کو کسی بے لچک اور کڑے معیار پر پرکھنے کے بجائے یسر اور سہولت پرمبنی ایک حکیمانہ طرز اختیار فرمایا۔ چنانچہ دیکھیے:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دوسری چیز سے بڑھ کر اپنے ساتھ محبت کو ایمان کا معیار قرار دیا اور فرمایا کہ جو شخص اپنے ماں باپ اور سب لوگوں سے بڑھ کر مجھ سے محبت نہ رکھتا ہو، اس کا ایمان کامل نہیں۔ (بخاری، ۱۵) ایک موقع پر سیدنا عمر نے آپ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، مجھے آپ کے ساتھ اپنی ذات کے علاوہ ہر چیز سے بڑھ کر محبت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کسی کا ایمان کامل نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی اپنی ذات سے بھی بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ آپ نے فرمایا: الان یا عمر (عمر، اب بات بنی ہے)۔ (مسند احمد، ۱۸۹۸۱)

تاہم خود آپ نے ہی یہ واضح فرما دیا کہ اگر کسی کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی جائے تو اس پر رد عمل ظاہر کرنے میں قرابت داری کے عمومی آداب واخلاق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ چنانچہ کتب تفسیر میں نقل ہوا ہے کہ ایک موقع پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد ابو قحافہ نے، جو اس وقت حالت کفر میں تھے، سیدنا ابوبکر کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا تو انھوں نے اس زور سے انھیں تھپڑ مارا کہ وہ زمین پر گر گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ آئندہ ایسا مت کرنا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر اس وقت تلوار میرے قریب ہوتی تو میں ابوقحافہ کو قتل کر دیتا۔ (الریاض النضرۃ ۲/۱۰۲۔ الدر المنثور ۸/۸۶)

ایک موقع پر عبد اللہ بن ابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہایت گستاخانہ تبصرے کیے تو اس کے بیٹے عبد اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے باپ کو قتل کرنے کی اجازت مانگی۔ عبد اللہ نے اپنے اس ارادے کا محرک بھی بیان کیا اور کہا کہ قبیلہ خزرج میں مجھ سے زیادہ اپنے والد کا فرماں بردار کوئی نہیں، لیکن مجھے ڈر ہے کہ اگر کوئی دوسرا مسلمان میرے باپ کو قتل کرے گا تو میں اپنے باپ کے قاتل کا وجود گوارا نہیں کر سکوں گا اور اسے قتل کر دوں گا۔ (ابن الاثیر، اسد الغابہ ۳/۳۰۲) تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: لا تقتل اباک، اپنے باپ کو قتل نہ کرو۔ دوسری روایت کے مطابق فرمایا کہ: ترفق بہ وتحسن صحبتہ، تم اس کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ اور اچھا برتاؤ کرتے رہو۔ (فتح الباری ۸/۶۵۰)

ذخیرۂ سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں دشمنی اور عناد کا مظاہرہ کرنے والے کفار کے بارے میں نہایت سخت اور بے لچک رویہ رکھتے تھے، چاہے وہ ان کے نہایت قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہوں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخلص اور وفادار صحابہ نے آپ کے بدترین دشمنوں اور آپ کی توہین وتنقیص کرنے والے افراد کے ساتھ اپنے شخصی، خاندانی اور قبائلی تعلقات کی وجہ سے ہمدردانہ رویہ اپنایا اور انھیں سزا سے بچانے کی کوشش کی، لیکن اللہ یا اللہ کے رسول نے اس پر کوئی منفی تبصرہ نہیں کیا اور نہ اسے دین وایمان کے منافی قرار دے کر انھیں کوئی تنبیہ کی۔

جنگ بدر میں مشرکین کے ستر قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق صحابہ سے مشورہ طلب کیا۔ سیدنا ابوبکر نے کہا کہ یہ ہمارے چچا زاد بھائی، ہمارے قبیلے کے لوگ اور ہمارے بھائی بند ہیں، اس لیے میری رائے یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں۔ لیکن سیدنا عمر نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ آپ فلاں قیدی کو، جو عمر کا عزیز تھا، میرے سپرد کر دیں تاکہ میں اس کی گردن ماروں اور عقیل کو علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کریں تاکہ یہ اس کی گردن مار دیں اور حمزہ کے بھائی کو حمزہ کے حوالے کریں تاکہ وہ اس کی گردن مار دیں تاکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہو جائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لیے کوئی نرمی نہیں ہے۔ (مسند احمد، ۲۰۳)

قریش کے سردار اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بدترین دشمن امیہ بن خلف اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف کے مابین دوستی تھی جو ہجرت کے بعد بھی برقرار رہی اور دونوں اپنے اپنے شہر میں ایک دوسرے کے اموال اور تجارتی معاملات کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ جنگ بدر میں جب مشرکین کو شکست ہوئی تو عبد الرحمن بن عوف نے اسی دوستی کو نبھاتے ہوئے امیہ کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کی اور انھیں لے کر ایک پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اتنے میں سیدنا بلال کی نظر پڑ گئی اور انھوں نے آواز دے کر کچھ انصاری صحابہ کو اکٹھا کر لیا اور ان کے پیچھے ہو لیے۔ جب یہ حضرات پیچھا کرتے ہوئے ان کے پاس پہنچ گئے تو عبد الرحمن بن عوف نے امیہ کی جان بچانے کے لیے اسے نیچے بٹھا کر اپنے آپ کو اس کے اوپر ڈال دیا، لیکن بلال اور ان کے ساتھیوں نے ان کے نیچے سے تلواریں مار مار کر امیہ کا کام تمام کر دیا۔ (بخاری، ۲۱۷۹)

۶ ہجری میں غزوہ بنی المصطلق سے واپسی پر جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا غلط فہمی کی وجہ سے سفر میں قافلے سے پیچھے رہ گئیں اور بعد میں صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قافلے کے پاس پہنچیں تو منافقین نے ان پر تہمت طرازی کرتے ہوئے پروپیگنڈا کا ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ اس بے ہودہ اور شنیع مہم کی قیادت خزرج کے سردار عبد اللہ بن ابی کے ہاتھ میں تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ سارا معاملہ اس قدر ذہنی اذیت کا باعث بن گیا کہ ایک موقع پر آپ نے منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ آپ کے اس کے شر سے بچائیں۔ آپ نے فرمایا:
یا معشر المسلمین من یعذرنی من رجل قد بلغنی عنہ اذاہ فی اہلی.

’’اے مسلمانوں کے گروہ! کون ہے جو مجھے اس شخص کے شر سے بچائے جس کی اذیت کی زد میں میرے اہل خانہ بھی آ گئے ہیں۔‘‘

اس موقع پر اوس کے سردار سعد بن معاذ اٹھے اور کہا کہ یا رسو ل اللہ، ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ اگر اس شخص کا تعلق اوس سے ہے تو ہم خود اسے قتل کر دیں گے اور اگر خزرج سے ہے تو آپ ہمیں حکم دیں، ہم اس کی تعمیل کریں گے۔ اس پر خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کی قبائلی عصبیت بیدا ر ہو گئی اور انھوں نے سعد بن معاذ سے کہا:

لعمر اللہ لا تقتلہ ولا تقدر علی قتلہ ولو کان من رہطک ما احببت ان یقتل. ’’خدا کی قسم، تم اسے قتل نہیں کرو گے اور نہ تم میں اتنی ہمت ہے کہ اسے قتل کر سکو۔ اگر اس کا تعلق تمھارے قبیلے سے ہوتا تو تم کبھی اس کا قتل کیا جانا پسند نہ کرتے۔‘‘

اس کے جواب میں اسید بن حضیر نے سعد بن عبادہ کو طعنہ دیا کہ وہ خود بھی منافق ہیں اور منافقوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ اس گفتگو کے نتیجے میں دونوں قبیلے مشتعل ہو گئے اور قریب تھا کہ وہ باہم لڑپڑیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے دونوں گروہوں کے اشتعال کو سکون میں بدلنے کی کوشش کرتے رہے اور بڑی مشکل سے اس صورت حال پر قابو پایا۔ (بخاری، ۳۹۱۰)

فتح مکہ کے موقع پر جب مسلمانوں کا لشکر مر الظہران کے مقام پر پہنچا تو عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے دوستوں ابو سفیان وغیرہ کی فکر لاحق ہوئی۔ چنانچہ وہ انھیں ڈھونڈتے ہوئے ان تک پہنچے اور ابو سفیان کو آمادہ کیا کہ وہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر امان طلب کر لیں، ورنہ اگر مسلمانوں نے انھیں دیکھ لیا تو انھیں قتل کر دیں گے۔ عباس انھیں لے کر جا رہے تھے کہ راستے میں سیدنا عمر کی نظر پڑ گئی۔ انھوں نے نعرہ بلند کیا کہ ’الحمد للہ الذی امکن منک بغیر عقد ولا عہد‘ ، یعنی اللہ کا شکر ہے کہ تم کسی معاہدے کے بغیر ہمارے ہاتھ لگ گئے ہو۔ پھر قریب تھاکہ وہ ابو سفیان کو قتل کر دیتے، لیکن عباس نے انھیں بچایا اور انھیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور ان کے لیے امان حاصل کر لی۔ (البدایہ والنہایہ ۴/۲۹۰)

فتح مکہ ہی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن افراد کو عام معافی سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے قتل کر دینے کا حکم دیا، ان میں عبد اللہ بن ابی سرح بھی شامل تھا۔ یہ اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو گیا تھا اور اس نے اپنی طرف سے ایک بات گھڑ کر کلام الٰہی کے استناد میں شبہہ ڈالنے اور لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ قرآن منزل من اللہ نہیں ہے۔ آپ نے اعلان فرمایا تھا کہ وہ اگر کعبے کے پردے کے نیچے بھی ملے تو اسے قتل کر دیا جائے، لیکن وہ بھاگ کر اپنے رضاعی بھائی سیدنا عثمان کے پاس چلا گیا۔ انھوں نے اسے اپنے پاس چھپائے رکھا، یہاں تک کہ جب حالات پر سکون ہو گئے تو وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے لیے امان طلب کی۔ آپ نے ان کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ سیدنا عثمان نے بار بار اپنی بات پر اصرار کیا تو آخر آپ نے ان کی سفارش پر بادل نخواستہ اسے معاف کر دیا، لیکن پھر اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ میں اتنی دیر اس لیے خاموش رہا کہ تم میں سے کوئی اٹھے اور اس کی گردن اڑا دے۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۵/۶۹، ۷۰۔ الصارم المسلول، ص ۱۰۸)

