ڈونلڈ ٹرمپ کی 1987 کی مشہور زمانہ کتاب "دی آرٹ آف دی ڈیل" محض ایک کاروباری سوانح عمری نہیں بلکہ یہ ان کی اس مخصوص نفسیات کا آئینہ ہے جو ریاست کو ایک منافع بخش کارپوریشن اور سفارت کاری کو محض ایک تجارتی لین دین کے طور پر دیکھتی ہے۔ ٹرمپ صاحب کا فلسفہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریئل اسٹیٹ کی دنیا میں جو ہتھکنڈے کسی بلڈنگ کی خریداری میں کامیاب ثابت ہو سکتے ہیں، عالمی سیاست اور بالخصوص ایران جیسے پیچیدہ معاملے میں وہی طریقے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ سیاست کو کاروبار کی عینک سے دیکھنا اس لیے خطرناک ہے کیونکہ ایک تاجر کا حتمی مقصد صرف اور صرف اپنا فائدہ یا "جیت" ہوتا ہے، جبکہ ایک مدبر سیاست دان کا مقصد عالمی استحکام، انسانی جانوں کا تحفظ اور طویل مدتی امن ہوتا ہے۔
ٹرمپ صاحب کا ایران کے ساتھ مذاکرات کا انداز ان کی کتاب کے اسی فلسفے پر مبنی ہے جہاں وہ حریف کو معاشی دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے دیوار سے لگا کر اسے اپنی شرائط پر سودا کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں بحری ناکہ بندیوں کی باتیں اور تزویراتی دباؤ اسی "میکسیمم پریشر" پالیسی کا تسلسل ہیں، لیکن بین الاقوامی تعلقات میں یہ بھول جانا کہ قومیں اپنی خود مختاری اور غیرت پر سودا نہیں کرتیں، ایک بڑی سفارتی غلطی ہے۔ کاروبار میں اگر کوئی ڈیل ناکام ہو جائے تو صرف بینک بیلنس کم ہوتا ہے، لیکن عالمی سیاست میں ایک غلط قدم یا غلط فہمی پورے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہے، جس کی قیمت معصوم انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔
موجودہ تناظر میں ٹرمپ کا یہ "ٹرانزیکشنل" (تجارتی) رویہ نہ صرف ایران بلکہ ان کے اپنے اتحادیوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن چکا ہے، کیونکہ وہ اخلاقی اصولوں اور عالمی معاہدوں کے بجائے وقتی فائدے اور ذاتی برانڈنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ سوچ عالمی نظام کے لیے ایک ایسا خطرہ ہے جو سفارت کاری کے روایتی آداب کو مٹا کر اسے ایک ایسی منڈی میں بدل رہی ہے جہاں ہر چیز برائے فروخت ہے۔ اگر دنیا کے اہم ترین فیصلے صرف ایک "ڈیل میکر" کی بیلنس شیٹ کے مطابق ہونے لگے، تو انصاف اور عالمی امن کا تصور محض ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔
