کوانٹم فزکس اور قرآن مجید : یقین، امکان اور حقیقت کے نئے افق

جدید سائنس نے جب مادّے کی تہہ میں جھانکنا شروع کیا تو وہاں کوئی ٹھوس یقین نہیں، بلکہ امکانات، احتمالات اور غیر یقینی کی ایک حیرت انگیز دنیا آباد ملی۔ کوانٹم فزکس نے انسان کے اس قدیم تصور کو چیلنج کر دیا کہ کائنات ایک سیدھی، سادہ اور مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی مشین ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ ذرّہ کہاں ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کہاں کہاں ہو سکتا ہے۔ یہی نکتہ وہ دروازہ ہے جہاں سے سائنس، فلسفہ اور قرآنی فکر کے درمیان ایک بامعنی مکالمہ شروع ہوتا ہے۔

قرآن انسان کو بار بار اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ حقیقت محض وہ نہیں جو آنکھ دیکھ لے یا ہاتھ چھو لے۔ “وما أوتيتم من العلم إلا قليلا”—تمہیں علم میں سے بہت ہی تھوڑا دیا گیا ہے۔ یہ آیت محض تواضعِ علم کی تلقین نہیں، بلکہ انسانی شعور کی حد بندی کا اعلان ہے۔ کوانٹم فزکس بھی اپنے تمام سائنسی جلال کے باوجود اسی نتیجے پر پہنچتی ہے کہ مشاہدہ کرنے والا خود حقیقت کا حصہ بن جاتا ہے، اور مکمل یقین محض ایک وہم ہے۔

کوانٹم نظریہ کہتا ہے کہ کسی ذرّے کی پوزیشن اور رفتار کو بیک وقت قطعی طور پر نہیں جانا جا سکتا۔ یہ غیر یقینی کوئی تکنیکی کمزوری نہیں، بلکہ فطرت کا بنیادی اصول ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآنی تصورِ تقدیر اور انسانی اختیار ایک نئے مفہوم کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ قرآن انسان کو اختیار دیتا ہے، مگر اس اختیار کو خدا کی مشیت کے دائرے میں رکھتا ہے۔ یوں نہ تو انسان مکمل مجبور ہے اور نہ ہی مکمل مختار—بالکل اسی طرح جیسے کوانٹم ذرّہ نہ مکمل متعین ہے نہ مکمل آزاد۔
کوانٹم فزکس کا ایک اور حیران کن تصور سپرپوزیشن ہے، جس کے مطابق ایک ذرّہ بیک وقت کئی حالتوں میں موجود ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ مشاہدہ اسے ایک حالت پر “منجمد” کر دے۔ قرآن اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے کہ اللہ “کل یومٍ هو في شأن” ہے—ہر آن ایک نئی شان میں ہے۔ کائنات جامد نہیں، مسلسل تخلیق کے عمل میں ہے۔ گویا حقیقت کوئی ایک جامد تصویر نہیں، بلکہ ایک زندہ، متحرک داستان ہے جو ہر لمحہ نئے معنی اختیار کر رہی ہے۔

یہاں ایک نازک مگر اہم نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ قرآن سائنس کی کتاب نہیں، اور کوانٹم فزکس وحی نہیں۔ دونوں کو خلط ملط کرنا علمی بددیانتی ہوگی۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ قرآن انسان کو فکر، تدبر اور کائنات میں غور کی دعوت دیتا ہے۔ “سنریہم آیاتنا في الآفاق وفي أنفسهم”—ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے اندر بھی۔ کوانٹم فزکس اسی اندرونی اور بیرونی آفاق کی ایک جدید سائنسی جھلک ہے۔

فلسفیانہ سطح پر کوانٹم فزکس نے مادّیت کے غرور کو توڑ دیا ہے۔ مادّہ اب ٹھوس حقیقت نہیں رہا، بلکہ ریاضیاتی امکانات کا ایک جال بن چکا ہے۔ قرآن بھی انسان کو یہ بتاتا ہے کہ اصل حقیقت مادّہ نہیں، بلکہ معنی، مقصد اور اخلاقی جواب دہی ہے۔ یوں جدید سائنس، جو کبھی خدا سے بے نیاز ہونے کا اعلان کر رہی تھی، آج خود اپنی حدود کا اعتراف کر کے ایک بلند تر حقیقت کی طرف اشارہ کرنے لگی ہے۔

آخر میں سوال یہ نہیں کہ کوانٹم فزکس قرآن کو “ثابت” کرتی ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان اس نئے علمی انکشاف کے بعد بھی اپنے تکبرِ علم پر قائم رہ سکتا ہے؟ قرآن اور کوانٹم فزکس، دونوں اپنے اپنے دائرے میں، انسان کو یہی سبق دیتے ہیں کہ حقیقت ہماری گرفت سے کہیں زیادہ وسیع، عمیق اور پراسرار ہے۔ شاید یہی احساسِ عجز وہ پہلی سیڑھی ہے جہاں سے علم، حکمت اور ایمان کا سفر ایک ساتھ شروع ہوتا ہے۔