سید جمال الدین افغانی اور اقبال - ڈاکٹر معین الدین عقیل


(مشمولہ اقبال ریویو، حیدر آباد، جمال افغانی نمبر)

 ؒ سید جمال الدین افغانی 
جمال الدین افغانی کے عہد کا عالم اسلام بہ حیثیت مجموعی افتادگی و پژمردگی کا شکار تھا، لیکن یہی دَور عالم انسانی تہذیب کے لئے نہایت انقلاب افزا اور تحریک آمیز بھی ہے۔ اس میں سائنس کی ایجادات اور اس کی ترقیوں کے سبب زمان و مکان کی وسعتیں سمٹ جاتی ہیں اور قوائے فطرت کی تسخیر سے انسان اپنی زندگی کو نئے انداز سے ترتیب دینے لگتا ہے۔ یورپ کا صنعتی انقلاب سیاست اور معاشرے کی بنیادیں تبدیل کر دیتا ہے۔ فرانسیسی انقلاب کی وجہ سے قومیت،آزادی اور جمہوریت کے تقاضوں کے زیر اثر سیاست اور معاشرت کی پرانی قدریں اور پرانا طرز فکر سرنگوں ہو جاتا ہے۔ علمی ترقی کی رفتار آئے دن تیز سے تیز تر ہوتی جاتی ہے۔ ‘‘ لیکن اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں بھی اولاً مسلمان اپنے عہد گذشتہ کی حکایتوں میں کھوئے ہوئے بیٹھے تھے یا آنے والے تصوراتی عہد کے انتظار میں زندگی کے حقائق سے فرار حاصل کر لیتے تھے اور کبھی تصوف کے دامن میں پناہ تلاش کرتے تھے۔ ان کی اکثریت نے اپنی غفلت اور جمود کی وجہ سے اس انقلاب اور تغیر کی طرف کوئی توجہ ہی نہ دی جس کا ظہور یورپ میں ہو رہا تھا۔ اب یہ فطری امر تھا کہ یورپ اپنی اس نئی حاصل شدہ قوت کو اپنے استعماری منصوبوں میں استعمال کرنا شروع کرتا۔ محض ایک محدود تعداد ایسے مسلمانوں کی تھی جنہوں نے اس تغیر و انقلاب کے اثرات محسوس کئے کہ ان کے ممالک یکے بعد دیگرے مغربی طاقتوں کے ہاتھ میں جا رہے ہیں۔ ہندوستان میں ہزار سالہ حکومت انگریزوں کے قبضے میں چلی گئی۔ مصر بھی برطانوی تسلط میں آ گیا۔ ایران اور وسط ایشیا کے بعض علاقے روس نے ہضم کر لئے، فرانس شمالی افریقہ کے بیشتر علاقوں پر اپنی عملداری قائم کر رہا تھا۔ اسلامی دنیا کے ایک حساس طبقے نے اس زوال کو محسوس کیا۔ ہندوستان میں سید احمد خان اور ان کے رفقاء ترکی میں مدحت پاشا، سلطان محمود خان اور ان کے وزراء مصر میں محمد علی پاشا اور مصطفے ٰ کامل،تیونس میں خیر الدین پاشا، طرابلس میں امام محمد بن سنوسی، روس میں مفتی عالم جان، الجیریا میں امیر عبدالقادر،نجد میں عبدالوہاب کے حلقۂ فکر کے اکابر مسلمانوں کے اس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جسے اسلامی ممالک کے اس سیاسی زوال اور انحطاط کا حد درجہ قلق تھا۔ ان افراد نے اپنے اپنے مخصوص سیاسی حالات اور معاشی مسائل کے مطابق تھا۔ ان اکابر کی نظر میں مسلمانوں کی اس پستی کا علاج سیاسی اصلاح میں مضمر تھا کہ جب تک یہ ظہور پذیر نہ ہو کوئی کوشش ان کی بیداری کے لئے سود مند نہیں ہو سکتی۔ عالمِ اسلام میں اس نقطۂ نظر کے سب سے بڑے داعی سید جمال الدین افغانی تھے۔


افغانی ایک مذہبی مصلح،روشن خیال مفکر اور سیاسی رہنما تھے۔ ان کے پر جوش اور حکیمانہ ذہن نے ان مسائل او حالات کو بخوبی سمجھ لیا تھا، جن سے ان کی گرد و پیش کی دنیا دو چار ہو رہی تھی، ان کے دل پر مسلمانوں کے انحطاط کا بڑا گہرا اثر تھا۔ چنانچہ انیسویں صدی کے اواخر میں سیاسی استقلال اور دستوری حکومت کے لئے مذہبی و فکری اصلاحات کے تحت جو جدوجہد ہوئی اس کے بڑے محرک بھی ثابت ہوئے۔ یہ افغانستان میں ۱۸۳۹ء مین پیدا ہوئے، جہاں ان کے خاندان کو ایک اعلیٰ سیاسی و معاشرتی حیثیت حاصل تھی(۱)۔ اٹھارہ سال کی عمر تک وہ ایران اور افغانستان کے مختلف مقامات پر حصول تعلیم میں مصروف رہے (۲)۔ جس کے بعد وہ ہندوستان آئے اور ڈیڑھ سال مقیم رہ کر (۳)انھوں نے مغربی علوم اور کسی قدر انگریزی میں استعداد حاصل کی۔ افغانی،ایرانی، ترکی اور عربی وہ پہلے سے جانتے تھے۔ قیام ہند کے  بعد ۱۸۵۷ء میں مکہ معظمہ پہنچے۔ وہاں سے واپس افغانستان گئے اور حکومت سے منسلک ہو گئے (۴)۔ ۱۸۶۹ء میں دوسری مرتبہ ہندوستان آئے اور یہاں سے واپس کابل ہوتے ہوئے مصر گئے (۵)۔ ۱۸۷۱ء میں قسطنطنیہ پہنچے۔ وہاں ان کی خاصی آؤ بھگت ہوئی اور انہیں ’’انجمن دانش‘‘ کارکن بنایا گیا(۶)۔ وہاں سے مصر چلے گئے، جہاں ریاض پاشا نے ان کا خیر مقدم کیا(۷)۔ وہاں انھوں نے ۱۸۷۱ء سے ۱۸۷۹ء تک فلسفہ اور دینیات کے درس دئے (۸)۔ انہوں نے وسیع پیمانے پر دنیائے اسلام کا سفر کیا اور اس کے علاوہ انگلستان،فرانس، جرمنی،روس،امریکہ وغیرہ کی سیر بھی کی اور مغربی تہذیب کا گہرا مطالعہ بھی کیا۔ ان کا انتقال قسطنطنیہ میں ۹!مارچ ۱۸۹۷ء کو ہوا۔

علوم اسلامی پر افغانی نے جو عبور حاصل کر لیا تھا، اس کے طفیل ہر اس ملک کے علماء نے، جہاں وہ گئے،ان کا انتہائی احترام کی اور ان کے گرد سینکڑوں مستعد اور ذہین شاگردوں کے حلقے جمع ہو گئے،جن کو وہ ان طریقوں کی تلقین کرتے تھے جن سے کام لے کر اسلام کے تاریخی اور معاشرتی موقف کو موجود زمانے کی سائنسی فکر کے مطابق بنایا جا سکتا تھا (۹)۔ جن افراد نے مذہبی علوم کی تحصیل کے لئے افغانی سے وابستگی اختیار کی ان کی تعداد کم تھی انہیں میں ان کے شاگرد محمد عبدہ(۱۸۴۹ء۔ ۱۹۰۵ء) تھے جو اپنے استاد کے خیالات کی پیروی میں ممتاز درجہ رکھتے تھے (۱۰)۔ افغانی ایک بڑی متاثر کن شخصیت کے حامل تھے جس سے ان کے تمام ملنے والے متاثر ہو جاتے تھے۔ وہ تعلیم و تحریر کے ذریعے عام تخاطب سے اپنے خیالات کی اشاعت کرتے۔ مذہب اور علم دونوں میں ان کی مصلحانہ فطرت نمایاں ہوتی اور کسی گوشے میں بھی ان کے قدم مقلدانہ سطح سے مس نہیں ہوتے۔ سیاست میں وہ سرتا پا انقلاب کی دعوت دیتے۔ چنانچہ جہاں کہیں جاتے،چند دنوں کے اندر معتقدین کی ایک بڑتی تعداد کو ان کے پاس کھینچ کر لاتی، ان کے گھر میں اسباق کا باقاعدہ سلسلہ جاری رہتا جہاں اسلامی ادبیات کا درس ہوتا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ایسے مفکر تیار کئے جائیں جو دانائی اور بصیرت کے حامل ہوں۔ انھوں نے صرف بیرونی اقتدار سے آزاد ہونے ک نہیں بلکہ شدید  اور فرسودہ اعتقادات و اعمال کی مزاحمانہ قوت سے بھی نجات پانے کی بڑی شدومد سے تبلیغ کی۔ وہ آزاد خیالی کی جدوجہد میں بھی مصروف رہے۔ اور تصور آزادی کے کھلے ہوئے بیباکانہ اعلان پر زور دیتے ہے۔ انھوں نے اگر مسلمان حکمرانی پر ملامت کی کہ انھوں نے اپنی رعایات پر جبر کر کے ان کے اعتماد سے غداری کی ہے تو مغربی استعماریت پر بھی اس کے ایشیائی عوام کا استحصال کرنے پر سخت تنقید کی۔

افغانی نے اپنی جدوجہد کے لئے اسلام کے احیاء کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے نہ صرف عالم اسلام کو مخاطب کیا بلکہ تمام مشرقی اقوام کو بھی ان کے عام سیاسی انحطاط سے متنبہ کیا اور ا نہیں مغرب کے جارحانہ اثر و رسوخ کے خلاف متحد ہونے کی تلقین کی۔ ان کے نزدیک اسلام اپنے تمام لوازم میں ایک آفاقی مذہب ہے جو اپنی داخلی روحانی قوت کی وجہ سے یقینی طور پر ایسی اہلیت رکھتا ہے کہ تمام بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت کر سکے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر مسلمانوں کے ممالک ایک مرتبہ بیرونی تسلط اور مداخلت سے آزاد ہو جائیں اور اسلام میں بھی ایسی اصلاحات کر دی جائیں جن سے یہ زمانۂ حاضر حاضر کے تقاضوں کی تکمیل کر سکے تو مسلمان قومیں یورپی قوموں کے سہارے یا ان کی پیروی کے بغیر اپنے لئے ایک پر شکوہ زندگی کا لائحہ عمل تیار کر سکتی ہیں (۱۲)۔ افغانی کی پیش کردہ تعلیمات کی ایک مثال ان کی کتاب ’’الردعلی الدہریین‘‘ کے آخر میں نظر آتی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ قوم کی فلاح اور اصلاح کے لئے ان کے قلوب و اذہان ضعیف الاعتقادی اور اوہام پرستی سے پاک کیا جائے۔ قوم کے عقائد بنیادی چیز ہیں جو لوگوں کو سکھانے چاہئیں۔ لیکن یہ عقائد محض تقلید پر مبنی نہ ہوں بلکہ ان کی تائید ضروری دلائل و براہین کی تعلیم بھی ضروری ہے تاریخی عمل کے تعلق سے ان نظریات کا یہ امتیاز ہے کہ وہ اسے قدامت پرست مشرق اور ترقی پسند مغرب کے درمیان قدیم اور جدید کی کشمکش اور مذہب اور دہریت کے درمیان مسابقت سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ماضی میں بڑی بڑی قوموں اور مملکتوں کا زوال دہریت کو ماننے ہی کا سبب ہے۔ اسی طرح سے دہریت پر مبنی فرقہ باطنیہ کے عقائد ہی تھے، جنہوں نے دسویں صدی میں اسلام کی سیاسی تنظیم کو کمزور کر دیا(۱۳)۔ موجودہ عہد میں ان کے نزدیک فرانسیسی اور عثمانی ترک بھی دہریت کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ آگے چل کر انہوں نے لکھا ہے کہ تمام مذاہب ’’نیچریت‘‘ کے مقابلہ میں قابل ترجیح ہیں اور ان تمام مذاہب میں اسلام، افراد کو زیادہ مسرت و شادمانی عطا کرتا ہے (۱۴)۔ افغانی نے یہ خیال بھی پیش کیا کہ ہر قوم میں ایک مخصوص طبقہ ہونا چاہئے جس کا کام عوام کی تعلیم ہو اور ایک ایسا طبقہ بھی ہونا چاہئے۔ جو افراد کی اخلاقی تربیت کا ذمہ لے۔ ایک طبقہ فطری جہالت کا مقابلہ کر کے تعلیم عام کرے اور دوسا طبقہ فطری جذبات سے جنگ کر کے نظم و ضبط کا ذوق پیدا کرے (۱۵)۔ ان کی نظر میں مذہبی اصلاح کا مفہوم یہ تھا کہ اسلام کو جامع اور ہمہ گیر حیثیت سے سمجھا جائے اور اس کے حقائق اور بنیادی اصولوں پر مخلصانہ طریقے سے عمل کیا جائے۔ ان کے خیال میں ذہنی اصلاح ذہن و دماغ کو آزادی کرنے اور صداقت کی بے روک ٹوک پیروی کرنے سے میسر آ سکتی ہے۔ آزاد ذہن دنیا کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے۔ یہ ہم آہنگی انسان کو متوازن رکھتی ہے۔ اسے الجھن اور شکوک سے رہا کرتی ہے۔ اس طرح بالآخر سیاسی اصلاح خود بخود رونما ہو جاتی ہے۔ اس خیال کے تحت انہوں نے مجموعی طور پر اپنے فکر و عمل سے بیک وقت مسلمانوں کی ذہنی اصلاح بھی کرنی چاہی اور بیرونی تسلط سے ان کی مدافعت بھی ان کا مقصد تھا(۱۶)۔

افغانی نے اپنے عہد کے ادب کو بھی خاصہ متاثر کیا۔ ان کے عہد تک ادب زیادہ تر امراء و روسا کی مدح سرائی کے لئے وقف تھا۔ خواہ کیسے ہی نا اہل اور تعریف کے کتنے غیر مستحق کیوں نہ ہوں۔ افغانی نے ادب کے رجحانات پر اپنے گہرے اثرات مرتسم کئے۔ انھوں نے یہ تعلیم دی کہ ادب کا بنیادی مقصد لوگوں کی ضرورتیں ظاہر کر کے اور ان کے حقوق کی مدافعت کر کے ان کی خدمت کرنا ہے۔ اس طریقے سے ایک نئے ادب کی تشکیل ہوئی جو اپنے مواد و مضامین کے لئے قوم پر نظر رکھتا اور قوم کے حقوق اور حکمرانوں کے فرائض کے موضوعات کا حامل ہوتا تھا، انھوں نے اخبارات جاری کرنے کے لئے ہونہار نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی اور ان میں قوم پرستانہ جذبات پیدا کئے، ان کے گرد و پیش صحت مند عربی صحافت کی بنیاد استوار ہو گئی اور ادیبوں کو اس مقصد کے لئے تربیت دی گئی کہ وہ قوم کے مسائل کی وکالت و حمایت کریں (۱۷)۔ ان کی تعلیمات کا حلقہ جس قدر وسیع ہوتا گیا۔ اور ان کے قلم کی روانی جس قدر زیادہ ہوتی گئی اسی قدر ان کے اثر سے نئے نئے اہل قلم میدان میں آتے گئے،محمد عبدہ کے علاوہ رشید رضاء، سعد زاغلول، عبداللہ نعیم بے، احسان بے اور کتنے ہی ایسے نام دہرائے جاتے ہیں جو افغانی کے زیر اثر رہے۔

افغانی کی تمام کوششوں اور مسلسل جدوجہد کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ تمام مسلم اقوام ایک حکومت اسلامی کے ماتحت متحد ہو جائیں اور ان سب پر ایک خلیفۃ المسلمین کا قطعی اور کلی اثرو اقتدار ہو (۱۸)۔ جس طرح اسلام کے پر افتخار دور میں ہوتا تھا۔ بعد میں اسلام کی متحدہ طاقت متواتر اختلافات اور نزاعات سے منتشر ہو گئی اور مسلمان ممالک جہالت اور بے بسی میں مبتلا ہو کر مغربی استعمار کے تسلط کا شکار ہو گئے (۱۹)۔ ان کے خیالات میں محض اتحاد اسلامی ہی مسلمانوں کو عیسائیت اور مغربی استعمار سے نجات دلا سکتا ہے (۲۰)۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک مسلم جمہوریہ کی بابت سوچا تھا۔ جس میں مرکزی ایشیاء کی جمہوریتیں افغانستان اور ہندوستان کے شمال مغرب کے مسلم اکثریت والے علاقے شامل تھے۔ اپنے ان منصوبے کے تحت ان کا یہ پیغام تھا کہ علماء تمام روئے زمین پر ایک دوسرے کے ساتھ متحد و مرتبط ہو جائیں اور مختلف ممالک میں اپنے مرکز بنا لیں تاکہ اتحاد کے موقع پر اس کی طرف رجوع ہو سکیں۔ عوام کی رہنمائی قرآنِ حکیم اور حدیثِ قدسی کے مطابق کریں۔ مختلف مراکز کا ایک مرکز کلی قرار دیں جس پر سب کو جمع کرنے کی سعی کریں۔ یہ مرکز مقاماتِ مقدسہ میں ہو۔ جن میں سب سے اشرف و انسب حرم کعبہ ہے۔ اس طریقے سے وہ دین کو مضبوط و محفوظ بنا سکیں گے اور دشمنوں کے حملوں سے بچا کر آفات و حوادث کے موقع پر امت کی ضروریات پوری کر سکیں گے (۲۱)۔

افغانی نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے جو ذریعہ منتخب کیا وہ سیاسی انقلاب تھا۔ ان کے خیال میں مسلمان قوموں کے لئے، اس آزادی کی خاطر جو انہیں اپنے حالات درست کرنے کے لئے ضروری ہے، یہی ذریعہ سب سے زیادہ موثر اور یقینی تھا۔ ان کا خیال تھا کہ تدریجی اصلاح اور تعلیم کے طریقے غیر یقینی تھے۔ وہ اتنے مضطرب تھے کہ نتائج کو اپنی زندگی ہی میں دیکھنا چاہتے تھے (۲۲)۔ انہوں نے اپنے طریقہ کار میں بیک وقت سیاسی انقلابیوں اور علماء کو اپنا ہم خیال بنایا اور اسی سلسلے میں مقامی قومیت اور اتحاد اسلامی دونوں کو اہمیت دی (۲۳)۔ انہوں نے ایران میں ایک سیاسی مقتدر کی حیثیت سے، مصر اور ترکی میں ایک معلم کی حیثیت سے اور یورپ اور ہندوستان میں ایک نیم انقلابی کی حیثیت سے مسلمانوں کی ذہنی اصلاح کی تدابیر اختیار کیں جسے وہ مغربی استعمار کے خلاف کامیابی کا پیش خیمہ سمجھتے تھے (۲۴)۔ انہیں اسلام کے احیاء کی مخلصانہ خواہش نے تمام عمر متحرک رکھا۔ انہیں اس کے احیاء کے امکان پر پورا وثوق تھا۔ اور ان کا یہ جذبہ موثر اور کارگر تھا(۲۵)۔ انہوں نے سنیوں اور شیعوں کو باہم رعایتوں اور مفاہمتوں کی بنا پر متحد کرنے کی کوشش کی، جس کی اہمیت ابتداً سیاسی تھی لیکن اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذہبی رواداری کو دنیائے اسلام کے دیرینہ ازالے کے لئے بے حد ضروری سمجھتے تھے (۲۶)۔

جمال الدین افغانی کی سرگرمیاں عملاً سارے عالم اسلام اور ان مغربی ممالک میں بھی جاری رہیں، جو مسلمانوں کے ممالک سے سیاسی وابستگی رکھتے تھے۔ افغانستان، ایران، ترکی، مصر، ہندوستان سب سے وقتاً فوقتاً افغانی کا قوتِ آزما ربط پیدا ہوا اور ان سب ممالک میں ان کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں (۲۷)۔ انقلاب ایران جس کا آغاز ۱۸۹۱ء میں اجارۂ  تمباکو کے خلاف شورش سے ہوا اور جس کا اختتام قیام مشروطیت پر ۱۹۰۶ء میں ہوا، اپنے ابتدائی مراحل میں افغانی ہی کے مشورے اور حوصلہ افزائی کے سبب ہوا تھا(۲۸)۔ سوڈان کی مہدی تحریک میں بھی ان کے اثرات موجزن رہے (۲۹)۔ ۱۹۰۸ء میں نوجوان ترکوں کی کامیاب شورش افغانی ہی کی تحریک پر تیار ہوئی تھی، جس کو انہوں نے قسطنطنیہ کے دورانِ قیام شروع کیا تھا۔ اس تحریک کا مقصد یہ تھا کہ ترکی میں دستوری نظام بحال کیا جائے۔ اس میں بالآخر ایک مرحلہ پر خود فوج بھی انقلابیوں میں شامل ہو گئی اور سلطان عبدالحمید کو مجبور ہو کر ۱۸۷۶ء کا دستوری نظام بحال کرنا پڑا۔ اس طرح ملک کا اقتدار نوجواں ترکوں کے ہاتھوں میں آ گیا(۳۰)۔ مصری قوم پرستوں کی وہ تحریک جو اپنے ابتدائی مرحلے میں ’عرابی بغاوت‘ کے ہو جانے کی وجہ سے ختم ہو گئی تھی، اس کے ابتدائی محرک بھی افغانی ہی تھے۔ اعرابی اور ان کے ساتھی اپنے آپ کو افغانی کے پیرو بیان کرتے تھے (۳۱)۔ اور مصر ہی میں ذہنی اور مذہبی اصلاح و بیداری کے محرک محمد عبدہ تھے، وہ بھی بڑی حد تک افغانی ہی کے طفیل تھی(۳۲)۔

افغانی نے جب وہ پیرس میں تھے تو اپنے خیالات کی اشاعت کے لئے عربی میں ایک ہفتہ روزہ رسالہ ’’العروۃ الوثقیٰ‘‘ جاری کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلم اقوام مغرب کے استعمار اور استحصال کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی قوتوں کو مجتمع کرنے کے قابل ہوں (۳۳)۔ اس رسالہ کا اجراء مارچ ۱۸۸۴ء میں ہوا اور اس کے کل اٹھارہ شمارے شئع ہوئے۔ آخری شمارہ اکتوبر۱۷۸۴ء کو شائع ہوا(۳۴)۔ اس رسالے میں انگریزوں کے خلاف سخت لہجہ اختیار کیا جاتا تھا۔ چوں کہ اس رسالے کا زیادہ اثر ہندوستان اور مصر پر پڑتا تھا اس لئے حکومت برطانیہ نے ان دونوں  ملکوں میں اس کی درآمد ممنوع قرار دی اور جن لوگوں کے پاس اخبار پہنچتا تھا ان کو تشدد کا نشانہ بنایا(۳۵)۔ لیکن اس اخبار نے مختصر زمانۂ اشاعت میں عالمِ اسلام پر بڑا گہرا اثر کیا اور زوال پذیر مسلمان قوموں میں قومی جذبات کو بیدار کر دیا۔ اس زمانے میں ایک خیال تھا کہ اگر یہ اخباری جاری رہتا تو مسلمانوں میں ایک بغاوت پھیل جاتی (۳۶) یہ اخبار دراصل اسی نام کی ایک خفیہ تنظیم کا علم بردار بھی تھا، جو افغانی نے قائم کی تھی، اور جس میں ہندوستان، مصر شمالی افریقہ اور شام کے مسلمان شامل تھے۔ اس تنظیم کا مقصد یہ تھا کہ ’’مسلمانوں کو متحد کر کے ان کو خوابِ غفلت سے بیدار کرے، ان کو پیش آنے والے خطرات سے آگاہ کرے اور ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے طریقے بتائے اور فی الفور مصر اور سوڈان کو برطانوی تسلط سے نجات دلائے (۳۷)۔ افغانی کی جدوجہد میں یہ ایک عقیدہ تھا کہ تنظیم ملت کے لئے ہر ملک میں اخبار نویسی کو آلہ کار بنانا نہایت ضروری ہے۔ چنانچہ جب وہ مصر بدر ہو کر ہندوستان پہنچے اور عرصہ تک حیدرآباد دکن میں مقیم رہے تو اپنے خیالات کی ترویج و اشاعت کا ذریعہ انہوں نے رسالۂ معلم، اور ’ معلم شفیق‘ کو بنایا اور ان میں مقالات لکھتے رہے۔ اس عرصے میں وہ اہلِ ہند کے حالات سے بخوبی واقف ہو چکے تھے، وہ جانتے تھے کہ ان کا شیرازۂ قوم کیوں بکھرا ہوا ہے، کمزوریاں کیا کیا ہیں اور ان کو کس طرح رفع کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ان رسائل میں وہ مضامین لکھ کر ہندوستانی مسلمانوں کی توجہ ان امور کی طرف دلاتے رہے (۳۸)۔

