ارادہ و مشیتِ الٰہی — قرآنی تصور اور ملحدانہ اعتراضات

جدید انسان کا سب سے بڑا فکری بحران یہ ہے کہ وہ ایک طرف سائنسی قوانین کی سختی میں جکڑا ہوا ہے اور دوسری طرف اخلاقی آزادی کا دعویٰ بھی رکھتا ہے۔ یہی کشمکش اسے اس سوال تک لے آتی ہے: اگر سب کچھ اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے تو انسان کا اختیار محض ایک فریب کیوں نہ سمجھا جائے؟
ملحدانہ فکر اسی نکتے کو بنیاد بنا کر مذہب، خصوصاً اسلامی تصورِ تقدیر پر یہ اعتراض اٹھاتی ہے کہ یہ انسان کو جبری مخلوق بنا دیتا ہے۔

قرآن اس اشکال کو سرسری نہیں لیتا بلکہ اسے فکری گہرائی کے ساتھ حل کرتا ہے—اور یہ حل ارادہ اور مشیت کے فرق میں پوشیدہ ہے۔

مشیت: کائناتی قانون یا خدائی جبر؟ 
 
ملحدین کا پہلا اعتراض یہ ہے کہ اگر کوئی عمل اللہ کی مشیت کے بغیر ممکن نہیں تو پھر گناہ پر سزا اور نیکی پر جزا غیر منصفانہ ہے۔
قرآن اس اعتراض کا جواب یہ دے کر دیتا ہے کہ مشیت کا تعلق وقوع سے ہے، انتخاب سے نہیں۔

“إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا”
(ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، اب وہ چاہے شکر گزار بنے یا ناشکرا)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ راستہ دکھانا اللہ کا کام ہے، مگر راستہ اختیار کرنا انسان کا انتخاب ہے۔ مشیت نے اختیار کو ختم نہیں کیا بلکہ امتحان کے لیے ممکن بنایا ہے۔

کیا خدا شر کا خالق ہے؟

یہ دوسرا بڑا اعتراض ہے: اگر اللہ قادرِ مطلق ہے تو دنیا میں شر کیوں ہے؟ اور اگر شر اللہ کی مشیت سے واقع ہوتا ہے تو کیا وہ شر کو پسند بھی کرتا ہے؟
قرآن یہاں ایک اصولی فرق قائم کرتا ہے: اللہ شر کو واقع تو ہونے دیتا ہے، مگر اسے پسند نہیں کرتا۔

“إِنَّ اللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ”
(اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا)

شر کا وجود دراصل انسان کی اخلاقی آزادی کا لازمی نتیجہ ہے۔ اگر ظلم ممکن نہ ہو تو عدل کا کوئی اخلاقی مفہوم باقی نہیں رہتا۔ قرآن کے نزدیک شر ایک آزمائشی حقیقت ہے، پسندیدہ قدر نہیں۔
کیا ایمان جبر سے بہتر نہیں؟

ملحدین کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو سب کو ایمان پر مجبور کر دیتا، یوں نہ جہنم ہوتی نہ فساد۔
قرآن اس خیال کو رد کرتے ہوئے کہتا ہے:

“وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا”

یہاں سوال یہ نہیں کہ اللہ مجبور کیوں نہیں کرتا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اللہ ایمان کو قدر کیوں بنانا چاہتا ہے؟
قرآن کا جواب ہے: کیونکہ ایمان وہی معتبر ہے جو اختیار سے ہو، جبر سے نہیں۔

انسان: سائنس  اور جبر 

جدید سائنس بھی ایک طرح کا جبر پیش کرتی ہے—جینیات، ماحول اور نفسیات کے ذریعے۔ حیرت انگیز طور پر ملحدین اس سائنسی جبر کو تو قبول کرتے ہیں، مگر خدائی مشیت کو ظلم کہہ کر رد کرتے ہیں۔
قرآن کا موقف زیادہ متوازن ہے: انسان نہ مکمل آزاد ہے، نہ مکمل مجبور۔ وہ ایک مشروط مختار ہے۔

“لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا”

یہ آیت انسانی ذمہ داری کو انسانی استطاعت کے ساتھ جوڑتی ہے—یہی حقیقی عدل ہے۔

قرآن تقدیر کو بہانہ نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بناتا ہے۔ مشیت کا مطلب ہاتھ باندھ کر بیٹھ جانا نہیں، بلکہ ارادۂ الٰہی کے مطابق عمل کرنا ہے۔

قرآن انسان کو یہ نہیں کہتا کہ "سب لکھا جا چکا ہے"، بلکہ یہ کہتا ہے:
راستہ واضح ہے، انتخاب تمہارا ہے، اور انجام تمہارے انتخاب کا نتیجہ۔

یہی وہ فکری توازن ہے جو نہ جبریت کو جنم دیتا ہے، نہ الحاد کو—بلکہ ایک باخبر، ذمہ دار اور باوقار انسان پیدا کرتا ہے۔