کیا خدا کا وجود ہے ؟ مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان مناظرہ

جاوید اختر اور مفتی شمائل ندوی کے مابین "کیا خدا کا وجود ہے؟" کے موضوع پر ہونے والے حالیہ مناظرے نے فکری حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ اس مباحثے میں، جاوید اختر، ایک معروف ملحد، نے دنیا میں موجود ظلم، تکالیف اور خاص طور پر غزہ جیسے علاقوں میں ہونے والی ناانصافیوں اور بچوں کی اموات کا حوالہ دیتے ہوئے ایک قادر مطلق اور رحیم خدا کے وجود پر سوال اٹھایا۔ اس کے جواب میں، مفتی شمائل ندوی نے اسلامی فلسفے اور منطق کا سہارا لیتے ہوئے کائنات میں نظم و ضبط اور انسانی اخلاقی ذمہ داری کو خدا کے وجود کا ثبوت قرار دیا، اور زور دیا کہ دنیاوی برائیاں انسان کی آزاد مرضی کا نتیجہ ہیں اور زندگی ایک امتحان ہے جس کا اصل انصاف آخرت میں ہوگا۔ اس مباحثے پر دانشوروں اور سامعین کے ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں، کچھ نے مفتی صاحب کے دلائل کو منظم قرار دیا تو کچھ نے جاوید اختر کے سوالات کو اہم سمجھا، اور مجموعی طور پر یہ بات سامنے آئی کہ یہ مکالمہ کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے بجائے مختلف نظریات کے درمیان جاری ایک اہم فکری گفتگو کی مثال ہے۔