رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی اور موجودہ مشرق وسطی کی سنگین صورت حال

حدیثِ جبریل کے آئینے میں جب ہم آج کے عرب معاشرے اور مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، تو چودہ سو سال پہلے کی گئی پیش گوئیاں جیتی جاگتی حقیقت بن کر سامنے آتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ننگے پاؤں بکریاں چرانے والوں کے بلند و بالا عمارتوں میں مقابلے کا ذکر فرمایا تھا، تو یہ محض مادی ترقی کی خبر نہ تھی بلکہ ایک ایسی اخلاقی اور فکری تبدیلی کی طرف اشارہ تھا جہاں ترجیحات بدل جانی تھیں۔ آج دبئی، ابوظہبی اور سعودی عرب کے صحراؤں میں آسمان سے باتیں کرتے برج اور پرتعیش منصوبے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ وہ بدوی قوم جس کی پہچان سادگی اور فقر تھی، آج مادی ہوس کی اس دوڑ میں سب سے آگے نکل چکی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جیسے جیسے عمارتوں کی بلندی بڑھی، کردار کی بلندی میں اتنی ہی پستی آتی گئی۔ امارات جیسے ممالک میں جدیدیت اور سیاحت کے نام پر جس طرح عریانی، فحاشی اور نائٹ کلبز کو جگہ دی گئی، اس نے اس خطے کے اس اسلامی تشخص کو بری طرح مجروح کیا ہے جو کبھی پوری دنیا کے لیے حیا اور غیرت کا استعارہ تھا۔

یہ اخلاقی بگاڑ محض داخلی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس "الٰہی قانون" کو دعوت دے رہا ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے جواب میں کیا گیا کہ اللہ کا عہد ظالموں اور نافرمانوں کو نہیں پہنچے گا۔ جب مرکزِ اسلام کی سرزمین پر اللہ کی حدود پامال ہونے لگیں، حرمین کے پاس تفریحی میلے سجنے لگیں اور مظلوم فلسطینیوں کے خون پر مصلحت پسندی کی چادر تان کر ظالم قوتوں سے پینگیں بڑھائی جانے لگیں، تو پھر قدرت کا تازیانہ حرکت میں آتا ہے۔ موجودہ دور میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی اور عرب دنیا کا اس بھنور میں پھنسنا بظاہر ایک سیاسی بحران نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ وہی "عذاب کا کوڑا" محسوس ہوتا ہے جس کا ذکر قرآن کی مختلف آیات میں نافرمان قوموں کے لیے کیا گیا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان حکمرانوں نے اللہ کے دین سے بے وفائی کی اور دنیاوی جاہ و جلال کو اپنا قبلہ بنایا، اللہ نے ان پر بیرونی دشمنوں کو مسلط کر دیا۔ آج ایک طرف اسرائیل کا وحشیانہ ظلم ہے اور دوسری طرف امریکہ کی ریشہ دوانیاں، جبکہ ایران کے ساتھ بڑھتا ہوا ٹکراؤ پورے خطے کو راکھ کے ڈھیر میں بدلنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ یہ تمام حالات اس تنبیہ کی عکاسی کرتے ہیں کہ اگر عرب معاشرے نے اپنی روش نہ بدلی، اپنی سرحدوں کے اندر فحاشی کے اڈوں کو بند نہ کیا اور مادی ترقی کے زعم میں اپنے رب کو بھلائے رکھا، تو یہ بلند و بالا عمارتیں اور مصنوعی چکا چوند انہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکے گی۔ قرآن کا یہ فیصلہ اٹل ہے کہ جب خوشحال طبقہ حد سے گزر جاتا ہے، تو پھر تباہی کا فیصلہ نافذ ہو کر رہتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ امتِ مسلمہ بالخصوص عرب دنیا اس مادی سحر سے نکل کر توبہ کی راہ اختیار کرے، اس سے پہلے کہ حالات واپسی کے راستے ہی بند کر دیں۔