ایک موقع پر سیدنا معاویہ کی مجلس میں ابن یامین نضری سے کعب بن اشرف کے قتل کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ اسے بد عہدی کرتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ اس پر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے، جو اسی مجلس میں موجود تھے، سیدنا معاویہ سے کہا کہ آپ کی مجلس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بدعہدی کرنے کی نسبت کی جا رہی ہے اور آپ اس پر کوئی انکار نہیں کر رہے! (بیہقی، دلائل النبوۃ ۳/۱۹۳۔ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق ۵۵/۲۷۵) ابن یامین نضری کا تعلق بنو نضیر سے تھا۔ کعب بن اشرف (جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محاربہ اور عناد کی پاداش میں قتل کروا دیا تھا) کا تعلق بھی اسی قبیلے سے تھا۔ ابن یامین نے اگرچہ اسلام قبول کر لیا تھا، لیکن قبائلی عصبیت باقی تھی۔ غالباً اسی کی رعایت سے سیدنا معاویہ نے نہ تو ازخود ان کا مواخذہ کیا اور نہ محمد بن مسلمہ کے احتجاج کرنے پر ہی ان کے خلاف کوئی تادیبی اقدام کیا۔

عملی مجبوری یا ضرورت کی رعایت

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی واضح فرمایا کہ جبر واکراہ کی حالت میں جیسے کوئی دوسرا کلمہ کفر کہنے کی رخصت ہے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں (نعوذ باللہ) تنقیص کا کلمہ کہنے کی بھی گنجائش ہے۔ کتب حدیث میں یہ واقعہ نقل ہوا ہے کہ مشرکین نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر اذیت دی اور اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا نہیں کہا اور ان کے معبودوں کی تعریف نہیں کی۔ عمار بن یاسر اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس کی خبر دی۔ آپ نے پوچھا کہ تمھارے دل کی کیفیت کیا تھی؟ عمار نے کہا کہ میرا دل پوری طرح ایمان پر مطمئن تھا۔ آپ نے فرمایا کہ ان عادوا فعد، یعنی اگر مشرکین دوبارہ تمھیں اس پر مجبور کریں تو تم دوبارہ ایسا ہی کر کے جان چھڑا لینا۔ (المستدرک ۲/۳۸۹۔ سنن البیہقی، ۱۶۶۷۳)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن الاشرف کو قتل کروانے کا ارادہ فرمایا تو صحابہ میں اعلان کیا کہ کون ہے جو کعب بن اشرف کا کام تمام کر کے آئے؟ محمد بن مسلمہ نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی، لیکن آپ سے درخواست کی کہ مجھے کعب سے اپنے متعلق کچھ کہنے کی اجازت دے دیں۔ آپ نے اجازت دے دی، چنانچہ محمد بن مسلمہ کعب کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ اس شخص (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیں بڑی مشقت میں ڈال دیا ہے اور ہم سے صدقات مانگتا رہتا ہے۔ اس طرح انھوں نے ایک جنگی تدبیر کے طور پر کعب بن اشرف کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کچھ ناروا باتیں کر کے اس کا اعتماد حاصل کر لیا۔ (بخاری، ۲۸۶۷، ۲۸۸۶)

مسلمانوں کی وحدت اور اجتماعیت کا لحاظ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مواقع پر توہین اور گستاخی کا رویہ اپنانے والے افراد سے صرف اس مصلحت کے پیش نظر کوئی تعرض نہیں کیا کہ اس سے یہ منفی تاثر پیدا ہونے کا خدشہ تھا کہ محمد اپنے ساتھیوں کو خود ہی قتل کر دیتے ہیں۔ چنانچہ عبد اللہ بن ابی کے متعلق ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ اس سے صرف نظر کرو، کہیں لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ محمد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ (بخاری، ۳۳۳۰)

ایک موقع پر منافقین کے ایک نقاب پوش جتھے نے موقع پا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی سازش کی۔ اس موقع پر حذیفہ بن الیمان آپ کے ساتھ تھے۔ انھوں نے کہا کہ یا رسول اللہ، آپ ان میں سے ہر شخص کے پاس آدمی بھیج کر انھیں قتل کیوں نہیں کروا دیتے؟ آپ نے اس موقع پر بھی فرمایا کہ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ لوگ یہ باتیں کریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ (طبرانی، المعجم الاوسط، ۸۱۰۰)

جنگ حنین کے موقع پر جب آپ مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے تو بنو تمیم کے ایک شخص نے جس کا نام ذو الخویصرہ بیان ہوا ہے، بڑے گستاخانہ انداز میں آپ سے مخاطب ہو کر کہا کہ اے محمد، عدل سے کام لو۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ، میں اس منافق کو قتل نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: معاذ اللہ ان تتسامع الامم ان محمدا یقتل اصحابہ (بخاری، ۳۴۱۴۔ مسند احمد بن حنبل، ۱۴۸۶۲) یعنی اس بات سے اللہ کی پناہ کہ لوگوں کو یہ باتیں سننے کو ملیں کہ محمد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔

مدینے میں ایک شخص کا سیدنا زبیر کے ساتھ فصل کی کاشت کے سلسلے میں پانی کی تقسیم پر جھگڑاہو گیا۔ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے زبیر سے کہا کہ ایک مرتبہ زمینوں کو سیراب کر کے پانی کو پڑوسی کی طرف جانے دیا کرو۔ یہ سن کر انصاری نے کہا کہ آپ نے زبیرؓ کے حق میں (اپنی زمین کو پہلے سیراب کرنے کا) فیصلہ اس لیے دیا ہے کہ یہ آپ کا پھوپھی زاد بھائی ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک غصے سے سرخ ہوگیا اور آپ نے زبیرؓ سے کہا کہ اپنی زمین کو سیراب کرو، پھر پانی کو روک رکھو، یہاں تک کہ وہ درختوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ اس کے بعد پانی چھوڑا کرو۔ (بخاری، ۲۱۸۷)

اس شخص کا یہ تبصرہ بدیہی طو رپر گستاخانہ تھا، لیکن آپ نے اس شخص کا مواخذہ نہیں کیا۔ ابن حجر لکھتے ہیں:

وانما لم یعاقب النبی صلی اللہ علیہ وسلم صاحب القصۃ لما کان علیہ من تالیف الناس کما قال فی حق کثیر من المنافقین لا یتحدث الناس ان محمدا یقتل اصحابہ.(فتح الباری ۵/۴۰) ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو سزا نہیں دی، کیونکہ آپ کا کام لوگوں کو مانوس کرنا تھا، جیسا کہ آپ نے بہت سے منافقین کے بارے میں کہا کہ لوگ یہ باتیں نہ کرنے لگیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔‘‘

اقدام کے عملی نتائج پر نظر

بعض اوقات آپ نے اس عملی حقیقت کی رعایت سے توہین وتنقیص کے مجرموں سے صرف نظر فرمایا کہ جس گروہ کی طرف سے یہ رویہ اختیار کیا گیا ہے، معروضی صورت حال میں اس سے موثر طور پر نمٹنا ممکن نہیں اور ایسا کرنے سے زیادہ بڑے نقصان کا اندیشہ ہے۔ مثال کے طور پر انصار کے قبیلہ خزرج کے سردار عبداللہ بن ابی نے آپ کی ذات کے بارے میں گستاخی کرنے، آپ کے اہل بیت کے بارے میں نہایت اذیت ناک پراپیگنڈا کرنے اور مسلمانوں کے مابین تفریق وانتشار پیدا کرنے کا رویہ مستقل طور پر اختیار کر رکھا تھا۔ اس کا یہ گستاخانہ جملہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نقل کیا ہے کہ: لَیُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْہَا الْأَذَلَّ (المنافقون ۶۳:۸) یعنی ہم میں سے عزت والا شخص (نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ) ذلیل شخص کو مدینے سے نکال دے گا۔ چنانچہ نہ صرف عام صحابہ نے بلکہ خود ابن ابی کے بیٹے عبد اللہ نے آپ سے اپنے باپ کو قتل کرنے کی اجازت مانگی۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محض اس مصلحت کے تحت اس سے درگزر فرمایا کہ وہ انصار کے ایک گروہ کا سردار تھا اور اس کو قتل کرنے سے اس گروہ میں منفی جذبات پیدا ہونے کا شدید خدشہ موجود تھا۔ (ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ۴/۱۵۸)

مولانا مودودی، عبد اللہ بن ابی کے معاملے میں اختیار کیے جانے والے طرز عمل کی معنویت واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اس سے دو اہم شرعی مسئلوں پر روشنی پڑتی ہے۔ ایک یہ کہ جو طرز عمل ابن ابی نے اختیار کیا تھا، اگر کوئی شخص مسلم ملت میں رہتے ہوئے اس طرح کا رویہ اختیار کرے تو وہ قتل کا مستحق ہے۔ دوسرے یہ کہ محض قانوناً کسی شخص کے مستحق قتل ہو جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ضرور اسے قتل ہی کر دیا جائے۔ ایسے کسی فیصلے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا اس کا قتل کسی عظیم تر فتنے کا موجب تو نہ بن جائے گا۔ حالات سے آنکھیں بند کر کے قانون کا اندھا دھند استعمال بعض اوقات اس مقصد کے خلاف بالکل الٹا نتیجہ پیدا کر دیتا ہے جس کے لیے قانون استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر ایک منافق اور مفسد آدمی کے پیچھے کوئی قابل لحاظ سیاسی طاقت موجود ہو تو اسے سزا دے کر مزید فتنوں کو سر اٹھانے کا موقع دینے سے بہتر یہ ہے کہ حکمت اور تدبر کے ساتھ اس اصل سیاسی طاقت کا استیصال کر دیا جائے جس کے بل پر وہ شرارت کر رہا ہو۔‘‘ (تفہیم القرآن ۵/۵۱۴، ۵۱۵ حاشیہ)

مدینہ منورہ کے ایک یہودی جادوگر لبید بن الاعصم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر کے کچھ چیزیں ایک کنویں میں ڈال دیں جس سے آپ کی قوت حافظہ متاثر ہوئی۔ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اس کی اطلاع دی گئی اور آپ نے صحابہ کے ساتھ جا کر اس کنویں کو مٹی سے بھر دیا۔ اس موقع پر آپ نے لبید بن الاعصم کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا، بلکہ اس نے جن چیزوں پر جادو کر کے کنویں میں ڈالا تھا، ان کو بھی کنویں سے نہیں نکالا اور فرمایا کہ اس سے خواہ مخواہ ایک فتنہ کھڑا ہونے کا ڈر ہے۔ (بخاری، ۵۴۳۰) قرطبی اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ان ترک قتل لبید بن الاعصم کان لخشیۃ ان یثیر بسبب قتلہ فتنۃ او لئلا ینفر الناس عن الدخول فی الاسلام وہو من جنس ما راعاہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم من منع قتل المنافقین

’’لبید بن الاعصم کو اس لیے قتل نہیں کیا گیا کہ اس سے فتنہ کھڑا ہو جانے کا اندیشہ تھا یا یہ خدشہ تھا کہ لوگ اسلام میں داخل ہونے سے متوحش نہ ہو جائیں۔ یہ اسی طرح کی مصلحت تھی جس کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کو قتل نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا کہ

حیث قال لا یتحدث الناس ان محمدا یقتل اصحابہ.(فتح الباری ۱۰/۲۳۱) لوگوں کو یہ بات کہنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔‘‘
جرم کو محیط ماحول اور حالات کی رعایت

صحابہ کے واقعات میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ اگر کسی مخصوص کیفیت میں کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دشمنی اور عداوت کی نیت سے دیدہ ودانستہ نہیں، بلکہ مخاطب کی کسی بات پر بھڑک کر کوئی ایسا کلمہ کہہ دیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کو مستلزم تھا تو انھوں نے اس مخصوص صورت حال کی رعایت سے اسے سزا کا مستوجب نہیں سمجھا۔
سیدنا ابوبکر کے زمانے میں 
سجاح نے نبوت کا دعویٰ کیا تو مالک بن نویرہ بھی اس کا ساتھی بن گیا۔ پھر جب سجاح مسیلمہ کے ساتھ جا ملی تو مالک بن نویرہ کو ندامت ہوئی۔ اس اثنا میں خالد بن ولید نے اپنے لشکر کے ساتھ اس علاقے پر حملہ کر کے مالک بن نویرہ اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔ خالد بن ولید نے مالک بن نویرہ کو بلا کر اسے سجاح کا ساتھ دینے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار پر طعن وملامت کی اور کہا کہ کیا تم جانتے نہیں کہ زکوٰۃ کا حکم بھی نماز کے ساتھ دیا گیا ہے؟ اس پر مالک نے کہا کہ: ان صاحبکم کان یزعم ذالک، تمہارا یہ آدمی (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم) یہی کہتا تھا۔ خالد بن ولید نے یہ سن کر کہا کہ اچھا، وہ ہمارا صاحب ہے، تمھارا نہیں؟ پھر انھوں نے ضرار بن الازور کو حکم دیا کہ اس کی گردن اڑا دو، چنانچہ اسے قتل کر دیا گیا۔ اس معاملے پر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی خالد بن ولید کے ساتھ تکرار ہوئی اور ابو قتادہ نے مدینہ آکر سیدنا عمر کے ساتھ مل کر ان کی شکایت سیدنا صدیق اکبر کے سامنے پیش کی۔ سیدنا عمر نے کہا کہ خالد کو معزول کر دیں، کیونکہ اس کی تلوار میں بہت تیزی ہے، تاہم سیدنا صدیق اکبر نے کہا کہ میں اللہ کی ایک تلوار کو جسے اس نے کفار پر چلا رکھا ہے، نیام میں بند نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد مالک بن نویرہ کا بھائی متمم بن نویرہ بھی شکایت لے کر آیا تو سیدنا صدیق نے اپنے پاس سے اسے اس کے بھائی کی دیت ادا کر دی۔ (ابن کثیر ، البدایہ والنہایہ ۶/۳۲۲)

روایت سے واضح ہے کہ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا ابو قتادہ نے مالک بن نویرہ کے قتل کی تائید نہیں کی، حالانکہ اس نے جو جملہ کہا، وہ صاف طو رپر استخفاف کا جملہ تھا، لیکن چونکہ خالد بن ولید مالک بن نویرہ کے حریف تھے اور ان کے ہاتھوں گرفتاری پر وہ ویسے ہی مشتعل تھا، اس لیے اس نے ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایسا انداز اختیار کیا کہ تلخی کا رخ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی طرف ہو گیا۔ اسی بات کی رعایت سے مذکورہ حضرات کی رائے یہ ہوئی کہ اسے قتل کر دینا مناسب نہیں تھا۔

فتح اسکندریہ کے موقع پر جب کسی مسلمان سپاہی کے پھینکے ہوئے تیر سے سیدنا مسیح علیہ السلام کی تصویر کی ایک آنکھ پھوٹ گئی تو مسیحیوں نے مطالبہ کیا کہ بدلے کے طور پر وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مجسمہ بنا کر اس کی آنکھ پھوڑنا چاہتے ہیں۔ تاہم اسلامی لشکر کے سپہ سالار عمرو بن العاص نے ’قصاص‘ کے لیے اپنی آنکھ پیش کر دی جس پر مسیحیوں نے متاثر ہو کر مسلمانوں کی یہ غلطی معاف کر دی۔ (سید صباح الدین عبد الرحمن، اسلام میں مذہبی رواداری، ۱۰۱-۱۰۲)

مسیحیوں کا یہ مطالبہ بدیہی طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے ہم معنی تھا اور اگر وہ عام حالات میں یہ مطالبہ پیش کرتے تو یقیناًانھیں اس پر سخت سزا دی جاتی، لیکن چونکہ یہاں خود مسلمانوں کے ایک عمل سے، نادانستہ ہی سہی، ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے تھے، اس لیے اس مخصوص صورت حال کی رعایت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مجسمے کی آنکھ پھوڑنے کا مطالبہ کرنے والوں سے کوئی بازپرس نہیں کی گئی۔

سطور بالا میں ہم نے سیرت نبوی کے واقعات کی روشنی میں حکمت ومصلحت کے جن پہلووں کو اجاگر کیا ہے، امام ابن تیمیہ اور ان کے موافقین عام طور پر ایک سادہ توجیہ کر کے انھیں اس بحث سے غیر متعلق قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ توہین وتنقیص کے مجرم کو سزا دینا چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق تھا، اس لیے آپ کو اسے معاف کرنے کا اختیار بھی حاصل تھا، لیکن آپ کے بعد کوئی دوسرا شخص اس اختیار کو استعمال نہیں کر سکتا۔ ابن القیم لکھتے ہیں:

ذلک ان الحق لہ فلہ ان یستوفیہ ولہ ان یترکہ ولیس لامتہ ترک استیفاء حقہ صلی اللہ علیہ وسلم وایضا فان ہذا کان فی اول الامر حیث کان مامورا بالعفو والصفح وایضا فانہ کان یعفو عن حقہ لمصلحۃ التالیف وجمع الکلمۃ ولئلا ینفر الناس عنہ ولئلا یتحدثوا انہ یقتل اصحابہ وکل ہذا یختص بحیاتہ صلی اللہ علیہ وسلم.(زاد المعاد ۵/۶۱) ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا، چنانچہ آپ کو اپنا حق لینے کا بھی اختیار تھا اور اسے چھوڑ دینے کا بھی، لیکن امت کے پاس آپ کے حق کو چھوڑ دینے کا اختیار نہیں ہے۔ مزید یہ کہ یہ طرز عمل آپ نے ابتدا میں اختیار کیا جب آپ کو عفو اور درگزر کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ پھر یہ کہ آپ کئی مصلحتوں کے پیش نظر اپنا حق چھوڑ دیتے تھے، مثلاً یہ کہ لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف مائل کیا جائے، مسلمانوں کیاجتماعیت قائم رہے، لوگ آپ سے متنفرنہ ہو جائیں اور یہ باتیں نہ کرنے لگیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ یہ تمام مصلحتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ساتھ خاص تھیں۔‘‘

امام صاحب کے اس ارشاد کے پہلے نکتے سے یقیناًاختلاف نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کہ اپنے شخصی حق کے طور پر توہین وتنقیص کے مجرم کو معاف کرنے کا اختیار نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو ہونا چاہیے۔ تاہم یہ اس معاملے کا صرف ایک پہلو ہے، کیونکہ خود امام صاحب اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مجرموں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کی بہت سی اجتماعی مصلحتوں کو ملحوظ رکھا۔ ہم نے مختلف مثالوں کی مدد سے اس ضمن میں جن پہلووں کو اجاگرکیا ہے، وہ حسب ذیل ہیں:

۱۔ مجرم کو پہلے مرحلے پر توبہ واصلاح کا موقع دینا چاہیے۔
۲۔ اگر کسی غیر تربیت یافتہ، اجڈ اور بد مزاج آدمی کو دینی آداب سیکھنے کا موقع نہ ملا ہو تو اس کی رعایت کرنی چاہیے۔
۳۔ اگر مجرم کا رویہ اصلاً معاندانہ، نہ ہو اور اس نے کسی دوسری وجہ سے اشتعال میں آ کر جرم کا ارتکاب کیا ہو تو اس کی بھی رعایت کی جانی چاہیے۔
۴۔ اس توقع پر مجرم کی تالیف قلب کرنی چاہیے کہ اسے اپنے رویے کی پستی کا احساس ہوگا اور حسن سلوک سے متاثر ہو کر وہ اسلام کی طرف مائل ہو جائے گا۔
۵۔ اگر کسی مخصوص ماحول میں مجرم کو سزا دینے سے دنیا کی نظر میں اسلام او رمسلمانوں کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہونے کا اندیشہ ہو اور یہ چیز لوگوں کے اسلام کی طرف مائل ہونے میں رکاوٹ بن سکتی ہو تو مصلحتاً مجرم سے صرف نظر کرنا چاہیے۔
۶۔ اگر مجرم ایسی معاشرتی اور سیاسی حیثیت کا حامل ہو کہ اس کو سزا دینے سے خود مسلمانوں میں تفریق اور انتشار پیدا ہونے کا امکان ہو تو بھی اجتماعی مصلحت کی رعایت سے اس سے درگزر کرنا چاہیے۔
۷۔ مجرم کے اعزہ واقربا اور متعلقین سے دین وایمان کی بنیاد پر کوئی تقاضا کرتے ہوئے ان کے رشتہ وقرابت اور مجرم کے ساتھ ان کی ذہنی ونفسیاتی وابستگی کو بھی پوری طرح ملحوظ رکھنا چاہیے۔

اب ان تمام مصلحتوں کے بارے میں امام صاحب کا یہ کہنا بے حد عجیب ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیا ت کے ساتھ خاص تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ تو لوگوں کی تالیف قلب کر کے انھیں اسلام کے قریب لانے کی ضرورت ہے، نہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں منفی تاثرات کو روکنے کا کوئی فائدہ ہے اور نہ مسلمانوں میں داخلی طو رپر تفریق اور انتشار کو روکنے کی کوئی اہمیت باقی رہی ہے۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ کتنی بے معنی بات ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مذکورہ تمام مصلحتیں ایسی ہیں جن کا لحاظ رکھنا آج بھی اسلام اور امت مسلمہ کی ضرورت ہے، بلکہ قیامت تک رہے گا اور مختلف عملی حالات کے لحاظ سے ان میں سے ہر مصلحت کی رعایت اسی طرح ضروری ہوگی جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات میں تھی۔ امام عبد الوہاب شعرانی (۹۷۳ھ) نے اسی تناظر میں توہین کے مرتکب ایک شخص سے درگزر کرنے کا ایک واقعہ نقل کر کے بجا طو رپر لکھا ہے کہ:

قال العلماء: وفیہ دلیل علی ان من توجہ علیہ تعزیر لحق اللہ تعالیٰ جاز للامام ترکہ.(کشف الغمہ ۲/۱۸۹) ’’علما نے کہا ہے کہ اس واقعے میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص حق اللہ کے تحت کسی تعزیر کا مستحق ہو تو امام کے لیے اسے اس پر نافذ نہ کرنا جائز ہے۔‘‘



ہمارے ہاں اس وقت مذہبی طبقات کی اکثریت چونکہ ابن تیمیہ کے موقف کی نمائندگی کر رہی ہے، اس لیے اس تعبیر کے ذیلی اور توسیعی اثرات بھی ان کے ہاں صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے ہاں یہ نقطہ نظر غالب ہے کہ توہین وتنقیص کا مجرم اگر اپنے جرم پر نادم اور معذرت خواہ ہو اور آئندہ کے لیے توبہ کرنا چاہے، تب بھی اسے کوئی رعایت نہیں دی جانی چاہیے۔ اسی طرح یہ احساس بھی عام ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت وناموس کی حفاظت چونکہ مسلمانوں کے دین وایمان کا حصہ ہے، اس لیے کوئی سچا مسلمان اپنے مذہبی جذبات کے لحاظ سے اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کسی شخص کے بارے میں ہمدردی کا رویہ رکھنے یا اسے توبہ واصلاح کاموقع دینے یا اس کے لیے موت سے کم تر کسی سزا کو قبول کرنے کا روادار نہیں ہو سکتا، بلکہ بعض اہل علم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ توہین رسالت پر سزاے موت کا قانون بن جانے کے بعد اس سے کم تر سزا کی بات کرنا بھی توہین اور استخفاف کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر اس طرز استدلال کو ذرا پھیلایا جائے تو اسے قانون بن جانے تک محدود رکھنا بھی شاید اسلامی حمیت کے منافی ہے، کیونکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہنے میں کوئی مانع نہیں کہ قانون بننے سے پہلے غور وفکر کے مرحلے پر بھی اگر اس جرم پر سزاے موت کی رائے پیش گئی تو اس سے کم تر کسی سزا کی تجویز پیش کرنا استخفاف اور توہین کا مظہر ہے۔ یوں نہ صرف چودہ صدیوں کے وہ تمام فقہاے احناف توہین رسالت اور استخفاف کے مرتکب قرار پاتے ہیں جو جمہور فقہا کی بیان کردہ سزاے موت کے بجائے کم تر تعزیری سزا تجویز کرتے رہے، بلکہ ہمارے ہاں ۱۹۸۶ء میں بننے والے قانون کو حتمی شکل دے کر پارلیمنٹ سے منظور کرانے والے تمام اہل علم اور مذہبی جماعتیں بھی اس کی زد میں آتی ہیں، کیونکہ اس قانون کا جو ابتدائی مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا، اس میں صرف سزاے موت تجویز کی گئی تھی، لیکن غور وفکر اور بحث ومباحثہ کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد جب اسے پارلیمنٹ نے منظور کیا تو اس میں سزاے موت کے ساتھ ساتھ عمر قید کی متبادل سزا بھی شامل تھی۔ ظاہر ہے کہ اس ترمیم کو اس وقت کے جید اہل علم، قانون دانوں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل تھی، چنانچہ مذکورہ منطق کی رو سے یہ سب حضرات توہین اور استخفاف کے مجرم قرار پاتے ہیں۔ ع

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں



جہاں تک ریاست کی سطح پر قانون سازی کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ قانون ساز ادارے کسی ایک فقہی مکتب فکر کی آرا کے پابند نہیں ہیں۔ ایک اجتہادی مسئلے میں انھیں پورا حق حاصل ہے کہ وہ دین وشریعت کی جس تعبیر کو زیادہ درست سمجھیں، اسی پر قانون سازی کی بنیاد رکھیں، لیکن اس کی وجہ سے نہ تو علمی دائرے میں بحث ومباحثہ پر کوئی قدغن عائد کی جا سکتی ہے اور نہ اس امکان کا دروازہ بند کیا جا سکتا ہے کہ اگر غور وفکر اور بحث ومباحثہ کے نتیجے میں قانون ساز ادارے کسی دوسری تعبیر کی صحت پر مطمئن ہو جائیں تو پھر وہ اسے قانون کا درجہ دے دیں۔ چنانچہ ۱۹۸۶ء میں پارلیمنٹ نے توہین رسالت سے متعلق قانون سازی کرتے ہوئے سزاے موت کے علاوہ عمر قید کی متبادل سزا کی گنجائش بھی رکھی تھی۔ اس کے بعد ۱۹۹۰ء میں یہ مسئلہ وفاقی شرعی عدالت میں زیر بحث آیا تو عدالت نے مخالف نقطہ نظر کو راجح قرار دیتے ہوئے یہ فیصلہ دیا کہ اس جرم پر سزاے موت ہی واحد سزا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر یہ مسئلہ آئندہ کسی موقع پر عدالت یا پارلیمنٹ میں دوبارہ زیر بحث آتا ہے تو اس کا پورا امکان ہے کہ سزاے موت کے ساتھ ساتھ متبادل اور کم تر سزاؤں کی گنجائش کو دوبارہ کتاب قانون میں شامل کر لیا جائے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو مسئلہ فقہی روایت میں ایک اختلافی اور اجتہادی مسئلے کے طور پر معروف چلا آ رہا ہے، اسے متفقہ اور اجماعی مسئلے کے طور پر پیش کرنا اور اس حوالے سے آزادانہ بحث ومباحثہ کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرنا علمی واخلاقی بددیانتی کے زمرے میں آتا ہے۔

اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے حوالے سے توہین وتنقیص کے واقعات پر رد عمل ظاہر کرنے اور خاص طور پر قانونی سطح پر کوئی اقدام کرتے ہوئے ان بہت سے حکیمانہ پہلووں کا لحاظ بھی بہت ضروری ہے جن کا ثبوت خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور صحابہ کرام کے طرز عمل میں ملتا ہے۔ ان تمام پہلووں کو نظر انداز کر کے اگر اس معاملے میں محض جذباتی انداز اختیار کر لیا جائے یا اس ضمن میں اسلامی قانون کی کسی ایسی تعبیر پر اصرار کیا جائے جس کے نتیجے میں ان تمام حکمتوں اور مصلحتوں کو یکسر قربان کر دینا پڑے جن کی رعایت خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے کی تو یقینی طورپر اس رویے کو کوئی متوازن اور دین وشریعت کی ہدایات کی درست ترجمانی کرنے والا رویہ نہیں کہا جا سکتا۔

سزا کے نفاذ کا اختیار

فقہ اسلامی کی رو سے معاشرتی جرائم کے ارتکاب پر مجرم کو سزا دینے کا اختیار افراد کو نہیں، بلکہ نظم اجتماعی یعنی ریاستی اداروں کو حاصل ہے۔ یہ بات فقہاے اسلام کے مابین متفق علیہ ہے۔ ابوبکر الجصاص لکھتے ہیں:

وقد علم من قرع سمعہ ہذا الخطاب من اہل العلم ان المخاطبین بذلک ہم الائمۃ دون عامۃ الناس فکان تقدیرہ فلیقطع الائمۃ والحکام ایدیہما ولیجلدہما الائمۃ والحکام ... ثبت باتفاق الجمیع ان المامورین باقامۃ ہذہ الحدود علی الاحرار ہم الائمۃ.(احکام القرآن ۵/۱۳۱) ’’اہل علم میں سے جو شخص بھی یہ حکم سنتا ہے، وہ جان لیتا ہے کہ اس حکم کے مخاطب عام لوگ نہیں بلکہ حکمران ہیں۔ گویا حکم یہ دیا گیا ہے کہ حکمران اور حکام چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹ دیں اور حکمران اور حکام زنا کرنے والوں کو کوڑے لگائیں۔ تمام اہل علم کے اتفاق سے یہ بات ثابت ہے کہ آزاد لوگوں پر حدود کے نفاذ پر حکمرانوں کو ہی مامور کیا گیا ہے۔‘‘

فقہا کا یہ اتفاق عقل عام کے اس اصول پر مبنی ہے کہ اگر اس نوعیت کے معاملات میں ہر شخص کو ازخود اقدام کرنے کا حق دے دیا جائے تو یہ چیز معاشرتی اور قانونی نظم کو درہم برہم کر دے گی اور اس کے نتیجے میں انصاف اور ظلم کے مابین عملاً کوئی فرق کرنا ہی سرے سے ممکن ہی نہیں رہے گا۔ جلیل القدر حنفی فقیہ کاسانی نے اس ضمن میں بعض اہم مصالح کو نمایاں کیا ہے جو اولو الامرکے بجائے عام لوگوں کو سزا کے نفاذ کا اختیار سونپنے سے فوت ہو سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ قاضی کو ریاستی مشینری کی پوری معاونت حاصل ہوتی ہے اور وہ مجرم کی طرف سے معارضے یا جوابی کارروائی کے خدشے سے بے نیاز ہوکر سزا نافذ کر سکتا ہے، جبکہ کسی عام فرد کو دوسرے فرد پر یہ اختیار حاصل نہیں ہوتا اور اس کا امکان ہوتا ہے کہ وہ سزا کے نفاذ کی مزاحمت کرے گا یا انتقاماً اپنے مخالف کی جان ومال کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ مزید برآں قاضی کے حق میں مجرم کے لیے رعایت، جانب داری اور مداہنت کے دواعی عموماً نہیں پائے جاتے جس کی وجہ سے وہ انصاف اور قانون کے تقاضوں کے مطابق سزا کو نافذ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ کسی مقدمے کے فریق کے بارے میں یہ صرف یہ کہ اس کا امکان بلکہ ظن غالب ہے کہ وہ عدل وانصاف کے مطابق فیصلہ کرنے کے بجائے جانب داری کامرتکب ہوگا۔ (بدائع الصنائع ۷/۵۷، ۵۸) پھر یہ کہ قانون وشریعت کی رو سے کسی مجرم کو سزا دینے کے لیے گواہوں کی گواہی سننے، ان کے سچ اور جھوٹ کو پرکھنے، جھوٹی گواہی دینے کی صورت میں گواہوں کو سزا دینے اور اس طرح کے جو دیگر معاملات درپیش ہوتے ہیں، ان کی ذمہ داری سے بدیہی طور پر ایک با اختیار عدالت ہی عہدہ برآ ہو سکتی ہے۔

خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر اس حکمت کو واضح فرمایا:
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب زنا کا جرم ثابت کرنے کے لیے چار گواہ پیش کرنے کا قانون نازل ہوا تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو دیکھوں گا تو سیدھی تلوار کے ساتھ وارکر کے اس کا کام تمام کر دوں گا۔ یہ تبصرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تو آپ نے فرمایا:

تعجبون من غیرۃ سعد واللہ لانا اغیر منہ واللہ اغیر منہ ومن اجل غیرۃ اللہ حرم الفواحش ما ظہر منہا وما بطن ولا احد احب الیہ العذر من اللہ.(بخاری، ۶۹۸۰) ’’تم سعدکی غیرت پر تعجب کرتے ہو! بخدا، میں سعد سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے۔ اس نے غیرت ہی کی وجہ سے بے حیائی کے کھلے اور چھپے کاموں کو حرام کیا ہے، لیکن بات یہ ہے کہ اللہ سے بڑھ کسی کو یہ بات پسند نہیں کہ مجرم کو صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔‘‘

امام قرطبی نے بعض اہل علم سے اس روایت کا مفہوم ان الفاظ میں نقل کیا ہے:

انما قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا احد احب الیہ العذر من اللہ عقب قولہ لا احد اغیر من اللہ منبہا لسعد بن عبادۃ علی ان الصواب خلاف ما ذہب الیہ ورادعا لہ عن الاقدام علی قتل من یجدہ مع امراتہ فکانہ قال اذا کان اللہ مع کونہ اشد غیرۃ منک یحب الاعذار ولا یواخذ الا بعد الحجۃ فکیف تقدم انت علی القتل فی تلک الحالۃ.(فتح الباری ۱۳/۴۰۰) ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمانے کے بعد کہ اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں، یہ بات فرمائی کہ مجرم کو صفائی پیش کرنے کا موقع دینا بھی اللہ سے بڑھ کر کسی کو پسند نہیں۔اس کا مقصد یہ تھا کہ سعد کو تنبیہ کی جائے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں، وہ درست نہیں اور انھیںاس شخص کو قتل کرنے سے روکا جائے جسے وہ اپنی بیوی کے پاس موجود پائیں۔ گویا آپ نے یہ فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ تم سے زیادہ غیرت مند ہونے کے باوجود مجرم کو دفاع کا موقع دینا پسند کرتے ہیں اور حجت قائم کیے بغیر مواخذہ نہیں کرتے تو تم اس حالت میں کیونکر قتل کا اقدام کر سکتے ہو؟‘‘

امام ابن عبد البر اس کی شرح میں فرماتے ہیں:

فی ہذا الحدیث النہی عن قتل من ہذہ حالہ تعظیما للدم وخوفا من التطرق الی اراقۃ دماء المسلمین بغیر ما امرنا اللہ بہ من البینات او الاقرار الذی یقام علیہ وسد باب الافتیات علی السلطان فی الحدود التی جعلت فی الشریعۃ الیہ وامر فیہا باقامۃ الحق علی الوجوہ التی ورد التوقیف بہ ..... والمعنی الموجود فی ہذا الحدیث مجتمع علیہ قد نطق بہ الکتاب المحکم وقد وردت بہ السنۃ الثابتۃ واجتمعت علیہ الامۃ.(التمہید ۲۱/۲۵۳، ۲۵۵) ’’اس حدیث میں ایسی حالت میں قتل کرنے کی ممانعت کی گئی ہے تاکہ انسانی جان کی حرمت کو نمایاں کیا جائے اور اللہ تعالیٰ نے گواہوں یا مجرم کے اقرار کی بنیاد پر سزا نافذ کرنے کا جو طریقہ مقرر کیا ہے، اس سے ہٹ کر مسلمانوں کا خون بہانے کا راستہ نہ کھل جائے۔ اس سے حکمران کے دائرہ اختیار میں مداخلت کا سد باب بھی مقصود ہے ، کیونکہ شریعت میں سزائیں نافذ کرنے کا اختیار حکمران ہی کے سپرد کیا گیا ہے اور اسے ان ہدایات کے مطابق سزا نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو شریعت میں بیان کیے گئے ہیں۔ ... اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ متفق علیہ ہے۔ یہ بات قرآن نے بھی بیان کی ہے، سنت ثابتہ سے بھی ثابت ہے اور امت کا بھی اس پر اجماع ہے۔‘‘

ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن عبادہ کے اس موقف کو ایک حد تک تسلیم کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ

کفی بالسیف شاہدا ثم قال لا لا، انی اخاف ان یتتابع فیہا السکران والغیران (ابو داود، ۴۴۱۷) ’’تلوار کی گواہی کافی ہے۔ لیکن پھر ساتھ ہی فرمایا کہ نہیں نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ نشے کی کیفیت میں یا غیرت کے جذبے سے مغلوب ہو کر دوسرے لوگ بھی اس راستے پر چل نکلیں گے۔‘‘

بلکہ حسن بصری کی مرسل روایت میں ہے کہ آپ نے ’کفی بالسیف شا‘ ہی کہا تھا یعنی ’شاہدا‘ کا لفظ بھی زبان سے پورا ادا نہیں کیا تھا کہ فوراً آپ کا ذہن اس کے نتائج کی طرف متوجہ ہوا اور آپ نے فرمایا کہ: اذا یتتابع فیہ السکران والغیران (مصنف عبد الرزاق، ۱۷۹۱۸)، یعنی اس صورت میں تو دوسرے لوگ بھی نشے کی کیفیت میں یا غیرت سے مغلوب ہو کر اس راستے پر چل نکلیں گے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: یابی اللہ الا بالبینۃ (مصنف عبد الرزاق، ۱۷۹۱۷)، یعنی اللہ گواہوں کے بغیر کسی کو سزا دینے کا اختیار قبول نہیں کرتا۔

اسی بنا پر جمہور فقہا کا موقف یہ ہے کہ اگر آدمی کسی شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھ کر اسے قتل کر دے جبکہ اس کے پاس چار گواہ نہ ہوں تو اسے قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ ہانی بن حزام بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو دیکھا تو دونوں کو قتل کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر متعلقہ عامل کو دو الگ الگ خط لکھے اور ظاہری طور پر اسے یہ حکم دیا کہ وہ قاتل سے قصاص لے جبکہ خفیہ طور پر اسے ہدایت کی کہ وہ مقتول کے ورثا کو دیت پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ۲۷۸۸۵) ان کی ہدایت سے واضح ہے کہ قاتل کے دعوے میں وزن محسوس ہو رہا ہو تو بھی نظم وضبط کو برقرار رکھنے کے لیے قانون اور عدالت کی طرف سے قصاص ہی کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کی حوصلہ افزائی نہ ہو۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد میں شام میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو دیکھا تو دونوں کو قتل کر دیا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس کے متعلق فیصلہ کرنے میں الجھن محسوس ہوئی تو انھوں نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ اس کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کریں۔ سیدنا علی نے فرمایا کہ اگر شوہر چار گواہ پیش نہ کر سکے تو اسے قصاص کے لیے مقتول کے اولیا کے حوالے کر دیا جائے۔ (موطا امام مالک، ۱۴۱۶۔ مصنف عبد الرزاق، ۱۷۹۱۵۔ ابن ابی شیبہ، ۲۷۸۷۹) امام شافعی فرماتے ہیں کہ ہمارے علم میں سیدنا علی کے اس فتوے سے مختلف کوئی رائے نہیں آئی اور ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ (فتح الباری ۱۲/۱۷۴)
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مکہ میں جب مسلمانوں کا اقتدار اور حکومت قائم نہیں ہوا تھا تو قبائلی رواج کے مطابق ہر شخص کو اپنا بدلہ خود لینے کی اجازت تھی، لیکن ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں جب مسلمانوں کی باقاعدہ حکومت قائم ہو گئی تو ازخود ایسا کوئی اقدام کرنے سے انھیں روک دیا گیا۔ فرماتے ہیں:

ومن انتصر لنفسہ دون السلطان فہو عاص مسرف قد عمل بحمیۃ الجاہلیۃ ولم یرض بحکم اللہ.(السنن الکبریٰ، ۱۵۸۵۹) ’’جو شخص حکمران کے پاس جائے بغیر اپنا انتقام خود ہی لے، وہ گناہ گار اور حد سے تجاوز کرنے والا ہے۔ اس نے جاہلیت کی حمیت پر عمل کیا ہے، لیکن اللہ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوا۔‘‘

ابن شہاب زہری سے پوچھا گیا کہ اگر آدمی کو اپنے بھائی کے قاتل پر قدرت حاصل ہو جائے اور اسے خوف ہو کہ حکمران تک پہنچنے سے پہلے وہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا تو کیا اسے خود ہی قتل کر دینے سے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں گناہ گار شمار ہوگا؟ ابن شہاب نے جواب میں کہا کہ:

مضت السنۃ ان لا یغتصب فی قتل النفوس دون الامام.(بیہقی، السنن الکبریٰ ۱۵۸۵۸) ’’یہ سنت چلی آ رہی ہے کہ امام کے علاوہ کوئی شخص ازخود کسی کی جان لینے کا اقدام نہ کرے۔‘‘

اس ضمن میں فقہاے احناف کا موقف بطور خاص قابل توجہ ہے۔ روایات سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں اور لونڈیوں کے مالکوں کو یہ اختیار دیا کہ اگر ان کا کوئی مملوک بدکاری کا ارتکاب کرے تو وہ اس پر کوڑوں کی سزا نافذ کر سکتے ہیں۔ (بخاری، ۶۳۳۳۔ مسلم، ۳۲۱۶) اسی طرح سیدہ فاطمہ، انس بن مالک، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن مسعود، ابو برزہ اسلمی اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم کے بارے میں روایات بیان ہوا ہے کہ وہ اپنے مملوکوں پر حد جاری کیا کرتے تھے۔ (بیہقی، السنن الکبریٰ، ۱۶۸۸۴ تا ۱۶۸۹۰) ام المومنین عائشہ کے بارے میں روایت ہے کہ ایک موقع پرانھوں نے چوری کی پاداش میں اپنے بھتیجے عبد اللہ بن ابی بکر کے گھر والوں کے ایک خاندان کے غلام کا ہاتھ کاٹ دیا۔ (موطا امام مالک، ۱۳۱۳) تاہم امام ابو حنیفہ ؒ نے یہ فتویٰ دیا کہ کوئی مالک ازخود اپنے غلام یا لونڈی پر سزا نافذ نہیں کر سکتا۔

ہماری رائے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے مذکورہ آثار اور امام ابوحنیفہ کے زیر بحث فتوے میں کوئی تعارض نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سزاؤں کے نفاذ کا اختیار اصلاً تو اولو الامر ہی کو ہے، تاہم انھیں یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ اپنا یہ اختیار کسی عملی مصلحت کے تحت محدود اور جزوی دائرے میں کسی دوسرے آدمی کو بھی سونپ دیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مالکوں کو اپنے مملوکوں پر حاصل اختیار کو سزا کے نفاذ کے لیے کافی سمجھتے ہوئے اور اپنی عدالت میں مقدمات کے ہجوم سے بچنے کے لیے اگر یہ اختیار انھیں سونپا ہو تو یہ قرین قیاس بات ہے، لیکن ظاہر ہے کہ یہ کوئی مستقل اور مطلوب شرعی حکم نہیں، بلکہ ایک انتظامی نوعیت کا فیصلہ تھا جس میں حالات ومصالح کے لحاظ سے تبدیلی بھی ممکن تھی، کیونکہ انتظامی ہدایات جن مصلحتوں کے پیش نظر دی جاتی ہیں، وہ ہمیشہ یکساں نہیں رہتیں۔ چنانچہ اگر مالکوں کو یہ اختیار دینے کے نتیجے میں کوئی خرابی سامنے آئی ہو یا مملوکوں پر تعدی اور زیادتی کے واقعات رونما ہوئے ہوں یا دیگر قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہوں تو اس اختیار کو ان سے واپس لے لینا بھی شرعی اصولوں اور مصالح کا عین تقاضا ہے۔ امام ابوحنیفہ نے غالباً اسی پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ رائے قائم کی کہ مملوکوں پر حد نافذ کرنے کا اختیار مالکوں کو نہیں دیا جانا چاہیے اور اپنے محل میں ان کی یہ رائے بالکل درست ہے۔

دور حاضر کے جلیل القدر محدث اور حنفی عالم شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ نے اس باب میں شرعی وفقہی زاویہ نگاہ کو بہت خوبی سے واضح کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

’’حدود وتعزیرات کے جتنے بھی احکام ہیں، یہ افراد کے لیے نہیں ہیں۔ قرآن پاک میں آتا ہے: السارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما (المائدۃ ۶/۳۸) چو ر مرد اور چور عورت، پس تم ہاتھ کاٹ دو ان کے۔ عام آدمی میں کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ چور کو پکڑکر اس کے ہاتھ کاٹ دے۔ غیر شادی شدہ مردو عورت زنا کریں تو ان کو کوڑے مارنے کا حکم قرآن میں مذکور ہے، مگر حکومت کے بغیر کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ کوڑے مارے۔ یہ حکومت کا کام ہے۔ اسی طرح یہود ونصاریٰ اور دیگر کافروں سے لڑنا انفرادی کام نہیں ہے۔ یہ اجتماعی طورپر حکومت کا کام ہے، گویا کہ مسلمانوں کے پاس اتنا اقتدار ہونا چاہیے کہ جس اقتدار کے ذریعے کافروں کی سرکوبی کریں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے ۔ اس لیے غلط فہمی کا شکار نہ ہونا ۔ یہ حکومت کا کام ہے، تمہیں زبان سے سمجھانے کا حق ہے۔‘‘ (ذخیرۃ الجنان ۱/۲۳۴، و ۸/۷۷)

’’اگر تمھیں اللہ تعالیٰ نے ہاتھ سے روکنے کی طاقت عطا فرمائی ہے، تمہارے پاس کوئی منصب ہے تو روکو، کیونکہ ہاتھ سے تو حکمران ہی روک سکتے ہیں، عام آدمی تو ہاتھ سے نہیں روک سکتا۔ اگر طاقت ہے تو ہاتھ سے روکے اور اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے، مگر آج کا ماحول ایسا ہے کہ زبان سے روکنا اور بتانا کہ یہ برائی ہے، بڑا مشکل ہے۔ فقہاے کرامؒ نے یہ مسئلہ لکھا ہے اور بجا لکھا ہے کہ جس مقام پر حق بیان کرنے کے بدلے شر اور فتنے کا شدید خطرہ ہو، وہاں پر خاموشی بہتر ہے۔‘‘ (ذخیرۃ الجنان ۴/۲۹۳)

اس اصول کے مطابق توہین رسالت کی سزا کے نفاذ پر بھی وہ تمام قیود وشرائط لاگو ہوتے ہیں جن کا اطلاق دوسری شرعی سزاؤں پر ہوتا ہے اور جنھیں اسلام کے ضابطہ حدود وتعزیرات کا حصہ سمجھا جاتا ہے، چنانچہ کوئی شخص یا گروہ اپنی انفرادی حیثیت میں توہین رسالت کے مجرم کے لیے سزا کا اعلان کرنے یا اسے سزا دینے کا مجاز نہیں اور دوسرے تمام جرائم کی طرح یہاں بھی جرم کے اثبات اور مجرم کو سزا دینے کے لیے باقاعدہ عدالتی کارروائی ضروری ہے۔

اس ضمن میں کتب حدیث میں منقول بعض واقعات سے بظاہر اس سے مختلف تاثر سامنے آتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک تفسیری روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک منافق کو اس بنیاد پر قتل کر دیا تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر مطمئن نہیں تھا اور آپ کی عدالت سے فیصلہ سننے کے بعد اپنا مقدمہ سیدنا عمر کے پاس لے گیا تھا۔ آج سے دس سال پہلے ہم نے اپنے ایک مضمون میں اس واقعے کے استناد کے حوالے سے جو کچھ عرض کیا تھا، اسے یہاں نقل کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے:

’’ہمارے معاشرے میں پیشہ ور اور غیر محتاط واعظین نے جن بے اصل کہانیوں کو مسلسل بیان کر کر کے زبان زدِ عام کر دیا ہے، ان میں سے ایک سیدنا عمرؓ کے ایک منافق کو قتل کرنے کا واقعہ بھی ہے۔ زیر نظر سطور میں محدثانہ نقطہ نظر سے اس واقعہ کی پوزیشن کو واضح کیا جا رہا ہے۔
اس واقعے کی تفصیل میں حافظ ابن کثیرؒ نے سورۃ النساء کی آیت ۶۵ کے تحت دو روایتیں نقل کی ہیں: پہلی روایت ابن مردویہؒ اور ابن ابی حاتم ؒ کے حوالے سے ہے جس کی سند حسب ذیل ہے: یونس بن عبد الاعلی اخبرنا ابن وھب اخبرنا عبد اللہ بن لہیعۃ عن ابی الاسود۔ .... دوسری روایت حافظ ابو اسحاق ابراہیم بن عبد الرحمن کی تفسیر کے حوالے سے نقل کی گئی ہے جس کی سند یہ ہے : حدثنا شعیب بن شعیب حدثنا ابو المغیرۃ حدثنا عتبۃ بن ضمرۃ حدثنی ابی۔ ....حکیم ترمذی نے ’نوادر الاصول‘ میں یہی واقعہ کسی سند کے بغیر مکحولؒ سے نقل کیا ہے اور ’نوادر‘ کے حوالے سے حافظ سیوطیؒ نے بھی اس واقعے کو ’الدر المنثور‘ میں درج کیا ہے۔ ....

یہ واقعہ روایت واسناد کے لحاظ سے نہایت کمزور اور ناقابل استدلال جبکہ درایت کے لحاظ سے بالکل باطل اور بے بنیاد ہے۔ پہلے سند کو لیجیے:

۱۔ نوادر الاصول کی روایت تو، جیسا کہ عرض کیا گیا، کسی سند کے بغیر صرف مکحولؒ سے منقول ہے جو تابعی ہیں اور کسی صحابی کے واسطے کے بغیر روایت نقل کر رہے ہیں۔ان کے بارے میں محدثین کی رائے یہ ہے کہ یہ اکثر تدلیس کرتے ہوئے صحابہؓ سے روایات نقل کر دیتے ہیں حالانکہ وہ روایات خود ان سے نہیں سنی ہوتیں۔
۲۔ ابن مردویہؒ اور ابن ابی حاتمؒ کی نقل کردہ روایت بھی منقطع ہے کیونکہ اس کے آخری راوی ابو الاسود محمد بن عبد الرحمن نوفل ہیں جو تابعی ہیں۔ محدث ابن البوقی فرماتے ہیں کہ اگرچہ زمانی لحاظ سے امکان موجود ہے لیکن عملاً کسی صحابی سے ان کی کوئی روایت ہمارے علم میں نہیں۔
علاوہ ازیں ا س سند میں عبد اللہ بن لہیعۃجیسا ضعیف راوی موجود ہے۔ اس کے بارے میں علماء حدیث کے اقوال درج ذیل ہیں:
’’امام نسائی فرماتے ہیں، ثقہ نہیں ہے۔ ابن معین کہتے ہیں، کمزور ہے اور اس کی حدیثیں ناقابل اعتبار ہیں۔ خطیب کہتے ہیں، اس کے متساہل ہونے کی وجہ سے اس کے ہاں منکر روایات کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ امام مسلم فرماتے ہیں کہ ابن مہدی، یحییٰ بن سعید اور وکیع نے اس کی روایت لینے سے انکار کیا ہے۔ حاکم کہتے ہیں، بے کار احادیث بیان کرتا ہے۔ ابن حبان کہتے ہیں، میں نے اس کی روایات کو جانچ پرکھ کے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ تدلیس کرتے ہوئے درمیان کے کمزور راویوں کو حذف کر کے براہ راست ثقہ راویوں سے روایت نقل کر دیتا ہے۔‘‘
۳۔ حافظ ابو اسحاق کی نقل کردہ روایت بھی منقطع ہے کیونکہ آخری راوی ضمر ۃ بن حبیب تابعی ہیں اور صحابی کا واسطہ موجود نہیں ۔ نیز سند کے ایک راوی ابو المغیرہ عبد القدوس بن الحجاج الخولانی کے بارے میں ابن حبانؒ کی رائے یہ ہے کہ وہ حدیثیں گھڑ کر ثقہ راویوں کے ذمے لگا دیتا ہے۔
ازروئے درایت ان روایتوں پر حسب ذیل اعتراض وارد ہوتے ہیں:

۱۔ ایک یہ کہ اگر مذکورہ واقعہ درست ہوتا تو سیدنا عمرؓ کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کا ایک سنہری موقع مدینہ منورہ کے منافقین کے ہاتھ آ جاتا اور وہ بھرپور طریقے سے اس کی اشاعت او ر تشہیر کرتے۔ چنانچہ ایسے واقعے کو منطقی طور پر کتب تاریخ وسیرت میں نمایاں طور پر مذکور ہونا چاہیے، جبکہ یہاں صورت حال یہ ہے کہ تاریخ اور تفسیر کی معرو ف اور قدیم کتابوں میں اس کا کہیں ذکر تک نہیں۔ امام ابن جریر طبریؒ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر آیت کے شان نزول سے متعلق تمام اقوال وروایات کا احاطہ کرتے ہیں، لیکن انہوں نے اس واقعہ کی طرف ادنیٰ اشارہ بھی نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن کثیرؒ نے بھی اس کو غریب جدا کہا ہے ۔ اصول حدیث کی رو سے ایسے معروف واقعات کی روایت میں خبر واحد معتبر نہیں ہوتی۔

۲۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس میں سیدنا عمر جیسی محتاط، سمجھ دار اور حدود اللہ کی پابند شخصیت کو ایک مغلوب الغضب (Rash) انسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ سیدنا عمرؓ دین کے معاملے میں نہایت باحمیت اور غیرت مند تھے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے ایسے کسی موقعے پر حد سے تجاوز نہیں کیا بلکہ کسی بھی اقدام کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی۔ چنانچہ یہ روایت واضح طور پر ان دین دشمن عناصر کی وضع کردہ معلوم ہوتی ہے جن کا مقصد اکابر صحابہ کرامؓ کی شخصیات کو مسخ کرنا اور انہیں داغ دار شکل میں پیش کرنا ہے۔‘‘(ماہنامہ الشریعہ، دسمبر ۲۰۰۱ء)

یہاں یہ بتانا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ نے جب یہ تنقید پڑھی تو اس سے اتفاق فرمایا اور کہا کہ تمہاری تنقید درست ہے، لیکن چونکہ واقعہ بہت سی معروف اور متداول تفسیروں میں بیان کیا گیا ہے، اس لیے تمہاری تنقید سے عوام کا اعتماد ان بزرگوں اور کتابوں کے بارے میں مجروح ہوگا، اس لیے اس نوعیت کی تنقید عوام کے سامنے بیان نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اسے اہل علم اور طلبہ تک محدود رکھنا چاہیے۔ تاہم موجودہ صورت حال میں یہ روایت محض کسی نظری علمی مسئلے میں نہیں بلکہ ایک بے حد اہم قانونی اور سماجی مسئلے میں ایک نہایت غلط اور خطرناک طرز فکر کی تائید کے لیے استعمال کی جا رہی ہے، اس لیے اس کی استنادی حیثیت کو واضح کرنا ہمارے نزدیک ایک دینی ذمہ داری کا درجہ رکھتا ہے۔

مذکورہ واقعے کے علاوہ اس نوع کی بعض اور روایات بھی محدثین نے نقل کی ہیں۔ مثال کے طور پر ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کی لونڈی، جو اس کے بچوں کی ماں بھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی اور آپ کی توہین کیا کرتی تھی اور اپنے مالک کے منع کرنے اور ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود اس سے باز نہیں آتی تھی۔ ایک دن اسی بات پر اس نے اشتعال میں آ کر اسے قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں یہ بات آئی تو آپ نے اس کو بلا کر پوچھ گچھ کی اور پھر اس کی وضاحت سننے کے بعد فرمایا کہ ’الا اشہدوا ان دمہا ہدر‘ (ابو داؤد، ۴۳۶۱) یعنی گواہ رہو کہ اس عورت کا خون رائیگاں ہے۔ اسی طرح عمیر بن امیہ کی ہمشیرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں زبان درازی کیا کرتی تھی جس سے تنگ آکر انھوں نے ایک دن اسے قتل کر دیا اور جب مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش ہوا تو آپ نے اس کے خون کو ہدر قرار دے دیا۔ (ابن ابی عاصم، الدیات، ۱/۷۳)

ان روایات کے حوالے سے یہ نکتہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ یہاں ایسے مجرموں کے متعلق عام افراد کو ازخود اقدام کرنے کی کوئی عمومی ’اجازت‘ نہیں دی گئی، بلکہ یہ صرف کیا گیا ہے کہ مخصوص حالات کی رعایت سے ایسا قدم اٹھانے والے افراد کا کوئی مواخذہ نہیں کیا گیا۔ ان واقعات میں جن مخصوص پہلووں کو اس رعایت کا موجب کہا جا سکتا ہے، وہ تین ہیں:
ایک تو یہ کہ یہاں جرم کے تحقق اور ثبوت کے معاملے میں کوئی خفا یا شبہہ نہیں تھا۔ روایات میں جس اسلوب سے ان کا جرم بیان کیا گیا ہے، اس سے واضح ہے کہ ان کا یہ طرز عمل عمومی طور پر معلوم ومعروف تھا، یعنی ایسا نہیں تھا کہ جرم کا افشا یا اس کا ثبوت محض قاتل کے بیان پر منحصر تھا اور اس کے علاوہ اس کا کوئی ثبوت میسر نہیں تھا۔
دوسرے یہ کہ ان میں جرم کو ایک معمول اور عادت بنا لینے والے مجرموں کا ذکر ہوا ہے جو جان بوجھ کر اور قصداً اشتعال پیدا کر رہے تھے اور مسلسل تنبیہ کے باوجود ایسا کرنے سے باز نہیں آ رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے۔