ان کی شخصیت اور ان کی جدوجہد اس حد تک موثر تھی کہ ان کے مداح انہیں بہت بڑا مصلح اور محب وطن اور ان کے مخالف انہیں بے حد خطرناک شورش پسند سمجھتے تھے، ان کی مجموعی کوششوں کو ان کے اتحاد اسلامی کے پیغام میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا عملی اظہار افغانی نے مکہ معظمہ میں ’’ام القراء‘‘ کے نام سے ایک انجمن قائم کر کے بھی کرنا چاہا تھا،جس کا مقصد یہ تھا کہ پورے عالم اسلام کے لئے ایک خلیفہ مقرر کیا جائے۔ ابھی اس انجمن کو قائم ہوئے ایک ہی سال گزرا تھا کہ سلطان عبدالحمید نے اس کو ختم کر دیا۔ اپنے مقاصد کے اعتبار سے افغانی میں بے پناہ قوت کردار،وسیع علم و فضل، انتھک جوش عمل، بے مثال جرأت و بے باکی اور تقریر و تحریر میں غیر معمولی فصاحت تھی۔ وہ بیک وقت فلسفی، ادیب، خطیب اور صحافی تھے اور ان سب سے بڑھ کر سیاستدان تھے۔ ان کے عہد کے عالمِ اسلام کو مختلف النوع مسائل کا سامنا تھا۔ اس میں ہر ایک ملک کے مسائل مخصوص تھے۔ اور وہ وہاں کے مقامی حالات کے سبب تھے۔ بیشتر ممالک مغربی طاقتوں کے تسلط میں تھے لیکن ان طاقتوں کے اقتدار کا حلقہ اور ان کے تسلط کی نوعیت ہر ملک میں مختلف تھی اور وہاں کے سیاسی سماجی اور معاشی حالات و مسائل کا علاج بھی ان کے مطابق ہی ہو سکتا تھا۔ اس لحاظ سے بہ حیثیت مجموعی جمال الدین افغانی کی تحریک اسلامی ممالک کی مشکلات کا حل پیش کرنے میں ناکام رہی اس کا حقیقی سبب یہی تھا کہ ایران کو مصر اور حجاز کو شام پر قیاس نہیں کیا جا سکتا تھا(۴۰)۔ پھر بھی ان کی تحریک کے مثبت اثرات اسلامی ممالک بالخصوص افغانستان،ہندوستان،ایران، مصر اور ترکی وغیرہ میں دیکھے جا سکتے ہیں، ان اثرات کے تحت نجد کی وہابی تحریک کو اپنے احاطے سے نکل کر دیگر اسلامی ممالک میں پھیلنے کی گنجائش مل گئی، اسی طرح تقریباً یہی حال سنوسی،بہائی اور دیگر تحریکوں کا بھی ہوا۔ افغانی کے سیاسی نظریات نہ صرف ان کے اپنے عہد میں بلکہ بیسویں صدی کے ربع اول میں ہندوستان کی مذہبی، سیاسی تحریکوں میں بھی قوت پیدا کرنے کا سبب ہوئے۔

افغانی نے ہندوستان کے پانچ سفر کئے تھے۔ پہلے چار سفروں کی تفصیلات معلوم نہیں یہ بہت مختصر مدت کے حامل تھے۔ پانچواں سفر انہوں نے ۱۹۷۹ء میں کیا اس مرتبہ ان کا قیام یہاں کم و بیش دو سال تک رہا (۴۱)۔ اس دوران ان کی توجہ زیادہ تر ہندوستان کے نوجوانوں کے خیالات کی اصلاح اور نشو و نما کی طرف رہی۔ اور یہی طبقہ ان سے زیادہ اثر پذیر بھی ہوا۔ علماء اور خواص کی جو حالت ا س وقت تھی، افغانی اس سے مایوس ہو چکے تھے اور اس لئے وہ اپنی ساری قوت نئی نسل پر صرف کر رہے تھے (۴۲)۔ ہندوستان میں وہ سیاست سے بالکل علاحدہ رہے لیکن ہندوستانی مسلمانوں کے قومی مسائل ان کے پیش نظر رہتے تھے جنہیں وہ اپنے مضامین میں بیان کرتے۔ یہ مضامین وہ فارسی یا عربی میں لکھتے تھے لیکن ان کی مقبولیت کے سبب ان کا ترجمہ اُردو کے متعدد اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتا تھا۔ ’’العروۃ الوثقیٰ‘‘ کے بیشتر مضامین بھی اردو میں ترجمہ ہوئے (۴۳)۔ اس زمانے میں جب کہ مصر میں لوگ اس جریدہ کا شمارہ پابندی کے سبب ڈاک سے وصول کرتے ہوئے ڈرتے تھے (۴۴)۔ اس کو ہندوستان کے کئی مسلمانوں کی مالی امداد میسر تھی۔ ہندوستان میں ایک معتدبہ تعداد ایسے مسلمان طلبہ کی تھی جو اتحادِ اسلامی کے خیالات سے کامل اتفاق رکھتے تھے۔ یہ امور ہندوستان میں افغانی کی تحریک کی مقبولیت کو ظاہر کرتی تھی(۴۵)۔ افغانی کے خیالات ایک لحاظ سے مذہبی تعلیم کے رائج الوقت طریقے کے خلاف اور علمائے وقت سے برگشتہ تھے اور ایک اعتبار سے سید احمد خان کی تعلیمی تحریک کے بھی موافق نہ تھے، وہ مغربی علوم کی تحصیل کو مسلمانوں کو لئے ضروری سمجھتے تھے مگر اس طریقے سے نہیں جیسے سید احمد خان نے تجویز کیا تھا۔ سید احمد خان اور ان کی تعلیمی تحریک کے متعلق فغانی نے ہندوستان کے دورانِ قیام میں جو خیالات وقتاً فوقتاً ظاہر کئے ان سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ نہ صرف سید احمد خان کی تعلیمی تحریک پر معترض تھے بلکہ ان کے مذہبی نظریات اور ان کے قومی اور سیاسی اصولوں کے بھی خلاف تھے (۴۶)۔
 ؒ علامہ اقبال 
سید احمد خان کے بعد ہندوستان کی سیاست میں ایک دور ایسا بھی آیا جب ہندوستانی مسلمانوں کی ساری سیاست اسلامی ممالک کی سیاست اور وہاں کی تحریکوں کے متعلق ہو گئی۔ ایسی صورت حال میں یہ فطری امر تھا کہ ہندوستان میں جمال الدین افغانی کے خیالات عام ہوں اور سیاسی شعور اور بیداری کے پیدا کرنے میں اسلامی ممالک کی ان تحریکوں کا بھی حصہ ہو جو افغانی یا ان کے زیر اثر رو بہ عمل تھیں۔ افغانی کے خیالات ان کے عہد کے ہندوستان میں کچھ زیادہ اثر انداز نہ ہو سکے لیکن انہیں بیسویں صدی کے ربع اول میں زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس ملت میں شبلی، ابوالکلام آزاد،مولانا محمد علی اور اقبال اتحاد اسلامی کے بڑے پکے حامیوں کی حیثیت سے اُبھرے۔ شبلی نے اپنی تحریروں اور شاعری کے ذریعے بر عظیم کے مسلمانوں میں دوسرے ممالک کے مسلمانوں کے ساتھ بہت زیادہ ہمدردی پیدا کی۔ انھوں نے اپنے سفر مصر، روم اور شام کے دوران اسلامی ملکوں کے حالات کا بغور مشاہدہ کیا تھا۔ مصر میں ان کی ملاقاتیں محمد عبدہ سے ہوتی رہیں (۴۷)۔ انھیں کے توسط سے وہ افغانی سے بھی متاثر ہوئے اور غالباً ایک مرحلے پر افغانی کے اثر ہی نے انہیں سید احمد خاں سے بد ظن کر دیا(۴۸)۔ ابوالکلام آزاد اپنی زندگی کے ابتدائی دور ہی سے عالم اسلام کے مسائل سے پوری اور گہری دلچسپی لینے لگے تھے۔ ان کے مطالعے سے مصر کے علمی اور انقلابی رسائل اور اخبارات گزر چکے تھے (۴۹)۔ محمد عبدہ کی کتاب ’’التوحید‘‘ اور دیگر مضامین پڑھ چکے تھے۔ ’’المنار‘‘ میں تفسیر کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ جو افغانی کے معتمد شاگرد و رشید رضا نکالتے تھے نئے قسم کی تاویلات کی بعض کتابیں بھی نظر سے گزر چکی تھیں۔ محمد عبدہ کے علاوہ دگر مشاہیر مصر و شام کے حالات سے بھی واقف تھی(۵۰)۔ انھوں نے اپنے اتحاد اسلامی کے جذبات کو ایک پر جوش خطبے میں بیان کیا(۵۱)، ان کا خیال تھا کہ جو تحریک صرف براعظم تک محدود ہو وہ مقامی مسلم ملت کی کوئی خدمت نہیں کر سکتی۔ وہی تحریک کچھ مفید ہو سکتی ہے جو تمام دنیا کے مسلمانوں کو اپنے میں سمیٹ لے (۵۲) سید احمد خان اور علی گڑھ تحریک پر ان کی تنقید بھی دراصل افغانی کے زیر اثر تھی(۵۳)۔ مولانا محمد علی بھی اتحاد اسلامی کے بڑے موئید تھے۔ ان کی سیاست جہاں ایک طرف مادر وطن سے وابستہ تھی اور وہ مسلم ملت کی جداگانہ ہستی کو ابھرتی ہوئی ہندوستانی فوقیت میں ضم کر دینے کے حق میں نہیں تھے،وہاں وہ دوسری طرف اسلام کی عالمی امت کا بھی ایک جزو تھی۔ ان کا خیال تھا کہ ایک عالمی اسلامی اخوت دنیا کے تمام مذاہب کے تسلط سے مسلمانوں کو محفوظ رکھ سکتی ہے (۵۴)۔ اس زمانے میں اقبال کے دنیائے اسلام کے ناقابلِ تقسیم ہونے کے خیالات نے اتحادی اسلامی کی اس تحریک کو تقویت پہنچائی جو بر عظیم کے مسلمانوں میں اب معروف ہو چکی تھی۔ اقبال کا خیال تھا کہ دراصل مسلمانوں کا کوئی خاص وطن نہیں ہے، جسے زمان و مکان میں محدود کیا جا سکے، انہوں نے جدید حالات کے مطابق ایک طرف عالم اسلامی کے لئے الہاو ردی کے نظریات کے مطابق ایک مرکز پر بھی غور کیا(۵۵)۔ دوسرے انہوں نے افغانی کے تصور کو قبول کیا کہ مکہ معظمہ مذہبی اعتبار سے مسلمانوں کا مرکز رہے گا(۵۶)۔

جس سال افغانی کا انتقال ہوا ہے (۱۸۹۷ء) اس سال اقبال نے بی، اے کا امتحان پاس کیا تھا اور انہیں عربی اور انگریزی میں اعلیٰ استعداد پر دو طلائی تمغے دئیے گئے تھے اور ساتھ ہی فلسفے میں ایم، اے کرنے کے لئے تعلیمی وظیفہ بھی ملا تھا(۵۷)۔ اس وقت تک انہوں نے یقیناً افغانی کی تحریروں کا مطالعہ کیا ہو گا۔ وہ ہندوستان کے ان نوجوان مسلم طلبہ میں سے ایک تھے جنہوں نے انیسویں صدی کے اواخر میں افغانی کے افکار اور ان کے تحریک سے اثر قبول کیا تھا(۵۸)۔ اقبال نے اپنے نظامِ فکر میں جن سے فیض اٹھایا ہے ان کی فہرست طویل ہے۔ ان میں قرآن حکیم، حدیثِ قدسی کے علاوہ بہت سے قدیم و جدید اسلامی و مغربی مفکرین کے افکار اور ان کی تصانیف شامل ہیں، مشرق اور مغرب کے علوم کے امتزاج نے ان کو اپنے لئے ایک نئی اور مستقل راہ اختیار کرنے میں مدد دی۔ لیکن اس کے باوجود دراصل اقبال نے اپنی کی بنیاد اسلام کے قائد اور حکمائے اسلام کی حکمت پر رکھی ہے اور اس ضمن میں ان پر مولانا روم کا جو اثر ہے، وہ مثالی ہے۔ انہوں نے مولانا روم کی فکر و حکمت سے جو فیض اٹھایا ہے وہ کسی اور سے نہیں :

