اسلامی مالیات کیوں اہم ہے؟

پاکستان کے بینکاری نظام کو مکمل طور پر اسلامی (شریعہ کمپلائنٹ) بنانے کا ہدف ملک کی معاشی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اکتوبر 2024 میں منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم کے تحت پاکستان کے تمام مالیاتی اداروں سے سود (ربا) کے خاتمے کے لیے یکم جنوری 2028 کی حتمی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ اس سے قبل آئین میں "جلد از جلد" کے الفاظ درج تھے، جنہیں اب ایک واضح تاریخ سے بدل دیا گیا ہے۔
یہ اقدام اپریل 2022 میں فیڈرل شریعت کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے جس میں حکومت کو پانچ سال کے اندر سود سے پاک بینکاری نظام رائج کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے "Vision 2028" کے نام سے ایک اسٹرٹیجک پلان تیار کیا ہے، جس کا مقصد روایتی بینکاری کو بتدریج شریعہ کے مطابق ڈھالنا ہے۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسلامی بینکاری کے اثاثے 14.47 ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں، جو مجموعی بینکاری صنعت کا تقریباً 23 فیصد ہیں۔
فیصل بینک جیسے بڑے اداروں نے خود کو مکمل طور پر اسلامی بینک میں تبدیل کر لیا ہے، جو عالمی سطح پر ایک بڑی مثال ہے۔
عسکری بینک جیسے دیگر بینک بھی اپنی تمام شاخوں کو شریعہ کمپلائنٹ بنانے کے عمل کو تیز کر رہے ہیں۔
لیکن اس مکمل منتقلی میں سب سے بڑی رکاوٹیں سرکاری قرضوں (Government Debt) کو شریعہ کے مطابق بنانا، بین الاقوامی مالیاتی اداروں (جیسے IMF) کے ساتھ لین دین، اور تمام بینکنگ اسٹاف کی تربیت ہے۔

اس بارے میں مزید تفصیل درج ذیل ویڈیو سے جان سکتے ہیں ۔