اگر لوگ اپنی غذا پر توجہ دیں تو انھیں وٹامنز والی دوا کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

کیا وٹامن کی ایک گولی آپ کو ڈاکٹر سے دور رکھ سکتی ہے؟

تحقیق بتاتی ہے کہ ہم میں سے نصف سے زیادہ آبادی ہر روز کسی نہ کسی طرح کے وٹامن یا حیاتین کی گولیاں استعمال کرتی ہے۔

ان گولیوں کا استعمال کرنے والے زیادہ تر لوگ اسے کسی بیماری یا جسمانی کمزوری کے باعث استعمال نہیں کرتے بلکہ اس یقین کے ساتھ اسے لیتے ہیں کہ یہ ان کی صحت میں بہتری لائیں گی۔

مارکیٹ میں اتنے سارے وٹامنز اور ملٹی وٹامنز کی دستیابی کی وجہ سے عموماً یہ پتا نہیں چلتا کہ کون سے استعمال کیے جائیں اور کون سی نہیں۔

آپ کو تندرست رہنے کے لیے 13 مختلف اقسام کے وٹامنز چاہییں لیکن کیا اسے سپلیمنٹ یعنی گولیوں اور پاؤڈر کی شکل میں لینا چاہیے؟

وٹامنز دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک فیٹ سولیوبل یعنی جو آپ کی جسم کے اندر رہ جاتی ہیں اور دوسری واٹر سولیوبل جسے آپ کا جسم ضروری مقدار حاصل کرنے کے بعد اضافی مقدار خارج کر دیتا ہے۔

فیٹ سولیوبل کی قسم میں وٹامن اے، ڈی، ای اور کے شامل ہیں۔

اس طرح کے وٹامنز آپ کا جسم اپنے اندر رکھتا ہے لیکن اگر آپ اسے ضرورت سے زیادہ مقدار میں لیں تو یہ آپ کی صحت کے لیے مفید نہیں ہے۔ اس طرح کے وٹامنز کے لیے ضروری ہے کہ یہ ضرورت سے زیادہ نہ لیے جائیں۔

واٹر سولیوبل وٹامنز کو آپ کا جسم اپنے اندر نہیں رکھتا اس لیے ان کا استعمال باقاعدگی سے کرنا پڑتا ہے اور اگر آپ اسے ضرورت سے زیادہ مقدار میں استعمال کریں تو یہ پیشاب کی صورت میں آپ کے جسم سے خارج ہو جاتے ہیں تاہم وٹامن بی ایک ایسا واٹر سولیوبل وٹامن ہے جو کہ آپ کے جگر میں جا کر جذب ہو جاتا ہے۔
کچھ ملٹی وٹامنز میں زنک، آئرن اور کیلشیم کی مقدار بھی شامل ہوتی ہے۔ یہ سارے اجزا آپ کو عموماً آپ کی غذا سے مل جاتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کے جسم میں خاص طور پر زنک، آئرن یا کیلشیم کی کمی ہے تو اسے آپ ان وٹامنز کے ذریعے پورا کرسکتے ہیں۔

کیلشیئم ہمارے جسم کی ہڈیاں مضبوط کرنے کے لیے درکار ہے۔ ایک دن میں آپ کو سات سو ملی گرام کیلشیئم چاہیے۔

زنک آپ کے مدافعتی اور ہاضمے کے نظام کو بہتری کرتا ہے۔ خواتین کو یہ سات ملی گرام اور مردوں کو نو اعشاریہ پانچ ملی گرام روزانہ درکار ہے جبکہ آئرن آپ کے خون میں آکسیجن پیدا کرتا ہے۔ خواتین کو اس کی چودہ اعشاریہ آٹھ اور مردوں کو آٹھ اعشاریہ سات ملی گرام روزانہ ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر آپ کی غذا متوازن ہے تو آپ کو یہ ساری وٹامنز کھانے سے ہی مل جائیں گی تاہم ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جن لوگوں کی غذا متوازن نہیں ہوتی وہ لوگ اپنے کھانے پینے کو ٹھیک کرنے کے بجائے وٹامنز یا سپلیمنٹ کا رخ کرتے ہیں۔

اگر لوگ اس کے بجائے اپنی غذا پر توجہ دیں تو انھیں وٹامنز کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

-----------------------------------
بی بی سی اردو ، 25 اکتوبر 2018