بیا کہ من زخم پیرِ روم آوردم

مے سخن کہ جواں تر ز بادۂ عنبی است

مولانا روم کے علاوہ اقبال نے عطار اور سنائی سے بھی استفاضہ کیا ہے۔ ان سے عقیدت کی ایک خاص وجہ یہ تھی کہ سنائی اور عطار دونوں مولانا روم کے سلسلۂ اساتذہ میں ہیں اور ان کے خیالات کا بیشتر حصہ مثنوی معنوی میں شامل ہے۔ محمود شبستری کا نام بھی اسی حلقے سے منسلک ہے جس سے اقبال نے اکتساب روحانی کیا تھا۔ شبستری کی نظم ’’گلشنِ راز‘‘ تصوف کی معروف تصانیف میں سے ہے۔ اقبال نے اس نظم کا بڑا گہرا مطالعہ کی تھا،پھر ا کے پیغام کو اساس بنا کر ’’گلشنِ راز جدید‘‘ کی صورت میں اپنے زمانے کے افکار پیش کئے ہیں۔ صرف اسلامی ہی نہیں بعض مغربی فلاسفہ ے بھی اقبال نے اثر قبول کیا تھا۔ اس سلسلے میں نطشے، برگساں، کانٹ وغیرہ کے نام نمایاں ہیں، اگر چہ وہ بہت حد تک مغربی فلسفے سے برگشتہ تھے، اس کے باوجود بعض مغربی فلاسفہ کے ساتھ ان کا کچھ معاملات میں اتحاد فکر و نظر تھا۔ انہوں نے مشرقی فلسفے و تصوف کو مغربی علم و حکمت کے معیار پر پرکھا۔ اور پھر ان کے مقابلے اور توازن سے ایک معتدل اور تابندہ فکری نظام کی تشکیل کی جس پر مغرب کے بجائے مشرق کا اثر زیادہ ہے، اس لحاظ سے اقبال کا فلسفہ قدیم مسلمان فلاسفہ کی حکمت و تعلیمات مبنی ہے لیکن اسے اقبال نے جدید زمانے کے تقاضوں اور تجربات کی روشنی میں مدون کیا ہے (۵۹)۔ اپنے سے قریبی عہد کے مسلمان مفکرین میں اقبال،افغانی کے بڑے مداح تھے۔ اپنی حکمت کے مطابق اقبال کو افغانی کے نظامِ فکر میں جو قدر مشترک نظر آتی تھی وہ ان کی اصلاح و تجدید کی مساعی تھیں۔ جو وہ اسلام کی روح کو اپنے زمانے کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے کرتے رہے۔ ان کے خیال میں افغانی اپنے زمانے میں مسلمانوں کی نشاۃ الثانیہ کے مؤسس(۶۰) اور اپنے عہد میں سب سے بڑے مشرقی بلکہ سب سے بڑے مسلمان تھے (۶۱)۔ وہ ماضی سے اپنا رشتہ منقطع کئے بغیر اسلام پر بحیثیت ایک نظامِ فکر،از سر نو غور کرنا چاہتے تھے۔ اس اعتبار سے وہ اسلام کی حیات ملی اور حیاتِ ذہنی کی تاریخ میں بڑی گہری بصیرت کے ساتھ ساتھ مختلف النوع اقوام کی عادات و خصائل کا بہتر تجربہ بھی رکھتے تھے اور ان کا  مطمحِ نظر بھی وسیع تھا(۶۲)۔ انھوں نے لکھا کم، کہا زیادہ اور اس طرح ان تمام لوگوں کو جوان کے زیر اثر آئے، چھوٹے پیمانے پر جمال الدین بنا دیا۔ انھوں نے کبھی پیغمبر یا مجدد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا، لیکن ان سے زیادہ کسی دوسرے فرد نے ہمارے دور میں خوابِ اسلام میں حرکت پیدا نہیں کی، ان کی روح آج بھی دنیائے اسلام میں کارفرما ہے اور کوئی نہیں بتا سکتا کہ اس کے اثرات کہاں تک جائیں (۶۳)۔

اقبال افغانی سے اس حد تک متاثر تھے کہ جب انھوں نے ’جاوید نامہ‘ میں ایک تصوراتی اسلامی مملکت کا خاکہ پیش کیا تو اس کے لئے انہوں نے افغانی کو اس کا ذریعۂ اظہار بنایا۔ اس میں افغانی کے بارے میں ان کے تاثرات کو ان اشعار میں دیکھا جا سکتا ہے۔

سید السادات مولٰینا جمال

زندہ از گفتار او سنگ و سفال

عالمے ورسینہ ماگم ہنوز

عالمے ورانتظام قم ہنوز

عالمے بے امتیاز خون و رنگ

شاماور وشن تراز صبح فرنگ

عالمِ پاک از سلاطین و عبید

چوں دل مومن کرانش ناپدید

عالمے رعنا کہ فیض یک نظر

تخم او افگند درجان عمرؓ

لایزال و وارداتش نو بنو

برگ و بار محکماتش نو بنو

باطن او از تغیر بے غمے

ظاہر اُد انقلاب ہردمے

اندرون تست آں عالم نگر

می وہم از محکمات او خبر

(ترجمہ:

سید السادات مولانا جمال الدین جن کی گفتار سے پتھر میں بھی زندگی کی حرارت پیدا ہو جائے۔

وہ عالم (ترانی) جو ہمارے دلوں میں ابھی گم ہے،اظہار کا منتظر ہے۔

  ایک ایسا عالم جہاں رنگ و خون کے امتیازات کا کوئی مقام نہیں ہے اس کی شام فرنگ کی صبح سے زیادہ روشن ہے۔

جو سلاطین اور غلاموں کے فرق سے پاس ہے اور مومن کے دل کی طرح بیکراں ہے۔

ایک ایسا دلنواز عالم جس کے فیض یک نظر نے جانِ عمرؓ میں (انقلاب کا بیج)بو دیا۔

اِس کی واردات لازوال اور اس کے محکمات کے برگ و بار ہر دم نئے ہیں۔

اس کا باطن بے تغیر اور کا ظاہر ہر دم ایک انقلاب

اس عالم کو اپنے اندرون میں دیکھ اس کے محکمات میں تجھے پتہ بتاتا ہوں۔ )

لیکن اقبال کا خیال تھا کہ وہ اپنی زندگی صرف اسلام کو ایک مکمل ضابطۂ حیات ثابت کرنے میں صرف کر دیتے تو زیادہ بہتر تھا۔ اگر انہوں نے اس طرح کیا ہوتا تو آج ہم مسلمان اپنے پاؤں پر کہیں زیادہ مضبوطی سے کھڑے ہوتے (۶۴)۔ یہ خیال دراصل ان دونوں شخصیات کے ذہن اور مزاج کے اس فرق کو ظاہر کرتا ہے جو ان دونوں کے درمیان محسوس ہوتا ہے لیکن یہ دونوں جس احساس اور جذبے سے بے چین رہے، وہ ایک تھا۔ ان کے مقاصد بھی ایک تھے لیکن طریقۂ کار مختلف تھا۔ اور یہ اختلاف اپنے اپنے ملکی حالات اور مسائل کے پیشِ نظر کچھ غیر یقینی بھی نہیں تھا۔

اقبال نے جس زمانے میں اپنا پیغام دیا وہ اس مختلف تھا کہ جس میں افغانی کو کام کرنا پڑا۔ جن اسلامی ممالک میں افغانی نے اپنی تحریک شروع کی وہاں مسلمانوں کا سیاسی اقتدار زوال پذیر تو تھا لیکن ان کی سیاسی حیثیت یکسر تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ وہاں کے سیاسی ادارے ابھی اپنی زندگی کا اظہار کر رہے تھے۔ جب کہ ہندوستان میں اب یہ بات طے ہو چکی تھی کہ ایک عرصے تک مسلمانوں کو یہاں محکوم ہی رہنا ہو گا۔ صرف اس حد تک ضرور ہوا تھا کہ سید احمد خان کی کوششوں سے یہاں ایک ایسا طبقہ پیدا ہو چکا تھا جو عام مسلمانوں کی حالت میں اصلاح بھی چاہتا تھا اور خود اس قابل ہو چکا تھا کہ جدید تقاضوں کے مطابق عمل رہنمائی کر سکے۔ اس کے برعکس افغانی نے جن اسلامی ممالک میں کام کیا وہاں گو سامراجی طاقتیں اپنے اثرات اور اقتدار کو بڑھانے کے لئے ہر ممکن تدابیر اختیار کر رہی تھیں لیکن وہاں بالکل ہی سیاسی کا یا پلٹ نہیں ہوئی تھی اور سیاسی،سماجی، تعلیمی اور فوجی اصلاحات کے لئے بعض اہم تحریکیں کام کر رہی تھیں (۶۵)۔ وہ ممالک ہندوستان کی طرح سیاسی طور پر بالکل ہی مفلوج نہیں ہوئے تھے، اس لئے وہاں اس قسم کی تحریکیں مفید اثرات قائم کرتی رہیں اور جب افغانی نے اپنی تحریک شروع کی تو انھیں ان تمام عناصر سے مدد ملی جو ان تحریکوں کے زیر اثر بار آور ہوئے تھے۔ افغانی نے ان تحریکوں اور ان سے پیدا شدہ اثرات کو زیادہ تقویت اور وسعت دی۔ اقبال نے جب اپنی شاعری شروع کی تو اس وقت کے ہندوستان میں یہ سمجھا جانے لگا تھا کہ یہاں مسلمان دوبارہ اپنی حکومت قائم نہیں کر سکتے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں ہندوستان کے مسلمانوں کو یقین ہو گیا تھا کہ برطانیہ کی حکمت عملی دنیائے اسلام کی آزادی کے خلاف ہے۔ انہیں اس کا بھی یقین ہو گیا تھا کہ یہ حکمت عملی در اصل ہندوستان پر برطانیہ کے تسلط کو تقویت پہنچانے کے لئے اختیار کی جا رہی ہے۔ چنانچہ یہ خیال ان کے عقیدے میں شامل ہو گیا کہ ہندوستان کی آزادی سے دنیائے اسلام پر یہ دباؤ ختم ہو جائے گا کیوں کہ اس کے بعد کوئی وجہ باقی نہیں رہے گی کہ برطانیہ ان اسلامی ممالک پر قابض رہے گا جو خشک اور بنجر علاقو پر مشتمل ہے۔ بہر حال تیل کی دریافت سے قبل اس تجزیے میں صداقت کا عصر موجود تھا۔ اس لئے اس دوران اتحاد اسلامی کے جذبات اور انگریزوں کی حکومت کو ختم کر دینے کی خواہش مسلمانوں میں بہت شدت اختیار کر گئی۔ اس قسم کے جذبات اور خواہشات کا اظہار اقبال کی شاعری سے بہت نمایاں ہوا۔ تاریخ میں بہت کم شاعر ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے اتنا گہرا اثر ڈالا ہو جتنا اقبال نے بر عظیم کے مسلمانوں پر ڈالا۔ انہوں نے اپنی شاعری کی ابتداء ہندوستانی قوم پرستی کے جذبات سے کی، ہندوستان کی تعریف میں نظمیں لکھیں اور ہندو مسلم اتحاد کے خیالات پیش کئے۔

سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا

یا

خاکِ وطن کا مجھ کر ہر ذرّہ دیوتا ہے

لیکن پختگی رائے کے بعد ان کے خیالات میں بڑا نمایاں انقلاب رونما ہوا اور انہوں نے ہر قسم کی قوم پرستی کی مذمت کی۔ انہوں نے اسے سب سے زیادہ تباہ کن اور مذہب کے منافی بتایا:

