کیا معاشی ترقی دین کے خلاف ہے؟

ہمارے معاشرے میں خصوصاً بعض دیندار حلقوں میں یہ تصور جڑ پکڑ چکا ہے کہ مالی آزادی، معاشی ترقی اور دنیاوی جدوجہد شاید دین کے منافی ہیں، یا کم از کم یہ کہ ان امور میں حد سے زیادہ دلچسپی روحانیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ سوچ بظاہر تقویٰ کے غلبے کا تاثر دیتی ہے، لیکن اگر قرآنِ حکیم کی تعلیمات کو سنجیدگی سے پڑھا جائے تو یہ تصور نہ صرف کمزور بلکہ صریحاً غلط ثابت ہوتا ہے۔

قرآن انسان کو محض عبادت گاہوں تک محدود مخلوق نہیں بناتا، بلکہ اسے زمین پر خلیفہ قرار دیتا ہے۔ خلافت کا مفہوم صرف اخلاقی یا روحانی نہیں بلکہ معاشی، تمدنی اور عملی ذمہ داریوں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماتا ہے:

“هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ”
(الملک: 15)

“وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے تابع بنا دیا، پس اس کے راستوں میں چلو پھرو اور اللہ کا رزق کھاؤ۔”

یہ آیت اس بنیادی حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ رزق کے حصول کے لیے حرکت، جدوجہد اور اسباب اختیار کرنا عین مطلوبِ الٰہی ہے۔ قرآن کسی ایسے تصوف یا دینداری کی تائید نہیں کرتا جو انسان کو دنیا سے کاٹ دے، محنت سے روک دے یا معاشی ذمہ داریوں سے فرار کی ترغیب دے۔

درحقیقت، مالی جدوجہد انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ قرآن کہتا ہے:

“أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ”
(الملک: 22)

یعنی زندگی سیدھے راستے پر توازن کے ساتھ چلنے کا نام ہے، نہ کہ ایک پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز کر دینا۔ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ اسباب کے بغیر زندگی گزار سکتا ہے، وہ دراصل اللہ کے بنائے ہوئے نظامِ اسباب سے بغاوت کرتا ہے۔ دنیا دارالاسباب ہے، اور اس حقیقت کو جھٹلانا تقدس نہیں بلکہ فطرت سے انکار ہے۔

نبی کریم ﷺ کی عملی زندگی بھی اس حقیقت کی سب سے روشن مثال ہے۔ آپ ﷺ نے تجارت کی، صحابہؓ کو محنت کی ترغیب دی، اور یہ اصول دیا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ حضرت عمرؓ کا وہ مشہور قول بھی اسی ذہنیت کی اصلاح کرتا ہے کہ “میں اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں جو دین یا دنیا کے کام میں سست ہو۔”

اصل مسئلہ دولت نہیں، بلکہ دولت کا مقصد ہے۔ اسلام دولت جمع کرنے سے نہیں روکتا، بلکہ اسے ظلم، استحصال، غرور اور غفلت کا ذریعہ بنانے سے روکتا ہے۔ قرآن توازن سکھاتا ہے:

“وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا”
(القصص: 77)

یعنی آخرت کو مقصد بناؤ، مگر دنیا کے حصے کو مت بھولو۔ یہی اسلامی معاشی فکر کا خلاصہ ہے۔

آج امتِ مسلمہ جن بحرانوں سے دوچار ہے، ان میں ایک بڑی وجہ معاشی کمزوری بھی ہے۔ غربت، محتاجی اور مالی انحصار نہ صرف فرد کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں بلکہ اجتماعی سطح پر امت کو دوسروں کا محتاج بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں مالی خود کفالت اور ترقی کو دین کے خلاف سمجھنا ایک فکری خودکشی کے مترادف ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ دیندار ذہن یہ سمجھے کہ حلال ذرائع سے معاشی جدوجہد عبادت کے منافی نہیں بلکہ اس کا تسلسل ہے۔ مضبوط معیشت کے بغیر مضبوط اخلاق، آزاد فکر اور باوقار دین داری کا تصور ادھورا ہے۔

اسلام ہمیں ترکِ دنیا نہیں، تعمیرِ دنیا مع الآخرة سکھاتا ہے۔ یہی توازن اگر دوبارہ زندہ ہو جائے تو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی ایک باوقار، خودمختار اور باعمل مسلم معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