تیسرے یہ کہ یہاں جن افراد نے مجرموں کو قتل کیا، ا نھوں نے ایک غیر معمولی جذبہ ایمانی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے عزیز ترین قرابت داروں کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت وناموس پر قربان کر دیا تھا۔
ان تینوں وجوہ کو سامنے رکھا جائے تو واضح ہوگا کہ جرم کی سنگین نوعیت اور اس کے وقوع کے بالکل قطعی اور یقینی ہونے کی وجہ سے یہاں مجرم اصولی طور پر مباح الدم ہو چکے تھے اور اس کے بعد اگر کسی نے انھیں قتل کر دیا تو زیادہ سے زیادہ اسے کوئی تعزیری اور تادیبی سزا دی جا سکتی تھی، لیکن چونکہ جان لینے والے افراد نے یہ قدم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اٹھایا تھا اور اس کے لیے بہن اور بیوی جیسے رشتوں تک کو قربان کر دیا تھا، اس لیے ان کی اس غیر معمولی غیرت وحمیت کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز پر کوئی سزا دینا مناسب نہیں سمجھا۔ چنانچہ ان واقعات سے اگر کوئی قانونی نکتہ اخذ کیا جا سکتا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ اگر مقتول کا جرم ثابت ہو اور اپنی نوعیت کے اعتبار سے واقعتا قتل کی سزا کا مستوجب ہو تو قاتل کو مخصوص صورت حال کی رعایت سے سزا سے بری کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ کسی طرح اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ کسی بھی شخص کو قانون اور عدالت سے ماورا ایسے قضیے خود نمٹانے کی اجازت حاصل ہے۔

اس ضمن میں فقہاے اسلام کا منہج استنباط بھی یہاں خاص طو رپر پیش نظر رہنا چاہیے جو مخصوص واقعات سے عمومی قانون اخذ کرنے کو درست نہیں سمجھتے اور خاص طور پر اگر کسی واقعے سے عمومی علمی وعقلی اصولوں سے مختلف کوئی بات سامنے آ رہی ہو تو وہ واقعے کی توجیہ وتاویل کا طریقہ اختیار کرتے ہیں، نہ کہ دوسرے شرعی دلائل کو نظر انداز کر کے اسے عمومی قانون کا درجہ دے دیتے ہیں ۔

اس نکتے کو چند مثالوں سے واضح کرنا مناسب ہوگا۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ ایک موقع پر سیدنا سلیمان علیہ السلام عصر کے وقت اپنے گھوڑوں کی پریڈ دیکھنے میں مصروف تھے کہ مشغولیت اور انہماک کی وجہ سے انھیں نماز ادا کرنا یاد نہ رہا اور سورج ڈوب گیا۔ اپنی اس غفلت پر ندامت کا ایک ایسا احساس ان پر طاری ہوا کہ انھوں نے جذبات سے مغلوب ہو کر ان گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں پر تلوار چلانا شروع کر دی۔ قرآن میں ہے:

وَوَہَبْنَا لِدَاوُودَ سُلَیْْمَانَ نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّہُ أَوَّابٌ. إِذْ عُرِضَ عَلَیْْہِ بِالْعَشِیِّ الصَّافِنَاتُ الْجِیَادُ. فَقَالَ إِنِّیْ أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْْرِ عَن ذِکْرِ رَبِّیْ حَتَّی تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ. رُدُّوہَا عَلَیَّ فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ.(ص، ۳۰ تا ۳۳) ’’اور ہم نے داودکو سلیمان عطا کیا۔ وہ بہت اچھا بندہ تھا اور بے شک وہ رجوع کرنے والا تھا۔ یاد کرو جب شام کے وقت اس کے سامنے عمدہ اور اصیل گھوڑے پیش کیے گئے (اور ان میں انہماک کی وجہ سے سورج ڈوب گیا) تو سلیمان نے کہا کہ میں مال کی محبت میں مبتلا ہو کر اللہ کی یاد سے غافل ہو گیا، یہاں تک کہ سورج پردے کے پیچھے چھپ گیا! ان گھوڑوں کو واپس میرے پاس لاؤ۔ پھر اس نے ان کی پنڈلیاں اور گردنیں اڑانا شروع کر دیں۔‘‘

یہاں سیدنا سلیمان علیہ السلام کا عمل عام قانون کے لحاظ سے باعث اشکال ہے، کیونکہ ان کی غفلت میں گھوڑوں کا کوئی قصور نہیں تھا۔ تاہم چونکہ اس وقت ان پر ایک خاص کیفیت غالب آ گئی اور انھوں نے اپنی کوتاہی کی تلافی کے جذبے سے اپنے محبوب اورپسندیدہ مال کو ہلاک کر نا شروع کر دیا، اس لیے ان کا یہ عمل شریعت کے ظاہری قانون کے اعتبار سے نہیں، بلکہ ان کی دلی کیفیت اور جذبہ ایمانی کی وجہ سے اللہ کی نظر میں ایک پسندیدہ عمل بن گیا، لیکن بالبداہت واضح ہے کہ اس مخصوص واقعے سے شریعت کا کوئی عمومی حکم اخذ کرنا کسی طرح درست نہیں ہوگا۔

ابو لولو مجوسی نے سیدنا عمر کو شہید کر دیا تو ان کے بیٹے عبید اللہ نے جوش انتقام سے مغلوب ہو کر قتل کی سازش میں شریک ہونے کے شبہے میں فارس کے نومسلم جرنیل ہرمزان، ایک نصرانی جفینۃ اور ابو لولو کی بیٹی کو قتل کر دیا۔ ان میں سے ہرمزان اور ابو لولو کی بیٹی پہلے سے اسلام قبول کر چکے تھے۔ اس موقع پر سیدنا عثمان نے صحابہ سے مشورہ طلب کیا کہ عبید اللہ کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ بعض صحابہ نے کہا کہ یہ مناسب نہیں ہوگا کہ کل عبید اللہ کے والد قتل ہوئے ہیں اور آج اسے قتل کر دیا جائے، چنانچہ سیدنا عمر کی شہادت اور اس مخصوص جذباتی کیفیت کی رعایت کرتے ہوئے جس میں عبید اللہ نے تہرے قتل کا ارتکاب کیا تھا، اس سے قصاص نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ (طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۲/۵۸۶، ۵۸۷)

مذکورہ واقعے میں بے گناہ افراد کو قتل کرنے پر عبید اللہ سے قصاص نہ لینے کا فیصلہ بدیہی طور پر ایک مخصوص صورت حال پر مبنی ہے جسے عمومی قانون کی صورت نہیں دی جا سکتی، ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ ایسے ہر مقدمے میں قاتل کو سزا سے بری کر دیا جائے۔

ان مثالوں سے فقہا کے اس زاویہ نظر کا وزن اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ واقعات اور مقدمات سے عمومی اصول یا ضابطے اخذ نہیں کیے جا سکتے، بلکہ وہ بجائے خود اس کے محتاج ہوتے ہیں کہ ان کی تعبیر وتوجیہ وسیع تر قانونی اور عقلی اصولوں کے تحت کی جائے۔
اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ اسلامی شریعت کی رو سے دوسرے تمام جرائم کی طرح توہین رسالت کے جرم پر سزا دینے کا اختیار بھی صرف عدالت کے پاس ہے جو جرم کے ثبوت، اس کی نوعیت کی تعیین اور اس پر مناسب سزا تجویز کرنے کے ضمن میں ان تمام تقاضوں کو پورا کر سکے جو عدل وانصاف کی رو سے ضروری ہیں۔ اس سے ہٹ کر کسی ایسے طرز فکر یا رجحان کی تائید نہیں کی جا سکتی جس کے نتیجے میں ہر شخص اپنے آپ کو اس اقدام کے لیے آزاد سمجھے اور مسلمانوں کا معاشرہ تہذیب، نظم وضبط اور شرعی واخلاقی حدود وقیود کی پابندی کے بجائے ’’تمھی قاتل، تمھی مخبر ، تمھی منصف ٹھہرے‘‘ کا منظر پیش کرنے لگے۔

* لکھتے ہیں:
واما الحنفیون فیقتلون المسلم بالکافر خلافا علی اللہ تعالیٰ وعلی رسولہ علیہ السلام ومحافظۃ لاہل الکفر ولا یقتلون الکافر اذا سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم بحضرۃ اہل الاسلام فی اسواقہم ومساجدہم ولا یقتلون من اہل الکفر من سب اللہ تعالیٰ جہارا بحضرۃ المسلمین وہذہ امور نعوذ باللہ منہا.(المحلی ۱۱/۱۵۵)

’’حنفیوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف اہل کفر کی حفاظت کرتے ہوئے مسلمان کو تو کافر کے قصاص میں قتل کرنے کے قائل ہیں لیکن کافر اگر مسلمانوں کے سامنے میں ان کے بازاروں اور مسجدوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہے تو اسے قتل نہیں کرتے۔ اسی طرح جو اہل کفر مسلمانوں کے سامنے کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کی توہین کریں (یعنی مشرکانہ عقائد واعمال کا اظہار کریں)، انھیں بھی قتل نہیں کرتے۔ یہ ایسی باتیں ہیں جن سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔‘‘

* مولانا مودودی نے بھی فقہاے احناف کے موقف کو ترجیح دی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’ذمی خواہ کیسے ہی بڑے جرم کا ارتکاب کرے، اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا، حتیٰ کہ جزیہ بند کر دینا، مسلمان کو قتل کرنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا یا کسی مسلمان عورت کی آبرو ریزی کرنا بھی اس کے حق میں ناقض ذمہ نہیں ہے۔ البتہ صرف دو صورتیں ایسی ہیں جن میں عقد ذمہ باقی نہیں رہتا۔ ایک یہ کہ وہ دار الاسلام سے نکل کر دشمنوں سے جا ملے۔ دوسرے یہ کہ حکومت اسلامیہ کے خلاف علانیہ بغاوت کر کے فتنہ وفساد برپا کر دے۔‘‘ (ص ۲۸۹)

اس بارے میں مزید پڑھیں !

--------------------------

مضمون نگار کے دیگر مضامین: 

حدود و تعزیرات: چند اہم مباحث



یہ بھی پڑھیں !

اسلامی ریاست کی بنیاد ۔ پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد

کیا حکومت زکوۃ کاٹنے کی مجاز نہیں ! (قسط 2)

کیا حکومت زکوۃ کاٹنے کی مجاز نہیں ! (قسط 1 )

اسلام کا نظام زکوۃ اور چند جدید مسائل ۔ مبشر حسین