پاکستان میں معاشی منظرنامہ 2025 ء کو دیکھتے ہوئے، ایک اہم پہلو جو مسلسل زیر بحث ہے وہ دولت کی تقسیم اور طبقاتی خلیج ہے۔ مختلف معاشی رپورٹس اور تجزیے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کی معاشی ترقی کے ثمرات تمام طبقات تک یکساں طور پر نہیں پہنچ رہے، بلکہ دولت کا ارتکاز چند مخصوص، طاقتور کاروباری خاندانوں کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔
2025 کے معاشی اشاریوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معیشت کے کچھ شعبوں میں نمو دیکھنے میں آئی ہے، لیکن اس نمو کا فائدہ معاشرے کے ایک محدود حصے تک ہی پہنچا ہے۔ اس وقت ملک کی معاشی نبض پر جن افراد اور گروہوں کا کنٹرول نمایاں ہے، ان میں سر انور پرویز (بیسٹ وے گروپ)، میاں محمد منشا (نشاط گروپ)، اور یونس برادرز جیسے نام سرفہرست ہیں۔ یہ گروہ ٹیکسٹائل، سیمنٹ، بینکنگ، اور توانائی جیسے بنیادی شعبوں پر حاوی ہیں۔
دولت کا ارتکاز اور استحکام:
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 2025 کی فہرستوں میں کوئی خاص "نئے" نام شامل نہیں ہوئے ہیں۔ جو لوگ امیر تھے، وہ مزید امیر ہوئے ہیں۔ پرانے اور مسلسل نمایاں رہنے والے خاندانوں میں حبیب فیملی، داؤد فیملی اور سید بابر علی (پیکجز گروپ) شامل ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی نژاد ارب پتی، جیسے شاہد خان (فلیکس-این-گیٹ)، بھی عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مستحکم کیے ہوئے ہیں۔
یہ صورتحال طبقاتی خلیج کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ افراط زر اور روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کی قوت خرید پر منفی اثر ڈال رہا ہے، جب کہ معاشی طور پر مستحکم طبقات پر اس کا اثر نسبتاً کم ہے۔
طبقاتی خلیج کا بڑھنا نہ صرف ایک سماجی مسئلہ ہے بلکہ یہ معاشی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔ جب دولت کا ارتکاز ہوتا ہے تو بڑے پیمانے پر لوگ معاشی سرگرمیوں میں مؤثر طریقے سے حصہ نہیں لے پاتے، جس سے مجموعی قومی پیداوار اور معیشت کی پائیداری متاثر ہوتی ہے۔
ایک صحت مند اور متوازن معیشت کے لیے ضروری ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جو دولت کی زیادہ منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں۔ اس میں ٹیکس نظام میں اصلاحات، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے سازگار ماحول کی تشکیل، اور تعلیم و صحت جیسی بنیادی سہولیات تک سب کی رسائی شامل ہے۔
حکومت اور پالیسی سازوں کے لیے یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ ایسی معاشی پالیسیاں وضع کریں جو نہ صرف معیشت کو ترقی دیں بلکہ معاشرے میں موجود معاشی ناہمواری کو بھی کم کریں۔ بصورت دیگر، بڑھتی ہوئی طبقاتی خلیج سماجی بے چینی اور عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔
مستقبل میں پاکستان کی معیشت کی مضبوطی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم کس حد تک معاشی مواقع کو وسیع کرتے ہیں اور دولت کی تقسیم کو زیادہ منصفانہ بناتے ہیں۔