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

جو پیر ہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

انہوں نے کہا کہ مسلمان قوم پرست نہیں ہو سکتا، خواہ اس کا وطن ایک مسلم ملک ہی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے اس خیال کو بڑی شد و مد کے ساتھ پیش کیا کہ مسلم ملت زمان و مکان میں محدود نہیں ہے۔ اس لئے دنیائے اسلام کے ناقابل تقسیم ہونے کے نظریے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمان اپنے آپ کو ترکوں، عربوں،ایرانیوں،افغانوں اور ہندوستانیوں میں تقسیم نہ کریں۔

امت مسلم ز آیات خداست

اصلش از ہنگامۂ قابو بلیٰ است

در جہاں بانگ اذاں بوداست وہست

ملتِ اسلامیاں بوداستوہست

نیست ازرومو عرب پیوند ما

نیست پابند نسب پیوندما

تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصود

اسلام کا مقصود فقط ملت آدم

ہندوستان سے بڑھ کر اقبال نے جب دنیائے اسلام کی طرف نظر کی تو انہیں وہ بھی امراض میں مبتلا نظر آئی جن سے ہندوستانی مسلمان دو چار تھے۔ وہ ایسی ریاستوں میں تقسیم تھی جو غرضانہ جذبات رکھتی تھیں۔ بعض ریاستی نسلی وجوہ کی بنا پر معدوم ہو رہی تھیں۔ عربوں اور ترکوں کی باہمی عداوت بھی تکلیف دہ تھی۔ اقبال نے اپنا فرض سمجھا کہ مسلمانوں کو قوم پرستی اور نسل پروری کے خطرات سے آگاہ کریں۔ ان کے مطمح نظر میں ایک بڑی خصوصیت عمل پر ان کا اصرار تھا۔ وہ ایسے عقائد کے قابل نہیں تھے جو عملی اظہار نہ کر سکیں۔ اقبال نے اسلام میں مذہبی فکر کی تشکیل جدید کی ضرورت پر بھی بہت زور دیا۔ مغربی تہذیب پر ان کی تنقید بھی بہت سخت تھی۔ اس تہذیب کی بنیادی کمزوریاں ان کی نظر میں تھیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے ان جذبات کو جو انگریزوں کی حکومت کو ختم کر دینے سے متعلق تھے، اقبال نے ایک آزاد اسلامی ریاستی کے تصور میں ڈھال دیا۔

افکار و نظریات کے تعلق سے افغانی اور اقبال میں بہت کم فاصلے نظر آتے ہیں۔ افغانی کے علم و فضل پر ان کے سیاسی مشاغل نے اس حد تک پردہ ڈال دیا تھا کہ ان کا تبحر علمی نسبتاً کم محسوس ہوتا ہے۔ ان کا علم ویسے بہت وسیع تھا اور اپنے دور کے بیشتر علماء کے مقابلے میں وہ جدید علوم کے متعلق اپنی معلومات میں ہمیشہ اضافہ کرتے رہتے تھے (۶۶)۔ عقائد کے اعتبار سے حنفی اور حنفی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ اگرچہ کورانہ تقلید کے خلاف تھے تاہم سنت صحیحہ کے اتباع میں کوئی پس و پیش نہ تھا۔ مذہب صوفیہ کی جانب قلبی میلان بھی رکھتے تھے (۶۷)۔ ان کے خیال میں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کی وساطت سے اقوام کو مسرت و شادمانی حاصل ہو سکتی ہے (۶۸)۔ یہی اقبال کا بھی نقطۂ نظر تھا۔ ان کے خیال میں بنی نوع انسان کے لئے اگر کوئی عالمگیر مذہب ہو سکتا ہے تو وہ اسلام ہی ہے اور اس میں دنیا کی تمام قوموں کی فلاح و بہبود اور نجات کا راز مضمر ہے۔ انہوں نے اپنا بلند ترین مطمحِ نظر قرآن حکیم کی تعلیمات کو قرار دیا۔ دنیا کے  تمام مذاہب اور قوموں کو قرآن کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے جو تمام دنیا کے انسانوں کو متحد کر سکتی ہے (۶۹)۔

افغانی اور اقبال دونوں کو پوری طرح ان مسائل کا احساس تھا جن سے سائنس اور فلسفے کی ترقی کے باعث اسلام کو دوچار ہونا پڑ رہا تھا۔ افغانی نے لکھا تھا کہ ہم اسلام کی حفاظت کر رہے ہیں۔ وہی مسلمان اسلام کے محافظ ہو سکتے ہیں جو علوم و معارف مختلفہ سے آشنا اور واقف ہوں (۷۰)۔ اقبال کے یہاں بھی یہی بات موجود ہے۔ انہوں نے ایسے علماء پر سخت تنقید کی ہے جو روح اسلام سے ناآشنا ہونے کے ساتھ ساتھ علوم و فنون اور زندگی کے حقائق سے بیگانہ ہیں اور وہ مدرسے میں وہی علوم پڑھتے ہیں، جو اب فرسودہ ہو چکے ہیں۔ اقبال کا یہ راسخ عقیدہ تھا کہ قرآن حکیم کی تعلیم محض کسی ایک زمانے اور ایک قوم کے لئے نہیں۔ ہر زمانہ جب اس اس میں غوطے لگائے گا تو اس کو نئے آبدار موتی ملیں گے (۷۱)۔ افغانی چاہتے تھے کہ مسلمان اپنے مذہب کی حفاظت اور خود اپنی بقا کے لئے سائنس کی طرف رجوع کر لیں اور اسلامی علوم میں صرف مدافعت کی طاقت پیدا کریں (۷۲)۔ تقریباً یہی خیالات اقبال بھی رکھتے تھے۔ انہوں نے کتاب اور حکمت دونوں کی ضرورت پر زور یا ہے :

برگ و ساز ما کتاب و حکمت است

ایں دو قوت اعتبارِ ملت است

جس جدید مغربی تہذیب کا مشاہدہ انہیں اپنے قیام یورپ کے زمانے میں ہوا تھا اور جس کے دلدادہ ہمارے نوجوان ہوتے جا رہے تھے، چونکہ اس کی بنیاد سائنس اور عقلی علوم پر رکھی گئی تھی، اس لئے تھوڑی بہت نئی تعلیم حاصل کر کے گمراہی اور مادہ پرستی میں مبتلا ہونے والے نوجوانوں کی اصلاح و تربیت کے لئے اقبال نے ضروری سمجھا کہ عقل و عشق کا موازنہ کر کے مدافعت کریں۔ ان کی نظر میں مذہب اور سائنس کے مابین کسی قسم کا اختلاف ممکن نہیں (۷۳)۔

افغانی مذہبی عقائد کے قائل نہیں تھے، انہوں نے لکھا ہے کہ ’’قوم کے مذہبی عقائد پہلی چیز ہیں جو لوگوں کو سکھانے چاہیں۔ لیکن یہ عقائد محض تقلید پر مبنی نہ ہونے چاہیں بلکہ ان عقائد کی تائید میں ضروری دلائل و براہین کی تعلیم بھی ضروری ہے (۷۴)۔ ابتدائی دور میں اقبال تقلید کے قائل تھے۔ انہوں نے اپنے زمانے کے حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اجتہاد کے مقابلے پر تقلید کو ترجیح دی تھی:

نقش بر دل معنی توحید کن

چارۂ کار خود از تقلید کن


اس وقت مغربی اقوام کی یورش اپنے انتہائی عروج پر تھی۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد تمام اسلامی ممالک ان کے قبضۂ اقتدار میں تھے اور مسلمان ذہنی اور عملی طور پر مغرب کے غلام ہو چکے تھے۔ ایسے حالات میں اقبال نے اگر اجتہاد کا دروازہ بند ر رہنے کی تجویز پیش کی تو یقیناً ہم سمجھ سکتے ہیں کہ فتنۂ تاتار کے موقع پر اگر ایسا ہی فیصلہ کیا گیا تو حالات کو مڈ نظر رکھتے ہوئے اس میں ایک گونہ مصلحت ضرور تھی(۷۵)۔ لیکن اقبال نے بعد میں اپنے اس خیال کو تبدیل کر لیا۔ ان کی نظر میں اجتہاد ایک ایسا عنصر ہے جو اسلام کی ہیئت ترکیبی کے اندر حرکت اور تغیر قائم رکھتا ہے (۷۶)۔ انہوں نے لکھا کہ قوائے انحطاط کے سد باب کا اگر کوئی ذریعہ فی الواقع موثر ہے تو یہ کہ معاشرے میں اس قسم کے افراد کی پرورش ہوتی رہے جو اپنی ذات اور خودی میں ڈوب جائیں، کیوں کہ ایسے افراد ہی ہیں جن پر زندگی کی گہرائیوں کا انکشاف ہوتا ہے اور ایسے ہی افراد وہ نئے نئے معیار پیش کرتے ہیں جن کی بدولت اس امر کا اندازہ ہونے ہونے لگتا ہے کہ ہمارا ماحول سرے سے ناقابلِ تغیر و تبدیل نہیں، اس میں اصلاح اور نثر ثانی کی گنجائش ہے (۷۷)۔

افغانی بھی اجتہاد پر بہت زور دیتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ اسلام میں ایسی اصلاحات کر دی جائیں جن سے یہ زمانۂ حاضر کے تقاضوں کی تکمیل کر سکے۔ اس طرح مسلمانوں قومیں یورپی قوموں کے سہارے یا ان کی نقالی کے بغیر اپنے لئے ایک جدید اور شاندار زندگی کا نظام تیار کر سکتی ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام اپنے تمام لوازم میں ایک آفاقی مذہب ہے، جو اپنی داخلی روحانی قوت کی وجہ سے یقینی طور پر ایسی اہلیت رکھتا ہے کہ تمام بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت پیدا کر سکے (۷۸)۔

مغربی تہذیب کا رد بھی ان دونوں میں مشترک صفت تھی۔ بلنٹ کے خیال میں افغانی اپنے خیالات میں پکے اور پوری طرح ایشیائی تھے اور آسانی کے ساتھ یورپی رسوم و عادات سے مانوس نہ ہوتے تھے (۷۸)۔ وہ اس لحاظ سے انفرادیت کے حامل تھے کہ اپنے اپنے زمانے نہ صرف دنیائے اسلام سے کماحقہ واقف تھے۔ بلکہ مغربی دنیا سے پوری واقفیت رکھتے تھے اور وہ پہلے مسلمان تھے جنہوں نے مغربی غلبے کے آنے والے خطرات کو اچھی طرح محسوس کر لیا تھا اور انہوں نے باقی عمر اسلامی دنیا کو اس خطرہ سے آگاہ کرنے اور مدافعت کرنے کے ذرائع معلوم کرنے میں صرف کر دی(۷۹)۔ ان کے جاری کردہ رسالے ’العروۃ الوثقی‘ کا مقصد یہی تھا کہ مسلمان مغرب کی چیرہ دستیوں اور استحصال کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی قوتوں کو مجتمع کر لیں (۸۰)۔ مغربی تہذیب کاروں،اقبال کے یہاں زیادہ شدت اور بھرپور انداز سے نظر آتا ہے۔ انہوں نے قیام یورپ کے زمانے میں مغربی تہذیب کی بنیادی کمزوریوں اور اس کی لادینی اور اخلاقی قباحتوں کو دیکھا تھا۔ ان کے خیال میں اس تہذیب کا شعار انسانیت کی تباہی اور اس کا پیشہ تجارت ہے۔ مغربی تہذیب کے سبب دنیا میں امن و امان، خلوص اور پاکیزگی ممکن نہیں :

آہ یورپ زیں مقام آگاہ نیست

چشم او بنظر بنور اللہ نیست

او ندا ند از حلال و از حرام

حکمتش خام است وکارش ناتمام

امتے برامتے دیگر چسرد

دانہ ایں می کار د آں حاصل برد

از ضعیفاں ناں و بودن حکمت است

از تن شاں جاں ربودن حکمت است

وہ بیان کرتے ہیں کہ یورپ میں علم و فن تو بہت عروج پر ہیں لیکن فی الحقیقت وہاں انسانیت کی اعلیٰ اقدار موجود نہیں۔ اس کی مادہ پرستی تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے۔ وہاں زندگی محض تاجرانہ اہمیت رکھتی ہے۔ علم و حکمت،حکومت و سیاست، جس پر یورپ کو فخر ہے، محض دکھاوے کی ہیں۔ انسانیت کے ہمدرد انسانوں کا خون بہاتے ہیں لیکن بظاہر انسانی مساوات اور اجتماعی عدل کی تعلیم دیتے ہیں۔ بیکاری،عریانی،شراب نوشی اور بے مروتی ہی مغربی تہذیب کی خصوصیات ہیں :

یورپ میں بہت روشنی علم و ہنر ہے

حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات

رعنائی تعمیر میں رونق میں صفا میں

گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات

ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے

سود ایک کا لاکھوں کے لئے مرگ مفاجات

یہ علم، یہ حکمت، یہ تدبر، یہ حکومت

پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیم مساوات

بیکاری و عریانی، و میخواری و افلاس

کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات

وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم

حد اس کے کمالات کی ہے برق و بخارات

مغرب کی مادی تہذیب اور اس کے پیدا کردہ مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے اقبال لکھتے ہیں کہ عصر حاضر کی ذہنی سرگرمیوں سے جو نتائج نکلے ہیں ان کے زیر اثر انسان کی روح مردہ ہو چکی ہے۔ اس کا وجود خود اپنی ذات سے متصادم ہے،اور سیاسی اعتبار سے افراد باہم دست و گریباں ہیں (۸۱)۔ وہ ’’جاوید نامہ‘‘ میں افغانی کی زبان سے کہتے ہیں کہ مغرب روحانی اقدار اور غیبی حقائق کو کھو کر روح کو شکم میں تلاش کر رہا ہے۔ حالاں کہ روح کی قوت و حیات کا،جسم سے کوئی تعلق نہیں لیکن اشتراکیت کی نظر جسم اور معدے سے آگے جاتی ہی نہیں اور زیادہ سے زیادہ مساواتِ شکم ہی تک سوتی ہے۔ اخوت انسانی کی تعمیر مادی و معاشی مساوات پر ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے قلبی محبت انسانی اقدار اور معنوی و روحانی بنیادوں کی بھی ضرورت ہے :

غریباں گم کردہ اندر افلاک را

در شکم جو ئید جانِ پاک را

رنگ و بو از تن نہ گیرد جان پاک

جز بہ تن کارے ندارد اشتراک

دین آں پیغمبر حق ناشناس

برمساواتِ شکم وارد اساس

تا اخوت را مقام اندردل است

بیخِ او در دل نہ در آب و گل است

اقبال کے متعدد اشعار میں مغرب کی تہذیب اور نظریۂ حیات پر مخالفانہ مگر حکیمانہ تنقید ملتی ہے۔ یہ موضوع ان کے بنیادی افکار میں سے ہے۔ مغرب کی جان ان کا یہ رویہ دراصل اسلامی معاشرے کی آزادی کے ساتھ مشروط تھا۔ ان کی بیشتر انقلابی نظمیں ۱۹۱۸ء اور ۱۹۳۸ء کے درمیان اس دور میں تخلیق ہوئیں جب زیادہ تر اسلامی ممالک مغربی استعمار کے چنگل سے نکلنے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ مغرب کا انتہائی رد،اقبال کے فکر و عمل میں انگریزوں کی مخالفت، ہندوستان کی آزادی اور ایک آزاد اسلامی ریاست کے تصور میں ظاہر ہوا ہے۔

افغانی نے اپنے مطمحِ نظر میں تعلیمی اصلاح کو بھی قدرے جگہ دی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ فی زمانہ مسلمانوں کی تعلیم کا طریقہ شروع سے آخر تک بگڑا ہوا ہے۔ ان کی کیفیت یہ ہے کہ صدریٰ اور شمس بارغہ پڑھ لیا اور خود کو حکیم سمجھنے لگے، حالاں کہ دائیں بائیں کا فرق نہ معلوم ہوا اور اتنی بھی صلاحیت پیدا نہ ہوئی کہ معلوم کریں کہ خود کیا ہیں کون ہیں اور ان کو دنیا میں کیا کرنا چاہئے کبھی بھولے سے نہ پوچھا کہ یہ تار برقی کیا ہے۔ یہ بخاری کشتی کیا چیز ہے، ریل کیسے بنتی ہے اور چلتی ہے۔ حکیم وہ ہے جو حوادث اجزائے عالم پر غور کرے نہ کہ اندھوں کی طرح راستہ چلے جن کو منزلِ مقصود سجھائی نہیں دیتی۔ کس قدر تعجب کا مقام ہے کہ مسلمان ان علوم کو جو ارسطو اور افلاطون سے منسوب ہیں، غایتِ رغبت کے ساتھ سیکھتے ہیں لیکن اگر گلیلو اور کپلر کے علوم کی جانب ان کی توجہ مبذول کرائی جائے تو اس کو کفر سمجھتے ہیں (۸۲)۔ افغانی اپنے خیالات کے اعتبار سے ایک طرف تو مذہبی تعلیم رائج الوقت طریقوں کے خلاف تھے تو دوسری طرف محض مغربی علوم کی تعلیم کو بھی مسلمانوں کے لئے موافق نہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے قدیم نصاب اور نظام میں اصلاح کی ضرورت محسوس کی تھی۔ اقبال اگرچہ فنِ تعلیم کے ماہر نہیں تھے لیکن ایک فلسفی اور مفکر کی حیثیت سے انہوں نے ایک مخصوص طرزِ حیات اور مثالی معاشرے کا تصور پیش کیا ہے۔ اس بنا پر تعلیم کا مسئلہ بھی ان کے نظام فکر میں شامل ہے۔ مغربی تہذیب و تمدن کی کم مایگی اور موجودہ نظام تعلیم کے نقائص اور مضمرات پر انہوں نے گہری نظر ڈالی تھی۔ وہ اس سے سخت نالاں تھے اور اپنی ناپسندیدگی کو انہوں نے مختلف پہلوؤں سے بیان کیا ہے :

مکتبہ ازدے جذبۂ دیں  در ربود

از وجودش ایں قدر دانم کہ بود

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم

کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

مدرسہ عقل کو آزاد تو کرتا ہے مگر

چھوڑ جاتا ہے خیالات کو بے ربط و نظام

جب پیرِ فلک نے ورق ایام کا اُلٹا

آئی یہ صدا پاؤ گے تعلیم سے اعزاز

پانی نہ ملا زمزم ملت سے جو اس کو

پیدا ہیں نئی پود میں الحاد کے اندر

اقبال اس تعلیم کو، جس نے مسلمان اور نوجوانوں کی ذہنیت اور روحانی فطرت کو بدل دیا ہو، پسند نہیں کرتے تھے۔

اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم

ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

من آں علم و فراست باپر کا ہے نمی گیرم

کہ از تیغ و سپہر بیگانہ ساز د مردِ غازی را

پڑھ لئے میں نے علوم شرق و غرب

روح میں باقی ہے اب تک درد و کرب

اقبال ناپختہ تعلیم اور اس سے اثر پذیری کی ذمہ داری محض نوجوانوں پر ہی نہیں ڈالتے بلکہ ان اساتذہ و علماء سے بھی نالاں ہیں جو خود تعلیم کا مقصد سمجھتے ہیں نہ علم میں غائر رکھتے ہیں۔

شیخ مکتب کم سواد و کم نظر !

از مقام اد نداد اُد راخبر

شکایت ہے مجھے یارب خداوندِ مکتب سے

سبق شاہین بچوں کو دے رہے خاکبازی کا

اقبال نے جدید نظام تعلیم کی کمزوریوں اور خامیوں کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے تعلیم کے ذمے داروں اور ماہرین کو اس طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کے خیال میں مغربی تعلیم نے نئی نسل کے حق میں بڑا قبیح جرم کیا ہے، وہ مدرسہ و خانقاہ دونوں سے بے زار نظر آتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ان میں نہ حکمت و بصیرت ہے، نہ فکر و نظر نہ زندگی کی چہل پہل اور نہ محبت کا جوش و خروش:

اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے نمناک

نہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہ

افغانی کی مجموعی فکر اور ان کے مقصد و مطمحِ نظر کا اظہار ان کے اتحاد اسلامی کے جذبات میں ہوا ہے انہوں نے دنیائے اسلام پر مغربی تسلط کو روکنے اور ختم کرنے کے لئے اور مسلم ممالک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کے لئے عالمِ اسلامی کے اتحاد پر زور دیا تھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک مسلم جمہوریہ کی بابت سوچا تھا، جس پر ایک خلیفۃ المسلمین کا قطعی اور کلی اقتدار ہو۔ اقبال نے اس حد تک وسیع بنیادوں پر تو نہیں سوچا تھا لیکن اتحاد اسلامی اور کم از کم بر عظیم کے بعض مسلم اکثریتی صوبوں پر مشتمل ایک آزاد اسلامی ریاست ان کے تصور میں بھی شامل تھی(۸۳)۔ لیکن اس سلسلہ میں دراصل اقبال کچھ زیادہ آگے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مسلم ملت کو زمان و مکان میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا کوئی خاص وطن نہیں ہے۔ مسلم ملت کے لئے جدید حالات کے مطابق انہوں نے ایک طرف المادردی کے نظریات کے مطابق ایک مرکز پر غور کیا اور دوسرے انہوں نے افغانی کی طرح اس تصور کو قبول کیا کہ مکہ معظمہ مذہبی اعتبار سے مسلمانوں کا مرکز رہے گا۔

ہم چناں آئین میلادِ اُمم

زندگی بر مرکزے آید بہم

حلقہ را مرکز چوجاں در پیکر است

خظِ اُو در نقطۂ اُو مضمراست

قوم را ربط و نظام از مرکزے

روزگارش را دوام از مرکزے

راز دار و راز مابیت الحرام

سوزِ ماس ہم ساز مابیت الحرام

تو ز پیوندِ حریمے زندہ

تاطواف او کنی پایندہ

حرم جز قبلۂ قلبِ و نظر نیست

طواف او طواف بام و درنیست

(ترجمہ:

ملتوں کے ظہور کا قانون یہی ہے کہ اس کی زندگی ایک مرکز پر اکٹھا ہو جاتی ہے۔

دائرے کے لئے اس کا مرکز ایسے ہی ہے جیسے جسم کے لئے جان۔ دائرے کا محیط اس کے مرکز میں پوشیدہ ہے۔

اسی طرح قوم کے لئے ربط و نظام اور اس کا دوام مرکز پر منحصر ہے۔

بیت الحرام ہمارا راز دار بھی ہے اور راز بھی ہے۔

تری زندگی حرم سے وابستہ رہنے پر قائم ہے۔ جب تک تو اس کا طواف کرتا رہے گا۔ پائندہ رہے گا۔

حرم کا طواف محض بام و درکار طواف نہیں ہے بلکہ وہ قبلۂ قلب و نظر ہے۔ )

فکر و نظر کی متعدد صفات دونوں مفکرین میں اس حد تک مشابہ ہیں کہ کہیں کہیں یکسانیت محسوس ہوتی ہے۔ ان دونوں نے دنیائے اسلام کے اس جمود کو دور کرنا چاہا جو اس کو زیادہ سے زیادہ انحطاط کی طرف لے جا رہا تھا۔ انہوں نے علماء کو تقلید جامد کی روایت سے نکالنے کی کوشش کی اور ان کی اجتہاد کی دعوت دی۔ انہوں نے اپنے پیغام سے قوم کو نہ صرف خواب گراں سے بیدار کیا بلکہ ان کو ایک ذہنی انقلاب سے بھی دوچار کر دیا۔ اس کام کو افغانی نے اپنے رسالے ’’العروۃ الوثقی‘‘ کے ذریعے اور اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے انجام دیا۔ دونوں علم و فن میں صحت مند اقدار کو اہمیت دیتے تھے۔ افغانی نے شعرا اور شاعر کے متعلق جن اعلیٰ خیالات کا اظہار کیا ہے، وہ اقبال کی شاعری پر صادق آتے ہیں۔ اس بارے میں افغانی کا خیال تھا کہ:

’’شاعرانہ طبیعت اور اس کی خاصیت بھی عجیب و غریب ہے جو بعض انسانوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی طبیعت ہے جو نادر معافی کو ظاہر کرتی اور ایسے جدید افکار کو بیدار کرتی ہے کہ انسانوں کی عقلیں حیران رہ جاتی ہیں۔۔۔ یہ طبیعت بنی نوع انسان میں حکمت اور فلسفے کی ابتدائی نمود ہوتی ہے اور انسانی معاشرے کے لئے اولین داعی،جو تمدن کے اعتبار سے تدریجی ترقی کرتی رہتی ہے (۸۴)۔

مقصود ہنر سوز حیات ابدی ہے

یہ ایک نفس یاد و نفس مثل شرر کیا

شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو

جس سے چمن افسردہ ہو وہ باد سحر کیا

اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن

جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا

اقبال چوں کہ ایک مصلح و مبلغ شاعر ہیں اس لئے شاعری اور فن میں ان کا زاویۂ نگاہ مقصدی اور افادی ہے :

سرود  و شعر و سیاست کتاب و دین و ہنر

گہر ہیں ان کی گرہ میں تمام یک دانہ

خمیر بندۂ خاکی سے ہے نمود ان کی

بلند تر ہے ستاروں سے ان کا کاشانہ

اگر خودی کی حفاظت کریں تو عین حیات

نہ کر سکیں تو سراپا فسون و افسانہ

ہوئی ہے زیر فلک امتوں کی رسوائی

خودی سے جب ادب و دین ہوئے ہیں بیگانہ

گر ہنر میں نہیں تعمیر خودی کا جوہر

وائے صورت گری و شاعری و ناے و سرود

اقبال کے خیال میں ہنر میں اس حد تک طاقت ہوتی ہے کہ وہ انقلاب بھی رونما کر سکتا ہے :

دریا متلاطم ہوں تری موج گہر سے

شرمندہ ہو فطرت ترے اعجاز ہنر سے

اقبال کی فکر میں بعض ایسی جہات بھی ہیں جن میں وہ افغانی کے زاویۂ نظر سے اختلاف کرتے ہیں۔ افغانی کی فکر اور تحریک دراصل مسلمانوں کے ہر ملک میں قومی اور جمہوری عناصر کو تقویت پہچانے کی ایک کوشش تھی۔ اس زمانے میں یورپ میں وطنی قومیت کا تصور ایک طرح کا سیاسی مذہب بن گیا تھا اور یورپ کی ہر طاقت ور قوم کی طاقت کا سرچشمہ وطن پرستی کے جذبات میں موجود تھا،لیکن وطنیت کا جو جواز افغانی کی فکر میں مبتلا ہے، وہ اقبال کے یہاں نہیں۔ کیوں کہ اقبال کے نزدیک اسلامی اتحاد بجائے خود ایک سیاسی وحدت ہے۔ ان کے خیال میں افغانی اتحاد اسلامی کے سب سے بڑے حامی اور مبلغ تھے، اسی لئے وہ عمر بھر کوشاں رہے،لیکن اگر وہ اپنی زندگی صرف اسلام کو ایک مکمل ضابطۂ حیات ثابت کرنے میں صرف کر دیتے،اگر انہوں نے ایسا کیا ہوتا تو آج مسلمان زیادہ مستحکم حالت میں ہوتے۔ لیکن یہ دراصل اقبال اور افغانی کی طبیعتوں اور مزاج کا فرق تھا۔ افغانی کی سیمابی طبیعت نے انہیں کبھی اس کی مہلت نہ دی کہ وہ ایک مرکز پر جم کر کام کرتے۔ اسی لئے وہ کسی اصلاحی کام کی تکمیل نہ کر سکے اور نہ ہی انہوں نے کوئی مستقل نظامِ تشکیل دیا چوں کہ عم طور پر کسی ملک میں بہ یک وقت دو چار مہینے یا ایک دو سال سے زیادہ قیام نہیں کر سکے اس لئے انہوں نے سر سری نگاہ اور محدود معلومات کی بنا پر انہیں افراد و اقوام کی نسبت فیصلہ کرنا پڑتا تھا۔ چناں چہ بعض اوقات شدید غلط فہمیوں میں مبتلا ہو جاتے تھے (۸۵)۔ لیکن اس کے باوجود ان کی دعوت میں مسلمانوں کے لئے ایک کشش ہے۔ ان کا یہ امتیاز ہے کہ وہ ایشیا کی آزاد ی کے پہلے مجاہد ہیں جن کی بصیرت نے ایک اسلامی وحدت کی ضرورت محسوس کی۔ دنیائے اسلام میں افغانی کے بعد فی الحقیقت اقبال ہی کی شخصیت ہے، جس نے احیائے اسلام کے لئے نہ صرف ایک مربوط اور ٹھوس فکر کی تشکیل کی بلکہ عالمِ اسلام کی آزادی،خود مختاری اور بہتر مستقبل کی تعمیر کا واضح اور موثر پیغام دیا۔ (صحیفہ،جولائی اکتوبر۱۹۷۷ء)
------------------------------
(ماخوذ از ’’اقبال اور عظیم شخصیات‘‘ مرتبہ طاہر تونسوی۔ ناشر: تخلیق مرکز ۳۳، اے شاہ عالم گیٹ، لاہور سنِ اشاعت:۱۹۷۹ء)
٭٭٭

حواشی

۱۔ ان کی جائے پیدائش کے بارے میں اب تک کوئی حتمی رائے نہیں ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ آپ اسعد آباد کے مقام پر پیدا ہوئے، جو افغانستان میں کابل کے قریب واقع ہے۔ چالس سی آدم’’ اسلام اور تحریک تجدد مصر میں ‘‘اُردو ترجمہ عبد المجید  سالکؔ،(لاہور،۱۹۵۸ء ص ۵، ایک دوسری رائے کے مطابق آپ ایران میں ہمدان نزدیک ایک اسی نام کے گاؤں میں پیدا ہوئے اور اپنے آپ کو ایرانی کے بجائے افغانی کہلانا اس لئے پسند کیا کہ اس طرح وہ عالم اسلام میں بآسانی ایک سنی کی حیثیت سے قبول کئے جا سکتے تھے اور دوسرے وہ حکومت ایران کی مشتبہ ’’حفاظت‘‘ سے دستبردار ہونے کے خواہاں تھے کیوں کہ وہ اس کو اپنی سلامتی موثر ضمانت خیال نہ کرتے تھے۔ براون ای جی Persian revolution(کیمبرج،۱۹۱۰ء ص ۴،نکی آکڈی Religion and rebellion in Iran(لندن ۱۹۶۶ء) ص ۱۶،اس سلسلہ میں قاضی عبدالغفار نے نہایت مفصل بحث کی ہے اور دونوں آراء کی حمایت میں دلائل کو مجمتع کیا ہے۔ ’’آثار جمال الدین افغانی ‘‘ (دہلی ۱۹۴۰ء) ص ۲۔ ۱۹،جہاں تک ان کے مسلک کا تعلق ہے بعض دلائل ان کے سنی العقیدہ ہونے کے بارے میں پیش کئے گئے ہیں، جیسے خود براؤن نے سند پیش کی ہے، تصنیف مذکور،ص ۴،ونیز عبدالغفار۔ ایضاً ص ۱۲۳، اور بعض افراد کا خیال ہے کہ دراصل و شیعہ عقائد رکھتے تھے۔ پی ہارڈی Partners in freedom and true muslims, The political thought of the muslim scholars in British, India, 1912-1947.(سوئیڈن، ۱۹۷۱ء،ص ۴۵، کیدوری نے اسی سلسلے میں خود افغانی کا قول نقل کیا ہے، تصنیف مذکورہ، ص ۷،ڈبلیو سی اسمتھ کے خیال میں وہ تھے تو سنی لیکن قربِ شیعیت کو اہمیت دیتے تھے۔ Islam in modern history(نیویارک،۱۹۵۹ء) ص ۵۴۔

۲۔ تفصیلات کے لئے،عبدالغفار ص ۳۱،۳۲۔

۳۔ ایضاً،ص ۳۷

۴۔ ایضاً، ص ۳۸، ۴۶

۵۔ ایضاً، ص ۷۴، ۵۳، ۵۹

۶۔  ایضاً ص ۶۵، ۶۶

۷۔ ایضاً ص ۸۱

۸۔ ایضاً ص ۸۲

۹۔ آدم، تصنیف مذکور، ص ۳

۱۰۔ اثرات کے لئے کینتھ کریگ Counsels in contemporary Islam

  (ایڈنبرا،۱۹۶۵ء ) ص ۳۳۔ ۳۴

۱۱۔ ابوالکلام آزاد ’’عظیم شخصیتیں ’’لاہور، تاریخ ندارد) ص ۸۷،’’اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ ‘‘ جلد ہفتم (پنجاب یونیورسٹی، لاہور، ۱۹۷۱ء) ص ۳۷۴

۱۲۔ آدم،ص ۱۸۔ ۱۹

۱۳ افغانی ’’الرد علی الدہریین،اردو ترجمہ (لاہور۔ تاریخ ندارد) ص ۱۷۳۔ ۱۷۴

۱۴۔ افغانی اردو ترجمہ جا

٭٭ال رویو، حیدر آباد، جمال افغانی نمبرنمبرجاز عبیدائل کا حصول ہوابجا، و نیز جی۔ ای وان رنبام

"Islam,Essays in the nature and growth of a cultural tradition

(آکسفورڈ،۹۶۹ء) ص ۱۸۷۔ ۱۸۸

۱۵۔ افغانی تصنیف مذکور، ص ۱۸۷۔ ۱۸۹

۱۶۔ نجلاء غرالدین ’’عرب دنیا ‘‘ اردو ترجمہ ڈاکٹر محمود حسین (لاہور۔ ۱۹۶۳) ص ۹۶ کچھ اسی قسم کا تجزیہ ایچ۔ اے۔ آر گب نے بھی کیا ہے "Studies on the civilization at Islam(آکسفورڈ، ۱۹۶۹ء) ص ۲۵۳، اس کی کچھ مثالیں ’’اردو دائرۂ معارف اسلامیہ ‘‘ ص ۳۷۴، میں دی گئی ہیں۔

۱۷۔ کریگ، تصنیف مذکورہ، ص ۳۳، ان ممالک میں دیگر اعتقادی (Heterodox) مسلم ملک ایران بھی شامل تھا، گربنام، تصنیف مذکورہ، ص ۱۸۷۔

۱۸۔ آدم، ص ۱۸۔

۱۹۔ ای۔ آئی۔ جی روز نتھال”Islam in the modern national state”(کیمبرج، ۱۹۶۵ء) ص ۴۴

۲۰۔ افغانی مضامین جمال الدین افغانی ‘‘ اُردو ترجمہ (لاہور، بار دوم) ص ۷۱

۲۱۔ منقول، عبدالغفار، تصنیف مذکور، ص ۳۹۳

۲۲۔ آدم، تصنیف مذکور، ص ۱۹

۲۳۔ اسمتھ، تصنیف مذکورہ،ص ۵۴۔ ۵۶

۲۴۔ گربنامِ تصنیف مذکور، ص ۱۸۷

۲۵۔ براؤن، تصنیف مذکور۔ ص ۲۹

۲۶۔ براؤن،تصنیف مذکور۔ ص ۲۹

۲۷۔ آدم،تصنیف مذکورہ،ص ۵۴

۲۷۔ آدم،تصنیف مذکور، ص ۱۷

۲۸۔ افغانی کے ایک مکتوب کا اس سلسلے میں حوالہ ملتا ہے جو انھوں نے ایران کے مجتہد حاجی میرزا حسن شیرازی کو لکھا تھا۔ تفصیلات کے لئے براؤن ص۔ ۱۵۔ ۲۱ کڈی ص ۴۶ و بعدہٗ عبدالغفار ص ۲۴۵۔ ۲۵۱، جس سے متاثر ہو کر انہوں نے ایک فتویٰ جاری کر دیا، جو محض ان الفاظ پر مشتمل تھا’’بسم اللہ الرحمن الرحیم آج سے تمباکو کا استعمال کسی صورت میں ہو،امام وقت سے بغاوت کرنے کے مترادف ہے۔ ‘‘تمام علماء نے اسے شائع اور اس فتوے کی تعمیل اس قدر جلد ہوئی کہ تمام ملک میں تمباکو جہاں بھی ضائع کر دیا گیا، یہاں تک کہ شاہ کے استعمال کے لئے بھی کہیں سے تھوڑا سا تمباکو بھی نہ مل سکا۔ حکومت کو یہ اجارہ ختم کرنا پڑا۔ اس تحریک کا اختتام اس نتیجے پر ہوا کہ شاہ اور وزیر اعظم قتل کر دیئے گئے اور بالآخر ایران کو ایک آئین مل گیا۔ براؤن ص ۱۵، کڈی، تصنیف مذکورہ، اس واقعے پر مبنی اہم دستاویزی شہادتوں کی حامل مفصل اور معلوماتی کتا ہے۔

