بانٹنے والے اور سمیٹنے والے: دو متضاد طرزِ زندگی

کسی بھی معاشرے کی کوکھ سے دو متضاد رویے جنم لیتے ہیں جو انسانی ترجیحات اور زندگی کے مقصد کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ درویش صفت لوگ ہیں جنہیں قدرت نے شہرت، دولت اور اثر و رسوخ سے نوازا تو انہوں نے اسے اپنی ذات کے حصار میں قید کرنے کے بجائے انسانیت کی فلاح کے لیے وقف کر دیا۔ عبدالستار ایدھی کی سادہ زندگی سے لے کر ڈاکٹر امجد ثاقب کی "مواخات" تک، اور مولانا بشیر فاروق قادری کی دسترخوانوں سے لے کر ریحان اللہ والا کی ڈیجیٹل تعلیم اور قاسم علی شاہ کی فکری آبیاری تک، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زندگی کا مفہوم "لینے" کے بجائے "دینے" میں تلاش کیا۔ ان کے نزدیک کامیابی کا معیار بینک بیلنس نہیں بلکہ ان چہروں کی مسکراہٹ ہے جنہیں ان کی وجہ سے جینے کی امید ملی۔ دوسری جانب ایک ایسا طبقہ ہے جس کے پاس وسائل کی ریل پیل تو ہے لیکن ان کی تمام تر جدوجہد اپنی ذات کی نمائش، عیش و عشرت اور وقتی لذتوں تک محدود ہے۔ چاہے وہ شوبز کے ستارے ہوں، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے سیاستدان ہوں یا وہ اشرافیہ جو اپنی دولت کا بڑا حصہ مہنگی گاڑیوں اور نمود و نمائش پر لٹاتی ہے، ان کی زندگی کا کینوس اپنی ذات سے شروع ہو کر اپنی ہی ذات پر ختم ہو جاتا ہے۔

اس تضاد کی بنیادی وجہ انسان کا وہ "نقطہ نظر" ہے جو وہ زندگی کے بارے میں رکھتا ہے۔ جو لوگ دوسروں کی تعمیر و ترقی میں اپنا سب کچھ صرف کرتے ہیں، ان کے اندر "ہمدردی" (Empathy) کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ وہ کائنات کے اس فلسفے کو سمجھ چکے ہوتے ہیں کہ انسان صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے کام آنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ ان کا وژن ایک وسیع سمندر کی مانند ہوتا ہے جو پیاسوں کو سیراب کرتا ہے۔ اس کے برعکس، خود پرستی اور عیش و عشرت میں مگن طبقہ "انا" (Ego) کے اس قید خانے کا اسیر ہوتا ہے جہاں صرف "میں" کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یہ لوگ دراصل اس احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں جسے وہ مہنگی برانڈز اور ظاہری چمک دمک سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نفسیاتی طور پر دیکھا جائے تو جب انسان کی تربیت میں "مقصدیت" کا فقدان ہو اور معاشرہ کامیابی کا پیمانہ صرف مادی اشیاء کو قرار دے دے، تو نوجوان نسل کی ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔ وہ زندگی کی گہرائی میں اترنے کے بجائے سطح پر تیرنے کو ہی معراج سمجھ لیتے ہیں۔

ایک گروہ "میراث" (Legacy) چھوڑنے پر یقین رکھتا ہے جبکہ دوسرا صرف "لمحات" (Moments) جینے پر۔ ایدھی صاحب یا ڈاکٹر امجد ثاقب جیسے لوگ جانتے ہیں کہ جسم مٹی ہو جاتا ہے لیکن انسان کا کردار اور اس کے لگائے ہوئے پودے صدیوں تک سایہ دیتے ہیں۔ یہی وہ اعلیٰ ظرفی ہے جو ایک انسان کو ہجوم سے نکال کر تاریخ کے سنہری حروف میں شامل کر دیتی ہے۔ جبکہ عیش و عشرت اور ذاتی نام و نمود کا شوق رکھنے والے لوگ اسی کنویں کے مینڈک کی طرح ہیں جن کی دنیا ان کی اپنی چار دیواری تک محدود ہوتی ہے۔ ان کی دولت معاشرے میں گردش کرنے کے بجائے جمود کا شکار ہو جاتی ہے، جس سے سماجی ناہمواری جنم لیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کی بقا ان مٹھی بھر لوگوں کے دم سے ہے جو چراغ سے چراغ جلاتے ہیں، ورنہ نفسانفسی کے اس عالم میں اگر صرف ذاتی عیش کو ہی معیار بنا لیا جائے تو انسانیت کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے۔ انسان کی اصل قدروقیمت اس بات میں نہیں کہ اس نے کتنا سمیٹا، بلکہ اس میں ہے کہ اس نے کتنا بانٹا۔

حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کی فلاح کا یہ راستہ دراصل اس نبوی اسوہ کی پیروی ہے جس کی بنیاد 'عطا' اور 'سخاوت' پر رکھی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ سے یہ ثابت کیا کہ اصل بڑائی سمیٹنے میں نہیں بلکہ تقسیم کرنے میں ہے۔ آپ ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے:
'إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي'
(ترجمہ: 'میں تو صرف تقسیم کرنے والا (قاسم) ہوں، جبکہ دینے والا تو اللہ ہی ہے'۔)
یہی وہ فلسفہ ہے جسے اگر آج کا نوجوان اور صاحبِ ثروت طبقہ سمجھ لے، تو معاشرے سے مادہ پرستی اور عیش و عشرت کی جاہلانہ دوڑ ختم ہو جائے اور ہم ایک ایسے انسانی سماج کی بنیاد رکھ سکیں جہاں ہر ہاتھ لینے کے بجائے دینے والا بن جائے۔