۲۹۔ شریف المجاہد”Pan-Islamism”مشمولہ”A history of the freedom movement” جلد سوم، حصہ اول (کراجی،۱۹۶۰ء)ص ۹۸

۳۰۔ برناڈلیوبس "The emergence of modern turkey،آکسفورڈ،۱۹۶۸ء ص ۲۰۸، ۲۰۹،۲۳۲،خالدہ ادیب خانم ’’ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش،اردو ترجمہ (دہلی،۱۹۳۸ء) ص ۹۶، زیادہ بہتر تفصیلات کے لئے : مزل یٰسین ’’سلطنت عثمانیہ کی انقلابی تحریکیں ‘‘ (کراچی، ۱۹۷۳ء) ص ۱۰۵، ۱۱۷۔

۳۱۔ دی لوتسکی Modern history of the Arab countries(ماسکو،۱۹۶۹ء) ص ۲۰۲

۳۲۔ تفصیلات کے لئے عبدالغفار ص ۱۴۸،۱۵۳، و نیز سلفیہ اور پھر بعد میں اخوان المسلمین انہیں کی ذات کی مرہون منت ہے ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ ‘‘ ص ۳۷۲۔

۳۳۔ ایضاً، ص ۱۷۰۔ ۱۷۵ یہاں خود افغانی کے خیالات نقل کئے گئے ہیں۔

۳۴۔ آدم،ص ۱۲، اردو دائرہ معارف اسلامیہ ص ۳۷۵

۳۵ ایضاً ہندوستان میں اس کی آمد بند تھی لیکن مختلف ذرائع سے یہ ہندوستان کے کئی قارئین تک پہنچتا تھا۔ عزیز احمد Islamic modernism in India and Pakistan (آکسفورڈ، ۱۹۶۷ء)ص ۱۲۸۔

۳۶۔ آدم ص ۱۳

۳۷۔ رشید رضا ’’المنار لد ہشتم ص ۴۵۵ بحوالہ ایضاً،ص ۱۳ ح عروۃ الوثقیٰ، کے مصارف یہی تنظیم برداشت کر لی تھی۔ تھی۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ص ۳۷۵

۳۸۔ عبدالغفار نے ان مضامین کے کئی اقتباسات نقل کیے ہیں، ص ۱۳۱۔ ۱۴۸

۳۹۔ براؤن تصنیف مذکور، ص ۱۵

۴۰۔ خلیق احمد نظامی سید احمد خان اور سید جمال الدین افغانی ’’مشمولہ‘‘ تاریخی مقالات (دہلی،۱۹۶۶ء) ص ۲۷۶

۴۱۔ عبدالغفار،ص ۱۲۱ بعدہ شریف مجاہد نے یہ مدت تین سال تحریر کی ہے۔ تصنیف مذکور ص ۱۰۴

۴۲۔ عبدالغفار ص ۱۲۸

۴۳۔ ہم خصوصیت اخبار دارالسلطنت کلکتہ اور مشیر قیصر لکھنو کے زیادہ شکر گزار ہیں افغانی ارشاداتِ جمال الدین افغانی اردو ترجمہ لاہور بر اول ص ۲۱۸

۴۴۔ ایضاً  ص ۲۱۹

۴۵۔ شریف المجاہد تصنیف مذکور،ص ۱۰۵۔ ۱۰۴، شریف الدین پیرزادہ نے اس بارے میں بپن چندر پال کے  بیانات اس کی تصانیف سے نقل کئے ہیں Evolution of Pakistan (لاہور ۱۹۶۳ء) ص ۴۳۔ ۴۲، و نیز تفصیلات کے لئے عبدالغفار ص ۱۲۴۔ ۱۴۸۔ انہیں نوجوان ایک برکت اللہ بھوپالی تھے، جو آگے چل کر تحریک ریشمی رومال تحریک خلافت اور تحریک آزادی کے مشہور انقلابی رہنما کی حیثیت سے ابھرے تفصیلات کے لئے : ایم عرفان ’’برکت اللہ بھوپالی‘‘ (بھوپال ۱۹۶۹ء) ص ۵۳۔ ۵۲

۴۶۔ تفصیلات کے لئے ایضاً ص ۱۴۶۔ ۱۴۲، سید جمال الدین افغانی اور ان کے خیالات و طریقے کار کا تفصیلی مطالعہ خلیق احمد نظامی نے تصنیف مذکورہ میں اور عزیز احمد نے اپنی تصنیف Studies in Islamic culture in the Indian environment. آکسفورڈ، ۱۹۶۴ء ص ۶۲۔ ۵۵، میں نہایت عمدہ تجزیے کے ساتھ پیش کیا ہے۔

۴۷۔ شبلی سفر امہ روم، مصر و شام (علی گڑھ اشاعت دوم) ص ۲۲۲۔ ۲۱۸

۴۸۔ شیخ محمد ا کرام ’’یاد گار شبلی (لاہور۱۹۷۱ء) ص ۳۸۶ نیز لینی ایس مے The evolution of Indo muslim thought (لاہور،۱۹۷۷ء )ص ۱۰۵۔

۴۹۔ ابوالکلام آزاد ابوالکلام کی کہانی خود ان کی زبانی مرتبہ عبد الرزاق ملیح آبادی (لاہور،۱۹۶۰ء) ص ۲۷۳

۵۰۔ ایضاً ص ۳۸۵۔ ۳۸۴ یہی مصنف ’’ہماری آزادی ‘‘اردو ترجمہ (بمبئی ۱۹۶۱ء) ص ۲۰۔ ۱۹

۵۱۔ ایضاً خطابِ ابوالکلام (لاہور۔ تاریخ ندارد) ص ۲۲۔ ۲۳

۵۲۔ ابوالکلام کی کہانی خود ان کی زبانی۔ مرتبہ عبدالرزاق ملیح آبادی

۵۳۔ عزیز احمد Islamic modernismص ۱۲۹

۵۴۔ یعنی ایس مے  The evolution ص ۲۰۱۔ ۲۰۰

۵۵۔ اقبال ’’خلافت اسلامیہ ‘‘مشمولہ ’’مقالات اقبال (لاہور ۱۹۶۳ء ) مرتبہ عبد الواحد  معینی ص ۹۴ و بعدہ

۵۶۔ اقبال Reconstruction of religious thought in Islam(لاہور ۱۹۵۱ء) ص ۱۵۴،۱۴۵

۵۷۔ یعنی ایس مے  Iqbal his life and times(لاہور،۱۹۷۴ء) ص ۵۴۔ ۵۵

۵۸۔ جاوید اقبال،تعارف Stray reflectionsاز اقبال (لاہور ۱۹۶۱ء) ص و نیز یہی مصنف ’’مے لالہ فام ‘‘ (لاہور ۱۹۶۶ء) ص ۱۴۔ ۱۳

۵۹۔ اس تعلق سے ان کے تشریحی بیان کو ڈاکٹر نکلسن کے نام ان کے مکتوب میں دیکھا جا سکتا ہے،مشمولہ ’’اقبال نامہ ’’حصہ اول (لاہور،تاریخ ندارد) ص ۴۷۴، ۴۵۷ بالخصوص، ۴۷۴۔ ۴۷۳

۶۰۔ اقبال ’’اقبال نامہ‘‘ حصہ دوم (لاہور تاریخ ندارد) ص ۳۳۲۔ ۳۳۱

۶۱۔ بحوالہ ایس۔ اے واحد Glimpses(کراچی ۱۹۷۴ء) ص ۱۳۲

۶۲۔ اقبال reconstruction ص ۷۹

۶۳۔ اقبال ’’حرف اقبال‘‘ (لاہور ۱۹۵۵ء) ص ۱۴۹

۶۴۔ اقبال Reconstructionص ۹۷

۶۵۔ ان کا ایک جامع اور سرسری جائزہ خلیق احمد نظامی نے کیا ہے، تصنیف مذکورہ ص ۲۷۳۔ ۲۷۱

۶۶۔ عبدالغفار، ص ۳۰۳

۶۷۔ محمد عبدہ ’’سید جمال الدین افغانی ‘‘ مشمولہ ’’رد قلچریت‘‘ اردو ترجمہ (لاہور تاریخ ندارد)ص ۳۰

۶۸۔ آدم،ص ۲۳۔ ۶۹ اقبال reconstruction،ص ۱۳،و نیز  جا بجا

۷۰۔ بحوالہ عبدالغفار ص ۱۳۷

۷۱۔ خلیفہ عبدالحکیم ’’اقبال اور ملا‘‘ (لاہور۔ تاریخ ندارد) ص ۵

۷۲۔ خلیق احمد نظامی، تصنیف مذکور،ص ۲۸۲ و نیز عبدالغفار، ص۴۲

۷۳۔ اقبال reconstruction ص ۴۱’’گفتار اقبال‘‘ (لاہور،۱۹۶۹ء) ص ۲۳

۷۴۔ آدم،ص ۲۲

۷۵۔ بشیر احمد ڈار ’’فکر اقبال مسئلہ اجتہاد‘‘ مشمولہ ’’مطالعہ اقبال ‘‘ (لاہور،۱۹۷۱ء) ص ۲۵۷

۷۶۔ اقبال reconstruction ص ۱۴۸

۷۷۔ ایضاً و نیز ترجمہ از نذیر نیازی (لاہور ۱۹۵۸ء) ص ۲۳۳

۷۸۔ ص ۱۹۔ ۱۸

۷۸۔ بحوالہ عبدالغفار ص ۷۰۳۰۵۔ ایضاً۔ ص ۸۰۳۰۹۔ تفصیلات کے لئے :ایضاً ۱۷۵۔ ۱۷۰

۸۱۔ اقبال reconstruction ص ۱۸۷

۸۲۔ عبدالغفار ص ۱۳۶۔ ۱۳۴

۸۳۔ تفصیلات کے لئے خطبہ صدارت اجلاس مسلم لیگ۔ منعقدہ الہ آباد۔ ۱۹۳۰ء مشمولہ سید عبدالواحد Thought and Reflections of Iqbal (لاہور ۱۹۷۳ء)ص۱۹۴۔ ۱۶۱

۸۴۔ افغانی ’’مقالات جمالیہ ‘‘ (تہران ۱۳۱۳ھ) ص ۱۵۷۔ ۱۵۶ بحوالہ اختر جونا گڑھی ’’اقبال کا تنقیدی جائزہ‘‘ (کراچی ۱۹۵۵ء) ص ۶۴۔ ۶۳

۸۵۔ مثال کے طور پر ہندوستان کے دورانِ قیام میں انہوں نے سید احمد خان اور ان کی تحریک کے بارے میں جو باتیں کہی ہیں ان میں س بیشتر غلط فہمیوں پر مبنی ہیں جیسے ان کا خیال تھا کہ سید احمد خان مشرقی علوم کے دشمن ہیں اور اپنی ہر چیز کے مقابلے میں غیر ملکی چیز کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ تفصیلات کے لئے عبدالغفار ص ۱۴۲۔ ۱۴۶ یا یہ کہ ’’انگریز نے احمد خان کے ساتھ احسان کیا۔ اور اس کے لڑکے محمود خان کو ہندوستان کے ایک چھوٹے سے قصبے میں میونسپل کمشنر بنا دیا‘‘ ارشاداتِ جمال الدین افغانی ’’ترجمہ (لاہور بار اول )ص ۱۹۱۔ یہ سارا مضمون اس تعلق سے قابل ملاحظہ ہے، اسی طرح افغانی کو ان کے مذہبی معتقدات اور رجحانات کے متعلق بھی بڑی غلط فہمی تھی۔ خلیق احمد نظامی نے اس خیال کی مناسب تردید کی ہے، تصنیف مذکور ص ۲۹۴۔ ۲۹۵

***